Farar Novel by Ravi Ranjan Goswami – Episode 5

0

فرار از روی رنجن گوسوامی/عامر صدیقی قسط نمبر 5


مصنف سے ملیں : روی رنجن گوسوامی

سریش کی شادی ہوئے چھ ماہ گزر چکے تھے۔ ماسٹر صاحب اس بات سے خوش تھے کہ ساس بہو کی ابھی تک کوئی تکرار نہیں ہوئی تھی۔ اُوما دیوی کواپنی ماں سے ان کے مرتے دم تک جھگڑتے وہ دیکھ چکے تھے۔ پر ان کی خوشی زیادہ دنوں تک نہیں ٹکی۔

اس دن سب لوگوں کو ایک شادی کی تقریب میں جانا تھا۔ سب لوگ تیار ہو رہے تھے۔ چندا اپنی ماں کی دی ہوئی سبز بنارسی ساڑی اور کندن کا ہار پہن کے شادی میں جانا چاہتی تھی۔ شادی میں ملی تقریباً ساری چیزیں اُوما دیوی نے اپنی الماری میں رکھی ہوئی تھیں۔

چندا نے اُوما دیوی سے کہا، ’’ماں جی، میری ماں نے جو سبز بنارسی ساڑی اور کندن کا ہار دیا تھا، وہ دے دیجیے۔ ‘‘ اُوما دیوی چونک گئیں اور ان کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔ انہوں نے چندا کی طرف دیکھے بغیر پوچھا، ’’کیوں ؟‘‘

’’میں آج شادی میں پہن کے جانا چاہتی ہوں۔ ‘‘

’’اتنی بھاری ساڑی سنبھال لو گی؟ اور رات برات زیادہ زیور پہن کے جانے کی ضرورت کیا ہے ؟‘‘

اُومادیوی نے ٹالنا چاہا۔ چندا کو معلوم تھا کہ اس کی شادی میں تحائف کے روپ میں ملے روپے پیسے اور دیگر چیزیں، ریکھا کی شادی میں جہیز کی شکل میں دے دی گئی ہیں۔ لیکن سب کچھ دے دیا گیا تھا، اسے معلوم نہیں تھا، نہ اس نے اس کا تصور کیا تھا۔

’’ماں جی وہاں میری کچھ پرانی سہیلیاں بھی آئیں گی، جن سے میں اپنی شادی کے بعد پہلی بار ملوں گی۔ ‘‘ چندا نے وجہ بتائی۔

’’بہو ضد نہ کرو، وہ میں رکھ کر بھول گئی۔ ڈھونڈنے میں فالتو ٹائم خراب ہو گا۔ ‘‘

’’ماں جی آ پکی الماری یا صندوق میں ہی ہوں گی۔ آپ تیار ہوں۔ لائیں چابیاں مجھے دے دیجئے، میں تلاش کر لوں گی۔ ‘‘

اُومادیوی فطرتاً بہت تیز تھیں، لیکن جھوٹ بولنے میں ماہر نہیں۔ نہ انہیں کوئی چال بازی پسند تھی۔ پھر بھی انہوں نے تھوڑے سے جھوٹ کا سہارا لیا۔

’’ارے بہو میں تو بھول ہی گئی تھی، وہ دونوں چیزیں تو ریکھا کی شادی میں کام میں آ گئیں۔ تمہارے لئے نئی لا دیں گے۔ ‘‘

یہ سن کر چندا دھک سے رہ گئی۔ یہ دونوں چیزیں اس کی ماں کی نشانیاں تھیں۔

’’آپ نے مجھے بغیر بتائے کس طرح۔۔ ۔ ؟‘‘اس کے آگے وہ نہ بول سکی۔ اس کا گلا رندھ گیا اور آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی۔

تھوڑی دیر بعد اس کا رونا تھما، تو اس کا غصیلا روپ ظاہر ہوا۔ رونے اور غصے سے ہوئی سرخ آنکھوں سے ساس کو ایک نظر گھورا اور اپنی پہنی چیزیں کو اتار پھینکا۔

’’آپ لوگ جائیں شادی میں، میں نہیں جاؤں گی۔ ‘‘

اُومادیوی نے پہلے منانے کی کوشش کی۔ سریش سے کہلوایا۔ لیکن چندا نہیں مانی۔ چندا کا یہ روپ انہوں نے پہلے نہیں دیکھا تھا۔

Read More:  Ain ishq jinhan nu lag janda Novel by Suhaira Awais – Episode 12

اُومادیوی نے اب ساس ہونے کے حق کا استعمال کرتے ہوئے سختی دکھائی اور ڈانٹتے ہوئے تیز آواز میں بولیں، ’’اتنی ضد ٹھیک نہیں بہو، وہاں سب پوچھیں گے بہو کیوں نہیں آئی؟جلدی تیار ہو جاؤ۔ جانے کا وقت ہو رہا ہے۔ ‘‘

’’کہہ تو دیا آپ لوگ جائیے۔ میرا من نہیں ہے۔ ‘‘ چندا نے لاتعلقی سے جواب دیا۔

یہ ایک لازمی بات ظہور میں آئی ہے کہ ساس جب بہو سے زیادہ ناراض ہو جاتی ہے، تو اس کے میکے کو کوسنا شروع کرتی ہے اور یہ آگ میں گھی کا کام کرتا ہے، کیونکہ کسی بہو کو اس کے میکے کی برائی برداشت نہیں ہوتی۔ اس کے نتیجے میں جھگڑا اور بڑھ جاتا ہے۔ وہی یہاں بھی ہوا۔

اُومادیوی نے غصے میں کہا، ’’نہ جانے ماں باپ نے کیا سکھایا ہے۔ ایسی ضد۔‘‘

’’آپ اچھاسکھائیں اپنی رشمی کو کہ کسی کی چیز بھی بنا بتائے لے کر جس کو چاہو دے دو۔ ‘‘

رشمی ان لوگوں کی تیز آوازیں سن کر ادھر آ گئی تھی۔ وہ بھی بول پڑی، ’’مجھے کیوں درمیان میں لا رہی ہو بھابھی۔ ‘‘

اُومادیوی کو لگا اب ان کا پلڑا بھاری ہے۔

’’جس کسی کو نہیں ریکھا کو دیا ہے، بڑی نند لگتی ہے تیری۔ ‘‘

’’ماں کم سے کم پوچھ کے تو دیتی۔ وہ ساڑی اور ہار میری ماں نے بہت پہلے سے، مجھے شادی کے وقت دینے کے لیے سنبھال کر رکھے تھے۔ ‘‘

کڑواہٹ میں چندا نے آگے بول دیا، ’’اتنی ہی کمی تھی تو کہتیں، میں میکے سے ایک ویسی ہی ساڑی اور ہار منگوا دیتی۔ ‘‘

چندا کی اس بات سے ساس کے دل کو سیدھی چوٹ لگی۔ وہ تلملا گئیں اور انہوں نے بھی لفظوں کا ایک زہر بجھا تیر چھوڑ ہی دیا، ’’باپ چاٹ کا ٹھیلا لگاتا ہے، بیٹی بہت بڑی سیٹھانی بن رہی ہے۔ ‘‘

اب تو چندا مکمل طور پر بپھر گئی، ’’میرے پاپا کو کچھ مت کہیں۔ چاٹ کا ٹھیلا لگانا کیا برا ہے ؟وہ بھی تو ایک کاروبار ہے۔ اور انہوں نے ہم بچوں کو راجکمار اور راجکماریوں کی طرح ہی پالا ہے۔ آپ کے یہاں سے اچھا ہی ہم لوگ کھاتے اور پہنتے ہیں۔ ‘‘

جھگڑا اور بڑھ جاتا، اگر ماسٹر جی درمیان میں دخل نہ دیتے۔ ماجرا تو وہ سمجھ ہی گئے تھے۔ آوازیں ان تک بیٹھک میں بھی پہنچ رہی تھیں۔

انہوں نے چندا کو وہیں سے آواز دی، ’’ چندا بیٹی، سب کو تیار کرا کے باہر لاؤ۔ چلنے میں دیر ہو رہی ہے۔ ‘‘

چندا نے پاپا جی کی بات کا مان رکھ لیا۔ فوری طور پر تیار ہو گئی۔ باقی لوگ پہلے ہی تیار تھے۔ سب لوگ شادی کی تقریب میں شامل ہونے، چل پڑے۔

………

ایک بار ساس اور بہو کے درمیان اختلاف شروع ہوا، تو کئی موسم بدلے، لیکن یہ کسی نہ کسی بہانے جاری رہا۔ گھر میں اور محلے میں بھی دھڑے بن گئے تھے۔ کچھ لوگ اُوما دیوی کے دھڑے میں ہو گئے اور کچھ چندا کے۔ ماسٹر صاحب زیادہ تر نیوٹرل رہنے کی کوشش کرتے تھے۔ لیکن کبھی کبھار چندا کے حق میں کچھ بول دیتے اور بیوی کے غصے کا شکار بنتے۔ رشمی اپنی ماں کے ساتھ تھی۔ چندا کا چھوٹا دیور کسی دھڑے میں شمار نہیں کیا جاتا۔

Read More:  Peer e Kamil Novel By Umera Ahmed – Episode 19

محلے کی زیادہ تر ادھیڑ عمر خواتین اُوما دیوی سے ہمدردی رکھتی تھیں اور نوجوان عورتیں چندا کے ساتھ تھیں۔ اس ساس بہو کے جھگڑے میں دو پاٹوں کے درمیان کوئی پس رہا تھا، تووہ تھا سریش۔ محلے کے لوگوں خاص کر خواتین کے لئے ایک اور تفریح کا ذریعہ، ملنے کا بہانہ اور ساتھ ہی اپنی محرومیوں اور ناکامیوں کو بجھانے کا راستہ دستیاب ہو گیا تھا۔ پڑوسیوں سے جتنا میل جول پہلے نہیں تھا، اب ہو گیا تھا۔ کچھ واقعی اندرونی اختلاف کو ختم کرانا چاہتی تھیں۔ باقی سب تماش بین اور مشورہ دینے والی تھیں۔ جو یہ بتایا کرتیں کہ کسی نے کچھ کہا، تو اس کا کرارا جواب کیا ہونا چاہئے۔

سریش کبھی غلطی سے ماں کے حق میں بولتا، تو چندا خفا ہو کربول چال بند کر دیتی۔ اگر کسی دن غلطی سے چندا کے حق میں ذرا سا بھی کچھ اس کے منہ سے نکل جاتا، تو اُوما دیوی کے تیکھے طعنے اور کوسنے سننے کو ملتے اور جورو کے غلام کا خطاب دیا جاتا۔ آمدنی اتنی تھی نہیں کہ الگ مکان لے کر رہ سکے۔

سریش کو بے خوابی کی شکایت دوبارہ شروع ہو گئی۔ بیڈ روم میں چندا کے سو جانے کے بعد بھی، وہ رات دو ڈھائی بجے تک کروٹیں بدلتا رہتا یا کبھی ٹی وی والے کمرے میں جا کر ٹی وی کی آواز بند کر کے کچھ بھی دیکھتا رہتا۔ اس کے نتیجے میں صبح دیر سے بیدار ہوتا اور دن بھراکتایا رہتا۔ دکان کے کاموں میں بھی غلطیاں ہونے لگیں۔ دکان کے مالک نے کچھ دن تو برداشت کیا، پھر سریش کا حساب صاف کر دیا۔ ایک بار پھر سریش بے روزگار ہو گیا۔

اس دن گھر واپس آ کر، جب اس نے کام چھوٹنے کی خبر دی، تو کہرام مچ گیا۔ اُوما دیوی نے گھر سر پر اٹھا لیا اور جو کچھ ہوا، اس کے لیے چندا کو مجرم ٹھہرا دیا۔

دوپہر کو کھانے سے فارغ کر چندا اپنے کمرے میں لیٹی تھی۔ ساس کی تیز آواز سن کر وہ باہر نکلی، تو دیکھا سریش دالان میں موڑھے پر سر جھکائے بیٹھا تھا۔

اُومادیوی طیش میں بولے جا رہی تھیں، ’’یہ تو ہونا ہی تھا۔ میری تو قسمت ہی پھوٹی ہے، جو ایسی بہو گھر میں آئی۔ ارے آدمی کی مناسب طریقے سے دیکھ بھال کرنی پڑتی ہے، تب آدمی باہر جا کر محنت کر کے چار پیسے کما کر لاتا ہے۔ انہیں اپنے آرام اور شوقوں سے ہی فرصت نہیں۔ ‘‘

Read More:  Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 30

چندا نے پوچھا، ’’کیا ہوا ماں جی، کیوں اور کس پر بگڑ رہی ہیں ؟‘‘

پھر سریش سے بولی، ’’آج چھٹی لے لی کیا؟طبیعت گڑبڑ ہے کیا؟‘‘

سریش چپ رہا، اس کی جگہ اُوما دیوی بولیں، ’’چھٹی نہیں لی۔ چھٹی ہو گئی۔ مالک نے نوکری سے نکال دیا۔ اب آرام سے اپنی غلامی کراتی رہنا۔ ‘‘

اُومادیوی کے آخری جملے میں موجود طعنے نے چندا کو غصہ چڑھا دیا۔

بدلے میں ساس کو مجروح کرنے کے لیے وہ بولی، ’’یہ بھی خوب ہے۔ بیٹا خود غلطی کرے تو بھی الزام بہو کو ہی دو۔ ‘‘

ساس کو چوٹ دینے کے چکر میں اس نے شوہر کو بھی مجروح کر دیا تھا۔ وہ اس بات کو فوری طور پر سمجھ بھی گئی تھی، لیکن زبان سے تیر چھوٹ چکا تھا۔ سریش خاموشی سے کھڑا ہوا اور پھر تیز قدموں سے گھر سے باہر نکل گیا۔

………

ڈاکٹر رام گپتا، جنہوں نے اپنی ماں دمینتی دیوی کے نام پر دمینتی پبلک اسکول، مختصراً ڈی پی ایس کھولا تھا، بہت اولوالعزم شخص تھے۔ انہوں نے اسکول کے لئے نئی عمارت کھڑی کی تھی اور سارے جدید ساز و سامان اور خصوصیات سے اسے لیس کیا تھا۔ اساتذہ کی بھرتی، انہوں میرٹ اور شخصیت کی بنیاد پر کی تھی۔ اسکول کی فیس زیادہ تھی، تو اساتذہ کی تنخواہ بھی اچھی رکھی تھی۔ کچھ اساتذہ تو شہر کے اور اعلی تعلیم یافتہ مل گئے تھے۔ شہر کے سرکاری انٹرمیڈیٹ کالج کے پرنسپل کو اچھی سیلری دے کر اسکول کا پرنسپل بننے کو راضی کر لیا تھا۔ اسکول کا افتتاح ریاست کے وزیرِ تعلیم نے کیا اور دھوم دھام سے اسکول کی شروعات ہوئی۔ اسکول ابھی آٹھویں کلاس تک ہی رکھا تھا۔ بعد میں اس میں توسیع کا پلان تھا۔

اسکول شروع کرنے کے سے پہلے، شہر کے کچھ ممتاز اور تجربہ کار اساتذہ کو بلا کر، نئے ٹیچروں کو پندرہ دن کی ٹریننگ بھی دی گئی تھی۔ تمام مقامی اسکولوں سے تال میل ملاتے ہوئے، یکم جولائی سے اسکول کا سیشن اسٹارٹ کیا گیا۔ ایڈمشن کا عمل پہلے ہی مکمل کر لیا گیا تھا۔ شروعات کے لئے اسٹوڈنٹس کی تعداد کافی تھی۔

اسکول کے پہلے دن، صبح چندا نے نئی ساڑی پہنی اور تیار ہو کر ماسٹر صاحب اور اُوما دیوی کے پاؤں چھو کر آشیرواد لیا۔ ان دونوں نے اس کے سر پر اپنے ہاتھ رکھ کر دعا دی۔ سریش بھی وہیں تھا۔ چندا نے تھوڑا لجا کر اس کے بھی پاؤں چھوئے اور ’’ اسکول جا رہی ہوں۔ ‘‘کہتے ہوئے باہر چلی گئی۔ سریش خاموش رہا۔

اُومادیوی بڑبڑائیں، ’’آج کل گھر میں کس کا من لگتا ہے ؟باہر نکلنے کا بہانہ چاہیے۔ ‘‘

ماسٹر صاحب کچھ نہیں بولے۔ اُوما دیوی اٹھکر روزمرہ کے کام کاج میں لگ گئیں۔

………

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: