Filhal By Muhammad Shariq – Episode 11

0

فلحال از محمد شارق – قسط نمبر 11

–**–**–

حارث اپنی پولیس جیپ میں ایک بوڑھے کونسٹیبل قاسم کے ساتھ گھر کی طرف جا رہا تھا۔۔قاسم اکثر حارث کے ساتھ رہتا تھا اور اسکے بنگلے کی دیکھ بھال بھی کیونکہ قاسم کی فیملی گاؤں میں رہتی تھی اور وہ یہاں اکیلا رہتا تھا۔۔
قاسم اب تمھارا بیٹا کیسا ہے ؟؟
حارث فون میں ہاتھ لیے قاسم سے پوچھ رہا تھا۔
سر سب آپکی مہربانی ہے کہ آج وہ بڑے کالج میں پڑ رہا ہے اور ۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کے قاسم کچھ کہتا حارث کا فون بجا تو قاسم چھپ ہو گیا۔
حارث نے فون کال ریسیو کی جو کوئ ویڈیو کال تھی ۔
کال اٹینڈ کرتے ہی پہلے تو حارث کو کچھ سمجھ نہیں آیا مگر جونہی کال مزید چلتی رہی تو حارث آپے سے باہر ہوا۔
قاسم ساحل کی طرف چلو جلدی جلدی!!!
حارث کا لہجہ سخت ہوتا دیکھ کر قاسم بھی گبھرا چکا تھا۔۔
جیپ کے پوری طرح رکنے کا انتظار کیے بغیر حارث جیپ سے اترا اور ساحل کی جانب دوڑا اور سامنے کا منظر دیکھ اسکے خون کا فشار بڑھ گیا۔۔
اس سے پہلے کے سلطان کچھ کرتا کومل کے کہی بات سلطان کی روح فنا کر چکی تھی اور حارث کے اچانک وار سے گرتا ہوا وہ کومل کی جانب دیکھنے لگا جو اب حارث کے حصار میں تھی ۔
حارث نے نہ جانے سلطان کو کیا کیا کہا مگر سلطان کو کچھ سنائ نہیں دے رہا تھا وہ بس کومل کو دیکھ رہا تھا جو حارث کی بانہوں میں جھوم رہی تھی ۔۔
انکے جاتے ہی سلطان ہوش میں آیا اور قریب ہی ایک بینچ پر بیٹھ گیا ۔۔
وہ ساری رات وہاں سگریٹ کے دھویں میں اپنے دل کا درد اڑاتا رہا ۔نم آنکھیں بکھرے بال تکلیف سے بھرے چہرے کے تاثر لیے وہ کومل کیلۓ لائ ہوئ انگھوٹی ہاتھ میں لیے اسے دیکھتا رہا اور آنسوؤں کا نا رکنا والا سیلاب اب اسکے چہرے کو بھگا رہا تھے۔۔
………………………………………………….
حارث کومل کو تقریباً گھسیٹتے ہوۓ جیپ تک لے گیا تھا۔اور اسے جھومتا دیکھ کر ایک تیز طمانچہ اسکے گال پر مار کر اسے جیپ کی پچھلی نشست پر بٹھانے لگا اور خود بھی اس کے ساتھ بیٹھ گیا۔
کومل زور زور سے پاگلوں کی طرح رونے لگی ۔
مجھے تپھڑ مارا تم گندے ہو وہ کہاں گیا حارث کہاں گیا حارث !!حارث !!! مجھے ناچنا ہے میوزک چلاؤ چل وہاں یہاں کہاں جاتے ہیں۔۔۔
کومل کو اس طرح کرتے دیکھ
حارث سمجھ گیا کہ کومل کو کوئ نشیلی چیز دی گئ ہے ۔
قاسم ہمیں گھر چھوڑ دو اور تم ڈاکٹر سعید کو جاکر لے آؤ ۔۔
قاسم نے اثبات میں سر ہلایا اور حارث کو اتارنے کے بعد سعید کی طرف نکلا۔۔
حارث جھومتی لڑکھڑاتی کومل کو سنبھالتے ہوۓ گھر کے اندر لایا اور اسے ہال میں صوفے پر بٹھاکر میڈ کو بلانے گیا۔۔
کومل حارث کے جاتے ہی اٹھی اور ہال سے باہر گارڈن کی طرف آئ وہ بنا دیکھے گنگناتے ہوۓ چل رہی تھی کہ وہاں موجود سویمنگ پول میں جاکر گری ۔۔
حارث واپس آیا تو کومل کو ہال میں نہ پا کر باہر کی جانب گیا اور سامنے ہی کومل کو سوئمنگ پول میں گرا دیکھ کر اسکی جانب بھاگا۔
پاگل لڑکی اگر پانی زیادہ ہوتا تو !!!
حارث اسے اٹھاتا ہوا اندر کی جانب لے گیا۔۔
میڈ لیمو پانی ہاتھ میں لیے کھڑی تھی جو حارث نے کومل کو زبردستی پلایا اور پھر اسے اپنے روم میں لے آیا اور اپنا ایک ٹریک سوٹ میڈ کو دیکر خود کمرے سے باہر آیا ۔
سعید کومل کا معائنہ کرنے کے بعد حارث سے گویا ہوا۔۔
لگتا ہے انھیں کسی مشروب میں ملا کر پلایا گیا ہے اور وہ اچھا ہے ڈرگ کم نوعیت کا تھا میں نے اسٹمک واش تو کر دیا ہے پھر بھی انکا کل فل چیک اپ کرنا پڑے گا۔۔
سعید کی بات سن کر حارث مزید غصہ میں آگیا تھا ۔۔
سب کے جاتے ہی حارث نے اپنے بابا کو کال ملائ جو اپنے پارٹنرز کے ساتھ کہیں گۓ ہوۓ تھے ۔
ھیلو بیٹا کیسے ہو؟
بابا کل ہمیں جانا ہے آپکو یاد ہے نا؟؟
ہاہاہا یاد ہے مگر سلطان کے آفس سے مجھے کال آئ تھی انھوں نے پرسو بلایا ہے تو پھر پرسو ہی چلتے ہیں اوکے بیٹا میں کل تک آجاؤں گا اوکے باۓ۔۔
حارث کچھ دیر وہی بیٹھا سوچتا رہا اور پھر اٹھ کر اپنے کمرے میں گیا۔
حارث کے آتے ہی میڈ کمرے سے باہر چلی گئ تھی اور اب وہ بیڈ کے بالکل سامنے موجود اپنے مخصوص بڑے سے سنگل صوفے پر بیٹھا کومل کی جانب دیکھتا رہا جو اس وقت دنیا سے بے خبر انجکشن کے زیر اثر سوئ ہوئ تھی ۔۔
حارث اسے دیکھتے دیکھتے وہی صوفے پر سو گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاشا صبح ہوتے ہی سلطان سےرابطہ کرنے کی کوشش کرنے لگا۔۔
سلطان ساری رات کومل کا چہرہ آنکھوں میں سماۓ وہی بیٹھا رہا فون کی آواز سے وہ چونک کر فون پر پاشا کا نام دیکھ کر کال ریسیو کرکے اسے وہی آنے کا کہا۔
پاشا سلطان کی آواز میں اک عجیب سی بے چینی محسوس کرنے لگا وہ اب سلطان کی طرف جانے لگا۔۔
پاشا ابھی رستے میں ہی تھا کہ اسے طلال کا فون آیا۔جسے اس نے بے دلی سے ریسیو کیا اور ھیلو کہا۔
پاشامیری بات سنو آج وقت نکال کر مجھ سے ملو مگر سلطان کو اس بات کی خبر نہ ہو کیونکہ سلطان ابھی جس حال میں ہے وہ سب میں ہی تمھیں بتا سکتا ہوں۔۔
طلال نے ایک ہی سانس میں ساری بات کہدی اور فون بند کردیا۔
پاشا کو حیرت ہوئ لیکن جب وہ سلطان کے پاس پہنچا تو اسکی حیرت مزید بڑھ گئ ۔
سلطان وہی سلطان لگ ہی نہیں رہا تھا۔
پاشا سلطان کے قریب آیا اور اس کے قریب اسکے قدموں میں بیٹھ گیا۔
سر آپ ٹھیک تو ہے اور میڈم کہاں ہے ؟؟
پاشا کی بات سن کر سلطان نے اک قرب سے اسکی جانب دیکھا۔
وہ چلی گئ پاشا مجھے چھوڑ کر اسکے ساتھ چلی گئ اور میں ۔۔میں سلطان ملک !! اسے روک نہ سکا ! نہ روک سکا۔
پاشا سے سلطان کی حالت نہیں دیکھی جارہی تھی
سر کون لے گیا آپ بس نام بتا دے…
پاشا نے اتنا ہی کہا تھا کہ سلطان نے غصے اور غم کے ملے جلے تاثر لیے اسکی جانب دیکھا۔۔
اشششش!!
خبردار جو کچھ کہا !!پتہ ہے میرے اظہار پر اس نے کیا کہا اس نے اس سے اظہار محبت کیا وہ میرے ساتھ تھی مگر مجھے میں نہیں سمجھ رہی تھی وہ ۔۔وہ ۔۔۔ نشے میں تھی وہ ہوش میں نہیں تھی مگر مجھے ہوش میں لا کر گئ پتہ نہیں کس نے اسکے ساتھ ایسا کیا پتہ لگاؤ پاشا کل ہال میں کیا ہوا تھا ۔۔۔
سلطان سے بولا نہیں جا رہا تھا۔۔
پاشا سلطان کو گھر لے آیا مگر سلطان کی حالت دیکھ کر وہ بہت کچھ طے کر چکا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔…………………۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سلطان کو اس کے کمرے تک چھوڑنے کے بعد پاشا دادی کے کمرے میں گیا جہاں وہ کومل کا انتظار کر رہی تھی مگر پاشا کے منہ سے سب سن کر دادی سناٹے میں آگئ تھی ۔
پاشا سلطان سے کہنا کہ دو گھنٹے بعد میرے کمرے میں آۓ اور مجھے اس پی کا نمبر دے دو پھر تم بھی جاؤ یہاں سے۔۔۔
پاشا کے جاتے ہی دادی رونے لگی تھی ۔۔۔
۔۔۔……………………….
کومل نیند سے آہستہ آہستہ بیدار ہو رہی تھی ۔حارث جو کافی دیر پہلے اٹھ چکا تھا اب اسکے سرہانے بیٹھا اسکے اٹھنے کا انتظار کر رہا تھا۔
کومل کو ہلتا دیکھ کر حارث غصے سے اٹھا اور میوزک پلیئر آن کر دیا ۔جسکی آواز سے کومل اپنا سر تھامے اٹھی مگر سامنے حارث کو دیکھ کر چونک گئ۔
میں یہاں کیسے ؟؟تم یہاں؟؟ مطلب میں کہاں ہوں؟؟
کومل آس پاس دیکھتے ہوۓ بول رہی تھی کہ تبھی حارث اس کے قریب آتے گیا کومل نے حارث کی طرف دیکھا تو اسے غصہ میں دیکھ کر وہ بستر سے اٹھنے لگی لیکن اپنے کپڑوں پر نظر پڑتے ہی وہ رونے لگی۔
رکو وہی پر میں یہاں کیسے آئ اور میرےپاس مت آنا مت آنا!!!
کومل چلاتی ہوئ اٹھی تو حارث اسکے بے حد قریب آیا اور اس سے پہلے کہ کومل بھاگتی حارث نے کومل کے دونوں ہاتھ پکڑ کر اسے دوبارہ بیڈ پر بٹھایا وہ گرتے گرتے بچی تھی ۔۔
میں تمھارے پاس نہ آؤں اور سلطان جب تمھیں بانہوں میں لیکر رقص کرتا رہے تب کیا ہاں ؟؟؟
کومل نے حیرت سے اسکی جانب دیکھا ۔
کیا کہہ رہے ہیں آپ؟
کومل کے سوال پر حارث آپے سے باہر ہوتا اسکے بازوؤں کو دبوچتا ہوا چلایا۔
کیا کہہ رہا ہوں میں !!! تم رات کو اسکے ساتھ ساحل پر کیا کر رہی تھی اور تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں ہاں بتاؤ !!؟؟؟
حارث نے کومل کے چہرے ہر ایک زور دار تپھڑ مارا تھا جس سے وہ بیڈ سے نیچھے گر گئ ۔
حارث اسے اٹھانے لگا ہی تھا کہ اسکا فون بجا تو وہ میوزک پلیئر کی جانب گیا اسے بند کرکے کال ریسیو کی ۔
“ھیلو اس پی حارث اسپیکنگ۔۔”

“ھیلو بیٹا میں سلطان کی دادی بول رہی ہوں”
حارث فون ایک ہاتھ میں تھامے کومل کے پاس گیا اور دوسرے ہاتھ سے اسکا بازو تھام کر اسے دوبارہ بیڈ پر بٹھانے لگا اور خود اسکے قریب بیٹھ کر فون کا اسپیکر آن کر دیا۔
جی دادی کہیے ۔۔
بیٹا مجھے سب پتہ ہے رات جو کچھ ہوا تھا مگر سلطان کی اس میں کوئ غلطی نہیں ہے میرا ہی من تھا کہ کومل میرے گھر کی عزت بنیں لیکن ””
یہ کہتے ہی دادی رک گئ تھی۔۔
لیکن کیا دادی جی گھر کی عزت کو نشہ دیکر اسکے ساتھ غلط کرنا یہ چاہتی تھی آپ یا!!
حارث کی باتیں دادی سمیت سلطان بھی سن رہا تھا ۔کیونکہ یہاں بھی اسپیکر آن تھا۔۔
نہیں بیٹا سلطان نے ایسا کچھ نہیں کیا ہے کومل کل میرے ساتھ شادی میں گئ تھی میں طبیعت کی نا سازی کی وجہ سے پہلے ہی آگئ تھی اور کومل کو زبردستی وہان رکنے کا کہا اس نے وہاں کوئ غلط مشروب پی لیا ہوگا بیٹا!
دادی جو حارث کی بات کاٹ کر بولنے لگی تھی ان سے آکے بولا نہ گیا وہ رونے لگی تھی تو سلطان انکے قریب آکر بیٹھا ۔انکا رونا سن کر کومل تڑپ گئ اور بولنے لگی۔
دادی کیوں رو رہی ہے پلیز آپ نہ روۓ ۔
کومل کی آواز سن کر سلطان اور دادی دونوں ایک دوسرے کو دیکھنے لگے ۔
کومل میری بچی کیسی ہے دیکھ بیٹا گھر آجا سلطان کی طرف سے میں یقین دلاتی ہوں کہ اب وہ کچھ نہیں کرے گا بس مجھ سے اپنی رخصتی کا حق نہ چھین بیٹا تم گھر آجاؤ آج ہم کل ہی تمھارا نکاح حارث سے کروا کر رخصتی کروا دیگے ۔
تم آؤ گی نا بیٹا یوں سمجھ لو یہ میری آخری خواہش ہے ۔
حارث نے فون کاٹ دیا اور کمرے سے باہر چلا گیا اور یہاں کومل بیٹھی روتی رہی اور وہاں سلطان نم آنکھوں سے دادی کو گلے لگا کر چھپ کروا رہا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔:::::::::::::::::::::::؛؛؛؛؛؛؛؛
صائم جو دھنیں سن کر کمرے سے باہر آیا تھا حبہ کو ٹی وی پر کسی رقاصہ کی نقل کرتا دیکھ پلکیں جھپکاۓ بغیر اسکی طرف دیکھنے لگا۔
وہ اسی کی جانب دیکھے جارہا تھا اور خیالوں میں نمرہ کا ناچتا عکس لہرانے لگا وہ من ہی من مسکرانے لگا لیکن ذہن میں کسی خیال کے آتے ہی سر جھٹکتا باہر کی جانب بڑھا ۔حبہ کی اس پر نظر پڑی تو اسکی جانب بڑھی ۔
صائم کہان جا رہے ہو ؟؟
حبہ کے سوال پر صائم رکا مگر اسکی جانب دیکھے بغیر جواب دیا۔۔۔
گھر جا رہا ہوں۔
اتنا کہہ کر وہ پھر باہر کی جانب بڑھا مگر حبہ کی آواز پر رکا۔
رکو ہادی نے یہی آنے کا کہا ہے اور آگے کیا کرنا ہے وہ بھی وہی بتاۓ گا وہ بس آتا ہی ہوگا تم فرش ہوکر ناشتہ کرلو میں اپنی ریہرسل کرلوں ہادی نے سختی سے کہا ہے کہ سارا ڈرامہ اصلی لگنا چاہیۓ ۔
حبہ یہ کہہ کر واپس ٹی وی پر چلنے والے رقص کی نقل کرنے لگی مگر صائم جاتے ہوۓ اسے ایک نظر دیکھ کر گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔..
صائم واپس آیا تو وہی ٹیبل پر ناشتہ رکھا دیکھ کر وہ بیٹھ کر ناشہ کرنے لگا جبکہ حبہ پسینے سے تر ابھی تک اپنے کام میں مگن تھی ۔
صائم اپنے ناشتے میں مصروف تھا کہ حبہ کی چیخ سے اسکی جانب دیکھنےلگا حبہ جو ٹیبل لگنے سے چلائ تھی اچانک اپنا توازن کھو بیٹھی اور نیچھے گر گئ ۔
صائم اسے گرتا دیکھ کر ہنسنے لگا تو حبہ نے برا سا منہ بنایا
صائم ہنستا ہوا اسکے پاس آیا اور اس کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
چلو اٹھو یہ تمھارے بس کا نہیں ہے ہاہاہا۔
صائم کو یوں ہنستا دیکھ کر حبہ اسکے سحر میں کھو گئ ۔
اسے ابھی تک یونہی گرا دیکھ کر صائم اسکی طرف جھکا تاکہ اسے اٹھاۓ مگر وہ بھی اسی ٹیبل سے ٹکرا کر حبہ کے اوپر گرنے لگا مگر ہاتھ کے سہارے سے خود اس پر گرنے سے بچاتا ہوا وہ اسکے چہرے کے بے حد قریب ہو چکا تھا ۔
دونوں کی نظریں ملی تھی اور موسیقی کے بول حبہ کی دل کی حالت بتانے لگے تھے
آنکھوں سے تیری آنکھیں ملاؤں
اپنی ہی نظروں سے چھپتا ہوں میں
چاہت میں تیری جادو یہ کیسا
بنتا بھی ہوں اور مٹتا ہوں میں
کہ مٹ بھی جاؤں ساتھ ساتھ چلنا مجھے
تجھ میں دو جہاں کو پالیا ہے ۔۔۔۔۔
حبہ کی نظروں میں صائم بہت کچھ دیکھ چکا تھا اس سے پہلے کہ حبہ اپنے دل کا حال صائم کو بتانے کیلۓ اپنے لب کھولتی دروازہ کی بل سے صائم اٹھا اور حبہ بھی دروازہ کھولنے چلی گئ جہاں ہادی آیا ہوا تھا اور بہت پریشان تھا۔
بہت برا ہوگیا ہے میرے بندے جو اس شخص سے بات کرنے گۓ تھے انکا کوئ اتہ پتہ نہیں کوئ رابطہ نہیں ہورہا نمبر بھی بند جارہے ہیں مجھے تو گڑ بڑ لگ رہی ہے
۔
ہادی نے اندر آتے ہی ساری بات بتائ اور حبہ اور صائم پریشان ہو چکے تھے۔
ابھی وہ بیٹھے ہی تھے کہ دروازہ زور سے کھلنے کی آواز پر تینوں اسی جانب دیکھنے لگے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔
muje bht dukh ho rha hy k page ka member mera novel kahe aur kisi aur title aur writer name se post kr rha hy
maine kabi copy paste ya share se mana nae kiya bt kisi ki mehnat ko is trh zaya na kre plz
mai aj epi dene wala tha bt muje jb wha ki post ka elm hua to bht feel hua
mai onko na ban karoo ga aur na name show karoo ga but plz ye bnd krde plz
ye novel meri zindagi ka hissa hy mai na rha to inse muje koe na koe yad rke ga
plz kisi ki krni zaya na kare

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: