Dil Lagi Novel By Yusra Shah – Last Episode 2

0
دل لگی از یسرا شاہ – آخری قسط نمبر 2

–**–**–

میں زارون احمد آج شادی کے دس سال بعد بھی سوچ رہا ہوں کیا وہ دو ماہ واقعی میری زندگی میں آئے تھے یا میرا خواب تھا؟؟؟ لیکن بستر پر لیٹتے ہی پیٹ میں محسوس ہوتے درد نے یاد دہانی کروادی خواب نہیں حقیقت تھا سب۔۔۔۔
عروج یاسر میری زندگی میں آنے والی پہلی لڑکی نہیں تھی بلکے اس سے پہلے کافی لڑکیاں میری زندگی میں آئیں لیکن بات اینگیجمنٹ تک نا پہنچی ایک ٹائم پاس دل لگی تھی جو ہفتوں بعد اڑن چھو لیکن عروج یاسر نے بڑا نقصان کروایا۔۔۔۔
برتھ ڈے پر اسکے لئے انگھوٹی خریدی، بےپناہ محبت کا یقین دلایا لیکن تب بھی عروج نے اعتبار نا کیا پھر تنگ آکر مما سے ضد کر کے انھیں عروج کے گھر بھیجا اب شادی تو ایک نا ایک دن کرنی تھی پھر عروج ہی سہی۔۔ لیکن منگنی کے بعد جب میں نے اسے قریب آنے کے لیے فورس کیا وہ مان گئی میرے لئے حیرت کا مقام تھا پھر بھلا اس سے شادی کر کے کیا فائدہ؟؟ میں نے اسی وقت منگنی توڑ دی بغیر یہ سوچے کے آج میں نے اسے مردوں کا وہ دردناک روپ دکھایا ہے جسے دیکھنے کے بعد شاید وہ زندگی میں کسی مرد پر اعتبار نہیں کریگی۔ ایک لمحے کو بھی میرا دل میں یہ خیال نا آیا کے وہ باپ بھائی کی لاڈلی تھی آج یہ دردناک روپ دیکھ کر اسکی دماغی حالت کیا ہو رہی ہوگی؟؟ اس وقت میں نے کچھ نا سوچا میں تو بس جیت کی خوشی میں اندھا تھا پھر اپنی یہ خوشی کیوں خراب کرتا؟؟ لیکن میری یہ خوشی دو پل رہی تھی میرا مطلب کچھ دنوں تک رہی۔۔۔۔
ایک دن دوست کے گھر سے لوٹتے میں جب اپنے بنگلے کی گیٹ پر پہنچا کسی نے پیچھے سے آکر میری ناک پر رومال رکھ دیا اس حرکت پر غور تب کرتا جب ہوش ہوتا ہوش تو تب آیا جب اپنے سامنے پہلوانوں کا جھنڈ دیکھا۔۔۔۔
جی ہاں پہلوان ایک سے بڑھ کے ایک جنہیں دیکھ کر میری روح کانپ اٹھی اور یہ کانپتی روح تب اپنی جگہ پڑوان چڑھی جب میں نے اپنے کزنس کو دیکھا میں ہی نہیں میرے ساتھ تایا چچا کے بیٹے سب موجود تھے اور ہم ایک دوسرے کو دیکھتے سوچ رہے تھے آخر ہمیں کس نے اغوا کیا؟؟
اسکا جواب بھی منٹوں میں مل گیا جب عروج یاسر کے بھائیوں کی خون خوار نظریں خود پر محسوس کیں پھر میں تھا اور میری چیخیں۔۔۔۔۔
ظالموں نے اتنا ماڑا کے تین دن تک زمین پر سو نا سگا لیکن ظالموں نے خوشی بھی بڑی دی تھی میرے کزنس کو بھی ویسے ہی کٹ لگائی تھی جیسی مجھے۔۔۔۔۔
میرا خیال تھا دلائی کے بعد چھوڑدیں گئے لیکن نہیں لگاتار ڈیلی پہلوانوں سے وہ مار مروائی کی میری نسلوں تک نے دل لگی سے توبہ کردی۔۔
” کیوں کمینے سمجھ کیا رکھا ہے لڑکیوں کو ؟؟ تیری جیسے حرام خوروں کے لئے پیدا کیا ہے ؟؟؟ جب آئے اور۔۔۔۔۔ “ اسکا بھائی مارتے ہوے مسلسل مجھ سے پوچھا رہا تھا جبکے میں زمین پر نڈھال پڑا اسکی مار کھا رہا تھا۔۔۔
” آئی ماں۔۔۔۔۔“
یہ میرے کزن حماد کی آواز تھی جسے سن کر مار کا درد اب کم محسوس ہو رہا تھا۔۔۔ شکر تھا انہیں بھی اٹھا لیا ورنہ اکیلے میں نے مار کھا کھا کر زہنی مریض بن جانا تھا کم سے کم اب چیخوں میں کمپنی تو ہوگی۔ لیکن ایک بات سمجھ نا آئی مجھ سے نفرت کی وجہ میں جان چکا تھا انکی بہن کے ساتھ۔۔۔ لیکن غصّہ اس قدر تھا میرے خاندان کے سارے جوانوں کو اٹھا لیا؟؟؟
عروج کا ایک بھائی پولیس افسر تھا کبھی کبھی اپنے حوالداروں کو ہمیں مارنے کے لئے لیکر آتا لگاتار دو ماہ تک ہم نے سورج کی روشنی نہیں دیکھی ” زنا “ ” بےوفائی “ ” دھوکے بازی “ ” ارمانوں کا مجرم “ ” حوس پرست “ نجانے کون کون سے احساس دلائے لیکن کوئی اندرونی سویا مرد نا جگا بس ایک مار نے عقل ٹھکانے لگادی میں جو بہن تک کو سامنے رکھی دو قدم کے فاصلے پر فرج سے پانی لانے کا حکم جاری کرتا تھا اب سب کام خود کرتا ہوں یہاں تک کھانا کھا کر پلیٹ بھی خود رکھ آتا ہوں ایک لفظ بھی جو منہ سے نکلا وہیں سے پہلوان کا بیلن گھما کر سر پر پڑتا ۔
” گلی کے گندھے کیڑے، کمینوں، شرم آتی ہے کسی کی زندگی تباہ کرتے ہوے؟؟ عورت کو کھلونا سمجھ کر دل لگائی لگا کر مطلب پورا کر کے مرنے کے لئے چھوڑ دیا؟؟؟ کبھی سوچا کمینے تو تو مرد ہے تجھ سے کون پوچھ گا لیکن اس عورت کا کیا جو دنیا کے آگے جواب دا ہوگی جسکا سر کبھی نا بھائی کے آگے اٹھے گا نا باپ کے ارے بےغیرت عورت سے دل لگی کرنے سے پہلے سوچ تیرے گھر میں بھی بہن ہے۔۔۔ ٹھکرانے سے پہلے سوچ تجھ جیسا گندھی نالی کا کیڑا بھی کسی عورت کے رحم و کرم سے ہی دنیا میں آیا ہے کتے “ آج پھر جنونی انداز میں دلائی ہوئی تھی اتنا کُٹنے کے بعد بھی ظالموں کو رحم نا آیا میں جو سمجھا تھا اب پہلوان کے جانے کے بعد آرام کرونگا ایک اور حکم سن کر زمین سے ٹیک لگاے خود کو گالیاں دینے لگا۔۔۔
” عالم آس پاس گھروں کے، بلکے اس پورے علاقے کے جو دلہے کپڑے بھی ہیں لاکر انہیں دے کمینے جب تک ہاتھ نہیں چلائیں گئے قدر نہیں جانیں گئے یہ وہ کمینے ہے جنکے سامنے شیر بھی دھاڑے تو یہ کان بند کر کے بیٹھے رہیں۔۔ “ علاقے کیوں؟؟؟ پورے پاکستان کے کپڑے لے آؤ نا جلادوں۔۔۔ کیا قسمت تھی منہ سے بھڑاس تک نہیں نکال سکتا اس فرعون سے تو کوئی امید نہیں تھی لیکن میں نے عالَم کو رحم بھری نظروں سے التجا کی کے ترس کھا لیکن وہ جلاد تو اسکا بھی باپ نکلا کپڑوں کے ساتھ ہمارے ہاتھ رکنے پر مارنی والا ڈنڈا بھی لے آیا جہاں میرے یا میرے کزنس کے ہاتھ روکے وہیں ایک ڈنڈا ہماری پیٹ پر پڑتا۔۔۔۔
” یہ فرعون کی اس نسل سے ہیں جن کے سامنے بیغرتی کی انتہا بھی ہو رہی ہو نہ تو اندھے بہرے گونگے بن جاتے ہیں اب انہیں پتا لگے گا عورت کو ٹشو پیپر سمجھنے کا کیا انجام ہوتا ہے نسلوں تک نے توبہ نا کی تو نام بدل
دینا حیدر شاہ کا “ وہی بڑا بھائی حیدر شاہ یا کہا جائے سانڈ موت بن کر ہمارے سروں پر کھڑا تھا۔۔۔
یہاں رہکر ان لوگوں نے عورتوں والے سارے کام کرائے اور پہلی بار مجھے محسوس ہوا تھا ” عورت “ کے بغیر مرد کی زندگی کیا ہے ؟؟؟
ماں نا ہو تو ہم زندہ کیسے رہیں؟؟؟
بہن نا ہو تو اداس گھر میں خوشی کی لہر کیسے دوڑے؟؟
بیوی نا ہو تو مرد مکمل کیسے ہو؟؟ اور عورت ہی نا ہو تو
ہم جیسے جگہ جگہ دل لگی کرنے والے مرد کس طرح دنیا میں آئیں؟؟؟
پہلے میں اس دن کو کوستا تھا جو دل لگی کے لئے ان شیروں کی عزت پر ہاتھ ڈالا لیکن اب سوچتا ہوں یہ وقت نا آتا تو آج تک بےحس بنا صرف خود کے لئے احساس رکھتا۔۔۔مجھے یاد ہے وہ بھی اس وقت میرے طرح بےحس بنے رہے تھے جیسے میں انکی بہن کے لئے بنا تھا۔ کوئی پینتیس دفع توبہ کر چکا تھا لیکن انہوں جو سنا ہو؟؟؟ الٹا کہتے۔۔۔
” جانے دے عالَم کتے کو بھوکنے دے یہاں سے نکل کر کوئی نیا شکار ڈھونڈیں گئے جب تک خود عقل نہیں آتیں انکی آزادی ناممکن ہے “ حیدر نے گویا مکھی مارنے والے انداز میں بات ہی ختم کردی لیکن یہاں میری باقی کزنس نے احتجاج کیا۔۔۔۔
” غلطی اس نے کی ہمیں کیوں باندھ رکھا ہے ہم نے کیا کیا؟؟ “ حماد نے دبی دبی آواز میں احتجاج کیا کے کہیں پیچھے سے ڈنڈا نا پڑ جائے۔۔۔
” ہاں میری تو ابھی منگنی تک نہیں ہوئی “ قاصم نے منہ کھولا تھا کے پیچھے سے کسکے ایک لات پڑی وہ اوندھے منہ ذمین پر گڑ پڑا جسے دیکھ کر ہم سب کی زبانوں کو تالا لگ گیا لیکن علی کی زبان میں نئے سرے سے کھجلی ہوئی۔۔۔۔
” اور۔۔۔۔ میں نے تو یونیورسٹی کی شکل بھی نہیں دیکھی “میں علی کا منہ دیکھتا رہ گیا جو چوبیس گھنٹے پاپا کی پرنسسز نام سے فیس بک پر ایک ہزار سے زیادہ لڑکیوں کو ریکویسٹ بھیج چکا تھا اور یہاں یونیورسٹی نا جانے کا رونا رو رہا تھا؟؟ میری دل سے خوائش تھی عید کمینے کو بھی دو تین چھتر پڑیں اور وہی ہوا ساتھ مجھے یہ بات بھی سمجھ آئی پورے خاندان کو کیوں اٹھایا ؟؟
” پاپا کی پڑی تجھے انٹرنیٹ پر روٹیاں بنانے سے فرست ملے تب جاکر کہیں کتابیں کھولے نا “ اور وہ آیا ڈنڈا جس نے سب کے ساتھ میرے بھی ہاتھ تیزی سے چلائے۔۔۔
یہ وقت اسی طرح گزرتا رہا میری التجا معافی، رونا دھونا کچھ کام نا آیا آخر دو ماہ بعد مقرر وقت پر ہم سب کو چھوڑ دیا گیا۔خود میرے گھر کے پاس ہمیں گاڑھیاں چھوڑ گئیں ہم اندر پہنچے تو وہاں ماحول نارمل تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں گھر میں نا پولیس تھی نا مہمان پھر ابو کی نظر جیسے ہی ہم پر پڑی لگاتار تھپڑوں کی بارش شروع ہوگئی۔۔۔
میں سن ہوتے ذہن کے ساتھ اس ویلکم کے انداز کو سمجھنے سے قاصر تھا۔۔۔
باپ نے تو بھڑاس نکال لی لیکن ماں نے ایسی حالت دیکھ کر دل تھام لیا مگر چُپی کا فقل ہونٹوں سے نا توڑا قاصم نے بس اتنا بتایا ہم ساتوں کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا تب بابا نے بھی پوچھا جاتے وقت یا واپس آتے وقت پھر بابا سے ہی ہمیں پتا لگا سب کے موبائل سے میسجز آئے تھے کے مری کاغان سوات گھومنے گئے ہیں۔۔
تھپڑوں کی بارش کا یہی بتایا کے وہاں جاکر کونٹیکٹ کیوں نا کیا؟؟ نا جانے کی اطلا دی نا پہنچنے کی اب منہ اٹھائے آگئے۔۔ میں کیا جواب دیتا بس لنگڑاتا ہوا کمرے میں بند ہوگیا ساتھ ہی میرے کزنس رات تک اپنے گھروں کو روانہ ہوگے لیکن وہ بھی بستر سسے تب تک نا اٹھے جب تک کسی نے سہارا نا دیا۔۔۔
ابو مجھے دیکھتے ہر وقت کچھ نا کچھ کھوجتے رہتے جب کے میں لاپروا بنا اپنے زخموں پر مرہم لگاتا کبھی کبھی سوچتا کے اگر وہ لوگ نا چھوڑتے تو ؟؟؟ مار کر دفن کردیتے کسے پتا لگنا تھا ؟؟؟ تین دن تو میں خود کو اپنے نرم بستر پر دیکھ کر حیران تھا کے کانٹوں بھرا سفر بلا تر اختتام ہوا۔۔۔
ابھی مجھے لوٹتے ایک ہفتہ ہوا تھا کے ہنستا مسکراتا حیدر شاہ شان سے اپنے ماں باپ کے ساتھ آکر شادی کی تاریخ فیکس کر گیا میں نے کوئی حیرانگی ظاہر نہیں کی کیوں کے اسنے پہلے ہی کہا تھا وہ تاریخ دینے آئے گا ساتھ وہ وارننگ۔۔” جب برباد کرتے نہیں سوچا جو بربادی کی تلافی کرتے وقت کیوں؟؟؟ “ میں خاموش رہتا آخر اسکی
قید میں جو تھا۔۔
لیکن اس قید نے میرے اندر کے حیوان کو ہمیشہ کے لئے ُسُلا دیا وہ حوس پرست مرد موت کے ڈر سے کہیں دور جا سویا ان اندھیری راتوں نے وہ خوف پیدا کیا کے اب نائٹ کلب کا منظر دوزخ کی آگ کی طرح خطرناک لگتا ہے جسکی طرف بڑھا ایک قدم واپس اس زنا گناہ کی طرف لے جاتا ہے۔ حیدر شاہ نے مجھے وہی عزت مان دیا جو کوئی بھی سالا اپنی بہن کے شوہر کو دیتا۔ میں بس نکاح کے دن ایک ہی بات پر اٹکا ہوا تھا کیا وہ مجھ سے نکاح کریگی ؟؟ جس طرح میں نے محبت کے کھیل میں اسے لوٹا کیا وہ مجھ جیسے شخص کو کبھی اپنا رکھوالا چنے گی؟
اور اسکا جواب بھی مجھے ملا۔۔
قبول ہے کی صورت میں۔۔۔
اس دن میں نے بھی خود سے ایک عہد کیا۔۔
اب گزرا وقت نہیں دہراؤنگا۔۔۔۔
نا بیتے کل کا تعنہ دیکر خود کو مرد ثابت کرونگا جس نے احسان کر کے اسے ایک نئی زندگی دی۔۔
بلکے ہر وقت اسے دیکھتے اس بیتے وقت کو یاد کر کہ عورت کا احساس کرونگا۔۔۔
محبت کا قاتل ہوں لیکن انسانیت مرنے نہیں دونگا۔۔
نا اچھا دوست بن سگا، نا عاشق لیکن اچھا شوہر بنے کی کوشش کرونگا بس ایک دعا ہے وہ بھی کبھی گزرا کل نا یاد دلائے۔۔۔
اور شاید وہ گھڑی قبولیت کی تھی آج تک نا اس نے مجھے کٹھرے میں لاکھڑا کیا نا بیتے وقت کی پرچھائی کا عکس میں نے اس خوبصورت زندگی میں آنے دیا۔
رخصتی کے دن میرے سارے کزنس حیدر شاہ سے چھپ کر گھوم رہے تھے لیکن فوٹو سیسشن کے دوران رشتےداروں نے ملکر سب کو اسٹیج پر بھیجا وہاں اپنی ہی شادی کے دن کزنس کی دعائیں کیا ملتیں الٹا ایک ایک مرنے کی بددعا دے گیا وہ بھی اسی پہلوان سالے کے ہاتھ جسے دیکھتے ہی سبھی کا درد نئے سرے سے شروع ہوگیا۔ خیر میری تو آج تک چاروں بھائی اتنی ہی عزت کرتے ہیں جتنی کوئی بیٹا اپنے سگے باپ کی کرتا ہے آخر اکلوتا جیجا جو ٹہرا۔۔۔
اس سب کے باوجود میرا رویہ کبھی بھی عروج سے سرد نا ہو سگا الٹا اسکے سامنے آتی ہی مجھے خود سے بھی شرمندگی محسوس ہونے لگتی ہے اور اسکی تلاوفی میں محبت کی صورت میں کرتا ہوں، اسے عزت، وقت، پیار دیکر کر۔۔۔
میں اس سے محبت کرتا ہوں؟؟ معلوم نہیں لیکن عروج اور بچوں کے بغیر یہ گھر کھاٹ کھانے کو دوڑتا ہے۔۔
میری زندگی اسکے بغیر ادھوری سی لگتی ہے۔۔۔
اسے مکمل صرف اسنے کیا ہے کیونکے عروج وہ عورت ہے جس نے میرا وہ چہرہ دیکھا ہے جس سے میرے حقیقی والدین تک انجان ہیں۔۔۔
میری زندگی کی وہ روشنی ہے جس نے کبھی مجھے اندھیرے میں بھٹکنے نہیں دیا۔۔۔
بلکے دردناک سفر کی وہ یاد ہے جس نے میرے نفس کو سلایا ہے۔۔۔
وہ ” وہ “ عورت ہے جو میرے بچوں کی ماں ہے میرے لیے عزیز ترین ہستی اور میری ماں کے بعد وہی وہ دوسری عورت ہے جسکی عزت میرے دل نے جی جان سے کی ہے۔۔۔
میں نے دل لگی جس عورت سے کی تھی آج وہی میرے لیے قابل عزت ہستی ہے۔۔۔۔
آج ہم دونوں اپنی اس زندگی میں خوش ہیں کیونکے ہم نے بیتے کل کو آج پر حاوی ہونے نہیں دیا۔ خاص کر میں نے کیوں کی آج بھی مجھے بستر پر لیٹتے ہی پیٹ میں شدید درد اٹھتا ہے جسے یاد کر کے میری ساتھ پشتوں نے دل لگی سے توبہ کرلی۔۔۔۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: