Dulhan Novel By Awais Chohan – Episode 1

0

دلہن از اویس چوہان – قسط نمبر 01

–**–**–

مصنف سے ملیں: اویس چوہان

( خوفناک ناول )

روبی بہت زیادہ خوش تھی’
کیونکہ اس کے ایم بی اے کے امتحانات کا نتیجہ آ چکا تھا
اور اس نے پورے یونیورسٹی میں امتیازی پوزیشن حاصل کی تھی

روبی کی امید اب بر آنے والی تھی۔۔۔

شام کے وقت روبی بجھا بجھا سا منہ بنا کر گھر میں داخل ہوئی
گھر آتے ہی دادی جان نے پوچھا کہ کیا ہوا تم اتنی افسردہ کیوں ہو
تو روبی نے برا سا منہ بنا کر کہا کہ میں ایم بی اے کے امتحانات میں بری طرح ناکام ہوگئی ہو ں
جب کہ میری ساری دوست اچھے نمبر سے پاس ہو گئے ہیں
دادی جان نے فورا روبی کی ابو افتخار اور اس کی ماں خورشید کو بلایا اور ان کو یہ خبر سنائی
قریب تھا کہ روبی کے ابو اس پر برس پڑتےکہ اچانک روبی نے اپنا رزلٹ کارڈ ان کے سامنے رکھ دیا
یہ دیکھ کر کے رو بی پوری یونیورسٹی میں اول درجے پر آئی ہے روبی کے ابو کی خوشی سے چیخ نکل گئی
اور انہوں نے روبی کی دادی اور ماں کو بتایا کہ یہ لڑکی تمہیں تنگ کر رہی تھی
اسے پوری یونیورسٹی میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے اور ہم سب کا نام روشن کیا ہے۔۔۔۔۔

روبی کا خاندان گل 6 افراد پر مشتمل تھا
روبی ۔روبی کا بھائی فیضان
روبی کی چھوٹی بہن ماہرہ
روبی کی امی خورشید ابو افتخار
اور روبی سے سب سے زیادہ پیار کرنے والی اس کی دادی ماں سکینہ بیگم

یوں تو اور بھی بہت سلجھی ہوئی اور پڑھائی میں بہت تیز تھی
لیکن وہ انتہائی ضدی اور اپنی بات منوانے والی لڑکی تھی
اس نے زندگی میں کبھی ہارنانہیں سیکھا تھا۔۔۔۔۔۔۔

خیر اگلی صبح روبی صبح سویرے اٹھ کر فریش ہو کر یونیورسٹی کی طرف نکلنے لگی تو اس کی ماں نے کہا کہ بیٹا ناشتہ کرتی جاؤ ٹوپی نے جلدی جلدی جواب دیا کہ میں میں نے اپنے دوستوں کو اپنی پوزیشن کی خوشی میں پارٹی دی ہے
اس کی تیاریاں وغیرہ کرنے کے لیے مجھے جلدی یونیورسٹی پہنچنا ہوگا
خورشید روبی کو صبح صبح یونیورسٹی جاتے دیکھ کر پریشان ہوئی
روبی یونیورسٹی پہنچ کر پارٹی کے شعر انتظامات مکمل کروائے۔
روبینہ جن دوستوں کو مدعو کیا ہوا تھا وہ سب وقت مقررہ پر کیفے پہنچ گئے لیکن جس شخص کا روبی کو شدت سے انتظار تھا وہ ابھی تک نہیں آیا تھا تھا روبی اضطراب کے عالم میں ادھر ادھر چل پھر رہی تھی اور ساحل کا شدت سے انتظار کر رہی تھی
کیونکہ آج وہ اپنی زندگی کا سب سے اہم پڑاؤ پار کرنے والی تھی
وہ ساحل کو شادی کیلئے پرپوز کرنے والی تھی۔۔۔

روبی کے انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور بالآخر آدھے گھنٹے کے طویل انتظار کے بعد ساحل کیفیٹیریا میں داخل ہوا !
ساحل کو دیکھ کر روبی کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا اور وہ جلدی جلدی میں اس کی طرف بڑھی
ہڑبڑاہٹ میں اس کا پاؤں پھسل گیا اور وہ بری طرح سے فرش پر گر پڑی
اسے دیکھ کر اس کی کلاس فیلوزکی ہنسی چھوٹ گئی
خیر ساحل نے بڑھ کر اس کو سہارا دیا اور کرسی پر بیٹھا دیا۔۔
اسی طرح ہنسی مذاق کرتے اورکھاتے پیتے ہوئے وقت کا پتہ ہی نہ چلا اور دوپہر کے 3 بج گئے
روبی اپنی دوستوں کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھی
جبکہ ساحل اپنے کلاس فیلوز کے ساتھ بیٹھا ہوا کسی سنجیدہ موضوع پر گفتگو کر رہا تھا
روبی نے اپنی فرینڈ شینا سے کہا کے جاؤ اور ساحل کو ادھر بلا کر لاؤ
شینا ساحل کو بلا کر لائی
ساحل روبی کی دوستوں کے پاس و ہیں کہ کرسی پر بیٹھ گیا روبی سے پوچھنے لگا کہ خیریت تو ہے تم نے مجھے کیوں بلایا ہے
روبی نے بنا کچھ سوچے سمجھے کہ اس کی سہیلیاں اس کے پاس بیٹھی ہے۔وہ ساحل سے کہنے لگی کہ میں تمہیں بے پناہ چاہتی ہوں اور تم سے شادی کرنے کی خواہش مند ہوں
روبی کے منہ سے ان الفاظ کو سن کر کسی کلاس میٹس حیران اور ششدر رہ گئی
ان میں سے کسی کو بھی توقع نہیں تھی کے روبی یہ قدم اٹھانے والی ہے بلکہ اس نے کسی سے یہ بات شیئر بھی نہیں کی تھی۔۔۔

Read More:  Badtameez Ishq Novel By Radaba Noureen – Episode 16

روبی کی بات ساحل نے بڑے سنجیدگی سے سنیں اور نہایت تحمل کے ساتھ جواب دیا کہ میں نے تمہارے بارے میں کبھی بھی اس نظریے سے نہیں سوچا
اور رہی بات شادی کی،تو وہ میں اپنے والدین کی مرضی سے کروں گا
تم بے شک خوبصورت اور ذہین لڑکی ہو
لیکن تم میں انا اور ضد بہت زیادہ ہے ہے
جس وجہ سے میں تمہارے ساتھ شادی کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا
اور سب سے بڑی بات کہ میں تم سے محبت نہیں کرتا۔۔
ساھل کے یہ الفاظ روبی کے کانوں میں سیسے کی طرح پڑے اور وہ تڑپ کر رہ گئی
اس نے صاف صاف اونچی آواز میں ساحل کو کہنا شروع کردیا کہ اگر تم نے مجھ سے شادی نہ کی تو میں تمہیں پوری یونیورسٹی میں بد نام کر دوں گی اور تمہیں کسی قابل بھی نہیں چھوڑوں گی
روبی کی کلاس میٹس اس کو سمجھانے لگی کہ یہ تم کیا پاگل پن کر رہی ہو
لیکن روبی غصے میں کسی کی بات کرنے کے لئے تیار نہ تھی
ساحل کو روبی کی اس واہیاتی پر اتنا غصہ آگیا
کہ اس نے روبی کو دھمکی دی کہ آئندہ اگر تم نے اس طرح کی کوئی بات نہیں کی تو میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا تمہیں جان سے مار دوں گا ۔۔۔۔۔۔۔
روبی غصے کے عالم میں پاؤں پٹختی ہوئی یونیورسٹی سے باہر چلی گئی اور آٹو پکڑ کر اپنے گھر پہنچی ..

روبی کو کسی پل چین نہیں پڑھ رہا تھا
اس نے توقع نہیں کی تھی کس اہل اس کی اس طرح سے انسلٹ کرے گا
خیر اس طرح بات آئی گئی ہو گئی
روبی کے دوستوں اور ساحل نے اس بات کو تقریبا بھلا دیا۔

لیکن روبی صاحل کو بےحد چاہنے لگی تھی اس لیے وہ ساحل کو حاصل کرنے کے لیے ایک بار پھر کوشش کرنے کے بارے میں سوچ رہی تھی
کس شاعر ساحل کو اس بار اس کی حالت پر رحم آجائے سے شادی کرنے کے لیے مان جائے۔

روبی نے اپنے اس منصوبے کے بارے میں اپنی سب سے قریبی دوست شینہ کو بتایا اور بڑی منت سماجت کرکے ساحل کو آخری بار ملنے کے لیے راضی کر لیا۔۔اور اس کو اگلے دن کیفیٹیریا میں بلایا۔۔
روبی مقررہ وقت پر کیفیٹیریا پہنچ گئی ساحل پہلے سے وہاں پر موجود اس کا انتظار کر رہا تھا
ساحل نے روبی سے پوچھا کہ اب تم مجھ سے کیا کہنا چاہتی ہو
روبی نے کہا کےساحل میں تمہیں بے پناہ محبت کرتی ہو ں اور صرف تم سے شادی کرنا چاہتی ہوں
اگر تم مجھے نہ ملے تو میں جیتے جی مر جاؤں گی
لیکن تمہیں بھی چین سے نہیں جینے دو گی اور تمہاری زندگی برباد کر کے رکھ دونگی۔
ساحر روبینہ کے منہ سے یہ سب باتیں سن کر پھر اسے مشتعل ہو گیا۔
اور اس نے روبی کے منہ پر زوردارتھپڑ رسید کیا
روبی میں غصے میں آکر ساحل کو گالیاں بکنا شروع کردیں۔۔۔۔۔

شام کے وقت جب روبی کی دادی جب نماز مغرب سے فارغ ہوئی تو انہوں نے دیکھا کہ خورشید بے چینی سے گھر کے لان میں ٹہل رہی ہے
انہوں نے خورشید سے پوچھا کہ کیا ہوا تم اتنی پریشان کیوں لگ رہی ہو
خورشید نے کہا کہ امی جی صبح سے روبی گھر سے باہر گئی ہوئی ہے اور اس کا فون بھی نہیں لگ رہا
رات ہونے کو ہے اور اس بچی کا کہیں پتہ ہی نہیں
روبی کی دادی نے خورشید کو سمجھایا کہ تم فکر نہ کرو روبی اپنی سہیلیوں کے ساتھ ہوگی واپس آ جائے گی تھوڑی دیر تک۔
لیکن خورشید کو کسی پل چین نہیں پڑھ رہا تھا وہ روبی کی وجہ سے بہت زیادہ پریشان تھی..
شام سے رات اور رات سے صبح ہو گئی
لیکن روبی کا پتہ نہ چلنا تھا سونہ چلا۔

Read More:  Jadu Nagri Novel By Jiya Mughal – Episode 3

خورشید اور سکینہ بی بی نے روبی کو ہر دوست کو فون کر کے پوچھ لیا
لیکن کسی کو بھی روبی کے بارے میں پتا نہیں تھا
دوپہر کے تقریبا ایک بجے جب خورشید اور سکینہ بیگم سر جوڑ کر بیٹھی تھی
روبی کے والد کا بھی پریشانی کے برا حال تھا
انہوں نے پولیس سٹیشن میں فون کرکے رپورٹ درج کروا دی تھی۔۔

ایک بجے افتخار صاحب کو پولیس سٹیشن سے فون آیا
فون پر ان کو بتایا گیا۔کہ یونیورسٹی کے کیفیٹیریا کہ واش روم میں سے ان کو روبی کی لاش ملی ہے جو کہ پوری طرح تیزاب سے جلی ہوئی ہے
اس بات کا سننا تھا کہ فون افتخار کے ہاتھوں سے چھوٹ گیا
اور ان پر غشی طاری ہونے لگی

خورشید نے بڑی مشکل سے انکو سنبھالا اور صوفے پر بیٹھا دیا۔۔

سکینہ بیگم اس کے لئے پانی لینے کے لیے دوڑ کر کچن کی طرف گئیں
خورشید نے افتخار سے پوچھنا شروع کر دیا کہ کیا ہوا ہے آپ ایک دم سے سکتے میں کیوں آ گئے ہیں روبی کے والد نے بڑی مشکل سے خود کو سنبھال کر اپنی بیوی کو بتا یاکے روبی اب اس دنیا میں نہیں رہی۔۔
سکینہ بیگم نے کچن کے لوٹتے ہوئے جب افتخار کے منہ سے یہ الفاظ سنے توانہوں نے ایک دلدور چیخ ماری اور پانی کا گلاس ان کے ہاتھ سے چھوٹ کر کرچی کرچی ہوگیا۔۔۔۔۔۔۔

ماہرہ اور فیضان جب کالج سے واپس آئے
تو ان کے سر پر حیرتوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا
ان کی پیاری بہن کی لاش ان کی آنکھوں کے سامنے پڑی تھی
ان کی دادی ماں اور امی کا حال رو رو کر برا ہوا پڑا تھا اور ان کے ابو استخار ان دونوں کو سنبھالنے میں لگے تھے
افتخار خود بھی اندر سے ٹوٹ چکے تھےلیکن وہ اپنے گھر والوں پر یہ جتانا نہیں جاتے تھے
سب کو صبر کرنے کی تلقین کر رہے تھے
فیضان اور ماہرہ کا دل بیٹھا جا رہا تھا ان دونوں کو یقین نہیں آرہا تھا
انکی بڑی بہن اب ان کے درمیان نہیں رہی
ابھی کل ہی تو تینوں آپس میں ہر کھیل رہے تھے
ایک پل میں ان کے گھر کا چمن اجڑ گیا تھا

تھوڑی دیر بعد انسپکٹر فرقان کچھ پولیس کانسٹیبل کے ساتھ ان کے گھر میں داخل ہوئے
اور میت پر فاتحہ خوانی کی انہوں نے خرشید صاحب کو کہا کہ میں آپ سے کچھ ضروری بات کرنا چاہتا ہوں
روبی کو آخری بار ساحل کے ساتھ یونیورسٹی کے اسی کیفے ٹیریا میں دیکھا گیا تھا جہاں سے روبی کی نعش برآمد ہوئی ہے
اور روبی کی دوست شینہ نے بیان دیا ہے کے روبی نے اس کو بتایا تھا
کہ وہ ساحل سے ملنے جا رہی ہے
اس سے کچھ دن پہلے روبی نے ساحل کو پروپوز بھی گیا تھا
جس پر ان دونوں کے درمیان کافی تلخ کلامی اور جھگڑا بھی ہوا تھا
ساحل نے روبی کو جان سے مار دینے کی دھمکی بھی دی تھی
اس کے علاوہ یونیورسٹی کے گارڈ رفیق نے بھی یہ بیان دیا ہے کہ ایک دن پہلے میں نے روبی اور ساحل کو ایک ساتھ کیفے کی طرف جاتے ہوئے دیکھا
لیکن واپسی پر ساحل اکیلا یونیورسٹی سے باہر گیا

ان سب بیانات سے ثابت ہوتا ہے کہ روبی کا قتل ساحل نے گیا ہے
افتخار صاحب انسپیکٹر کی یہ بات سن کر افسردہ ہوگئے
خورشید بھی انسپکٹر اور افتخار کے درمیان ہونے والی بات چیت کر رہی تھی وہ غصے کے عالم میں بولی کہ اگر روبی کے قاتل کو سزا نہ ملی تو میری بچی کی روح کو کبھی قرار نہیں آئے گا
درندے نے میری بچی کو جس بے رحمی سے مارا ہے خدا تعالی ان کو کبھی سکون بھی نہیں رہنے دے گا
اور اس کی زندگی تباہ و برباد ہو جائے گی
جس نے میرا گھر اجاڑا ہے
اللہ اس کا گھر بھی کبھی بسنے نہیں دے گا ۔۔۔
روبی کے پورے خاندان نے روتے بلکتے ہوئے اس کے جنازے کو رخصت کیا
اسی طرح کل خوانی کا ختم بھی اختتام کو پہنچ گیا۔۔۔
اسی طرح شب و روز گزرنے لگے
گھر کے سبھی افراد روبی کے غم میں اس قدر ڈوبے ہوئے تھے کہ وہ اپنی روزمرہ کی مصروفیات بھول چکے تھے
فیضان اورماہرہ کالج نہیں جا رہے تھے وہ ہر وقت روبی کے کمرے میں اس کا سامان دیکھ کر یادیں تازہ کرتے رہتے اور روتے رہتے۔
سکینہ بیگم نے جب یہ صورت حال دیکھی دونوں نے ان کی امی اس بات سے آگاہ کیا
اس صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے خورشید بیگم نے روبی کے کمرے کو تالا لگا دیا اوراس تالے کی چابی اپنے پاس رکھ لی
اس نے گھر کے سبھی افراد کو کہا کہ آئندہ روبی کے کمرے کو کوئی نہیں کھولے گا۔
یہ کہتے ہوئے خورشید بیگم کی آنکھوں سے آنسو تواتر سے برس رہے تھے۔۔۔

Read More:  Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 13

دوسری طرف ساحل کو پولیس نے گرفتار کر لیا تھا
وہ اس بات پر حیران تھا کہ پولیس اسے کیوں پکڑ کر لے جا رہی ہے۔
تھانے پہنچ کر انسپکٹر نے اس کو بتایا کہ اس نے روبی کو قتل کیا تھا جو کہ ثابت ہوچکا ہے
اس بنا پر تم پر کیس کیا گیا ہے
خیر ساحل پر کافی دیر مقدمہ چلتا رہا لیکن ٹھوس ثبوت موجود نہ ہونے اور اس قتل کا چشم دید گوا ہ نہ ہونے کی وجہ سے سے اسے ضمانت پر رہائی مل گئی۔۔۔۔۔

قبرستان میں ہر طرف ہو کا عالم تھا
اور ہر طرف سناٹا اور گھنا اندھیرا تھا
ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دیتا تھا
گوکہ اماوس کی رات تھی
چاند کی آنکھوں کو ٹھنڈا نور اور سکون دینے والی روشنی غائب تھی

کہ ایک دم سے کچھ چمگادڑوں کی پھڑپھڑاہٹ نئے ماحول کے سکوت کو توڑ دیا
اور ایک بار اندھیرے کا دل بھی لڑ کر رہ گیا
یوں تو پورے قبرستان نے اندھیرے کی دھیز چادر اوڑھ رکھی تھی
لیکن ایک قبر پر جو کچھ نئی بنی ہوئی نظر آرہی تھی۔روشنی کی عجیب سی لکیریں منڈلا رہی تھی
یک دم سے سناٹے کو چیرتی ایک آواز کانوں کی سماعت میں ٹکرائی جیسے ایک بہت بڑا دھماکہ ہوا ۔۔۔۔
پھر اسی قبر کے اوپر ایک ہیولا شاہ اڑنے لگا
اس قبر کی تختی پر لکھا ہوا تھا۔روبی عرف روبینہ افتخار۔۔۔۔
اس ہیولے کےقبر سے باہر رہتے ہیں قبرستان میں طوفان برپا ہوگیا اور زور کی ہوائیں چلنے لگیں خزاں رسیدہ درختوں کے پتوں کے شور سے عجیب سا سماں پیدا ہوگیا جاتے بےشمار بدروحیں ملکر بین کر رہی ہو ں
پھر آہستہ آہستہ وہ طوفان تھم گیا
اور اس ہیولے میں سے روبی کی آواز خارج ہونے لگی
ساحل میں تمہیں کبھی خوش نہیں رہنے دونگی میں تمہاری زندگی برباد کر کے رکھ دوں گی
تم موت کے لیے دعا کرو گے لیکن موت کو بھی تمہارے قریب پھٹکنے نہیں دوں گی تمہاری زندگی کو موت سے بدتر کر دوں گی
میں اپنا انتقام ضرور لوں گی۔۔۔
تم نے مجھے اپنی دلہن بنانے سے انکار کیا
میں کسی کو بھی تمہاری دلہن نہیں بننے دوں گی۔۔

اب یہ آواز ایک مظلوم مقتول روح کی تھی یا پھر اپنی ضد کے ہاتھوں مجبور ہوکر شیطان سے سودا کرلینے والی ایک شیطانی بدروح کی
یہ بات تو صرف خدا ہی جانتا تھا۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: