Dulhan Novel By Awais Chohan – Episode 5

0

دلہن از اویس چوہان – قسط نمبر 05

–**–**–

مصنف سے ملیں: اویس چوہان
خوفناک ناول

ساحل دل سے ابھی اس شادی کے لیے تیار نہیں تھا لیکن اپنی ماں ضد اور سحر کے ابو کی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے اس شادی کے لئے ہاں کرنا پڑا۔۔۔۔

خیر ساحل کی امی نے سحر کے گھر میں فون کر کے بتا دیا کہ اس نے ساحل کو راضی کرلیا ہے آپ لوگ شادی کی تاریخ نکلوائیں۔۔.

سب گھر والوں کے مشورے کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک ہفتے بعد کی تاریخ مقرر کردی گئی۔۔۔۔
اور شادی کی تیاریاں زوروشور ہونے لگی.۔۔۔۔

مہرین اور ساحل کی ماں بہت زیادہ خوش تھی۔۔سحر بھی خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھی.. جس انسان کو وہ دل و جان سے زیادہ چاہتی تھی وہ اس کی دلہن بننے جارہی دی تھی۔۔

سحر کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کی زندگی اس کو کس دوراہے پر لا کر کھڑا کرنے والی ہے۔۔
اور سحر کو ایسے فیصلے لینے پر مجبور کرنے والی ہے جن کو لیتے وقت بڑے بڑوں کا ایمان ڈگمگا جائے۔۔۔۔

خیر سحر اپنی شادی کو لے کر رنگین سپنے سے سجا رہی تھی کہ اس کی امی کی آواز اس کو سپنوں کی دنیا سے حقیقت میں لے آئی۔۔اس کی امی نے اسکو کہا کہ تمہاری شادی کے لیےمیں نے کچھ کپڑے منگوا ۓ ہے تم میں سے سلیکٹ کر لو کہ تمہیں کون سے فنکشن پر کونسا ڈریس پہنا ہے۔۔
سحر کی کچھ کلاس فیلوز بھی آئی ہوئی تھی۔۔وہ ان کے ساتھ مل کر شادی کے ڈریس سلیکٹ کرنے لگی۔۔۔۔۔

انسپکٹر فرقان پولیس سٹیشن میں بیٹھے الجھی ہوئی گتھی کو سلجھانے کی کوشش کر رہے تھے کہ ایک دم سے موبائل کی گھٹی بچنا شروع ہو گئی۔۔۔
فرقان نے موبائل اٹھایا تو سامنے سکرین پر ساحل کا نمبر تھا۔۔۔
فرقان نے فون اٹھایا۔۔اسے ساحل کی متفکر سی آواز سنائی دی۔
ساحل نے بجھے بجھے لہجے میں سلام کیا سلام کا جواب دینے کے بعد فرقان نے پوچھا کہ تم پریشان لگ رہے ہو۔۔
ساحل نے فرقان سے کہا کہ میں نے تمہیں اپنی شادی کے انویٹیشن لینے کے لیے فون کیا تھا۔۔
ایک ہفتے بعد میری اور سحر کی شادی ہو رہی ہے۔۔۔
یہ خبر سن کر فرقان بھی متفکر ہو گیا۔۔
اور ساحل کو کہنے لگا کہ تم تو سب جانتے ہو اس کے باوجود تم نے شادی کے لئے اتنی جلدی کیوں اختیار کی۔۔
جواب میں ساحل نے اس کو ساری صورتحال سے آگاہ کیا۔۔۔
فرقان نے ساحل کو سمجھایا کہ میں تو پھر بھی تو یہی مشورہ دوں گا کہ تمہیں ان حالات میں شادی نہیں کرنی چاہیے شہر میں دو دلہنیں پر اسرار طریقے سے موت کا شکار ہو چکی ہیں۔۔اور ان کی موت کے اسرار کے بارے میں بھی تمہیں کچھ کچھ اندازہ ہونا چاہیے۔۔۔
ساحل نے کہا کچھ نہیں ہوسکتا میں مجبور ہوں اور آپ شادی کی تاریخ بھی طے ہوچکی ہے اور سحر کے گھر والوں نے شادی کے کارڈ بھی بانٹ دیے ہیں۔۔
اب جو بھی ہوگا دیکھا جائے گا۔۔
اس کے بعد کچھ رسمی گفتگو کرنے کے بعد ساحل نے فون بند کر دیا…….

پانچ دن کے اندر اندر شادی کی تیاریاں مکمل کرلی گئی۔۔۔
مہمانوں کو کارڈ پہلے ہی بھیجے جا چکے تھے مہمانوں کی فہرست تقریبا سیم تھی کیونکہ سہر اور ساحل آپس میں کزن تھے..

سات دن کس طرح گزر گئے پتہ ہی نہیں چلا اور ان دونوں کی مہدی کی شام آگئی۔۔۔
مہندی والے دن ہی قریب کے رشتہ داروں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا……

ساحل کے گھر والوں نے سحر کے گھر آٹھ بجے مہندی لے کر آنی تھی۔۔۔
گویا مہندی کی رسم سحر کے گھر پے انجام دی جانی تھی۔۔۔
ساحل اپنے کمرے میں مہندی کے لئے لایا ہوا ڈریس پہن رہا تھا لیکن اس کا دماغ مسلسل کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔۔۔
ساحل کپڑے چینج کر رہا تھا کہ ایک دم کمرے کی لائٹ چلی گئی۔۔۔
اور دور کسی بلی کے بیانک انداز میں رونے کی آواز سنائی دینے لگی۔۔۔

ساحل نے جلدی جلدی ڈریس تبدیل کیا۔۔اور کمرے سے باہر آگیا
ساحل کی امی اس کی نظر اتارنے لگی۔۔
مہندی کی تیاریاں وہ پہلے ہی سرانجام دے چکی تھی
ساحل کے تیار ہوتے ہیں وہ سب گاڑی میں بیٹھے اور سحر کے گھر کی طرف روانہ ہوگئے ۔۔

دوسری طرف سحر نے گلابی رنگ کا سوٹ پہنا اور مہندی کے لیے تیار ہوگئی۔۔
سحر گلابی ڈریس میں بالکل آسمان سے آئی ہوئی پری لگ رہی تھی۔۔
مکمل تیار ہونے کے بعد سحر نے آئینے میں اپنے سراپے کو دیکھا۔۔
اور دیکھ کر شرما گئی۔۔۔۔

سحر کی امی نے اس کی سہیلیوں کو مہندی کے انتظامات چیک کرنے کے لئے اس کے کمرے سے باہر حال میں بلالیا۔۔
سحر کمرے میں اکیلی رہ گئی
وہ اپنے آنے والے مستقبل کے بارے میں سنہری خواب بننے لگی۔۔
اچانک سحرکو محسوس ہوا کے اس کے پاس کوئی بیٹھا ہوا ہے سحر نے یکدم مڑ کر اپنے دائیں طرف دیکھا لیکن وہاں کوئی نہیں تھا۔۔
سحر کو لگا کہ یہ اس کا وہم ہے اور اپنے اس خیال پر وہ خود پر مسکرا دی۔۔۔۔
تھوڑی ہی دیر بعد سحر کی سہیلیاں بھاگی بھاگی اس کے کمرے میں آئی اور اس کو بتایا کہ ساحل کے گھر والے مہندی لے کر آ چکے ہیں۔۔

سحر اپنے ذہن سے سارے فضول خیالات کو جھٹک کر اپنی فرینڈ کے ساتھ نیچے ہال میں آگئی…

سحر اور ساحل کو ایک ساتھ چوکیوں پر بٹھا دیا گیا۔۔۔
اور ان کے سامنے ایک میز پر مٹھائی اور مہندی رکھ دی گئی۔۔۔

اور ان کے رشتہ داروں نے آکر ان کے ہاتھوں پر مہندی لگانی شروع کردیں۔۔۔
تب کچھ بڑے اچھے سے ہو رہا تھا کہ اچانک سحر کو اپنے ہاتھ میں جلن محسوس ہوئی۔۔
اور تھوڑی دیر بعد سحر کربناک انداز میں چیخی۔۔۔
سارے ماحول کو ایک وم سانپ سونگھ گیا اور سب سحر کی طرف متوجہ ہوگئے۔۔۔

سحر کی اممی دوڑ کر اس کے پاس آئے اور پوچھا کہ کیا ہوا۔سحر نے ان کو بتایا کہ مہندی سے میرے ہاتھوں میں شدید جلن ہونے لگی ہے۔۔
کی امی نے فٹافٹ پانی کی جگ پکڑ کے اس کے دونوں ہاتھ دھو دیئے۔۔
سحر کے دونوں ہاتھوں پر بڑے بڑے چھالے نمودار ہوگئے۔۔۔۔
اور مہندی کی رسم کا وہیں پر اختتام کردیا گیا یا۔۔۔
سب لوگ آپس میں چیمگوئیاں کر رہے تھے کہ دلہن کی مہندی کا اس طرح اتار دیا دیا جانا بہت برا شگون سمجھا جاتا ہے۔۔۔

اس طرح شادی کی مہدی سے دلہن کے ہاتھوں کا جل جانا بھی اچھی بات نہیں۔۔۔
خدا جانے تقدیر میں جوڑے کے لئے کیا لکھا ہوا ہے۔۔۔۔
سحر کے ہاتھوں کو دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا جیسے ان پر تیزاب گرادیا گیا ہو۔۔۔
اس طرح کی پیچیدہ صورتحال کو دیکھ کر ساحل کے پسینے چھوٹ گئے۔۔
اور وہ خدا سے شادی بخیروعافیت ہوجانے کی دعائیں مانگنے لگا۔۔۔۔۔

سحر کی امی نے اس کے ہاتھوں پر فرسٹ ایڈ کیا اور اس کو کمرے میں جا کر آرام کرنے کو کہا۔۔۔
تمام مہمانوں کو کھانا وغیرہ کھلا کر رخصت کردیا گیا۔۔
قریبی رشتے داروں کے لیے گیسٹ روم میں ارینجمنٹ کر دیے گئے۔۔۔۔
اس طرح بڑی بدمزگی کے ساتھ مہندی کی رسم اختتام پذیر ہوئی۔۔۔
ساحل اور اس کی فیملی مہندی کی تقریب سے گھر کی طرف روانہ ہوگئے۔۔
گھر پہنچ کر ساحل بہت زیادہ تھکاوٹ اور ذہنی تناؤ کا شکار تھا
اس کے دل میں ہزاروں طرح کے وسوسے جنم لے رہے تھے ۔۔۔۔
خیر وہ آنے والے دن کے بارے میں خدا سے نیک تمنا کرکے سو گیا۔۔۔۔۔۔

صبح کا سورج نمودار ہوا۔
تو ساحل اور سحردونوں کے گھروں میں شادی کی چہل پہل شروع ہو گئی۔۔۔
قریب کے رشتہ دار تو پہلے ہی وہاں موجود تھے۔دن کے گیارہ بجے ہی مہمانوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا۔۔

برات کا ٹائم دوپہر 3 بجے کا تھا۔
سحر نے اپنے لئے میرون رنگ کا لہنگا منتخب کیا ہوا تھا۔۔۔
اس کے لئے اس کی امی نے اسپیشل چاندی کا جوتا بنوایا تھا۔
جو کہ سے شادی کی تقریب پر پہنا تھا۔۔۔
بیوٹی پالر سے بیوٹیشن کو منگوایا گیا تھا جس نے سحر کو تیار کرنا تھا۔

سحر کی سہیلیاں بارات کے استقبال کی تیاریوں میں مصروف تھی۔۔
اور بیوٹیشن سحر کو شادی کے لئے تیار کر رہی تھی۔۔۔
شہر نے اپنا مہرون لہنگا پہننا۔۔
اور اپنی امی کی دی ہوئی چاندی کی خوبصورت جوتی پہن لی۔۔
اس کے بعد بیوٹیشن نے اس کا بناؤ سنگھار کیا۔۔
اور اس کے ہاتھوں پر بینڈیج لگادیں تاکہ دیگر رسومات میں اس کو تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے۔۔
سحر کو پوری طرح تیار کرنے کے بعد بیوٹیشن وہاں سے چلی گئی۔۔۔

بیوٹیشن کے جاتے ہیں ایک کالے رنگ کی خوفناک بلی سحر کے کمرے میں داخل ہوئی۔۔

سحر کو محسوس ہوا کہ کمرے میں اس کے علاوہ بھی کوئی ہے تو اس نے ادھر دیکھنا شروع کر دیا۔۔
لیکن اسے کوئی بھی نظر نہ آیا تو سحر نے اسے اپنا وہم سمجھ کر فراموش کر دیا۔
اور اپنے سر کے بال سیٹ کرنے میں مصروف ہو گئی۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد اسے کمرے میں بلی کی خوفناک غراہٹ سنائی دی۔۔

سحر کرسی سے اٹھی اور کمرے کے چاروں طرف دیکھنا شروع کر دیا لیکن اسے کہیں بھی نظر نہ آئی
اس نے اسے اپنا وہم سمجھ کر اپنا رخ دوبارہ شیشے کی طرف کیا تو اسے ڈریسنگ پر میک اپ کے ساتھ ایک کالے رنگ کی خوفناک بلی بیٹھی نظر آئی۔۔
خوف سے سحر کے ماتھے پر پسینے کے قطرے نمودار ہونے لگے۔۔۔
ٹھہر کے ذہن کے دریچے پر کچھ نقش نمودار ہوئے یہ اس کی منگنی کے دن بھی کچھ اسی طرح کا ہوا تھا جیسے اس نے اپنا گمان سمجھ کر فراموش کر دیا تھا۔۔
اس بلی نے کی آنکھوں میں اپنی آنکھیں ڈال دیں اور گھورکر سحر کو دیکھنے لگی۔
تھوڑی دیر اسی طرح سحر کو دیکھتی رہی اور پھر ڈریسنگ سے چھلانگ لگا کر دروازے کی طرف بڑھی اور کمرے سے باہر نکل گئی۔۔

سحر کا اس بات کی طرف دھیان نہیں گیا کہ اس کے گلے میں پڑا ہوا آیت الکرسی کا لاکٹ جو کہ اس کی امی نے اسے شادی کی تاریخ مقرر ہونے پر پہنایا تھا چمک رہا تھا۔۔۔۔
گویا روبی کاایک وار ناکام ہوچکا تھا۔
سحر نے ان سب باتوں کو ذہن سے جھٹکا۔۔
اتنے میں باہر سے بارات آگئی بارات آگئی کا شوروغل آنا شروع ہوگیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ساحل کی امی اس کی بلائیں لے رہی تھیں۔۔
وہ ڈریسڈ اپ ہو کر اپنے کمرے سے باہر آ چکا تھا۔۔
اس نے کالے رنگ کی شیروانی پہنی تھی اور نیچے آف وائٹ کلر کا پجاما تھا۔۔
وہ کسی بھی طرح سے ایک فلمی ہیرو سے کم نہیں لگ رہا تھا۔۔۔
اس کی امی نے اس کی نظر اتاری۔۔۔
ساحل کی برات کے لئے سجی سجائی گاڑی باہر آ چکی تھی۔۔
ساحل کی بہن مہرین اور اس کی امی اس کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئیں۔۔۔
اور بارات سحر کے گھر کی طرف روانہ ہو گئی۔۔۔

برات سحر کے گھر پہنچ گئی۔۔
جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔۔
اس کے بعد نکاح میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔۔
نکاح کی رسم آرام و سکون انجام پاگئی۔
اس طرح سحر اور ساحل رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئے۔۔۔۔۔۔
اور دلہن کی اس کہانی کے سب سے نمایاں اور اہم پہلو کا آغاز ہوگیا ۔۔۔۔۔۔

فیضان اورماہرہ کے امتحانات ختم ہوچکے تھے۔۔۔
پچھلے کچھ دنوں سے سکینہ بیگم اس بات پر غور کر رہی تھیں کہ یہ دونوں بہن بھائی کچھ بجھے بجھے سے رہتے ہیں۔ نہ ٹھیک سے کچھ کھاتے ہیں نا پیتے ہیں۔
اور نہ ہی گھر والوں سے بات کرتے ہیں۔۔
ہفتہ کے اپنی امی خورشید بیگم کو بھی وقت نہیں دے رہے۔۔۔۔
ایک دن جب دونوں بہن بھائی ساتھ بیٹھے ایک دوسرے سے کچھ باتیں کر رہے تھے۔سکینہ بیگم ان کے پاس آئیں اور پوچھا بچوں کی آباد ہے تم دونوں کچھ پریشان سے رہتے ہو۔۔
اگر کوئی مسئلہ ہے تو ہمیں بتاؤ ۔۔۔
اس طرح پریشان ہونے سے تو کسی بھی مشکل کا حل نہیں ہوگا۔۔۔۔
لیکن ان دونوں نے اپنی دادی کو ادھر کی باتیں سنا کر ٹال دیا۔۔۔
لیکن سکینہ بیگم جہاندیدہ خاتون تھیں۔
وہ سمجھ گئی کہ کچھ نہ کچھ بات تو ہے جو ان دونوں کو اندر ہی اندر کھایے جا رہی ہے۔۔
لیکن ان دونوں سے اس نے زیادہ ٹو لینے کی کوشش نہ کی۔۔

اسی دن فجر کے وقت جب سکینہ بیگم اور خورشید بیگم نماز پڑھ کر فارغ ہوئیں۔تو پھر ان میں خورشید بیگم سے کہا کہا میں مسجد کی طرف جارہا ہوں نماز پڑھ کے واپس آتا ہوں۔
وہ دونوں اس کی یہ بات سن کر حیران رہ گئی۔۔
فیضان مسجد کی طرف روانہ ہوگیا ۔۔
لیکن ان دونوں میں سے کوئی بھی نہ دیکھ سکا کہ اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی ڈائری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: