Farar Novel by Ravi Ranjan Goswami – Episode 6

0

فرار از روی رنجن گوسوامی/عامر صدیقی قسط نمبر 6

مصنف سے ملیں : روی رنجن گوسوامی

چندا تربیت یافتہ ٹیچر نہیں تھی۔ اسے پانچویں کلاس کو سوشل سائنس اور انگلش پڑھانے کی ذمہ داری ملی۔ شروع کے دنوں میں کلاس میں جانے کے وقت اسے تھوڑی گھبراہٹ ہوتی تھی۔ لیکن جلد ہی پر اعتماد ہو گئی۔ بچے بھی اسے پسند کرنے لگے اوردیگر اسٹاف بھی۔

ارون پانچ فٹ سات انچ کے قد، گوری رنگتا اورپر کشش شخصیت کا حامل ایک نوجوان تھا۔ وہ کانپور کا رہنے والا تھا اور اس نے بی ایس سی اور بی ایڈ کی ڈگریاں لی ہوئی تھیں۔ وہ غیر شادی شدہ تھا اور اُورائی کے رام نگر محلے میں ایک چھوٹا ساکرائے کا مکان لے کر رہ رہا تھا۔ ارون آٹھویں کلاس کو سائنس پڑھاتا تھا۔ وہ کانپورکے ایک کونوونٹ اسکول میں پڑھا تھا، لہذا فراٹے دار انگلش بولتا تھا۔ اسکول انتظامیہ بھی چاہتی تھی کہ اسکول میں طالب علم اور اساتذہ زیادہ تر آپس میں انگلش میں بات چیت کریں۔ چندا اور کچھ دیگر مقامی ٹیچرز انگلش جانتی تو تھیں، مگر لیکن بولنے کی مشق نہیں تھی۔ خالی وقت میں اسٹاف روم میں ارون کبھی کبھی چندا، مالتی اور اشوک جی کو انگریزی بولنا سکھاتا۔ اس کے لیے وہ ہلکے ہلکے انگلش کے سادہ اور آسان جملوں کا استعمال کرتے ہوئے ان سے بات چیت کرتا اور انہیں انگلش میں ہی بات کرنے کے لئے حوصلہ دیتا تھا۔ اس تعاون سے ان لوگوں کی انگلش بولنے میں ہچکچاہٹ دور ہوئی اور انگلش میں بات کرنا تھوڑا آسان ہو گیا تھا۔

چندا اور مالتی دونوں ارون سے امپریسڈ تھیں۔

………

گزشتہ چند سالوں میں اُورائی کے ماحول میں کافی تیزی سے تبدیلی آئی۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ کے پھیلاؤ کے ساتھ لوگوں کی معلومات، خواہشوں اور امیدوں، سب میں اضافہ ہوا تھا۔

رشمی اسکول کے نظم و ضبط سے باہر نکل کر، کالج کے نسبتًا کھلے ماحول میں خوش تھی۔ وہ کسی پنچھی کی طرح آسمان میں اڑ رہی تھی۔ کہنے کو تو اس کا کالج اُورائی کا ڈگری کالج تھا، لیکن اس کا ماحول کسی بڑے شہر کے کالج سے کم نہ تھا۔

کالج میں کوایجو کیشن تھی۔ طلبہ اور طالبات جدید لباس میں گھومتے، آپس میں کھل کر ملتے جلتے اور ہنسی مذاق کرتے دیکھے جا سکتے تھے۔ تعلیم سے الگ، کھیل کود کے علاوہ دیگر جلسے اور تقریبیں بھی بڑھ گئی تھیں۔ مہنگے موبائل فون، موٹر سائیکل، فیشن ایبل ملبوسات کے علاوہ لڑکیوں کے لئے بوائے فرینڈ اور لڑکوں کے لئے گرل فرینڈ رکھنا اسٹیٹس سمبل تھا۔ ایسا سب کے لئے نہیں تھا، لیکن بہت سے طلبہ وطالبات کی ایسی ہی سوچ تھی۔

پہلی بار رشمی نے وکرم کو کالج کے یوم تاسیس پر منعقدہ کلچرل پروگرام والی شام دیکھا اور سنا تھا۔ وہ لمبا، چوڑے سینے والا، ہلکی بے ترتیب سی بڑھی ہوئی داڑھی مونچھیں والا اورمسکراتے چہرے والا لڑکا، اس پر جیسے جادو کر گیا تھا۔ اس نے گلوکار ابھی جیت کا گایا ہوا ایک رومینٹک گانا گایا تھا۔ وہ پروگرام میں اگلی قطار میں بیٹھی تھی۔ گاتے ہوئے اس کی نظریں رشمی سے ملیں۔ اس کے بعد رشمی کو کو لگا کہ وہ گانا جیسے، اسی کے لیے گا رہا تھا۔ وہ اسٹیج پر اس کے اوپر پڑنے والی رنگین روشنی میں چمکیلی سرخ شرٹ اور سرخ چمڑے کی پتلون میں کسی ہیرو سے کم نہیں لگ رہا تھا۔

Read More:  Peer e Kamil Novel By Umera Ahmed – Episode 6

بعد میں رشمی کو معلوم ہوا کہ وہ مقامی ممبر اسمبلی جتندر سنگھ کا بیٹا ہے اور بی اے سال دوم کا طالب علم ہے۔ ممبر اسمبلی کا نام سن کر رشمی نے وکرم کی ایک مختلف شبیہ اپنے دل میں بنا لی۔ جو اچھی نہیں تھی۔ لیکن جلد ہی وہ شبیہ غلط ثابت ہوئی۔ تھوڑے دن بعد کالج کرکٹ ٹیم اور دوسرے کھیلوں کی ٹیموں کے لئے انتخاب کا عمل شروع ہوا۔ تو پتہ چلا وہ کرکٹ کا ایک اچھا کھلاڑی تھا اور اس کا ٹیم میں انتخاب ہو گیا۔

رشمی باسکٹ بال اچھا کھیلتی تھی۔ اس کا انتخاب کالج باسکٹ بال ٹیم میں ہو گیا۔ منتخب کھلاڑیوں کی لسٹ نوٹس بورڈ پر لگی تھی۔ وہیں فہرست دیکھتے ہوئے رشمی اور وکرم کا آمنا سامنا ہو گیا۔ ان دونوں نے گراؤنڈ میں ایک دوسرے کو کھیلتے ہوئے دیکھا تھا۔

وکرم نے پہل کی، ’’کونگریٹس فار دی سیلیکشن، میرا نام وکرم ہے۔ آپ واقعی بہت اچھا کھیلتی ہیں۔ ‘‘

’’تھینکس، میرا نام رشمی ہے اور میں آپ کو جانتی ہوں۔ آپ تو گانا بھی اچھا گاتے ہے اور کرکٹ بھی اچھا کھیلتے ہیں۔ حیرت انگیز۔ ‘‘ رشمی نے کھلے دل سے وکرم کی تعریف کی۔

تبھی گھنٹی بجی اور وہ ایک دوسرے کو بائی کہہ کر اپنی اپنی کلاس کی طرف بڑھ گئے۔

………

رشمی کا کالج، چندر شیکھر آزاد ڈگری کالج، بندیل کھنڈ یونیورسٹی کے تحت آتا تھا۔ کچھ دنوں بعد یونیورسٹی کے تمام کالجوں کے مشترکہ سرمائی کھیل جھانسی میں ہونے والے تھے۔ کالج گراؤنڈ میں کھیلوں کی پریکٹس چل رہی تھی۔ کچھ کھلاڑی صبح آ کر پریکٹس کرتے اور کچھ کالج کے وقت کے بعد۔

رشمی نے والدین سے جھانسی جانے کی اجازت مانگی، تو ماسٹر صاحب نے فوراً ہاں کر دی۔ ماں اُوما دیوی کو کچھ ترددضرور تھا۔ انہیں تھوڑا منانا پڑا۔ اس میں چندا نے رشمی کا ساتھ دیا اور آخر کار ماں بھی مان گئیں۔ چندا نے رشمی کو نئے اسپورٹ شوز بھی دلوائے۔ رشمی اور چندا اب کافی قریب آ گئی تھیں۔

جس دن کھلاڑیوں کو جھانسی جانا تھا، اس دن سب کو صبح چھ بجے کالج میں رپورٹ کرنے کو کہا گیا تھا۔ وہیں سے ایک خصوصی بس سے انہیں جھانسی جانا تھا۔

اس دن اُوما دیوی نے امیت کو رشمی کو کالج چھوڑنے بھیجا۔ امیت اور رشمی رکشے سے کالج گئے۔ امیت کھلاڑیوں کی بس روانہ ہونے کے بعد گھر لوٹ آیا۔

سریش اپنے آپ میں کھویا ہوا تھا۔ جیسے اسے دین و دنیا کی کوئی خبر نہ تھی۔ چندا اس کو بھی رشمی کے پروگرام کے بارے میں بتا چکی تھی، لیکن شاید وہ بھول چکا تھا۔ شام کو اس نے ماں سے سوال کیا، ’’ رشمی کالج سے ابھی نہیں آئی کیا؟‘‘

Read More:  Khaufnak Imarat by Ibne Safi – Episode 8

اُومادیوی نے جھڑکتے ہوئے کہا، ’’ تُو کوئی نشہ کرنے لگا ہے کیا؟گھر میں سب کو معلوم ہے کہ رشمی جھانسی گئی ہے اور دو تین دن بعد لوٹے گی۔ ‘‘

’’کس لیے گئی ہے ؟‘‘سریش کا اگلا سوال تھا۔

’’تمہارا سر، چندا سے پوچھو اور میرا سر مت کھاؤ۔ ‘‘ اُومادیوی نے چڑ کر کہا۔

سریش خاموشی سے چندا کے پاس چلا گیا۔

………

یونیورسٹی کے کھیلوں میں چندر شیکھر آزاد کالج کو چمپئن شپ ملی۔ رشمی اور وکرم کو اپنے اپنے کھیل میں خصوصی شرکت کے لئے خصوصی تعریفی اسناد اور انعامات حاصل ہوئے۔ واپسی پر کالج کے پرنسپل نے سبھی کھلاڑیوں کا خاص سمان کیا۔

رشمی اور وکرم کا کھیلوں کے دوران ہوا تعارف، دوستی میں تبدیل ہو گیا۔ اب دونوں اکثر کالج کے گراؤنڈ میں ادھر ادھر ہنستے مسکراتے، بات چیت کرتے دیکھے جا سکتے تھے۔

رشمی کی سہیلیاں چہل کرنے لگیں کہ اسے آخرکار ایک بوائے فرینڈ مل ہی گیا۔ وکرم کے دوست بھی وکرم کو رشمی کا نام لے کر چھیڑتے تو وہ مسکرا دیتا اور پوچھتا، ’’اس میں کوئی عجوبہ ہے کیا؟‘‘

رشمی کی ایک سہیلی دیپا نے ضرور ہدایت دی، ’’وکرم ایم ایل اے کا بیٹا ہے۔ سوچ سمجھ کر دوستی کرنا۔ ‘‘

رشمی چڑ گئی، ’’میری چھوڑ، تو اپنا بوائے فرینڈسنبھال۔ ‘‘

دیپا جھینپ کے بولی، ’’میں نے تو یوں ہی کہا تھا۔ دیکھ وہ آ رہا ہے۔ میں چلتی ہوں۔ ‘‘

سامنے سے سنیل، نیلی ہیرو ہونڈا موٹر سائیکل پر آ رہا تھا۔ دیپا آگے بڑھی، وہ اس کے قریب رکا اور پھردونوں موٹر سائیکل پر سوار، کالج سے باہر نکل گئے۔ یہ دیکھ کر رشمی کو ایک رومانٹک سا احساس ہوا۔

اسے معلوم تھا وکرم بُلٹ سے کالج آتا ہے۔

رشمی زیادہ تر بس سے کالج آتی جاتی تھی، لیکن اس دن بسوں کی ہڑتال تھی۔ کلاسس ختم ہونے کے بعد رشمی گیٹ کے باہر کسی سائیکل رکشہ یا آٹو رکشہ ملنے کا انتظار کر رہی تھی، تبھی وکرم اپنی بلٹ موٹر سائیکل پر اس کے پاس آیا اور بولا، ’’کیا میں کہیں چھوڑ دوں ؟‘‘

رشمی کو ہچکچاہٹ ہو رہی تھی اور دل ہاں کہنے کو تیار تھا۔

’’رہنے دیجیے، آپ کوالٹا پڑے گا۔ ‘‘

’’اچھا آئیے، آپ کو آدھے راستے تک چھوڑ دیتے ہیں، وہاں سے آپ رکشا کر لیجیے گا۔ بسوں کی ہڑتال کی وجہ سے رکشے بھی کم ہیں۔ ‘‘

رشمی کچھ سوچ میں پڑ گئی۔

’’کیا سوچ رہی ہیں آپ ؟، میں ایک شریف آدمی ہوں۔ ‘‘ کہتے ہوئے وکرم پر کشش انداز سے مسکرایا۔

رشمی کو اس کی اس بات پر ہنسی آ گئی۔ وہ موٹر سائیکل پر پیچھے بیٹھ گئی اور بولی، ’’ٹھیک ہے آئیے۔ ‘‘

بلٹ نے دھڑ دھڑ کرتے ہوئے رفتار پکڑی، تو رشمی کے دل کی دھڑکن بھی تیز ہو گئی اور ڈر کے مارے اس نے وکرم کا کندھا پکڑ لیا اور بولی، ’’آہستہ چلائیے پلیز۔ ‘‘

Read More:  Sun Mere Humsafar Novel By Sanaya Khan – Episode 40

وکرم نے موٹر سائیکل کی رفتار کم کر دی۔

کالج سے تھوڑا دور جا کر ٹریفک بڑھ گیا۔ کچھ جگہوں پر وکرم کو اچانک بریک لگانا پڑے۔ اس طرح بریک لگانے پر رشمی، وکرم کی طرف جھک جاتی پھرجلدی سے خود کوسنبھال لیتی۔

رشمی کے گھر سے تھوڑا پہلے وکرم نے موٹر سائیکل سڑک کے کنارے روک دی۔ اور رشمی سے پوچھا، ’’کیا گھر تک چھوڑ دوں ؟‘‘

’’نہیں۔ یہاں سے بہت قریب ہے۔ میں پیدل چلی جاؤں گی۔ ‘‘یہ کہہ کر وہ موٹر سائیکل سے اتر کر پیدل اپنے گھر کی طرف چلی گئی۔ اور وکرم اپنے گھر کی طرف نکل گیا۔

رشمی کا اس بات پر دھیان نہیں گیا تھا۔ جس موڑ پر وہ موٹر سائیکل سے اتری تھی، وہاں ایک طرف سریش کھڑا تھا۔ جو بعد میں اس کے پیچھے گھر پہنچا۔

ویسے سریش کو کسی سے کوئی خاص مطلب نہیں ہوتا تھا، کیونکہ بے روزگاری اور ماں کے روز کے طعنے سنتے سنتے اس کو لگتا تھا کہ گھر میں اس کی نہ تو کوئی ضرورت ہے اور نہ عزت۔ چندا اس کا ہر طرح سے خیال رکھنے کی کوشش کرتی تھی۔ پھر بھی کبھی کبھی اس سے بھی بات بے بات جھگڑا کر بیٹھتا۔

اچانک سریش کو اس دن اس کے بڑے بھائی ہونے کا فرض یاد آ گیا۔ گھر پہنچتے ہی اس نے سب کے سامنے رشمی سے پوچھا، ’’وہ آدمی کون تھا؟‘‘

’’کون آدمی بھیا؟‘‘ رشمی نے چونک کر سوال کیا۔ حالانکہ وہ سمجھ گئی تھی۔

’’جس کے ساتھ تم موٹر سائیکل پر بیٹھی تھیں۔ ‘‘ سریش نے کہا۔

اب ماسٹر صاحب اور اُوما دیوی نے چونک کر سوالیہ نظروں سے رشمی کو دیکھا۔

’’وہ وکرم تھا، آج بس کی ہڑتال تھی، سو اس نے تھوڑی دور تک اپنی موٹر سائیکل پر لفٹ دے دی۔ ‘‘

اُومادیوی نے اس وقت رشمی سے توکچھ نہیں کہا۔ الٹی سریش کو کوسنا شروع کر دیا، ’’چھوٹے بھائی بہن کے لئے کرنا ڈھیلا نہیں۔ بیٹھ کر دو بول بولنا نہیں۔ شکایت لے کے آ گئے۔ ارے ضرورت پڑنے پر کسی بھلے کلاس فیلو کی مدد لے لی، تو کیا ہو گیا۔ تو اپنی بی بی کوسنبھال۔ میرے بچوں کو بخش دے۔ ‘‘

چندا اپنے کمرے میں تھی۔ اسے سب سنائی دے رہا تھا۔ کبھی کبھی وہ سوچتی کوئی ماں اپنے بیٹے سے اتنا سوتیلا رویہ کس طرح کر سکتی ہے۔ وہ کمرے سے باہر آ کر بولی، ’’ماں جی اگر انہوں نے بڑے بھائی ہونے کے ناطے پوچھ لیا تو کیا برا کیا۔ ‘‘

اُومادیوی نے تیوریاں چڑھا کر کہا، ’’اب تم میرے بیٹے کو میرے خلاف بھڑکاؤ۔ میں بھی تو کچھ ہونے کے ناطے ہی بول رہیں ہوں۔ ‘‘

چندا بحث کے موڈ میں نہیں تھی، اس لئے وہاں نہیں رکی اور واپس کمرے میں چلی گئی۔ اس کے پیچھے سریش بھی ہو لیا۔

………

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: