Dulhan Novel By Awais Chohan – Episode 4

0

دلہن از اویس چوہان – قسط نمبر 04

–**–**–

مصنف سے ملیں: اویس چوہان
خوفناک ناول

جیسے ہی ساحل نے ٹی وی آن کرکے خبریں دیکھیں تو وہ بھونچکا رہ گیا۔۔۔۔

ٹی وی پر سائرہ اور رباب کی موت کے بارے میں بتایا جا رہا تھا۔۔۔۔
ان دونوں کی موت پر پورے شہر میں خوف کی فضا پیدا ہو گئی تھی۔۔۔

چونکہ روباب ایک ذی شعور لڑکی تھی اور وہ دماغی طور پر بھی تندرست تھی۔۔۔
کا عین شادی کی پہلی رات پر دماغی توازن کھو دینا ایک خلاف توقع بات تھی۔۔
اسی طرح اس صورتحال سائرہ کے ساتھ تھی۔۔اس کے چاچا چاچی نے زمین کے کاغذات پر اس کے دستخط کروا لیے تھے۔۔
تو ان کو بھی سائرہ کو مروانے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔۔
سب سے بڑی بات کہ دونوں لڑکیاں اپنی شادی کے پہلے دن مری۔۔
اور ان کی موت تیزاب سے جل جانے کی وجہ سے ہوئی۔۔۔
ان سب باتوں نے ساحل کے دماغ کی چوبیں ہلادیں۔۔
ساحل کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے اور کیا نہ کرے ۔۔۔
خیر انسپکٹر فرقان نے ساحل کو فوری طور پر پولیس اسٹیشن آنے کو کہا۔۔۔۔

ساحل جلدی جلدی میں نکلا اور مہرین کو بتایا گیا کہ امی کو بتا دینا کہ میں پولیس سٹیشن جا رہا ہوں۔۔

جلدی جلدی گاڑی چلا کر ساحل پولیس سٹیشن پہنچا۔
انسپکٹر فرقان اس کے انتظار میں ادھر ادھر ٹہل رہا تھا ساحل کے آتے ہی انسپکٹر فرقان نے اس کو کرسی پر بٹھایا اور کہا کے سمجھ گئے ہونگے میں نے تمہیں یہاں کیوں بلایا ہے کے بہت اہم مسئلے پر گفتگو کرنی ہے۔۔
تم نے دیکھا کس طرح شہر میں دو لڑکیوں کی پراسرار طریقے سے موت واقع ہوئی۔۔۔
ان دونوں اموات میں مشابہت یہ تھی کہ دونوں جسم پر تیزاب گرنے سے مریں۔۔تم سمجھ ہی رہے ہو کہ میرا اشارہ کس طرف ہے۔۔۔

فرقان اور ساحل نے کچھ ضروری معاملات پر گفتگو کی پھر ساحل اپنے گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔۔۔۔۔۔۔

ادھر قبرستان کے اندھیرے میں روبی کے خوفناک قہقہے گونج رہے تھے۔۔۔

روبی جو کرنے والی تھی اس کے بارے میں سوچ کر بہت خوش تھی۔
دو دلہنوں کا قتلاس نے صرف انسپکٹر فرقان اور ساحل کے دماغ کو الجھانے کے لئے کیا تھا۔۔
اس کا اصل مقصد کچھ اور تھا۔۔
جس کے بارے میں ساحل نے سوچا بھی نہیں تھا۔۔۔۔
قبرستان کے بھیانک اندھیرے میں روبی کی قبر کے پاس ہی ایک کالے رنگ کی بلی خاموشی سے بیٹھی تھی۔۔۔
لیکن اس کی یہ خاموشی آنے والے طوفان کا پیش خیمہ تھی۔۔۔

ساحل جب پولیس سٹیشن سے گھر پہنچا تو اس کی امی اس سے پوچھنے لگی کہ خیریت تھی ؟تم اتنی صبح صبح پولیس سٹیشن کیا لینے گئے تھے
ساھل نے اپنی امی کو بتایا کہ بس فرقان نے بلا لیا تھا کچھ ضروری بات کرنی تھی۔۔۔

امی سے بات کرکے ساحل اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔
کمرے میں جا کے وہ اپنی سی وی تیار کرنے لگا کیونکہ وہ نوکری کے لیے اپلائی کرنے جارہا تھا۔۔۔

کچھ دیر کے بعد اس نے اپنی سی وی تیار کرلیں اور سائیڈ ٹیبل پر رکھ دی ۔۔۔۔
تھوڑی دیر کے بعد مہرین بھاگی بھاگی اس کے کمرے میں آئی اور جلدی اس کو باہر چلنے کے لیے کہا ۔۔۔
ساحل مہرین سے اس ھڑ بڑی کی وجہ پوچھنے لگا لیکن ماہرین کے منہ سے ایک لفظ بھی نہیں کر رہا تھا۔۔
خیر خدا خدا کرکے ساحل مہرین کار کی پارکنگ کے پاس پہنچے ۔۔جہاں ان کی امی پہلے سے ان کی منتظر تھیں۔
امی نے ساحل کو جلدی سے کار سٹارٹ کرنے کو کہا۔۔
ساحل نے پریشانی کے عالم میں جلدی جلدی گاڑی اسٹارٹ کی۔۔
بیٹھے ہوئے ساحل کی امی نے اسے بتایا کہ سحر کے والد کو ہارٹ اٹیک آیا ہے اور وہ ہسپتال میں داخل ہے۔۔
اپنی امی کے منہ سے یہ بات سن کر ساحل پریشان ہوگیا اور اس نے گاڑی کی سپیڈ تیز کرکے گاڑی ہسپتال کی طرف بڑھا دی۔۔۔

ہسپتال پہنچ کر ساحل کی امی اپنا سر پکڑ کر رہ گئی کیونکہ سحر اور اس کی امی کا رو رو کر برا حال ہو رہا تھا۔۔
جبکہ باقی گھر والے ان دونوں کو سنبھالنے میں لگے تھے سحر کے ابو آئی سی یو میں داخل تھے۔۔
حالت بہت زیادہ تشویش ناک تھی۔۔۔

مہرین ساحر کے پاس بیٹھ گئی اور اس کو تسلی دینے لگی۔اور اس کو کہا کہ تم حوصلہ رکھو اور اللہ تعالی سے دعا کرو تمہارے ابو انشاءاللہ ٹھیک ہوجائیں گے۔
مہرین اور ساحل کے آجانےسے سحر کی حالت کچھ سنبھل گئی۔۔
پر اس کی امی مسلسل روئے جا رہی تھیاور سب کے سمجھانے کے باوجود بھی چپ نہیں ہو رہی تھی۔۔

ساحل کی امی نے ان سے پوچھا کہ اچانک سحر کے والد وکو کیا ہوا تھا وہ تو تندرست انسان تھے۔۔۔

سحر کی ماں نے ان کو بتایا کہ سحر کے ابو آفس سے آنے کے بعد اپنے کمرے میں گئے مجھے کہا کہ میرے لئے چائے بنا کر لاؤ مجھے طلب ہو رہی ہے۔۔
میں ان کے لئے کچن میں چائے بنانے لگی تھوڑی دیر بعد ہی مجھے ان کے کمرے میں سے چیخ کی آواز آئی۔۔
میں دوڑ کر ان کے کمرے میں گئیں اور وہاں جاکر دیکھا کہ وہ فرش پر بے سود بے ہوش پڑے تھے۔۔ڈاکٹر کو فون کیا ڈاکٹر نے آکر بتایا کہ ان کو ہارٹ اٹیک آیا ہے سحر نے پھر جلدی جلدی ایمبولینس کو فون کیا اور ہم ان کو ہسپتال لے آئے۔۔۔

وہ سب یہی باتیں کر رہے تھے کہ اتنے میں ڈاکٹر آ گئے اور ان کو بتایا سحر کے ابو کو ہوش آگیا ہے لیکن ان کی حالت بہت نازک ہے۔۔
گھر کا کوئی ایک فرد ان سے ملنے جا سکتا ہے۔۔
لیکن ان کے گرد زیادہ رش ڈالنے کی کوشش نہ کی جائے۔۔

ساحل کی امی نئے سحر کی امی کو سمجھایا کہ تم اس حالت میں ان کے سامنے نہیں جانا تمہیں روتا دیکھ کر انکی طبیعت اور خراب ہو جائے گی۔۔اس لیے بہتر ہے کہ پہلے خود کو سنبھالو اور پھر ان کے پاس جاؤ۔۔۔

سحر کی ماں نے خود کو سنبھالا اور اپنے آنسو پونچھے ۔۔۔
اور وہ آئی سی یو میں اپنے خاوند سے ملنے کے لیے گئی۔۔۔

تھوڑی دیر بعد وہ آئی سی یو سے باہر آگئی۔۔
ان کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے جن کو کوئی بھی محسوس نہ کر سکا۔۔۔۔
دو تین دن بعد سحر کے والد کو ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا۔۔
لیکن ان کو میڈیسن لکھ کے دی اور سحر کی امی کو ہدایت کی انکول ریگولر میڈیسن دینی ہے اور کسی بھی قسم کی ٹینشن ان کو نہیں دینی۔۔
ورنہ ان کو دوبارہ بھی ہارٹ اٹیک آ سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔

فیضان اور ماہرہ کے گریجویشن کے امتحانات شروع ہو چکے تھے پر وہ دونوں دل لگا کر پڑھ رہے تھے۔۔۔

لیکن روبی کا دکھ ابھی بھی ان کے دلوں میں موجود تھا

فیضان اور ماہرہ چونکے کلاس میٹ تھے اس لیے وہ پیپر دینے اکٹھے ہی جاتے تھے تھے۔۔

اپنا دوسرا پیپر دے کر جب وہ دونوں گھر آئے تو دونوں بہت اداس تھے
ان کی دادی سکینہ بیگم نے ان سے پوچھا کہ کیا ہوا ہے آج تم دونوں اداس کیوں ہو
تو فیضان بولا کہ آج ہمیں روبی باجی کی بہت یاد آرہی ہے…

آج ہمیں یونیورسٹی میں روبی کی ٹیچر ملی تھی جو کہ ہمارے امتحانی سینٹر کی سپریٹنڈنٹ تھی۔۔
مہرین کو پہچان کر وہ ہمیں کہنے لگی کہ تم روبی کے بہن بھائی ہو۔۔
روبی یونیورسٹی کی بہت لائک لڑکی تھی اور ہر بار وہ نمایاں پوزیشن سے پاس ہوتی تھی۔۔

اس ٹیچر کی باتوں نے ہمیں ہماری بہن کی یاد دلادی دادی جان پلیز ہمیں روبی آپی کے کمرے کی چابی دے دیں۔۔
ہم ان کے کمرے میں ان کی چیزوں میں ان کی موجودگی محسوس کرنا چاہتے ہیں۔۔۔
لیکن ان کی دادی نے ان کو ٹوک دیا۔۔
کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھی کہ دونوں بچے روبی کے کمرے میں جا کر پھر سے اداس ہو جائیں اور اپنے امتحانات بھی ٹھیک طریقے سے نہ دے سکیں۔۔ ۔۔

فیضان اور ماہرہ نے بھی دادی سے ضد نہیں کی پر اپنی امی خورشید کے پاس کھانا کھانے کے لئے چلے گئے۔۔

روپے کی دادی کی یہ روٹین تھی کہ وہ عشاء کی نماز ادا کرنے کے بعد تھوڑی دیر باہر لان میں واک کرنے کے لئے جاتی تھی۔۔
اس کے بعد وہ اپنے بیڈ روم میں جاکر اپنے دروازے کو لاک کر کے سو جاتی تھی۔۔۔
فیضان اورماہرہ نے ایک پلان بنایا اور اپنی دادی کے عشاء کی نماز ادا کرنے کا انتظار کرنے لگے۔۔۔

عشاء کی اذان ہوئی تو ان کی دادی وضو کرنے کے لیے واش روم میں گئی اور وضو کرکے حال میں آکر نماز ادا کرنے لگیں۔۔۔۔

فیضان اورماہرہ بھی دادی کے پاس ہی عشاء کی نماز پڑھنے لگے۔۔۔
نماز پڑھ کے دعا مانگنے کے بعد نگینہ بیگم واک کرنے کے لئے باہر لان میں چلی گئی۔۔
ماہرہ اور فیضان اسی موقع کا انتظار کر رہے تھے تھے۔۔
وہ دونوں جلدی سے اپنی دادی کے کمرے میں گھس گئے۔۔
اور الماری اور ڈریسنگ کی تلاشی لینے لگے
تھوڑی دیر بعد ماہرہ کو اپنی مطلوبہ چیز مل گئی تو اس نے فیضان کو کہا کہ ہمارا مقصد پورا ہوگیا اس سے پہلے کے دادی جان واپس آئے ہمیں یہاں سے نکل جانا چاہیے ۔۔۔

رات کے تقریبا دس بجے جب سب گھر والے گہری نیند سو گئے۔۔
تو فیضان اور ماہر اٹھے اور روبی کے کمرے کی طرف بڑھنے لگے۔۔
اس کمرے کے تالے کی چابی ماہرہ کے ہاتھ میں تھی جو کہ انھوں نے اپنی دادی کے کمرے سے چرائی تھی۔۔۔۔

انہوں نے اڑھائی سال پرانا تالا کھولا اور روبی کے کمرے میں داخل ہوگئے۔۔۔

روبی کے کمرے میں دوسال کی گرد جمی ہوئی تھی اور جگہ جگہ مکڑیوں کے جالے لگے ہوئے تھے۔۔
گویا ایسے لگتا ہی نہیں تھا کہ کوئی شخص کبھی اس کمرے میں رہا ہے۔۔۔
کمرے کی حالت دیکھ کر فیضان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے کیونکہ نہ یاد تھا کہ ان کی بہن اپنے کمرے کی صفائی کا خاص خیال رکھیں تھیں۔۔
حتیٰ کے اپنے بیڈ کی چادر کو ایک سلوٹ بھی نہیں آنے دیتی تھی۔۔۔

ماہرہ نے روبی کی تصویریں نکال کر دیکھنا شروع کر دیں۔۔اور زاروقطار رونا شروع کردیا۔۔

ڈریسنگ کے پاس روبی کی کچھ کتابیں پڑھی تھیں
فیضان اورماہرہ ان کتابوں کو دیکھنے لگے۔۔
ان کتابوں کے درمیان ماہرہ کو ایک لال رنگ کی بڑی پیاری سی کتاب نظر آئی۔۔
ماہرہ نے اسے کتابوں میں سے نکال کر دیکھا تو وہ روبی کی ڈائری تھی۔۔۔
اس نے فیضان کو اس کی طرف متوجہ کیا۔۔۔
فیضان نے ماہرہ کو مشورہ دیا کہ ہمیں اس ڈائری کو پڑھنا چاہیے۔۔
ہوسکتاہے روبی آپی کے قتل کے بارے میں ہمیں کچھ معلوم ہو سکے۔۔
یہ ارادہ کر کے ان دونوں نے روبی کی ڈائری کو پڑھنا شروع کر دیا۔۔۔
پہلے تو وہ بڑے سکون کے ساتھ ڈائری پڑھتے رہے۔۔۔
لیکن جوں جوں وہ ڈائری کے اختتام پر پہنچے انکی حیرتیں دوچند ہوتی گئیں۔۔۔۔۔۔

ہفتہ کی ڈائری کو ختم کرکے ان کے سر پر حیرتوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا
اور وہ سوچ میں پڑ گئے ۔۔۔
وہ دونوں سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ آج روبی کا کمرہ کھولنے پر ان دونوں پر یہ حقیقت منکشف ہونے والی ہے۔۔۔۔

فیضان نے وہ ڈائری اپنے کوٹ کی جیب میں چھپا لی۔اور وہ دونوں اسی معاملے کے بارے میں آپس میں گفتگو کرنے لگے۔۔
بیوہ دونوں بات چیت کر ہی رہے تھے کہ کمرے کی کھڑکی میں سے ہوا کا جھونکا ایکدم سے کمرے میں داخل ہوا۔۔
جس سے کھڑکی کے پٹ ایکدم سے کھڑ کھڑا گئے۔۔

کھڑکی کے کھلنے کی آواز سن کر وہ یکدم ڈر گئے۔۔
اور سہم کر ایک دوسرے کے قریب ہو کر بیٹھ گئے۔۔۔

کچھ سیکنڈ کے بعد اس کھڑکی میں سے دھوئیں کی ایک لکیر سی کمرے میں داخل ہونے لگی۔۔۔۔
اور اس دھویں کی لکیر نے فیضان اور ماہرہ کے سامنے ایک جگہ پر اکٹھے ہوکر روبی کا روپ دھار لیا۔۔۔۔

اپنی دو سال پہلے مری ہوئی بہن کو اپنے سامنے ایک روح کی شکل میں دیکھ کر دونوں بہن بھائی کے اوسان خطا ہوگئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سحر کے گھر میں عجیب کشمکش کا عالم تھا۔۔
ہر کوئی اپنی جگہ پریشان بیٹھا تھا۔

کیونکہ ہارٹ اٹیک آنے کے بعد سحر کے والد نے یہ جیت شروع کرتی تھی کہ جلدی سے جلدی سحر کی شادی کر دی جائے۔۔۔
سحر کی ماں نے ان کو بہت سمجھایا کہ ابھی صحیح وقت نہیں ہے۔۔۔
وقت آنے پر بڑی دھوم دھام سے سحر اور ساحل کی شادی کریں گے۔۔۔

لیکن سحر کے والد بضد تھے کہ وہ جلدی سے جلدی اپنی بیٹی کی شادی کرنا چاہتے ہیں۔۔
کیونکہ ان کی طبیعت خراب رہتی تھی اور وہ اپنی زندگی میں اپنی بیٹی کے ہاتھ پیلے ہوتے دیکھنا چاہتے تھے۔۔۔۔

سحر کی ابو کی ضد کے آگے سب گھر والوں کو ہتھیار ڈالنے پڑے
سحر کو بھی مجبوراً اپنے ابو کی ہاں میں ہاں ملانی بڑی۔۔۔۔

سحر کی امی نے ساحل کی امی کو صورتحال بتانے کے لیے کال کی۔۔
اور ان کو کہا کہ سحر کے ابو جلدی سے سحر کی شادی ساحل سے کردینا چاہتے ہیں ۔۔۔۔
ساحل کی ماں کو بھلا کیا اعتراض ہو سکتا تھا۔۔
بلکہ وہ یہ بات سن کر خوش ہوگیٔں۔۔۔

کال پہ کچھ ضروری کر باتیں کرنے کے بعد ساحل کی امی نے کال کاٹی اور یہ بات بتانے کے لیے ساحل کے کمرے کی طرف گئیں۔۔۔

ساحل کے کمرے میں داخل ہوکر انہوں نے ساحل کو بتایا سحر کے گھر والوں کا فون آیا تھااور وہ کہہ رہے ہیں گے تمھاری اور سحر کی شادی کچھ دنوں میں کردی جائے۔۔۔۔

اس بات کا سننا تھا کہ ساحل کے وجود کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا۔۔۔

کیونکہ شہر میں ہونے والی وہ اموات اس بات کا منہ بولتا ثبوت تھی کہ انہیں شادی ابھی نہیں کرنی چاہیے۔۔۔
اس کے گھر والے شاید روبی اور ان دو دلہنوں کی موت کی کڑی کو آپس میں نہیں ملا پائے تھے۔۔
بلکہ وہ روبی والے سانحے کو ہی فراموش کر چکے تھے۔۔۔
لیکن ساحل کو وہ سب اچھی طرح سے یاد تھا کہ جیسے یہ کل کی ہی بات ہو۔۔۔
لیکن ساحل اصلی بات اپنی ماں کو نہیں سمجھا سکتا تھا اس لئے اس نے اپنی ماں سے یہ عذر پیش کیا یہ ابھی میں نوکری کرنا چاہتا ہوں اور اپنے پیروں پر اچھی طرح سے کھڑا ہونا چاہتا ہوں فی الحال میں شادی کے متعلق بالکل بھی نہیں سوچ سکتا۔۔۔
ساحل کی ماں کو اپنے بیٹے سے اس جواب کی توقع نہیں تھی۔۔
کیونکہ وہ جانتی تھی کہ ساحل سائرہ کو بہت چاہتا ہے۔۔۔
ساحل کی یہ بات سن کر اس کی امی حیران ہوں گیٔں۔۔۔

لیکن انہوں نے ساحل پر یہ فیصلہ صادر کردیا کہ تمہاری اور سحر کی شادی اسی وقت ہوگی جس دن سحر کے گھر والے جائیں گے۔۔
اور میں اب اس بارے میں تمہارے منہ سے کوئی اور الٹی سیدھی بات نہ سنو ں۔۔۔

اس کی امی اتنا کہہ کر کمرے سے باہر چلی گئیں۔۔
اور ساحل سوچوں کے گرداب میں دھنستا چلا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: