Filhal By Muhammad Shariq – Episode 12

0

فلحال از محمد شارق – قسط نمبر 12

–**–**–

حارث کمرے سے جو گیا تھا دوبارہ واپس نہیں آیا تھا ۔
تھوڑی دیر بعد میڈ کمرے میں کومل کا رات والا سوٹ لیکر آئ اور ناشتے کی ٹرالی رکھ کر چلی گئ ۔
کومل نے ناشتہ تو نہ کیا مگر چینج کر کے بیٹھ گئ ۔
میڈ دوبارہ آئ اور ٹرالی لے جاتے وقت اسے نیچھے آنے کا کہہ کر چلی گئ۔
کومل جب آئ تو وہی میڈ اسے باہر تک لائ اور گاڑی میں بیٹھنے کا کہا جسے قاسم ڈرائیو کر رہا تھا۔۔
گاڑی سلطان کے بنگلہ کے باہر رکی تو کومل کے آنسو جھنیں اس نے کب سے ضبط کر رکھا تھا وہ بہنے لگے ۔۔
وہ روتی ہوئ گاڑی سے اتری اور بنگلےکی جانب گئ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حارث کے بابا دوپہر تک آۓ تو وہ بضد ہوا کہ آج ہی سلطان کے گھر جاکر رشتے کی بات کرے اور بیٹے کی ضد کے آگے مجبور ہوکر وہ مان گۓ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔……………………..
کومل دادی کی گود میں سر رکھے روۓ جا رہی تھی اور دادی کب سے اسے چھپ کروا رہی تھی
بیٹا میں معافی مانگ چکی ہوں اب کیوں رو رہی ہو تمھیں ڈرنے کی کوئ ضرورت نہیں ۔کیا مجھ ہم پر بھروسہ نہیں رہا۔۔
کومل اب دادی کی طرف دیکھنے لگی تھی ۔
اگر بھروسہ نہ ہوتا تو میں یہاں واپس نہ آتی بس ڈر ہے جو رات کو میرے ساتھ ہوا مطلب میں ایسے لوگو کے بیچ تھی جو حرام کھاتے ہیں تو پھر حرام کماتے بھی ہونگے ۔۔۔
کومل اتنا کہہ کر رکی اور لمبی سانس لیکر پھر سے گویا ہوئ ۔
میں نے اپنے والدین کو ایک ساتھ کھویا ان سے میں نے بہت کچھ سیکھا جن میں سے ایک یہ تھا کہ حرام کھانے اور کھلانے والے جہنمی ہے ماموں کے ہوتے ہوۓ بھی میں کام کرتی تھی کیونکہ مجھے پتہ چلا تھا کہ وہ غلط لوگوں کے لیے کام کرتے ہے۔
اگر ہم کل ایسی شادی میں تھے جہاں یہ سب موجود تھا تو کیا سلطان سر بھی !!!!
کومل نم اور سوالیہ نظروں سے دادی کی جانب دیکھنے لگی تھی اور جواب میں دادی نے اسے گلے لگا لیا تھا اور رو پڑی تھی کیونکہ انکے پاس اس سوال کا جواب نہیں تھا جبکہ دروازے کی آڑ میں کھڑا سلطان یہ ساری باتیں سن رہا تھا۔
دادی کومل سے الگ ہوتے کچھ کہنےلگی۔۔
کومل تم مجھے چھوڑ کر جاؤں گی لیکن تمھاری شادی میں بڑے دوم دھام سے کرواؤں گی شادی کا جوڑا۔۔۔
کومل دادی کی چھپ سمجھ چکی تھی اور اب انکی بات کاٹ کر بولی
نہیں دادی آپ ایسا کچھ مت کیجیے گا پلیز !!!
کومل کی بات سن کر دادی افسوس کرنے لگی تھی مگر سلطان کی کیفیت ابتر سے بدتر تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
شام ہوتے ہی ملازم نے آکر دادی کو اطلاع دی کہ حارث اپنے والد کے ساتھ آیا ہوا ہے اور دادی سے ہی ملنا چاہتے ہیں ۔دادی انکے آنے کی وجہ سمجھ چکی تھی تو ملازم سے انکو ڈرائینگ روم میں بٹھانے کا کہہ کر سلطان کو فون کرنے لگی تھی ۔۔
سلطان پل بھر کیلۓ جیسے مر گیا تھا جب دادی نے اسے حارث اور اسکے والد کے آنے کی اطلاع دی تھی ۔۔
سلطان کے آنے تک دادی ان دونوں سے دعا سلام کے بعد ہلکی پلکی باتیں کرنے لگی تھی۔
مجھے بہت خوشی ہو رہی ہے کہ سلطان جیسے گریٹ بزنس مین سے ہمارا رشتہ جڑنے والا ہے ۔۔
حارث اپنے بابا کی بات سن کر انکی طرف دیکھنے لگا تھا ۔
ایسی بات نہیں ہے جواد بیٹا ہمیں زیادہ خوشی ہو رہی ہے کہ آپ یہاں آۓ ۔۔۔۔
دادی باتیں کر ہی رہی تھی کہ سلطان سلام کرتا ہوا وہاں آیا اور دادی کو پہلے سلام کہہ کر حارث سے مصافحہ کرنے کے بعد جواد (حارث کے والد) سے بغلگیر ہوا۔۔۔۔
جواد سلطان سے ملکر بہت خوش ہوا انکی بات چیت کے دوران سلطان نے دو تین دفعہ حارث کی جانب دیکھا تھا جو سنجیدگی سے بیٹھا انکی باتیں سن رہا تھا ۔
حارث نے گھڑی میں وقت دیکھا اور بولا
سوری لیکن بابا آپ لوگوں کی بزنس ٹالک آپ بعد میں کیجیے گا مولوی صاحب کافی دیر سے باہر انتظار کر رہے ہوگے تو آپ پلیز جس کام کیلۓ آۓ تھے وہ کہیے ۔۔۔۔
حارث کی باتیں وہاں موجود تینوں نفوسوں کو چونکا چکی تھی ۔۔۔
جواد حارث کے قریب سرکنے کے بعد سرگوشی کرنے لگا۔۔
یہ کیا کہہ رہے ہو بیٹا؟؟
حارث جواب میں زور سے بولا۔
دادی سے بات ہوچکی تھی اس بارے میں تو آپ کومل کو بلاۓ نکاح ابھی ہوگا اور رخصتی بھی نکاح کے فوراً بعد اور کسی تیاری کی کوئ ضرورت نہیں آپ کے اور ہمارے رشتہ دار یا عزیز میرے ولیمے کی دعوت میں ضرور مدعو کیے جائیں گے ۔
سلطان نے ایک نظر اپنی دادی کو دیکھا اور نرس کو کال کرنے لگا تاکہ وہ آکر دادی کو لے جاۓ۔۔۔
نہایت سادگی سے کومل کا نکاح ہوا اور گواہوں میں ایک گواہ وہ تھا جس کی حالت اگر کوئ دیکھ یا سمجھ پاتا تو رو پڑتا۔
تم جیت گۓ ہم ہارے
ہم ہارے اور تم جیتے
تم جیتے ہو لیکن
ہم سا کوئ ہارا نا ہوگا۔۔
سلطان کی آنکھوں کے سامنے کومل دادی سے گلے ملتی روتی ہوئ حارث کے ساتھ چلی گئ ۔۔۔
کومل کے جاتے ہی دادی کچھ دیر چھپ چھاپ بیٹھی رہی پھر اچانک انکی طبیعت ناساز ہونے لگی تو سلطان انھیں ہسپتال لے گیا۔۔
حارث کے بابا کو نکاح کے دوران ہی اندازہ ہو گیا تھا کومل کون ہے اب انکا دل میں کومل کیلۓ پہلی جیسی اہمیت نہیں تھی ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔………………….
کومل کو ایک گھنٹا ہو چکا تھا حارث کے کمرے میں آۓ ہوۓ ۔
نکاح کے بعد سے اب تک اس نے حارث کو نہیں دیکھا تھا کمرے میں بھی میڈ ہی اسے چھوڑ کر گئ تھی ۔
وہ بیٹھے بیٹھے اونگھنے لگی تھی تو بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاتے ہی اسکی آنکھیں بند ہوگئ
وہ سو چکی تھی کہ اچانک کسی نے کومل کا گلا دبایا جس سے اسکی آنکھیں تو کھل گئ مگر اسکی سانسیں رکنے لگی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
……………………………………………………
وہ ڈرائیور کے ساتھ ہسپتال پہنچ گیا تھا مگر بہت دیر ہوچکی تھی اس کے والد اس دنیا فانی سے جا چکے تھے ۔
پی اے کی بدولت وہ اپنے والد کی تدفين کر سکا ۔۔۔۔
اسے کچھ دن مزید رکنا تھا کیونکہ جتنا پینڈگ کام تھا وہ سب ختم کرنا تھا ۔
وہ آفس میں بیٹھا کسی فائل پر کافی دیر سے جھکا ہوا تھا اور اب اسکی ہمت جواب دینے لگی تھی ۔
وہ جب سے آیا تھا آفس میں ہی رکا ہوا تھا..
پی اے اسکی حالت دیکھ کر بولا۔۔
سر آپ گھر جا کر آرام کر لیجیے اب تو کام تقریباً ختم ہو چکا ہے باقی کل دیکھ لیتے ہیں۔۔
گھر لفظ پر وہ چونکتا ہوا پی اے کی طرف دیکھ کر پوچھنے لگا۔۔
کیا کہاں ؟گھر!! ہمارا گھر بھی ہے یہاں لیکن ڈیڈ نے تو کبھی نہیں بتایا مجھے۔۔!!!
پی ای مسکرا کر بتانے لگا۔
سر ان کو یاد نہیں رہا ہوگا اور آپ کو بھی نہیں پتہ مجھے تو حیرت ہو رہی ہے آپ تو یہی رہتے تھے پہلے ۔۔
پی ای کی باتیں اسے سمجھ نہیں آرہی تھی ۔۔
اچھا تو پھر چلو چلتے ہیں ۔۔۔
یہ کہہ کر وہ اپنے پی اے کے ہمراہ وہاں سے نکلا اور ایک بنگلے کے پاس پہنچتے ہی پی اے نے گاڑی روکی ۔۔
سر یہ رہا آپکا بنگلہ !!
پی اے نے بنگلے کی جانب اشارہ کرتے ہوۓ کہا تو وہ اسی جانب دیکھنے لگا اور اسے ایک درد کی لہر اپنے سر میں اٹھتی محسوس ہونے لگی تھی ۔۔
میں کتنے سال بعد یہاں آیا ہوں ؟؟؟
وہ اپنا سر تھامے پی اے سے پوچھنے لگا۔۔
سر مجھ سے پہلے کوئ اور پی اے تھا مجھے تو آۓ ہوۓ ایک سال ہوا ہے۔ سر لیکن جب سے میں ہوں تب سے تو آپ دونوں میں سے کوئ نہیں آیا ۔۔۔
اسکی نظروں کے سامنے بہت سے دھندلے چہرے لہرانے لگے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔………………………………………………..
دروازہ زور سے کھلنے کی آواز پر تینوں اسی طرف دیکھ رہے تھے کہ آنے والے نے آتے ہی صائم جو کہ اسکے قریب تر تھا اسکا گریبان پکڑا اور اس سے پہلے کے وہ اس پر کوئ وار کرتا حبہ چلاتے ہوۓ انکی طرف بھاگی اور ہادی بھی ہوشیار ہوا۔
کون ہو تم اور یہ کیا کر رہے ہو ؟؟
حبہ اسکی گرفت سے صائم کا گریبان چھڑاتے ہوۓ چلائ تو ہادی نے بھی اسکا اٹھتا ہاتھ پکڑا جسے اس نے جھٹک کر ہادی کو ایک زور کا مکا مارا تو وہ لڑک کر پیچھے گرا ۔
اور پھر صائم کا گریبان چھوڑ کر جیب سے ریوالور نکال کر صائم کی طرف تھانے کھڑا ہوا تو حبہ جلدی سے صائم کی ڈھال بنی ۔
رکو پہلے بتاؤ تو سہی یہ سب کیوں کر رہے ہو ۔۔
حبہ کے پوچھنے پر اس نے ایک نظر دونوں پر ڈالی اور وہی صوفے پر بیٹھ گیا اور اسکے ساتھ آۓ ہوۓ آدمیوں میں سے ایک اندر آیا جسکے ہاتھ میں فائل تھی ۔
اس نے اسکے ہاتھ سے فائل لی اور اسے کھول کر حبہ کی جانب کیا اب حبہ اس فائل کو دیکھنے کے بعد صائم کو دیکھنے لگی تھی ۔۔۔
جاری ہے:::::
guys short epi agr lge to sorry mai bht pareshan hoo plZ pray for me
Allah ap sbko kush rake

Read More:  Mohay Piya Milan ki Ass Novel By Huma Waqas – Episode 2

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: