Es Manjdhar Main Drama by Sadat Hassan Manto – Read Online – Episode 1

0

اس منجدھار میں از سعادت حسن منٹو – قسط نمبر 1

–**–**–

اس منجدھار میں
(’’پھندنے ‘‘میں سے)
کردار
بیگم: ماں
امجد:بیگم کے بیٹےشکستہ
مجید:بیگم کے بیٹے ثابت و سالم
سعیدہ:امجد کی نئی نویلی حسین بیوی
اصغری:خادمہ
کریم اور غلام محمد: نوکر
پہلا منظر
(نگار ولا کا ایک کمرہ۔ ۔ ۔ اس کی خوبصورت شیشہ لگی کھڑکیاں پہاڑی کی ڈھلوانوں کی طرف کھلتی ہیں۔ حد نظر تک پہاڑی نظر آتے ہیں جو آسمان کی خاکستری مائل نیلاہٹوں میں گھل مل گئے ہیں۔ کھڑکیوں کے ریشمی پردے صبح کی ہلکی پھلکی ہوا سے ہولے ہولے سرسرا رہے ہی۔ یہ کمرہ جیسا کہ سازو سامان سے معلوم ہوتا ہے مجلہ عروسی میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ دائیں ہاتھ کو کھڑکیوں کے پاس ساگوان کی مسہری ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک کونے میں شیشے کی تپائی جس پر بلور کی صراحی اور گلاس کے علاوہ ایک ٹائم پیس رکھی ہے۔ پیچھے ہٹ کر پیازی ٹفینے میں ملبوس صوفہ سیٹ ہے اس پر دو ملازم گدیاں سجا رہے ہیں۔ ۔ ۔ اس سے دور ہٹ کر ایک نوجوان خادمہ جو معمولی شکل و صورت کی ہے آتشدان پر سجائی ہوئی مختصر چیزوں کو اور زیادہ سجانے کی کوشش کر رہی ہے۔ کمرے کی فضا میں ایسی دوشیزگی ہے جو ذرا سی جنبش سے منکوحیت میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ ۔ ۔ باہر سے ٹائلوں پر لکڑی کی ننھی ننھی ضربوں کی آواز آتی ہے۔ تینوں خادم ہلکے سے رد عمل کے بعد اپنے اپنے کام میں مشغول رہتے ہیں۔ ۔ ۔ دروازے سے ایک ادھیڑ عمر کی وجیہہ عورت بیساکھیوں کی مدد سے اندر آتی ہے اور کمرے کا جائزہ لے کر اپنے اطمینان کا اظہار کرتی ہے۔ )
بیگم صاحب : (بیساکھیوں کی مدد سے کمرے میں ادھر ادھر پھر کر تمام چیزوں کو صحیح مقام پر دیکھ کر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے) ٹھیک ہے !(ایک بیساکھی کو اپنی بغل سے الگ کر کے صوفے کے بازو کے ساتھ رکھ کر بیٹھنا چاہتی ہے، مگر فوراً ہی اپنا ارادہ ترک کر دیتی ہے۔ ایسا کرتے ہوئے اس کا ایک ہاتھ سہارے کے لئے صوفے کے بازو کی چمکیلی سطح کے ساتھ چھوا تھا اور اس پر نشان پڑ گیا تھا۔ اپنے دوپٹے کا ایک کونہ پکڑ کر وہ یہ خودبخود مٹ جانے والا نشان بجھا دیتی ہے اور پھر بیساکھی اپنی بغل میں جما کر نوجوان خادمہ سے مخاطب ہوتی ہے) اصغری!
اصغری: (فوراً متوجہ ہو کر) جی!
بیگم صاحب :ایک دم یہ محسوس کر کے کہ وہ بھول گئی ہے کہ اس نے اصغری سے تخاطب کیوں کیا تھا) میں کیا کہنے والی تھی؟
اصغری: (مسکراتی ہے)آپ یہ کہنے والی تھیں کہ آپ کا اطمینان نہیں ہوا۔ ۔ ۔ میں بھی یہی سمجھتی ہوں بیگم صاحب۔ ۔ ۔ دولہن بہت خوبصورت ہے۔ ۔ ۔ اس کمرے کی تمام سجاوٹیں اس کے سامنے ماند پڑ جائیں گی۔
(وہ آتش دان کے عین درمیان میں ریشمی ڈوریوں سے آویزاں، دولہن کی تصویر کی طرف دیکھتی ہے۔ )
بیگم صاحب : (مسکراتی ہوئی۔ ۔ ۔ آتشدان کی طرف آہستہ آہستہ بڑھتی ہے اور اپنی بہو کی تصویر کو غور سے دیکھتی ہے۔ ۔ ۔ خوش ہوتی ہے لیکن ایک دم گھبرا سی جاتی ہے۔ ) اصغری!
اصغری:جی!
بیگم صاحب :صبح سے میری طبیعت۔ ۔ ۔ کچھ گھبرا سی رہی ہے۔
اصغری:امجد میاں جو آ رہے ہیں اپنی دولہن کے ساتھ۔
بیگم صاحب : (اپنے خیالات میں کھوئی کھوئی) ہاں۔ ۔ ۔ بس آنے ہی والا ہے۔ ۔ ۔ کمال موٹر لے گیا ہے اسٹیشن پر۔
اصغری:اگلے سال مجید میاں کی شادی کر دیجئے۔ ۔ ۔ گھر میں رونق ہی رونق ہو جائے گی۔
بیگم صاحب :انشاء اللہ۔ ۔ ۔ وہ بھی انشاء اللہ اسی طرح بخیر و خوبی انجام پائے گی۔ ۔ ۔ (زیر لب) انشاء اللہ۔
اصغری: (دولہن کی تصویر کی طرف دیکھتی ہے اور اس کے حسن سے بہت متاثر ہوتی ہے) اللہ نظر بد سے بچائے۔
بیگم صاحب : (غیر ارادی طور پر قریب قریب چیخ کر) اصغری!
اصغری: (سہم کر) جی!
بیگم صاحب :کچھ نہیں۔ ۔ ۔ گاڑی کب آتی ہے کراچی سے ؟
اصغری:معلوم نہیں بیگم صاحب۔
بیگم صاحب : (ایک خادم سے) دیکھو کریم تم ٹیلی فون کرو اور پوچھو۔ ۔ ۔ لیکن گاڑی تو کل ہی کی راولپنڈی پہنچ چکی ہے۔ ۔ ۔ مجید کا تار جو آیا تھا۔
کریم :جی ہاں!
بیگم صاحب : اور میں نے کمال کوکس اسٹیشن پر بھیجا ہے۔ ۔ ۔ (گھبرا کر) خدا معلوم میرے دماغ کو کیا ہو گیا ہے۔ ۔ ۔ امجد میاں کورات راولپنڈی ٹھیرنا تھا۔ ۔ ۔ اپنے دوست سعید کے پاس۔ ۔ ۔ اور وہ تو میرا خیال ہے اب وہاں سے چل بھی چکے ہوں گے (دوسرے خادم سے) غلام محمد؟
غلام محمد :جی؟
بیگم صاحب :تم دیکھو کمال کہاں ہے۔ ۔ ۔ موٹر کہاں لے گیا ہے ؟
غلام محمد:بہت اچھا!
(چلا جاتا ہے۔ )
بیگم صاحب : (اصغری کے کاندھے کا سہارا لے کر) آج صبح سے میری طبیعت ٹھیک نہیں۔ ۔ ۔ چلنے پھرنے سے معذور نہ ہوتی۔ ۔ ۔ اس کم بخت ڈاکٹر ہدایت اللہ نے مجھے منع نہ کیا ہوتا تو میں دولہن کو ساتھ لاتی(دور سے ٹیلی فون کی گھنٹی کی آواز سنائی دیتی ہے) میرا خیال ہے شاید امجد میاں کے دوست کا ٹیلیفون ہے کہ وہ چل پڑے ہیں، جاؤ اصغری۔ ۔ ۔ بھاگ کے جاؤ۔
(اصغری دوڑی باہر جاتی ہے۔ )
بیگم صاحب : (کریم سے۔ ۔ ۔ اپنی افسردگی دور کرنے کی خاطر) بس اب آتے ہی ہوں گے امجد میاں۔
کریم :اللہ خیرخیریت سے لائے۔
بیگم صاحب : (قریب قریب چیخ کر) کیا مطلب تمہارا۔
کریم : (ڈر کر) جی یہی کہ۔ ۔ ۔ جی یہی۔ ۔ ۔
(اصغری کی چیخیں سنائی دیتی ہیں۔ ’’بیگم صاحب، بیگم صاحب‘‘)
بیگم صاحب : (سراسیمہ ہو کر) کیوں کیا ہوا؟
(اصغری سخت اضطراب کی حالت میں اندر داخل ہوتی ہے۔ )
اصغری:بیگم صاحب۔ ۔ ۔ بیگم صاحب۔
بیگم صاحب : (بیساکھیوں کو دونوں ہاتھوں سے مضبوط پکڑ کر) کیا ہے ؟
اصغری:جی۔ ۔ ۔ مجید میاں کا ٹیلی فون آیا ہے کہ گاڑی۔ ۔ ۔ گاڑی ٹکرا گئی ہے۔
بیگم صاحب : (بیساکھیوں پر ہاتھوں کی گرفت اور زیادہ مضبوط ہو جاتی ہے) پھر؟
اصغری:مجید میاں اور ان کی دولہن دونوں زخمی ہوئے ہیں اور اسپتال میں پڑے ہیں۔
بیگم صاحب : (ہاتھوں کی گرفت ڈھیلی پڑ جاتی ہے۔ ۔ ۔ بیساکھیاں بغل سے گر پڑتی ہیں۔ ایک لحظے کے لئے وہ یوں کھڑی رہتی ہے جیسے پتھر کا بت۔ ۔ ۔ پھر اس میں تھوڑی سی جنبش ہوتی ہے اور وہ دروازے کی جانب بڑھتی ہے) کمال سے کہو، موٹر نکالئے۔ ۔ ۔ ہم راولپنڈی جا رہے ہیں۔
(بیگم دروازے کی جانب بڑھ رہی ہے۔ ۔ ۔ غلام محمد اور اصغری دونوں حیرت زدہ ہیں۔ اصغری زور سے چیختی ہے۔ ۔ ۔ بیگم پلٹ کراس کی طرف دیکھتی ہے۔ )
بیگم صاحب :کیا ہے ؟
اصغری:آپ۔ ۔ ۔ آپ چل رہی ہیں۔ ۔ ۔ چل سکتی ہیں۔
بیگم صاحب :میں ؟(اپنی بغلوں میں بیساکھیوں کی عدم موجودگی کا احساس کرتے ہوئے) میں ؟۔ ۔ ۔ میں کیسے چل سکتی ہوں ؟
(ایک دم چکراتی ہے اور فرش پر گر کر بے ہوش ہو جاتی ہے۔ )
اصغری: (بیگم کے پاس جاتے ہوئے، غلام محمد سے) غلام محمد جاؤ ڈاکٹر صاحب کو ٹیلی فون کرو۔
(غلام محمد جاتا ہے۔ ۔ ۔ اصغری، بیگم کو ہوش میں لانے کی کوشش کرتی ہے۔ )
۔ ۔ ۔ پردہ۔ ۔ ۔
ـــــــ

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: