Dulhan Novel By Awais Chohan – Episode 2

0

دلہن از اویس چوہان – قسط نمبر 02

–**–**–

خوفناک ناول
مصنف سے ملیں: اویس چوہان

۔۔۔۔۔۔۔۔دو سال بعد۔۔۔۔۔۔۔

سحرش کے گھر میں آج بہت زیادہ رونق تھی
کیونکہ آج سحرش کی منگنی تھی اور اس کے سسرال والے یعنی کہ اس کے ماموں کا سارا خاندان اس کے گھر پر جما ہوا تھا
تو سب مل کر خوب ہلا گلہ کر رہے تھے۔۔۔۔۔
سحر کی کزنز اس کو چھیڑ رہی تھیں
کیونکہ سحر کی منگنی اس کے ماموں کے بیٹے ساحل سے ہونے والی تھی۔۔۔
جس کو سحر بہت پسند کرتی تھی
اور ساحل بھی اس سے دل و جان سے محبت کرتا تھا
شادی تو دونوں کی پسند کی ہی تھی
لیکن اس کے لیے ان دونوں کو بالکل بھی مشقت نہیں کرنی پڑی تھی
بلکہ ساحل کی ماں نے ہی اپنے بیٹے کے لئے سحر کا رشتہ مانگا تھا۔۔۔۔
اس لحاظ سے وہ دونوں بہت خوش نصیب تھے کہ ان کو اپنی محبت کے ساتھ ساتھ بڑوں کی دعائیں بھی مل رہی تھیں۔۔۔۔۔
سحرکے سارے کزن ہنسی خوشی انتاکشری کھیل رہے تھے
جب کہ گھر کے بڑے بزرگ منگنی کی تیاریاں کرنے میں مصروف تھے
پورے گھر کو دلہن کی طرح سجایا جارہا تھا۔۔۔۔۔
شام سات بجے کے قریب منگنی کی رسم ادا ہونی تھی۔۔
جبکہ ان سب سے ہٹ کر ساحل ایک طرف بیٹھا ہوا تھا وہ کسی گہری سوچ میں غرق تھا
وہ اپنے گزرے ہوئے ماضی یا آنے والے مستقبل کے بارے میں سوچ رہا تھا۔۔
اس کے چہرے پر پریشانی کی لکیرین نمایاں تھیں۔۔
وہ بہت خوش تھا کہ وہ سحر کے ساتھ شادی کے رشتے میں بندھنے جا رہا تھا
لیکن ماضی کی دھندلی یادیں رہ رہ کر اس کے دماغ میں کچوکے لگا رہی تھیں۔۔۔
وہ سحر کے ساتھ ایک پرسکون زندگی بسر کرنا چاہتا تھا۔۔
لیکن اس کی چھٹی حس بار بار اس کو کسی انجان لیکن بہت بڑے خطرے کے بارے میں آگاہ کررہی تھی
اسے لگ رہا تھا کہ کچھ بہت بڑا اور بھیانک ہونے والا ہے جس کا تصور ساحل یا کسی اور نے نہیں کیا ہوگا۔۔۔

ساحل انہی سوچوں میں گم تھا کہ اس کی چھوٹی بہن مہرین اس کے پاس آئی آئی اور اس کی گردن پر
زور سے چٹکی کاٹی۔

ساحل ایک دم سے ڈر گیا اور اسے پیچھے مڑ کر دیکھا
ساحل کے ڈر جانے سے مہران قہقہے مار کر ہنسا شروع ہوگی
ساحل مہران کو ڈانٹا کہ یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔
مہران چہک کر بولی کہ بھیا آج آپ کی شادی کی بات پکی ہو رہی ہے اور آپ کی منگنی ہو رہی ہے
دوسرے لفظوں میں کہوں کہ آپ کا بخشو کا سپنا سچ ہونے جا رہا ہے ہے
اور آپ یہاں اداس بیٹھے ہیں۔
ساحل مہرین کی اس بات پر دھیرے سے مسکرا دیا🙂

خیر مہرین ساحل کو کھینچ کر اپنے کزنز کے درمیان لے گی
اور انتاکشری کا کھیل دوبارہ شروع کر دیا گیا۔۔۔۔۔

تقریبا ساڑھے پانچ بجے منگنی کی رسومات کے سارے انتظامات مکمل ہوگئے اور مہمانوں کی آمد کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا
شوخ چنچل لڑکیوں نے ڈھولک کی تھاپ پر گانے گانا اور رقص کرنا بھی شروع کردیا۔۔۔

Read More:  Nakhreeli Mohabbatain by Seema Shahid – Episode 6

سحر اپنے کمرے میں تیار ہو رہی تھی اس کی سہیلیاں اس کا بناؤ سنگھار کر رہی تھی
اور اس کو مہندی لگا رہی تھی
مہندی لگانے اور اور ہیئر سٹائل بنانے کے بعد سحر نے اپنی کزنز اور سہیلیوں کو کہا کہ اب تم سب جاؤ میں ڈریس چینج کرکے آجاؤں گی۔۔۔۔
سحر کی بات سن کر سب لڑکیاں کمرے سے نکل گئی
اور سحر کمرے میں اکیلی رہ گئی۔۔۔۔

سحر نے دروازہ بند کیا اور اپنا گلابی رنگ کا منگنی کے دن کے لیے سپیشل بنوایا ہوا گلابی رنگ کا لہنگا ڈھونڈنے لگی۔۔
گلابی رنگ سحرکو بہت پسند تھا اس لیے اس کی خواہش پر ساحل نے اسے گلابی رنگ کا لہنگا گفٹ کیا تھا
اور اس کو کہا تھا کہ تم منگنی یہی پہن کر تیار ہونا۔۔
سحر کی ماں نے اس کو کہا تھا کہ لہنگا اس کے بیڈ کے اوپر پڑا ہوا ہے۔۔
لیکن سحر کو وہ لینگا وہاں نظر نہ آیا
اس نے ڈریسنگ ٹیبل الماری اور دیگر ہر جگہ پر دیکھ لیا لیکن اس کو لہنگا کہیں نہ ملا۔
سحر پریشان سی ہوکر ڈریسنگ کے سامنے بیٹھ گئی۔۔
اور سامنے لگے بڑے شیشے میں اپنا سراپا دیکھنے لگی
یکدم سحر کو محسوس ہوا کہ اس کے پیچھے کوئی کھڑا ہے۔۔
سہل نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو کچھ بھی نہیں تھا سحر نے اس بات کو اپنا وہم سمجھ کر اگنور کر دیا
اور اکتاہٹ میں اٹھ کر دوبارہ لہنگے کو ڈھونڈنا شروع کردیا
بہت ڈھونڈنے پر وہ لہنگا سحر کو بیڈ کے نیچے پڑا نظر آیا۔
اس کی تو جیسے جان میں جان آگئی۔۔۔۔
سحر اپنا ڈریس تبدیل کر رہی تھی کہ ایک دم سے لائٹ چلی گئی۔
سحر نے بڑی مشکل سے اپنے کپڑے تبدیل کیے اور لائٹ کے آنے کا انتظار کرنے لگی
تھوڑی ہی دیر بعد لائٹ آ گئی۔
سحر نے اپنے لہجے کو ڈریسنگ کے آئینے میں دیکھا تو اسے محسوس ہوا کہ لہنگے کے ایک کونے پر لال رنگ کے چھوٹے چھوٹے نشانات ہیں۔
سحر نے اس کونے کو پکڑ کر چیک کیا تو گہرے لال رنگ کے ڈوبے پڑے ہوئے تھے۔۔
سحر ایک دفعہ تو خوفزدہ ہوگئی کہ یہ خون کے نشانات اس کے لہنگے پر کیسے آئے ۔۔۔
پھر اس نے اپنے دل کو تسلی دی کہ لہنگا بیڈ کے نیچے زمین پر گرا پڑا تھا وہیں سے شاید کیچپ بھی اس طرح کے کچھ لگ گیا ہوگا۔۔
اس نے سوچا کہمجھے واش روم میں جاکر ان داغوں کو دھولینا چاہیے اور جلدی سے نیچے پہنچنا چاہیے کہیں منگنی کی رسم میں دیر نہ ہوجائے۔۔۔
یہ سوچ کر وہ واش روم کی طرف بڑھی۔۔۔
واش روم میں داخل ہوکر سحر نے واش بیسن کی ٹوٹی کھولی
اور اپنے لہنگے پر لگے لال داغ دھونے لگی
اس نےٹوٹی کھول کر لہنگے کو سرف لگایا اور پانی سے دھونے لگی
وہ لہنگا دو ہی رہی تھی کہ یکدم سے ٹوٹی میں سے پانی کی جگہ خون آنا شروع ہو گیا…..

Read More:  Umeed Novel by Kiran Malik – Episode 10

ٹوٹی سے خون آتا دیکھ کر سحر کے منہ سے چیخ نکل گئی اور وہ گھبرائی ہوئی بھاگ کر واش روم سے باہر آگئی
اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ سب کیا ھو رہا ھے۔۔۔۔

واش روم سے بھاگ کر سحرش اپنے کمرے میں آگئی۔
ابھی اس لئے اپنے سانس درست کئے تھے کہ کمرے کے بلب ایک دم جلنا بجھنا شروع ہوگئے
خوف کے مارے سحر کا برا حال تھا اور وہ خود سمٹ کر بیڈ پر بیٹھ گئی۔
ابھی وہ اس صورتحال سے سنبھل نہ پائی تھی کہ ایک دم سے سارے بلب چھٹا ک کی آواز سے پھٹ گئے۔۔۔

گھبرا کر سحر نے چیخنا چلانا شروع کر دیا لیکن اسے لگ رہا تھا کہ اس کی آواز اس کمرے سے باہر نہیں جا رہی۔۔۔
کی وجہ سے شاید کوئی اس کی طرف متوجہ نہیں تھا۔۔۔۔
سحر فٹافٹ بیڈ پر سے اٹھی اور دوڈ کر دروازے کی طرف بڑھنے لگی ۔۔۔
جیسے ہی وہ کمرے کے دروازے کے قریب پہنچی اسے کسی نے دور سے دھکا دیا۔۔۔
جس سے وہ بل زمین کی طرف گری اور گرتے ہی بے ہوش ہوگئی۔۔
سحر کے بے ہوش ہوتے ہیں کمرے کے بلب خود بخود ٹھیک ہو گئے۔۔اور اس کے لہنگے پر سے خون کے نشانات بھی غائب ہوگئے۔۔۔۔۔۔

سات بجے کے قریب جب منگنی کا وقت قریب آیا تو مہرین اور دوسری لڑکیوں نے سوچا کہ سر ابھی تک تیار ہو کے کیوں نہیں آئی
سحر کی کزنز نے مہرین کو کہا کہ تم جلدی سے سحر کو نیچے ہال میں لے کر آؤ وہ اب تک تیار ہو چکی ہوگی۔۔
مہرین جب سحر کے کمرے میں گئی اور اس کے کمرے کا دروازہ کھولا تو سامنے کا منظر دیکھ کر مہرین کی چیخ نکل گئی بحرین کی آواز سن کر سحر کے امی ابو اور ساحل وغیرہ سب چھت پر سحر کے کمرے کے سامنے جمع ہوگئے۔۔
کمرے کے اندر کا منظر دیکھ کر سب گھر والے سکتے میں آگئے۔۔۔
کمرے کے اندر سحر بیڈ کے پاس زمین پر بے سدھ پڑی تھی اور اس کے سر پر گہری چوٹ کا نشان تھا جس میں سے خون بہہ رہا تھا ۔ ۔۔

ساحل نے جلدی جلدی کمرے میں سے first aid box ڈھونڈا اور سحر کی بینڈیج کردی۔۔
بحرین نے پانی کے چھینٹے سحر کے منہ پر مارے تو وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔۔
جب گھر والوں نے سحر سے پوچھا کہ کیا ہوا تھا تم اس طرح بیہوش کیسےہو گئی تھی اور تمہارے سر پر یہ زخم کس طرح آیا یا۔۔۔
سحر گھر والوں کو صورتحال بتانے ہی والی تھی کہ اس کی نظر اپنے لینگے اور چھت پر لگے بلب پر پڑی
تو وہ حیران رہ گئی کیونکہ بلب اپنی جگہ پر اسی حالت میں موجود تھے
اس کے لہجے پر بھی کسی طرح کے کوئی داغ نہیں تھے۔۔۔
سحر کو لگا کہ پریشانی کے عالم میں اسے صرف وہم ہو گیا تھا۔۔۔
لہٰذا سحر نے گھر والوں کو بتایا کہ اس کا پاؤں سلیپ ہوا تھا اور جس کی وجہ سے وہ گر کر بے ہوش ہو گئی اور اس کے سر پر چوٹ آگئی۔۔۔۔۔

Read More:  Umeed Novel by Kiran Malik – Episode 12

خیر اس صورتحال سے فارغ ہوکر سب حال میں پہنچ گئے اور منگنی کی رسم کی تیاریاں شروع ہونے لگی سحر اور ساحل کو ایک سٹیج پر بٹھا دیا گیا۔۔۔

سب لوگ اپنی اپنی مصروفیات میں اس قدر مصروف تھے کہ کسی نے بھی نوٹس نہیں کیا کہ ایک کالے رنگ کی بلی چپکے سے ہال میں داخل ہوئی اور سٹیج پر جاکر ٹیبل پر رکھی ہوئی انگوٹھیوں کی باکسرز اٹھاکر سب سے بچتے بچاتے گھر سے باہر چلی گی۔۔۔۔

کسی نے دیکھا نہیں پر اس بلی کی آنکھوں میں عجیب ہی طرح کی چمک تھی۔۔۔۔۔

جب ایک دوسرے کو انگوٹھی پہنانے کا وقت آیا تو ساحل اور سحر سمیت باقی لوگ بھی حیران تھے کے انگوٹھیاں کہیں غائب ہوگئی تھی اور بہت کوشش کرنے کے باوجود بھی نہیں مل رہی تھی۔۔۔
سحر کی امی نے مشورہ دیا کہ منگنی کو ملتوی کردینا چاہیے آج اس طرح کے دو منہوش واقعات ہوچکے ہیں۔۔ایسے کاموں میں اس طرح کے واقعات ہونا اچھا نہیں سمجھا جاتا۔۔

لیکن ساحل کے گھر والے اور سحر کی ساری کزن اور سہیلیاں بضد ٹھی کے منگنی آج ہی ہونی چاہیے۔۔۔

اس کے حوالے سے ایک ترکیب نکالی گئی کے ساحل کی امی نے سحر کو اپنی انگوٹھی دے دی اور سحر کے والد نے ساحل کو اپنی انگوٹھی دی جس کو ایک دوسرے کو پہنا کر سحر اور ساحل منگنی کے رشتے میں بندھ گئے۔۔۔۔۔۔۔

فیضان اورماہرہ کا رو رو کر برا حال تھا۔۔سکینہ بیگم اور خورشید ان دونوں کو چپ کرانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی حالانکہ انکی آنکھوں سے بھی آنسو ساون بھادوں کی طرح بہہ رہے تھے۔۔
افتخار صاحب دیگر تیاریوں میں مصروف تھے۔۔
اجنبی کو ان سے بچھڑے ہوئے پورے دو سال ہوگئے تھے
اور وہ بھی کی برسی پر قرآن خانی کروا کے ختم دلوانے کی تیاریاں کررہے تھے۔۔۔
روبی کی دادی کو بچوں کے پاس چھوڑ کر خورشید کچن میں چلی گئی
جہاں پر وہ بچوں کو بانٹنے کے لیے حلوہ بنا رہی تھی۔
حلوہ بناتے بناتے وہ روبی کی یادوں میں کھو جاتی ان کے اندر جب ان کے رخساروں پر بہہ کر ان کے ہاتھوں پر گرتے تو وہ ایک دم ہوش کی دنیا میں آجاتیں۔۔

خورشید نے حلوہ بنا کر اس کو پلیٹوں میں ڈالا اور کشمش لینے کے لئے ایک شلف کی طرف مڑیں۔
کشمش کو پکڑ کر جیسے ہی وہ واپس مڑیں انہوں نے دیکھا کہ کچن کی کھڑکی میں سے ایک کالے رنگ کی بلی اندر داخل ہوئی اور ٹیبل پر پڑی ہوئی حلوے کی پلیٹوں پر چھلانگ ماردی۔۔۔۔۔

اس طرح ختم کا حلوہ ضائع ہوگیا۔۔
یہ منظر دیکھ کر خورشید بیگم لرز کر رہ گئی۔۔۔۔۔۔

اپنی بیٹی کی برسی پر ایسے منہوس انہونی پر ان کا دل طرح طرح کے وسوسوں کا شکار ہونے لگا۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: