Dulhan by Nasir Hussain – Episode 2

0

دُلہن از ناصر حسین قسط نمبر 02

پہلی بار پڑهنے والوں کے لیے گزشتہ قسط کا خلاصہ.
بانی نام کی ایک دیہاتی ان پڑھ لڑکی کی شادی ہو جاتی ہے ایک ہینڈسم پڑهے لکهے مغرور شخص (افراہیم) سے جو اسے نا پسند کرتا ہے ..بانی اداس ہوتی ہے اور اپنے شوہر کا دل جیتنے کے لیے ہر حد تک جاتی ہے…اب آگے…….
………………………………………….

افراہیم تو آفس جا چکا تها جبکہ وہ وہیں ٹی وی کے پاس گم سم سی کهڑی تهی. باقی کا وقت وہ ادهر ادهر گهر کا جائزہ لیتی رہی لیکن ان سب سے بهی اس کی بوریت بالکل ختم نہیں ہوئی حالانکہ وہاں ٹائم پاس کے لیے کافی چیزیں تهیں..میگزین اور ڈائجسٹ یہ تو وہ پڑھ نہیں سکتی تهی اور رہی بات ٹی وی کی تو وہ ڈر کے اسے آن نہیں کر رہی تهی کیونکہ بچپن میں اس نے سنا تھا ان سب چیزوں میں کرنٹ ہوتا ہے اور آن ہوتے ہی پهٹ جاتے ہیں. .وہ بچپن کے اس ڈر کو اپنے دل سے نکال ہی نہیں پائی…..دوپہر کا کهانا اس نے خود اپنے لیے بنایا تھا گهر میں ضرورت کی ہر شے موجود تهی یہ الگ بات ہے کہ ان چیزوں کو تلاش کرنے میں اس کا کافی وقت ضائع ہو گیا..امیر لوگوں کی ہر شے الگ ہوتی ہے واش روم سے لے کر کچن تک…
جتنا بڑا ان کا واش روم ہوتا ہے وہاں گاوں میں دو کمرے اتنی جگہ پہ بن جاتے ..اور باقی سازو سامان الگ..پہلے پہل تو وہ واش روم کو دیکھ کر حیران ہوئی ..اس کے شوہر محترم شادی کے تیسرے دن ہی آفس چلے گئے اپنی نئی نویلی دلہن کو اتنے بڑے گهر میں اکیلے چهوڑ کر…………………
اس نے تو کهبی زندگی میں ان سب چیزوں کی تمنا نہیں کی تهی یہ سب تو اسے بنا مانگے ہی مل گیا لیکن اتنی جلدی اتنی آسانی سے بڑی چیزیں کهبی نہیں ملا کرتیں…….
عصر کی نماز ادا کر کے وہ ایک بار پھر کچن میں گهس گئی اتنی بڑی عمارت میں اس کی کام کی جگہ صرف کچن ہی تهی…وہ اپنے شوہر کے لیے اپنے ہاتھوں سے کچھ اچها بنانا چاہتی تهی اس لیے وقت سے پہلے ہی تیاری کرنے لگی..وہ جانتی تھی آدهے گهنٹے کے کام میں وہ تین گهنٹے تو ضرور لگا دے گی….اس نے کہیں سنا تها کہ شوہر کے دل کا راستہ اس کے پیٹ سے ہو کر جاتا ہے اس لیے وہ اپنے شوہر کے دل میں جگہ بنانے کے لیے اس کی پسندیدہ بریانی بنانا چاہتی تهی….اس کی پسند نا پسند اور اس کے بارے میں کچھ اور معلومات دادی نے عمرے پہ جانے سے پہلے اسے فراہم کیں تهیں..چاہے وہ اس سے ناپسند کرے چاہے وہ اس سے نفرت کرے مگر وہ …وہ کهبی اس سے نفرت نہیں کرے گی وہ ایک بیوی ہونے کا فرض ضرور نبهائے گی….چاہے وہ شوہر ہونے کا فرض نبهائے یا نا نبهائے……
صبح سے کچن میں مختلف الٹے سیدھے تجربات کر کے وہ اب کافی حد تک سمجھ چکی تهی….اسے اس کے واپس آنے کا وقت نہیں پتا تها اس لیے سب کچھ جلدی جلدی کرنا چاہتی تهی. ..اپنی مطلوبہ ہر شے اس نے اپنے پاس کر لیا..اور پیاز کاٹنے لگ گئی پیاز کاٹنے سے اس کی آنکھوں میں آنسو آنے لگے..یہ صرف پیاز کاٹنے کے آنسو تهے یا ان میں کوئی اور آنسو بھی شامل ہو گئے یہ وہ نہیں سمجھ سکی…….
فریج سے گوشت نکال کر اس نے پتیلے میں ڈال دیے .اور چولہے کی آگ تهوڑی کم کر کے وہ مغرب کی نماز ادا کرنے کمرے میں چلی گئی…..
جب نماز پڑھ کر واپس آئی تو بریانی تیار ہو چکی تهی اس نے احتیاطی طور پر پہلے خود چیک کر کے دیکها.اسے تو ٹهیک لگا لیکن پتا نہیں اس کے شوہر محترم کو پسند آئے گا بهی یا نہیں. ..وہ اور بھی کچھ بنانا چاہتی تهی لیکن بریانی بنانے میں ہی اتنا وقت ضائع ہو گیا کہ مزید کچھ بنانے کی گنجائش نہیں رہی..وہ اب آہستہ آہستہ کچن سمیٹنے لگی ایک بریانی بنانے کے چکر میں اس نے پورے کا پورا کچن بکهیر کر رکھ دیا تها………..
اس نے دروازہ کھلنے کی آواز سنی وہ بهاگتی ہوئی کچن کے دروازے تک گئی وہ اپنا بیگ اٹهائے اندر داخل ہو چکا تها. ..اس کے ہاتھوں میں شاید کچھ کهانے کا سامان بھی تها جو اس نے ٹیبل پر رکھ دیا اور خود اپنے کمرے کی طرف چلا گیا………………..
ایک تو تهکن کافی محسوس ہو رہی تهی اور اوپر سے ٹینشن اسے کهائے جا رہے تھے اپنے کمرے میں آ کر اس نے بیگ صوفے پہ پهینک دیا اور خود جوتوں سمیت بیڈ پہ لیٹ گیا…یہ شاید اس کی زندگی کے سب سے برے دن چل رہے تهے گهر آتے ہی سب سے پہلے زوجہ محترمہ کے درشن ہو گئے ..وہ پہلے سے ہی بہت ڈسٹرب تها اور رہی سہی کسر محترمہ نے پوری کر دی..اسے تو یہ سوچ سوچ کر ہی تکلیف ہو رہی تهی یہ ان پڑھ گوار لڑکی اس کی بیوی کی حیثیت سے اس گهر میں موجود ہے…….
کافی دیر وہ یونہی بیڈ پہ لیٹا رہا جب تهکن کا احساس کافی حد تک کم ہوا تو اسے بهوک لگنا شروع ہوئی..واش روم میں جا کر اس نے ہاتھ منہ دهوئے اور نیچے چلا گیا…اس نے متلاشی نگاہوں سے ادهر ادهر دیکها وہ نظر نہیں آئی..لیکن اسے خود کے اس طرح متلاشی ہو کر دیکهنے پہ بہت غصہ آیا وہ کہاں ہے کیا کر رہی ہے اس سے اسے کیا مطلب جہنم میں جائے اس کی بلا سے………
لیکن ٹیبل کے پاس پہنچ کر اس نے اپنا مطلوبہ شاپر غائب پایا جس میں وہ ہوٹل سے اپنے لیے کهانا لے کر آیا تها..ویسے تو وہ ہمیشہ اپنے لیے گهر پہ کهانا خود بناتا تھا لیکن آج تهوڑا تهکا ہوا اور پریشان تها اس لیے اس نے ہوٹل سے کهانا خرید لیا. .مگر یہ شاپر اچانک کیسے کہاں غائب ہو گئی. ..اسے سمجهنے میں دیر نہیں لگا یہ ضرور اس کی جاہل زوجہ محترمہ کا کام ہو گا..لیکن وہ اس طرح شاپر لے جا کر کہاں غائب ہو گئی. .کیا اسے بهوک لگ رہی تهی…اور وہ کهانا وہ اپنے لیے لے گئی…لیکن وہ خود بھی تو بنا کر کها سکتی تهی..بقول دادی کے تو وہ ہوٹلوں سے بهی اچها کهانا بناتی ہے. …..وہ غصے سے کهولتا ہوا کرسی پہ بیٹھ گیا. …..
اور آنکھیں بند کر کرسی کی پشت پر ٹیک لگا دی..اور پھر اس نے اپنی آنکھیں تب کهولیں جب اس نے ٹیبل پہ کچھ رکهنے کی آواز سنی…وہ ٹیبل پہ مختلف پلیٹوں میں کهانا لگا رہی تهی…اس نے ایک نظر اسے دیکها جو حد سے زیادہ خوش فہمی میں نظر آ رہی تهی..اور پھر کهانے کو دیکهنے لگا. .جو وہ بے ترتیبی سے ٹیبل پہ سجا رہی تهی..سالن کے بڑے ڈونگے میں اس نے بریانی ڈالی ہوئی تهی اور چاولوں کی پلیٹ میں اس نے سالن نکالا ہوا تها اور سب سے عجیب بات اس نے روٹیاں پتیلے میں رکھ دیں تهیں…اس نے غصہ ضبط کر لیا اور صرف خاموشی سے اسے یہ سب کاروائی کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا. .جب وہ سب کچھ مکمل کر چکی تب بھی وہ وہیں کهڑی اسے دیکهتی رہی…..
کچھ چاہیے. ..اس نے سرد لہجے میں اسے مخاطب کیا..اسے مخاطب کرنا اس کی مجبوری تهی وہ کهانے کے دوران اسے بالکل بھی اپنے پاس نہیں دیکھ سکتا تها..وہ اپنی گردن ہلا کر دوبارہ کچن میں چلی گئی اور برتن دهونے لگی لیکن وہ جانتا تها وہ برتن دهوتے ہوئے بھی اسے ہی دیکھ رہی ہے. …….
وہ اسے نظر انداز کر کے کهانے کی طرف متوجہ ہوا.اس کی لائی ہوئی ساری چیزوں کے ساتھ بریانی کا بھی اضافہ تها .یہ بریانی وہ تو نہیں لایا تها تو پھر ضرور دادی کی اس سگهڑ بہو نے بنائے ہوں گے .ویسے تو بریانی اس کی پسندیدہ ڈش تهی لیکن یہ چونکہ اس محترمہ نے بنایا تھا اس لیے وہ اس ٹیبل پہ موجود بریانی کو چهوڑ کر ہر ڈش کے ساتھ انصاف کرنے لگا..حالانکہ اس کا دل بہت چاہ رہا تها وہ بریانی کهائے لیکن دل کی اس خواہش کے درمیان اس کی انا آ رہی تهی اور وہ صرف بریانی کے لیے اپنی انا کهبی نہیں کچل سکتا تها…………….
کهانے کے بعد ٹشو سے ہاتھ صاف کرتا وہ لاونج میں رکهی ٹی وی دیکهنے لگا . ٹی وی دیکهتے وقت بھی وہ پتا نہیں کیوں بار بار ادھر ادھر دیکھ رہا تھا. .دو گهنٹے کے بعد وہ ٹی وی کو چهوڑ کر اپنے کمرے کی طرف جا رہا تها حالانکہ وہ جو مووی دیکھ رہا تھا اس کے ختم ہونے میں ابهی آدها گهنٹہ باقی تها لیکن پتا نہیں کیوں اس کا ٹی وی دیکهنے کو بالکل دل نہیں چاہ رہا تھا .ایسا پہلے کهبی نہیں ہوا وہ ہر مووی مکمل ہی دیکها کرتا…..
سیڑھیاں عبور کر کے وہ اپنے کمرے میں آیا ..کمرے میں جاتے ہی سب سے پہلی نظر اس پہ ہی پڑی وہ فرش پہ پوری دنیا سے بے خبر سو رہی تهی..کتنے اطمینان سے وہ نیند کی آغوش میں تهی. .اس کا سکون چهین کر ، اس کی خوشی چهین کر……
وہ بنا کوئی آواز پیدا کیے بیڈ پہ آ کر لیٹ گیا. نیند کو کافی دیر تک بلانے کی کوشش کرتا رہا..بہرحال رات کے جانے کون سے پہر وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب ہو چکا تها………………
پهر اسے کی آنکھ رات کے دو بجے کهلی اس نے اس لڑکی کو دیکها جو بے خبر سو رہی تهی ..اسے پیاس اور بهوک کا احساس ہوا ..عموماً رات کو اسے بهوک اور پیاس کا احساس ہوتا رہتا اس لیے وہ ہمیشہ اپنے لیے فریج میں کهانا بچا کر رکهتا..لیکن آج جہاں تک اسے یاد پڑ رہا ہے وہ جو کهانا لایا تها وہ سارا ختم کر چکا تها اب اسے اپنی بهوک مٹانے کے لیے خود ہی کچھ نہ کچھ بنانا تها….وہ دروازہ کھول کر باہر نکل گیا……….
دروازہ کھلنے کی آواز سے اس کی آنکھ کهلی..اس نے سب سے پہلے اٹھ کر دروازے کو نہیں بیڈ کو دیکها..جب اسے بیڈ سے غائب پایا تو وہ حیرانی سے کهڑی ہوگئی..سامنے دیوار پہ لگی سوئیوں والی گهڑی سے اس نے وقت کا اندازہ لگانے کی کوشش کی تو اسے حیرت ہوئی دو بج رہے تهے. .اتنی رات کو وہ باہر کیا کرنے چلا گیا…پانی پینے. …؟
نہیں پانی کا تو جگ رکها ہوا ہے پهر کہاں گیا ..اسے تجسس ہونے لگی اور وہ کمرے سے باہر نکل آئی ..آہستہ آہستہ ادهر ادهر نگاہیں دوڑاتے ہوئے وہ سنگ مرمر سے بنی سیڑھیوں سے نیچے اترنے لگی اسے کچن سے کچھ آوازیں آنے لگیں…اس نے قدموں کا رخ کچن کی جانب کر دیا …. ……….
کچن کے دروازے پہ پہنچ کر اس پہ عجیب انکشاف ہوا ..وہ رات کے دو بجے کهانا کها رہا تها اس کا منہ دوسری طرف تها اس لیے وہ اسے دیکھ نہ سکا….اور غور کرنے پہ اسے پتا چلا وہ اس کی بنائی ہوئی بریانی کها رہا تها ..یہ انکشاف خوشگوار تها اس کے چہرے پہ مسکراہٹ کے ساتھ ساتھ حیرت بهی تهی….
رات کے کهانے میں ٹیبل پہ موجود ہر شے کهانے والا اس کا وہ شوہر محترم صرف اور صرف اس کی بنائی ہوئی بریانی کو نظر انداز کر گیا…اسے اس وقت حقیقتاً بہت دکھ ہوا. .وہ کچن میں کافی دیر تک روتی رہی اس نے اتنی محنت سے اس کے لیے بریانی بنائی تهی اور اس نے چکهنا تک گوارا نہیں کیا. .اسے غصہ آیا اپنے مغرور شوہر پہ…اسے جتنا غصہ تها جتنا دکھ تها وہ سب اب ختم ہو چکا تها..رات کے کهانے میں اس کے انا پرست شوہر نے بریانی کو ہاتھ تک نہیں لگایا اور اب رات کے دو بجے وہ اس کی بنائی ہوئی بریانی کتنی رغبت سے کها رہا تها………….
وہ دروازے سے واپس پلٹ آئی ..اور کمرے میں آ کر سونے کے لیے لیٹ گئی..اسے پہلے اگر دکھ کی وجہ سے نیند نہیں آ رہی تهی تو اب وہ خوشی سے سو نہیں پائے گی…………
بیس منٹ بعد اس نے دروازے پہ اس کی آمد کو محسوس کیا. .لیکن وہ خود کو سوتا ہوا ظاہر کر رہی تهی ..جبکہ دل ہی دل میں اپنے شوہر کی اس عجیب و غریب چوری پہ مسکرا بھی رہی تھی …..
_____________________________
اگلی صبح وقت پہ بیدار نہیں ہو سکا ..اسے آفس جانا تها اور وہ آدها گهنٹہ دیر سے اٹها اور کل کی طرح آج بھی سب سے پہلے اس نے اپنے بائیں جانب اس لڑکی کے بستر کی طرف دیکها..وہ اسے وہاں نظر نہیں آئی ..وہ اٹھ کر واش روم کی طرف چلا گیا..اسے آفس جانے میں پہلے ہی دیر ہو چکی تھی ………….
واش روم سے جب وہ نہا کر تولیے سے بال رگڑتا ہوا باہر آیا تو نیلے رنگ کی شرٹ بیڈ پہ دیکھ کر وہ ٹهٹک گیا..وہ استری کر کے بیڈ پہ رکھ دیا گیا تها..اتنے سارے کپڑوں میں اس نے نیلے رنگ کا ہی انتخاب کیوں کیا… گویا اس کی زوجہ محترمہ کو معلوم تھا کہ نیلا رنگ اس کا پسندیدہ رنگ ہے لیکن یہ اسے کیسے پتا چلا…؟..اسے اپنی بیوی کی یہ مشرقی ادا تسکین نہیں پہنچا سکی مزید سلگها گئی……
کیوں ہاتھ لگایا اس نے میرے کپڑوں کو…؟
کس حق سے اس نے میری شرٹ استری کی….؟
یہ وہ سوالات تهے جو وہ غصے سے اپنے آپ سے کر رہا تها. .لیکن وہ بھی اپنے نام کا ایک تها جب وہ اسے بیوی تسلیم نہیں کرتا تو وہ اس کے استری کیے ہوئے کپڑے کیوں پہنے…اس نے وہ شرٹ واپس الماری میں رکهی اور ایک سفید رنگ کی شرٹ پہن لی…یہ الگ بات ہے کہ اس سفید شرٹ میں کئی شکنیں پڑ چکی تهیں..عموماً وہ اپنے سارے کام خود کرتا تها کهانا پکانے سے لے کر کپڑے استری کرنے تک…لیکن آج تو وہ پہلے ہی کافی لیٹ ہو چکا تها اس لیے جیسے تیسے وہ شرٹ پہن کر بالوں میں جلدی جلدی کنگهی پهیر کر وہ بیگ اٹها کر نیچے آیا……………..
اس کا ناشتہ کرنے کا آج بالکل ارادہ نہیں تها وہ وہیں آفس میں ہی کچھ نہ کچھ لے لیتا ..پہلے ہی کافی دیر ہو چکی تهی اس لیے وہ جلدی جلدی بڑے بڑے قدم اٹهاتا ہوا گهر کے بڑے دروازے تک گیا..ابهی اس نے دروازہ کهولنے کے لیے ہاتھ بڑهایا ہی تها کہ اپنی زوجہ محترمہ کی آواز پہ رک گیا………..
سنو جی….اس نے ایک ٹھنڈی سانس خارج کی اسے اس طرح اپنا پیچھے سے آواز دے کر بلانا بالکل بھی اچها نہیں لگا. اس نے کوئی بات تو نہیں کی البتہ اس کی طرف سوالیہ نظروں سے ضرور دیکها. ………
وہ جی گهر کا تهوڑا سامان لانا ہے…اس نے ججهکتے ہوئے کہا. .جبکہ اسے اس طرح پیچھے سے بلایا جانا اور اب پورے حق کے ساتھ گهر کے سامان کا آرڈر دینا بالکل ناگوار گزرا اور یہ ناگواری اس کے چہرے سے بھی عیاں تهی…………..
کیا لانا ہے….؟ چہرہ سپاٹ تها……
وہ..جی چینی اور چائے کی پتی……
بس…؟..
نہیں وہ سرخ مرچ اور پیاز بھی ختم ہو گیا….وہ پوری کی پوری مشرقی ادا میں مخاطب تهی……..
اوکے…اور کچھ. …؟…..
سبزی بھی ختم ہو گئی اس ڈبے سے…
کون سے ڈبے سے..؟.وہ حیران تها…..
وہی جی..جو اندر رکها ہوا ..جسے کهولو تو سرخ بتی جلتی ہے…
اس نے دماغ پہ زور دیا…..
وہ…وہ…اسے فریج کہتے ہیں بے وقوف. …اس نے عجیب نظروں سے اس لڑکی کو دیکها. ….
ہاں جی وہی فراج سے ….
فراج نہیں فریج….اس نے اپنے لفظوں پہ زور دیا…
کیا جی….فا ریج ..؟..اس نے بهول پن سے سوال کیا. .
فا ریج..نہیں. ….اچها چهوڑو یہ بتاو اور کیا کیا لانا ہے..وہ دانت پیس کر بولا….
دہی بهی جی اور….اور…..وہ کچھ سوچنے لگی. ..
اگر اس کی کوئی پڑهی لکهی بیوی ہوتی تو وہ ایک منٹ میں ہی لسٹ بنا کر دیتی اسے لیکن یہ گاوں کی گوار اسے دو گهنٹوں سے گهر کا سامان رٹوا رہی ہے…….
کچھ یاد آیا محترمہ…یا پھر میں یہیں بیٹھ کر آپ کی یادداشت واپس آنے کا انتظار کروں…اس نے طنز بهرے لہجے میں اس مخاطب کیا. وہ پتا نہیں اس کے طنز کو سمجھ سکی یا نہیں بہرحال اس نے اپنی زبان کو تهوڑی تکلیف ضرور دی. …….
وہ جی وہ جو لال لال سی ہوتی ہے….اب اسے حقیقتاً غصہ آیا….
لال لال سی کوئی ایک چیز نہیں ہوتی ..اور کیا میں بازار میں جا کر یہ کہوں گا محترمہ بانی صاحبہ کسی لال چیز کا کہہ رہیں تهیں آپ مجھے وہی لال چیز دے دیں..اب کی بار وہ غصہ نہیں چهپا سکا وہ اس کے غصے سے ڈر گئی……………
میں سب سودے بهجوا دوں گا…او کے…اس کی آنکھوں میں بهرے وہ آنسو دیکھ چکا تها اس لیے وہ نہیں چاہتا تها وہ اس کے سامنے کوئی سیلاب جاری کرے وہ کہتا ہوا باہر نکل گیا..
وہ وہیں کهڑی اپنے آنسو پہ قابو پانے کی کوشش کرتی رہی..اسے دکھ اس کے رویے سے نہیں بلکہ اس بات سے پہنچا ہے کہ وہ شرٹ جو اس نے اتنی محبت کے ساتھ استری کی وہ کیوں نہیں پہن کر گیا…
باقی کا سارا دن بھی وہ اداس رہی اس نے دوپہر کو ہی ایک ملازم کے ذریعے گهر کا سارا راشن بهیج دیا تها وہ بھی جو اس نے کہا اور وہ بھی جو وہ نہ کہہ سکی ..باقی کا بہت سارا وقت اس نے سامان کو ترتیب دینے میں گزار دی ..اس لیے اسے کچھ سوچنے کی مہلت ہی نہ ملی سبزی آ چکی تهی اس نے کچھ سبزیاں فریج میں ڈالیں اور رات کے کھانے کی تیاری کے لیے آلو اور قیمہ الگ کرنے لگی…اب وہ ایک کام میں تو ماہر ہو چکی تهی کهانا بنانے میں. .ایسا نہیں تها کہ اسے کهانا بنانا نہیں آتا تها لیکن اس عجیب کچن میں کهانا بنانے کا اس کا تجربہ نیا تها… یہاں سب کام آ سان تهے گاوں کی نسبت. ..یہاں چولہا جلانے کے لیے لکڑیاں ڈهونڈ ڈهونڈ کر نہیں لانی پڑتیں تهیں…پانی کا انتظام پاس میں ہی تها اور ہر چیز علیحدہ علیحدہ صاف نظر آ رہا تها جبکہ وہاں سالن میں نمک ڈالو تو دو گهنٹے تک مرچوں کا ڈبہ نہ ملے….یہاں ساری سہولیات ہونے کے باوجود بھی وہ شروع شروع میں کچھ جهجک رہی تھی لیکن اب چونکہ وہ کچن کے بارے میں کافی معلومات حاصل کر چکی تهی اس لیے اسے کام کرنے میں بہت مزا آ رہا تها ..روز بروز نئی نئی چیزوں سے آشنا ہو رہی تھی. .. قیمہ تیار ہونے میں ابهی کافی وقت تها اس لیے وہ اپنے کمرے میں آئی اسے ایک بار اس کی ایک سہیلی نے بتایا تها….
بانی یہ جو شہری مرد ہوتے ہیں ان کو کریم پاوڈر والی لڑکیاں بہت پسند آتی ہیں..اس وقت تو اس نے اس بات پہ غور نہیں کیا لیکن اب چونکہ مصیبت سر پہ آن پڑی تھی تو ان سب چیزوں کو استعمال کرنا تها..وہ میک اپ کا ڈبہ جو دادی نے اسے دیا تها وہ جوں کا توں پڑا ہوا تها اس نے ہاتھ تک نہیں لگایا .اسے میک اپ سے ہمیشہ چڑ ہوا کرتی تهی اور اسے اچهے سے میک اپ آتا بھی کہاں تها اس نے کهبی میک اپ کیا ہی نہیں کهبی ضرورت ہی نہیں پڑی وہاں پہ بھی صرف صابن سے منہ دهویا کرتی تهی…………… اس نے اپنی پرانی لوہے کی پیٹی سے وہ میک اپ والا ڈبہ باہر نکالا..اس ڈبے میں ایسی چیزیں تهیں جن کے نام تو دور شکل تک کهبی نہیں دیکهی اس نے..اب ایسے میں انہیں استعمال کرنا کافی مشکل تها..
اس نے سارا سامان الٹ پلٹ کر دیکها اسے ان سیکڑوں چیزوں میں جو کام کی چیز لگی وہ منہ پہ لگانے والی کریم، لپ اسٹک، اور آئی شیڈ تهی..باقی سارا کا سارا سامان اس کے لیے بے کار تها…….
یہ تینوں چیزیں لے کر وہ آئینے کے سامنے بیٹھ گئی. کریم تو جیسے تیسے لگا ہی لیا اس نے آئی شیڈ بهی ترتیب اور بے ترتیبی سے لگ گیا اب اصل مسئلہ لپ اسٹک کا تها…اس نے کهبی خود لپ اسٹک نہیں لگایا بچپن میں بھی جب کوئی شادی وغیرہ ہوتی تو اس کی کزنز اس کو زبردستی لپ اسٹک لگایا کرتیں اسے ان سب چیزوں میں کهبی کوئی دلچسپی نہیں تھی…….
دس مرتبہ اس نے لپ اسٹک لگایا اور ایک مرتبہ بھی سہی نہ لگا سکی لیکن اس نے کوشش کرنا نہیں چهوڑا..وہ تب تک لگاتی رہی جب تک سہی نہیں لگا اور بیس منٹ کی مشقت کے بعد بہرحال اس نے کچھ ڈھنگ سے لپ اسٹک لگا ہی لی…اسے بالکل پرفیکٹ تو خیر اب بھی نہیں کہا جا سکتا تها لیکن پہلے کی نسبت کافی بہتر تهی….اس نے نیلے رنگ کی فراک پہن رکهی تهی نیلا رنگ اس کا پسندیدہ رنگ تها اس لیے اس نے اس کی پسند سے ہی خود کو تیار کیا …..
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Dhal Gai Phir Hijar Ki Raat by Sumaira Sharif – Episode 1

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: