Es Manjdhar Main Drama by Sadat Hassan Manto – Read Online – Lat Episode 8

0

اس منجدھار میں از سعادت حسن منٹو – آخری قسط نمبر 8

–**–**–


آٹھواں منظر
(وہی کمرہ جو پہلے، دوسرے اور چوتھے منظر میں ہے۔ رات کا وقت۔ ۔ ۔ چھت سے سبز روشنی کی پھوار گر رہی ہے۔ ۔ ۔ ہر شے کا اصل رنگ بدلا ہوا ہے، جیسے اعصاب زدہ مریضوں کا۔ ۔ ۔ مسہری خالی ہے۔ کچھ اس طور پر خالی جیسے وہ کبھی آباد ہی نہیں تھی۔ ۔ ۔ اصغری، امجد کو اپاہجوں والی کرسی میں اندر لاتی ہے۔ )
اصغری:دولہن بیگم، بیگم صاحب کے کمرے میں کیوں چلی گئی؟
امجد :ڈرتی تھی۔
اصغری:آپ سے ؟
امجد : (مسکرا کر) مجھ سے کوئی کیا ڈرے گا۔ ۔ ۔ وہ اپنے آپ سے ڈرتی تھی۔
اصغری:وہ اتنی کمزور نہیں ہیں امجد میاں۔
امجد :وقت بڑے بڑے پہاڑ کھوکھلے کر دیتا ہے۔ ۔ ۔ وہ تو ایک جوان لڑکی ہے۔
اصغری: (توقف کے بعد) آپ سونا چاہیں گے اب؟
امجد :سونا۔ ۔ ۔ (ہنستا ہے) میرا مذاق مت اڑاؤ اصغری۔ ۔ ۔ میرے جلتے ہوئے زخموں کی توہین ہوتی ہے۔
اصغری: (توقف کے بعد) کیا آپ کو سعیدہ سے محبت ہے ؟
امجد :نہیں۔
اصغری:تو پھر یہ جلتے ہوئے زخم کیسے ؟
امجد :مجھے سوچنے دو۔ ۔ ۔ بولو اجازت دیتی ہو سوچنے کی؟
اصغری:آپ سوچئے۔
(طویل وقفہ جس میں امجد سوچ میں غرق رہتا ہے۔ )
امجد :مجھے سعیدہ سے محبت نہیں ہے۔ ۔ ۔ جس طرح مارکٹ سے آدمی اچھی چیز چن کے لاتا ہے۔ ۔ ۔ اسی طرح میں نے سینکڑوں لڑکیوں میں سے اسے انتخاب کر کے اپنی بیوی بنایا تھا۔ ۔ ۔ مجھے اپنے اس انتخاب پر ناز تھا اور بجانا تھا۔ ۔ ۔ سعیدہ مبالغے کی حد تک خوبصورت ہے۔ ۔ ۔ اس پر میرا صرف اتنا حق ہے کہ میں نے اسے چنا اور اپنی رفیقہ حیات بنایا۔ ۔ ۔ اس حیات کا جواب کچلی ہوئی اسی کرسی میں ڈھیر ہے۔ ۔ ۔ جو کسی دوسرے کی مدد کے بغیر ہل نہیں سکتی۔ ۔ ۔ ڈاکٹروں نے مجھے زیادہ سے زیادہ ایک سال اور زندہ رہنے کے لئے دیا ہے۔ ۔ ۔ سمجھ میں نہیں آتا میں کیوں اس عرصے تک اس کو ایسی زنجیروں میں باندھ کے رکھنا چاہتا ہوں جن کا ہر حلقہ میری اپنی زندگی کی طرح غیریقینی ہے۔ ۔ ۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ ۔ ۔ (سوچتے ہوئے)اس کی جوان خوبصورتی ہی ایک وجہ ہو سکتی ہے (ایک دم چونک کر)یہی، یہی۔ ۔ ۔ یہی وجہ ہے اور کوئی نہیں۔ ۔ ۔ (تکلیف محسوس کرتا ہے) اوہ۔ ۔ ۔ اوہ۔ ۔ ۔ وہ نظارہ۔ ۔ ۔ وہ نظارہ۔ ۔ ۔ مجھے بھول سکتا ہے۔ کبھی وہ نظارہ۔ ۔ ۔ اس مسہری میں جوان خوبصورتی اپنی تمام رعنائیوں کے ساتھ لیٹی دنیا کی حسین ترین ملبوسات کو شرمسار کر رہی تھی۔ ۔ ۔ یہ نظارہ میرے ساتھ چمٹ گیا ہے۔ ۔ ۔ نہیں، میں اس کے ساتھ چمٹ گیا ہوں۔ ۔ ۔ (وقفے کے بعد) اصغری!
اصغری: (چونک کر) جی!
امجد :کوئی ایسی صورت ہو سکتی ہے جو یہ چھل کر پخ کر میرے وجود سے علیحدہ ہو جائے۔
اصغری:ہر مشکل کی چولی میں اس کو آسان کرنے کی ترکیب چھپی ہوتی ہے۔
امجد :تو ڈھونڈنی چاہئے۔ ۔ ۔ لیکن۔ ۔ ۔ لیکن مجھے حجاب کیوں محسوس ہوتا ہے۔
اصغری:معلوم نہیں کیوں۔ ۔ ۔ یہ مشکل، آپ ہی کی مشکل ہے۔ اس کے لئے آپ کا ہاتھ کسی نامحرم کا ہاتھ نہیں ہو گا۔
امجد :جانتا ہوں۔ ۔ ۔ میں اپنے دل کی ان تمام نا خلف نسوں سے واقف ہوں جو اس غلط جذبے کی دھڑکنیں پیدا کرتی ہیں۔ ۔ ۔ لیکن آج اس کا فیصلہ ہو جائے گا۔
اصغری:کس کا؟
امجد :میرے سامنے آؤ۔
(اصغری، امجد کے سامنے آ جاتی ہے۔ )
امجد :جاؤ، مسہری میں لیٹ جاؤ۔
اصغری: (ہچکچا کر) امجد میاں۔ ۔ ۔ مجھ میں وہ جوان خوبصورتی نہیں ہے۔ جس کی رعنائیاں دنیا کے حسین ترین ملبوسات کو شرمسار کر سکیں۔ ۔ ۔ میری جوانی تو کھردرے ٹاٹ کی شرمندۂ احسان ہونا چاہتی ہے۔
امجد :مسہری میں لیٹ جاؤ اصغری۔
اصغری: (آنکھوں سے آنسو چھلک پڑتے ہیں) نہیں امجد میاں۔ ۔ ۔ مسہری کو تکلیف ہو گی۔ ۔ ۔ یہ دولہن بیگم کے نرم اور نازک بدن کی عادی ہے۔
امجد :میں تمہیں حکم دیتا ہوں۔
اصغری: (سر جھکا کر) آپ مالک ہیں۔
(مسہری میں لیٹ جاتی ہے۔ ۔ ۔ آنکھیں چھت میں گڑ جاتی ہیں۔ )
امجد :جانتی ہو آج کون سی رات ہے ؟۔ ۔ ۔ وہ رات ہے۔ جب ایک تڑی مڑی جوانی اور زیادہ تڑ مڑ کر سالمیت اختیار کرنے والی ہے۔ ۔ ۔ یہ قیامت کی رات ہے یا فنا کی رات۔ ۔ ۔ اس کے اندھیاروں میں وجود، عدم کی بھٹیوں میں پگھل کر ایک غیر فانی قالب اختیار کرے گا۔ ۔ ۔ یہ وہ رات ہے جس کے بعد اور کوئی رات نہیں آئے گی، اس کی اندھی آنکھوں میں ایسے کاجل سے تحریریں ہوں گی جو انھیں ہمیشہ کے لئے روشن کر دینے کی۔ ۔ ۔ یہ وہ رات ہے، جب موت کے نچھڑے ہوئے تھنوں سے زندگی کے آخری نظر سے ڈر کر خودبخود ہی باہر آ جائیں گے۔ ۔ ۔ یہ وہ رات ہے جب شکستگی اپنی کوکھ سے سربلند ایوانوں کو جنم دے گی۔ ۔ ۔ ایسے سربلند ایوان جن کے کنگروں کو عرش کی بلند ترین اونچائیوں سے ہم کلام ہونے کا شرف حاصل ہو گا۔ یہ وہ رات ہے، جب زم زم کا سارا پانی رینگ رینگ کر زمین کی تہوں میں چھپ جائے گا۔ اس کے بدلے خاک اڑے گی۔ جس سے پاکیزہ روحیں تیمم کریں گی۔ ۔ ۔ یہ وہ رات ہے۔ جب کاتب تقدیر اپنا قلم دان اوندھا کر کے فرش کے کسی کونے میں منہ دے کر روئے گا۔ ۔ ۔ یہ وہ رات ہے جس میں امجد اس دنیا کی تمام خوبصورتیوں کو تین دفعہ طلاق دیتا ہے اور ایک بدصورتی کو اپنے رشتۂ مناکحت میں لاتا ہے۔ ۔ ۔ (ایک دم چیختا ہے) اصغری۔ ۔ ۔ اصغری!
(اس دوران میں اصغری مسہری پرسے اٹھ کر کھڑکی کے پاس پہنچ کر اسے کھول چکی ہے اور اس کی سل پر کھڑی ہو کر نیچے گہرائیوں میں دیکھ رہی ہے۔ )
امجد : (چیخ کر) یہ کیا کر رہی ہو اصغری؟
اصغری: (کھڑکی کی سل پر مڑ کر امجد کو دیکھتی ہے) ایجاب و قبول ضروری ہے میرے مالک!
(نیچے کود جاتی ہے۔ )
امجد : (دونوں ہاتھوں سے آنکھیں ڈھانپ کر) اصغری!۔ ۔ ۔ (ہاتھ ہٹاتا ہے اور چند لمحات کھلی کھڑکی کے اندھیرے کو دیکھتا رہتا ہے جو سبز دیوار میں تاریک زخم کے مانند منہ کھولے ہے) ایجاب و قبول!۔ ۔ ۔ (بڑبڑاتا ہے) ایجاب و قبول واقعی ضروری ہے (زور لگا کر دونوں ہاتھوں سے اپنی کرسی آگے کو کھیتا ہے۔ ۔ ۔ بڑی مشکل سے کھڑکی کے پاس پہنچ جاتا ہے)۔ ۔ ۔ مجھے مشکل کو آسان کرنے کا یہ راستہ معلوم تھا۔ ۔ ۔ مگر شاید کسی انگلی پکڑنے والے کی ضرورت تھی۔ ۔ ۔
(کھڑکی کی سل دونوں ہاتھوں سے مضبوطی کے ساتھ پکڑتا ہے اور اپنا اپاہج جسم بڑی دقتوں سے اوپر اٹھاتا ہے اور دوسری طرف لٹکنا شروع کر دیتا ہے۔ )
امجد :میری پہاڑیاں۔ ۔ ۔ میری پیاری پہاڑیاں۔ ۔ ۔ میری پیاری اصغری!
(اگلا دھڑ نیچے پھسلتا ہے اور ایک دم اس کا سارا وجود اندھیرا کھا جاتا ہے۔ )
۔ ۔ ۔ پردہ۔ ۔ ۔
***
ختم شدہ
ماخذ: ’’نقوش‘‘ منٹو نمبر ۴۹، ۵۰، مرتب۔ محمد طفیل

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Nakhreeli Mohabbatain by Seema Shahid – Episode 20

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: