Filhal By Muhammad Shariq – Episode 13

0

فلحال از محمد شارق – قسط نمبر 13

–**–**–

کومل کو اپنی سانسیں رکتی ہوئ تو اس نے آنکھیں کھولی کمرے میں مکمل اندھیرہ تھا اور اسکے کانوں میں حارث سرگوشی کرنے لگا۔
5
4
3
2
1
اس پانچ سیکنڈ کی الٹی گنتی کے دوران وہ آہستہ آہستہ اسکی گردن کے گرد اپنوں ہاتھوں کی گرفت ڈھیلی کرتا گیا تھا۔
تم سے پانچ سیکنڈ برداشت نہ ہوا نا میں کتنے مہینوں سے بار بار مرا ہوا یہ سوچ کر کہ i have you یا پھر i lost you…
حارث کا لہجہ کومل کو اسکی تڑپ کا اندازہ کرا چکا تھا۔۔
پلیز حارث آپ ایسے کیو کہہ رہے ہے مجھ پر یقین نہیں ہے کیا آپ کو؟؟
کومل روتے ہوۓ بول پڑی۔۔
کومل کا رونا حارث سے برداشت نہیں ہو رہا تھا۔
یقین ہی تمھیں یہاں لایا ہے ورنہ کب کا جان سے مار چکا ہوتا تمھیں ۔۔۔
حارث کی باتیں کومل کو ڈرا رہی تھی ۔۔
اور سنو آج کے بعد تمھاری آنکھوں میں مجھے آنسو نظر نہیں آنا چاہیۓ میں تمھیں خوش رکھنے کیلیے یہاں لایا ہوں سمجھی ۔۔۔۔۔
حارث نے اسے جو کہا وہی کومل سننا چاہ رہی تھی آج وہ بہت خوش تھی بہت زیادہ اور حارث بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،……..۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،””””
دادی کی طبیعت جو خراب ہوئ تھی وہ انکی جان لے گیا ان سے یہ صدمہ برداشت نہیں ہوا کہ کومل کسی اور کی ہوگئ ۔۔۔
سلطان نے کومل کو دادی کی انتقال کی خبر نہیں دی تھی ۔۔
اور نہ ہی ولیمے میں شرکت کی تھی ۔
ولیمے والے دن کومل نے چاہا کہ حارث سے دادی کے متعلق پوچھے مگر وہ حارث کی ناراضگی سے ڈرتی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
سلطان اس وقت اسی ہوٹل میں موجود تھا جہاں اس نے ایک بڑے کمرے میں اپنی تمام یادیں محفوظ کر رکھی تھی ہر طرف دیواروں پر کومل کی تصویریں تھی جو اس نے اس سے چھپ کر لی تھی ۔۔
کچھ تصویریں دادی کے ساتھ تھی اور اکثر میں وہ اکیلی تھی کسی میں سنجیدہ تو کسی میں مسکراتی ہوئ ۔۔
سلطان ان کے سہارے جی رہا تھا شاید
۔
پاشا بھی سلطان کے ساتھ تھا لیکن آج اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ طلال سے ضرور ملے گا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔……………………
پاشا طلال کے ساتھ تھا اور کچھ بندوں نے ڈاکٹر سعید اور کونسٹیبل قاسم کو کرسی پر رسیوں سے باندھ رکھا تھا ۔۔
دیکھو ڈاکٹر صاحب آپکی بیٹی سنا ہے بڑی حسین ہے اور قاسم تمھارا بیٹا ہے تم بہت چاہتے ہو اسکو ۔۔۔ہے نا۔۔
طلال دونوں سے مخاطب تھا جبکہ پاشا خاموش بیٹھا بس سب دیکھ رہا تھا۔۔
سعید اور قاسم بہت ڈر گۓ تھے کیونکہ اولاد کی محبت ہوتی ہی ایسی ہے ۔۔
دونوں مارے ڈر کہ اب طلال کی گھٹیا پلاننگ سن رہے تھے اور ان کے پاس اب اسے ماننے کے سوا کوئ چارہ نہ تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
کومل اور حارث بہت خوش تھے لیکن جواد کومل کو قبول نہیں کر پا رہا تھا مگر بیٹے کی محبت اسے سب برداشت کرنے پر مجبور کر رہی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔……………………
آج بھی حارث گھر سے نکلتے وقت
اسکی دونوں کلائیوں کو پیچھے کی طرف لے جاکر اپنے مضبوط ہاتھ کی قید میں سختی سے جکڑ کر ستم یہ کہ آنکھوں میں ساحر آنکھیں ڈال کر کہتا ہے.
“کہو کس کی ہو”
اُس کی آنکھوں میں دیکھنا, اُفففف توبہ
آنکھیں میچے لب ہلتے ہیں.
“تمہاری ہوں”
“نہیں، میری آنکھوں میں دیکھو”
پھر وہی ضد’
“پلیز ”
“میں نے کہا ہے, میری آنکھوں میں دیکھو”
کلائیوں پر ہتھکڑیاں سخت ہونے لگتی ہیں
زرا کی زرا پلکیں مقدس آنکھوں میں جھانکنے
کی گستاخی کرتی ہیں’
“تین بار کہو،
کہو کس کی ہو؟ بنا پلکیں جھپکے”
پھر وہ اس کی ضد کے آگے ہار جاتی ہے,
” تمہاری ہوں،
تمہاری ہوں،
صرف تمہاری ہوں”
اِس خوبصورت اعتراف کے بعد پلکیں
اقرار کی سُرخیاں عارضوں پہ لئے جھک جاتی ہیں
اور پھر اُس ضدی کے عملی اعتراف کا ثبوت اُسے اپنے ماتھے پہ محسوس ہوتا ہے
اور یہ خوبصورت اعتراف وہ دن میں جانے
کتنی بار اُٹھتے بیٹھتے ،خود سے کرتی ہے کہ
“ہاں میں تمہاری ہوں ،
تمہاری ہوں ،
صرف تمہاری ہوں
حارث کو گۓ ابھی تھوڑی دیر ہی ہوئ تھی کہ کومل کی طبیعت عجیب ہونے لگتی ہے وہ حارث کو نا بتانے کا سوچ کر کہ وہ پریشان نہ ہو میڈ کو بلا کر اسکے ساتھ ڈاکٹر کے پاس جاتی ہے تو قاسم اسے سعید کے پاس لے جاتا ہے۔۔۔
سعید کچھ بلڈ ٹیسٹ کے بعد کومل کو یہ کہہ کر گھر جانے کا کہتا ہے کہ وہ رپورٹز کل حارث کے ساتھ بھجوا دیگا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔……………..
اگلے دن حارث سعید سے رپورٹز لیکر بہت ہی خوش تھا کیونکہ کومل امید سے تھی اور جونہی گھر جانے کیلۓ گاڑی میں آکر بیٹھا کسی نے گاڑی کا مرر کھٹکھٹایا ۔
حارث یہ دیکھ کر پریشان ہوا کیونکہ سامنے پاشا تھا ۔۔
حارث گاڑی سے باہر آیا ۔۔
کیا بات ہے تم یہاں ؟؟
حارث کے پوچھتے ہی پاشا نے ایک لفافہ اسکی جانب بڑھایا اور جیسے حارث نے دیکھتے ہوۓ پوچھا۔۔
یہ کیا ہے ؟؟
سر یہ سلطان سر اور انکے آنے والے بچے کی ڈی این اے رپورٹ ہے جو آپکے ہی ڈاکٹر سعید نے بنائ ہے ۔۔
حارث نے لفافہ کھولا اور ایک بار پھر پوچھا۔۔
تو میں اسکا کیا کروں ؟؟
ابھی حارث پوری بات کہہ بھی نا پایا تھا کہ رپورٹ میں سلطان کی بیوی کا نام دیکھ کر قرب و غصے سے پاشا کا گریبان پکڑے اسے مارنے والا ہی تھا کہ طلال کی آواز پر رکا۔۔
رکو اس پی صاحب ۔۔
یہ تو ہم میں عام ہے ہم اپنے راستے کے کانٹے ایسے ہی ہٹاتے ہیں مگر اب کی بار مسئلہ ذرا پیچیدہ ہے تو اب تو سمجھ چکے ہونگے کہ سلطان عرف مسٹر x نے ایسا کیوں کیا ہوگا اس بار ہمارا مسئلہ جلد حل ہو گیا تو سلطان کو اپنی محبوبہ چاہیے جلدی۔۔
حارث نے طلال کو مارنا شروع کیا اور تب تک اسے مارتا رہا جب تک اسے لہو لہان نہ کیا۔
پاشا کچھ دیر تک سب دیکھتا رہا کیونکہ طلال کو مار کھاتا دیکھ اسے مزہ آرہا تھا پھر حارث کو تھامے پیچھے کیا ۔
اس پی سر میرے ساتھ چلیں میں کچھ دکھانا چاہتا ہوں۔۔۔۔
پاشا حارث کے ساتھ وہاں سے نکلا مگر طلال کا شیطانی ذہن اب بدلہ لینے کا ارادہ کر چکا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔………………………
حارث پاشا کے ساتھ ہوٹل کے اسی کمرے میں موجود تھا جسے سلطان نے کومل کی تصویروں سے سجا رکھا تھا۔۔
پاشا نے ایک اور وار کیا ۔
سر یہ دیکھے میڈم اور سلطان سر کے نکاح کے پیپر اب آپ انھیں چھوڑ دے سلطان یہی چاہتا ہے ۔۔
حارث جو پاشا کو جان سے مار ڈالنے کا سوچ چکا تھا کیونکہ اسکا دل کسی بھی بات کو ماننے کو تیار تھا۔۔
اسی وقت حارث کا فون بجا جو قاسم کا تھا۔۔
سر جلدی آۓ کچھ لوگو نے گھر پر حملہ کر دیا ہے اور کومل جی کو زبردستی اٹھا کر لے گۓ ۔۔
یہ سننا تھا کہ حارث وہاں سے بھاگتے ہوۓ باہر کی جانب گیا۔۔
پاشا حارث کو اس طرح جاتا دیکھ کر حیرت میں پڑگیا ابھی وہ بھی ہوٹل سے باہر آیا تھا کہ طلال نے اسے فون کیا۔۔
ھیلو سلطان کے چمچے میرا کام ہوگیا ہے اب سلطان سے کہنا کہ بچا سکتا ہے تو آکر بچالے اپنی محبوبہ کو میں وہی ہوں اپنے ٹھکانے پر۔۔۔۔
پاشا اب پریشان ہوگیا تھا وہ کچھ سوچ کر سلطان کے پاس گیا۔۔
………………………..
سلطان کا ہر وار پاشا سہہ رہا تھا مگر چھپ تھا۔۔
تم نے اتنی بڑی غلیظ حرکت کی اسے داغ دار بنایا اسکی پاکیزگی پر تہمت لگائ تمھاری اتنی ہمت کیسے ہوئ ۔
سلطان نے مار مار کر پاشا کی حالت ابتر کردی تھی ۔۔
سر مجھ سے آپکو اس تکلیف میں دیکھا نہیں جاتا سر پلیز چلے پہلے میڈم کی جان خطرے میں ہے طلال اسے لے گیا۔
سلطان نے ایک قرب سے آنکھیں بند کی تھی مگر جب کھولی تو انگاره بن چکی تھی ۔۔
حارث کو فون کرو اور اپنی ٹیم کے ساتھ وہاں آنے کا کہو اور اٹھو چلو ۔۔
۔۔،،،،،،،،،…………………
وہ دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوا چہرہ غصہ سے لال ہو رہا تھا آس پاس نظر دوڑاتے ہوۓ اسکا چہرے پر تڑپ اور جنون واضح تھا ۔۔۔
کمرہ میں سواۓ کارٹنز اور مختلف کبھاڑ کے اور کچھ نہ تھا ۔۔
اسنے تیزی سے اندر کی جانب قدم بڑھاۓ تھے وہ ہر طرف دیوانوں کی طرح اسے ڈھونڈھ رہا تھا۔اچانک اسے ایک کونے میں اسکا ساکت وجود نظر آیا۔۔۔وہ تیزی سے دوڑتا ہوا اسکے قریب گیا اور اسے اپنی بانہوں میں لیکر اسکا تنفس چیک کیا ۔۔
اسنے سکون کا سانس لیا کیونکہ اسکی سانسیں چل رہی تھی
ھیلو جلدی سے ایمبولینس ارینج کرو جلدی!!!!
وہ فون رکھ کر اسے اپنے دل کے اور قریب لاکر آنکھیں بند کیے رونے لگا ۔۔اچانک اس نے اپنی بند آنکھوں کو کھولا اور اسکے بے ہوش چہرے پر قہر آمیز نظر ڈال کر اسکے نازک گال پر ایک زور دار تمانچہ مارا اور اسکی گریبان پکڑ کر دھاڑا
مجھے دھوکا دیا آخر کیوں!!!!!
کیوں!!!
وہ ناجانے کتنے تپھڑوں کی مہر اسکے خوبصورت چہرے پر ڈال چکا تھا جسکی گردن گریبان پکڑنے کی وجہ سے جھول رہی تھی ۔
اسنے اسکا چہرہ تھاما اور اپنے قریب کیا۔۔
نکاح پر نکاح جیسا گناہ کیا تم نے کیو آخر کیو
وہ یہ کہتے ہوۓ پھر سے اسے اپنی بانہوں میں لیے رونے لگا تبھی اسے فائرنگ کی آواز آئ۔۔۔
ھیلو قاسم مجھے کور دو میں باہر آرہا ہوں۔۔۔
حارث جو پاشا کے فون کے بعد طلال کے ٹھکانے پر پہنچا تھا اپنے راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو ختم کرتا کومل تک پہنچ چکا تھا اور اب اسے اٹھاۓ باہر کی جانب بڑھا ۔۔
باہر سلطان بھی اپنے بندو کے ساتھ پہنچ چکا تھا ۔
سلطان کا ٹارگٹ طلال تھا ۔۔
وہ طلال کو ڈھونڈھتا ہوا وہاں آگیا جہاں حارث کومل کو اپنی بانہوں میں لیے اپنی جیپ کی طرف آچکا تھا ۔۔
حارث نے بھی سلطان کو دیکھ لیا تھا اب وہ بھی کومل کو گاڑی میں لٹا کر قاسم کو ہدایت دیکر سلطان کی طرف بڑھا۔۔
سلطان اور حارث ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے تھے۔
حارث کومل کے ساتھ رہو کسی پر بھروسہ مت کرو اور کومل کے بارے میں جس نے جو کہا سب بکواس تھا وہ سب جھوٹ تھا۔
سلطان ابھی اپنی بات پوری بھی نہ کر پایا تھا کہ چاروں طرف سے گولیاں چلنے لگی سلطان تو بچ گیا مگر حارث وہی گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا ۔۔
سلطان اس کے پاس آیا اور قاسم بھی دونوں نے مل کر حارث کو گاڑی میں منتقل کیا اب قاسم گاڑی میں دونفوسوں کو لیے ہسپتال پہنچ کر جواد کا انتظار کرنے لگا تھا۔۔
اور یہاں سلطان پاشا سمیت طلال کے سارے بندوں کا صفایا کرنے کے بعد طلال کو ڈھونڈھ رہے تھے ۔
پاشا نے طلال کو دیکھ لیا تھا جو موقع دیکھ کر گاڑی میں بیٹھا فرار ہونے والا تھا مگر پاشا نے اسے فرار ہونے نہ دیا اور اب دونوں کے بیچ لڑائی شروع ہو چکی تھی ۔
پاشاہمت ہار کر نیچھے گرا مگر زور زور سے ہنسنے لگا۔
مجھے پتہ ہے آج میں مروں گا مگر پاشا تمھیں پتہ ہے میں آج جیت گیا ہو کیونکہ میں سلطان کو برباد کر چکا ہوں اس سے اسکی چاہت ہمیشہ کیلۓ دور کر کے میرے پیچھے وقت ضائع کرنے سے بہتر تھا کہ تم دونوں اس لڑکی پر نظر رکھتے جو اب پتہ نہیں کہاں پہنچ چکی ہوگی اور تم لوگوں کو کبھی نہیں ملے گی۔۔
یہ کہتے ہی پاشا نے ریوالور لیکر اپنے سر پر فائر کر دیا۔۔۔۔
…………….
………………………
کومل خطرے سے باہر تھی مگر حارث کی حالت بہت خراب تھی گولی اس کے سر پر لگی تھی ۔۔۔
کومل ہوش میں آئ تو خود کو ہسپتال میں دیکھ کر چونکی اور نرس کے منع کرنے کے باوجود بھی روم سے باہر آئ تو اسے جواد بینچ پر بیٹھے نظر آۓ جو گردن جھکاۓ سر ہاتھوں میں تھامے رو رہے تھے ۔۔
کومل انکے پاس آئ تو وہ کومل کو دیکھتے ہی قاسم سے مخاطب ہوۓ ۔
قاسم!!!
اس بدبخت سے کہو یہاں سے چلی جاۓ میرے بیٹے کو مروا دیا اب یہاں اسے رکنے کی کوئ ضرورت نہیں چلی جاۓ یہ ۔۔۔
کومل یہ سن کر سکتے میں آچکی تھی ۔۔
قاسم فوراً آیا اور ایک نرس سے کہہ کر اسے باہر لایا۔۔
کومل اپنے ہوش و حواس میں نہ تھی ۔۔
قاسم اسے لیے وہی کھڑا تھا کہ ایک گاڑی سے دو بندے اترے اور انکے پاس آۓ ۔انکے آتے ہی قاسم وہاں سے چلا گیا۔۔
میڈم چلے سلطان سر آپکا گاڑی میں انتظار کر رہے ہیں۔
ان میں سے ایک بولا اورکومل جو سکتے میں تھی آواز سن کر چونکی اور مڑ کر واپس ہسپتال کے اندر جانے لگی تھی کہ اسکے سر پر ایک زور دار وار ہوا۔۔۔
اور جب وہ ہوش میں آئ تو وہ بانو کے کھوٹے میں تھی اور نئ پہچان کے ساتھ چاند۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔،،،،،،،……………….
………………………..
کچھ دیر پہلے جو شخص غصے میں بیٹھا تھا اب تینوں کی باتیں سن کر سر جھکاۓ کسی گہری سوچ میں گرا ہوا تھا۔
سر آپ تک یہ فائل کیسے پہنچی ؟؟
ہادی اس سے پوچھ رہا تھا ۔۔
چند دن پہلے کچھ آدمی میرے آفس آۓ تھے میرا پوچھنے کیلۓ میں وہان موجود نہیں تھا تو میرے خاص بندے نے انکو قید کرکے سچائی کا پتہ لگانے کی کوشش کی جن میں سے اکثر ہسپتال میں ہے ۔۔لیکن تم سے اس لڑکی کو ڈھونڈنے کیلۓ کس نے کہا تھا۔۔
ہادی کو جواب دینے کے بعد اب اس نے بھی سوال پوچھا تو ہادی حیرت سے اسکی جانب دیکھ کر جواب دینے لگا۔۔
آپکے آفس!! مطلب آپ ہی مسٹر x ہے ۔۔سر کچھ سالوں پہلے ایک گورنمنٹ ڈاکٹر نے کہا تھا اس لڑکی کو ڈھونڈھنے کا مگر پھر ان سے رابطہ نہیں ہوا چونکہ وہ رقم دے چکے تھے تو ہم اسے ڈھونڈھ رہے تھے مگر اب انکا نمبر لگ نہیں رہا۔۔
سلطان نے ایک نظر تینوں کو دیکھا اور بولا۔
مسٹر x نہیں سلطان ملک مسٹر x مر چکا ہے میں نے سب ختم کر دیا جو مسٹر x کرتا تھا۔اب میں چلتا ہوں مجھے اسے وہاں سے نکالنا ہے ۔
سلطان یہ کہہ کر اٹھنے والا ہی تھا کہ حبہ کی آواز پر رکا۔
آپ پہلے ہماری بات سن لے زور آزمائ سے ہم انھیں نہیں نکال سکتے کیونکہ کھوٹے کے اندر بھی اسلحہ لیے بندے موجود رہتے ہیں ہمارے زبردستی کرنے پر وہ لوگ ان دونوں کو نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں۔۔
حبہ کی بات سن کر سلطان پھر کسی سوچ میں پڑ گیا تھا۔۔۔
جی سر ان میں سے ایک صائم کی بیوی ہے اور جس کی آپ بات کر رہے ہیں انکی ایک چھوٹی بیٹی بھی ہے اس لیے ہم نے جو پلان بنایا ہے وہ آپ سن لے اور رات تک انتظار کریں تو دیکھیے گا ہم ضرور کامیاب ہونگے۔۔
سلطان اب ہادی سے انکا پلان سن رہا تھا جبکہ حبہ بھی اب ایک فیصلہ کر چکی تھی ۔۔
جاری ہے ۔۔
guys apse pochna tha novel kaisa hy plz zaroor batae
Allah ap sbko kush rake

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: