Farar Novel by Ravi Ranjan Goswami – Episode 2

0

فرار از روی رنجن گوسوامی/عامر صدیقی قسط نمبر 2

مصنف سے ملیں : روی رنجن گوسوامی

اگلے دن اتوار تھا۔ اس دن چھوٹا بازار بند رہتا تھا۔ منوہر کے پاس تین چوائس ہوتیں یا تو وہ چھٹی منائیں یا ٹھیلے پر کم سامان بنوا کر لے جائیں اور ایک مختصر وقت کے لئے بازار جا کر آ جائیں، تیسری چوائس یہ تھی کہ سنیما ہال یا پارک کے پاس جا کر چاٹ بیچیں۔ لیکن وہاں کبھی کبھی دوسرے ٹھیلے والے برا مانتے، کیونکہ انہیں خوف رہتا کہ ان کی کمائی پر منفی اثر پڑے گا، لہذا وہ بھی کہیں نہیں جاتا۔ اپنے بازار کا ہی چکر لگا کر جلدی لوٹ آتا۔ اس دن وہ کملا کے ساتھ بڑے بازار سے ضروری خریداری کرتا یا بچوں کے ساتھ بیٹھ کر گپ شپ کرتا اور ٹی وی دیکھتا۔ کبھی وہ لوگ سنیما ہال میں جا کر فلم بھی دیکھ آتے۔ لیکن اس دن منوہر کو اپنے ایک چچیرے بھائی سوہن کی لڑکی کی شادی میں بمع اہل و عیال جانا تھا۔ شادی رات کو تھی اور وہاں رات گئے تک پروگرام چلنے والا تھا، لہذا اس نے دن میں گھر میں رہ کر آرام کرنے کا فیصلہ کیا۔

سوہن کا گھر، منوہر کے گھر سے تقریباً ًایک کلومیٹر کے فاصلے پر پرانی بستی میں واقع تھا۔ منوہر، کملا اور بچے شام تقریباً سات بجے تیار ہو کر پیدل ہی سوہن کے گھر کی طرف چل دیئے۔ منوہر نے ایک ڈنڈا اور فلیش لائٹ بھی لے لیا۔ در اصل سوہن کے گھر تک پہنچنے میں کئی گلیوں سے ہو کر گزرنا تھا، پھر انہی گلیوں سے رات گئے لوٹنا بھی تھا۔ آدھی رات میں ان گلیوں میں آوارہ کتوں کا ڈیرہ ہوتا تھا، جو ہر انجان شخص پر بھونکتے تھے اور کبھی ان کے کاٹ کھانے کا بھی خوف ہوتا تھا۔ کبھی کسی گلی میں بجلی نہیں ہوتی، تو گھٹا ٹوپ اندھیرا چھایا ہوتا تھا۔ منوہر اُورائی سے پوری طرح واقف تھا، سو وہ تیاری کے ساتھ چلا۔

غنیمت تھا کہ سوہن کی گلی تھوڑی چوڑی تھی اور اس میں شامیانہ اور کرائے کی پلاسٹک کی کرسیاں لگا کر مہمانوں کے بیٹھنے کا ٹھیک ٹھاک انتظام کیا گیا تھا۔ کملا، کرن اور روپا کے ساتھ سوہن کے گھر کے اندر چلی گئیں۔ منوہر اور ویویک باہر ہی مہمانوں کے درمیان بیٹھ گئے۔

تھوڑی دیر میں بارات آ گئی۔ دولہا شان سے ایک راجکمار کی طرح ایک سجی ہوئی گھوڑی پر سوار تھا۔ دلہن کے گھر کے دروازے پر دولہا کو کھڑا کر کے کچھ رسومات کرائی گئیں۔ پھر دولہے کوگھوڑی سے اتار کر شامیانے میں ہی، ایک چھوٹے سے اسٹیج پر ور مالا کی رسم کے لئے بٹھایا گیا۔ تھوڑی دیر میں دلہن کی کچھ سہیلیاں دلہن کو لے کر اس اسٹیج تک آئیں۔ منوہر نے دیکھا کہ دلہن کے ساتھ آئی ہوئی لڑکیوں میں ایک ان کی بیٹی چندا بھی تھی، جو ساڑی پہنے ہوئے اور کچھ خاص قسم کے بنائے گئے بالوں میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔ تبھی انہیں لگا کملا ٹھیک کہہ رہی تھی کہ بیٹی بڑی ہو گئی ہے۔

ورمالا کے بعد جوڑے کو گھر کے اندر لے گئے۔ شادی کی رسومات تو رات بھر چلنے والی تھیں۔ سوہن نے پڑوسی کے مکان کی چھت پر مہمانوں کے کھانے پینے کا اہتمام کیا تھا۔ چھت بڑی تھی۔ قریب ڈیڑھ سو مہمان ہوں گے۔ تین چار بار کی شفٹ میں سارے مہمانوں نے کھانا کھا لیا۔ خاص رشتے داروں کو چھوڑ کر سارے مقامی مہمان اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔ باراتی بھی آرام کے لیے چلے گئے۔

منوہر اور اس کے گھر والوں کو گھر پہنچتے پہنچتے رات کے ساڑھے بارہ بج گئے تھے۔ راستے میں ڈنڈا اور فلیش لائٹ کتوں اور اندھیرے سے بچنے میں کام آئے۔ گھر پہنچ کر سب لوگ جلد ہی سو گئے۔

………

کملا نے جب سے چندا اور سومیش کو چھت پر تنہائی میں منڈیر پر جھکے ہوئے کچھ بات چیت کرتے ہوئے دیکھا تھا، اسے چین نہیں آ رہا تھا۔ وہ جاننا چاہتی تھی کہیں ان کے بیچ پیار ویار تو نہیں ہے۔ کملا جانتی تھی کہ ویسے چندا اپنی زیادہ تر باتیں اسے بتاتی تھی، لیکن سوچتی تھی کہیں شرم یا خوف کی وجہ سے اس کے بارے میں نہ بتائے۔ اس نے چندا سے خود اس بارے میں پوچھنے کا فیصلہ کیا۔

گرمی کی چھٹیاں چل رہی تھیں۔ چندا چھٹیوں میں گھر کے کام کاج میں ہاتھ بٹاتی تھی۔ ایک روز جب کملا اور چندا باورچی خانے میں تھے کملا نے بات چھیڑی۔

’’اب بارہویں کلاس کے بعد کیا کرو گی؟‘‘

’’بی اے کروں گی، ماں، کیوں ؟‘‘

’’ڈگری کالج تو بڑا دور ہے۔ ‘‘

’’اتنا بھی دور نہیں ہے۔ شیلی دیدی تو پیدل چلی جاتی تھیں۔ میں تو سائیکل سے بھی جا سکتی ہوں۔ ‘‘

’’اچھا یہ ورماجی کا لڑکا سومیش کیسا لڑکا ہے ؟‘‘

’’ماں، تم تو ایسے پوچھ رہی ہو، جیسے تم اسے جانتی نہیں۔ سمّو بھیا ایک دم بدھو ہیں۔ ‘‘چندا نے ہنستے ہوئے کہا۔

کملا نے چین کی سانس لی۔ اسے چندا اور اس کے بھولپن پر پیارامڈ آیا۔ پھر بھی اس نے کریدا، ’’اس دن چھت پر تم دونوں کیا باتیں کر رہے تھے ؟‘‘

’’میں اسے ڈگری کالج سے داخلہ فارم لانے کو بول رہی تھی۔ فارم ملنا شروع ہونے والے ہیں۔ وہ اپنی موٹر سائیکل پہ جا کر لے کر آئے گا۔ ‘‘

’’تو وہ لے کر آیا؟‘‘

’’کل سے ملنا شروع ہوں گے۔ وہ لے آئے گا۔ ورنہ مجھے یا پاپا کو جانا پڑتا۔ ‘‘

’’اچھا اب تو کام چھوڑ باقی میں کر لوں گی۔ ‘‘کملا نے چندا سے کہا۔

’’ٹھیک ہے ماں، جب میری ضرورت ہو بلا لینا۔ ‘‘ یہ کہہ کر چندا باورچی خانے سے باہر چلی گئی۔

………

جون کا مہینہ تھا، دوپہر کی کڑک دھوپ میں بازار مندا تھا۔ چھوٹے بازارکے دکان داروں نے مل کر بازار میں لوگوں کو سورج سے بچانے کے لیے ترپال لگوا دیا تھا، لیکن لوگ گھر سے باہر نکلنے کی ہمت کریں تو وہاں آئیں۔ اکا دکا گاہک ہی یہاں وہاں نظر آ رہے تھے۔ منوہر نے سوہن کی پرچون کی دکان کے پاس ٹھیلا کھڑا کیا اور سوہن کی دکان میں چلا آیا۔ سوہن بھی گدی پر سستا ہی رہا تھا۔ دکان میں بیٹھنے کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ ایک سٹول تھا جو دکان کے شیلفوں میں اونچائی پر رکھا سامان اتارنے کے کام آتا تھا۔ منوہر اسی پر جا کر بیٹھ گیا۔

’’بے انتہا گرمی پڑ رہی ہے اس بار۔ ‘‘

’’بے انتہا۔ ‘‘ سوہن نے حمایت کی۔

’’سنیتا کیسی ہے ؟‘‘منوہر نے سوہن کی بیٹی کے بارے میں پوچھا، جس کی کچھ دنوں پہلے شادی ہوئی تھی اور جس میں سوہن مع بیوی بچوں کے شامل ہوا تھا۔

’’اچھی ہے۔ ایشور کی کرپا اور بزرگوں کا آشیرواد ہے، سنیتا کو گھر اور ور دونوں اچھے ملے۔ ‘‘

کملا نے دوبارہ چندا کی شادی کا ذکر نہیں چھیڑا تھا، پھر بھی منوہر کو اس کی بات یاد رہی۔

’’بھیا چندا کے لیے بھی کوئی گھر ور بتا۔ ‘‘

’’ چندا کی عمر ابھی کتنی ہے ؟‘‘

’’اٹھارہ کی ہو گی۔ ‘‘

’’جلدی کیا ہے اسے اور پڑھاؤ لکھاؤ ابھی۔ ‘‘

’’وہ تو پڑھے گی اگر چاہے گی۔ کوشش تو شروع کریں ؟‘‘

’’میری نظر میں ویسے اس اُورائی میں ہی ایک لڑکا ہے۔ ‘‘ سوہن نے کہا۔

’’کہاں ہے ؟‘‘ منوہر نے بے چینی سے پوچھا۔

’’سرکاری اسکول میں اپنی برادری کے ایک ماسٹر ہری لال ہیں۔ ان کالڑکا ہے۔ چاہو تو مل لینا۔ اسکول میں ہی رہتے ہیں۔ ‘‘سوہن بولا۔

تبھی منوہر کے ٹھیلے پر کچھ گاہک آ کھڑے ہوئے۔ منوہر فوری طور پر اپنے ٹھیلے پر پہنچ گیا اور گاہکوں کی ڈیمانڈ کے مطابق پتے کے دونوں میں انہیں میٹھی تیکھی چٹنی کے ساتھ سونٹھ کے پانی کی مٹکی میں ڈبوکر پانی پوری کھلانے لگا۔

جیسے جیسے شام ہوئی بازار میں چہل پہل بڑھتی گئی۔ رات آٹھ بجے تک منوہر کے ٹھیلے کا سارا سامان بک چکا تھا۔ وہ گھر کی طرف چل دیا۔

رات کو گھر پہنچنے کے بعد منوہر کو خیال آیا کہ سوہن سے اس نے یہ تو پوچھا ہی نہیں کہ ماسٹر ہری لال کا لڑکا کرتا کیا ہے۔ اس نے اپنے موبائل فون سے سوہن سے رابطہ کیا اور ساری معلومات لے لیں تاکہ کملا کو بتا سکے۔

گرمی زیادہ تھی، لہذا منوہر رات کو بھی نہا کر کھانے کے لئے بیٹھا۔ کملا نے کھانا پروسا اور پاس ہی بیٹھ گئی۔

’’سوہن بھائی نے چندا کے لئے ایک لڑکے کابتایا ہے۔ ‘‘ کھانا کھانے کے درمیان منوہر نے کملا سے کہا۔

’’اچھا، کہاں کا ہے ؟ کیا کرتا ہے ؟‘‘

’’یہیں اُورائی کے سرکاری اسکول میں ایک استاد ہیں، ان کا لڑکا ہے۔ بی اے پاس ہے اور ایک میڈیکل اسٹور میں کام کرتا ہے۔ ‘‘

’’یہ تو بہت اچھا ہے اگر بات بن جائے، اپنی چندا پاس میں ہی رہے گی۔ ‘‘

’’کسی اتوار کو ان کے گھر جاؤں گا۔ ‘‘

کھانا ختم کر کے منوہر آرام کرنے چھت پر چلا گیا۔

………

بازار میں خریداری کے دوران ہی ماسٹر ہری لال کا تعارف سوہن سے ہوا تھا۔ ماسٹر صاحب اس کی ہی برادری کے نکلے، تو ان سے دعا سلام رہنے لگی۔ کبھی ماسٹرصاحب کچھ خریدنے اس کی دکان پر آتے تو سوہن ادب سے انہیں بیٹھا لیتا۔ منوہر نے اس سے جب ماسٹر صاحب کے گھر ساتھ چلنے کے لئے کہا تو وہ مان گیا اور اتوار کی صبح دونوں ماسٹر صاحب کے گھر پہنچ گئے۔

ماسٹرصاحب نے احترام سے انہیں بٹھایا۔ سوہن نے منوہر کا تعارف کرایا اور اپنے یہاں آنے کا مقصد بتایا۔ ماسٹرصاحب نے انہیں ناشتا کرایا۔ منوہر اور ہری لال جی نے ایک دوسرے کے گھر خاندان، رشتہ داروں کے بارے میں معلومات شیئرکیں۔ منوہر، چندا کی تصویر اور جنم کنڈلی ساتھ لے گیا تھا۔ اس نے دونوں چیزیں ماسٹر صاحب کو سونپ دیں۔ ماسٹر صاحب نے سریش کو بلا کر ان لوگوں سے ملوایا۔ اس کے بعد منوہر اور سوہن نے ماسٹر صاحب سے اپنی تجویز پر غور کا پوچھا۔ ماسٹر صاحب نے گھر میں سب سے مشورہ کرنے کے بعد، بات کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ وہ دونوں ان سے رخصت لے کر واپس ہو لئے۔

چندا کی تصویر ماسٹر ہری لال کے گھر میں سب کو پسند آئی، لیکن سریش ابھی شادی کے لئے تیار نہیں تھا اور اُوما دیوی کو اس بات کا شک تھا کہ منوہر کے مالی حالات کیسے ہوں گے۔ انہیں ڈر تھا کہیں ایسا نہ ہو کہ سریش کی دلہن تو گھر آ جائے اور بیٹی کی ڈولی پھر بھی نہ اٹھے۔ منوہر کچھ دان جہیز دے پائے گا؟ انہوں نے سوچا ہری لال تو اس بارے میں لاتعلق ہیں، لہذا انہیں ہی کچھ کرنا ہو گا۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: