Farar Novel by Ravi Ranjan Goswami – Episode 4

0

فرار از روی رنجن گوسوامی/عامر صدیقی قسط نمبر 4

مصنف سے ملیں : روی رنجن گوسوامی
اُومادیوی کو چندا پسند آئی۔ ساتھ ہی وہ سمجھتی تھیں کہ سریش کیلئے اس سے بہتر رشتہ نہیں ملے گا۔ دو دن بعد ماسٹر صاحب نے فون پر منوہر کو شادی کی منظوری کی اطلاع دے دی۔ منوہر نے دل کو سمجھالیا کہ اُورائی میں ہی برادری کا اچھا گھر اور لڑکا مل رہا ہے اور ایک ذمہ داری نمٹ جائے گی۔ چندا کو کملا نے پہلے ہی سمجھا دیا تھا۔ باقی بچے بڑی بہن کی شادی کو لے کر خوش ہی تھے۔ منوہر نے ماسٹر صاحب سے مل کر شادی کی تاریخ اوردیگر جزئیات طے کیں۔ تین ہفتے کے اندر دھوم دھام سے سریش اور چندا سارے رسوم و رواج کے ساتھ شادی کے بندھن میں بندھ گئے یا باندھ دیئے گئے۔

گرمی کی شادی تھی، جس کے بارے میں سریش کے کچھ دوست مذاق میں کہتے تھے، ’’بڑا پسینہ بہانے کے بعد سریش بھائی کو دلہن اور ہمیں بھابھی ملی ہیں۔ ‘‘

سریش اور چندا کی قسمت سے سہاگ رات کو بادلوں کی گرج چمک کے ساتھ تیز بارش ہوئی اور موسم تھوڑا سہانا ہو گیا۔ رات اچھی طرح کٹی۔

اگلے ایک ہفتے تک سریش اور چندا اُورائی میں موجود رشتے داروں کی دعوتوں پر جاتے رہے۔

تھوڑے دن بعد چندا نے رسم کے مطابق سسرال میں پہلی بار کھانا بنایا۔ ساس سسر نے اسے نیگ میں تحائف دیئے اور سب نے کھانے کی خوب تعریف کی۔

اس کے بعد سریش نے دکان جانا شروع کر دیا اور چندا نے گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹانا شروع کر دیا۔ چندا اپنی شادی سے خوش تھی، کیونکہ سریش اسے سادہ مزاج کے لگے اور وہ اس کا دھیان رکھتے تھے۔ جب اس نے انہیں اپنے آگے پڑھنے کی خواہش بتائی، تو انہوں نے اسے ماسٹر صاحب اور اُوما دیوی سے مشورہ کر لینے کا مشورہ دیا۔

تھوڑے دنوں بعد کالج کھلنے والے تھے۔ ایک دن گھر کے سارے افراد ایک ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا رہے تھے اور چندا کھانا پروس رہی تھی۔ اسی درمیان چندا نے اپنی ساس سے پوچھا، ’’ماں جی میں بی اے کرنا چاہتی ہوں۔ کالج کھلنے والے ہیں۔ کیا میں ایڈمشن لے لوں ؟‘‘

یہ سن کر ماسٹر صاحب کے چہرے پر خوشی کے رنگ ابھرے، لیکن اُوما دیوی تھوڑا سوچ میں پڑ گئیں۔ وہ دل میں سوچنے لگیں، ’’ادھر اپنے بچوں کو مناسب طریقے سے پڑھانا مشکل ہے، اب بہو کو بھی پڑھانا پڑے گا کیا؟ اور وہ پہلے کی طرح ہی گھر گرہستی کے کام میں لگی رہیں گی؟‘‘

اُومادیوی نے چندا سے کہا، ’’تمہارے ماں باپ اگر تمہیں پڑھانا چاہتے ہیں، تو پڑھ سکتی ہو۔ ‘‘

ماسٹر صاحب نے اپنی بیوی کی بات کی ؎گہرائی کو سمجھ کر ٹوکا، ’’ چندا اب ہماری بہو ہے اور وہ ہماری رائے پوچھ رہی ہے۔ ‘‘

اُومادیوی نے کہا، ’’اگر آپ اور سریش جی ہاں کہتے ہیں، تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ ‘‘

ماسٹر صاحب بولے، ’’تمہارا دل ہے تو ضرور پڑھو بیٹی۔ ‘‘

دوسرے ہی دن چندا نے داخلہ فارم بھر کر سریش کے ہاتھوں کالج میں جمع کروا دیا۔

………

ماسٹر صاحب کے دانتوں میں ایک ہفتے سے درد تھا۔ کچھ کھانے پینے پر بے انتہا ٹیسیں ہوتی تھیں۔ کچھ دنوں سے پتلی کھچڑی اور دودھ وہ بھی گنگنا، پی کر کام چلا رہے تھے۔ کچھ آلسی پن اور کچھ کنجوسی کی وجہ سے ابھی تک ڈاکٹر کے پاس نہیں گئے تھے۔ آج رات تکلیف برداشت سے باہر ہو رہی تھی۔ بائیں جانب کی سب سے اندرونی داڑھ میں شدید درد تھا، جس کا اثر بائیں آنکھ کی بغل میں کنپٹی تک محسوس ہو رہا تھا۔ وہ بائیں گال پر بائیں ہتھیلی لگائے درد میں کچھ آرام پانے کی کوشش کر رہے تھے۔ تبھی چندا ادھر آئی۔ اس نے ماسٹر صاحب کو اس طرح بیٹھا دیکھ کر پوچھ لیا، ’’پاپاجی دانت میں درد ہے ؟‘‘

’’ہاں بیٹی تھوڑا درد تو ہے۔ ‘‘ ہری لال بولے۔

چندا اپنے کمرے میں گئی اور لونگ کا تیل اور روئی لے کر واپس آئی۔ دونوں چیزیں ماسٹر صاحب کو دیتے ہوئے بولی، ’’پاپاجی لونگ کا تیل دانت میں لگا لیجیے۔ اس سے کچھ آرام مل جائے گا۔ ‘‘یہ کہہ کر چندا اندر چلی گئی۔ ماسٹر صاحب نے دل سے چندا کو دعا دی۔

چندا کا کالج شروع ہو گیا تھا، پھر بھی صبح اٹھ کر وہ کام میں ہاتھ بٹاتی۔ رات میں کچن میں بھی ساس کا ہاتھ بٹاتی۔ سب کو کھانا کھلا کر پھر خود کھاتی، تب اپنے کمرے میں جا پاتی۔ سریش کبھی اس کا انتظار کرتا اور کبھی سو جاتا تھا۔ وہ تھوڑی دیر تک پڑھائی کرتی پھر سو جاتی۔

دوسرے دن ماسٹر صاحب ڈینٹسٹ کے کلینک پہنچے۔ ڈاکٹر نے معائنہ کر کے بتا دیا کہ دو دانتوں میں روٹ کینال کرنا پڑے گا۔ پانچ ہزار کا خرچہ آئے گا۔ فی الحال کچھ درد کی گولیاں دے کر دو دن بعد آنے کو کہا۔

ماسٹر صاحب دل ہی دل بڑبڑائے، ’’غریبی میں آٹا گیلا۔ ‘‘ ریکھا کی شادی کے بعد ہاتھ تھوڑا تنگ تھا۔

ماسٹر ہری لال بیڑی، سگریٹ، پان، تمباکو جیسی کسی چیز کا شوق نہیں رکھتے تھے۔ ہاں میٹھے کا شوق ضرور تھا۔ کھانے کے بعد ان کو کچھ میٹھا ضرور چاہئے تھا۔ کچھ نہیں ہوتا تو گڑ یا چینی سے کام چلا لیتے تھے۔

ڈاکٹر کے یہاں سے واپسی پر بیوی نے پوچھا، ’’کیا کہا ڈاکٹر نے ؟‘‘

’’کچھ نہیں، دوا دی ہے۔ ‘‘انہوں نے مختصر جواب دیا۔

ماسٹر صاحب نے اس دن چھٹی لے رکھی تھی۔ ان کا دھیان چندا کی طرف چلا گیا۔

’’بہو تو کالج چلی گئی ہو گی!‘‘انہوں نے یوں ہی کہا۔

’’ ہاں گئی ہے۔ میری قسمت میں بہو کا سکھ کہاں !‘‘ اُومادیوی ٹھنڈی سانس لیتے ہوئے بولیں۔

ماسٹر صاحب چپ رہے۔

………

چندا کالج اور گھر کے کاموں کے بیچ اتنی مصروف رہتی تھی کہ سریش کو وقت کم دے پا رہی تھی۔ سریش کبھی کبھی اس کمی کو محسوس کرتا تھا۔ اس نے دیکھا کہ چندا کے آنے کے بعد سے اس کی بہن رشمی نے گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹانا تقریباً بند کر دیا تھا۔ امیت تو ابھی چھوٹا تھا اور کھیل کود میں مست رہتا تھا۔ رشمی اور امیت کی گھر میں جو فرمائیشیں پہلے ماں سے ہوتی تھیں، اب وہ اپنی بھابھی سے کرتے۔ چندا سب کا خیال رکھتی تھی۔ اس نے کبھی کوئی شکایت نہیں کی۔

ایک دن گھر کے سب لوگ رات کا کھانا کھا کر ٹی وی پر کوئی پروگرام دیکھ رہے تھے۔ رشمی کو پیاس لگی تو وہ چندا سے بولی، ’’بھابھی پیاس لگی ہے۔ ‘‘

چندا اٹھ کر پانی لینے چلی گئی۔

سریش نے رشمی کو ٹوکا، ’’تم خود اٹھ کر پانی لے سکتی تھیں۔ ہر کام بھابھی سے کرانا کیا ضروری ہے ؟‘‘

رشمی نے کوئی جواب نہیں دیا اور ٹی وی دیکھتی رہی، البتہ سریش کی ماں نے ضرور ترچھی نظروں سے سریش کی طرف دیکھا۔ سریش نے تھوڑا عجیب محسوس کیا تو وہ وہاں سے ہٹ کر اپنے بیڈروم میں جا کر لیٹ گیا۔ تقریباً گیارہ بجے چندا کمرے میں آئی۔

چندا کا ہاتھ پکڑ کر سریش نے کہا، ’’اتنا کام کیوں کرتی ہو؟‘‘

’’گھر کا کام سب کرتے ہیں۔ ‘‘ چندا نے مسکراتے ہوئے کہا اور سریش کے مزید قریب آ گئی۔

’’تم بہت اچھی ہو۔ ‘‘ کہتے ہوئے سریش نے اسے آغوش میں لے لیا۔

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: