Dulhan Novel By Awais Chohan – Episode 3

0

دلہن از اویس چوہان – قسط نمبر 03

–**–**–

مصنف سے ملیں: اویس چوہان
خوفناک کہانی

خورشید نے سکینہ بیگم کو ساری صورتحال سے آگاہ کیا
خورشید کی بات سن کر سکینہ بیگم بھی تھر تھر کانپنے لگی۔۔۔
کیونکہ برسی کہ کھانے کا اس طرح ضائع ہو جانا وہ بھی اک کالی بلی کے ذریعے یہ کوئی اچھا شگون نہیں تھا۔۔۔

سکینہ بیگم اور خورشید انہی باتوں میں مصروف تھیں کہ ان کو محسوس بھی نہ ہوا اور ان کے پاؤں کے پاس سے ایک کالے رنگ کی بلی روبی کے کمرے کی طرف گئی اور کمرے کے دروازے کے سامنے پہنچ کر غائب ہوگئی۔۔

اسی وقت روبی کے کمرے میں ایک ہیولا نمودار ہوااور اس میں سے آواز خارج ہوئی کہ اب میرے بدلے کا آغاز ہو چکا ہےاب کسی بھی طرح کی برسی یا شرینی کا کھانا میری روح کو سکون نہیں دے سکتا ۔۔۔
اتنا کہہ کر وہ ہیولا روبی کے کمرے سے نکلا اور قبرستان کی طرف پرواز کرتا چلا گیا۔۔۔۔۔

انسپکٹر فرقان ادھر تھانے میں پریشان سا بیٹھا تھا کیونکہ اس کے پاس دو کیس رپورٹ ہوئے تھے جن کی نوعیت میں بہت حد تک مماثلت پائی جاتی تھی۔۔۔۔۔

فرقان ضلع رحیم یار خان کے علاقے صادق آباد میں انسپکٹر کے فرائض سرانجام دے رہا تھا تھا۔
صادق آباد چھوٹا سا شہر ہے۔۔
جو کہ صوبہ پنجاب کی سرحد پر واقع ہے اس کے آگے صبح سندھ شروع ہو جاتا ہے۔
صادق آباد کا پانی کھارا اور بھاری ہے
شہر کے وسط میں اک کافی بڑا قبرستان ہے اور تقریبا پورے شہر کے اندر ایک چھوٹا سا نالہ گھومتا ہے۔۔۔
فرقان پریشان تھا کہ اتنے چھوٹے سے شہر میں ایک ہی طرح کے دو واقعات کس طرح رونما ہو سکتے ہیں اور ایسا کون سا فرد ہے جو ان سب کے پیچھے کار فرما ہے۔۔۔۔

دونوں واقعات بظاہر ایک دوسرے سے منسلک نہیں لگ رہے تھے۔۔۔۔
یہ دو قتل کے مقدمات تھے جو کہ پچھلے ہفتے کے اندر اندر تھانے میں درج ہوئے تھے
لیکن دونوں کی کہانی بہت انوکی اور عجیب تھی کے پولیس اس گتھی کو سلجھانے میں ناکام ہو رہی تھی۔۔۔۔
انسپکٹر فرقان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے اور کیا نہ کرے۔۔۔
اسے تو یہ کوئی ماورائی معاملہ لگ رہا تھا۔۔
لیکن اسے اپنے محکمہ کے اعلی افسران کو رپورٹ دینی تھی جس میں وہ اس طرح کی کوئی دلیل نہیں دے سکتا تھا۔۔۔
اس لیے وہ سرجوڑ کوشش کر رہا تھا کہ ان مقدمات کو سلجھا لے۔۔..

پہلا مقدمہ رباب کا تھا۔
رباب حال ہی میں اپنی پڑھائی سے فارغ ہوئی تھی۔
اور وہ پرائیویٹ سکول میں ٹیچر کے فرائض سرانجام دے رہی تھی۔
اس کے والدین نے سوچا کہ چونکہ اب رباب اپنے پیروں پر کھڑی ہو گئی ہے اور اس کی پڑھائی بھی مکمل ہوگئی ہے۔کیوں نہ اس کی شادی کر کے ایک بہت بڑے فرض ہے سبکدوش ہوجائے ۔۔۔۔

چنانچہ اس کے والدین نے اس کی شادی اس کی رضامندی سے اس کے ایک کولیگ سے طے کر دی۔۔
رباب اور لڑکا ایک دوسرے کو کافی عرصے سے جانتے تھے اور ان دونوں میں آپس میں کمپیٹیبلٹی بھی اچھی تھی۔۔

وہ نہیں جانتے تھے کہ ان کی بیٹی کی شادی کا پہلا دن اس کی زندگی کا آخری دن ثابت ہونے والا ہے۔۔
اگر ان کو معلوم ہوتا کہ اس فرض سے سبکدوشی ان کی بیٹی کی جان لے لے گی۔وہ اپنی بیٹی کو کبھی بھی خود سے جدا نہ کرتے ہیں اور سینے سے سنجو کر رکھتے۔۔۔۔

ہوا کچھ یوں کہ روباب کی شادی کی رسومات بڑے احسن طریقے سے انجام پاگئی۔۔
وہ اپنے ماں باپ کی دعاؤں کے ساتھ اپنے گھر سے رخصت ہوئی۔۔
سسرال میں اس کے استقبال کی تیاریاں بہت عمدہ طریقے سے کی گئی تھی پورے گھر کو کو بہت شاندار طریقے سے سجایا گیا تھا گھر کی چکاچوند دیکھنے لائق تھی۔۔۔۔

اس کے کمرے کی ڈیکوریشن بھی بڑے اچھے طریقے سے کی گئی تھی بیڈ کے اوپر پھولوں کی پتیاں بکھیری گئی تھی۔۔۔۔
مسہری کی جگہ بھی پھولوں کی آڈیو سے پورے کمرے کی آرائش کی گئی تھی۔۔

اور سب گھر والے بڑی خوشی خوشی شادی کی رسومات انجام دے رہے تھے اور دولہے کی بہنیں رباب کو چھیڑ رہی تھیں۔۔۔
خیر سب رسومات ادا کرنے کے بعد سب گھر والے اس کے کمرے سے باہر چلے گئے اور رباب گھونگھٹ میں سکڑی سمٹی بیڈ پر پر خاموشی سے بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔

وہ اپنے دولہا کا انتظار کر رہی تھی۔
دل میں ارمان سجائے بیٹھی تھی۔۔۔
لیکن اس بات سے بے خبر تھی کہ اس کے بیڈ کے نیچے ایک کالی بلی خاموشی سے بیٹھی تھی اور اس کی آنکھوں سے طرح کی شیطانیت نظر آتی تھی۔۔۔

دولہا صاحب بھی اپنے دوستوں کی محفل سے فرصت پاکر اپنے کمرے کی طرف روانہ ہوگئے۔۔۔۔
دلہا کمرے میں داخل ہوا اور دروازے کی چٹخنی لگا دی۔۔۔
رباب کی دھڑکنیں تیز ہونے لگیں۔۔۔
دولہا صاحب آہستہ آہستہ رباب کے قریب آنے لگے۔۔۔۔
جیسے ہی دلہا نے بیڈ کے قریب آ کر ررباب کے پاس بیٹھ کر رباب کا گھونگھٹ اٹھایا۔اور رباب کی نظر دولہے پر پڑی۔۔۔۔

رباب کے منہ سے ایک زور دار چیخ نکلی جسے سن کر دلہا بھی ڈر کر پیچھے ہٹ گیا۔۔۔
رباب کو دولہے کا چہرہ انتہائی خوفناک اور بھیانک نظر آیا۔۔

روبینہ نے یہ دیکھ کر چیخنا چلانا شروع کر دیا اور دلہے کو دھکے دے کر کمرے سے نکال دیا اور کمرے کا دروازہ اندر سے لاک کردیا۔۔۔
رباب کی چیخوں کی آوازیں سن کر سب گھر والے اکٹھے ہوگئے۔۔۔
اردو پوچھنے لگے کہ اسے کیا ہوا ہے تو اس نے سب کو بتایا کہ اچانک میرے کمرے میں داخل ہونے پر رباب نے چیخنا شروع کر دیا اور مجھے دھکے دے کر کمرے سے نکال دیا۔۔۔۔

سب گھر والوں نے دروازہ کھٹکھٹانا شروع کر دیا لیکن رباب نے دروازہ نہیں کھولا کچھ دیر بعد رباب کی کرب اور تکلیف میں ڈوبی ہوئی چیخوں کی آواز کمرے میں سے آنا شروع ہوگی۔۔۔۔

چیخوں کی آوازکو سن کر گھر والوں نے دروازہ توڑ دیا اور سامنے کا منظر دیکھ کر سب کی دھڑکن رک گئی ۔
سامنے رباب بہت بری حالت میں زمین پر بے سدھ پڑی تھی اور اس کا سارا جسم تیزاب سے جل چکا تھا۔۔۔
جس پر نظر ڈالنا مشکل ہو رہا تھا۔۔
رباب کی ساس نے فٹافٹ اس کے جسم پر چادر ڈال دی اور گھر میں سے کسی نے ایمبولینس کو فون کیا۔۔
رباب جلدی جلدی ہسپتال لے کر جایا گیا لیکن اس کا جسم پوری طرح سے جل چکا تھا لیے اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی اس نے دم توڑ دیا۔۔۔۔۔

پر یہ بات راز میں ہی رہ گئی کہ رباب کی موت کیسے ہوئی اسے قتل کیا گیا ہے یا اس نے خودکشی کرنے کی کوشش کی۔۔۔۔۔

رباب کے مایکے والوں نے اس کے سسرال والوں کے خلاف تھانے میں رپورٹ کروادی۔۔۔
لیکن کوئی بھی ثبوت اس کے سسرال والوں کی طرف نہیں گیا
جس سے یہ ثابت ہوا کہ رباب نے ذہنی توازن کھو دینے کی وجہ سے خودکشی کرلی ہے۔۔۔۔۔

دوسرا کیس سائرہ کا تھا۔۔
طاہرہ کے ماں باپ کی اس کے بچپن میں ہی وفات ہوچکی تھی۔۔۔۔
اور اس کی پرورش اس کے چاچا چاچی نے کی تھی۔
اس کی چاچی اور چاچابہت ہی خود غرض اور مطلب بھی قسم کے لوگ تھے۔۔۔
کیونکہ سائرہ کے باپ نے مرنے سے پہلے اپنی ساری جائیداد اپنی بیٹی کے نام کر دی تھی اور وصیت میں لکھا تھا کہ جب تک سائرہ بالغ نہیں ہو جاتی اس کی جائیداد اس کے نام پر نہیں ہوگی۔۔

سائرہ کے چاچا چاچی اس لالچ میں اس کی پرورش کر رہے تھے کہ وہ اس کے جوان ہونے پر اس کی ساری جائیداد اپنے نام کروا لیں گے اور اس کی کسی بھی ایئر گہرے کے ساتھ شادی کر دیں گے…
اور اس بوجھ سے چھٹکارا حاصل کرلیں گے۔۔

اس کے چاچی نے اپنی اولاد کو خوب تعلیم و تربیت سے آراستہ کیا۔۔لیکن سائرہ کو اسکول کا منہ تک نا دیکھایا
اپنے ماں باپ کی زندگی میں بس اس نے پانچ جماعتیں پڑھی تھی…..

لیکن وہ بہت بااخلاق اور بلند کردار کی لڑکی تھی اس نے کبھی بھی اپنے حالات کا گلہ خدا سے نہیں کیا تھا کیونکہ وہ جانتی تھی کے انسان لاکھ تدبیر کر لے لی وہ تقدیر کے لکھے کو نہیں ٹال سکتا۔۔۔

جب سائرہ 18 سال کی ہوگئی تو اس کی جائیداد اس کے نام پر ہوگی اور اس کی چاچی طرح طرح سے اس کی جائیداد ہتھیانے کے لیے کوششیں کرنے لگی کا میں سائرہ کے چاچا بھی بھرپور انداز میں اپنی بیوی کا ساتھ دے رہے تھے۔۔۔۔
بالآخر ان دونوں کے دماغ میں ایک طریقہ آیا۔۔۔
انہوں نے سائرہ کے لیے ایک رشتہ ڈھونڈنا شروع کر دیا۔۔۔

بالآخر ان کو سائرہ کے لئے ایک رشتہ مل گیا۔۔جو ان کی نظر میں تو نہایت مناسب اور اچھا رشتہ تھا۔
لیکن سائرہ کی زندگی برباد کرنے کی مکمل تیاری کرچکے تھے۔۔
سارا کے لئے جو لڑکا انہوں نے ڈھونڈا تھا وہ جوئے کا عادی اور نشے کی لت میں مبتلا تھا۔۔۔۔

ان کا ارادہ تھا کہ سائرہ کے نکاح کے وقت زمین اپنے نام کروا لیں گے کی شادی کر کے عذاب سے ہمیشہ کے لئے جان چھڑا لیں گے۔۔
لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ چالوں میں سب سے بہتر چال چلنے والی زات اللہ تعالی کی ہے۔۔۔۔

انہوں نے پانچ دن کے اندر اندر ہی نکاح کی تیاریاں مکمل کر لیں۔۔
نہاد سادگی کے ساتھ سائرہ کا نکاح کرنے کے بارے میں معاملات طے کر لیے گئے۔۔

سائرہ کے ماں باپ زندہ ہوتے تو انتہائی جوش و خروش اور پورے رسم و رواج کے ساتھ اس کی شادی کرتے۔۔۔
لیکن چاچا چاچی سے اور امید بھی کی جاسکتی تھی۔۔۔۔۔

شام کے وقت سائرہ کو سادہ سے کپڑے پہنا کر تیار کر دیا گیا کچھ ہی ہر بات بھلا اور اس کے ماں باپ آگئے اور مولوی صاحب کو بلا لیا گیا۔۔۔۔۔۔
اور اس طرح سے نہایت ہی سادگی بلکہ یوں کہا جائے کہ بے رخی سے سائرہ کی نکاح کی رسم ادا ہونے لگی۔۔۔

سائرہ کی چاچی نے نکاح نامے کے کاغذات میں چپکے سے جائیداد کے کاغذات بھی ڈال دیئے
کیونکہ سائرہ پڑھی لکھی نہیں تھی اور وہ اپنے چاچی پر اندھا اعتماد کرتی تھی اس لیے اس نے بنا پڑے ہیں سارے کاغذات پر سائن کر دیے اور انگوٹھا لگا دیا۔۔۔

اس طرح غیر محسوس طریقے سے سائرہ کے شاطر خاندان نے اس کی جائیداد اپنے نام کروا لی۔۔۔۔۔

جب سائرہ کی رخصتی کا وقت آیا تو اس کی چاچی نے اس کی امی کے کچھ پرانے کپڑے اور اس کی تصویریں بھی سائرہ کے ہاتھ میں پکڑا دیںاور کہا کہ اپنے ساتھ ساتھ ان منہوس یادوں کو بھی لیتی جاؤ۔۔۔۔۔

سائرہ خود کو تقدیر کے حوالے کرکے اپنے چاچو کے گھر سے رخصت ہو گئی۔۔
سائرہ کو اپنے ماں باپ کی یاد شدت سے ستانے لگی۔۔۔

اس کے چاچا نے اس کو یہ جتانے کے لئے کے اس کی شادی ایک اچھے اور معقول گھرانے میں ہوئی ہے۔اس کے سسرال والوں کی طرف لے اس کی رخصتی کے لیے خود گاڑی منگوا کر دی۔۔

وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ یہی گاڑی اس کے لیے اس کے اعمال سزا بنے گی۔۔۔۔

گاڑی سائرہ کے سسرال کی طرف رواں دواں تھی۔۔کہ اچانک ڈرائیور نے گاڑی کو یکدم بریک لگا کے روکا۔سائرہ کی ساس کے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ گاڑی کے سامنے کالی بلی آگئی تھی۔۔۔۔۔

بلی کے روپ میں روبی ڈرائیور کو اپنے ٹرانس میں لے چکی تھی۔۔

تھوڑی دور جا کر ڈرائیور نے دکان کے پاس گاڑی روکی اور دوکان میں داخل ہوگیا۔۔۔
کام سے وہ تیزاب کی دو بوتلیں لے کر آیا
اور خاموشی کے ساتھ اپنی سیٹ کے نیچے پاؤں کے قریب رکھیں۔۔
سائرہ کے ساتھ کے اس کو باتیں سنانے پر اس نے گاڑی کی سپیڈ تیز کی اور وہ بہت جلدی سائرہ کے سسرال کے سامنے پہنچ گئے۔۔۔۔۔

جیسے ہی وہ گاڑی میں سے اترے ڈبل جلدی سے گاڑی میں سے اترا اور پھر تیزاب کی بوتل کھول کی بوتل کھول کر ان سب کے سامنے کھڑا ہوگیا۔۔
دلہا اور ساحل کے ساتھ سر ڈر کر پیچھے ہٹ گئے۔۔
ان تینوں کا پیچھے ہٹنا تھا کہ جب نوح تیزاب کی دونوں بوتلیں سائرہ کے اوپر گرادیں۔۔۔

سائرہ نے وہیں پر دم توڑ دیا۔۔۔۔

خیر سائرہ کا کیس پولیس سٹیشن میں درج کروایا گیا۔۔۔
تحقیقات کرنے پر پتہ چلا کہ سائرہ کی رخصتی کے لیے گاڑی اس کے چاچا جی نے منگوائی تھی۔۔
کے علاوہ سائرہ کے محلے والوں نے بھی اس بات کی گواہی دی کے سائرہ کے چاچا چاچی نے چیف جائیداد کی لالچ میں اس کی پرورش کی ہے۔۔
بعد میں ان کے گھر کی تلاشی لینے پرپولیس کو جائیداد کے کاغذات ملے جن پر سائرہ کے دستخط تھے۔۔
سائرہ کے قتل کے جرم میں کے چاچی کو گرفتارکرلیاگیا۔۔
یو سائرہ کا قتل نہ کر کے بھی وہ دونوں سائرہ کے ساتھ نا انصافی کرنے کی پاداش میں قانون خداوندی میں مجرم ٹھہرے ان کو جیل کی ہوا کھانی پڑی۔۔۔۔۔دوسری طرف اللہ نے سائرہ کو ایک جواری اور نشئی کے ہاتھوں خوار ہونے سے بچا لیا۔۔

مظاہرین دونوں مقدمات میں کوئی چیز یکساں نہیں تھی لیکن اسپیکٹر فرقان کا دماغ بہت دور کی سوچ رہا تھا۔۔۔۔…

بعد میں تحقیقات کرنے پر اور ڈرائیور سے پوچھ تاچھ کرنے پر فرقان کو علم ہوگیا کہ فائر کو اس کے چاچی نے نہیں مارا۔۔
اس لئے ان دنوں کی اچھی خاصی مرمت کرکے ان کو قتل کے کیس سے بری کر دیا گیا۔۔۔۔

ساحل صبح کے وقت اپنے بیڈ روم میں آرام سے سو رہا تھا کہ اس کے فون کی گھنٹی بجنے شروع ہو گئی

ساحل نے اٹھ کر فون چیک کیا تو اس کے دوست انسپکٹر فرقان کی کال تھی
ساحل نے جلدی سے فون اٹینڈ کیا۔
فرقان نے سلام دعا کے بعد ساحل کو کہا کہ تم جلدی سے اٹھو اور ٹی وی آن کرکے خبریں دیکھو۔۔

ساحر ہڑبڑاہٹ میں اٹھا اور جلدی دے ٹی وی کا سوئچ اون کیا۔۔

جیسے ہی طاہر کی نظر ہیڈ لائن پر پڑی وہ بھونچکا رہ گیا۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: