Filhal By Muhammad Shariq – Episode 1

0

فلحال از محمد شارق – قسط نمبر 1

–**–**–

ایک سال سے زیادہ ہو گیا تھا وہ نا جانے کہاں کہاں گئ ہوگی اسکی تلاش میں ۔
آج بھی وہ پولیس اسٹیشن سے بغیر کسی جواب کے نکلی تھی۔
دیکھے محترمہ آپ سے نرمی کا برتاؤ رکھ رہے ہیں تو آپ کو بات سمجھ نہیں آرہی شاید ۔آج آخری بار کہہ رہا ہوں آئندہ آپ یہاں آئ تو یہ آپ کیلۓ اچھا نہیں ہوگا۔آپ جا سکتی ہے۔
اس ایچ او کی باتیں اور رویہ آج اسے ڈرا گۓ تھے ۔۔۔
وہ پولیس اسٹیشن کے باہر آکر ایک بینچ پر بیٹھ گئ تھی اور اپنے بیگ میں موجود خاکی پیکٹ کو ایک نظر دیکھ کر زپ بند کرتے ہوۓ آنسو کی ایک لڑی جو اسکی آنکھوں سے نکلی تھی پونچھنے لگی۔
پاپا کہاں ڈھونڈھو اسے کہیں پر کوئ بھی کچھ جانتا ہی نہیں ہے اسکے بارے میں ۔۔۔
وہ بینچ سے ٹیک لگا کر گہری سانس لیتے ہوۓ اٹھنے لگی ہی تھی کہ کسی کی شفقت بھری آواز پر اسکی جانب مڑی۔۔۔
سنو بیٹا۔۔۔!!
وہ آواز دینے والے کی جانب مڑی جو ایک کمزور سے بوڑھے کونسٹیبل کی تھی ۔
جی انکل !!
کونسٹیبل نے آس پاس دیکھا اور مزید اسکے قریب آیا۔
بیٹا ایک سال سے زیادہ ہوا ہے تمھیں دیکھ رہا ہوں تم پولیس کے ہر ادارے میں مجھے نظر آئ ہو مگر تم جسے ڈھونڈھ رہی ہو وہ تمھیں نہیں ملے گا کیونکہ کوئ بھی اسے نہیں جانتا سب نۓ لوگ ہے پرانوں کی پوسٹنگ کہاں ہوئ ہے کوئ نہیں جانتا بس ایک میں رہ گیا ہوں کیونکہ اگلے ہفتے میں ریٹائر ہو رہا ہوں اسلۓ تمھارے والد کی خاطر کیونکہ وہ اچھے انسان تھے تمھیں بتا رہا ہوں کسی کمپیوٹر ہیکر کے پاس جاؤ وہی تمھاری مدد کر سکتا ہے۔
یہ کہہ کر وہ دوبارہ آس پاس دیکھ کر پلٹ کر جلدی جلدی جانے لگا تو وہ اسکی جانب دیکھتے ہوۓ بولی۔
انکل شکریہ!!!
وہ بغیر پلٹے اس سے بولا۔
شکریہ کی ضرورت نہیں بس میرا ذکر کسی سے مت کرنا ۔۔
یہ کہہ کر وہ کانسٹیبل چلا گیا اور وہ بھی اب مین روڈ کی جانب چلنے لگی جہاں اسکی گاڑی کھڑی تھی ۔
اف!! اب ہیکر کہاں سے ڈھونڈھو ۔
یہ سوچتے ہوۓ اسنے گاڑی اسٹارٹ کی اور کچھ دیر ڈرائیو کرنے کے بعد کچھ ذہن میں آتی ہی موبائل نکالنے لگی۔۔
……………………………………………………………………………………..
وہ بیڈ پر لیٹا تھا رات کے تین بج رہے تھے اے سی کی ٹھنڈ میں بھی اسکے ماتھے پر پسینے آیا ہوا تھا۔
وہ نیند میں بے چین تھا
کوئ لڑکی ہری بھری گھاس پر چل رہی تھی سفید نفیس شلوار قمیض میں ملبوس اسکا لال آنچل ہوا میں اڑ رہا تھا وہ کسی وادی میں تھی بہت خوبصورت وادی رنگ برنگے پھول ۔وہ اسی کی جانب آرہی تھی مگر دھند ہونےکی وجہ وہ اسکا چہرہ دیکھ نہیں پا رہا تھا۔
جوں جوں وہ قریب آرہی تھی دھند بھی بڑھتی جا رہی تھی۔لیکن جیسے ہی اس نے اس لڑکی کی جانب ایک قدم بڑھایا کہی سے گولی چلی اور وہ لڑکی ایک دلخراش چیخ کے ساتھ گری اور یہاں وہ چلاتے ہوۓ نیند سے بیدار ہوا۔
نہیں !!!نہیں !!!!
وہ چلاتے ہوۓ اٹھا ۔وہ بے چینی سے سانسیں لے رہا تھا اپنے چہرے پر آۓ پسینے کو محسوس کرتے ہوۓ اس نے بیڈ سائیڈ لیمپ آن کیا گھڑی پر رات کے تین بج رہے تھے وہ اٹھا اور واشروم کی جانب بڑھا ۔واش بیسن کے پاس کھڑا وہ اپنا دلکش چہرہ آئینہ میں دیکھتے ہوۓ اس پر پانی مارنے لگا ۔
یہ پہلی بار نہیں تھا کہ اس نے یہ خواب دیکھا تھا وہ اکثر راتوں کو ایسے بے چین رہتا تھا۔۔۔
،،،،،………………………………………………………………………………….
پورے کمرے میں اندھیرہ تھا مگر اسکے ہاتھ میں موجود جلتے سگريٹ کی چھوٹی سی سرخی واضح تھی ۔
تبھی کوئ دروازہ پر نوک کرکے اندر آیا۔۔
سر دبئ سے لوگ آگۓ ہیں میٹنگ شروع کر لیتے ہے۔
یہ اسکے ہر خاص و عام کام میں اسکے ساتھ رہنے والا اسکا وفادار جابر تھا ۔
ٹھیک ہے جابر تم جاؤ۔۔۔
جابر جانے لگا تو اسکی آواز پر رکا۔
جابر وہ ملی یا نہیں ۔۔
اسکے اس سوال پر جابر نے سر جھکا لیا تو اس نے سگریٹ کا دھواں خارج کرتے ہوۓ ایک گہرا سانس لیااور جابر کو جانے کا کہا۔
جابر کے جاتے ہی کمرے سے کچھ ٹوٹنے کی آواز آئ جس پر جابر افسوس سے بند دروازے کو دیکھ کر چلا گیا جبکہ اندر بیٹھا وہ خوبرو اور مضبوط جسم کا مالک جو دکھنے میں کسی ریاست کے شہزادے سے کم نا تھا کانچ کے ٹوٹے ٹیبل کو جو اس نے اپنے مضبوط ہاتھ کے ایک ہی مکے سے چکنا چور کرلیا تھا اسے دیکھ رہا تھا اور اسکی آنکھوں میں آنسو تھے افسوس اور ندامت کے آنسو۔
کہاں ڈھونڈھو تمھیں کاش اس دن کسی اور پر بھروسہ نا کرتا کاش !!!
……………………………………………………………………………………..
تین سال پہلے۔۔۔۔۔۔۔
یہ شہر کا سب سے اندرونی حصہ تھا جہاں دن میں سناٹا مگر رات کو جشن سا سماں ہوتا۔۔۔
جہاں عزت دار لوگ دن میں نہیں رات میں آتے ۔۔۔۔
بانو کا کوٹھہ سب سے منفرد مشہور اور سبکا پسندیدہ تھا۔۔
ستارہ آئینے کے سامنے بیٹھی اپنے بالوں میں آئ ایک سفیدی کی دار کو اپنی قسمت کی سیاہی جیسا ہی کر رہی تھی ۔
ستارہ جو کسی حور سے کم نا تھی پچھلے پانچ سالوں سے یہی تھی بس انیس کی تھی جب یہاں لائ گئ تھی ۔رنگ روپ ہر نوازش سے رب نے اسے بخشا تھا مگر یہ نوازشیں اسے برباد کرچکی تھی وہ کچھ نہیں کر سکی تھی ۔
ستارہ اپنے کام میں مگن تھی کہ اسے بانو کی چلانے کی آواز آئ اور ساتھ کسی لڑکی کی آہ و بکا کی۔
یہ پہلی بار نا تھا یہاں تو عام تھا روز کا تماشہ ستارہ اپنی کام میں مشغول رہی تبھی اسکے کمرے کا دروازہ زور سے کھلا
ستارہ چل جلدی بچالے بچاری کو وہ زرار ناس پٹیاں آج پھر کسی معصوم کو لیکر آیا ہے۔۔
یہ کہنے والا ایک نازک جسامت والا خواجہ سرا تھا جسے سب دانی کہتے تھے۔جو کھوٹے کے اندرونی معاملات سنبھالتا تھا۔۔
زرار کا نام سنتے ہی ستارہ کے چہرے پر غصے کے تاثرات ابھرے اس نے زور سے آنکھیں میچ لی مگر دانی کی بات پرکوئ ردعمل ظاہر نہیں کیا۔۔
دانی کوئ نئ بات تو نہیں ہے جو تم اتنا تڑپ رہی ہو ۔۔
۔
ستارہ نے لاپرواہی سے جواب دیا اور کام ختم ہوتے ہی آئینے کے سامنے سے اٹھی ۔
نئ بات ہے ستارہ وہ بیچاری عدت میں ہے شوہر ابھی ابھی مرا ہے اسکا۔۔
دانی کی بات سن کر ستارہ نے چونک کر اسکی طرف دیکھا اور دوڑتی ہوئ اسی کمرے کی طرف بھاگی جہاں آج پھر کسی معصوم کی زندگی اندھیروں کے حوالے ہونے والی تھی۔
زرار لے جا اسے اور جلال کے حوالے کر بہت شور کر رہی ہے محفل کا وقت ہے دھندا خراب کر دے گی ۔
زرار جو بانو کو لڑکیاں سپلائ کرتا تھا ایک پاؤں سے لنگڑا چالیس پینتالس عمر کا بھاری جسم اور کالی رنگت والا بے حس انسان غلیظ سی مسکراہٹ لیے اسکی جانب بڑھا اسی وقت ستارہ دانی کے ساتھ وہاں آ چکی تھی وہ آتے ہی اسکی ڈال بن کر کھڑی ہوئ اور ایک زور دار طمانچہ زرار کے منہ پر جھڑ کر اس لڑکی کی جانب بڑھی اور اسے اپنی بانہوں میں لیے وہاں سے لے جانے لگی اور وہ ستارہ کو کوئ مسیحا سمجھ کر اسکے ساتھ چلنے لگی تبھی بانو اسکے آگے آکر کھڑی ہوگئ۔۔۔
اے ستارہ کہاں لے جارہی ہو اسے ؟؟؟
ستارہ نے غصہ سے بانو کی طرف دیکھا ۔
بانو بیگم کچھ خدا کا خوف ہے آپکو یا نہیں یہ عدت میں ہے کچھ لحاظ ہی رکھ لے۔۔
ستارہ کی بات سنتے ہی بانو اور زرار دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر زور زور سے قہقہے لگانے لگے۔
زرار دوبارہ اسکی جانب بڑھا تھا اور وہ ستارہ کے پیچھے چھپنے لگی ۔
بانو بیگم یاد رکھنا اگر اسے ہاتھ لگایا تو میں کل کا مجرا نہیں کروں گی
ستارہ کی بات سنتے ہی زرار کے قدم رکھ گۓ ۔کیونکہ ستارہ کے مزاج سے سب واقف تھے پہلے دن سے ہی۔بانو ایک دم سنبھلی۔
اچھا اور آج کا نقصان کون پورا کرے گا یہ توڑ پوڑ جو کی ہے اس لڑکی نے کون حرجانہ بھرے گا ۔ہممم تم بھر سکتی ہو آسانی سے آج بھی رقص کرلو تو اس لڑکی کو بھی تمھاری جیسی سہولیات میسر ہو جاۓ گی ویسے بھی یہ پھول فلحال مسلنے کیلۓ نہیں بس دیکھنے کیلۓ چنا تھا میں نے جیسے تمھیں چنا تھا ۔
بانو کی بات سنکر ستارہ کے چہرے پر زخمی مسکراہٹ نمودار ہوئ ۔اور فلحال لفظ سن کر وہ لڑکی بھی سہم گئ تھی نفرت تھی اسے اس لفظ سے۔۔۔
منظور ہے تیاری کرلے آپ ۔۔۔
ستارہ کی بات سن کر بانو کے تو چہرے پر خوشی ہی خوشی چھلکنے لگی پیسوں کا سوچ کر ۔
دانی جا اعلان کر آج ستارہ کا رقص ہے تاکہ گراہکوں کی بھیڑ جمع ہو جاۓ ہاۓ دل خوش کر دیا تو نے ستارہ واہ!!!
یہ کہتے ہوۓ بانو چہکتے ہوۓ وہاں سے جانے لگی اور زرار بھی بانو کے پیچھے ستارہ پر نظریں گاڑھتا ہوا لنگڑاتا ہوا چل پڑا۔
۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
ستارہ اسے اپنے کمرے میں لائ تھی جہاں وہ ابھی تک رو رہی تھی ۔
سنو یہ اب تمھارا مقدر ہے یہ تو خیر مناؤ کہ تمھیں درندوں کا نوالہ نہیں بنایا جاۓ گا بس شو پیس کی طرح استعمال ہوگی تم یہ خوبصورتی تمھیں بچا چکی ہے ۔اسلۓ یہ لو نیند کی گولی اور سو جاؤ مجھے تیار بھی ہونا ہے۔
ستارہ کی بات سن کر اس نے حیرت سے اسکی طرف دیکھا اور ستارہ کے ہاتھ سے گولی لیکر کھانے لگی ستارہ نے پانی کا گلاس اسے پکڑایا اور خود آئینہ کے سامنے کھڑی ہوگئ اور آئینہ میں اسکا سراپا نظر آرہا تھا تو اسے دیکھنے لگی وہ ستارہ سے بھی زیادہ خوبصورت تھی اس میں کوئ شک نہیں تھا کمر سے نیچھے آتے بال سفید کھلی رنگت نین نقش بے عیب بیچ کی مانگ نکالے اور ابایا میں وہ بے حد حسین لگ رہی تھی ۔ستارہ نے آئینے سے ہی اسکی جانب دیکھا اور پوچھا۔
تمھارا شوہر کیسے مرا؟؟
ستارہ کی بے حس رویے میں پوچھے اس سوال کا جواب وہ نہیں دینا چاہتی تھی ۔۔
اسکی خاموشی دیکھ کر ستارہ اک ادا سے اسکی جانب مَڑی ۔
اچھا ہے نا بتاؤ اب سو جاؤ کیونکہ اب تمھیں تیار کیا جاۓ گا ۔کچھ دنوں میں ادائیں اور رقص سب کا ماہر بنا کر تمھیں پیش کیا جاۓ گا۔۔
ستارہ کی باتیں اسکی روح پر وار کر رہی تھی ۔۔
دیکھوں مجھے نہیں لگتا تمھیں یہاں سے کوئ لے جاۓ گا اس لیے ناچنے سے انکار مت کرنا ۔۔
وہ ستارہ کی بات سن کر آنکھیں بند کر چکی تھی آنسو تو بہہ ہی رہے تھے ۔۔۔
سنو اپنا نام بھی اب بھول جاؤ آج سے تم ستارہ کا چاند ہو ۔
ستارہ کی بات سنکر بھی اس نے آنکھیں نہیں کھولی اور اپنی قسمت پر روتے ہوۓ اسے عذاب سے بھری جگہ پر نیند کی گولی کی وجہ سےاسے نیند آگئ ۔۔
اسے کافی دیر تک پرسکون دیکھ کر ستارہ اسکے پاس گئ اور اسے بیڈ پر صحیح طرح لٹانے لگی ۔اور چادر اڑاتے ہوۓ اسکا چہرہ بغور دیکھنے لگی جس پر انگلیوں کے نشان تھے جو ان ظالموں کے ظلم کی گواہی دے رہے تھے ۔
ستارہ اسے دیکھتے ہوۓ اپنی ماضی میں چلی گئ تھی ۔اسے اپنے یاد آۓ اور وہ وہی اسکے قریب بیڈ پر بیٹھی ٹیک لگا کر آنکھیں موندھ کر پانچ سال پہلے کے لمحوں کو اپنی ذہن میں چلتا محسوس کرنے لگی۔۔۔
صائم !!
یہ نام لیتے ہی اسکی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نمرہ آج یونی میں بہت خوش تھی کیونکہ انکا ڈانس گروپ انٹرنیشنل اسٹوڈنٹز ٹیلنٹ کیلۓ سیلیکٹ ہو چکا تھا اور وہ اس میں لیڈ ڈانسر تھی ۔
وہ ہمیشہ کی طرح اپنی پھوپھی زاد رمشہ کے ساتھ یونی سے آف ہونے کے بعد گھر کی طرف جانے لگی تھی ۔۔
پتہ ہے رمشہ میں بہت خوش ہوں اب تو سب کو پتہ لگے گا نمرہ کون ہے سب دیکھے گے میرا ڈانس واؤ!!!
رمشہ نے اسکی بات کا کوئ جواب نہیں دیا اور اس پر حقارت بھری نظر ڈالی جو نمرہ نہ دیکھ سکی
رمشہ ہمیشہ سے نمرہ کی خوبصورتی اور ہر کامیابی سے جلتی تھی ۔مگر نمرہ اس سے بے خبر تھی۔
وہ گھر پہنچے تو نمرہ نے ہمیشہ کی طرح رمشہ کو گھر میں کسی کو بھی بتانے سے منع کیا ۔
اس گھر میں نمرہ اور اسکے والد کے ساتھ اسکی بیوہ پھپھو اور انکی بیٹی رمشہ رہتے تھے جبکہ پھپھو کا ایک بیٹا بھی تھا جو چھٹیوں پر آنے والا تھا وہ دبئ میں سیلز مین تھا کسی شاپ پر۔
نمرہ کی ماں اسکی پیدائش کے بعد چل بسی تھی تب سے نمرہ کو اسکے والد نے ہی سنبھالا تھا جو کسی فیکٹری میں مزدور تھے اور گھر میں سواۓ رمشہ کےاور کسی کو اسکے ڈانس کے بارے میں پتہ نہیں تھا۔
۔۔………………………………………..
نمرہ کی گروپ کی ٹریننگ پوری ہو چکی تھی اور ٹیلنٹ شو میں تمام پرفارمرز کی ٹیم ایک مہینہ پہلے سے ہی آکر اسٹیج پر اپنی دی ہوئ ٹائمنگ کے حساب سے پریکٹس کرنے لگی تھی
نمرہ وہاں یونی بس میں باقی اسٹوڈنٹز کے ساتھ آتی جاتی
وہ لیٹ ہوتی تھی تو اسکی وجہ سے رمشہ کو بھی اسکے ساتھ اپنی ماں کی ڈانٹ سننی پڑتی جس سے اسکی جلن اور حسد اور بڑھ چکی تھی رمشہ کے خلاف۔۔
………………………………………..
وہاں ترکی کے اسٹوڈنٹز بھی تھے ۔نمرہ اکثر ان میں موجود ایک کیمرہ بواۓ کو خود کو دیکھتے ہوۓ دیکھتی ۔۔۔
ھیلو مسٹر یہ کیمرے میں کیا سیو کیا ہے ؟؟
نمرہ آج اس ترکش لڑکے کے سر پر کھڑی غصہ سے بولی جس سے وہ ذرا سہم گیا۔
yes…
چھپ یس کے بچے دکھاؤ مجھے دکھاؤ ۔
نمرہ کیمرے پر جھپٹی تو وہ اسکے قریب آیا اور اسکا کیمرے کی طرف بڑھتا ہاتھ پکڑ لیا جس سے دونوں ٹکراۓ اور دونوں کی نظریں ملی نمرہ کو وہ ایک معصوم شہزادہ لگا اور وہ تو پہلے دن سے ہی نمرہ کو اپنا دل دے بیٹھا تھا۔
پلیز آپ رکے کیمرہ بہت مہنگا ہے اور انسٹیٹیوٹ کا ہے میں اسکا نقصان نہیں بھر سکتا پلیز آپ بینچ پر بیٹھے ہم تحمل سے بات کرتے ہیں۔
نمرہ اسکے لہجے میں کھو گئ تھی ہوش میں آتے ہی وہ اپنے جذبات دباۓ قریب بینچ پر بیٹھ گئ ۔۔
میرا نام صائم ہے اور آپ نمرہ ۔آپ بہت اچھی ڈانسر ہے اور بہت خوبصورت ۔۔
کہتے کہتے اسکا لہجہ بدل گیا جس پر نمرہ کا دل دھڑکنے لگا تھا۔اس نے نظریں جھکا لی تھی اسکا غصہ اب غائب تھا۔۔
اب صائم اسکے پاس بیٹھ کر اسے اسکی تصویریں دکھانے لگا جھنیں دیکھ کر نمرہ اپنی خوبصورتی پر رکش کرنے لگی تھی ۔
صائم اور نمرہ اب ایک دل دو جان بن چکے تھے دونوں اب ایک دوسرے کے بغیر رہنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔۔۔
………………………………………..
نمرہ کو وہاں پر موجود ایک گارڈ کی نظریں بہت عجیب لگتی تھی لیکن اس نے کسی سے اسکا ذکر نہیں کیا تھا کیونکہ غلیظ لوگ ہر جگہ موجود ہوتے ہیں بس وہ خود کو سیکیور محسوس کرتی جب صائم کو اپنے آس پاس دیکھتی ۔۔۔
……………………………………..
رمشہ دو گھنٹے سے نمرہ کا یونی کے گیٹ پر انتظار کر رہی تھی تبھی اسے نمرہ کسی کے ساتھ آتی دکھائ دی رمشہ کی آنکھیں ان دونوں کو ایک ساتھ دیکھ کر وہی ٹھہر گئ ہر زاویے سے وہ پرفیکٹ لگ رہے تھے پری اور پری زاد ۔۔۔۔
گھر جاتے ہوۓ نمرہ رمشہ سے اپنے اور صائم کے بارے میں بتاتے ہوۓ بہت خوش تھی اس بات سے بے خبر کہ رمشہ اندر تک جھلس چکی ہے ۔۔
……………………………………………………………
نمرہ سوئ ہوئ تھی جب شام کے وقت اسے اپنی پھپھو کی زور سے آتی آوازوں نے نیند سے بیدار کروایا۔
بھائ صاحب بس یہی دن دیکھنے رہ گۓ تھے اس نے ذرا بھی ہماری عزت کا خیال نہ کیا کتنی چھوٹی تھی جب سے اسے میں نے پالا پرسکون زندگی دی رمشہ سے زیادہ اہمیت دی مگر یہ کیا آج ایسے کوئ غیر لڑکا ہم سے عزیز ہوگیا بات اتنی بڑھ چکی ہے کہ وہ رشتہ مانگنے آگیا۔۔۔
نمرہ کا سر چکرا گیا اس نے فوراً اپنا موبائل دیکھا جو وہ سوتے ہوۓ سائیلنٹ پر رکھ کر سوئ تھی صائم نے نا جانے کتنے کال کیے اور ایس ایم ایس
وہ اسکے اس ایم اس پڑھتے ہوۓ حیران ہو رہی تھی۔اس نے جلدی سے اسے فون کیا۔۔
ھیلو صائم تم اپنے والد کے ساتھ گھر آۓ تھے اور میں نے کب آنے کا کہا تھا تمھیں ؟؟؟۔۔
وہ گبھراتے ہوۓ بول رہی تھی جس پر صائم پریشان ہوا
رکو نمرہ بابا کے آنے کی اطلاع دینے کیلیے میں نے تمھیں کال کی تم نے پک نہیں کی تو میں نے اس ایم اس کیا کہ کل اچھے سے تیار ہوکر آنا کیونکہ میں بابا کو ہمارے بارے میں پہلے ہی بتا چکا تھا تو وہ تمھیں دیکھنا چاہتے تھے مگر تم نے کہا کہ گھر آجاؤ اور بابا کے ساتھ اور رشتہ مانگ لو کیونکہ تم بھی اپنے گھر والوں کو سب بتا چکی ہو تو ہم آۓ میں نے آنے سے پہلے اور بعد میں بھی کال کی مگر تم اٹینڈ ہی نہیں کر رہی تھی بس اس ایم اس کر رہی تھی ۔۔
صائم نے بنا رکے ساری بات کہی نمرہ جواب دینے لگی تو رمشہ زہریلی مسکراہٹ لیے کمرے میں داخل ہوئ تو نمرہ نے فون بغیر جواب دیے بند کیا۔۔
نمرہ سوتے ہوۓ موبائل کا خیال رکھا کرو بلکہ چھپا کر رکھا کرو اور چلو عزت افزائ کیلۓ نیچھے سے بلاوا آیا ہے۔
رمشہ کے چہرے کے زہر آمیز تیور نمرہ کو سب سمجھا گۓ وہ ڈرتے ہوۓ نیچھے گئ ۔
صحن میں اس کے والد سر جھکاۓ بیٹھے تھے وہ آج اپنی عمر سے بھی زیادہ بوڑھے لگ رہے تھے۔
وہ بھی سر جھکا کر کھڑی ہو گئ ۔
نمرہ بیٹا ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اگلے جمعہ کو تمھارا نکاح کروایا جاۓ علی کل دبئ سے آرہا ہے تمھاری پھپھو کی یہ خواہش ہے کہ تم اسی گھر میں رہو انکی بہو بن کر۔
نمرہ نے ایک نظر اپنے والد کو دیکھا جو ابھی تک سر جھکاۓ بیٹھے تھے پھر اس نے رمشہ کو دیکھا جو نمرہ کو دیکھ کر طنزيہ مسکرا رہی تھی ۔نمرہ سے وہاں کھڑے ہونے نہیں ہو رہا تھا وہ وہاں سے بھاگتے ہوۓ اپنے کمرے میں آئ اور دروازہ بند کرتے ہوۓ وہی ٹیک لگاتے ہوۓ زمین پر بیٹھی رونے لگی۔۔۔۔
…..
…………………………………………
صائم مجھے ڈر لگ رہا ہے پتہ نہیں کیا ہوگا میں مر جاؤں گی اگر تم سے الگ ہوئ ۔۔۔
نمرہ رو پڑی تھی جب وہ اسے گھر میں ہونے والی ساری باتیں بتا رہی تھی۔۔
صائم کا دل بھی تیز دھڑکنے لگا تھا۔
کیا شادی کرو گی مجھ سے ابھی اسی وقت ؟؟
صائم کے اس سوال پر وہ چونک کر اسی کی جانب دیکھنے لگی تھی۔
بولو نمرہ ؟
صائم نمرہ کی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ بولا تھا ۔
وہ میں ۔۔۔مطلب مجھے نہیں پتہ ۔۔؟؟؟
نمرہ کی سانسیں بے ترتیب ہونے لگی تھی۔۔
پلیز بات سنو میری اب کیا ہوگا تم جانتی ہو تو گھر جاؤ اور لیٹر لکھ کر رکھ دو شام کو ہم نکاح خواہ کے پاس جاکر نکاح کرلیگے اور پھر تمھارے گھر جاکر سب سے معافی مانگ لینگے ۔
صائم نے یہ کہتے ہوۓ اسکا ہاتھ تھام لیا تھا تو وہ کچھ سوچ کر اثبات میں سر ہلانے لگی اور دونوں اس بات سے انجان تھے کہ کوئ انکی باتیں سن چکا تھا۔
………………………………………….
نکاح ہوتے ہی دونوں نے ٹیکسی لی اور نمرہ کی گھر کی طرف گۓ انکے ساتھ صائم کے والد بھی موجود تھے ۔
نمرہ اپنا موبائل آن کر لو اب ۔
صائم اسکی جانب مسکراتے ہوۓ دیکھ کر بولا۔
جواب میں وہ بھی مسکرائ اور موبائل آن کردیا۔
دونوں خوش تھے نمرہ روایتی دلہنوں کی طرح سر جھکاۓ بیٹھی تھی۔
اچانک نمرہ کے فون کی رنگ سے سب چونکے ۔
نمرہ نے فون کی جانب دیکھا تو گبھرا کر صائم کی طرف دیکھا ۔
صائم بابا!!
صائم نے اسکے ہاتھ سے فون لیکر اوکے کرکے اسپیکر آن کر دیا ۔
کہاں ہو منحوس اپنے بوڑھے باپ کو نگل گئ مار دیا میرے بھائ کو شادی کرلی تو نے دیکھ لینا کبھی خوش نہیں رہے گی اگر غیرت تھوڑی باقی ہے تو یہاں مت آنا ۔۔
نمرہ کی پھپھو کی روتی ہوئ آواز سن کر سب کے ہوش اڑ گۓ تھے وہ ابھی اسی حیرت میں تھے کہ اچانک ٹیکسی کنٹرول سے باہر ہوگئ اور روڈ سے اتر کر جھاڑیوں کی طرف جا کر کسی چیز سے زور سے ٹکرا کر رک گئ۔
صائم کے والد بے ہوش ہو چکے تھے جبکہ ڈرائیور کی حالت بھی ابتر تھی
صائم ٹیکسی سے لنگڑاتے ہوۓ باہر نکلا اپنے بابا کو آوازیں دینے لگا تبھی اسے نمرہ کی دلسوز چیخ سنائ دی ۔
صائم بچاؤ مجھے صائم !!!!
وہ اتنا بول پائ تھی کہ اس شخص نے جو نمرہ کو زبردستی لیکر جا رہا تھا نمرہ کے منہ اپنے ہاتھ میں جکڑا اسی لمحے نمرہ نے اسے دیکھا یہ وہی گارڈ تھا ۔۔
صائم فوراً نمرہ کی جانب بڑھا تو گارڈ نے پستول نکال کر نمرہ کے سر پر رکھی جیسے دیکھ کر صائم رک گیا۔
رک جا بیٹا ایک مہینہ سے اس دن کا انتظار کر رہا تھا وہ تو اچھا ہوا تم لوگوں کی شادی کی پلاننگ سن لی میں نے ورنہ اتنا سب کیسے کرتا ۔
وہ یہ بولتے بولتے اچانک لڑکڑایا اور اسکے ہاتھ سے پستول گر گئ تو صائم فوراً اسکی جانب بھاگا مگر اچانک فضاء میں گولی چلنے کی آواز آئ اور صائم گر گیا پھر ایک اور فائر صائم کی سفید قمیض لال ہونے لگی نمرہ کیلۓ یہ منظر کسی قیامت سے کم نا تھی وہ اس لنگڑاتے وجود کے ہاتھوں میں بن پانی کی مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھی۔
ایک لمحہ میں کیا سے کیا ہوگیا ۔
تبھی اسکے منہ سے ہاتھ ہٹا کر اسکے منہ پر کپڑا رکھا گیا جسکی وجہ سے وہ بے ہوش ہو گئ تھی۔۔
………………………………………..
خبردار جو کسی نے مجھے ہاتھ لگایا چھوڑو مجھے جانے دو۔۔۔۔۔۔۔
نمرہ چلا رہی تھی تبھی ایک اور تپھڑ اسکے گال پر پڑا تھا ۔
دیکھ لڑکی چلانا بند کر اور فکر کیوں کر رہی ہے تجھے اچھے استعمال میں لینگیں میں تیرے ساتھ غلط نہیں ہونے دونگی تو میرے کوٹھے کا ستارہ بننے والی ہے ۔مان گئ تو ٹھیک ہے صرف نچوآۓ گیں سنا ہے غضب کا ناچتی ہو ۔اگر نہیں مانی تو پتہ ہے نہ کوٹھہ پر کیا کیا ہوتا ہے۔اور میں تیری جوانی اتنی جلدی ضائع نہیں کرونگی تو تو کروڑ کا مال ہے کروڑ کا کیوں زرار ٹھیک کہا نا۔؟؟
بانو بیگم زرار کی طرف دیکھتے ہوۓ بولی ۔
زرار وہی گارڈ تھا وہ لنگڑاتا ہوا نمرہ کی جانب بڑھنے لگا تو دانی بیچ میں آئ ۔
۔
رک ناس پٹیے دور رہ سمجھے یہ صرف نچنیا ہے ۔۔
دانی نے حقارت سے اسکی جانب دیکھ کر کہا اور اسکے قریب گئ ۔
مان جاؤ ورنہ میں اس لنگڑے کو روک نہیں پاؤ گی ۔
دانی نے یہ کہتے ہوۓ اسکی جانب ہمدردی سے دیکھا۔۔
میں ۔میں ۔وہ صائم ۔۔۔میرے شوہر ۔۔۔
نمرہ اتنا بول پائ تھی کہ رونے لگ گئ ۔
مر گیا وہ سمجھی ۔۔
زرار کی بات پر نمرہ پر ایک اور قیامت ٹو ٹی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ستارہ کے آنسو روا تھے اپنا ماضی یاد کرتے ہوۓ ۔
تبھی باہر اندھیرہ بڑھتا دیکھ کر اٹھی ایک نظر پلنگ پر سوۓ وجود پر ڈالی جسکا حال بھی اس جیسا ہی تھا اور تیار ہونے چلی گئ۔۔۔
۔–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Hijaz Ki Aandhi by Inayatullah Altamash – Episode 2

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: