Farar Novel by Ravi Ranjan Goswami – Episode 1

0

فرار از روی رنجن گوسوامی/عامر صدیقی قسط نمبر 1

مصنف سے ملیں : روی رنجن گوسوامی

سریش کے گھر میں داخل ہوتے ہی ماں کی بڑبڑاہٹ شروع ہو گئی تھی، ’’دنیا جہان کے لڑکے دھندے سے لگ گئے۔ ان نواب زادے کو کام کرنے کا من ہی نہیں ہے۔ بیٹھے بیٹھے کھانے کی عادت جو پڑ گئی ہے۔ نہ بہن کے بیاہ کی فکر، نہ گھر بار کا دھیان۔ ارے میں تو کہتی ہوں پلّے داری کر لے۔ چار پیسے کما کر تو لائے۔ ‘‘

سریش کو بی اے پاس کئے دو سال ہو گئے تھے۔ نوکری کے لیے بہت ہاتھ پاؤں مارے لیکن کوئی نوکری نہیں ملی۔ آج کے دور میں جب ایم بی اے اور انجینئرز پریشان ہیں، تو بی اے پاس کو کون پوچھتا۔

اسے ماں کی کھری کھوٹی سننے کی عادت پڑ چکی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ ماں کی بڑبڑاہٹ کے پیچھے ان کے ہائی بلڈ پریشر، گھریلو پریشانیوں اور شوہر کے اغماض کا ہاتھ تھا۔ لیکن اس دن وہ کچھ اکھڑا ہوا تھا۔ رات کو ماں نے آنگن میں کھانا لگا دیا۔ اس نے ابھی پہلا نوالہ ہی توڑا ہی تھا کہ ماں نے سوال داغ دیا، ’’کوئی کام ملا؟‘‘

سریش کے دانت کٹکٹائے، مٹھیاں کس گئیں اور غصے اور مایوسی سے ایک چیخ نکل گئی۔ گھر کے سب لوگ چونک کر ادھر آ گئے۔ وہ پلیٹ ایک طرف سرکا کر اٹھ گیا۔

ماں بڑبڑائی، ’’گھر کا کھانا اب اچھا نہیں لگتا۔ باہر کھا کے آیا ہو گا۔ ارے کچھ کما کر لائے، گھر میں کچھ دے تو میں بھی تر مال کھلاؤں۔ ‘‘

سریش نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اوپر چھت پر جا کر چارپائی بچھا کر لیٹ گیا۔

سریش، ہری لال اور اُوما دیوی کی اولادوں میں سب سے بڑا تھا۔ بس اس سے بڑی ایک بہن ریکھا تھی، جس کی عمر چوبیس سال تھی۔ ایک سترہ سال کی چھوٹی بہن رشمی اور ایک بارہ سال کا چھوٹا بھائی امیت تھا۔

ہری لال، اترپردیش کے ایک چھوٹے سے شہر اُورائی کے سرکاری اسکول میں استاد تھے۔ ریکھا چار سال سے بی اے کر کے گھر میں فارغ بیٹھی تھی۔ ریکھا کی شادی کی کوششیں جاری تھیں، لیکن کہیں معاملہ فٹ نہیں ہو پا رہا تھا۔ رشمی گیارویں میں اور امیت چھٹی کلاس میں پڑھ رہے تھے۔ گھر کی مالی حالت اچھی نہیں تھی اور شادی کی دہلیز پار کرتی عمر کی نوجوان بیٹی گھر میں بیٹھی تھی۔ اُوما دیوی کی صحت اور مزاج خراب ہونے کی یہی بنیادی وجوہات تھیں۔ اُوما دیوی، ہری لال سے اس بات پر بھی ناراض رہتیں کہ وہ ٹیوشن نہیں پڑھاتے تھے۔ اُوما دیوی کو معلوم تھا کہ ہری لال جی کے دوسرے ساتھی، اسکول میں کم اور گھر میں زیادہ توجہ دیتے تھے اور تنخواہ سے کئی گنا زیادہ ٹیوشن سے کماتے تھے۔ کچھ استاد تو طلباء کو ہراساں کر کے یا ڈرا دھمکا کر بھی، اپنے یہاں ٹیوشن پڑھنے پر مجبور کرتے تھے۔ ہری لال اسکول میں خلوص سے پڑھاتے اور کسی طالب علم کو ٹیوشن پڑھنے کا مشورہ نہیں دیتے۔ کچھ طالب علم رضاکارانہ طور پر ٹیوشن پڑھنا چاہتے تو پڑھا دیتے۔ خالی وقت میں اخبار پڑھتے رہتے اور اُوما دیوی کبھی کچھ کہتیں تو ایک کان سے سنتے اور دوسرے سے نکال دیتے۔

ریکھا میں کوئی کمی نہیں تھی، پھر بھی شادی میں تاخیر ہو رہی تھی۔ کہیں جنم کنڈلی میل نہیں کھاتی۔ کبھی لڑکے والے آ کر لڑکی کو دیکھ جاتے پھر کوئی جواب نہیں دیتے۔ کچھ لوگ جہیز کا سیدھے یا اشارے کنایوں میں، ایسا مطالبہ یا ایسی شرط رکھ دیتے جو پورا کرنا ہری لال کے بس سے باہر ہوتا اور انہیں خود ہی پیچھے ہٹنا پڑتا۔ ماں باپ کو اپنی شادی کے لیے پریشان اور لڑکے والوں کے نخرے دیکھ کر ریکھا بھی اداس تھی اور اس کے مزاج میں بھی تھوڑی چڑچڑاہٹ آ گئی تھی۔ کبھی کبھار بات بے بات ماں سے الجھ پڑتی تھی۔

سریش بہت سی ملازمتوں کے امتحانات دے چکا تھا۔ کچھ میں پاس بھی ہوا، لیکن پھرانٹرویو میں فیل ہو گیا۔ پتہ چلا کچھ پوسٹنگ سفارش یا لے دے کر ہو گئیں۔ اُوما دیوی چاہتی تھیں کہ ہری لال کو بھی لڑکے کی نوکری کے لیے کچھ کوشش کرنا چاہیے لیکن ہری لال کوئی بڑی سفارش نہیں جٹا پائے اور رشوت کا تو وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ ایک تو پیسہ تھا نہیں اور ہو بھی توکسے جا کر دیں، ان کی سمجھ سے باہر تھا۔ وہ ڈرتے تھے کہیں ایسا نہ ہو کام بھی نہ ہو اور پیسہ بھی ڈوب جائے۔

بیوی کے بہت اصرار پر انہوں نے اپنے ایک دوست کی مدد سے، سریش کو بازار میں ایک میڈیکل اسٹور پر سیلز مین کی نوکری پر رکھوا دیا۔

جس قسم کے سماجی ماحول میں ہری لال کا خاندان رہ رہا تھا، اس میں اب بھی زیادہ تر ارینجڈ میرج ہی ہوتی تھیں۔

سریش کی نوکری لگتے ہی، اس کی شادی کے لیے رشتے آنے لگے۔

اُومادیوی کے دل میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ پیسے کی کمی کی وجہ سے ریکھا کی شادی طے نہیں ہو پار ہی ہے۔

ایک دن انہوں نے ہری لال سے کہا، ’’سنو جی، کیوں نہ سریش کی شادی ریکھا سے پہلے کر دیں ؟‘‘

’’ ریکھا کیا سوچے گی؟ پھر برادری والے کیا کہیں گے ؟‘‘ ہری لال نے خدشہ ظاہر کیا۔

’’ ریکھا کے بارے میں سوچ کر ہی بول رہی ہوں۔ ‘‘

’’کیا مطلب؟‘‘

’’ ریکھا کے کچھ اچھے رشتے پیسوں کی کمی کی وجہ سے ہاتھ سے نکل گئے۔ ‘‘

’’تو کیا؟‘‘

’’میں سوچ رہی تھی کہ اگر سریش کی شادی پہلے کر دیں، تو لڑکی والے جو جہیز ہمیں دیں گے، اسے ہم ریکھا کی شادی میں کام میں لا سکتے ہیں۔ ‘‘

’’میں تو سوچتا تھا کہ میں سریش کی شادی بغیر جہیز کے کروں گا۔ میں لڑکی کے خاندان والوں سے کچھ نہیں مانگوں گا۔ ‘‘

’’زیادہ آدرشوں والا بننے کی ضرورت نہیں۔ پھر میں تم سے کچھ مانگنے کو نہیں کہہ رہی اور مجھے بھی جہیز کا کوئی لالچ نہیں ہے۔ ‘‘

’’تو پھر؟‘‘

’’پھر کیا؟ چار سال سے کوشش کر رہے ہو۔ ریکھا پچیسویں میں چل رہی اب۔ بغیر مطالبے کا کوئی لڑکے والا سامنے آیا؟‘‘

’’ایک دو لوگ تو آئے تھے۔ ‘‘ ہری لال نے کہا۔

’’کیا ان کے لڑکے کسی لائق تھے ؟‘‘اُوما دیوی نے سوال کیا۔

ہری لال خاموش ہو گئے۔

………

چندا اپنے بھائی بہنوں میں سب سے بڑی تھی۔ اس سے چھوٹی دو بہنیں تھیں کرن اور روپا اور ایک چھوٹا بھائی ویویک تھا۔ والد منوہر اُورائی کے چھوٹے بازار میں چاٹ کا ٹھیلا لگاتے تھے۔ ماں کملا گھر میں سموسے، کچوری، پانی پوری وغیرہ بنا کر ٹھیلے پر فروخت کرنے کیلئے دیتی تھیں۔ کملا کا ہاتھ اس کام میں خوب سدھا ہوا تھا اور اسی وجہ سے منوہر کی چاٹ بازار میں خوب بکتی تھی۔ آمدنی ٹھیک ٹھاک تھی۔

چندا نے بارہویں پاس کر لی تھی۔ وہ گوری، دبلی اور تیکھے نین نقش والی خوبصورت لڑکی تھی۔ زیادہ تر وہ شلو ار سوٹ پہنتی تھی، لیکن جب کبھی کبھی شوق میں ماں کی ساڑی پہن لیتی، تو اس کی خوبصورتی میں چار چاند لگ جاتے۔ کملا اسے ساڑی میں دیکھتی تو اس کی بلائیں لیتی، لیکن ساتھ ہی اس کی شادی کی فکر بھی ستانے لگتی۔

منوہر کا مکان اُورائی کی ایک تنگ گلی میں تھا۔

گلی تنگ تھی، لیکن اس میں بڑے، اونچے، چھوٹے ہر طرح کے مکان تھے۔ منوہر کے برابر میں ورما جی کا مکان تھا۔ جن کا نئے بازار میں ایک لیڈیز اسٹور تھا۔ جس میں چوڑیاں، بندیاں اور سنگھار کی دیگر اشیاء بکتی تھیں۔ ورما جی کے دو بچے تھے، ایک لڑکی شیلی جس کی ایک سال پہلے کانپور میں شادی کر دی تھی اور دوسرا ایک لڑکا تھا سومیش عرف ّ سمّو جو چندا کا ہم عمر تھا۔ سمّو تعلیم کے ساتھ ساتھ دکان پر بھی اپنے والد کے ساتھ بیٹھتا تھا۔

منوہر اور ورما کے بچے کے ساتھ ساتھ کھیلتے کودتے بڑے ہوئے تھے۔ دونوں خاندانوں میں اچھا گھلنا ملنا تھا۔ ان کی چھتیں بھی ایک دوسرے سے اتنی ملی ہوئیں تھی کہ منڈیر کود کر ایک دوسرے کی چھت پر آ جا سکتے تھے۔ گرمیوں میں شام کو، ہوا کھانے کے لیے، دونوں گھروں کے افراد اپنی اپنی چھتوں پر آ جاتے اور وہیں گپیں لگاتے۔

ایسی ہی ایک شام کملا اور بچے چھت پر وقت گزار کر نیچے چلے گئے سوائے چندا کے۔ تھوڑی دیر بعد کسی کام سے کملا چھت پر گئی تو اس نے دیکھا چندا اور سمّو چھتوں کی درمیانی منڈیر پر جھکے، ایک دوسرے سے کچھ باتیں کر رہے تھے۔ کملا کو دیکھ کر چندا بولی، ’’ماں کچھ کام تھا کیا؟‘‘

’’کچھ کام سوچ کر ہی آئی تھی پر بھول گئی۔ ‘‘ یہ کہہ کر وہ نیچے چلی گئی اس کے پیچھے چندا بھی چلی آئی۔

کملا کو سمّو اور چندا دونوں پر اعتماد تھا، لیکن ان کی نوجوان عمر کا بھی اسے خیال تھا۔ ڈرتی تھی کوئی چکر نہ ہو۔ اس کا بس چلتا تو سمّو ہی سے چندا کا بیاہ کر دیتی۔ لیکن ورماجی کی برادری الگ تھی۔ وہ برادری اور سماج سے بہت ڈرتی تھی۔

رات کو جب بازار سے لوٹ کر منوہر کھانے کے لئے بیٹھا، تو اُس نے کھانا پروسا اور برابر میں بیٹھ گئی۔

’’تم بھی کھا لو۔ ‘‘ منوہر نے کملا سے کہا۔

’’تم کھاؤ، میں بعد میں کھاؤں گی۔ ‘‘کملا بولی۔

کملا کے اس انداز سے منوہر سمجھ گیا کہ وہ کسی سوچ میں ہے۔

’’سب ٹھیک تو ہے ؟‘‘

’’سب ٹھیک ہے۔ میں سوچ رہی تھی کہ چندا بڑی ہو گئی ہے۔ ہمیں اس کی شادی کے لیے لڑکے کی تلاش شروع کر دینا چاہیے۔ ‘‘کملا بولی۔

’’آج اچانک یہ خیال کس طرح آیا؟‘‘منوہر نے پوچھا۔

’’ایسے ہی۔ کبھی کبھی رشتہ طے ہوتے ہوتے وقت لگتا ہے، اس لئے ابھی سے شروعات کریں گے، تو سال چھ ماہ میں بات کچھ آگے بڑھے گی۔ ‘‘

’’وہ تو ٹھیک ہے، لیکن میں سوچ رہا تھا کہ چندا پہلے بی اے تک کم سے کم پڑھ لے۔ ‘‘

’’اب اتنی جلدی کون سی شادی ہوئی جاتی ہے، وہ پڑھتی رہے گی۔ ہمیں کوشش شروع کر دینی چاہیے، جس سے وقت رہتے لڑکی کا بیاہ ہو جائے۔ ‘‘

’’ٹھیک ہے میں خاندان والوں اور جان پہچان والوں سے کہہ دوں گا، ان کی نظر میں کوئی شادی کے قابل لڑکا ہو تو بتائیں۔ تم چندا کی کچھ اچھی سی فوٹو کھنچوا کر رکھ لو۔ ‘‘

منوہر نے کھانا ختم کیا اور منہ ہاتھ دھو کر چھت پر سونے چلا گیا۔ کملا، منوہر کے جواب سے مطمئن تھی۔ وہ سونے سے پہلے باورچی خانے کے بچے کچے کام نمٹانے میں لگ گئی۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: