Dulhan by Nasir Hussain – Episode 3

0

دُلہن از ناصر حسین قسط نمبر 03

پہلی بار پڑهنے والوں کے لیے گزشتہ قسط کا خلاصہ.
بانی نام کی ایک دیہاتی ان پڑھ لڑکی کی شادی ہو جاتی ہے ایک ہینڈسم پڑهے لکهے مغرور شخص (افراہیم) سے جو اسے نا پسند کرتا ہے ..بانی اداس ہوتی ہے اور اپنے شوہر کا دل جیتنے کے لیے وہ میک اپ کرنے لگتی ہے…اب آگے…….
………………………………………….

دس مرتبہ اس نے لپ اسٹک لگایا اور ایک مرتبہ بھی سہی نہ لگا سکی لیکن اس نے کوشش کرنا نہیں چهوڑا..وہ تب تک لگاتی رہی جب تک سہی نہیں لگا اور بیس منٹ کی مشقت کے بعد بہرحال اس نے کچھ ڈھنگ سے لپ اسٹک لگا ہی لی…اسے بالکل پرفیکٹ تو خیر اب بھی نہیں کہا جا سکتا تها لیکن پہلے کی نسبت کافی بہتر تهی….اس نے نیلے رنگ کی فراک پہن رکهی تهی نیلا رنگ اس کا پسندیدہ رنگ تها اس لیے اس نے اس کی پسند سے ہی خود کو تیار کیا ……..
اور پھر میک اپ کے بعد کچن میں آئی آلو قیمہ کے ساتھ ساتھ اس نے میٹهے میں کهیر بھی بنائی…وہاں تو وہ صرف سالن بناتی تهی اور روٹیاں..بس اس کے علاوہ وہاں کوئی دوسرے لوازمات نہیں ہوتے تهے لیکن یہاں تو پندرہ طرح کے کهانے بنتے ہیں…………..
{ ناول دلہن تحریر ناصر حسین }
وہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا بیگ اس نے صوفے پہ رکھ دیا اور کهانا جو وہ ہوٹل سے اپنے لیے لایا تها وہ بھی اس نے وہیں رکھ دیا اور خود بھی گرنے کے انداز میں صوفے پہ بیٹھ گیا. …اس نے ناگواری سے ادهر ادهر دیکها. …وہ اسے نظر آ ہی گئی…اسے دیکھ کر ایک پل کے لیے وہ اس سے نظریں نہیں ہٹا سکا…اس نے جو عجیب و غریب میک اپ کر رکھا تھا اس سے وہ خوبصورت تو کیا خاک لگتی الٹا عجوبہ بن چکی تهی اس کا یہ میک اپ دیکھ کر اس کے لیے ہنسی ضبط کرنا مشکل ہو رہا تها …تو وہ پاگل لڑکی اسے پٹانے کے لیے ان سب چیزوں پہ اتر آئی ہے مگر وہ جو کر لے وہ اسے کهبی قبول نہیں کرے گا…………….
وہ اب اس کا بیگ اٹهانے لگی وہ منہ دوسری طرف کر کے خاموش بیٹھا تھا. .وہ بیگ اٹها کر جانے کہاں لے گئی..جبکہ وہ فریش ہونے کے لیے اپنے کمرے میں آ گیا….جب وہ نیچے کهانے کے لیے گیا تب تک وہ کهانا میز پر سجا چکی تهی ..وہ ایک کرسی کهینچ کر بیٹھ گیا جبکہ وہ وہیں کهڑی اسے دیکھ رہی تھی. ….
کهانا کهایا تم نے…؟ ..کسی بھی جذبات سے عاری اس نے سنجیدہ لہجے میں اس سے پوچھا. …..
نہیں آپ کها لیں جی ہم بعد میں کهائیں گے..اس نے شرماتے ہوئے کہا وہ سمجھ نہیں سکا اس میں شرمانے والی بات کون سی تهی……..
تو بیٹهو کهانا کهاو….اس نے اپنی پلیٹ میں سلاد ڈالتے ہوئے کہا. ….
جی…وہ..ہم…؟ اس کی اس جی میں حیرت کم اور انکار زیادہ تهی……..
ہاں تم…اور کوئی نظر آ رہا ہے اس گهر میں. اس بار وہ اس کی طرف دیکهتے ہوئے بولا……….
{ ناول دلہن تحریر ناصر حسین }
ہمارے گاوں میں رواج ہے جی پہلے شوہر کهانا کهالے اس کے بعد بیوی اس کا بچا ہوا کهانا کهاتی ہے…اس نے سادگی سے کہا…جبکہ وہ حیران بھی تها اور خود کے شوہر کہے جانے پہ تهوڑا غصہ بھی تها لیکن اس نے مزید اسرار نہیں کیا…وہ کچھ دیر کهڑی اسے دیکهتی رہی پهر وہاں سے چلی گئی لیکن وہ جانتا تها وہ جہاں کہیں بھی گئی ہے اسے دیکھ رہی ہو گی…
کیا مصیبت ہے. ..؟..وہ نوالہ منہ میں رکهتے ہوئے بڑبڑایا…اس نے پہلی بار کهانے کی ٹیبل پہ نگاہ دوڑائی آج کل کی نسبت بہت ڈشز بنائی گئی تهیں…آلو قیمہ اس کا پسندیدہ تها لیکن چونکہ یہ اس نے بنایا ہے اس لیے وہ کهانا نہیں چاہتا تها .کل رات اس کے ہاتھ کی بنی بریانی کها کر ہی اس نے اعتراف کیا وہ کهانا واقعی بہت اچها بناتی ہے اور اب قیمے کی بهی زبردست خوشبو آ رہی تهی وہ کهانا بهی چاہتا تها اور نہیں بھی کهانا چاہتا تها….اس نے چور نگاہوں سے ادهر ادهر دیکها جب اسے وہ نظر نہ آئی تو بچوں کی طرح چوری کرتے ہوئے اس نے تهوڑا قیمہ اپنی پلیٹ میں ڈالا اور پھر ڈونگے کے اوپر ویسے ہی ڈهکن رکھ دیا یہ ظاہر کرنے کے لیے اس نے قیمے کو ہاتھ تک نہیں لگایا. .پہلا نوالہ منہ میں رکهتے ہی اسے ایک خوشگوار احساس ہوا ، ہوٹل کے کهانوں میں وہ ذائقہ کهبی نہیں آ سکتا جو گهر کے بنائے کهانوں میں ہوتا ہے اور ایک مرد چاہے کتنا بھی اچها کهانا کیوں نہ بناتا ہوں لیکن ایک عورت سے اچها کهانا وہ کهبی نہیں بنا سکتا..وہ خود ہمیشہ ٹی وی پہ ریسپیز دیکھ دیکھ کر مختلف پکوان بناتا تها اس نے خود قیمہ بھی کئی بار بنایا لیکن اس میں یہ ذائقہ کهبی نہیں تها جو اس کے بنائے ہوئے قیمے میں تها………….
{ ناول دلہن تحریر ناصر حسین }
کهانے سے فارغ ہو کر وہ صوفے پہ بیٹھ کر ٹی وی دیکهنے لگا ابهی وہ سوچ رہا تھا کہ اپنے لیے چائے بنائے لیکن اس کی سوچ سے بھی پہلے وہ اس کے لیے چائے لیے اس کے پاس کهڑی تهی. .اب وہ چائے اس کی طرف بڑها رہی تهی اس نے چائے کا کپ اس کے ہاتھوں سے لے لیا حالانکہ اس کا کپ لینے کا کوئی ارادہ نہیں تها پهر بھی پتا نہیں کیوں اس نے کپ تهام لیا اور اب جب کپ اس کے ہاتهوں میں تها تو مطلب اسے چائے بھی پینی تهی….
وہ بھی اس کے برابر رکهے صوفے پہ بیٹھ گئی اس کا اس طرح بیٹهنا اسے بہت برا لگا..لیکن وہ اسے کچھ کہہ بھی نہیں سکتا تها………..
یہ کیا ہے جی…؟..اس نے ٹی وی کی طرف اشارہ کیا…
ٹی وی ہے ..اس نے چائے کا سپ لیتے ہوئے سنجیدگی سے کہا. …
یہ ٹی بی کرنٹ تو نہیں مارتا جی…….
نہیں اگر اسے انسانوں کی طرح آن کیا جائے تو….وہ ناگواری سے بولا…….
یہ کدھر سے آن ہوتا ہے جی …اس نے ایک اور سوال کیا…..
وہ اس بڑے والے بٹن سے….اس نے ٹی وی کے بٹن کی طرف اشارہ کیا. ….چائے پیتے ہوئے اس نے محسوس کیا وہ کهانے کی طرح چائے بھی زبردست بناتی ہے.. ….
اور یہ کیا ہے جی….اب اس کا اشارہ ریموٹ کی طرف تها……
یہ ریموٹ ہے….وہ شدید کوفت میں مبتلا ہو چکا تها…
یہ رٹوٹ ( ریموٹ ) کیسے چلتا ہے جی….اس نے معصومیت سے ایک اور سوال کیا…اس کے ریموٹ کو رٹوٹ کہنے پہ بے ساختہ اس کے ہونٹوں پہ تبسم پهیل گئی……..
اس سے آواز کم اور زیادہ ہوتا ہے..اور یہ بٹن چینل تبدیل کرتا ہے ..وہ ریموٹ اٹها کر اسے کسی چهوٹے بچے کے انداز میں سمجها رہا تها……
یہ چینل کیا ہوتا ہے جی….اور اس کا دل چاہا ریموٹ اپنے سر پہ دے مارے……
چینل مطلب. ..یہ فوٹو تبدیل ہوتے ہیں. ..اب کی بار وہ زرا غصے سے بولا. ….
اچها جی آپ کتنے پڑهے ہوئے ہو…اب اس کی زاتی زندگی پہ سوال کیا گیا. …..
ایم بی اے کیا ہوا ہے میں نے. ..وہ تنک کر بولا. ..
یہ کتنا ہوتا ہے جی….اور وہ یہ کیوں بهول گیا کہ اس کی زوجہ محترمہ پڑهی لکهی نہیں ہے. …
سولہ جماعتیں….اس نے ایک ایک لفظ پہ زور دے کر کہا…لیکن اس نے سوالات کا سلسلہ جاری رکھا. …
آپ کہاں سے پڑهے ہو جی….
لندن سے….اس نے چائے کا گهونٹ بهر کر کہا..لیکن اگلا سوال سب سے زیادہ عجیب و غریب تها…..
لندن کون سے صوبے میں ہے….؟..اس سوال پہ اس نے گهور کر مخاطب کو دیکها. …
لندن….لندن…یہاں نہیں ہے لندن جہاز پہ جاتے ہیں وہ بہت دور ہے……وہ ایک ایک لفظ کهینچ کر بولا. ..
جہاں دادی گئی ہیں جی…؟..اب وہ چائے ختم کر چکا تها…..
{ ناول دلہن تحریر ناصر حسین }
ہاں….اس نے مزید سوالات سے بچنے کے لیے سراسر جهوٹ بولا….لیکن اس نے سوالات کا سلسلہ منقطع نہیں کیا………..
آپ گاڑی خود چلاتے ہوئے. …پتا نہیں کیا سوچ کر اس نے یہ سوال کیا…..
جی ہاں…….
آپ کو گاڑی چلانا آتا ہے جی…اس نے ایک بار پھر حماقت سے بهر پور سوال کیا……
ظاہر ہے میں اگر گاڑی چلا کر آفس جاتا ہوں تو مجھے گاڑی چلانا آتا ہے….اب کی بار وہ تیز آواز میں بولا. ..اور وہ شاید اس کے جواب سے زیادہ اس کے لہجے سے گهبرا گئی تبهی وہ کپ اٹها کر کچن میں چلی گئی. ..اس نے ایک بار پھر ٹی وی دیکهنے کی کوشش کی. .لیکن اب وہ ٹی وی نہیں دیکھ پا رہا تها. اس کا دماغ کہیں اور تها…اسے الجهن تهی…ٹی وی پہ اسے صرف تصویریں نظر آ رہی تھیں آواز وہ نہیں سن پا رہا تها…اسے اچانک کیا ہو گیا تهوڑی دیر پہلے تو وہ بالکل ٹهیک تها..جب وہ یہاں بیٹهی تهی تو اس کا دل چاہا وہ یہاں سے چلی جائے تا کہ وہ ٹی وی دیکھ سکے اور اب جب وہ چلی گئی..تو اس کا ٹی وی دیکهنے کو بالکل بھی دل نہیں کر رہا تها…ٹی وی بند کر کے وہ اپنے کمرے میں سونے کے لیے چلا گیا…………
________________________________
صبح صبح اٹھ کر اس نے نماز قرآن پاک کی تلاوت کے بعد ناشتہ بنایا…وہ ابهی تک گہری نیند میں تها وہ کافی دیر تک اس کے چہرے کو دیکهتی رہی ..وہ اس وقت نیند میں ساری دنیا سے بے خبر بہت معصوم لگ رہا تها…اس پر سے نظریں ہٹا کر اس نے الماری سے اس کے کپڑے نکالے اور وہ ڈسڑب نہ ہو اس لیے انہیں استری کرنے دوسرے کمرے میں لے گئی……….
کل صبح تو جناب نے اس کی استری کی ہوئی شرٹ نہیں پہنی لیکن آج وہ اس کے سارے شرٹس نکال لائی تهی. .وہ کوئی نہ کوئی شرٹ تو ضرور پہنے گا….اگر وہ ضدی ہے تو اسے راہ راست پہ لانے کے لیے وہ بھی ضدی بن جائے گی…
اس کا وہ شوہر محترم اس کی استری کی ہوئی شرٹ نہیں پہنتا اس کے بنائی ہوئی بریانی نہیں کهاتا لیکن رات کو دو بجے بریانی بڑے شوق سے کهائی جاتی ہے..اس سے نظریں بچا بچا کر قیمہ اپنی پلیٹ میں ڈالا جاتا ہے …اس کے ہاتھوں کی چائے پی جاتی ہے…
کب تک بچیں گے آپ شہری بابو…..وہ استری کرتے ہوئے سوچ رہی تهی…اس کے سارے کے سارے کپڑے استری کرنے کے بعد وہ انہیں واپس الماری میں رکھ آئی وہ بیدار ہو چکا تها کیونکہ واش روم سے آواز آ رہی تهی…وہ نیچے کچن میں اس کے لیے ناشتہ لگانے چلی آئی……………
{ ناول دلہن تحریر ناصر حسین }
واش روم سے نکل کر اس نے الماری کهولی اور ایک شرٹ نکال کر پہننے لگا تب اسے احساس ہوا یہ اس لڑکی نے استری کی…اس نے ایک اور شرٹ نکالی وہ بھی استری شدہ ملی…پهر تیسری چوتهی حالانکہ اس کے سارے کپڑے استری ہو چکے تهے….اسے تهوڑا غصہ بھی آیا اور حیرت بھی ہوئی جانے کب اٹھ کر اس نے یہ سارے کپڑے استری کیے………….
لیکن وہ بھی ایک نمبر کا ضدی تها اس نے وہی پرانی شرٹ پہن لی جو اس نے کل سے پہنی ہوئی تھی. ..
وہ جب سیڑھیاں اتر کر نیچے جا رہا تها تو اس نے دیکها وہ اسے غور سے دیکھ رہی ہے اور نہ صرف دیکھ رہی ہے بالکل مسکراہٹ ضبط کرنے کے لیے منہ پہ ہاتھ رکهے ہوئے ہے …وہ قطعی طور پر اسے نظر انداز کرتا ہوا کهانے کی ٹیبل پہ جا کر بیٹھ گیا. .وہ اندر سے اس کے لیے ناشتہ لے آئی…آج اس نے خود ناشتہ نہیں بنایا جب اس کے ہاتھ کی بنی بریانی وہ کها سکتا ہے چائے پی سکتا ہے تو ناشتہ کیوں نہیں. …..؟
وہ ناشتہ رکھ کر اندر چلی گئی جبکہ وہ آرام سے ناشتہ کرنے لگا ..ناشتے کے بعد وہ آفس کے لیے نکل گیا……….
جبکہ وہ ٹیبل پر سے برتن سمیٹنے لگی..سارے کام مکمل کرنے کے بعد اس ڈرتے ڈرتے ٹی وی آن کیا .. ٹی وی خوبصورت تصویریں دیکھ کر وہ وہیں صوفے پہ بیٹھ گئی. .کوئی گانوں کا چینل لگا تها وہ حیران ہو کر پوری طرح ٹی وی پہ متوجہ تهی…وہ ہیرو اور ہیروئین کو بہودہ ڈانس کرتے دیکھ کر انہیں دل ہی دل میں ملامت کر رہی تھی اور کافی شرما بھی رہی تهی حالانکہ گهر میں اس وقت کوئی بھی نہیں تھا پھر بھی وہ بار بار ادھر ادھر دیکھ رہی تھی. ……..
کل افراہیم نے جو اسے چینل بدلنا سکهایا تو انہی بٹنوں کو دباتے ہوئے وہ مختلف چینلز تبدیل کرتی رہی..اچانک فون کی گهنٹی پورے گهر میں گونج اٹهی اس نے حیران ہو کر پیچھے دیکها اور نظر انداز کر دیا. …
ٹرن….ٹرن….ٹرن….
ایک بار گهنٹی سنائی دی اس بار وہ بدک کر صوفے سے کهڑی ہو گئی گهبراہٹ کے مارے اسے پسینہ آ گیا وہ سمجھ نہ سکی یہ ٹرن ٹرن کی آواز کہاں سے آ رہی ہے……
کہیں کوئی جن بهوت تو نہیں ہیں اس گهر میں. …وہ ڈرتے ڈرتے ادهر ادهر دیکھ رہی تھی. ….گهنٹی ایک بار پهر سنائی دی. ..اب کی بار وہ چیخ مار کر پیچھے ہٹی……..
گهنٹی مسلسل بجتی ہی جارہی تهی..اس نے آواز کا تعاقب کرنے کی کوشش کی. .تب اسے پتا چلا یہ گهنٹی کی آواز اس چهوٹے ڈبے سے آ رہی ہے…….
کچھ سوچنے پہ اسے یاد آیا ایسا ہی ایک ڈبہ اس کی سہیلی نجمہ کے گهر بهی تها جس سے وہ اپنے ابو جو سعودی عرب میں تهے ان سے بات کرتی…لیکن اس سے بات کیسے ہوتی ہے….وہ سوچ رہی تهی جبکہ گهنٹی بجی جا رہی تھی. …
اس نے درود پاک کا ورد کرتے ہوئے اس چهوٹی چیز کو اٹها ہی لیا جو اس کے اوپر رکھا تھا. ..تب اسے آواز سنائی دی……
ہیلو…..
ہیلو….
کوئی ہے…..بات کرو ….
وہ اس آواز کو پہچان گئی یہ افراہیم کی آواز تهی..
جی آپ…وہ…..اس نے کچھ کہنا چاہا جب کہ وہ اس کی بات کاٹ کر بولا ……
سنو …شام کو میرے آفس کے کچھ دوست کهانے پہ آ رہے ہیں ہوٹلوں کا کهانا وہ نہیں کهاتے اگر تم بنا سکو تو……
{ ناول دلہن تحریر ناصر حسین }
جی ہم بنا دیں گے. .وہ جلدی جلدی بولی….
ٹهیک ہے میں بھی جلدی آ جاوں گا. ..جو سامان ختم ہو چکا ہے وہ بتاو میں آتے وقت لے آوں گا….
اس نے سامان جو ختم ہو گیا تها وہ اسے بتائیں…اور آخر میں جب وہ پوچهنے لگا بس اور تو کچھ نہیں تب وہ بولی…..
جی وہ یہ ٹی بی بند کیسے ہوتا ہے ..اس نے چلا تو لیا اب اسے بند کرنے کا نہیں پتا …کل بھی اس نے نہیں پوچھا تھا….
اسی بٹن سے جس سے تم نے آن کیا…..اس نے سنجیدگی سے کہہ کر فون کٹ کر دیا…اس نے بهی وہ چیز دوبارہ اپنی جگہ پہ رکھ دی. ..اسے ویسے تو اس کی آواز ہمیشہ سے پسند تهی لیکن فون پہ اس کی آواز اسے ہمیشہ سے بھی زیادہ اچهی لگی اور اس کا اس طرح اسے کهانا بنانے کا کہنا یہ بات بھی اسے اچهی لگی…………
ٹی وی بند کر کے وہ سیدھا کچن میں گهس گئی.وہ سامان چیک کرنے لگی اور اپنی ضرورت کی تمام اشیا الگ کرنے لگی..کوئی مہمان پہلی بار گهر آ رہا تها اس لیے وہ کوئی بھی کمی چهوڑنا نہیں چاہتی تهی..اس نے بہت سامان استعمال کے لیے علیحدہ کر کے رکھ دیا اسے مسجد سے اذان کی آواز سنائی دی. …
سارے کام چھوڑ کر وہ نماز ادا کرنے اپنے کمرے میں چلی گئی. ..وہ نماز کو اپنی ہر ضروری سے ضروری کام پر ترجیح دیتی..اس کے ماموں نے بچپن میں ہی اسے ایک بات سکهائی تهی جو اسے نے ایک گانٹھ باندھ کر محفوظ کر لی………….
ہم انسان بھی بہت عجیب ہوتے ہیں کامیابی کو ہر جگہ ڈهونڈتے ہیں حالانکہ ہمیں دن میں دس بار آواز آتی ہے. .. ِحَىَّ عَلَى الْفَلاَح
ِحَىَّ عَلَى الْفَلاَح
(آو کامیابی کی طرف )
( آو کامیابی کی طرف)
ہم اس آواز کو ہمیشہ نظر انداز کر دیتے ہیں ہم اپنے چوبیس گھنٹوں پہ مشتمل طویل دن میں سے صرف ایک گهنٹہ بهی خدا کو نہیں دے سکتے جو ہمیں اتنا کچھ دیتا ہے……وہ ہمیں نماز کی طرف بلاتا ہے ہم انکار کر دیتے ہیں اور اس کی رحمت تو دیکهو وہ پھر بھی ہمیں کهانا دیتا ہے ہماری ضروریات پوری کرتا ہے..اگر وہ ہم سے کہے آج تو آپ نے نماز نہیں پڑھی آج آپ کو کهانا کیوں دوں…؟..لیکن وہ ایسا نہیں کرتا کیونکہ دنیا کی سب سے بڑی کتاب میں ننانوے ناموں سے ایک نام رحمن بھی ہے. …………….
یہ بات اسے اس کے ماموں نے اس انداز میں سمجهائی کہ وہ دوبارہ کهبی اپنا کوئی نماز نہیں چهوڑ سکی..اور جو بھی کام کر رہی ہوتی اذان کی آواز سن کر وہ کام ادھورا چھوڑ کر نماز ادا کرنے جاتی….
نماز ادا کر کے وہ ایک بار پھر کچن میں آئی..وہ الماری میں سے خوبصورت برتن بھی نکالنے لگی اپنی طرف سے وہ جتنا سمجھ سکتی تهی اتنا کرنے لگی..اسے دروازہ کھلنے کی آواز سنائی دی وہ کچن سے باہر نکل آئی ..افراہیم بیگ اٹهائے اندر آ رہا تھا. .اس نے بتایا تها وہ جلدی آئے گا لیکن اتنی جلدی آئے گا یہ اس نے نہیں سوچا تها…وہ کچن میں اس کے لیے ایک گلاس پانی لے آئی ….اس نے ایک نظر پانی کو اور ایک نظر اسے دیکها اور پانی پی لیا..وہ خالی گلاس لے کر جب واپس پلٹنے لگی تو اس نے آواز دے کر اسے صوفے پہ بیٹهنے کو کہا وہ ججهکتے ہوئے بہرحال بیٹھ ہی گئی….
سنو. . میرے آفس کے کچھ دوست شام کو کهانے پہ آئیں گے وہ لوگ دس بارہ کے قریب ہوں گے..میں نہیں چاہتا ان لوگوں کے سامنے ہماری شادی شدہ زندگی کے غلط اثرات پڑیں…اس لیے میں چاہتا ہوں تم اچهے سے تیار ہو جانا …کپڑے بھی میں لا دوں گا اور ایک بات نیلے رنگ کے کپڑوں کے ساتھ کالے رنگ کی آئی شیڈ کوئی نہیں لگاتا ….او کے…….وہ غور سے اس کی بات سن رہی تهی.وہ اسے کل کے میک اپ کی بات جتا رہی تهی…….
اچها چهوڑو میں تمہیں بیوٹی پارلر لے کر جاوں گا وہیں سے تیار ہو جانا اور ابهی ان کے آنے میں کافی وقت ہے. ……
جی ..کون سا کارلر…..
کارلر نہیں بیوٹی…..بیوٹی….ب…ی…و…ٹ…ی…پا…رلر…اس نے ایک لفظ الگ الگ کر کے اسے سمجهانے کی کوشش کی. …. ببٹی پرلر جی….؟..اس نے سوالیہ انداز میں پوچها جبکہ اس نے زور سے اپنے ماتهے پہ ہاتھ مارا….
ببٹی نہیں …بیوٹی….اچها چهوڑو…اس بات کو…..تم ان لوگوں کے سامنے کوئی بات نہیں کرو گی او کے. ..اگر تم بات کرو گی تو انہیں پتا چلا جائے گا کہ تم ان پڑھ ہو…..سلام دعا کے علاوہ اور کوئی بھی بات نہیں کرو گی تم اور سلام دعا بھی مدهم آہستہ آواز میں کرنا….ویسے نہیں جیسے فون پہ چلا چلا کر بات کر رہی تھی. .کوئی بہرہ نہیں ہوتا ..او کے ……
اس نے اپنی گردن ہلائی.. ..
اور اتنے لوگوں کا کهانا بنا لو گی. ..؟..
جی ہم بنا لیں گے ……
ٹهیک ہے تم ابهی سے تیاری شروع کرو کیونکہ وقت بہت کم ہے اور بعد میں بیوٹی پارلر بھی جانا ہے او کے …..وہ حکم صادر کر کے کمرے میں فریش ہونے چلا گیا…….
{ ناول دلہن تحریر ناصر حسین }
وہ بهاگتے ہوئے کچن میں چلی گئی اس کے پاس جناب کے کہے ہوئے کسی بات کو بھی سوچنے کا وقت نہیں تها .جلدی جلدی وہ ہاتھ چلانے لگی……..
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Zindagi Do Pal Ki Novel By Insia Awan – Episode 2

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: