Farar Novel by Ravi Ranjan Goswami – Episode 7

0

فرار از روی رنجن گوسوامی/عامر صدیقی قسط نمبر 7

مصنف سے ملیں : روی رنجن گوسوامی

چندا کو نوکری کرتے ہوئے دو سال ہو چکے تھے۔ اس نے اپنی گرہستی مناسب طریقے سے جمالی تھی۔ گھرکو بھی اس سے مدد ملتی تھی۔ اُوما دیوی کے مزاج میں چندا کے تئیں تھوڑی نرمی آئی تھی، لیکن ساس کے عہدے کے حقوق خوب یاد رہتے اور موقع ملتے ہی جتا دیتیں۔ چندا بڑوں کی عزت کرتی تھی لیکن کسی کے دباؤ میں نہیں رہ سکتی تھی۔ سریش کے لئے اُوما دیوی کا رویہ بد سے بدتر ہو چکا تھا۔ سریش خود میں کچھ اور سمٹ گیا تھا۔

پہلے اُوما دیوی کبھی کبھی چندا سے بچے کے لئے کہتی تھیں، لیکن اب چندا خود اس بارے میں فکر مند تھی۔ گزشتہ ایک سال سے چاہنے کے باوجود وہ حاملہ نہیں ہو پائی تھی۔ چندا کی ماں نے اسے ڈاکٹر ودیا سے ملنے کو کہا۔

ڈاکٹر ودیا، اُورائی کی سب سے قابل لیڈیز ڈاکٹر مانی جاتی تھیں۔ ایک دن وقت نکال کر وہ ڈاکٹر ودیا سے ملی۔ انہوں اس کا چیک اپ کیا، کچھ ٹیسٹ لکھے اور شوہر کو بھی ساتھ لانے کو کہا۔ بہت سے مردوں کے لئے مردانہ بانجھ پن کو سمجھنا اور قبول بہت مشکل ہوتا ہے۔ معاشرے میں بھی بہت سے لوگ اولاد نہ ہونے پر عورت کو بانجھ کا نام دے دیتے ہیں۔ وہ یہ نہیں سمجھتے یا سمجھنا نہیں چاہتے کہ کوئی کمی مرد میں بھی ہو سکتی ہے۔

چندا نے جب سریش سے ڈاکٹر کے پاس چلنے کو کہا، تو اس کا بھی پہلا سوال تھا، ’’میں تو ٹھیک ہوں، مجھے کس لیے ڈاکٹر کے پاس جانا ہے ؟‘‘

لیکن چندا نے بڑی مشکل سے کسی طرح سریش کو ڈاکٹر ودیا کے کلینک پر ساتھ چلنے کو راضی کر ہی کیا۔

ڈاکٹر ودیا نے ان دونوں سے کچھ سوال پوچھے اور دونوں کے لئے کچھ ٹیسٹ لکھ دیے اور رپورٹ ملنے پر دکھانے کو کہا۔

ٹیسٹ کی رپورٹ ملنے پر وہ دوبارہ ڈاکٹر کے پاس پہنچے۔ رپورٹس سے معلوم ہوا کہ چندا نارمل تھی اور سریش میں جزوی کمی تھی، جسے علاج کی ضرورت تھی۔ بات عام ہی تھی۔ لیکن سریش کیلئے پریشان کرنے والی تھی۔ چندا نے اپنی معلومات سے مسئلے کا حل سریش کو سمجھایا۔ لیکن سریش اپنی جزوی کمی کو اپنی مردانگی کی وجہ سے سمجھ نہیں پا رہا تھا۔ کچھ دن اس نے ڈاکٹر ودیا کی لکھی ہوئی دوائیں لیں، پھر ٹال مٹول کرنے لگا۔ اس کی پھر یہی رٹ تھی کہ اسے کوئی مسئلہ نہیں ہے تو دوا کیوں لے ؟

………

بے روزگاری، ماں کی بے اعتنائی اور طعنے اور اس پر یہ اس کی مردانگی پر لگا نیا سوالیہ نشان، ان سبھی نے سریش کو پیس ڈالا تھا۔ ایک دن صبح وہ بازار جانے کے لیے گھر سے نکلا۔ تھوڑی دور ہی گیا ہو گا کہ اسے لگا کہ راستے میں ملنے والا ہر شخص اسے ہی گھور رہا ہے۔ اس کے پیٹ میں اچانک درد اٹھا اور سر چکرایا تو وہ سڑک کنارے ایک مکان کے چبوترے پر بیٹھ گیا۔

کچھ وقفے کے بعد تھوڑا سا آرام محسوس ہونے پر، وہ گھرواپس آ کر اپنے کمرے میں لیٹ گیا۔ چندا اسکول جا چکی تھی۔ وہ دوپہر تک یوں ہی لیٹا رہا۔ دوپہر کو ماں نے کھانے کے لیے آواز دی، تو کسی طرح اٹھ کر کھانے کی میز تک آیا۔ ماسٹر صاحب بھی ساتھ میں کھانے بیٹھے۔ بیٹے کی اتری ہوئی شکل دیکھ کر پوچھا، ’’کیا بات ہے ؟طبیعت ٹھیک نہیں کیا؟‘‘

’’صبح سے پیٹ میں درد ہے، کچھ تھکاوٹ اور کمزوری سی بھی محسوس ہو رہی ہے۔ ‘‘

’’بازار میں کچھ الٹا سیدھا کھا لیا ہو گا اور ایسا کون سا پہاڑ توڑا ہے، جو کمزوری لگ رہی ہے۔ ‘‘ اُومادیوی نے عادتاً طعنہ کسا۔

لیکن انہوں دیکھا کہ سریش واقعی بیمار نظر آ رہا تھا۔ ان میں تھوڑی ممتا بیدار ہوئی، بولیں، ’’کھانے بعد ایک گلاس ہلدی ڈال کے گرم دودھ دیتی ہوں، پی لینا۔ ‘‘

اُومادیوی نے باپ بیٹے کو کھانا پروس دیا اور کچن میں چلی گئیں۔ تھوڑی دیر بعد وہ دودھ کا گلاس لے کر آئیں اور سریش کے پاس رکھ کر چلی گئیں۔ ماسٹر صاحب کھا پی کر ڈرائنگ روم میں چلے گئے اور سریش اپنے کمرے میں۔

شام کو اسکول سے لوٹ کر چندا آئی تو سریش کمرے میں سویا ہوا تھا۔

………

ایک دو دن بعد سریش ٹھیک محسوس کرنے لگا اور اس کا دن بھر بیکار بازار، گلیوں میں بھٹکنا شروع ہو گیا۔ پہلے وہ کام کی تلاش میں گھومتا تھا، اب تو جیسے اس کی خود اعتمادی ختم سی ہو گئی تھی۔ چندا کی طرف بھی وہ لاتعلق رہنے لگا۔ پہلے اس کو بیوی سے پیسے مانگنے میں ہچکچاہٹ محسوس تھی۔ اب اسے جب ضرورت ہوتی پیسے مانگ لیتا۔

چندا اس کا برا نہیں مانتی تھی۔ وہ اس کی بے حسی سے فکر مند تھی۔ وہ اس سے کام دھندا کرنے کے بارے میں کچھ نہیں کہتی، لیکن کبھی کبھی ایک صحت مند معمول اپنانے کو ضرور کہتی اور اس کی اپنے لئے پیدا ہوئی بے حسی دور کرنے کی کوشش کرتی۔ ایک آدھ بار دبے الفاظ میں اس نے اسے کسی نفسیاتی ڈاکٹرسے ملنے کا مشورہ دیا، تو وہ بھڑک گیا۔ چندا نے کسی طرح اسے پرسکون کیا۔ اس نے اُوما دیوی سے بات کی تو وہ بھی بھڑک گئیں۔ ماسٹر صاحب نے بے بسی ظاہر کی۔ بولے، ’’جانا چاہے تو نہ، اب میں اس گھسیٹ کے تو لے جا نہیں سکتا۔ ‘‘

چندا بولی، ’’آپ ان سے کہئے تو سہی شاید بات مان لیں۔ ‘‘

’’ٹھیک ہے میں بولوں گا۔ ‘‘ ہری لال جی نے کہا۔

انہوں نے بولا بھی، لیکن سریش نے چپ چاپ بات سن لی اور بغیر کوئی جواب دیئے چلتا بنا۔

………

ڈی پی ایس اسکول کو دسویں کلاس تک کی منظوری مل گئی تھی۔ اس خوشی میں اسکول طلباء کو ہاف ٹائم میں ہی چھٹی دے کر، مینجمنٹ نے لنچ ٹائم میں عملے کے لئے اسکول میں ہی ایک پارٹی منعقد کی تھی۔ ہال میں بوفے لگایا گیا تھا اور بیٹھنے کا اہتمام کیا گیا تھا تھا۔ ڈاکٹر گپتا اورمینجمنٹ کے دیگر رکن اور اسکول کا سارا اسٹاف پارٹی میں تھا۔

شروعات میں ڈاکٹر گپتا نے خطاب کیا، جس میں انہوں نے سب کا خیر مقدم کیا اور اسکول کو ملی منظوری کیلئے مبارک باد دی۔ پھر سب کو پارٹی سے لطف اندوزہونے کو کہا۔ پارٹی میں تقریباً ًچالیس لوگ تھے۔ سب لوگ ایک قطار میں بوفے سے پلیٹ میں کھانا لے کر کھانے لگے۔ کچھ لوگ کھڑے کھڑے ہی باتیں کرتے ہوئے کھا رہے تھے۔ کچھ لوگ کرسیوں پر بیٹھ گئے۔

چندا اور مالتی پاس پاس رکھی کرسیوں پر بیٹھ گئیں۔

چندا کا دھیان ارون کی طرف گیا۔ اس نے نیلی پینٹ اور نیلی سفید پتلی دھاریوں والی آدھے بازو کی شرٹ پہنی تھی۔ وہ ڈاکٹر گپتا کے پاس بیٹھ کر کچھ بات کرتے ہوئے کھانا کھا رہا تھا۔

ارون اچھا لگ رہا تھا اور جس اعتماد کے ساتھ وہ ڈاکٹر گپتا سے گفتگو کر رہا تھا، اس سے بھی چندا متاثر ہوئی۔ اچانک سے ایک شرارتی خیال اس کے دل میں آیا کہ اس کی اگر ارون سے شادی ہوئی ہوتی۔ سوچ کر وہ دل ہی دل مسکرائی، پھر سنجیدہ ہو گئی۔ وہ سوچنے لگی کہ کاش سریش میں ارون کی طرح کچھ خصوصیات ہوتیں۔ اسے ان خیالوں سے تھوڑا گلٹ محسوس ہوا، تو اس نے سر جھٹک کر اپنی توجہ ارون سے ہٹا دی اور مالتی سے باتیں چھیڑ دیں۔

ڈاکٹر گپتا سے تھوڑی دیر بات کر کے ارون اٹھ گیا اور دیگر لوگوں سے ہیلو ہائے کرتا ہوا چندا اور مالتی کے پاس آ گیا اورمسکراتے ہوئے بولا، ’’آؤ آر یو چندا اینڈ مالتی؟ آپ دونوں کا نام تو چندا اورچکوری ہونا چاہیے۔ ‘‘

مالتی بولی، ’’وی آر فائن تھینک یو، پر میرا نام کیوں تبدیل کرنا چاہتے ہیں ؟‘‘

’’آپ لوگ ہر وقت ساتھ جو نظر آتی ہیں۔ آپ لوگوں کے کلوز گروپ میں میرے لئے کوئی جگہ ہے ؟ آئی مین کین آئی سٹ ہئیر فار سم ٹائم ؟‘‘ارون نے پاس رکھی ایک خالی کرسی کی طرف اشارہ کیا۔

اب چندا بولی، ’’ہاں ہاں بیٹھیے۔ ‘‘

ارون کرسی تھوڑا قریب کھینچ کر بیٹھ گیا۔

’’آپ گپتا سر سے کیا باتیں کر رہے تھے ؟‘‘ چندا اپنی بیتابی دبا نہیں پائی۔

ارون ان کی طرف جھک کر دھیمی آواز میں پراسرار انداز میں بولا، ’’وہ میری پسند، نہ پسند اور فیملی بیک گراؤنڈکے بارے میں پوچھ رہے تھے۔ شاید وہ اپنی بیٹی سے میری شادی کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ ‘‘کہنے کے بعد وہ ہنس پڑا۔ ہنستے ہوئے وہ اور بھی پر کشش لگتا تھا۔

یہ سن کر مالتی کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ اس کا رد عمل دیکھ کر چندا ہنس پڑی۔ ارون نے محسوس کیا کہ ہنستے ہوئے چندا کی خوبصورتی میں چار چاند لگ گئے تھے۔ وہ چندا کے چہرے کو قریب سے دیکھتا رہا۔

چندا مالتی سے بولی، ’’تو کتنی بھولی ہے۔ ارون مذاق کر رہا ہے۔ ہم سب کو پتہ ہے کہ ڈاکٹر گپتا کی ایک ہی بیٹی ہے اور وہ اپنے شوہر کے ساتھ امریکہ میں رہتی ہے۔ ‘‘

ارون بھی ہنسا اور بولا، ’’سوری، میں مذاق کر رہا تھا۔ وہ اسکول کی ترقی کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ کہہ رہے تھے اس موضوع میں کسی کے پاس کوئی تجویز ہو تو ان سے شئیر کر سکتا ہے۔ ‘‘

تھوڑی دیر باتیں کر کے وہ اٹھا اور اپنے دوسرے کولیگس کے پاس چلا گیا۔

پارٹی کے بعد چندا اور مالتی جب اسکول کے گیٹ سے باہر نکلیں، تو ایک پیلے رنگ کا نئی چمچماتی نینو کار ان کے قریب آ کر رکی۔ دونوں ٹھٹھک کر کھڑی ہو گئیں۔ ڈرائیونگ سیٹ پر موجود ارون نے ہاتھ ہلایا اور آواز دی، ’’آئیں آج میں آپ لوگوں کو ڈراپ کر دیتا ہوں۔ ‘‘

پہلے وہ دونوں جھجھکیں لیکن اس نے دوبارہ زور دے کر کہا تو دونوں گاڑی میں پیچھے بیٹھ گئیں۔ ارون نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور پوچھا، ’’چلیں ؟‘‘

چندا نے کار کا دروازہ لاک کر کے کہا، ’’او کے۔ ‘‘ ارون نے کار آگے بڑھا دی۔

پہلے مالتی کا گھر پڑتا تھا۔ لہذا ارون نے پہلے مالتی کو اس کے گھر چھوڑا، پھر چندا کو اس کے گھر۔ چندا نے اسے گھر اندر آنے اور چائے پی کر جانے کو کہا لیکن وہ ’’پھر کبھی ’’ کہہ کر چلا گیا۔

چندا نے گھر کی بیل بجائی، رشمی نے دروازہ کھولا۔ چندا، رشمی کو دیکھ کر مسکرائی۔

’’بھابھی آج جلدی آ گئیں کیا؟‘‘ رشمی نے پوچھا۔

’’آج جلدی چھٹی ہو گئی۔ ‘‘کہہ کر چندا اپنے کمرے میں چلی گئی۔

………

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: