Dulhan by Nasir Hussain – Last Episode 5

0

دُلہن از ناصر حسین آخری قسط نمبر 05

پہلی بار پڑهنے والوں کے لیے گزشتہ قسط کا خلاصہ.
بانی نام کی ایک دیہاتی ان پڑھ لڑکی کی شادی ہو جاتی ہے ایک ہینڈسم پڑهے لکهے مغرور شخص (افراہیم) سے جو اسے نا پسند کرتا ہے ..وہ اسے پانے کے لیے ہر حد تک جاتی ہے. ..اب آگے…….
………………………………………….
اس رات وہ اپنے بستر پہ یونہی لیٹا تها جب وہ اس کے کمرے میں آئی اس کے ہاتھوں میں دودھ کا ایک گلاس تها وہ ہمیشہ رات کو سونے سے پہلے اس کے لیے دودھ لانا نہیں بهولتی تهی..وہ ایک مشرقی بیوی کے روپ میں بالکل پوری اترتی تهی کهبی کهبی وہ اس لڑکی کو بالکل بھی سمجھ نہیں پاتا وہ اس سے جتنی بدتمیزی سے بات کرتا یا کهبی کهبی غصے سے بات کرتا تو وہ جواباً خاموش ہو جاتی….دوسرے بیویوں کی طرح لڑتی جهگڑتی بالکل بھی نہیں تهی لڑنا تو دور وہ کهبی اپنی صفائی بھی پیش نہیں کرتی تهی……..
وہ اپنے دوستوں کی جب شکائتیں سنتا جو وہ اپنی اپنی بیویوں کے بارے میں کرتے تو حیران ہو جاتا کہ کون سی بیوی سہی قسم کی ہے …ایک ان پڑھ جاہل گاوں کی لڑکی یا وہ پڑهی لکهی ماڈرن لڑکیاں..جو اپنے شوہروں پہ حکومت کرتی تهیں..نہ کهانا بنانا نہ بچوں کو سنبهالنا ہر وقت میک اپ سے لدے رہنا….ہنس ہنس کے ہر مرد سے بات کرنا …اسے اس قسم کی عورتیں کچھ عجیب لگتیں..لیکن وہ اپنی زندگی میں ایک بہت مختلف لڑکی دیکھ رہا تھا ایک ایسی لڑکی جو اس نے آج تک کهبی نہیں دیکهی…………
ایک وہ بیویاں تهیں جو شوہروں کی ہر بات پہ اعتراض کرتی تهیں اور ایک یہ ہے اگر اس سے کہا جائے کہ رات سفید ہے تو یہ اپنے شوہر کی ہاں میں ہی ہاں ملائے گی یہ لڑکی تو اپنے شوہر کو مجازی خدا سمجهتی تهی.ہر بات ماننے والی ..ہر کام کرنے والی….
ایک بار اس کے آفس کے ایک دوست نے اس سے پوچھا تها اسے کس قسم کی بیوی چاہیے وہ کوئی جواب نہیں دے سکا اسے اب تک نہیں معلوم تها کہ بیویوں کی بهی اقسام ہوتی ہیں. .اس نے دودھ کا گلاس اس کے ہاتهوں میں تهما دیا وہ دودھ پیتے ہوئے اسے مسلسل اپنی نگاہوں کے حصارے میں لیے ہوئے تها اور وہ نگاہیں جھکائے کھڑی تهی….کتنی عجیب لڑکی تهی کسی اور تو کیا شوہر سے نگاہیں ملاتے ہوئے بھی شرماتی تهی وہ پہلی بار اس کے اس ادا سے لطف اندوز ہو رہا تها………………..
اس لڑکی کے ساتھ رہتے ہوئے اسے بیس دن ہو چکے تهے اور ان بیس دنوں میں اس نے نوٹ کیا کہ وہ لڑکی جهوٹ کهبی نہیں بولتی …بنا مقصد بنا مطلب کوئی بات نہیں کرتی…نماز پابندی سے ادا کرتی ہے…اور کئی بار اس نے صبح صبح اسے قرآن پاک کی تلاوت کرتے بھی سنا…….
وو اب نیچے فرش پہ اپنا بستر ڈال کر سو رہی تهی ..اس نے کهبی نہیں کہا کہ میرا حق ادا کرو …بیڈ پہ سونا میرا حق ہے. …وہ ہمیشہ رات کو سونے سے پہلے کوئی نہ کوئی عجیب سا ٹاپک پکڑ کر اس پہ مختلف سوالات کرتی تهی. .اور وہ بس ہوں ہاں میں یا کهبی کهبی تو اسے غصے سے بهی جهڑک دیتا تها…مگر وہ کهبی اس کے غصے پہ ناراض نہیں ہوتی تهی کوئی شکوہ نہیں کرتی تهی……
لیکن آج وہ خاموشی سے سونے کے لیے لیٹ رہی تهی. اسے ہمیشہ رات کو اس لڑکی کی باتیں بہت بری لگتیں لیکن عجیب بات تو یہ تهی کہ اگر وہ لڑکی بات نہ کرتی تو وہ الجھن کا شکار ہو جاتا ….
اور آج بھی جب وہ بنا کوئی بات کیے سو رہی تهی تو اسے ایک عجیب کرب کا احساس ہوا…..
سو رہی ہو تم……؟..پہلی بار اس نے خود سے اسے مخاطب کیا. …
جی کچھ چاہیے تها آپ کو…وہ ایک دم چاق و چوبند ہو کر کهڑی ہو گئی…وہ اس طرح جلد بازی میں اس کے کهڑے ہونے پہ ہنس دیا……
{ دلہن ناول ناصر حسین }
نہیں وہ……وہ….یہ تم ہمیشہ یہی کپڑے ہی کیوں پہنتی ہو…. اس نے بات شروع کرنے کے لیے یہ عجیب و غریب سوال کیا..اس نے غور سے اپنے کپڑوں کو دیکها جو سادہ لان کے کپڑے تهے. …….
جی…وہ باقی میلے تهے. وہ اس لیے .اس نے حیران ہو کر جواب دیا. ….
کتنے جوڑے ہیں تمارے…..
جی پانچ. ..اس نے سادگی سے جواب دیا جبکہ وہ حیران ہوا. ..جس لڑکی کا شوہر لاکھوں کے حساب سے تنخواہ لیتا ہو اس کی بیوی کے پاس صرف پانچ سادہ لان کے کپڑے ہیں. .یہ بات اسے بہت عجیب لگی اس کے خود کے ہزاروں کپڑے تهے اور اس نے بھی کهبی کچھ نہیں مانگا..اس کے پاس کپڑے جوتے جو بھی چیز نہیں تهی اس نے اپنے لیے اس سے کهبی کچھ نہیں مانگا…..
کیوں نہیں مانگا…اسے مانگنا چاہیے تھا یہ اس کا حق تها وہ اس کا شو………
تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا…..وہ دکھ سے پوچھ رہا تها جبکہ وہ نظریں جهکا گئی جیسے اس نے بہت بڑی غلطی کر دی ہو… ……
اچها ٹهیک ہے ہم کل کو چلیں گے شاپنگ پہ پهر لے لینا اپنے لیے کپڑے ..اور بهی تمہیں جو کچھ چاہیے وہ بھی..او کے ….
جی….
اچها اب سو جاو ….وہ سونے کے لیے لیٹ گئی اس نے لیمپ آف کر دیا …اب اسے بهی اچهی نیند آتی وہ سابقہ تجربات سے یہ نتیجہ اخذ کر چکا تها کہ جب بھی وہ لڑکی اس سے بات نہیں کرتی اسے نیند بڑی دیر سے آتی. ………….
رات تقریباً گزر چکی تهی دور دور سے کہیں موذن کی آواز آ رہی تهی ..اس نے سوتے سوتے محسوس کیا کوئی اس کے ماتهے پہ ہاتھ رکهے ہوئے ہے وہ کرنٹ کها کر اٹھ گیا….وہ اس کے بالکل پاس کهڑی تهی اس اٹهتا دیکھ کر وہ گهبرا گئی …….
اسے اتنی صبح صبح اس کا چهونا بہت برا لگا..غصے کی شدید لہر اس کے جسم میں پیدا ہو گیا پورا جسم جیسے جلنے لگا ہو…وہ کمبل کو پرے دھکیل کر بالکل اس کے برابر کهڑا ہو گیا وہ سہمے ہوئے نگاہیں نیچے جهکا کر کهڑی تهی….اس کے دل میں اس وقت آگ لگی ہوئی تهی اس نہیں پتا تها اسے اتنا غصہ کیوں آ رہا ہے لیکن وہ مزید اپنے غصے پہ قابو نہیں رکھ سکا….
تماری ہمت کیسے ہوئی مجھے ہاتھ لگانے کی..کیا سمجهتی ہو تم خود کو…..اور کیا سوچ کر تم نے مجھے ہاتھ لگایا..میں نے تمہیں بتایا تها ناں میں تمہیں بیوی کا درجہ کهبی نہیں دے سکتا تو زبردستی میری زندگی میں گهسنے کی کوشش مت کرو ..او کے …نہ تو میں تمہیں کهبی قبول کر سکتا ہوں اور نہ کهبی کروں گا اس لیے یہ روایتی بیویوں والی حرکتیں کرنا بند کر دو….
وہ چلا چلا کر بات کر رہا تها اندر کے لاوا کو باہر آنے کا راستہ مل چکا تها …اس کا پارہ ایک دم چڑھ چکا تها وہ بدستور سر نیچے کیے ہوئے کهڑی تهی اس نے محسوس کیا اس کی آنکھوں سے آنسو گر رہے ہیں …
گیٹ آوٹ…..اس نے چلا کر کہا..پهر اسے یاد آیا وہ جاہل گوار لڑکی انگلش نہیں سمجھ سکتی اس لیے اس نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے زبردستی اپنے کمرے سے باہر نکالا اور کنڈی لگا کر بیڈ پہ بیٹھ گیا. ……….
{ دلہن ناول ناصر حسین }
اس کا خون کهولنے لگا تها…کافی دیر بعد وہ جب خود کو نارمل کرنے میں تهوڑا کامیاب ہوا تو دوبارہ بستر پہ لیٹ گیا….پهر جانے کب اس کی آنکھ لگی…..
چهٹی کا دن تها اس لیے اسے بیدار ہونے کی کوئی جلدی نہیں تهی لیکن دس بجے آلارم نے اپنے ہونے کا احساس دلایا وہ اٹھ کر واش روم میں گهس گیا …سر میں ہلکے درد کا بھی احساس ہوا صبح چھ بجے والا واقعہ ابهی بهی ذہن میں تازہ تها……………..
وہ نہا کر جب باہر نکلا تو ٹهٹک گیا اس کی شرٹ بیڈ پہ آج نہیں پڑی ہوئی تهی ایسا پہلی مرتبہ ہوا تها کہ وہ نہا کر نکلا ہو اور بیڈ پہ شرٹ نہ ہو…اسے کچھ عجیب لگا. ..اس نے الماری سے ایک شرٹ نکال کر پہن لی اور ناشتے کے لیے نیچے چلا گیا. ….ناشتے کے دوران دوسری حیرت اسے تب ہوئی جب اسے ٹیبل پہ ناشتہ نظر نہیں آیا یہ بھی پہلی مرتبہ ہوا تها ورنہ وہ ہمیشہ اس کے جاگتے ہی میز پہ ناشتہ سجا دیا کرتی تهی….
تو اس کا مطلب وہ ناراض ہے….اس نے سوچا….
ناراض ہے تو ہوتی رہے ناراض…..میں نے کیا کیا…..
تو نے اچها بھی تو نہیں کیا ..کتنی بری طرح سے پیش آئے اس سے…..دل سے آواز آئی. .
وہ کچن میں چلا گیا اور خود اپنے لیے ناشتہ بنانے لگا پھر اسے یک دم محسوس ہوا اسے ناشتہ بنانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اتنے دنوں سے وہ اس کے ہاتھوں کا بنا ناشتہ کها رہا تها …خود کهانا بنانے کی تو اس کی عادت ہی چهوٹ گئی…….وہ بنا ناشتہ بنائے کچن سے باہر نکل آیا…..
وہ یونہی صوفے پہ ڈهیر ہو گیا…..ایک سوچ جو پہلی بار اس کے ذہن میں آئی….
وہ کہاں ہے….؟..یہ سوچ کر وہ کهڑا گیا …اور گهر کے کمروں میں اسے تلاش کرنے لگا لیکن وہ اسے کہیں نہیں ملی اس کی ٹینشن میں مزید اضافہ ہوا …وہ ایسے تڑپنے لگا جیسے مچھلی کو پانی سے باہر نکال دیا جائے….
کہاں چلی گئی……
{ دلہن ناول ناصر حسین }
وہ سیڑھیاں اترتے ہوئے سوچ رہا تها…..
جہاں چلی گئی چلی گئی…اس سے اسے کیا…وہ بھی کہاں اسے اس گهر میں چاہتا تها …اچها ہوا خود چلی گئی…ویسے بھی کسی نہ کسی دن تو اسے جانا ہی تها ناں….؟
نہیں. ..نہیں. …وہ ہمیشہ یہی چاہتا تها وہ چلی جائے لیکن آج جب وہ چلی گئی تو وہ اس طرح پریشان کیوں تها…وہ خوش کیوں نہیں تها جبکہ اصولاً تو اسے بہت زیادہ خوش ہو جانا چاہیے تها………
کیا وہ اس لیے پریشان ہے کہ جب دادی واپس آئے گی تو وہ اسے کیا جواب دے گا……
نہیں. ..نہیں. ..دل سے فوراً آواز آئی….
وہ دادی کے لیے نہیں خود اپنے لیے پریشان تها مگر کیوں اس نے دل سے پوچها. ……
کیونکہ تم اس سے پیار کرنے لگے ہو….دل نے ایک عجیب انکشاف کر دیا…وہ گم سم ہو گیا….یہ کیا کہہ رہا تها دل…وہ اس….اس…سے…وہ ..اس سے پیار کیسے کر سکتا ہے وہ…تو…وہ…تو اس سے نفرت کرتا تها شدید نفرت. ..نہیں دل جهوٹ بول رہا ہے…
اس نے دل کو جهٹلانے کی کوشش کی مگر وہ ایسا نہیں کر سکا کیونکہ دل جهوٹ نہیں سچ بول رہا تها…
ہاں …ہاں …میں اس سے پیار کرتا ہوں بہت پیار. …مجھے صرف اس کی عادت نہیں ہو گئی میں اس سے پیار بھی کرنے لگا ہوں مگر وہ کہاں ہے….اس نے چلا چلا کر پورے گهر سے پوچھا اور جواباً پورا گهر خاموش تها ..اسے زندگی میں پہلی بار گهر میں اکیلے پن کا احساس ہوا اسے پہلی بار گهر کی خاموشی ڈرا رہی تهی……..
اس پہ پہلی بار انکشاف ہوا وہ اس سے محبت کرنے لگا تها..وہ جسے اپنی زندگی کا ساتهی بنانا چاہتا تها وہ یہی لڑکی تهی اس کے علاوہ اور کوئی نہیں ہو سکتی..اس سے پیاری تو کوئی ہو ہی نہیں سکتی اتنی معصوم اتنی سچی.اسے جیون ساتھی کے روپ میں صرف یہی لڑکی چاہیے تهی اور تو کوئی ہو ہی نہیں سکتی اس کے جیسی..ایسی لڑکی دنیا میں کہیں نہیں ہے جو اس کے اتنے غصے کے باوجود خاموش رہے جو اس کے جاگتے ہی ناشتہ لگا دے اس کے مانگنے سے پہلے اسے چائے پلا دے…اتنی صبر اتنی قناعت والی لڑکی اور کہاں ہو گی..واقعی اگر دادی اس پہ بهروسہ کرتیں تهیں تو بالکل سہی کرتیں تهیں..وہ واقعی اپنے پوتے کے لیے سب سے اچهی بیوی ڈهونڈ لائیں تهیں. .اگر وہ خود ان کی مرضی کے خلاف کسی ماڈرن لڑکی سے شادی کرتا تو کیا ہو جاتا…وہ لڑکی کیا گهر کے کام کرتی..کیا اس میں اتنا صبر ہوتا..کیا وہ اس کے اس طرح چلانے پہ خاموش ہوتی..نہیں …نہیں نہیں. ….وہ پہلی بار اس کی کہی ہوئی ساری باتیں یاد کر رہا تها………
{ دلہن ناول ناصر حسین }
کیا جی ببٹی پارلر….؟
یہ ٹی بی کرنٹ تو نہیں مارتا جی. …؟
ہمارے گاوں میں پہلے مرد کهانا کهاتا ہے پهر عورت اس کا بچا ہوا کهانا کهاتی ہے…….
آپ کو گاڑی چلانا آتا ہے جی…..؟
یا اللہ مجھے اپنے گهر سے خاکی ہاتھ مت لوٹائیں میں آپ سے جو مانگ رہی ہوں وہ مجھے دے دیں……
جی آپ کی وہ نیلی شرٹ جل گئی……
آپ سے جهوٹ بول سکتی ہوں خدا سے تو نہیں. ..
وہ تو سب جانتا ہے. ..آپ سے جهوٹ بول کر میں بچ بھی جاوں تو خدا سے کیسے جهوٹ بول سکتی ہوں..
او میرے اللہ. …یہ میں نے کیا کر دیا…کیوں کر دیا….میں نے اس سے کتنی بدتمیزی سے بات کی صبح. ..مجھے کیوں اتنا غصہ آ گیا تها حالانکہ اس نے ایسا بھی کچھ غلط نہیں کیا تها…صرف ہاتھ ہی تو لگایا تها..اور میں …..
اور وہ …وہ اتنی اچهی تهی کہ اس نے کوئی شکوہ کوئی شکایت تک نہیں کیا….لیکن وہ کہاں چلی گئی …
پلیز واپس آ جاو ….میں تمہیں پهر کچھ نہیں کہوں گا ہم دونوں مل کر پیار محبت سے رہیں گے…میں تمارے بنا نہیں رہ سکتا بانی …لوٹ آو ….اسے اپنے گالوں پہ نمی کا احساس ہوا. ..وہ بهاگتے ہوئے پورچ میں گیا اور گاڑی میں بیٹھ کر ریلوے اسٹیشن کی طرف روانہ ہو گیا. …..
گاڑی وہ فل سپیڈ سے چلا رہا تها..اتنے رش میں اتنے سپیڈ سے گاڑی چلانا خطرے سے خالی نہیں تها لیکن وہ ہر خطرے سے انجان بس جلدی جلدی ریلوے اسٹیشن پہنچ جانا چاہتا تها ..کئی بار اس کی گاڑی دوسرے گاڑیوں سے ٹکراتے ٹکراتے بچی تهی…وہ ریلوے اسٹیشن کے بالکل پاس پہنچ چکا تها گاڑی سے نکل کر وہ بهاگتے ہوئے اسٹیشن تک گیا لیکن وہاں کوئی نہیں تها یہ تو ابھی تک ریل گاڑی آئی ہی نہیں ہو گی یا پھر آ کر……….
وہ بهاگ کر بنچ پہ بیٹهے اس انسان تک گیا جو پتا نہیں کن خیالوں میں گم تها……
ایکسکیوز می….جناب یہ ریل گاڑی کی ٹائمنگ کیا ہے…
اس آدمی نے حواس باختہ مخاطب کو دیکها. ….
ابهی تهوڑی دیر پہلے ریل گاڑی تو نکل چکی ہے. .اسے لگا جیسے وہ آدمی کہہ رہا ہو آپ کی تو جان نکل چکی ہے….اس کے جسم میں خون کی گردش اچانک رکنے لگی ….وہ مایوس ساری دنیا سے بیزار گهر لوٹ آیا……اور صوفے پر ڈهیر ہو گیا ……
ایسے کیسے جا سکتی ہے وہ…؟
مجھے چهوڑ کر وہ نہیں جا سکتی….
اتنی معمولی غلطی کی اتنی بڑی سزا کون دیتا ہے. ..
کیا سب کچھ ختم ہو گیا…اب کچھ بھی باقی نہیں رہا تها کیا….
{ دلہن ناول ناصر حسین }
وہ سر تهامے صوفے پہ بیٹها تها …جب اسے اپنے بالکل پاس ہی کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی اس نے گردن موڑ کر دیکها تو اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی سانس نیچے رہ گئی………
وہ …وہ..اس کے بالکل پاس کهڑی تهی اس سے کچھ ہی فاصلے پر…وہ کرنٹ کها کر کهڑا ہو گیا…..
تم…تم…کہاں چلی گئیں تهیں…میں نے ….کیوں گئیں تهیں تم….؟ وہ کرنٹ کها کر کهڑا ہو گیا ..
جی وہ ہم تو….ہم تو یہیں تهے…اس نے اس کی بات نہیں سنی اور آگے بڑھ کر اسے گلے سے لگا لیا. .وہ اس طرح اس کے گلے لگانے سے حیران بھی تهی اور خوش بھی. ….
اب آئندہ تم کهبی مجھے چهوڑ کر مت جانا اوکے…چاہے میں تمہیں جتنا ڈانٹوں…او کے…جان نکل جاتی ہے میری..ہم سب کچھ پهر سے شروع کریں گے تم ایک بار پھر سے دلہن بنو گی اور اس بار تمہیں کمرے سے باہر نکالنے کی بجائے بانہوں میں سمیٹ لوں گا..
…خوشی سے اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے…..
وہ صبح اس کے منہ سے نکلنے والے شعلے سن کر تو ٹوٹ ہی گئی تهی ..اسے لگا اب اس کی زندگی کا تو کوئی مقصد ہی باقی نہیں رہا سب کچھ ختم ہو گیا. ..
وہ کمرے سے نکل کر اس کے برابر والے کمرے میں جا کر روتی رہی …اور روتے روتے وہ کب سو گئی اسے پتا ہی نہیں چلا. .اس کی آنکھ تب کهلی جب اسے نے سنا کوئی اسے پکار رہا ہے..وہ بهاگ کر کهڑکی تک گئی تو اس کے شوہر محترم جو صبح آگ برسا رہے تهے اب بڑی بے تابی سے اپنی زوجہ محترمہ کو ڈهونڈ رہے تھے. .اس حیرت بھی ہوئی اور اچها بھی لگا وہ بہت دیر تک کهڑکی سے اس کی اداس شکل دیکهتی رہی پهر اس نے چلا چلا کر اپنی محبت کا اظہار کیا …ان دیواروں کے سامنے اس گهر کے اندر..لیکن وہ نہیں جانتا تها جس کے لیے وہ اقرار کر رہا ہے وہ اس کے بہت قریب ہے …….
وہ جانتی تهی کہ وہ اس سے پیار کرنے لگا ہے ..وہ کئی بار اس کے چہرے پہ اپنے لیے محبت کا پیغام پڑھ چکی تهی لیکن وہ اقرار نہیں کر رہا تها کیونکہ ابهی تک خود اس کے دل نے ہی اقرار نہیں کیا تها..
رات کو دو بجے اٹھ کر بریانی کهائی جاتی ہے. .جناب چوری چوری قیمہ اپنی پلیٹ میں ڈال کر کهانے لگتے ہیں. .گاڑی میں بیٹھ کر چپکے چپکے اسے دیکها جاتا ہے. ..صرف اقرار کرنے میں ہی مشکل پیش آ رہی تهی جناب کو…..اس کے منہ سے اپنے لیے محبت کا اقرار سن کر اسے بہت اچها لگا…… ….
وہ اس وقت اس کے پاس جانا چاہتی تهی اسے بتانا چاہتی تهی کہ وہ اس کے قریب ہے لیکن وہ نہیں گئی…وہ اسے تنگ کرنا چاہتی تهی…جس شوہر محترم نے اسے اتنے دن تنگ کیا وہ بهی اپنا بدلہ وصول کرنا چاہتی تهی…………
صبح وہ اس سے غصہ تهی ناراض تهی روئی تهی لیکن اگر آج کی صبح وہ سب کچھ نہ ہوا ہوتا تو وہ کهبی اپنی محبت کا اقرار نہ کرتا.یہ تقدیر کاتب کا فیصلہ تها..جو ہوتا ہے اچهے کے لیے ہی ہوتا ہے ..بے شک کوئی ہے جو ہماری ہر سوچ پہ اختیار رکهتا ہے اور ہمارے لیے بہتر فیصلے تجویز کرتا ہے. .وہی جو اس پوری کائنات کو چلا رہا ہے …یہ ساری دنیا جس کے ماتحت ہے وہی تو خدا ہے………..
اس نے تشکر آمیز نگاہوں سے اوپر آسمان کی طرف دیکها ..بے شک جوڑے وہی بناتا ہے آسمانوں پر…وہ اپنے انسانوں میں کهبی فرق نہیں کرتا ..نہ دیہاتی اور شہری میں اور نہ ہی غریب اور امیر میں. …وہ سب کو دو آنکھیں دو کان دو ہاتھ اور دو پاوں نواز کر بھیجتا ہے. .فرق تو صرف انسان کرتے ہیں. ……

Read More:  Asaib Mein Shadi Novel By Hiba Sheikh – Last Episode 2

ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: