Farar Novel by Ravi Ranjan Goswami – Episode 3

0

فرار از روی رنجن گوسوامی/عامر صدیقی قسط نمبر 3

مصنف سے ملیں : روی رنجن گوسوامی
گھر پہنچ کر منوہر نے کملا کو ماسٹر جی سے ہوئی بات چیت کے بارے میں بتایا۔ کملا کو ابھی اتنی جلدی نہیں تھی، لیکن اس بات سے خوش تھی کہ منوہر نے کوشش کرنا شروع کر دی تھی۔

’’ لڑکا دیکھا؟ کیسا ہے ؟‘‘کملا نے بے چینی کا اظہار کیا۔

’’ٹھیک ہے۔ ‘‘

’’اس کی تصویر لے آتے۔ ‘‘

’’یاد نہیں رہا۔ اگلی بار جب جائیں گے، تو لے آئیں گے۔ ویسے بھی یہیں بازار میں تو ہے، آتے جاتے تمہیں دکھادوں گا۔ ‘‘

’’آج ٹھیلے کے لئے کچھ بنانا ہے ؟‘‘

’’تھوڑا بہت بنا دینا۔ شام کو ایک آدھ گھنٹے کیلئے بازار ہو آؤں گا۔ ‘‘

کملا اپنے کام پر لگ گئی۔ منوہر بیٹھک میں ٹی وی کھول کے بیٹھ گیا۔ بچے دوسرے کمرے میں گپ شپ لگا رہے تھے۔ تبھی دروازے پر دستک ہوئی، کھولا تو ورما کا لڑکا سومیش ہاتھ میں کچھ کاغذ لئے کھڑا تھا۔

منوہر کو دیکھ کر وہ بولا، ’’ نمستے چاچا جی، یہ فارم چندا نے منگایا تھا، اسے دے دینا۔ ‘‘

سومیش نے ایک فارم منوہر کو دیا اور واپس چلا گیا۔ منوہر نے دیکھا وہ کالج میں بی اے میں داخلے کا فارم تھا۔

منوہر صرف بارہویں پاس تھا۔ لیکن اسے تعلیم کی اہمیت کا اندازہ تھا۔ وہ سوچنے لگا، ’’اگر ماسٹرصاحب نے شادی کے لیے ہاں کی، تو کیا اسے فوری طور پر چندا کا بیاہ کر دینا چاہیے، جبکہ چندا ابھی آگے پڑھنا چاہتی ہے ؟‘‘

اس نے چندا کو آواز دے کر بلایا اور فارم دے دیا۔

فارم دیکھ کر چندا بولی، ’’پاپا میں بی اے میں داخلہ کے لئے فارم بھر دوں ؟‘‘

منوہر نے جواب دیا، ’’تم چاہتی ہو بھر تو دو۔ ‘‘

چندا کے چہرے پر جوش تھا۔ وہ خوش ہو کر اندر چلی گئی۔

………

شام کو ٹھیلے پر گاہکوں کو چاٹ بنا کر دیتے ہوئے بھی، اس کے دل میں خیال چل رہا تھا، کیا چندا کی شادی ابھی کر دینی چاہئے ؟

رات کو کھانے پر بھی گم صم بیٹھا، وہ یہی سوچ رہا تھا۔ کملا نے اسے سوچ میں پڑے دیکھا تو پوچھ لیا، ’’آج بڑے چپ ہو، کیا سوچ رہے ہو۔ ‘‘

’’یہی سوچ رہا ہوں کہ چندا کی شادی میں کہیں ہم جلدبازی تو نہیں کر رہے ؟‘‘

’’کہاں کل ہی شادی ہوئی جا رہی ہے۔ ‘‘

’’ چندا پڑھنے میں اچھی ہے اور آگے پڑھنا چاہتی ہے۔ ہمیں اسے پڑھنے دینا چاہیے۔ ‘‘

’’پڑھنے سے کون روک رہا ہے۔ اگر گھر، لڑکا اچھے ہیں اور وہ راضی ہوتے ہیں، تو رشتہ پکا کر دیں گے۔ شادی بعد میں کریں گے۔ ‘‘کملا نے کہا۔

’’کیا کوئی اتنا انتظار کرے گا؟‘‘منوہر نے پوچھا۔

کملا بولی، ’’اگر بہت اچھا رشتہ ہے تو شادی کر دیں گے۔ بی اے چندا شادی کے بعد کر لے گی۔ میں نے بھی تو بارہویں کا امتحان شادی کے بعد دیا تھا۔ ‘‘

’’اچھا ٹھیک ہے۔ دیکھا جائے گا۔ ‘‘یہ کہہ کر منوہر اٹھ گیا۔

………

ماسٹر صاحب کے گھر میں، سریش شادی سے انکار کر رہا تھا۔ ماسٹر ہری لال نے تھوڑا بہت سمجھایا اور چھوڑ دیا۔ سریش کو قائل کرنے کی ذمہ داری اُوما دیوی پر زیادہ تھی۔

اُومادیوی نے ایک روز سریش سے بات چھیڑی، ’’سریش بیٹا تو شادی کے لئے کیوں انکار کر رہا ہے ؟‘‘

سریش بولا، ’’پہلے ریکھا دیدی کی شادی تو ہو جائے۔ ‘‘

’’تم دیکھ تو رہے ہو، تمہارے پاپا گزشتہ کئی سال سے اس سلسلے میں کہاں کہاں نہیں بھٹکے۔ کتنی جگہوں پر بات چلائی لیکن کہیں بات نہیں بنی۔ ‘‘

’’لیکن ابھی میری آمدنی بھی بہت کم ہے۔ ‘‘

’’ابھی دن ہی کتنے ہوئے ہیں تمہیں نوکری کئے ہوئے۔ وقت کے ساتھ آمدنی بھی بڑھ جائے گی۔ ‘‘

’’لیکن اچھا نہیں لگے گا کہ شادی کے لائق بڑی بہن کنواری رہے اور بھائی شادی کر لے۔ ‘‘

اُومادیوی نے تھوڑا چڑ کر کہا، ’’اگر ریکھا کی تقدیر میں شادی کی لکیر نہ ہو، تو تم سب بھی کیاکنوارے رہو گے ؟‘‘

’’پر میری شادی کی اتنی جلدی کیوں ؟‘‘سریش نے سوال کیا۔

اُومادیوی نے اب اسے بغیر لگی لپٹی کے بتایا کہ وہ سریش کی شادی ریکھا سے پہلے کیوں کروانا چاہتی ہے۔ بات کرتے ہوئے ریکھا کے بارے میں سوچ کر اُوما دیوی روہانسی ہو گئی۔ سریش بھی سوچ میں پڑ گیا۔

………

کئی دنوں سے سریش کا روز رات کو بہت دیر سے سونے اور صبح دیر سے جاگنے کا سلسلہ جاری تھا۔ پھر اچانک کسی روز آنکھ بہت جلد کھل جاتی تھی، لیکن کبھی تازہ دم محسوس نہیں ہوتا تھا۔ سر بھاری اور بدن کا پور پور ٹوٹتا ہوا سامحسوس ہوتا۔ ایک بار ایک مقامی ڈاکٹر نے کچھ دنوں کے لیے اسے نیند کی گولیاں لکھی تھیں۔ وہ دوا کی دکان سے کبھی کبھی وہی گولیاں لے آتا اور رات کو کھا کر سو جاتا۔ کچھ آرام مل جاتا تھا۔ جوں جوں شادی کی تاریخ قریب آ رہی تھی، سریش کی گھبراہٹ بڑھتی جا رہی تھی۔ کبھی کبھی وہ سوچتا کہ اسے تو خوش ہونا چاہیے، لیکن ایسا ہوتا نہیں تھا۔ ایک تو وہ اپنی بڑی بہن ریکھا سے نظریں نہیں ملا پا رہا تھا، دوسرے چندا کی خوبصورتی کے آگے آئینہ اسے منہ چڑاتا دکھائی دیتا تھا۔ کچھ دوست اس سے شادی کو لے کر مذاق کرتے، تو وہ صرف ہلکا سا مسکرا بھر دیتا۔ کبھی اسے لگتا شادی نہ کرے لیکن وہ ماں سے ہاں کہہ چکا تھا اور چندا کے گھر والوں کو منظوری دی جا چکی تھی۔ دونوں پارٹیوں کی طرف سے شادی کی تیاریاں شروع کی جا چکی تھیں۔

ہر روز کی طرح وہ صبح نو بجے سوکر اٹھا اور فوری طور پر نہادھوکر اور ناشتہ کر کے دکان جانے لگا، تو ماں نے اسے روک کر کہا، ’’ایک منٹ ٹھہر۔ ‘‘

یہ کہہ کر وہ اندر جا کر ایک بیگ لے کر آئیں اور اسے تھماتے ہوئے بولیں، ’’اس میں بازار والوں کیلئے شادی کے کارڈ ہیں، بانٹ دینا اور تیرے لئے شیروانی کا کپڑا ہے، اسے آج ہی سلنے کے لیے دے دینا۔ ‘‘

اس نے بیگ لیا اور تیز قدموں سے بازار کی طرف چل دیا۔

………

دو ہفتے پہلے۔۔ ۔

چندا ویسے تو کبھی کبھی اپنی شادی کا سوچا کرتی تھی کیونکہ ایک دن اس کی بھی شادی ہو گی ہی۔ لیکن اتنی جلدی ہو گی اس نے اس کا تصور بھی نہیں کیا تھا۔ جب کملا نے اسے بتایا تھا کہ لڑکے والے اسے دیکھنے آنے والے ہیں، تو وہ بھونچکی سی ماں کو دیکھتی رہ گئی تھی۔ اس کے منہ سے نکلا تھا، ’’کیا؟‘‘اسے بالکل یقین نہیں ہوا تھا۔ اس کی شادی کی کہیں بات چل رہی تھی، اور اس کی اسے جانکاری بھی نہیں تھی۔

کملا نے دہرایا، ’’شام کو تمہیں دیکھنے والے آ رہے ہیں، ساڑی پہن کر اچھی طرح سے تیار ہو جانا۔ ‘‘

’’مجھے بتایا بھی نہیں اور اتنی جلدی شادی؟‘‘ چندا نے پریشان ہو کر کہا۔

’’آج ہی لڑکے والوں نے اطلاع بھیجی ہے۔ تو پریشان نہ ہو۔ اُورائی کا ہی لڑکا ہے، گھر بھی اچھا ہے تو خوش رہے گی اور ہمارے نزدیک ہی رہے گی۔ فکر نہ کر تیری پڑھائی بھی نہیں رکے گی۔ ‘‘کملا نے اسے یقین دلایا۔ چندا فرمانبردار بیٹی تھی، جلدی مان گئی۔

شام کو لڑکا اپنے ماں باپ کے ساتھ آیا۔ جیسا کہ چلن تھا چندا کو ان کے درمیان بٹھایا گیا۔ لڑکے کے باپ نے لڑکے سے کہا، ’’سریش، چندا سے کچھ پوچھنا ہے تو پوچھ لو۔ ‘‘

سریش نے ایک نظر چندا کو دیکھا اور ہلکے سے مسکرایا۔ مگرپوچھا کچھ نہیں۔ سریش کی ماں نے ہی چندا سے بات چیت کی۔ تھوڑی دیر میں منوہر نے چندا کو بہانے سے اندر بھیج دیا۔ جاتے جاتے چندا نے ایک نظر سریش کو دیکھا اور اندر کمرے میں چلی گئی۔

اُومادیوی اب مدعے پر آئیں اور سیدھا منوہر سے بولی، ’’بھائی صاحب، جب سے سریش کی نوکری لگی ہے، ایک ہفتہ بھی ایسا نہیں گیا جب کوئی لڑکی والا گھر نہ آیا ہو۔ ‘‘

منوہر چپ رہا۔

اُومادیوی نے آگے مزید کہا، ’’کچھ لوگ تو شادی میں بہت کچھ دینے کی بات کر کے گئے، لیکن ہم اپنے جیسے لوگوں ہی رشتہ بنانا چاہتے ہیں تاکہ لڑکی میں ایسے سنسکار ہوں کہ ہمارے ساتھ اچھی طرح ہم آہنگی بیٹھا سکے۔ ‘‘

اس کا جواب کملا نے دیا، ’’بہن جی، ہماری چندا بہت نیک اورسگھڑ ہے۔ ‘‘

ماسٹر صاحب اور سریش خاموش تھے۔

اُومادیوی نے منوہر سے پوچھا، ’’آپ شادی کیسی کریں گے ؟‘‘

’’ اپنی حیثیت کے مطابق اچھے سے اچھا کرنے کی کوشش کریں گے۔ ‘‘

’’میں اس لئے پوچھ رہی تھی کہ آپ نے ذہن میں کچھ سوچ کر ضرور رکھا ہو گا۔ کچھ بجٹ بھی بنایا ہو گا۔ شادی بیاہ میں دونوں گھروں کا کچھ خرچہ تو ہوتا ہی ہے۔‘‘

منوہر نے اشارہ سمجھ کر کہا، ’’ دیدی جی میرا بجٹ آٹھ لاکھ کا ہے۔ ‘‘

اُومادیوی کھل کر اور کچھ بھی بولنا چاہ رہی تھیں، تبھی ماسٹر جی نے اٹھتے ہوئے کہا، ’’اب چلا جائے۔ ‘‘

ماسٹر جی نے منوہر سے ہاتھ ملایا اور کہا، ’’ہم ایک دو دن میں آپ سے رابطہ کریں گے۔ ‘‘

ماسٹر جی، اُوما دیوی اور سریش، منوہر اور کملا سے رخصت لے کر گھر واپس آ گئے

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: