Dulhan Novel By Awais Chohan – Last Episode 6

0

دلہن از اویس چوہان – آخری قسط نمبر 06

–**–**–

قبرستان کی کاموشی میں پتوںکی چڑچڑاہٹ کی آواز پیدا ہوئی۔۔۔
دور کہیں کتوں کے رونے کی آواز بھی اس چرچراہٹ میں شامل ہوگئی۔۔
جس سے ماحول کی پراسراریت میں اضافہ ہوگیا۔۔..
پھر اندھیرے میں ٹارچ کی روشنی دکھائی دی ۔
جو کہ شاید کسی خاص قبر کی تلاش میں تھی۔۔
کچھ دیر بعد وہ روشنی اک قبر کی تختی پر ٹھہر گئی۔۔
جس پر روبی کا نام لکھا ہوا تھا۔..
جب روشنی قبر کے بہت زیادہ قریب ہوگئی تو وہ قبر کی تختی سے منعکس ہوکر اس وجود پر پڑھنے لگیں جس نے ٹارچ ہاتھ میں پکڑی ہوئی تھی۔۔

اندھیرے میں اس شخصیت کی جنس تو پتہ نہیں چل رہی تھی۔۔ہاں لیکن اس نے سیاہ رنگ کا ایک برقع نما کپڑا اپنے پورے جسم پر لپیٹ رکھا تھا جس سے اس کا منہ تک چھپا ہوا تھا۔۔۔
روبی کی قبر کے قریب پہنچ کر وہ برقع پوش بیٹھ گیا ٹارچ اس نے اوف کردی ۔۔
تھوڑی دیر وہ چپ ہو کر روبی کی قبر کے پاس بیٹھا رہا۔۔
پھر قبر میں سےدھواں نکلنا شروع ہو گیا اور کچھ دیر بعد وہ روبی کا روپ دھار گیا۔۔۔

روبی کا ہیولا اس نقاب پوش کے سامنے کھڑا ہوگیا۔۔
اور ان دونوں کے درمیان ایک گفتگو کا سلسلہ شروع ہوگیا۔۔۔
کچھ دیر بعد روبی دھوئیں میں تحلیل ہوکر قبر میں واپس چلی گئی۔۔
اور وہ نقاب پوش قبرستان کی پراسرار خاموشی کو اپنے پیروں تلے آنے والے پتوں سے روندتا ہوا قبرستان سے باہر نکل گیا۔
جلد بازی میں اس نقاب پوش نے غور نہیں کیا کہ ٹارچ اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر قبرستان میں گر چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سحر ساحل کا پہلا اور آخری پیار تھی۔
اور اب وہ اس کی شریک حیات بن کے اس کی زندگی میں آ چکی تھی۔
اور یہ سحر کی اس گھر میں پہلی رات تھی یعنی کہ یہ اس کی سہاگ رات تھی۔۔
اس دن کو لے کر ساحل اور سحر نے بہت ارمان سجائے ہوئے تھے۔۔
لیکن جن حالات و واقعات میں یہ شادی ہوئی تھی ۔ساحل کا دن بہت زیادہ بے چینی کا شکار تھا۔
لیکن وہ پھر بھی خود کو مطمئن رکھنے کی کوشش کر رہا تھا اور اپنے دوستوں کی محفل میں بیٹھا ہنسی مذاق کر رہا تھا۔۔۔
دوسری طرف سحر اپنے سہاگ کی سیج پر بیٹھی اپنے دولہے کا شدت سے انتظار کر رہی تھی۔۔۔
کافی دیر ساحل کا انتظار کرنے کے بعد سحر پر نیند طاری ہونے لگی۔۔
تو اس نے واش روم میں جاکر اپنے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے۔۔۔
واش روم سے باہر آ کر وہ دوبارہ بیڈ پر سکڑ سمٹ کر بیٹھ گئی۔۔۔

لیکن ساحل شاید اپنے دوستوں کی محفل میں کچھ زیادہ ہی مصروف تھا۔۔
سحر پر نیند دوبارہ طاری ہونے لگی تو اس نے اپنے زیور اتار کر سائیڈ ٹیبل پر رکھنا شروع کر دیے۔۔
بے خیالی میں اس نے اپنی ماں کا دیا ہوا آیت الکرسی والا بھی باقی زیورات کے ساتھ سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔۔۔
اتنے میں کھڑکی سے ایک تیز ہوا کا جھونکا آیا۔جسے سحر محسوس نہ کر سکی۔ اس ہوا کے جھونکے سے وہ لاکٹ سائیڈ ٹیبل سے گر کر بیڈ کے نیچے کہیں چلا گیا۔۔
اور تکیہ کو ٹیک لگا کر ساحل کا انتظار کرتے کرتے سو گئی۔۔۔

رات کے تقریبا ایک بجے جب ساحل کے دوستوں نے اس کی جان چھوڑی تو وہ اپنے کمرے کی طرف لوٹا۔۔
کمرے میں داخل ہو کر اس نے دیکھا کہ سحر اس کا انتظار کرتے کرتے سو گئی ہے..
اس نے سحر کو جگانا مناسب نہ سمجھا اور اس کے پاس ہی دوسری طرف منہ کرکے سو گیا۔۔۔

صبح کا سورج نمودار ہوا تو سحر کی ساس یعنی ساحل کی ماں نے ان کا دروازہ کھٹکھٹایا۔۔
ساحل کی آنکھ کھولی اس نے اٹھ کر دروازہ کھولا۔۔
ساحل کی امی نےاسے کہا کہ بیٹا سحر کو کے اٹھ کر تیار ہو جائے اس کے گھر والے ناشتہ لیے آتے ہی ہونگے۔
اور پگ پھیرے کی رسم (ملقاواہ) کے لئے سحر کو اپنے گھر لے کر جائیں گے۔۔
اتنا کہہ کر وہ کچن کی طرف چلی گئی۔۔
ساحل نے سحر کو اٹھایا تو سحر ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی اس نے چاروں طرف دیکھا کہ دن چڑھ چکا ہے۔۔
ساحل نے سحر سے معافی مانگی کے میری وجہ سے تم انتظار کرتے کرتے سو گئیں

سحر کا موڈ آف تھا لیکن ساحل نے اتنے معصومانہ انداز میں معافی مانگی کے سحر کا دل پگھل گیا اور اس نے ساحل کو معاف کردیا۔۔

سحر اور ساحل فریش ہو کر باہر صحن میں پہنچے تو وہاں سحر کے امی ابو آ چکے تھے۔۔
سحر کو باہر آتا دیکھ کر اس کی امی اٹھی اور جلدی سے اسے گلے لگالیا۔۔۔۔۔
سب نے ساتھ مل کر ناشتہ کیا ۔۔
ناشتے کے بعد سحر اپنے امی ابو کے ساتھ اپنے مایکے چلی گئی۔۔

سحر کے گھر پہنچنے سے پہلے ہی اس کی ساری سہیلیاں وہاں جمع ہوکر اس کا انتظار کر رہی تھیں۔
سحر کے گھر میں داخل ہوتے ہی انھوں نے سحر کو اپنے گھیرے میں لے لیا اور طرح طرح کے مذاق اور سوالات کرنا شروع ہوگئیں۔۔
سحر کی ماں نے ان کو ڈانٹااور سحر کو اپنے کمرے میں جا کر آرام کرنے کو کہا۔۔۔

سحر سارا دن آرام کرتی رہیں اور دوپہر کو اس کی امی نے اس کے کمرے میں اگر اس کو کھانے کی میز پر آنے کو کہا۔۔۔
وہ اٹھی واش روم میں جاکر ہاتھ منہ دھویا اور کھانے کی میز پر چلی گئی۔۔
یہاں اس کے ابو اور باقی سب گھر والے اس کے منتظر تھے۔۔
اس کی امی نے کھانے میں اس کے لئے اس کی فیورٹ پکوان بنائے ہوئے تھے۔۔۔

کھانا کھا لینے کے بعد سحر کے ابو نے اس سے کہا کہ مجھے تم سے کچھ ضروری بات کرنی ہے تھوڑی دیر بعد تو میرے کمرے میں آ جانا..
کھانے کے بعد سحر اپنے ابو کے ساتھ ہی ان کے کمرے میں چلی گئی۔۔
اس کے ابو نے اس کو اپنے لئے ایک گلاس پانی لانے کو کہا۔۔
اور خود کسی گہری سوچ میں غرق ہوگئے…
سحر جب پانی لے کر آئی تو اس نے دیکھا کہ اس کے ابو کے ماتھے پر پسینے کے قطرے نمایاں ہیں۔۔۔

سحر نے پوچھا کہ پاپا آپ اتنے پریشان کیوں ہیں اور آپ مجھ سے کیا بات کرنا چاہتے تھے۔۔۔۔
اس کے ابو سوچ میں پڑگئے۔۔
کچھ دیر یوں ہی سوچنے کے بعد وہ بولے کہ بیٹا میں نے تمہیں ایک بہت ضروری بات بتانی تھی۔۔۔
وہ کچھ کہنے ہی لگے تھے کہ اچانک ہوا کے زور سے کھڑکی کھلی اور یکدم کھڑکی میں صحیح کالے رنگ کی بلی چھلانگ لگا کر اندر داخل ہوئی۔۔۔
بلی کو دیکھ کر سحر کے والد ایک دم سہم گئے۔.
لیکن سحر نے شاید اس بات کو نوٹس نہیں گیا۔۔
اس کے ابو نے اسے کہا کہ تم اپنے سسرال میں خوش تو ہونا۔۔
اپنے باپ کی اس بات پر مسکرا دیں اور کہا کہ آپ نے یہ ضروری بات کرنی تھی۔جس کے لئے اسپیشل آپ نے مجھے اپنے کمرے میں بلایا۔تو ابو نے کہا ہاں بیٹا ہر باپ کو اپنی اولاد کی فکر ہوتی ہے۔۔کہ وہ اپنی زندگی میں خوش بھی ہے کہ نہیں۔۔۔

سہر اپنے ابو کی یہ بات سن کر مسکرا دی۔۔اور کہا کہ میں اپنی شادی سے بہت خوش ہوں آپ چھوٹی چھوٹی باتوں کی ٹینشن نہ لیا کریں۔
اس کے ابو نے اس کے ماتھے پہ بوسہ دیا اور کہا کے جاو تم اپنے کمرے میں آرام کرو۔۔
مغرب کے بعد تقریبا سات بجے ساحل اس کو لینے آگیااور وہ اپنے سہیلیوں اور ماں باپ سے مل کر واپس اپنے گھر کی طرف روانہ ہوگئی….
گھر آ کر اس نے اپنی ساس کو سلام کیا اور کچن میں کھانا بنانے کے لیے چلی گئی۔
کھانا بناتے بناتے عشاء کی نماز کا وقت ہوگیا۔۔
نہ جانے کیوں سحر آج خود کو بوجھل بوجھل سا محسوس کر رہی تھی۔۔
عشاء کی اذان کی آواز سنتے ہی وہ وضو کرنے واش روم کی طرف بڑھی۔۔
وضو کرکے اس نے عشاء کی نماز ادا کی اور خدا کے حضور دعا مانگی کے اعلی پتا نہیں کیوں میرا دل بہت بے چین ہے۔۔دنیا کی ایسی کوئی چیز نہیں جو تیرے اختیار میں نہ ہو ۔
یا اللہ ہمارے رشتے کو کسی کی نظر نہ لگنے دینا۔۔
دعا کرنے کے بعد وہ اٹھی اور ساحل اور مہرین کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھ گئی۔۔..

کھانا کھاتے ہوئے مہرین بہت چہک رہی تھی۔اور اپنی بھابھی یعنی سحر کو مذاق بھی کر رہی تھی۔۔
سحر کی طرف سے رسپانس نہ پاکر بحرین نے اس سے پوچھا۔کیا ہوا بھابھی آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے آپ تو کچھ بجھی بجھی سی لگ رہی ہیں۔۔
سحر مسکرا دی اور کہا کہ میری طبیعت بالکل ٹھیک ہے بس سفر کی وجہ سے تھک گئی ہو ں۔۔
ساحل بھی نوٹس کر رہا تھا کہ اپنے مایکے سے واپسی کے بعد سحر کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں۔۔۔
خیر کھانا کھانے کے بعد سحر اپنے بیڈروم میں چلی گئی اور ساحل بھی اس کے پیچھے بھی سے کمرے میں آگیا…

ساحل نے اس سے پوچھا کہ سحر خیریت تو ہے تم کچھ پریشان اور الجھی ہوئی لگ رہی ہو۔۔
سحر سے رہا نہ گیا اور اس نے ساحل کو بتا دیا کہ پتا نہیں کیوں مجھے بے چینی سی محسوس ہورہی ہے۔۔
ساحل نے اسے اپنی باہوں میں بھر لیا اور اس کے ماتھے کو بوسہ دیا اور کہا کہ ہماری شادی حالات و واقعات کی وجہ سے جلد بازی میں ہوئی ہے شاید تم اسی وجہ سے کنفیوز ہو۔۔
ساحر کی باہوں میں سحر کو کچھ سکون محسوس ہوا اور اس نے بھی اپنی باھی ساحل کے گرد حمائل کر دیں۔۔
اور وہ دونوں دنیا مافیہا سے بے خبر ہو گئے۔۔۔۔

رات کا پچھلا پہر تھا۔۔
گھڑی نے جیسے ہی ایک بجایا۔
سحر کی آنکھ اچانک ہی کھل گئی۔
اس نے ادھر ادھر دیکھا لیکن اسے ماحول میں کوئی تبدیلی محسوس نہ ہوئی۔۔
ہاں سحر کو شدید پیاس ضرور لگی ہوئی تھی۔۔
اس نے سائیڈ ٹیبل سے پانی کا گلاس اٹھایا اور جگ میں سے پانی ڈال کر پانی پینے لگی۔۔
ابھی وہ پانی پی ہی رہی تھی کہ یکدم اس کے کمرے کی کھڑکی زوردار آواز سے کھل گئی۔۔۔

Read More:  Shararat Novel by Nabila Aziz – Episode 5

اور اس کھڑکی میں سے کالے رنگ کی ایک بلی اس کے کمرے میں کود گئی۔۔
بلی کو دیکھ کر سحر کو خوف سے جھرجھری آ گئی…..

بلی نے چھلانگ لگائی اور بیڈ پر اس کی آنکھوں کے سامنے آکر بیٹھ گئی۔۔
بلی نے سحر کی آنکھوں میں دیکھنا شروع کردیا۔۔
سحر کا خوف کے مارے برا حال تھا لیکن وہ اپنی آنکھیں بلی کی آنکھوں سے ہٹا ہی نہیں پا رہی تھی۔۔۔۔
بلی سر کو اپنے ٹرانس میں لیتی جا رہی تھی۔۔۔..

تھوڑی ہی دیر بعد سحر مکمل طور پر اس بلی کے قابو میں تھی۔۔
وہ محسوس کر سکتی تھی سوچ سکتی تھی سمجھ سکتی تھی۔۔
لیکن اپنے طورپر کچھ نہیں سکتی تھی۔۔
اس کے احساسات اس کے قابو میں تھے لیکن اس کے اعضا اس کا ساتھ چھوڑ چکے تھے ۔۔۔
سحر نے ساحل کی طرف دیکھا جو کہ گہری نیند سو رہا تھا۔..

بلی جیسے جیسے کھڑکی کی طرف جا رہی تھی فھر بھی ایک معمول کی طرح اس کے پیچھے پیچھے چل رہی تھی۔۔۔
پھر بلی نے اچانک کھڑکی سے باہر چلانگ لگا دی۔۔
سحر نے بھی بنا سوچے سمجھے بلی کے پیچھے کھڑکی کے باہر کود پڑی۔
لیکن حیرانگی کی بات تھی کہ دوسرے فلور سے زمین پر جمپ لگانے کے باوجودسحر کو ایک خراش بھی نہیں آئی تھی بلکہ وہ فوراً ہی اٹھ کر کھڑی ہوگئی اور بلی کا پیچھا کرنے لگی….

باہر سڑک بالکل سنسان تھی۔۔
اتنی خاموشی تھی کہ درخت کا پتہ بھی زمین پر گرتا تو آواز پیدا ہوتی۔۔
قمری مہینے کی آخری راتیں تھیں اسے یہ آسمان پر چاند بھی غائب تھا۔۔
اماوس کی اس اندھیری رات میں اگر کوئی سحر کو بلی کا پیچھا کرتے ہوئے سنسان سڑک پر جاتے ہوئے دیکھ لیتا تو اس کو وہیں پہ ہارٹ اٹیک آجاتا…….

سڑک پر تھوڑا سا آگے چلنے کے بعد نالہ شروع ہوگیا تو بلی نالے کے ساتھ چلنا شروع ہو گئی اور سہر تو ایک معمول کی طرح بلی کے پیچھے تھی۔۔
نالے کے ساتھ ساتھ چلتے لینے کے بعد دوران کو پرانے قبرستان کا زنگ لگا گیٹ نظر آگیا۔۔۔
سحر بلی کے پیچھے پیچھے اس گیٹ کی طرف بڑھنے لگی۔۔
قبر ستان میں ایسی دہشتناک ویرانی طاری تھی جیسے کہ ہزاروں سال سے اس قبرستان میں کوئی آیا نہ ہو حلانکہ لوگ اپنے مردے اسی قبرستان میں دفناتے تھے کیونکہ یہ اس شہر کا واحد قبرستان تھا۔۔۔

بلی کے گیٹ کے سامنے پہنچتے ہیں گیٹ خودبخود چرچراہٹ کی آواز سے کھل گیا۔۔
اور سحر قبرستان میں داخل ہوگئی۔۔۔
قبرستان میں داخل ہوتے ہیں بلی نے سحر پر سے اپنا ہپناٹزم ختم کردیا۔۔۔۔

اپنے حواس واپس آتے ہی سحر کے رگ دبے میں خوف کی لہر اٹھتی محسوس ہوئی۔۔۔
قبرستان کے ماحول میں عجیب سے پراسراریت طاری تھی۔۔

حلانکہ اماوس کی رات تھی اور روشنی کا دور دور تک نام و نشان نہ تھا۔۔
لیکن پھر بھی سحر قبروں کو بڑی آسانی سے دیکھ پا رہی تھی۔۔۔
سحر کو ایسا محسوس ہوا جیسے ابھی یہ سب قبریں پھٹ پڑیں گی اور ان میں سے مردے باہر آ کر اسے دبوچ کھائیں گے۔۔۔
وہ حیران بھی تھی کہ کس طرح ہو گھر سے چل کر ادھر قبرستان میں آگئی۔۔۔

اس نے چاروں طرف گھوم کر دیکھا تو اس کو کہیں بھی قبرستان کا داخلی دروازہ نظر نہ آیا۔۔
خوف کے بارے سحر کے پسینے چھوٹنے شروع ہوگئے۔
وہ جلد از جلد اس منہوس قبرستان سے نکل کر اپنے گھر جانا چاہتی تھی۔۔۔
ڈر خوف نے اس کی ذہن کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مفلوج کرکے رکھ دی تھی۔
اور وہ حواس باختہ سی بس قبروں کی طرف دیکھے جا رہی تھی۔۔۔

پھر اچانک سے قبریں پھٹنا شروع ہوگئیں اور ان میں سے لمبے لمبے سیاہ رنگ کے ہاتھ باہر نکلنے لگے۔۔

یہ بھیانک اک منظر دیکھ کر سحر نے جس طرف منہ آیا اس طرف بھاگنا شروع کردیا ۔۔
خوف سے اس کی آواز بھی نہیں نکل پا رہی تھی ورنہ وہ بہت بری طرح چیختی۔۔۔۔

بھاگتے بھاگتے سحر کو ایک دم سے رکنا پڑا کیوں کہ سامنے کا منظر اس کی رگوں میں خون منجمد کردینے کے لیے کافی تھا۔۔
گھر کے بالکل سامنے تین سے چار فٹ کے فاصلے پردو لڑکیاں کھڑی تھیں جنہوں نے دلہن کا لباس پہنا ہوا تھا۔۔۔۔
ان لڑکیوں کے منہ بری طرح تیزاب سے جلے ہوئے تھے۔۔

ان دونوں دلہنوں نے آہستہ روی سے سحر کی طرف بڑھنا شروع کر دیا جیسے وہ سر کو کچھ بتانا چاہتی ہوں۔۔
خوف کے مارے سحر جہاں کھڑی تھی وہی ساکت ہو کر رہ گئی تھی ۔۔
اور اس کے پاؤں منوں وزنی ہو گئے تھے ۔۔۔۔

جیسے جیسے وہ دلہنیں سحر کے قریب آتی جا رہی تھی سحر کو اپنی جان نکلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔
جب ان دونوں کا سحر سے فاصلہ ایک فٹ سے کم رہ گیا تواجانک سحر کے پاؤں میں جیسے جان آگئی اور اس نے ان کی مخالفت کی سمت میں سرپٹ دوڑنا شروع کر دیا۔۔۔
اسے ان دلہنوں کی کر ب اور درد میں ڈوبی ہوئی سسکیاں اپنے پیچھے سنائی دے رہی تھی۔۔

بھاگتے بھاگتے سحر کو ایک قبر سے ٹھوکر لگی اور وہ اوندھے منہ اسی قبر پر گر گئی۔۔۔

سحر کے گرتے ہیں ایک دم سے قبرستان میں سناٹا چھا گیا جیسے یہاں پر کسی کا وجود ہی نہ ہو۔۔
سحر کچھ دیر بیٹھ کر اپنے سانس درست کرتی رہی۔۔۔
جب حواس کچھ بحال ہوئے تو اس نے غور کیا کہ وہ تو ایک قبر کے سرہانے بیٹھی ہوئی ہے

پے در پے خوفناک اور حیرت انگیز واقعات نے اس کے دل میں تھوڑی ہمت پیدا کر دی تھی۔۔
اس لیے اب اسے اتنا ڈر نہیں لگ رہا تھا۔

کچھ دیر بعد قبر میں سے سسکاریوں کی دردناک آواز آنا شروع ہو گئی۔۔
جیسے کہ کوئی بہت ہی تکلیف کے عالم میں کراہ رہا ہو۔۔
صحرا بھی سوال پر غور کر رہی تھی کہ قبر میں سے دھواں نکلنا شروع ہو گیا۔۔۔
دھواں سمٹتے سمٹتے ایک بلی کا روپ دھار گیا ۔
سحر نے دیکھا یہ تو وہی بلی تھی جو اسے گھر اسے قبرستان تک لے کے آئی تھی۔۔۔

کچھ دیر بعد بلی کا وجود پھر سے دھوئیں میں تحلیل ہونا شروع ہوگیا۔۔
وہ دھواں بعد میں ایک نسوانی ہیولے کے روپ میں بدلنے لگا۔۔۔
تقریبا دو منٹ بعد اس دھویں کی جگہ سحر کے سامنے ایک لڑکی بیٹھی ہوئی تھی جس کا منہ قبر کی دوسری طرف تھا تو سحر اس کے منہ کی طرف نہیں دیکھ پا رہی تھی۔۔۔

سحر نے اپنے خوف پر قابو پاتے ہوئے اس لڑکی کو مخاطب کیا کہ تم کون ہو اور تم تکلیف میں کیوں مبتلا ہو۔ ۔

پہلے تو وہ لڑکی چپ چاپ سسکیاں بھرتی رہی۔۔پھر اس نے آہستہ سے اپنا رخ سحر کی جانب کیا ۔۔

اس لڑکی کا چہرہ دیکھ کے سحر کو اپنے پاؤں کے نیچے کی زمین سرکتی ہوئی محسوس ہوئی اور اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔۔

کیونکہ اس کے سامنے کوئی اور نہیں بلکہ روبی بیٹھی تھی جس کے قتل کا الزام ساحل پر دو سال پہلے لگایا گیا تھا۔۔
لیکن ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے سائل کو رہا کردیا گیا تھا۔۔۔
اس لئے سحر اور باقی گھروالے ساحل کو مجرم نہیں سمجھتے تھے ۔

خیر روبی کو اپنے سامنے ایک روح کی حیثیت میں دیکھ کر سحر کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کس پر ردعمل کا اظہار کرے…

کچھ لمحے کی خاموشی کے بعد روبی کی روح خود گویا ہوئی۔۔اور اس نے کہا کہ سحر میں بڑی مشکلوں سے تمہیں یہاں تک لے کر آئی ہو ں
تو سحر نے کہا کہ تمہیں کیا ضرورت تھی مجھے یہاں پر لے کر آنے کی آخر تم مجھ سے چاہتی کیا ہو۔۔
روبی بولی کہ مجھے صرف انصاف چاہیے جس کے لئے مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہوگی۔

سحر حیران تھی اس نے روبی سے پوچھا کہ تمھیں مجھ سے کس قسم کی مدد چاہیے۔
اور تم کیسے انصاف کی بات کر رہی ہو۔۔

روبی بولیں کہ تم بہتر طریقے سے جانتی ہو کہ میں کیسے انصاف کی بات کر رہی ہوں

تمہارے شوہر یعنی ساحل نے کتنی بے دردی سے مجھے قتل کیا تھا۔۔
میں تو بس اس سے شادی کرنا چاہتی تھی۔
لیکن میری ضد کرنے پر اس نے مجھے اپنے راستے سے ہٹا دیا۔۔
میں اپنے قتل کا بدلہ لینا چاہتی ہوں۔۔۔

سحر بولی کے تمہارا قتل تو ساحل نے نہیں کیا تھا وہ تو جیل سے باعزت چھوٹ گیا تھا کیوں کہ اس کے خلاف کوئی ثبوت ہی نہیں تھا۔۔۔

روبی بولی کہ اسے سارے ثبوت مٹا دیے تھے اور انسپکٹر فرقان بھی اس کے ساتھ ملا ہوا تھا تھا اس لیے کوئی ثابت نہیں کر پایا کہ مجھے ساحل نے قتل کیا ہے…

میں دو سال سے تڑپ رہی ہوں اور میری روح کو قرار نہیں مل رہا۔۔
میں جب تک اپنی موت کا بدلہ نہیں لیتی میں کبھی سکون سے نہیں بیٹھوں گی ۔۔۔۔

سحر پر تو گویا آج حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹنے کا دن تھا۔۔
اسی یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ جس شخص سے بے انتہا محبت کرتی تھی تھی وہ لڑکی کا قاتل تھا۔۔…

صحرعجیب سے دوراہے پر کھڑی تھی ۔۔
وہ کوئی فیصلہ نہیں کر پا رہی تھی۔۔
ایک طرف اس کا بچپن کا پیار تھا۔
تو دوسری طرف انصاف تھا اور ایمان تھا۔۔
کافی دیر وہ روبی کی قبر کے پاس بیٹھی کشمکش میں مبتلا رہی۔ پھر اس کے پیار پراس کی خودداری نے جیت پالی اور اس نے دل میں فیصلہ کرلیا کہ وہ روبی کو انصاف دلا کر رہے گی
اس نے روبی کو اپنا فیصلہ سنایا۔۔
پروین نے اسے کہا کہ تم اپنی آنکھیں بند کرو اور پانچ سیکنڈ کے بعد اپنی آنکھیں کھولنا۔۔۔
سحر میں اپنی آنکھیں بند کر لیں تو اس کے وجود کو ایک جھٹکا سا لگا۔۔۔
اس نے آنکھیں کھولی تو وہ مزید حیران رہ گئی۔۔
کیونکہ وہ ساحل کے پاس اپنے پلنگ پر لیٹی ہوئی تھی

Read More:  Kanwal novel by Ghazal Khalid – Read Online – Episode 16

تھوڑی دیر میں فجر کی اذان کی آواز سنائی دینے لگی۔۔۔
اذان سن کر سحر کو بڑا سکون ملا اور وہ اٹھی اور وضو کر کے جا نماز بچھا کر بیٹھ گئی۔۔
اپنے رب کے حضور سجدہ کرکے سحر دعا مانگنے لگی کہ یا اللہ مجھے انصاف کا ساتھ دینے کی ہمت عطا فرمانا۔۔
اور میرے قدم ڈگمگانے نہ دینا۔۔

اور شاید خدا بھی آسمان پر بیٹھا مسکرا رہا تھا
سحر کے یہ وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔کہ اپنے پیار اور ذاتی مفاد پر اللہ کی رضا اور انصاف کو ترجیح دینے والے کو اللہ کی طرح دکھ اور تکلیف میں دیکھ سکتا ہے۔۔

صبح کا سورج طلوع ہوا تو سحر ناشتہ بنانے کے لئے کچن میں چلی گئی۔۔

جس کی کھڑکی میں سے ملی اندر داخل ہوئی سحر سمجھ گئی کہ بلی کے روپ میں روبی ہے جو اس سے کچھ کروانا چاہتی ہے

سحر نے چائے کی کیتلی چولہے پر چڑھای تھی۔۔
بلی دھویں میں تحلیل ہوئی اور روبی کے روپ میں آگئی۔۔

روبی نے سحر کو کہا کہ کیونکہ پولیس ساحل کے ساتھ ہے اور میرے قتل کا کوئی ثبوت بھی اس نے باقی نہیں چھوڑا یہ تو مجھے قانونی طور پر تو انصاف نہیں دلا پاؤ گی۔۔

اس لیے تمہیں دوسرا طریقہ کار اختیار کرنا ہوگا۔۔.
تم ایسا کرو ساحل کے چائے کے کپ میں زہر ملا دو۔۔
اس سے وہ بھی اسی طرح تڑپ کر مرے گا جس طرح اس نے مجھے درد آپ سے تڑپا تڑپا کر اذیت دے کر مارا تھا …
روبی کے اس آئیڈیے سے سحر کام کر رہ گئی ابھی کچھ ہی دن ہوئے اس کی شادی ہوئی تھی اور روبی اس کو اپنے خوابوں کا گنچا بکھیرنے کا کہہ رہی تھی

پھر سحر نے یہ سوچ کر خود کو تسلی دی کہ اگر میں حق پر ہوں تو میرا اللہ میرا ضرور ساتھ دے گا۔۔
سحر نے روبی کے کام کرنے کی حامی بھری تو روبی نے اپنا ہاتھ خلا میں لہرایا تو اس کے ہاتھ پر سیاہ رنگ کا ایک سفوف نمودار ہوا۔۔
وہ سفوف اس نے سحر کو دیا اور کہا کہ اسے تم ساحل کے چائے کے کپ میں ملا دو۔۔۔۔

سحر نے کانپتے ہاتھوں سے چائے کے دو کپ تیار کیے۔۔
اور ساحل کے کپ میں وہ کالے رنگ کا سفوف ملا دیا۔۔
اور کپ ٹرے میں رکھ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھی۔۔۔۔
کمرے میں پہنچ کر اس نے ٹرے کو ٹیبل پر رکھ دیا۔۔۔
ساحل بیڈ پر آرام سے سویا ہوا تھا
سحر نے اس کو جگایا تو ساحل نے سحر کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام لیا۔۔۔
اور کہا کہکاش جب تک میں زندہ ہوں تم ایسے ہی مجھے روز صبح جگانے آیا کرو۔۔۔
ساحل کی اس بات پر سحر کی آنکھوں سے آنسو نکل گئے لیکن اس نے یہ آنسو ساحل کے سامنے ظاہر نہیں ہونے دیئے

اس نے ساحل کو کہا کے چائے ٹھنڈی ہو رہی ہے چلو چائے پیتے ہیں۔
طاہر ٹیبل کی طرف بڑھی اور چائے کا ٹرے پکڑ کر بیڈ پر رکھ دیا اور ساحل کے پاس بیٹھ گئی۔۔

ساحل نے سحر کے ماتھے پر پیار سے بوسہ دیا۔۔۔
اور بڑے اطمینان سے چائے کا کپ ہاتھ میں اٹھا لیا۔۔۔
اس نے کپ اپنے منہ کی طرف بڑھایا۔اور چائے کا گھونٹ لینے ہی والا تھا کہ سحر نے زور سے اپنا ہاتھ چائے کی کپ پر مارا جس سے کپ زمین پر گر کر کرچی کرچی ہوگیا۔۔۔۔

ساحل سحر کی اس حرکت پر بہت حیران ہوا۔۔
اور غصے میں سحر کی طرف پلٹا ہی تھا کہ اس نے دیکھا کہ سحر زاروقطار رو رہی ہے۔۔
استاد سے پوچھا کہ تم رو کیوں رہی ہو اور تم نے میرے ہاتھوں سے چائے کیوں گرا دی۔
سحر بولی کے میں نے اس چائے میں زہر ملایا تھا۔۔۔
ساحل کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا کہ اس کی بیویجو کہ اسے بے پناہ پیار کرتی تھی وہ اس کی چائے میں زہر کیسے ملا سکتی ہے۔۔۔۔

ساحل نے پوچھا کہ کیا میں تم سے اس بات کی وجہ جان سکتا ہوں۔۔
تو جواب میں سحر نے اس کو روبی کے بارے میں اور قبرستان میں گزاری ہوئی پچھلی رات کے بارے میں سب بتایا اور کہا کہ تم نے روبی کا قتل کیا ہے اور اپنے دوست انسپکٹر فرقان کے تم نے سارے ثبوت غائب کر دیے ہیں جس وجہ سے تم اس کیس سے بری ہوگئے تھے۔۔
میں نے روبی کو انصاف دلانے کا تہیہ کر لیا تھااس لیے اپنے دل پر پتھر رکھتے ہوئے میں نے تمہاری چائے میں زہر ملا دی تھی۔۔۔
لیکن تمہیں چائے پیتے دیکھ کر مجھ سے رہا نہیں گیا۔۔
اور میں نے چائے تمہارے ہاتھوں سے گرا دی۔۔۔۔۔۔۔۔

فیضان جیسے ہی مسجد سے ہو کر گھر واپس آیا تو صبح کا سورج نمودار ہو چکا تھا۔۔
فیضان کی دادی سکینہ بی بی فیضان کے مسجد سے آتے ہیں اس کے کمرے میں چلی گئی اور اس سے پوچھا کہ فیضان بیٹا کیا بات ہے تم ہم سے کچھ بات چھپا رہے ہو۔۔۔
فیضان کو ڈالنا چاہتا تھا لیکن انہوں نے افیضان کا ہاتھ اپنے سر پر رکھ کر ان کو اپنی قسم دے دی کہ جو بھی بات ہے وہ سچ بتا دو۔۔۔
آپ دادی کے سامنے فیضان مجبور ہوگیا اور اس نے کہا کی دادی جان آپ امی اور ماہرہ کو بھی بلا لیں
ماہرہ سب کچھ جانتی ہے لیکن امی کے لیے بھی حالات سے آگاہ ہونا ضروری ہے۔۔۔

سکینہ بیگم نے ماہرہ اور خورشید کو بلا لیا اور فیضان سے کہا کہ بتاؤ اب جو تم بتانا چاہتے ہو۔۔

فیضان کو ماہرہ نے آنکھوں ہی آنکھوں میں کچھ اشارہ کیا تو فیضان نے اسے کہا کہ مجھے دادی امی نے قسم دے دی ہے اس لئے ہمیں اب حقیقت ہے سب گھر والوں کو بتا نی ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فیضان نے بتانا شروع کیا کہ دادی اماں آپ کو یاد ہے ہم ایک دن پیپر دے کر آئے تھے اور ہم نے آپ سے روبی آپی کے کمرے کی چابیاں مانگی تھیں۔لیکن اپنے چابیاں دینے سے انکار کر دیا تھا۔
آپ کے سوجانے کے بعد ہم نے کے کمرے سے وہ چابی چرائی تھی اور روبی آپی کے کمرے میں داخل ہوئے تھے۔۔
اسے اور ماہرہ کو ان کے کمرے میں ان کی ڈائری ملی تھی
جسے پڑھ کر ہم دونوں حیران و ششدر رہ گئے تھے

اس ڈائری میں روبی آپی کے موت کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہوا تھا۔۔۔

یہ بات سن ان کی امی اور دادی کا غم اور غصے کے مارے برا حال تھا
اور وہ دونوں حیران ہوگئی تھیں۔۔۔

فیضان نے آگے بتانا شروع کیا کہ روبی کی ڈائری میں لکھا ہوا تھا۔۔۔

روبی نے پہلے سے پلین بنایا ہوا تھا کہ وہ اپنے امتحانات کے نتیجے کے دن ساحل کو پروپوز کرے گیاس بارے میں اس نے اپنی دوست شینہ کو پہلے سے سب کچھ بتایا ہوا تھا۔۔۔۔
جب روبی نے ساحل کو پروپوز کیا تو اس نے اسے شادی کرنے سے صاف انکار کردیا تھا۔۔
جس وجہ سے روبی بہت زیادہ افسردہ تھی۔۔اور وہ اپنی زندگی ختم کر دینا چاہتی تھی۔
اس کی دوست شینہ جو کہ بلیک میجک کی ماہر تھی اور اس کے دماغ میں ہر وقت شیطانی خیالات پکتے رہتے تھے۔۔
اس نے روبی کو ایک طریقہ کار بتایا کہ اگر جیتے جی ساحل تمہارا نہیں ہوسکتا تو تم مرنے کے بعد اس کو حاصل کرسکتی ہو۔

اس کے لیے تمہیں پہلے خود کو ختم کرنا ہوگا۔۔۔
ہمارے مرنے کے فورا بعد میں تمہارے ہمزاد کو اپنے قابو میں کر لوں گی۔۔
اور اس ہمزاد کے ذریعے میں ساحل کے سچے پیار کے ہاتھوں ساحل کا قتل کروا دوں گی۔۔۔
جس سے اس کا ہمزاد ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تمہارا ہو جائے گا۔۔
اور تم مرنے کے بعد اپنا پیار حاصل کرلو گی۔۔

دوبی ساحل کے انکار سے اس قدر دلبرداشتہ تھی کہ اس نے بنا کچھ سوچے سمجھے شینہ کی بات مان گئی

اس نے شینا کے ساتھ ساحل سے آخری بار ملنے کا پلان بنایا۔۔
اور یونیورسٹی کے کیفیٹیریا میں بلا لیا
کیفیٹیریا میں اسی بات پر ان دونوں کے درمیان نوک جھوک ہوئی۔۔

اور روبی طے شدہ پلان کے مطابق واشروم میں چلی گئی
جہاں شینا اس کی منتظر تھی۔۔۔
شینا کے ہاتھوں سے تیزاب لیکر روبی نے بڑی ہمت کرکے اپنے آپ کو تیزاب سے جلا لیا۔۔
شینا اسی عمل کی منتظر تھی۔۔

اس نے روبی کی روح کے منفی حصے یعنی اس کی شیطانی ہمزاد کو اپنے قابو میں کرلیا اور شرط یہ رکھی کہ وہ اپنے کام کروانے کے بدلے میں اس کو ساحل کی جان لینے کا موقع دے گی۔۔۔۔۔
یہ سارا پلان روبی کی ڈائری میں لکھا ہوا تھا۔۔
جسے پڑھ کر کر میں اور ماہرہ حیران و ششدر رہ گئے تھے۔۔۔۔

جب ہم پہلے یہ ڈائری پر رہے تھے تو روبی آپی کے ہمزاد نے ہمیں آکر ڈرانا دھمکانا شروع کر دیا تھا۔۔
جس وجہ سے ہم آپ کو یہ بات بتا نہیں سکتے تھے۔۔
اس لیے میں نے وہ ڈائری مسجد میں جاکر چھپا دی
کیونکہ مجھے پتا ہے کہ شیطانی ھمزاد اور الواح خبیثہ مقدس مقامات جیسے کے مسجد میں داخل نہیں ہو سکتے اور کالے جادو کا بھی کوئی عمل ان مقامات پر کارگر ثابت نہیں ہوتا۔۔۔۔

روبی نے ہمیں یہ بھی بتایا تھا کہ وہ بہت جلد ساحل کو اس کی بیوی کے ذریعے مروانے والی ہے۔۔

اس بات کا سننا تھا کہ خورشید اور سکینہ بیگم بہت پریشان ہوئی
ان کی آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے کہ ان کی بیٹی اپنی موت کی ذمہ دار خود تھی بلکہ کہ وہ دوسروں کے لیے بھی خطرہ تھی۔۔۔

خورشید نے فورا افتخار صاحب کو فون کیا کیوں کہ روبی کے ابو تھے۔۔۔
وہ فورا دفتر سے واپس آئے پھر یہ سارا خاندان ساحل کے گھر کی طرف روانہ ہوگیا

راستے میں فیضان نے انسپکٹر فرقان کو فون کرکے ساری صورتحال سے آگاہ کر دیا۔۔
اسپیکٹر فرقان کچھ سپاہیوں کو لے کر شینہ کے گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔۔
شینا جو ایک بہت ہی عیار اور چالاک لڑکی تھی۔۔
اپنی فرسودہ اور ناجائز خواہشات کی بنا پر اس نے اپنی دوست کو ورغلا کر اسے خودکشی کرنے پر مجبور کر دیا تھا بلکہ اس کے ہمزاد کو قابو کر کے اس کے مرنے کے بعد بھی اس کے گناہوں میں اضافے کا باعث بن رہی تھی۔۔
اسے خبر ہوگئی تھی کہ انسپکٹر فرقان اسے اریسٹ کرنے اس کے گھر کی طرف آ رہا ہے۔۔
اس نے انسپکٹر کے خلاف اپنے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنے کا ارادہ کیا۔۔
اس نے روبی کو انسپکٹر فرقان کے خلاف مہرہ بنانے کا سوچا اور روبی کو حاضر کے اسے اسپیکٹر فرقان کو قتل کرنے کے لئے بھیج دیا ۔۔
اسپیکٹر فرقان چونکہ روحانیت سےآشنائی رکھتے تھے۔۔
اس لیے روبی ان کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکیں اور وہ باآسانی شینا کے گھر کے سامنے پہنچ گئے۔۔
فرقان کے شینہ کے گھر میں داخل ہوتے ہی روبی نے بلی کا روپ لیا اور فرقان پر حملہ کرنے کی کوشش کی لیکن فرقان نے لوحےقرانی کا نقش پہنا ہوا تھا۔۔
جس کی وجہ سے روبی فرقان سے ٹکرا کر چیختی ہوئی کی فٹ دور جاگری۔۔
اس طرح فرقان نے شینا کو باآسانی گرفتار کیا اور ساحل کے گھر کی طرف نکل پڑے

Read More:  Be sakhta novel by Suhaira Awais – Episode 3

ساحل سحر کو ہر طرح سے مطمئن کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس نے روبی کا قتل نہیں کیا۔۔۔
لیکن شہر کے سامنے روبی کا تڑپتا ہوا چہرہ گھوم رہا تھا۔۔
جس پر یقین کر کے وہ ساحل کو اپنے ہی ہاتھوں سے زہر دینے جا رہی تھی۔۔
لیکن دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس سے یہ قدم نہیں اٹھایا گیا تھا۔۔

سحر متواتر روئے جارہی تھیں اور ساحل اسے تسلیاں دے کر چپ کرانے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔

اتنے میں ساحل کی امی کمرے میں داخل ہوئیں اور کہا کہ تمہارے کچھ جاننے والے تم دونوں سے ملنے آئے ہیں۔۔

سحر نے اپنی ساس کو دیکھ کر خود کو سنبھالا۔
اور ان کے ساتھ باہر حال میں آگئی جہاں پر روبی کے امی ابو کی دادی اور بہن بھائی آئے ہوئے تھے اور سحر اور ساحل کا انتظار کر رہے تھے۔۔۔
ساحل کی امی ان کے لئے کچن میں چائے بنانے کے لئے چلی گئیں ۔
روبی کی امی اٹھ کر سحرکے پاس آکر بیٹھ گئی اور اس سے کہا کہ بیٹا مجھے معاف کر دو۔۔
سحر حیران رہ گئی اور پوچھا آنٹی آپ مجھے کس بات کی معافی مانگ رہے ہیں۔۔
جواب میں خورشید بیگم نے سحر کو روبی کی ڈائری تھما دی۔۔
شہر میں پوچھا یہ کیا ہے تو فیضان گویا ہوا کہ یہ ہماری آپی روبی کی ڈائری ہے۔۔
برائے مہربانی آپ اسے پڑھ لیں۔۔۔

سحر اور ساحل مل کر اڈاری پڑھنے لگے۔۔
جوجو وہ ڈائری پڑھتے جا رہے تھے ان کی حیرتوں میں اضافہ ہوتا جارہا تھا۔۔
ڈائری مکمل پڑھ لینے کے بعد سحر کی آنکھوں سے خوشی اور ندامت کے مارے آنسو آنا شروع ہوگئے۔۔
ساحل نے اس کےآنسو صاف کیے اور کہا کہ اس میں تمہاری کوئی غلطی نہیں تھی۔۔
بلکہ تم نے بہت ہمت کا مظاہرہ کرکے انصاف اور ایمان کا ساتھ دینے کی کوشش کی تھی۔۔

تمہارے اردگرد حالات ہیں اس طرح کے پیدا کر دیے گئے تھے
کہ تمہیں سمجھ ہی نہیں آیا کہ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا۔۔

وہ سب انہی باتوں میں مصروف تھے کہ ساحل کی امی چائے بنا کر لے آئیں۔۔
سب نے ان کو بھی اصل صورتحال سے آگاہ کیا۔۔
تو وہ حیران و پریشان ہوگی کہ آجکل کی جدید دنیا میں کالا جادو اور ہمزاد جیسی چیزیں بھی ہوتی ہیں۔۔
لیکن دوسری طرف وہ خوش بھی تھی کہ ان کے بیٹے پر دو سال پہلے جو الزام لگایا گیا تھا وہ سراسر غلط تھا۔۔۔

وہ سب بیٹھے چائے پی رہے تھے کہ۔ڈور بیل بجی۔
ساحل کی امی دروازہ کھولنے کے لیے گئیں
کچھ دیر بعد جب وہ واپس آئی تو ان کے پیچھے پیچھے انسپکٹر فرقان اور سحر کے امی ابو تھے۔۔
اور کچھ سپاہی شینا کو ہتھکڑیوں میں جکڑے ہوئے گھسیٹ کر اندر لے کر آرہے تھے۔۔۔

راستے میں انسپکٹر فرقان نے سحر کی ماں باپ کو ساری صورتحال سے آگاہ کر دیا تھا۔۔

ساحل کے ابو نے سب کو بتایا کہ ان کوہاٹ ہے کبھی روبی کی وجہ سے ہی آیا تھا۔۔
اور انہوں نے سحر کی شادی بھی روبی کے دھمکانے پر ساحل کے ساتھ جلدی جلدی کرنے کا کہا تھا۔۔

کیونکہ روبی ساحل کو اس کے سچے پیار کے ہاتھوں مروا کر اس کے ہمزاد کو حاصل کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔

روبی نے انہیں دھمکی دی تھی کہ اگر وہ جلدی سے ساحل سے سر کی شادی نہیں کریں گے تو وہ سحر کو جان سے مار دے گی۔۔

اس حقیقت کے بارے میں بتانے کے لیے یےانہوں نے سحر کو اپنے کمرے میں بھی بلایا تھا لیکن روبی نے بروقت وہاں آکر انہیں اشاروں اشاروں میں حقیقت بتانے سے منع کر دیا تھا۔۔۔۔

سحر کی جان کو خطرے کے مد نظر رکھتے ہوئے اس کے ابو نے اسے حقیقت سے آگاہ نہیں گیا تھا۔۔۔۔

انسپکٹر فرقان نے شینا کی کنپٹی پر پستول رکھ دیا۔۔
اور پوچھا کہ باقی تو تمہاری حقیقت ہم سب پر آشکار ہو ہی چکی ہے۔
لیکن ابھی تک ہمیں یہ نہیں پتہ کہ دو معصوم دلہنوں کو مارنے کے پیچھے تمہارا مقصد کیا تھا۔۔۔
تو شینہ نے بتایا کہ انسانی روح کے دو حصے ہوتے ہیں ایک مثبت اور ایک منفی دوسرے لفظوں میں ایک روحانی اور ایک شیطانی۔۔
شیطانی روح کو تقویت دینے کے لیے اور اس کے اندر منفی جذبات کو ابھارنے کے لیے اس سے بد سے بدتر کام کروائے جاتے ہیں۔۔
میں نے روبی کے ہمزاد کو مزید طاقتور بنانے کے لیے اس سے دو دلہنوں کو قتل کروایا۔۔۔۔۔۔

اب ساری صورتحال سب پر واضح ہو چکی تھی۔۔
روبی کی امی اور دادی کی آنکھوں سے آنسو ساون بھادوں کی طرح بہہ رہے تھے۔۔
سحر کی امی نے انکو حوصلہ دیا اور ساحل کی ماں نے بھی ان کو تسلی دی انسان اللہ تعالی کی مرضی کے آگے بے بس ہوتا ہے۔۔

اسپیکٹر فرقان نے ان سب کو کہا کہ ابھی اس کہانی کا سب سے اہم مرحلہ باقی ہے۔۔۔

یہ کہہ کر وہ شینا کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا کہ روبی کے ہمزاد کو اسی وقت اپنی قید سے آزاد کرو۔۔

شینا بولی کے اس کے لیے مجھے روپے کی قبر کی مٹی چاہیے۔۔
اسپیکٹر فرقان نے کانسٹیبل کو قبرستان میں روبی کی قبر سے مٹی لے کر آنے کو کہااور جاتے ہوئے اس کے گلے میں لوح قرآنی کا ایک نقش بھی ڈال دیا تاکہ روبی کا ہمزاد اس کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکے۔۔۔

ایک گھنٹے کے بعد وہ کونسٹیبل روبی کی قبر سے مٹھی بھر مٹی لے کر آیا تو اس کے پاس ایک شاپر میں ایک ٹارچ بھی تھیجوس کے کہنے کے مطابق اس نے روپے کی قبر کے پاس ہی قبرستان میں ملی تھی۔۔
انسپکٹر فرقان کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ پھیل گئی۔۔
کیونکہ اسے شینہ کے خلاف ایک پختہ ثبوت بھی مل چکا تھا۔۔۔

فرقان نے سب گھر والوں کو ایک دائرے میں بیٹھنے کو کہا۔
جب سب لوگ ایک دائرے میں بیٹھ گئے تو فرقان نے آب زم زم کی شیشی اپنی جیب سے نکالی اور ان سب کے ارد گرد ایک دائرہ بنا دیا۔۔۔
آب زم زم کے پانی پر آیت الکرسی پڑھی ہوئی تھی۔
جس کی وجہ سے ان سب کے گرد ایک ایسا حصار قائم ہوگیا جسے کوئی بری طاقت یا بری روح پار نہیں کر سکتی تھی۔۔۔
پھر فرقان نے شینا کو کہا کہ روبی کے ہمزاد کو حاضر کرو اور اس کو اپنی قید سے آزاد کرو۔۔
شینا نے روبی کی قبر کی مٹی اپنے ہاتھ میں پکڑی اور اس پر کچھ پڑھ کر پھونک ماری۔اور اسے زمین پر پھینک دیا یا۔۔۔

زمین میں سے دھواں سا اٹھتا شروع ہوگیا اور وہ کالے رنگ کی بھیانک بلی کا روپ دھار گیا۔۔۔
پھر وہ بلی دھوئیں میں تحلیل ہونا شروع ہوگئیاور وہ دعا آہستہ آہستہ سمٹ کر ایک ہیولے کی شکل میں آگیا۔۔
روبی کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ کر اس کی امی اور دادی بے اختیار ہو گئی خدائے سے نکلنے ہی والی تھی کہ فیضان اورماہرہ نے ان کو روک لیا اور کہا کہ یہ روبی آپی کی روح کا شیطانی حصہ ہے ہے جس کے نزدیک رشتے کوئی معنی نہیں رکھتے اس لئے بہتر یہ ہے کہ آپ سب لوگ دائرے میں موجود رہیں۔۔
انسپکٹر فرقان کے دھمکانے پر شینا نے منتر پڑھ کرروبی پر فون کا تو رو بھی دھوئے میں تحلیل ہو کر آسمان کی طرف پرواز کرنا شروع ہوگئی۔۔۔۔
اسپیکٹر فرقان نے اپنے نوری علم کے ذریعے شینہ کے دماغ میں سے کالے علم کی ساری یاداشت مٹا دی۔
اب شینہ کا دماغ ایک کورا کاغذ تھا۔۔۔۔۔۔
اس طرح دالہن کی کہانی اختتام کو پہنچی۔۔

نہیں نہیں ابھی یہ کہانی کا اختتام نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک سال بعد ۔۔۔۔

سب لوگ سحر کے گھر پہ جمع تھے
روبی کے امی ابو بھی آئے ہوئے تھے۔۔
کیونکہ آج سحر اور ساحل کی بیٹی کے عقیقے کی رسم تھی۔۔
اور آج ہی اس کا نام بھی رکھا جاتا تھا۔۔
اس کے علاوہ آج ایک اور خوشخبری سب کی منتظر تھی۔

ساحل کی بہن مہرین کی منگنی فیضان کے ساتھ کی جا رہی تھی۔۔
روبی کے والدین جو کہ روبی کی موت کے بعد کافی افسردہ تھےمہرین کے روپ میں ان کو اپنی بیٹی واپس مل رہی تھی۔۔

بڑی دھوم دھام سے منگنی کی رسم ادا کردی گئی۔۔
اس کے بعد سحر کی بیٹی کا نام رکھنے کی باری آئی۔۔
تو سحر نے اپنی بیٹی کا نام رکھ کے سب کو حیرت میں ڈال دیا۔۔

سہر نے اپنی بیٹی کا نام رکھا۔۔

روبی

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: