Farar Novel by Ravi Ranjan Goswami – Last Episode 8

0

فرار از روی رنجن گوسوامی/عامر صدیقی آخری قسط نمبر 8

مصنف سے ملیں : روی رنجن گوسوامی

رات کو بستر پر کروٹیں بدلتے سریش اور چندا ایک دوسرے سے انجان، ایک ہی شخص کے بارے میں سوچ رہے تھے اور وہ تھا ارون۔

چندا سوچ رہی تھی، ’’وہ لڑکی کتنی خوش قسمت ہو گی، جس سے ارون شادی کرے گا۔ ‘‘

سریش یہ سوچ کر پریشان تھا کہ وہ چندا سے پوچھے یا نہ پوچھے یا کس طرح پوچھے کہ اس دن کون اسے کار سے گھر چھوڑنے آیا تھا۔ اتفاقاً سریش نے راستے میں اسے کار سے آتے دیکھ لیا تھا۔ وہ طرح طرح کی باتیں سوچ کر، دل ہی دل میں جلتا رہا، مگر چندا سے کچھ پوچھنے کی اس کی ہمت نہیں ہوئی۔ چندا سو بھی گئی، لیکن سریش جاگتا رہا۔

رات گئے چندا کی اچانک نیند ٹوٹی۔ اس کا گلا پیاس سے خشک رہا تھا۔ اس نے دیکھا سریش جاگ رہا تھا۔

’’کیا ہوا؟ ابھی تک سوئے نہیں ؟‘‘ چندا نے سوال کیا۔

سریش نے کہا، ’’ایسے ہی، نیند نہیں آئی۔ چندا نے سرہانے موجود تپائی پر رکھا پانی کا جگ اور گلاس اٹھایا۔ ‘‘پانی چاہیئے ؟‘‘ اس نے سریش سے پوچھا۔ سریش کے منع کرنے پر اس نے خود پانی پیا اور لیٹ گئی۔ چندا نے سریش کی جانب کروٹ بدل کر پوچھا، ‘کوئی پریشانی ہے ؟‘‘

’’نہیں۔ ‘‘ سریش کا جواب مختصر تھا۔

چندا نے اس کی پیشانی پر اپنا ہاتھ رکھ کر پوچھا، ’’طبیعت ٹھیک ہے نہ؟‘‘

چندا کی نرم ہتھیلی کا لمس اسے اچھا لگا۔ اس نے چندا کا ہاتھ پکڑ کر اپنے سینے پر رکھ لیا اور بولا، ’’ٹھیک ہے۔ ‘‘

چندا اس کے تھوڑا اور قریب کھسک آئی اور بولی، ’’کئی دنوں سے تم مجھ سے دور کیوں رہتے ہو؟‘‘

سریش نے چندا کی جانب کروٹ بدل کر اسے گلے لگاتے ہوئے کہا، ’’نہیں تو، تم مصروف جو رہتی ہو۔ ‘‘

’’ چندا، سریش کے سینے میں سر چھپاتے ہوئے پھسپھسائی۔ ‘‘ اتنی بھی مصروف نہیں ہوں۔ ‘‘

صبح سریش جب بیدار ہوا چندا اسکول جا چکی تھی۔ وہ نڈھال سا اٹھا اور تھوڑی دیر پلنگ پر ہی بیٹھا رہا۔ بہت دنوں بعد وہ وہ اتنے گھنٹے مسلسل سویا تھا، لیکن سر پھر بھی بھاری تھا۔ اس کے سامنے پہاڑ سا دن ایک مشکل سوال سا منہ دبائے کھڑا تھا۔ گھر میں رہنے کا مطلب، ماں کی گالیاں اور طعنے سننا۔ ماسٹر صاحب بھی کبھی ٹوک دیتے، ’’خالی بیٹھے تمہارا دل کس طرح لگتا ہے ؟‘‘

سریش روز کی طرح تیار ہو کر سب کی نظر بچا کر باہر جانے کے لیے دروازے کی طرف بڑھا ہی تھا کہ کچن سے ماں کی آواز آئی، ’’چائے ناشتہ کر کے جا۔ معلوم ہے بہت ضروری کام سے جا رہا ہے۔ ‘‘

رشمی اور امیت اپنے کالج جانے کے لیے تیار ہو رہے تھے، ہنس پڑے۔

سریش نے چڑ کر پوچھا، ’’کس بات پر ہنس رہے ہو؟‘‘

’’کچھ نہیں بھیا ایسے ہی۔ ‘‘

جلدی سے چائے ناشتہ کر کے سریش گھر سے ایسے بھاگا، جیسے جیل سے چھوٹا قیدی۔ پڑوس سے بھی ہو سر جھکائے، تیزی سے نکل جاتا کہ کہیں کوئی پوچھ نہ لے، ’’آج کل کیا کر رہے ہو؟‘‘

آج وہ ٹہلتا ہوا، اس دکان پر پہنچ گیا جس پر وہ کام کرتا تھا۔ دل ہی دل وہ چاہ رہا تھا کہ سیٹھ اسے کام پر رکھ لے، لیکن خود سے اس بارے میں بات کرنے کی اس کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ اس کے ساتھ کام کرنے والا رمیش اور ایک انجان نوجوان دکان پر گاہکوں کو نمٹا رہے تھے۔ سیٹھ بل بنا کر پیسے لے رہا تھا۔ سریش ایک طرف کھڑا ہو گیا۔ جب گاہک چلے گئے تو رمیش نے سریش کو بلایا۔ سیٹھ کا دھیان بھی اس کی طرف گیا۔

’’کیسے ہو سریش؟ کہاں کام کر رہے ہو آج کل؟‘‘سیٹھ نے پوچھا۔

’’فارغ ہوں۔ ‘‘

’’میں نے غصے میں تمہیں ہٹا دیا تھا۔ پھر تم دوبارہ لوٹ کر آئے ہی نہیں۔ میں نے تھوڑے دن بعد تمہاری جگہ برجو کو رکھ لیا۔ ان دونوں کو بھی کئی بار ڈانٹ دیتا ہوں، چلے جانے کو کہتا ہوں، لیکن یہ لوگ مجھے نہیں چھوڑتے۔ نوکری ایسے ہی کی جاتی ہے۔ ‘‘سیٹھ نے سمجھانے کے انداز میں کہا۔

سریش چپ رہا۔

وہ آگے بولا، ’’تم ٹھہرے پرانے آدمی۔ اب تو سنا ہے تمہاری بی بی انگریزی اسکول میں پڑھاتی ہے۔ اچھے پیسے ملتے ہوں گے۔ لیکن ٹاٹا اور امبانی جن کے پاس بے شمار جائیدادیں ہیں، وہ بھی کام کرتے ہیں۔ بیکار آدمی کی کوئی عزت نہیں ہوتی۔ اور تو اور گھر کے لوگ یہاں تک بیوی بھی عزت نہیں دیتی۔ ماسٹر صاحب تو سیدھے سادے آدمی ہے، شایدتم کو کچھ نہ کہیں، پر بیوی کتنے دن برداشت کرتی ہے، سو یہ دیکھنے والی بات ہے۔ ‘‘

رمیش نے سیٹھ سے دس منٹ کی رخصت مانگی اور سریش کو پاس میں ہی ایک چائے کی دکان پر لے گیا۔ رمیش نے دو خصوصی چائے بنوائیں اور دونوں چائے پیتے پیتے باتیں کرنے لگے۔

سریش نے تہذیب نبھاتے ہوئے، رمیش کے گھروالوں کے حال چال پوچھے۔

رمیش کچھ جھجکتے ہوئے بولا، ’’میں تو تم سے کم پڑھا لکھا ہوں، لیکن شاید سیٹھ جی ٹھیک کہہ رہے تھے۔ بھابھی جی کو اسکول سے کار لینے چھوڑنے آتی ہے کیا؟‘‘

سریش نے پوچھا۔ ‘‘کیوں۔ ‘‘

’’بھابھی جی کو ایک دو بار گاڑی میں آتے جاتے دیکھا تو مجھے لگا۔ بڑے شہروں میں جیسے کمپنی والے عملے کے لئے گاڑی دیتے ہیں، شاید نئے اسکول والوں نے کچھ سہولت دی ہو۔ ‘‘

سریش سمجھ گیا تھا کہ رمیش کس کار کی بات کر رہا تھا، پھر اس نے لاعلمی ظاہر کی، بولا، ’’مجھے معلوم نہیں، ہو سکتا حال ہی میں کچھ انتظام کیا ہو۔ ‘‘

چائے پی کر دونوں نے ایک دوسرے سے رخصت لی۔ رمیش واپس دکان پر چلا گیا۔ سریش شہر کے باہر بنے بھولے ناتھ کے مندر کی طرف چل دیا۔

………

اسی دن اسکول میں چندا کی اونچی ایڑی کی سینڈل کسی طرح مڑ گئی اور اس کے پاؤں میں ہلکی سی موچ آ گئی۔ اسکول کی چھٹی کے وقت ارون نے اسے تھوڑا لنگڑا کر چلتے دیکھا، تو گاڑی میں لفٹ دینے کو کہا۔ وہ انکار نہیں کر پائی۔ وہ اس کے ساتھ اکیلی تھی، سو اس نے آگے بیٹھنا ٹھیک سمجھا۔

’’راستے میں کسی ڈاکٹر کو تو نہیں دکھانا ہے ؟‘‘ارون نے پوچھا۔

’’نہیں۔ معمولی سی موچ ہے آئیوڈیکس لگالوں گی۔ آرام کرنے سے کل تک ٹھیک ہو جائے گی۔ ‘‘

’’ایز یو وش میڈم۔ ‘‘

ارون نے چندا کو سیدھا گھر پر چھوڑ دیا۔ چندا نے گھنٹی بجائی۔ دروازہ کھلا تو وہ چونک گئی۔ سامنے اس کی دونوں بہنیں روپا اور کرن کھڑی تھیں۔ دونوں چندا سے لپٹ گئیں۔

’’ارے تم دونوں ایسے آج اچانک یہاں کیسے ؟‘‘ چندا نے پوچھا۔

’’آپ کی یاد آئی تو آ گئے۔ ‘‘

چندا انہیں اپنے کمرے میں لے گئی۔ اُوما دیوی نے رشمی کے ہاتھوں ناشتا کمرے میں بھجوا دیا۔ تینوں بہنیں کافی دیر تک گپ شپ کرتی رہیں۔ شام کا وقت تھا، اندھیرا گھر آیا تھا۔ چندا نے کمرے کی لائٹ جلادی۔ روپا اور کرن گھر واپس جانے کو آمادہ تھیں۔ چندا نے یہ کہہ کر تھوڑی دیر اور رکنے کو کہا کہ امیت یا سریش میں سے کوئی آ جائے گا تو انہیں چھوڑ آئے گا۔

تبھی سریش کمرے میں آیا۔ وہ غصے میں کس قدر سلگ رہا تھا، کسی کو انداز نہیں تھا۔ روپا اورکرن دونوں ایک ساتھ ہاتھ جوڑ کر بولیں، ’’ نمستے جی جو۔ ‘‘

سریش نے ایک نظر ان پر ڈالی اور خشک لہجے میں جواب دیا، ’’نمستے۔ ‘‘اور پھروہ واپس جانے کے لئے مڑا، تو چندا نے روکا، ’’ ارے کہاں جا رہے ہو؟ اپنی سالیوں سے بات نہیں کرو گے ؟ کتنے دن بعد آئی ہیں۔ ‘‘

’’بات مجھے تم سے کرنا ہے، لیکن تمہاری بہنوں کے سامنے نہیں کرنا چاہتا۔ ‘‘ سریش نے مڑ کر چندا کو گھورتے ہوئے بولا۔

تینوں بہنیں حیرت سے اسے دیکھتی رہ گئیں۔ سریش کے اندر جلتی شک، حسد اور غصے کی آگ کا اندازہ ان میں سے کسی کو نہیں ہو پایا تھا۔

’’ہم سے کوئی بھول ہوئی جو ناراض ہو جی جو؟‘‘روپا نے پوچھا۔

’’تم لوگوں سے ناراض نہیں ہوں۔ ‘‘

چندا بولی، ’’تو پھر یہاں میں ہی بچی۔ صاف صاف کہئے کیا بات ہے۔ ‘‘

’’آج کل تم کس کے ساتھ گاڑی میں گھومتی ہو؟‘‘سریش نے چندا سے سیدھا سوال کیا۔ اس کی آواز میں تلخی تھی۔

چندا نے بہنوں کے سامنے ذلت محسوس کی۔ اسے بھی غصہ آ گیا۔

’’گھومتی نہیں ہوں، ارون کی گاڑی میں ایک دو بار اسکول سے گھر تک لفٹ لی ہے۔ آج میرے پاؤں میں موچ آ گئی تھی، تو اس نے اپنی گاڑی میں گھر تک چھوڑ دیا۔ ہم لوگ ایک ساتھ کام کرتے ہیں، وقت ضرورت آپس میں مدد لے لی جاتی ہے۔ ‘‘

سریش غصے سے پاگل ہو گیا تھا۔ یہ سب اس کے اندر کئی دنوں سے پک رہا تھا، آج لاوا پھوٹا تھا۔

’’مجھے سب معلوم ہے، کس طرح اس کے پاس بیٹھ کر ہنس ہنس کر باتیں ہوتی ہے۔ ‘‘

روپا اورکرن سے اب برداشت کرنا مشکل ہو رہا تھا۔ کرن بول پڑی، ’’اس طرح ہماری دیدی کی بے عزتی کرنا، وہ بھی ہمارے سامنے ٹھیک نہیں۔ ‘‘

’’ خود سے تو کچھ ہوتا نہیں۔ سماج کے بارے میں کچھ پتہ نہیں۔ آپ نے ایک سائیکل تک خریدی نہیں۔ آپ تو بیکار رہتے ہیں، زیادہ پرواہ ہے تو دیدی کو پاپا کے اسکوٹر سے چھوڑنے لینے جائیں۔ دیدی ایک تو محنت کریں، آپ اور آپ کے گھر والوں کی خواہشات پوری کرے اور اوپر سے الٹی سیدھی باتیں بھی سنیں، واہ۔ ‘‘

چندا نے اسے روکا، تو وہ خاموش ہوئی۔

لیکن روپا اورکرن پھر وہاں رکی نہیں، وہ اٹھ کر چلی گئیں۔ اس وقت گھر میں کوئی تھا نہیں۔ ماسٹر صاحب شام کی سیر کو گئے تھے۔ اُوما دیوی پاس کے دیوی مندر درشن کے لئے گئی تھی۔ رشمی اور امیت بھی کہیں گئے ہوئے تھے۔

بہنوں کے اس طرح چلے جانے کے بعد چندا کا غصہ بھڑک گیا۔ غصے سے اس کا چہرہ مسخ ہو گیا، جس پر سریش کے لئے حقارت کا احساس واضح تھا۔ اتنا غصہ اسے سریش پر پہلے کبھی نہیں آیا تھا، ’’تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری بہنوں کے سامنے ایسی بات کرنے کی، تم کیا سمجھتے ہو شادی کر کے تم کو مجھے ہراساں کرنے کا حق مل گیا، میں تمہاری غلام ہو گئی؟ شوہر کا کوئی بھی فرض آج تک مناسب طریقے سے نبھایا ہے تم نے ؟ میری اپنی سمجھ، پسند نہ پسند نہیں ہو سکتی؟ کس سے بات کرنی ہے کس سے نہیں، اب یہ بھی تم سے پوچھ کے کرنا پڑے گا کیا؟‘‘

چندا بہت دیر تک بڑبڑاتی رہی۔ سریش پلنگ پر دوسری طرف منہ کر کے لیٹ گیا۔ اسے کچھ جواب نہ سوجھا۔

………

اس جھگڑے کے ایک دو دن بعد چنداتو پرسکون ہو گئی، لیکن سریش کے ذہن میں پڑی گانٹھ نہ کھل سکی تھی۔ سریش کو چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصہ آنے لگا تھا اور چھوٹے سے چھوٹا کام بھی مشکل لگتا تھا۔ کسی سے نہ کچھ کہتا نہ سنتا۔ صحت بھی ڈھل گئی تھی۔ وہ خود سے بہت ناراض تھا۔ آئینے میں دیکھتا تو اپنی خامیاں ہی دکھائی دیتیں۔ چھوٹا قد، سانولا رنگ، جو سورج میں مسلسل رہنے کی وجہ سے سیاہ نظر آتا، دبلا پتلا جسم اور عام سے نین نقش۔ اس کا دل کہیں بھاگ جانے کو کرتا۔

تقریباً ًدو ماہ گزر گئے تھے۔ ایک دن اسکول میں چندا کی طبیعت کچھ بگڑ گئی۔ اسے متلی اور چکرسے آ رہے تھے۔ اسکول سے چھٹی لے کر مالتی، چندا کو آٹو رکشہ میں بیٹھا کر ڈاکٹر ودیا کے پاس لے گئی۔

ڈاکٹر ودیا نے چندا کا چیک اپ کیا اور خوش خبری سنائی کہ چندا حاملہ ہے۔

مالتی، چندا کو گھر تک چھوڑنے آئی اور اس نے اُوما دیوی کو اس خوشی کی خبر کے بارے میں بتایا۔ گھر میں خوشی کا ماحول چھا گیا۔

شام کو سریش جب گھر لوٹا، تو اُوما دیوی نے اسے پاس بلا کر اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر کہا، ’’اب فالتو گھومنا چھوڑ دے اور بہو کی دیکھ بھال کر۔ تو باپ بننے والا ہے۔ ‘‘

سریش کے چہرے پر کئی رنگ آئے اور گئے۔

رات کو اُوما دیوی نے سریش اور چندا کے لیے کھانے کی تھالی کمرے میں ہی بھجوا دی۔ چندا نے شرماتے ہوئے سریش کو مبارک باد دی۔ سریش ہلکا سا مسکرایا۔ دونوں نے بہت دنوں بعد ایک تھالی میں کھانا کھایا۔ کھانا کھا کر دونوں لیٹے، تو چندا جلد ہی گہری نیند میں سو گئی۔

چندا جب صبح سو کر اٹھی تو دیکھا کہ سریش وہاں نہیں تھا۔ اسے حیرت ہوئی، کیونکہ سریش اکثر دیر تک سوتا تھا۔ تبھی اس کا دھیان ڈریسنگ ٹیبل پر گیا۔ شیشے پر ایک کاغذ چسپاں تھا۔ پاس جا کر دیکھا تو اس نے رونا شروع کر دیا۔ اس کاغذ پر بغیر کسی کو مخاطب کئے لکھا تھا، ’’سب لوگ مجھے معاف کریں، میں خود سے، پریشان ہو کر، گھر چھوڑ کر جا رہا ہوں۔ مجھے تلاش کرنے میں وقت ضائع نہ کریں۔ گھر میں آنے والے بچے کو پیار۔ ‘‘

چندا کا رو رو کر برا حال تھا۔ ماسٹر صاحب پولیس میں رپورٹ لکھوانے دوڑ گئے۔ تمام رشتہ داروں کو خبر کر دی گئی۔ چندا کے ماں باپ بھاگے ہوئے آئے۔ چندا ان سے لپٹ کر خوب روئی۔ سب نے اس ڈھارس بندھائی کہ سریش جلد لوٹ آئے گا۔

دوسرے دن اخبارات میں سریش کی گمشدگی کا اشتہار چھپا۔ ماسٹر صاحب نے ٹی وی میں بھی اشتہارات دیا۔ اطلاع دینے والے کو مناسب انعام کا اعلان بھی کیا گیا۔ تمام ممکنہ مقامات پر ماسٹر صاحب اور امیت جا کر آئے۔ یہاں تک کہ ہسپتالوں اور مردہ گھروں میں بھی تلاش کیا۔ لیکن کہیں سے بھی سریش کا کوئی سراغ نہیں ملا۔

تقریباً سات ماہ بعد چندا نے ایک پیاری سی بیٹی کو جنم دیا، جس کی شکل ہوبہو چندا پر گئی تھی۔ لڑکی کو دیکھ کر اُوما دیوی، چندا کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولیں، ’’اب اس نالائق کا خیال چھوڑ کر اور بیٹی میں من لگا۔ اچھا ہے بیٹی باپ پر نہیں پڑی۔ میں اس کی پرچھائیں بھی نہیں دیکھنا چاہتی۔ ‘‘

چندا نے کہا، ’’لیکن یہ جب اپنے والد کے بارے پوچھے گی تب؟‘‘

اس سوال کا جواب آسان نہیں تھا۔

اُومادیوی بولیں، ’’بیٹی کی قسمت سے شاید لوٹ ہی آئے۔ ‘‘ اور وہ ننھی گڑیا کو گود میں لے کر دلارکرنے لگی۔

٭٭٭

ختم شدہ
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: