Filhal By Muhammad Shariq – Episode 14

0

فلحال از محمد شارق – قسط نمبر 14

–**–**–

وہ اپنے ہی گھر میں اجنبیوں کی طرح گھوم رہا تھا گھر میں اسکی تصویریں تھی مگر وہ ان سب کو دیکھ کر حیران تھا کہ وہ پہلے سے بہت بدل گیا تھا ۔۔
وہ ابھی تک گم سم گھر کا جائزہ لے رہا تھا کہ اسکا پی اے آیا ۔۔
سر میں نے یہاں کے کیئر ٹیکر کو انفارم کر دیا ہے وہ بس آنے والا ہوگا۔
پی اے یہ کہہ کر چلا گیا تھا مگر وہ اب ہر کمرے کا جائزہ لیتا ہوا سیڑھیوں تک پہنچا ہی تھا کہ کسی کا دھندلا عکس اسکی نظروں کے سامنے لہرانے لگا۔۔اسکا سر درد کی شدت سے چکرانے لگا تو وہ وہی سیڑھیوں پر اپنے سر تھامے بیٹھ گیا۔۔
اسے بیٹھے تھوڑی دیر ہی ہوئ تھی کہ ایک بوڑھا شخص اسکے پاس آکر اسے آواز دینے لگا۔۔۔۔
سر آپ ٹھیک تو ہے ؟؟
اس نے سر اٹھا کر سامنے موجود شخص کو دیکھا اور اثبات میں سر ہلاتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔
یہاں کے سارے کمروں کی صفائی دوبارہ کرو مگر سب سے پہلے میرے کمرے کی مجھے آرام کرنا ہے ۔۔
اس کے حکم پر وہ بوڑھا شخص ہامی بھرتے ہوۓ اوپر کی جانب بڑھا۔تو وہ بھی اسکے ہم قدم ہوا مگر کمرے میں داخل ہوتے ہی بیڈ کراؤن پر لگی تصویر دیکھ کر وہ کتنی دیر تک اس تصویر کو دیکھتا رہا بہت کچھ یاد آنے لگا تھا اسے بہت کچھ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،……………………………………………
سلطان ابھی تک حبہ کے اپارٹمنٹ میں تھا اب چاروں اپنی پلاننگ کے تحت آگے کیلۓ تیار تھے ۔
صائم اور سلطان کے گھر سے نکلتےہی حبہ نے ہادی کو روک لیا کہ اسے کوئ ضروری بات کرنی ہے ۔
حبہ کی پوری بات سننے کے بعد ہادی کا دل بھر آیا تو وہ بول پڑا
حبہ تم ہوش میں تو ہو یہ ممکن نہیں قطعی نہیں ۔۔
حبہ نے درد بھری مسکراہٹ لیے جواب دیا ۔
وہ مجھ پر چھوڑ دو بس یہ بتا دو نکاح پڑا لیتے ہو نا یا نہیں تم تو ایک جاسوس ہو سب آتا ہوگا نا؟؟
جواب میں ہادی بھی ہنس پڑا اور وہاں سے نکلتے ہوۓ اسے جلدی تیار ہونے کا کہہ کر چلا گیا۔۔
…………………………
سلطان اپنے اسی ہوٹل روم میں موجود جہاں ہر طرف کومل کی یادیں تھی ہادی کی پلاننگ کے تحت رات کا انتظار کر رہا تھا مگر اس سے برداشت نہیں ہو رہاتھا وہ ہر پل گویا مر رہا تھا بس یہ سوچ آتے ہی کہ کومل کہاں ہے اور اسکی وجہ سے ہے وہ خود کو معاف نہیں کر پا رہا تھا۔
فلحال برداشت کر رہا ہوں مگر رات کو کچھ بھی ہو جاۓ کچھ بھی میں تمھیں وہاں سے نکال لاؤں گا میرا وعدہ ہے تم سے جان!!
سلطان خود سے ہمکلام تھا تبھی پاشا اندر آیا اور اسے جو خبر دی اس سے سلطان بہت خوش ہوا ۔۔
سلطان ہادی کی پلاننگ سن کر مان تو گیا تھا مگر وہ اپنی طرف سے بھی بہت کچھ کر رہا تھا اس نے پاشا سے دانی کو کسی بھی قیمت پر لانے کا کہا اور وہ کامیاب ہو چکا تھا جب دانی سبزیاں تھامے کھوٹے کی طرف جارہی تھی تو پاشا اسے زبردستی سلطان کے پاس لے آیا۔۔
ہاۓ ہاۓ اتنے بڑے لوگوں کو سبزیاں بھی چرانی پڑ رہی ہے خدا خیر کرے ادھر ہی مانگ لیتے میں دے دیتی یہ سارے جتن کیوں۔۔۔؟؟
دانی اپنے انداز سی بولی تھی جب پاشا اسے سلطان کے سامنے لایا تھا۔
دیکھو تم جو بھی ہو میرے سوالوں کا جواب دو بدلے میں جو مانگوں گی ملے گا ۔۔
سلطان کی بات سن کر دانی اتراتے ہوۓ کچھ کہنے لگی تھی کہ اسکی نظر دیواروں پر لگی تصویروں پر پڑی ۔
ہاۓ اللہ یہ تو اپنی چاند ہے !!!
دانی تصویروں کو دیکھ کر چونکتے ہوۓ بولی تو سلطان نے ایک گہری سانس لی اور دانی کو سب بتا دیا کیونکہ وہ ہادی سے دانی کے متعلق جان چکا تھا کہ وہ اکلوتی ہی ہے جو کھوٹے میں بھروسے لائق ہے ۔
سلطان سے کومل کے بارے میں سن کر دانی رو پڑی تھی ۔
اتنا عشق چاند سے ۔۔میں ہر قسم کی مدد کیلۓ تیار ہوں بولو کیا کرنا ہے ۔
دانی کے ہامی بھرتے ہی سلطان اسے سب سمجھانے لگا اور آخر میں بچے کا پوچھا تو دانی نے اسے سب بتایا کہ جب کومل آئ تھی تو وہ امید سے تھی مگر بانو کی منتیں کرکے بچے کو بچا تو لیا مگر آج تک کومل کو اس سے ملنے نہیں دیا گیا کیونکہ یہ بانو کا حکم تھا اور صرف دانی ہی جانتی تھی کہ وہ بچہ کہاں ہے دانی نے ساری معلومات سلطان کو دی اور جانے لگی تو سلطان نے اسے روکا۔
رکو دانی اپنی قیمت تو لیتی جاؤ!!
سلطان نے ایک چیک اسکی جانب بڑھایا تو دانی مسکرائ ۔
صاحب جی چاند اور ستارہ جیسی بہت ہیں وہاں ان سب کو بھی آزادی دلوا دینا اگر ہوسکے تو وہی میرا معاوضہ ہوگا۔۔
دانی بہت بڑی بات کہہ کر چلی گئ تھی ۔۔
…………………………………………
ہادی اور صائم اپنا گیٹ اپ بدل کر حبہ کے اپارٹمنٹ کے باہر اسکا انتظار کر رہے تھے مگر حبہ کو دیکھتے ہی دونوں کی حیرت کی انتہا نہ رہی تھی ۔
واہ تم تو آج سچ میں قیامت ڈال دوگی چلو چلو ۔
ہادی کے منہ سے نکلے ہوۓ الفاظ وہ صائم کے منہ سے سننا چاہتی تھی شاید ۔۔
…………………………………….
وہ الماری کھولے سب چیزیں باہر پھینک چکا تھا ۔
تبھی وہ بوڑھا کیئر ٹیکر کھانے کا پوچھنے کیلۓ کمرے میں آیا تو کمرے کی حالت دیکھ کر پریشان ہوا اور اسے آواز دی۔
سر آپ کو کچھ چاہیۓ ؟؟
کیئر ٹیکر کی آواز سن کر وہ اسکی جانب اپنی نم اور سرخ آنکھوں سے دیکھنے لگا جن سے وہ کیئر ٹیکر بھی ڈر گیا تھا۔۔
میں کون ہوں؟؟ یہ یونیفارم کس کا ہے؟؟ تم کون ہو ؟؟
اسنا اتنا کہا تھا کہ سر میں درد کی ناقابل برداشت لہر اٹھنے سے نیچھے بیٹھ گیا۔
سر آپ کو سچ میں کچھ یاد نہیں آپ سب بھول چکے ہیں اس دن ہسپتال میں بھی آپ نے مجھے نہیں پہچانا اور جواد صاحب نے یہاں سب کو یہ کہہ دیا کہ آپ مر چکے ہیں اور اسے بھی ۔۔
اتنا کہہ کر کیئر ٹیکر چھپ ہوا تو وہ اسکی جانب لپکا
کسے؟؟ کس کی بات کر رہے ہو ؟؟مجھے الجھاؤ مت!! نام بتاؤ پہلے اپنا ؟؟
وہ دیوانہ لگ رہا تھا اس وقت
حارث سر میں قاسم اور میں کومل جی کی بات کر رہا ہوں یہ یونیفارم آپکا ہے آپ اس پی تھے کچھ سالوں پہلے ۔۔۔
قاسم اسے سب کچھ بتانے لگا اور وہ ہر بات سنتا اور اندر اندر مرتا جا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
قاسم کی ساری باتیں سن لینے کے بعد وہ اٹھا۔
مجھے پولیس اسٹیشن لے چلو سب سے پہلے اور پھر سلطان کے پاس۔۔
حارث اب پرانا حساب پورا کرنے کا عظم لیے بولا تھا۔۔۔
………………………………….
ہادی بانو اور زرار سے ملاقات کا موقع پا کر خوش تھا جبکہ یہ سب دانی کی وجہ سے ممکن ہوا۔
دیکھے بانو بیگم آپ کا بہت نام سنا تھا اس لیے یہاں آۓ ہم یہاں نیا کاروبار کھول چکے ہیں بس ہمارے گراہکوں کیلۓ بس آج کی رات کیلۓ ہماری رقاصہ کو رقص کرنے کی جگہ دیدے کیونکہ ہمارے بنگلے میں مرمت ابھی تک جاری ہے اور ہمارے کافی گراہک ہیں جو بیرون ملک سے ہیں اور بضد ہے کہ آج ہر صورت میں رقص کا انتظام کیا جاۓ بدلے میں جو ہمیں ملے گا اسکا 20% آپکا ۔
ہادی بانو کے سامنے چیک دکھاتے ہوۓ بولا جسے دیکھ کر بانو کی آنکھیں پھیل گئ مگر زرار کی نظریں تب سے حبہ پر تھی ۔اور وہ ہادی کی بات کاٹے بولا
بیس نہیں پورا پچاس ورنہ جاؤ ۔۔
ارے واہ رقص میں تن تنہا کرو اور سارا مال تم لوگ کھاؤ اپنی رقاصاؤں کو نچواؤ تو کچھ بات بھی سمجھ آۓ ۔۔
حبہ بھی تنک کر بولی تو بانو کے شیطانی ذہن میں بہت سارے پیسوں کی چاہ امڈ آئ اور وہ زرار کو لیے ایک کونے میں گئ ۔
اے پاگل سوچ جو لوگ ایک دفعہ کے رقص کا اتنا سارا مال دے رہے ہیں اگر ہماری لڑکیوں کا رقص ان لوگوں نے دیکھ لیا تو ہم تو مالا مال ہونگے ۔
بانو کی بات سن کر زرار بولا ٹھیک ہے پہلے رقم اکاؤنٹ میں ڈالنے کا کہو اور اس چمک چلو کا ناچ بھی دیکھ لیتے ہیں کہ ناچتی ہے بھی یا بس ۔۔
بانو نے اثبات میں سر ہلایا اور ہادی کے قریب آکر بیٹھی ۔
ہماری انمول رقاصائیں بھی ناچے گی مگر مال آدھا آدھا ہوگا اور پہلے اکاؤنٹ میں رقم ڈال دو اور اس لڑکی کا ناچ بھی دکھاؤ کیونکہ یہاں ہمارے گراہک بھی موجود ہونگیں اور ناچ انکے معیار کا ہونا چاہیۓ ۔۔
بانو کی بات سن کر ہادی نے فون پر کسی کو بانو کے اکاؤنٹ میں رقم ڈالنے کا کہا اور کچھ دیر میں زرار کو بینک کا میسج وصول ہوا تو اب زرار اور بانو حبہ کی جانب دیکھنے لگے تو حبہ اٹھی اور رقص اس نے کیا اسے دیکھ کر وہاں سب حیران تھے ۔
لاگی لاگی سب کہے
لاگی لگی نہ انگ
لاگی لگی تو تب جانے
جب ہو تو میرے سنگ
ہاۓ وہ رین سہاگ کی
جو میں جاگی تیرے سنگ
بازی پریم کی جو کھیلی
میں نے تیرے سنگ
جیت گئ تو پیا میرے
جو میں ہاری تو رہوں پیا کے سنگ
چھاپ تلک سب چھین لی رے
مجھ سے نینا ملا کے
مجھ سے بولو نہ بول
میری سن یا نہ سن
پر میں بن گئ تیری
تجھ سے نینا ملا کے۔
متوالی کر گۓ
مجھ سے نینا ملا کے۔
حبہ کی ہر ادا کا اشارہ صائم کی طرف تھا اور آخر میں وہ صائم کے پاس آکر بیٹھی اور نم آنکھوں سے اسکی جانب دیکھتے ہوۓ اپنے دل کا حال اداؤں کے ذریعے بتانے لگی
رینی چڑھی میری
رنگ ریز کے ہاتھ
جسکی رینی رنگ دے
دھن دھن اسکے باگ
اپنے پیا کے میں بل بل جاؤں
مجھے تو سہاگن کر گۓ
مجھ سے نینا ملا کے
صائم اسکی آنکھوں میں اپنے لیے بے پناہ محبت دیکھ چکا تھا ۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فلحال ناول اب اختتام کے مراحل پر ہے اسلۓ اپنی قیمتی راۓ کمنٹ کے ذریعے دے
اللہ آپ سب کو ہمیشہ خوش رکھے ۔آمین

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: