Filhal By Muhammad Shariq – Episode 2

0

فلحال از محمد شارق – قسط نمبر 2

–**–**–

وہ ایک ریسسٹورنٹ میں بیٹھی کسی کے آنے کا انتظار کر رہی تھی اسے یہاں آۓ کافی دیر ہوچکی تھی اور وہ اب تک دو بار اپنا بیگ کھول کر اس خاکی پیکٹ کو دیکھ چکی تھی ۔
اچانک کوئ اسکے سامنے کرسی پر بیٹھ گیا اور فون اسکی جانب بڑھایا۔۔وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی اور ذرا سہم چکی تھی۔۔
“میڈم میں ہادی ہوں جسکا آپ انتظار کر رہی ہے لے فون پر اپنے دوست سے بات کرلے جس نے مجھے یہاں بھیجا ہے ۔۔۔”
وہ ایک پینتیس سال کا دبلا پتلا بندہ تھا نارمل شلوار قمیض پہن کر ایک ہاتھ میں لیپ ٹاپ تھامے دوسرے ہاتھ سے موبائل اسکی جانب بڑھاۓ ہوۓ اسی کی جانب سنجیدگی سے دیکھ رہا تھا۔
اس نے کچھ سوچ کر فون اسکے ہاتھ سے لیا۔۔اور دوسری جانب سے آتی آواز سن کر مطمئن ہو چکی تھی۔۔۔
عمر تم!اچھا! او کے ! ہاں میں سمجھ گئ نہیں کوئ بات نہیں اوکے باۓ۔
وہ فون بند کرکے اس شخص کا فون اسے واپس دیکر اب ریلیکس ہو گئ تھی۔
اچھا عمر ٹریفک میں پھنسا ہوا ہے تو کیا میں اپنی بات شروع کروں کیونکہ اسے آنے میں وقت لگے گا اور آپ کے پاس وقت نہیں ہے ایسا عمر نے کہا۔
اسکی بات سن کر ہادی ہلکا سا مسکرایا اور بولا۔
جی بالکل لیکن مجھے ہر بات بالکل تفصیل سے بتانی ہوگی آپ کو کیونکہ یہ کام ہی ایسا ہے اور میرے لیے ہربات جاننا ہم دونوں کیلۓ مفید رہے گا۔
ہادی کی بات پوری ہو تے ہی اس نے گہرا سانس لیا اور بولنا شروع ہوگئ۔۔۔۔
میرا نام حبہ ہے اور میرے ڈیڈ گورنمٹ ہاسپیٹل کے ڈآکٹر تھے وہ زیادہ تر فورسینک ڈیپارٹمنٹ میں ہوتے تھے۔۔
اب حبہ اسے ساری باتیں بتانی لگی اور وہ لیپ ٹاپ آن کرتا اسکی باتیں سنتا جاتا اور لیپ ٹاپ پر انگلیاں چلاتا۔
حبہ کی بات پوری ہو چکی تھی ۔۔
پلیز میری مدد کردیں میرے لیے اس شخص کے بارے میں جاننا اب ضروری ہو چکا ہے ۔۔
حبہ اس کی جانب دیکھتی ہوئ بولی تھی۔تو وہ اسکی جانب دیکھے بغیر لیپ ٹاپ پر انگلیاں چلاتے ہوۓ گویا ہوا۔
ہممم۔۔ٹھیک ہے آپ کو کل تک ساری انفارمیشن مل جاۓ گی مگر یہ ایک حساس ادارہ ہے جہاں سے یہ انفارمیشن نکالنی ہے کیونکہ آپ نے جو تاریخ اور جو نام اور واقعہ بتاۓ ہےانکا ریکارڈ کہیں بھی نہیں ہے مگر میں یہ سب کرلونگا اور ایک بات معاوضہ صحیح دینا پڑے گا یہ کام خطرے سے خالی نہیں اور کام ہوتے ہی ہم ایک دوسرے کو نہیں جانتے او کے ۔
وہ ایک ہی سانس میں ساری بات بول کر اب حبہ کی جانب دیکھنے لگا۔۔تو جواب میں حبہ نے اثبات میں سر ہلایا اتنے میں عمر وہاں پہنچا جو حبہ کا کالج فرینڈ تھا اور اسکے ساتھ ایک نفوس بھی تھا جسے دیکھتے ہی پل بھر کیلۓ حبہ اسکی پرسنالٹی میں کھو گئ تھی۔ تبھی عمر کی آواز پر وہ ہوش کی دنیا میں واپس آئ۔
ھیلو حبہ! اور ھیلو سر !
دونوں کو باری باری ھیلو بولتا عمر بھی اب بیٹھ چکا تھا اور اپنے ساتھ آۓ ہوۓ کو بیٹھنے کو کہا ۔
ہاں تو سر حبہ نے اپنا کیس آپ کو بتایا اور حبہ اب فکر مت کرو اور ہاں سر میں نے آپکو ایک لڑکی کے اغواہ کا کیس بتایا تھا یہ بندہ اسی سلسلے میں آیا ہے ۔۔۔
عمر پھر سے مخاطب ہوا اور عمر کے کہتے ہی حبہ پھر سے اس شخص کی طرف دیکھنے لگی تھی اور عمر اب اپنے ساتھ آۓ ہوۓ شخص کے بارے میں بتانے لگا تھا۔۔
سر انکا نام صائم ہے یہ آٹھ سالوں سے اپنی بیوی کو ڈھونڈھ رہے ہیں انکے ساتھ جس جگہ وہ حادثہ پیش آیا تھا اس ایریا کے پولیس اسٹیشن پر کئ دفعہ کمپلین کر چکے ہیں مگر کچھ حاصل نہیں ہوا۔یہ رہی انکی کیس کی ساری ڈیٹیل کی فائل ۔
عمر نے ہادی کی جانب فائل بڑھائ جو اس نے لیکر کھولی اور دیکھنے لگا۔
ہممم یہ کیس اغواہ کا تو ہے مگر جس طرح کی ڈیٹیل اس میں لڑکی کے بارے میں دی گئ ہے مجھے لگتا ہے بلکہ افسوس ہے کہ ان کو کسی غلط مقام پر لے جایا گیا ہوگا مگر پھر بھی میں اس میں موجود ڈیٹیل کے مطابق چھان بین کرونگا مگر معاوضہ زیادہ دینا پڑے گا کیونکہ اس میں گشت کرنا پڑے گا اور دوسرا آپ یہاں کے ہے بھی نہیں صائم جی تو ایڈوانس ؟؟؟
صائم نے ایک پیکٹ اس کی جانب بڑھایا اور بولا۔
سر بس اسے ڈھونڈھ لادے میں خود کو بھیج کر بھی معاوضہ ادا کر دونگا ۔
صائم کی آواز بھر آئ تھی ہادی نے پیکٹ لیکر مسکراتے ہوۓ اسکی جانب دیکھا۔
لگتا ہے یہ کافی ہونگے بعد کی بعد میں دیکھ لے گے اوکے میں اب چلتا ہوں یہ کہہ کر ہادی اٹھنے لگا اور فائل اٹھاتے ہوۓ فائل کا ایک پیج سرک کر باہر آیا جس پر حبہ کی نظر پڑی ۔اس پر ایک خوبصورت لڑکی کی تصویر تھی ۔
اس پر جو نام لکھا تھا وہ پڑھتے ہوۓ حبہ کو اسکی قسمت پر رشک ہونے لگا جسے ایسا چاہنے والا ملا تھا جو اسے آٹھ سالوں سے ڈھونڈھ رہا تھا۔
نمرہ!!!!!
یہ نام پڑھتے ہوۓ حبہ نے دوبارہ اک نظر صائم پر ڈالی تھی ۔۔۔
………………………………………….
جابر دبئ سے آئ ہوئ ٹیم سے میٹنگ روم میں بیٹھ کر باتیں کر رہا تھا تبھی روم کا دروازہ کھلتے ہی سب اسی آنے والے کی جانب متوجہ ہوۓ نیلی آنکھیں ہلکی بڑھی شیو بال جل سے سیٹ کیے بلیک شرٹ کے اوپر جیکٹ پہنے اور جینز میں وہ مضبوط جسم اور لمبے قد کا مالک ایک شہزادے کی طرح لگ رہا تھا۔اسے دیکھ کر سب اپنی نشستوں سے اٹھ کھڑے ہوۓ تھے۔
اس نے ہاتھ کے اشارے سے سب کو بیٹھنے کا کہا اور خود سربراہی نشست پر بیٹھ کر سگریٹ سلگھا کر پینے لگا ۔تبھی اسکا رائٹ ہینڈ جابر اس سے مخاطب ہوا۔۔
سلطان!!یہ دبئ سے کوئ پروجکٹ لاۓ ہیں اور یہاں شروع کرنا چاہتے ہیں مگر ہمیں صرف 20% دینے کا کہہ رہے ہیں اور سیکورٹی بھی ہماری چاہیۓ ۔
جابر کی بات سنتے ہی سلطان نے سگریٹ کا کش لیا اور دھواں فضاء میں چھوڑتے ہوۓ اٹھ گیا۔
جابر ان سے کہو چلے جاۓ میں بحث نا تو کرتا ہوں نا پسند اگر انکو ہماری شرطیں منظور نہیں تھی تو تم نے مجھے ڈسٹرب کیوں کہا۔
۔
سلطان جس شان سے آیا تھا اسی شان سے واپس چلا گیا جبکہ وہاں بیٹھا ہر نفس جو ویسے ہی اسے دیکھ کر دھنگ رہ گیا تھا اب اسکے جاتے ہی ایک دوسرے کو دیکھنے لگے تھے۔
سلطان کے جاتے ہی جابر بھی اپنی شست سے اٹھا ۔
سوری یہ ڈیل فائنل نہیں ہو سکی آپ لوگ کوئ اور اسپانسر دیکھے یہ کہہ کر جابر بھی وہاں سے چلا آیا۔
سلطان آج دنیا کی نظر میں ایک بزنس مین اور اسپانسر ہے اسکی شخصیت سے کوئ بھی اسکا گرویدہ ہو جاتا ہے مگروہ کئ غیر قانونی کاموں میں بھی ملوث رہ چکا تھا لیکن کسی کی وجہ سے سب چھوڑ چکا تھا ۔۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
تین گھنٹے سے وہ لوگ اسکول کی بلڈنگ میں قید تھے ۔
سب گبھراۓ ہوۓ تھے مگر سب سے ابتر حالت کومل کی تھی ۔اس نے اپنا پرس مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا کیونکہ آج ہی اسے اسکی سیلری ملی تھی وہ ایک ٹیچر تھی ابھی تین مہینے پہلے ہی اپنا گریجویشن مکمل کرکے وہ اس اسکول میں ٹیچر کا جاب کرنے لگی تھی اور ہرمہینے سیلری کے دن وہ یونہی پرس مضبوطی سے تھامے رکھتی ۔
آج بھی سیلری ملتے ہی پولیس سائرنز کی آواز سے اسکول کے اطراف کا سارا علاقہ گونج اٹھا اور پھر یہ اعلان ہوا کہ جب تک پولیس کی تلاشی مکمل نہیں ہوتی کوئ بھی کسی بھی بلڈنگ سے باہر نہیں آۓ گا ۔
کومل بڑی سی چادر اوڑھے اور چادر سے ہی نقاب لگاۓ مکمل تیاری کے ساتھ کب سے کھڑی تھی اسے بس جانا تھا۔
اسکی بے چینی دیکھ کر پرنسپل اسکے پاس آئ ۔
بیٹا کب تک کھڑی رہو گی بیٹھ جاؤ ابھی جب تک پولیس اعلان نہیں کرے گی ہم باہر نہیں جا سکتے ۔
پرنسپل اسکے معاملات سے آگاہ تھی اور اسکی بے چینی اور ڈر کو سمجھ سکتی تھی
پرنسپل کی جانب دیکھ کومل کر نے اثبات میں سر ہلایا مگر دل ہی دل میں وہ کچھ سوچ چکی تھی بس ہمت نہیں ہو رہی تھی مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اب اسکا ڈر بڑھتا جا رہا تھا ۔
کومل پانی پینے کیلۓ دوسری روم میں آئ تو اسکی بظر اسکول کے مین گیٹ پر پڑی جو ذرا سا کھلا تھا اور گارڈ وہاں موجود نہیں تھا بس اسنے ایک لمحہ ضائع کی بغیر باہر کی جانب قدم بڑھاۓ اور وہ کامیاب ہوگئ ۔
وہ باہر آکر اپنےرستے چلنے لگی پرس کو ابھی تک مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا تبھی اسے پیچھے سے کسی نے آواز دی ۔
اے لڑکی کہاں جا رہی ہے رکو یہ پرس میں کیا ہے تمھارے اور کہاں سے آئ ہو۔
یہ کوئ پولیس کونسٹیبل تھا جسکی آواز سنکر کومل کی سانس جیسے رک چکی تھی اس نے ایک نظر بھی اسکی جانب نہیں دیکھا مگر جیسے ہی اسے لگا وہ کانسٹیبل اسکی جانب قدم بڑھا رہا ہے تو وہ بھاگنے لگی ۔کانسٹبل بھی اسکے پیچھے بھاگا مگر بڑی عمر کی وجہ سے زیادہ بھاگ نہیں سکا اسلۓ واپس پولیس جیپ کے پاس آکر وائرلیس پر کسی سے بات کر نے لگا۔
کومل بھاگے جا رہی وہ اپنے اطراف سے بے خبر تھی مگر پرس مضبوطی سے تھامے ہوئ تھی ۔تبھی وہ کسی کی چھوڑی چھاتی سی ٹکرائ اور اس سے پہلے کے وہ گرتی کسی نے اسے تھام لیا تھا ۔
کومل اب ہانپ رہی تھی اور ڈر کے مارے کانپ رہی تھی۔تبھی اس کے کانوں میں سامنے والے کی بھاری مردانہ آواز گونجی ۔
اے لڑکی کہاں سے آ ئ ہے اور کہاں بھاگ رہی تھی ۔۔۔۔
کومل نے اسکی جانب دیکھا خاکی یونیفارم لمبا قد مردانہ وجاہت کا شاہکار سفید رنگت آنکھوں پر کالا چشمہ لگاۓ وہ سنجیدگی سے کومل کو دیکھ کر سوال کر رہا تھا۔
کومل کی طرف سے کوئ جواب نا پا کر وہ اب کی بار ذرا زور سے بولا۔
آواز نہیں آرہی تمھیں کیا؟؟؟
کومل اب سہم گئ اور رونے لگی ۔
میں کومل ہوں اسکول ٹیچر ہوں گھر جانا ہے مجھے ۔۔۔
کومل روتے ہوۓ بولی ۔
اچھا گھر جانا ہے بیٹھو جیپ میں اور پہلے اپنا اسکول بتاؤ مجھے ۔!!!
اسکی بات سنکر کومل سر ہلاتی اس سے پہلے جیپ میں بیٹھنے لگی جو وہی کھڑی تھی ۔
۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔……………………. ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پرنسپل سے معلومات لینے کے بعد وہ کومل کے ساتھ ہی اسکول سے باہر آیا ۔
کومل اپنے راستے چلنے لگی تبھی جیپ میں موجود
وائرلیس کی بیپ سنتے ہی وہ جیپ میں جا کر بیٹھا۔
اس پی حارث ایریا کلیئر ہے کچھ نہیں ملا۔
وائرلیس پر کسی پولیس والے کی آواز گونج رہی تھی جو اسی کو پیغام دے رہا تھا۔
اس پی حارث ہیئر!!اوکے سب سے کہو واپس چلے یہ میرا آرڈر ہے ،۔۔۔۔
حارث نے کہہ کر جیپ اسٹارٹ کی اور آگے چلتی ہوئ کومل کے پاس آکر روک دی۔
مس کومل آپ کو چھوڑ دیتا ہوں پلیز بیٹھ جاۓ کیونکہ ابھی ٹرانسپورٹ بالکل بند ہے تو پلیز!!
حارث کے بلانے پر کومل چونکی تھی اور نفی میں سر ہلاتی آگے بڑھی کہ اچانک کہیں سے گولیاں چلنے لگی۔::::::

Read More:  Sun Mere Humsafar Novel By Sanaya Khan – Episode 3

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: