Dulhan by Nasir Hussain – Episode 1

0

دُلہن از ناصر حسین قسط نمبر 01

میرا لیپ ٹاپ کہاں ہے. ..؟
افراہیم نے اپنی نئی نویلی دلہن سے پوچھا جو دو دن پہلے زبردستی اس کے سر پہ تهوپ دی گئی تھی. ………
جی…وہ..وہ..کیا ہوتا ہے اس نے حیرانی سے الٹا سوال کر دیا..وہ اس کی حیرت پہ مزید حیران ہوا…..
لیپ ٹاپ….مطلب وہ جس پہ بیٹھ کر میں رات کو اپنے آفس کا کام کرتا ہوں…..اس نے دانت پیس کر کہا.
اچها ….وہ….وہ..تو ہم نے اوپر سامان والے کمرے میں ڈال دیا…معصومیت سے کہا گیا. ……..
کیا…میرا لیپ ٹاپ تم نے سٹور روم میں ڈال دیا. ..کیوں. .حیرت کے ساتھ ساتھ اسے غصہ بهی تها….
وہ جی ہم کو لگا …وہ آپ کے کام کی نہیں ہے ایسے فالتو میں یہاں پڑی ہوئی ہے اس لیے ہم اسے اوپر ڈال آئے……اس نے ڈرتے ڈرتے کہا جب کہ افراہیم کا بی پی اوپر جا چکا تها ..اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تها وہ اس لڑکی کا کیا کرے…..
جاو ابهی جا کر میرا لیپ ٹاپ لے آو…..اس نے غصے کو کنٹرول کر کے آرام سے کہا….جبکہ وہ ایسے غائب ہو گئی جیسے گدھے کے سر سے سینگ. .اس نے ایک ٹھنڈی سانس خارج کر اپنا غصہ باہر نکالنے کی کوشش کی اور بے بسی سے سر تهام کر بیڈ پر بیٹھ گیا…..
یہ بانی نامی آفت دو دن پہلے ہی اس کی زندگی میں آئی تهی جسے دادی پوری دنیا ڈهونڈ کر نہ جانے کہاں سے پکڑ کر لائیں تهیں..اتنی بڑی دنیا میں اتنے بڑے پاکستان میں دادی کو اپنے ہونہار پڑهے لکهے ہینڈسم پوتے کے لیے یہی ایک لڑکی ملی تهی.. جس نے اپنی زندگی میں لیپ ٹاپ کا نام تک نہیں سنا..جو انگریزی تو دور کهبی اردو سکول بھی نہیں گئی….
.پتا نہیں دادی کو اس بلا میں ایسا کیا نظر آ گیا جو انہوں نے اس جاہل لڑکی کو اس کے سر پر تهوپ دیا…اسے گونگی مٹی کی مادهو ٹائپ دیسی گاوں کی لڑکیوں سے اسے ہمیشہ سے چڑ تهی.. .اس نے اپنی زندگی میں کئی خوبصورت خواب دیکهے تهے اگر اس نے کسی پرستان کی پری کے خواب نہیں بهی دیکهے تو اس نے اس دیہاتی لڑکی کے بارے میں بهی تو کهبی خواب میں بھی نہیں سوچا…اس نے تو اپنی شادی کے بارے میں بهی ابهی اچهے سے سوچنا بهی شروع نہیں کیا تها اور اگر سوچتا بھی تب بهی یہ لڑکی اس کی سوچ میں کهبی نہ ہوتی..وہ ایک ایسی ماڈرن اور پڑهی لکهی بیوی کی توقع کر رہا تها جسے کسی کے سامنے متعارف کراتے ہوئے گردن نہ جهک جائے بلکہ انسان کے اندر فخر پیدا ہو جائے.. .اور یہ لڑکی اس کے ہر خواب کو چکنا چور کرتی اس کے گهر پہ پورے حق سے قبضہ جمانے آ گئی..اور قبضہ جمانے کا حق کس نے دیا اس کی اپنی سگی دادی نے. ………
یہ عجیب و غریب لڑکی اس کے سر پر تهوپ کر اس کی دادی محترمہ عمرے کے لیے نکل گئیں بقول ان کے اس کی شادی ہی ان کی راہ کی رکاوٹ تهی جو اب دور ہو گئی ان کی رکاوٹ تو دور ہو گئی مگر انہوں نے اپنے راستے کا پتهر اٹها کر سیدھا اس کے سر پر دے مارا……..
میں اپنے پوتے اپنے افراہیم کے لیے چاند سے خوبصورت پری جیسی دلہن لاوں گی…اس کی دادی ہمیشہ یہی کہا کرتی تهی اور وہ ہمیشہ دادی کی اس بات پہ مسکرا دیتا تها لیکن زندگی میں پہلی بار اسے دادی کی یہ بات یاد کر کے صرف غصہ آ رہا تها.دادی نے ساری زندگی اپنے یتیم پوتے کی پرورش کر کے اپنے سبهی قرضے ایک ساتھ وصول کر ڈالے .جو محبت کے بڑے بڑے دعوے کیا کرتی تهیں کہ اتنی محبت تو میں اپنے کسی نواسے یا کسی اور پوتے پوتیوں سے نہیں کرتی جتنی محبت اپنے افراہیم سے کرتی ہوں..دادی کی اگر یہ محبت تهی تو اللہ جانے ان کی نفرت کی کیا حد ہو گی…..پتا نہیں انہوں نے یہ کیسی محبت نبهائی اپنے لاڈلے پوتے کے ساتھ..ہاں اس نے خود انہیں یہ اختیار دیا تها کہ وہ اپنی پسند کی بہو تلاش کر کے لائیں اور یہ اختیار بھی اس نے ان کے رونے اور واویلا مچانے پہ ہی دیا تها ..اس نے کتنے بهروسے کے ساتھ اپنی زندگی کا ساتھی چننے کا حق انہیں دیا تها اور انہوں نے دنیا جہاں کی ان پڑھ جاہل لڑکی اس کے سر پر مسلط کر دی…یہ انہوں نے سہی نہیں کیا تها اگر وہ ماڈرن بہو نہیں بهی چاہتی تهیں تو انہیں کوئی بھی لڑکی انتخاب کرنے کا حق بھی نہیں تھا. پتا نہیں کس گاوں سے وہ اس کے لیے یہ لڑکی پکڑ کر لائی تهی اور اس پہ حکم صادر کر کے بولیں…یہ لڑکی اب تماری بیوی ہے اور اسی کے ساتھ تمہیں اپنی پوری زندگی گزارنی ہے…………
تماری ہونے والی دلہن تو دنیا کی سب سے اچھی لڑکی ہے..ایسی بہو تو تمہیں دنیا کے کسی بھی کونے میں نہیں ملے گی..وہ جس علاقے میں رہتی ہے وہاں کی سب سے اچھی لڑکی ہے…یہ کچھ مخصوص جملے شادی سے پہلے دادی اس سے کہا کرتی تهی مگر اس وقت دادی کی ان باتوں کا مطلب وہ نہیں سمجھ سکا اگر سمجھ جاتا تو اسے معلوم ہو جاتا کہ وہ اچھی ہے خوبصورت ہے تو صرف دادی کے اپنے حساب سے اور ستر سالہ پرانی دادی اور آج کے دور میں زمین آسمان کا فرق ہے. …………….
وہ ایک کرسی لیے اندر داخل ہوئی وہ حیرت سے اٹھ کر کهڑا ہو گیا….
میرا لیپ ٹاپ کہاں ہے…اس نے بھرپور حیرانی سے پوچھا. ….
یہی تو ہے جی…اس کی زوجہ محترمہ نے نگاہیں نیچے جهکا کر با ادب طریقے سے جواب دیا…..
یہ…یہ..تو کرسی ہے…اس کا ایک بار پھر خون کهولنے لگا…..
آپ ہی تو بولے تهے جس پہ بیٹھ کر ہم کام کرتے ہیں. .اس کی یہ معصومیت اس کے چودہ طبق روشن کر گئی..اس نے غصے سے آنکھیں بند کیں…
مس بانی صاحبہ یہ اس پہ میں ایسے بیٹھ جاتا ہوں..وہ دانت پیس کر کرسی پر بیٹھ گیا وہ موٹی موٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تهی….
اور اس پہ بیٹھ کر جو چیز میں سامنے ادهر رکهتا ہوں اور جس پہ ایسے ایسے انگلیاں چلاتا ہوں میں اس کی بات کر رہا ہوں ..اس نے مکمل طور پر اسے لیپ ٹاپ کا نقشہ کھینچ کر بتایا شاید اس طرح اس کی موٹی عقل میں کوئی بات جاتی……
وہ مشین. …؟. ..وہ اونچی آواز میں بولی..اس نے ایک ٹھنڈی سانس لی شکر ہے کسی طرح تو سمجھی وہ کرسی سے کهڑا ہو گیا….
ہاں جی ….وہ…مشین…وہ اسی کے انداز میں بولا. .
وہ تو جی ہم نے سکهانے کے لیے اوپر رکھ دیا ہے. .اس نے اتنی آسانی سے اپنا جملہ مکمل کیا جیسے موسم کا حال سنا رہی ہو محترمہ …
جبکہ اس کا حال ایسا تها جیسے اسے کسی نے اندھے کنویں میں ڈال دیا ہو….
سکهانے….کے لیے. …لیکن کیوں…..؟؟؟؟..اس بار وہ زور سے چلایا..اس کے چلانے پہ وہ بہت گهبرا گئی…
وہ جی…بہت میلا ہو گیا تها ..تو ہم نے سوچا اسے دهو دیں…جیسے وہ کوئی رومال دهونے کی بات کر رہی ہو….
کیا…؟.تم نے لیپ ٹاپ دهو دیا …؟..تم…تمارا ..پاگل….یہ…
اور اس کا بلڈ پریشر دو سو کراس کر چکا تها. غصے سے اس کا منہ لال ہو چکا تها وہ سمجھ نہیں پا رہا تها اس بهولی بهالی لڑکی کا کیا کرے جو دو دن پہلے دادی جی اسے تحفے میں سونپ کر گئیں تهیں. .ایک بار اس کا دل چاہا کھینچ کر اس کے منہ پہ تماچا مارے ..لیکن خود پہ قابو رکهتے ہوئے وہ کمرے سے باہر نکل گیا……………
وہ دوپٹے کے پلو سے اپنے آنسو صاف کرتے کرتے بیڈ پہ بیٹھ گئی…یہ اس کا شوہر تها جس کے ساتھ دو دن پہلے اس کی شادی ہوئی تھی. اس کے بہت محبت کرنے والے ماموں نے اپنی یتیم بھانجی کو ایک پڑهے لکهے بڑے گهرانے میں بهیج دیا مگر ماموں اس کا رشتہ کرتے وقت یہ بهول گئے کہ بڑے ڈگریوں والے یہ بڑے لوگ اپنے لیے کسی بڑی جیون ساتھی کا خواب دیکهتے تهے اس جیسی ان پڑھ گوار کے نہیں. ……
شادی سے پہلے اس کی ساری سہیلیاں کہا کرتی تھیں. .ہائے بانی تیرا شوہر تو بڑا گبرو جوان ہے ایک دم فلمی ہیرو جیسا..مگر ان بیچاریوں کو کیا پتا کہ فلمی ہیرو جیسا دکهنے والا وہ گبرو جوان اپنے لیے کسی فلمی ہیروئین کی ہی توقع کیے بیٹها تها…اس کے خوابوں میں اس کی زندگی میں بانی جیسی جاہل لڑکی کا کہیں نام و نشان نہیں تھا. ..وہ تو زبردستی گهس آئی اس کی زندگی میں. شادی ایک لڑکی کی زندگی کا سب سے خوبصورت خواب ہوتا ہے.. اس نے اپنی آنکھوں میں اپنے ہونے والے شوہر کے ساتھ نئی زندگی کے کئی خواب سجائے تهے..لیکن اس گهر میں آ کر اسے پتا چلا خواب اور حقیقت میں بہت فرق ہوتا ہے. جب اس نے پہلی بار افراہیم کی تصویر دیکهی تو اسے بہت رشک آیا اپنے آپ پہ. لیکن اس کی ساری سوچوں پہ پانی اس وقت پهر گیا جب اس پہ انکشاف ہوا کہ اس کا شوہر اسے نا پسند کرتا ہے. یہ بات کسی بھی لڑکی کے لیے تکلیف دہ ہے کہ اس کا شوہر اس سے نفرت کرتا ہے. نفرت یا محبت جو بھی تها اب یہی اس کا شوہر اس کا جیون ساتھی تها اسی کے ساتھ اس نے اپنی ساری زندگی گزارنی تهی.یہ رشتہ چاہے جن حالات میں جس وجہ سے بھی ہوا ہو مگر اسے یہ رشتہ نبهانا تها..یکطرفہ رشتہ جوڑنا بہت مشکل ہوتا ہے مگر وہ ایک عورت تهی جو بیاہ کر اس گهر میں لائی گئی تهی بچپن میں اس کی ماں نے اسے سکهایا تها لڑکی کا اصل گهر اس کا سسرال ہوتا ہے وہ ایک بار جس گهر میں جائے پهر اس گهر سے اس کا جنازہ ہی نکلنا چاہیے. ..اور یہی بات اس کے ذہن میں اپنے بچپن سے ہی بیٹھ گئی.وہ پوری کوشش کرے گی اپنے گهر کو بچانے کی اس نازک ڈور کو قائم رکهنے کی.وہ نفرت سے محبت کا سفر ضرور طے کرے گی..اس نے اپنے آنسو صاف کر کے ایک مضبوط ارادہ کر لیا ….
_______________________________
وہ رات کا کهانا کهانے کے بعد اپنے آفس کی ایک فائل دیکھ رہا تھا. .اس کی پوری توجہ فائل پر تهی لیکن اچانک قدموں کی چاپ سے اس کی توجہ فائل سے ہٹ گئی..سامنے اس کی وہی حد سے زیادہ سمجھدار ذہین زوجہ محترمہ کهڑی تهی..اسے محترمہ کی صبح والی واردات یاد آئی..اس نے ایک نظر غصے سے اسے دیکها پهر اپنی توجہ فائل پہ مرکوز کر دی..وہ اسے نہیں دیکهنا چاہتا تها. …ہاں البتہ اس لڑکی کی نگاہیں خود پہ ضرور محسوس کر رہا تها ..اس میں ایک ناگواری کی لہر پیدا ہو گئی…لیکن ناگواری کو اپنے چہرے پہ نا لا کر اس نے سپاٹ چہرے کے ساتھ اس لڑکی سے پوچها…
کچھ چاہیے کیا…؟…
جی وہ میں سونے آئی ہوں…اسے جهٹکا لگا وہ کسی بھی قیمت پہ اس لڑکی کے ساتھ اپنا بیڈ اپنا روم شئر نہیں کر سکتا تها کل کی بات اور تهی کل دادی کے سامنے وہ کچھ نہیں بول سکا لیکن آج اسے کوئی مجبوری نہیں تهی اس لیے وہ پوری رات تو کیا ایک لمحے کے لیے بھی اس لڑکی کو اپنے پاس اپنے کمرے میں نہیں برداشت کر سکتا تها. ………
تم یہاں نہیں سو گی…گهر میں اتنے سارے کمرے ہیں کسی اور کمرے میں جا کر سو جاو…وہ نظریں چراتے ہوئے بولا…یہ بات کہنے میں اسے خود بھی عجیب لگ رہی تهی کہ اپنی نئی نویلی دلہن کو سونے کے لیے دوسرے کمرے میں بهیج دے لیکن سچ تو یہی تها نہ تو اس نے اس رشتے کو قبول کیا تها اور نہ ہی کهبی کرے گا…وہ لڑکی تهوڑی دیر اسے خاموش نظروں سے دیکهتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی…….
وہ کمرے سے باہر نکل کر دوسرے کمرے میں چلی گئی. .اپنے مغرور اور گبرو شوہر کے سامنے بہ مشکل اس نے اپنے آنسو روک رکهے تهے لیکن اس کمرے میں آتے ہی اس کے آنسو کا بند ٹوٹ چکا تها ..اسے بہت شکوے تهے اپنے ماموں سے کیوں کیا انہوں نے اس کا رشتہ اتنے بڑے گهر میں. ..اگر وہ اپنے ہی گاوں میں کسی غریب مزدور کے ساتھ شادی کرتی تو کیا خوش نہیں رہتی وہ ..اسے دو وقت کی روٹی کے ساتھ ساتھ وہ محبت وہ عزت بھی ضرور دیتا جو اس کا حق تها لیکن یہاں اس شخص کے سامنے اسے اپنی عزت نفس خوداری غیرت سب کچھ کچلنا ہو گا…اسے اپنے ماموں کے ساتھ ساتھ دور کہیں آسمان پہ موجود اس ہستی سے بھی بہت شکوے تهے جنہوں نے اس کے ماں باپ کا سایہ اس کے بچپن میں ہی اس سے چهین لیا پھر اس نے ساری زندگی مامی کی ڈانٹ ان کی نفرت میں گزاری اور اب بھی زندگی اس پہ مہربان نہیں تهی یہ امتحانات کی کڑیاں تو ختم ہی نہیں ہو رہیں تهیں………..
اب اس کے لیے سب سے بڑا مسئلہ سونے کا تهی وہ زندگی میں کهبی اکیلی نہیں سوئی ماموں کے گهر پہ بھی اس کی کزنز اس کے ساتھ سوتی تهیں..اکیلے سونے میں تو اسے ویسے بھی ڈر لگتا تھا اور یہ گهر بھی اس کے لیے نیا تها تو اس کے ڈر میں مزید اضافہ ہو چکا تها. ..اس کا وہ پڑها لکها شوہر جس نے اسے کمرے سے باہر نکال دیا تها اس نے کیا ایک بار بھی سوچا کہ اس کی بیوی کو اکیلے کمرے میں سوتے ہوئے کتنی گهبراہٹ ہو سکتی ہے.کیا اس نے سوچا وہ اکیلی کیسے سوئے گی…
کچھ بھی ہو جائے میں بھی اب اس کے پاس نہیں جاوں گی..چاہے مجھے کتنا ہی ڈر کیوں نہ لگے اکیلے سوتے ہوئے
.. لیکن میں اس کا دروازہ نہیں کهٹکٹاوں گی…اس نے مستحکم فیصلہ کر لیا تها افراہیم کے پاس نہ جانے کا ..لیکن جوں جوں رات کی تاریکی اور خاموشی بڑهتی گئی اس کے فیصلے کی مضبوطی بھی کم ہوتی گئی…وہ اس کے پاس جانا تو نہیں چاہتی تھی مگر مجبوری تھی اس کے علاوہ کوئی راستہ بھی نہیں تھا اس کے پاس…اسے اپنے آپ پہ پہلی بار اتنی شدت سے ترس آیا. .مجبوری کیا ہوتی ہے. اور مجبور میں انسان کتنا مجبور ہو جاتا ہے یہ وہ اچهے سے سمجھ چکی تھی……………….
وہ یونہی لیٹے لیٹے چهت کو گهور رہا تها . زندگی کس قدر الجھی ہوئی تهی کہاں آ کر وہ پهنس چکا تها..زندگی میں کب کہاں اس نے ایسی غلطی کر دی جس کی اسے یہ سزا ملی…دروازے پہ کوئی زور زور سے دستک دے رہا تها..اس گهر میں ان دونوں کے علاوہ تیسرا کوئی نہیں تو ضرور وہی ہو گی اب اتنی رات کو اس پہ کون سا آسمان گر گیا جو وہ اس طرح دروازہ پیٹ رہی ہے وہ غصے سے اٹھ کر دروازہ کهولنے چلا گیا…….
جی اب کیا چاہیے محترمہ. ..اس نے سلگتے ہوئے پوچها وہ حد سے زیادہ گهبرائی ہوئی لگ رہی تهی….
جی وہ ہم کو اکیلے سوتے ہوئے ڈر لگ رہا ہے…اس نے اٹکتے ہوئے کہا……
یہ کیا ہو رہا تها اس کے ساتھ اس کا جی چاہا وہ غصے سے رو دے.اب کیا کرے…دادی جو اتنی بڑی زمہ داری اس پہ سونپ گئیں تهیں اس کا وہ کیا کرے…..
او کے آ جاو …..لیکن میں اپنا بیڈ تمارے ساتھ بالکل بھی شئر نہیں کروں گا باقی اس بیڈ کے علاوہ تمہیں اس کمرے میں جہاں سونا ہے سو جاو…..اس نے خشک لہجے میں اس سے کہا……
وہ واپس آ کر بیڈ پہ بیٹھ گیا جبکہ وہ نیچے فرش پہ اپنا بستر بنا رہی تهی..اس نے ناگواری سے اسے دیکھا اور سر جهٹک کر منہ دوسری طرف کر کے سو گیا. پتا نہیں دادی کس عذاب میں ڈال کر گئی تهی اسے..اس کی خوشحال سکون والی زندگی میں یہ لڑکی کہاں سے آ کر ٹپک گئی اس کا سکون غارت کرنے.کہاں وہ دن تهے جب کالج کی لڑکیاں اس پہ جان چهڑکتی تهیں..اس کی آواز سننے کے لیے لڑکیوں کی لائن لگی رہتی تهی..آفس میں بھی کئی لڑکیاں اس سے اپنی پسندیدگی کا اظہار کر چکی تهیں..لیکن وہ یہاں کہاں آ کر پهنس گیا… .اس کا دل چاہا ابھی اسے اس کمرے سے تو کیا اس گهر کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی سے بھی نکال دے لیکن وہ چاہ کر بھی ایسا نہیں کر سکتا تها… ایک بار تو اس کا دل چاہا ابهی کے ابهی دادی کو فون کر کے بتائے اسے ان کی محبت سے لائی ہوئی یہ انمول گڑیا بالکل نہیں چاہیے وہ جہاں سے اسے لائیں تهیں وہیں جا کر اسے واپس پہنچا دیں..لیکن دادی چونکہ سفر میں تهی اس لیے دور بیٹهی اپنی اس بوڑھی دادی کو وہ یہ صدمہ نہیں دینا چاہتا تها ویسے بھی بائیس دن کے بعد تو انہیں آ ہی جانا تھا تبهی وہ ان سے صاف صاف کہہ دے گا کہ اسے ان کی یہ سگهڑ ، ہونہار ، ہر کام میں ماہر بہو نہیں چاہیے….لیکن بائیس دن تو دور وہ اسے بائیس سکینڈز بھی کیسے برداشت کر سکتا تها……
کیا کیا نہیں سوچا تھا اس نے اپنی شادی شدہ زندگی کے بارے میں اور یہ کیا ہو گیا..اسے شدید غصہ تها دادی پہ بھی خود پہ بھی اور اس لڑکی پہ بھی. …..
اور اس غصے میں جانے کب نیند کی دیوی اس پہ مہربان ہو گئی .صبح آلارم بجنے سے اس کی آنکھ کهل گئی. .بے ساختہ اس کی نگاہ بیڈ سے نیچے گئی شکر ہے جو وہ وہاں نہیں تهی.وہ اپنی صبح کا آغاز اس کا منہ دیکھ کر کهبی نہیں کر سکتا تها …وہ جمائی لیتے ہوئے بستر کو چهوڑ کر واش روم کی طرف بڑها. ..منہ ہاتھ دهونے اور فریش ہونے کے بعد وہ ناشتے کے لیے نیچے چلا گیا…وہ لڑکی اسے ڈرائنگ روم میں ٹی وی صاف کرتی ہوئی نظر آئی..اسے ڈر لگا کہیں وہ بے وقوف لڑکی ٹی وی کو بھی نہ دهو دے…وہ کچن میں چلا گیا جبکہ اس لڑکی کی نظریں خود پہ محسوس کر سکتا تها وہ..کچن میں ٹیبل پہ اس کی زوجہ محترمہ نے پہلے آملیٹ اور دودھ کا گلاس تیار کر رکها تها ..اور کچن کی حالت دیکھ کر ایسا لگ رہا تها جیسے دادی کی ہر کام میں ماہر بہو نے بڑی مشقت کے بعد یہ ناشتہ بنایا ..اور وہ بھی کوئی خاص نہیں تها. ..
.مگر وہ اس کی بنائی ہوئی چیزوں کو تب ہاتھ لگاتا جب وہ اسے بیوی کا درجہ دیتا..جب اس نے اس لڑکی کو قبول ہی نہیں کیا تو پتا نہیں وہ گهریلو بیویوں کی طرح گهر کے کام کیوں کر رہی ہے. ……………
اس لڑکی کا بنایا ہوا آملیٹ مکمل طور پر نظر انداز کر کے وہ خود اپنے لیے ناشتہ بنانے لگا..اپنی اس عجیب و غریب شادی سے پہلے بھی وہ اپنے لیے ناشتہ خود ہی بناتا تها………
ناشتہ کرنے کے بعد وہ کچن سے اپنے کمرے میں چلا گیا وہاں اس نے اپنے آفس کا کچھ سامان بیگ میں رکها اور کنگھی کر کے آفس کے لیے روانہ ہو گیا. .وہ لڑکی ابهی تک ٹی وی کو رگڑ رگڑ کر صاف کر رہی تھی پتا نہیں اسے ٹی وی سے ایسی کیا دشمنی تهی جو اس کا کباڑا کرنے میں لگی تهی محترمہ. ..اس پر ناگواری سے بهر پور نگاہ ڈال کر وہ گهر سے باہر نکل گیا. …………………..
وہ صبح جلدی بیدار ہو گئی تهی یہ اس کے روز کا معمول تھا. .نماز اور قرآن مجید کی تلاوت کے بعد وہ اپنے شوہر محترم کے لیے ناشتہ بنانے نیچے آئی تهی..آدهے گهنٹے کی مشقت کے بعد بہ مشکل وہ اس بڑے کچن میں مطلوبہ سامان ڈهونڈنے میں کامیاب ہوئی ایسے کچن وہ صرف ٹی وی ڈراموں میں ہی دیکها کرتی تهی…اور سامان ڈهونڈنے کے بعد اگلا مرحلہ تها چولہا جلانا…اس نے اپنی زندگی میں ہمیشہ لکڑیوں کا ہی استعمال کیا تها اس گیس والے چولہے سے اس کا پہلی بار واسطہ پڑ رہا تها..اس لیے اگلے تیس منٹ وہ اس چولہے کے ساتھ سر کهپاتی رہی ….اور جب یہ پہلے کچھ مراحل طے ہوئے تو اس نے خدا کا شکر ادا کیا اور وہ بڑا سا ڈبہ ( فریج ) کهول کر اس میں سے انڈے نکالے ..شکر تها جو انڈے شہروں اور دیہاتوں دونوں جگہوں پہ ایک جیسے ہوتے ہیں. ……
وہ ناشتہ بنانے کے چکر میں کچن پورا پهیلا چکی تهی اور ایک آملیٹ بنانے کے چکر میں دس آملیٹ شہید کر چکی تهی. .پورے دو گهنٹے اور دس آملیٹوں کی شہادت کے بعد بهی اس نے جو کچھ تیار کیا تها اسے ناشتے کے علاوہ سب کچھ کہا جا سکتا تها..اس نے ایک بار پھر سے کوشش کرنی چاہی..اس کے دل میں گهبراہٹ بھی ہو رہی تهی اس کا وہ شوہر محترم کیا سوچے گا کیسی بیوی سے واسطہ پڑا ہے جسے ناشتہ تک بنانا نہیں آتا…اپنے گاوں میں وہ سب سے زیادہ سگهڑ مانی جاتی تهی لیکن یہاں آ کر اس کی ساری قابلیت ہوا ہو چکی تهی…وہاں وہ اکیلی بیس لوگوں کا کهانا بناتی تهی جبکہ یہاں ایک آملیٹ بنانے کے لیے اسے کتنی محنت کرنی پڑ رہی تهی……
خیر خدا خدا کر کے اس نے کچھ بنا ہی لیا اور آملیٹ کے ساتھ دودھ کا گلاس بهی رکھ دیا…اور خود باہر آئی باقی گهر کے کام کاج دیکهنے. …یہاں کی تو روٹین ماحول سب کچھ الگ ہے اس وقت وہ اپنے گهر میں ناشتہ بنانے کے بعد پوری کچی حویلی میں جهاڑو مار رہی ہوتی…لیکن یہاں وہ کیا کام کرے گهر تو پہلے سے ہی صاف ہے ..کچھ سوچ کر اس نے ایک پرانا کپڑا ڈهونڈا اور دیواروں کے ساتھ ساتھ فوم والی کرسیوں ( صوفوں ) کی بهی صفائی کرنے لگی تهی…اور ان سے فارغ ہو کر وہ ٹی وی کو صاف کرنے لگی جب اس کی نظر اس کے شوہر پہ پڑی وہ بس اسے دیکهتی ہی رہ گئی. .اس نے اپنے گاوں میں کہیں بھی ایسا خوبصورت گبرو جوان نہیں دیکها تها ..یہ جو خوبصورت سا شخص تها یہ صرف اس کی ملکیت تهی.اسے اپنے آپ پہ رشک بھی آیا اور ترس بھی. .اس کا شوہر ایک نظر اسے دیکھ کر کچن میں چلا گیا….لیکن اسے یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا کہ وہ اس کی بنائی ہوئی آملیٹ کو چهوڑ کر خود اپنے لیے آملیٹ بنا رہا ہے. ……
اگر گاوں ہوتا تو وہاں کی لڑکیاں ہنس ہنس کر پاگل ہو جاتیں کہ ایک مرد خود چولہے پہ اپنے لیے ناشتہ بنا رہا ہے..وہ اس کے پاس جانا چاہتی تھی خود اسے ناشتہ بنا کر دینے کے لیے لیکن پھر یہ سوچ کر رک گئی جب اس نے آملیٹ ہی نہیں کهایا تو وہ اس سے مدد کیسے لے سکتا ہے. ………….
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Jadu Nagri Novel By Jiya Mughal – Last Episode 7

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: