Filhal By Muhammad Shariq – Episode 10

0

فلحال از محمد شارق – قسط نمبر 10

–**–**–

جب تک انکی گاڑی گھر نہیں پہنچی تھی حارث انکو فولو کرتا رہا تھا ۔۔
سلطان کو یہ محسوس ہو چکا تھا کہ کومل اس سے ڈر رہی ہے اور یہ کہ ایک ہیلمٹ پہنے ہوۓ بائیکر انکو فالو کر رہا تھا۔۔
بنگلے کے قریب پہنچتے ہی کومل جلدی سے گاڑی سے نکل کر بنگلے کے اندر چلی گئ اس نے گیٹ کھلنے اور گاڑی پورچ میں لے جانے تک کا بھی انتظار نہ کیا۔
سلطان کو اس کی حرکت پر ہنسی آئ ۔۔
کتنی بھولی اور ڈرپوک ہو جان!!
سلطان خود سے مسکراتے ہوۓ ہم کلام ہوا اور گاڑی پورچ میں کھڑی کرنے کے بعد پاشا اسکے پاس آیا۔۔
سر حارث کی ساری ڈیٹیل مل گئ ہے اور اس کے والد سے پرسوں میٹنگ بھی فکس ہو چکی ہے ۔
سلطان نے پاشا کی بات سن کر اسکی جانب ایک نظر دیکھا اور مسکرا کر اندر چلا گیا۔۔۔
سر آپ ہمیشہ ایسے ہی مسکراتے رہیے گا میری دعا ہے اور وعدہ ہے کہ آپ کے راستے کے ہر کانٹے کو اکھاڑ کر پھینک دونگا ۔۔۔
پاشا خود سے عہد کرتا ہوا بولا کیونکہ سلطان اسکے لیے باس سے بڑھکر تھا ۔۔۔
سلطان دادی کے کمرے میں پہنچا تو کومل دادی کے پاس بیٹھی ہوئ تھی ۔
کومل بیٹا آپ جا کر آرام کرلو ہمیں رات کو شادی میں بھی جانا ہے اور تمھیں پارلر جاکر تیار ہونا ہے یاد ہے نا ۔میری بچی سب سے پیاری لگنی چاہیۓ ۔۔
کومل اثبات میں سر ہلا کر جانے کیلۓ اٹھی تو دروازے پر سلطان کو کھڑا دیکھ کر رکی ۔
سلطان اسے گھورتی نظروں سے دیکھتا ہوا دادی کے پاس آیا ۔
کومل کو اسکی نظروں کا مفہوم سمجھ نہیں آیا۔۔۔
کومل کے جاتے ہی دادی سلطان پر برسی۔
یہ سب کیا تھا سلطان جو تم نے آج کیا؟؟؟؟
دادی کو غصے میں دیکھ کر سلطان ہنسا تو دادی نے اسکا کان پکڑا۔
تم میری بچی کا اعتماد توڑ دینا چاہتے ہو کیا یا کوئ اور بات ہے وہ تو میں نے اسے یہ کہہ کر باور کروایا کہ سلطان بپلک پلیس میں زیادہ اٹھتا بیٹھتا نہیں ہے ورنہ پتہ نہیں وہ تمھیں کیا سمجھتی!!!
دادی کے ہر حرف میں سلطان کیلۓ فکر تھی وہ کسی بھی قیمت پر کومل اور سلطان کو ساتھ دیکھنا چاہتی تھی اور اب انھیں ڈر سا لگنے لگا تھا ۔۔۔
دادی آپ بہت گریٹ ہو ۔۔کتنے آسانی سے آپ سب کچھ ہینڈل کر لیتی ہے مگر دادی میں اسے وہاں اسکا اعتماد مجھ پر سے توڑنے کیلۓ بلکہ اپنے احساسات اسے جتانے کیلۓ لے گیا تھا مگر آپ کی کال سے میں آپکو اپنی تابعداری کا ثبوت دینے کیلۓ آگیا۔۔
دادی سلطان کی جانب حیرت سے دیکھ رہی تھی ۔
احساسات کیا اس طرح جتاۓ جاتے ہے ہوٹلوں میں لے جا کر ؟؟؟!!!
دادی اب بھی غصے میں تھی۔۔۔۔
نہیں دادی آپ بھی مجھے غلط سمجھ رہی ہے کیا میں ایسی گری ہوئ حرکت کر سکتا ہوں ۔۔۔؟؟!!!
دادی میں اسے اپنا ڈریم لینڈ دکھانا چاہتا تھا جسے دیکھ کر شاید اسے میری فیلنگز سمجھ آجاتی ۔۔
یہ کہہ کر سلطان دادی کو اپنے موبائل پر کچھ دکھانے لگا اور دادی کی آنکھیں نم ہو چکی تھی ۔
بیٹا اتنا چاہتے ہو میری بچی کو مجھے علم نہیں تھا اب بس آج کی شادی کے بعد میں اسے سب بتا دو گی ۔۔۔
دادی کی بات سنکر وہ دادی کے گلے لگ گیا اور اک امید لیے وہ نہ جانے کیا کیا سوچ کر مسکرانے لگا تھا ۔
نہیں دادی میں خود بتاؤں گا اسے !!!
…………………………
کومل فریش ہوکر ابھی لیٹی ہی تھی کہ اسکے موبائل پر میسج کی آمد پر وہ موبائل لیے بیٹھی اور میسج پڑھ کر مسکرانے لگی ۔
میسج حارث کا تھا جس میں کسی گانے کی لنک تھی۔۔
کومل بھی اب مسکراتے ہوۓ میسج ٹائپ کرنے لگی تھی۔۔
سوری مجھے ناچنے گانے سے شدید نفرت ہے ۔۔
اب کی بار حارث کی کال آنے لگی تو کومل نے کچھ سوچ کال اٹھالی ۔
ھیلو کومل جی تو آپ کو ناچنے گانے سے نفرت ہے مگر مجھے چند گانے پسند ہے تو جو لنک بھیجی ہے وہ سن لینا اور میرے اگلی میسج کا جواب تبھی دینا جب تمھارا جواب ہاں ہو
پتہ ہے نا میں کس ہاں کی بات کر رہا ہوں۔۔تو اگلی لائن آپ کی ہاں ہو تو ٹائپ کر دینا۔۔۔
کومل کی بات سنے بنا حارث ایک ہی سانس میں ساری بات ختم کرکے کال منقطع کر چکا تھا ۔
حارث جانتا تھا کہ کومل بات نہیں کر پائ گی اور یہی سچ تھا ۔۔
کومل اب لنک اپلوڈ کر کے سننے لگی تھی ۔۔
کومل سونگ سن کر بہت کچھ سمجھ چکی تھی اسے الگ سا احساس ہونے لگا تھا اس نے دوباره حارث کا میسج پڑھا تھا۔
عشق ہے درمیاں پھر کیوں ہے دوریاں
نہ چھو سکوں میں نہ مڑ سکوں
تجھ میں کہی ہوں میں پھر بھی نہیں ہوں میں
نا میں رکوں نا چل سکوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کومل نے مسکراتے ہوۓ میسج ٹائپ کیا۔۔
آؤ نا چلیئں کہی دور جہاں
بانہوں میں تیری میں بھولوں یہ سارا جہاں ۔۔
میسج سینڈ ہوا اور حارث اب میسج پڑھتے ہوۓ مسکرا رہا تھا ۔
دونوں کی آنکھیں نم تھی ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سلطان اپنے روم کی جانب جا رہا تھا تو اسے کومل لے روم سے موسیقی سنائ دی تو اسے حیرت ہوئ کیونکہ وہ دادی کے منہ سے کومل کی موسیقی سے نفرت کے بارے میں سن چکا تھا۔۔
سلطان اپنے کمرے میں آیا اور فریش ہو کر پاشا کو کال کرکے رات کو شادی میں جانے کے حوالے سے سیکیورٹی کے حوالے سے چند باتیں کرنے کے بعد بولا۔
پاشا مجھے کچھ کام ہے تو میں شام کو کومل کو پارلر چھوڑ کر پھر سیدها میرج ہال ہی آؤں گا تم دادی کے ساتھ ساتھ کومل کو بھی پارلر سے پک کرلینا ۔۔۔
:؛:؛:؛:؛:؛:؛:؛:؛:؛:؛:؛:؛:؛:؛:؛::!::؛:؛
رات کو حارث اپنے بابا کو ایئرپورٹ سے گھر لانے کے بعد کومل کے بارے میں ساری باتیں بتا چکا تھا۔۔
اوہ تو تبھی اتنی جلدی تھی مجھے بلانے کی کہ نوابزادے کو گھوڑی چھڑنے کا شوق ہو گیا میں خوش ہوں مگر لڑکی کس فیملی کی ہے مطلب رشتہ مانگنے کیلۓ جانا کہاں ہے؟؟
حارث کے بابا اس سے پوچھ رہے تھے تو حارث خوش ہوتا ہوا جواب دینے لگا ۔۔
بابا رشتہ مانگنے آپ کو بزنس مین سلطان کے گھر جانا ہے ۔۔۔
سلطان کا نام سن کر وہ خوش ہو چکے تھے کہ رشتہ برابری کے لوگوں میں ہو رہا ہے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
طلال اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ بیٹھا حرام محلول پیتے ہوۓ بہت خوش دکھائ دے رہا تھا کیونکہ وہ سب کے ساتھ مل کر بہت کچھ پلان کر چکے تھے ۔۔
اسے کہتے ہے ایک تیر سے دو شکار اب تم سبکو اس پی سے اور مجھے اس مسٹر x سے چھٹکارا مل جاۓ گا مگر یہ نہیں سوچا تھا کہ اتنا مزہ بھی آنے والا ہے ۔ہاہاہاہا!!!!
طلال کی بات پوری ہوتے ہی اس کے ساتھ باقی بھی قہقہے لگانے لگے تھے۔۔۔
بس اب پاشا بھی ساتھ دے تو اور مزہ آۓ گا ۔۔۔
طلال یہ کہہ کر کچھ سوچ کر فون نکالے کسی کو کچھ ہدایات دینے لگا۔ طلال کا شیطانی ذہن بہت کچھ سوچ چکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
:؛:؛:::؛:::!:؛:؛:؛:؛:!!!!!:؛:؛؛::::
پاشا کومل اور دادی کو لیکر میرج ہال پہنچ چکاتھا ۔
جہاں لیڈیز کی شست کا الگ انتظام کیا گیا تھا ۔۔
کومل مہندی کلر کے انارکلی فراگ اور بیوٹیشن کی مہارت سے چودہویں کا چاند لگ رہی تھی ۔
دادی بھی سارا رستہ اسکی تعريفيں کرتے ہی رہی اور سلطان کیلۓ نہ جانے کیا کیا خواب دیکھ چکی تھی ۔۔۔
سلطان بھی ہال میں پہنچ چکا تھا ۔۔۔
ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی کہ پاشا نے سلطان کو دادی کی طبیعت کا آکر بتایا کہ انکی طبیعت اچانک خراب ہونے لگی اور وہ گھر جانا چاہتی ہے ۔
سلطان یہ سن کر دادی سے بات کرنے گیا تو وہاں کومل کو دیکھ کر وہ بس اسے دیکھتے ہی رہ گیا۔۔۔
دادی آپ ٹھیک تو ہے چلے ہاسپیٹل چلتے ہے ۔۔۔
نہیں بیٹا میں گھر جا کر آرام کرلونگی تو ٹھیک ہوجاؤنگی مگر تم اور کومل رخصتی تک رک جانا میں پاشا کے ساتھ جا رہی ہوں ۔۔۔
سلطان کے بہت دفعہ کہنے پر بھی دادی نہ مانی اور کومل کو بھی اب مجبوری میں رکنا پڑا تھا ۔۔
سلطان دادی کے جاتے ہی کچھ لوگو کے ساتھ ایک ٹیبل پر بیٹھا ہی تھا کہ اسے دادی کی کال آنے لگی۔۔
ھیلو دادی آپ ٹھیک تو ہے ۔۔۔
چھپ کر میں ٹھیک ہوں اور سن یہی موقع ہے بیٹا کومل کا اعتماد جیتنے کا اور دیکھنا میری بچی کو ڈرانا مت۔۔
دادی نے فون بند کر دیا اور سلطان کے چہرے پر ایک خوشی چھا گئ تھی ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کومل اکیلی بیٹھی بور ہورہی تھی کہ اسکے پاس ایک ویٹرس ہاتھ میں مشروبات کی ٹرے تھامے آئ اور مسکراتے ہوۓ اسکی جانب ایک شربت کا گلاس بڑھایا جسے کومل نے لیکر پینا شروع کیا۔۔۔کچھ لمحوں بعد کومل کا فون بجا جس پر حارث کا نام جگمگا رہا تھا۔
کومل نے فون اٹھایا اور کچھ بولا نہیں ۔۔اور چلتے چلتے انجانے میں باہر کی طرف آئ اور سلطان کی نظر اس پر پڑی تو وہ سمجھا کہ کومل جانے کیلۓ باہر آئ ہے تو وہ اپنی گاڑی نکالنے گیا۔۔
حارث فون پر آنے والی آوازوں سے اندازہ لگا چکا تھا کہ کومل کہیں آئ ہوئ ہے
اوہ تو فلحال محترمہ کہیں آئ ہوئ ہے ۔۔
کومل چھڑ گئ ۔
پلیز آپ فلحال لفظ میرے سامنے نا بولا کرے۔۔
کومل یہ کہتی ہوئ جیسے ہی سامنے دیکھنے لگی تو سلطان گاڑی میں بیٹھا اسے ہاتھ کے اشارے سے بلانے لگا ۔
کومل نے فون بند کرکے اپنے کلچ میں رکھا اور فراگ سنبھالتی ہوئ گاڑی میں بیٹھنے کیلۓ بڑھی تو سلطان نے فرنٹ ڈور کھول دیا اور کومل نہ چاہتے ہوۓ بھی آگے بیٹھ گئ۔۔۔
گاڑی کم رفتار میں چلاتے ہوۓ سلطان کئ دفعہ کومل کو دیکھ چکا تھا ۔
کومل کو کافی دیر سے اپنا سر بھاری لگنے لگا تھا ۔اسکی آنکھوں کے سامنے کبھی اندھیرہ تو کبھی عجیب سی کیفیت اسکے ہواس اڑا رہی تھی..
ہم کہاں جا رہے ہیں ؟؟؟
کومل کی بہکتی ہوئ آواز سن کر سلطان نے اسکی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔
فلحال تو گھر جا رہے ہیں ۔۔
سلطان نے اتنا کہا ہی تھا کہ کومل نے غصے سے اسکی جانب مڑ کر دیکھا ۔۔۔
اب اگر یہ منحوس لفظ بولا نا تو !!!!
کومل کا لہجہ بتا رہا تھا کہ وہ ہوش میں نہیں ہے ۔
کومل تم ٹھیک تو ہو ؟؟
سلطان فکرمند ہونے لگا ۔
تبھی کومل کی نظر اسٹریٹ لائیٹ کی روشنی میں سمندر پر پڑی ۔۔
اے اے مجھے ساحل پر جانا ہے رکو ابھی کے ابھی ۔۔
سلطان نے گاڑی روکی تو کومل اترتے ہوۓ لڑکھڑانے لگی ۔۔
سلطان جلدی سے اسکی جانب آیا اور اسے سہارا دینے لگا تو کومل نے اسے خود سے دور کردیا اور ساحل کے جانب لڑکھڑاتے ہوۓ جانے لگی ۔۔
کھویا کھویا من کھویا کھویا
جو پایا تجھے تو میں کھویا کھویا۔
کومل نشے میں گاتے ہوۓ ساحل کی جانب چل رہی تھی اور سلطان اب ساری بات سمجھ کر اسکے پیچھے پیچھے چلنے لگا
تبھی ایک وین بھی وہاں آکر رکی جس میں سے نوجوان لڑکے لڑکیاں اتر کر فل میوزک چلا کر ترکنے لگے تھے ۔
کومل بھی انکی جانب جانے لگی تو سلطان اسکے سامنے آکر کھڑا ہوا۔
رکو چلو گھر چلتے ہے فلحال یہاں رکنا ٹھیک نہیں ۔
کومل کو نشے میی سلطان کوئ اور نظر آرہا تھا وہ سلطان کے پاس آکر اسکا کالر پکڑ کر روتے ہوۓ بولی۔
پلیز نو فلحال !!
اس نے مجھ سے سب چھینا ہے سب ۔جب ماں بابا کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا تب بار بار ڈاکٹر یہی کہتے تھے فلحال کچھ کہہ نہیں سکتے فلحال رہورٹز نہیں آئ فلحال تو خون بہت بہہ گیا ہے فلحال فلحال فلحال اور دیکھوں میں تب سے تنہا ہوں اکیلی ہوں اور اس دن بھی تم نے فلحال کہا تھا نا تو مراد ماموں بھی مر گۓ پلیز اب کچھ مت کہو اوکے ۔
کومل نا جانے کیا کیا اور بولتی گئ ۔۔
تبھی سلطان نے اسکے ہاتھ اپنے کالر سے ہٹاۓ اور اسکی طرف پیار سے دیکھتے ہوۓ جیب سے ایک ہیرے کی انگھوٹی نکالی اور اسکے قریب گھٹنوں کے بل بیٹھا ۔
کومل میں تمھیں دل سے چاہنے لگا ہوں کیا تم مجھ سے شادی کرو گی ۔۔
یہ منظر ان منچلوں نے بھی دیکھا تو میوزک بند کرکے اب ان دونوں کی جانب دیکھ کر سرگوشیاں کرنے لگے تھے۔۔
کومل سلطان کی طرف دیکھتے ہوۓ قہقہے لگانے لگی
دل سے چاہتے ہو مجھے ہمم مگر میں نہیں چاہتی ۔۔
کومل یہ کہتے ہوۓ ان منچلوں کے پاس جانے لگی ۔
سلطان آپے سے باہر ہوتا اسکے پاس آیا
ایک بار بتا دو کیا چاہتی ہو پلیز!!!
مجھ سے یہ سب اب برداشت نہیں ہو رہا ہے کیا تم !!!
وہ کہتے کہتے رک گیا تھا ۔۔
اس میں ہمت نہیں تھی کہ وہ جس چیز سے ڈر رہا ہے وہی سن نہ لے ۔۔۔
تبھی وہ لڑکھڑاتے ہوۓ اسکے اور قریب آئ مگر خود پر توازن برقرار رکھ نہ پائ اور اسکی بانہوں میں جھول گئ۔۔
مجھے ناچنا ہے ابھی تک میوزک آن نہیں ہوا کیوں؟؟؟؟؟
وہ اسکی قربت برداشت نہیں کر پا رہا تھا ۔
وہ اس بات سے بے خبر تھا کہ کوئ کب سے ویڈیو کال پر یہ سارا منظر کسی کو دکھا رہا تھا۔۔۔
پلیز میوزک آن کرو نا؟
کومل ان منچلوں کو دیکھ کر چلائ تو ان میں سے ایک نے میوزک آن کیا جسے سن کر اور کومل کو اپنے قریب پا کر سلطان کا اپنے احساسات پر قابو پانا مشکل ہو رہا تھا۔
کوئ صبح وہاں رات سے نا ملے
اڑ کے وہاں آؤ ہم تم چلے
پنکھ لایا ہوں میں اڑ چلو
چل وہاں جاتے ہیں
چل وہاں جاتے ہیں
پیار کرنے چلو ہم وہاں جاتے ہیں۔۔
کومل اسکی بانہوں میں تھی اور اب اسکی گردن کے گرد اپنے بازو حائل کرتی ہوئ ناچنے لگی تھی ۔
آسمان کے پرے اک جہاں ہے کہیں
جھوٹ سچ کا وہاں قاعده ہی نہیں
روشنی میں وہان کی الگ نور ہے۔
ساۓ جسموں سے آکر جہاں جاتے ہین
چل وہاں جاتے ہیں
چل وہاں جاتے ہیں
پیار کرنے چلو ہم وہاں جاتے ہیں
سلطان اسکے چہرے کے ہر نقوش کو اتنے قریب سے دیکھ کر خود پر قابو کھونے لگا
I love u komal
وہ اسکی طرف جھکا ہی تھا کہ کومل کے منہ سے نکلتے الفاظوں نے اسکے جسم سے اسکی روح نکال دی ۔
I LOVE YOU HARIS!!!!
کومل اب بھی ہوش میں نہ تھی مگر سلطان اب ہوش میں آچکا تھا۔۔
سلطان کی پلکیں بھیگ چکی تھی اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا کسی کا زور دار مکا اسکے گال پر آکر پڑا ۔ وہ اس کے تیار نہ تھا اس لیے خود کو سنبھال نہ سکا اور کومل کو لیے گرنے لگا کہ کسی کو کومل کو تھامتے ہوۓ دیکھا ۔۔۔۔
………………………………………………………………….
— Date: 22 Feb 2020
ہادی صائم اور حبہ اس وقت حبہ کے اپارٹمنٹ میں آگے کی پلاننگ کر رہے تھے مگر صائم بار بار وہاں جانے کی ضد کر رہا تھا۔
جب سے اس نے نمرہ کو دیکھا تھا اس سے اب برداشت نہیں ہو رہا تھا کہ وہ اب بھی وہی ہے اور صائم اس کیلۓ کچھ کر نہیں سکتا۔
پلیز یار صائم تم ایسے کرو گے تو ہم کچھ نہیں کر سکے گیں ۔۔
ہادی اب تنگ ہوکر صائم کو دیکھتے ہوۓ بولا اور ہھر حبہ کی جانب دیکھا جو کب سے صائم کی جانب ہی اپنا رخ کیے بیٹھی تھی ۔
تو ہادی کو شرارت سوجھی۔
دم بھر لو ادھر منہ پھیرے!!!
صائم سوالیہ نظروں سے ہادی کی طرف دیکھنے لگا مگر حبہ ہادی کی بات کا مطلب سمجھ چکی تھی اور اب شرما کر کافی لانے کے بہانے کچن میں چلی گئ۔۔
حبہ کافی لیکر نکل رہی تھی کہ ہادی وہاں آیا۔
ہادی تم یہاں کوئ کام تھا کیا کچھ چاہیۓ تمھیں !؟؟
نہیں میں یہ کہنے آیا تھا کہ میں کل ایک بار پھر اس بندے سے ملاقات ہوجاۓ یہ کوشش کرونگا اور تم پلیز صائم کو یہی روک لو مجھے اسکی حالت دیکھ کر ڈر لگ رہا ہے کہ وہ وہاں چلا نہ جاۓ اور اپنے ساتھ میں اسے نہیں رکھ سکتا میری گیدرنگ ایسی ہے
ہادی وہاں سے جانے لگا تو صائم بھی اٹھ کر جانے لگا تو حبہ نے اسے کافی پینے تک رکنے کا کہا۔
اب وہ دونوں اکیلے تھے ۔
دیکھو صائم تم فکر مت کرو مجھے لگ رہا ہے کہ نمرہ کے ساتھ کچھ غلط نہیں ہوا ہوگا ورنہ وہ ضرور خودکشی کر لیتی۔
صائم جو پہلے ہی نا جانے کن کن سوچو کیلۓ ڈرا ہوا تھا حبہ کے منہ سے یہ سنتے ہی خود پر کنٹرول نہ کر پایا اور اسکے گال پر ایک زناٹے دار تمانچہ مار دیا جسکی وجہ سے حبہ کے ہونٹ کے کنارے سے خون آنے لگا۔
صائم شرمندہ ہونے لگا ۔
مجھے معاف کردو پلیز میں بہت پریشانی میں ہوں سوری میں اب چلتا ہوں ۔
صائم یہ کہہ کر اٹھا تو حبہ بھی ساتھ اٹھی ۔
صائم کوئ بات نہیں میں سجھ سکتی ہوں پلیز آج یہی رک جاؤ میں بھی اکیلی ہوں ویسے بھی تمھیں جہاں جانا ہے وہاں اس وقت کوئ گاڑی نہیں جاۓ گی میرا اپارٹمنٹ اچھا خاصا ہے تو پلیز!!!
صائم نہیں مان رہا تھا مگر نمرہ کے اسرار پر رک گیا۔۔
صبح صائم کو ہلکی ہلکی دھنیں سنائ دینے لگی تو وہ اٹھ کر کمرے سے باہر آیا اور سامنے کا منظر دیکھ کر وہ اب اسی جانب بنا پلکیں جھپکاۓ دیکھنے لگا ۔۔۔
جاری ہے
۔
guys mai ap sbse bht bht kush hoo apka support meri liye bht ehmiyat rkta hy .
mai apne novel khud likhta hoo
plzzzzzzz commentssss na likesssss
Allah ap sbko kush rake

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: