Filhal By Muhammad Shariq – Episode 3

0

فلحال از محمد شارق – قسط نمبر 3

–**–**–

گولیوں کی آواز سن کر حارث ہوشیار ہو چکا تھا مگر کومل کے ہوش اڑ گۓ تھے وہ گبھراہٹ کے مارے وہی منجمد ہو گئ تھی ۔
مس کومل !!اندر آۓ جلدی !!!جلدی!!!
حارث چلاتے ہوۓ اسے آواز دے رہا تھا مگر کومل کو کچھ سنائ دے رہا تھا وہ کانپنے لگی تھی۔
حارث فوراً جیپ سے اترا اور اس کے پاس آکر اسے آواز دینے لگا
مس کومل آپ کو سمجھ نہیں آرہی کیا اندر جیپ میں بیٹھے جلدی فلحال!! یہاں رکنا خطرے سے خالی نہیں !!
فلحال!! لفظ سنتے ہی کومل ہوش میں آئ اس کیلۓ یہ لفظ ایک نحوست سے کم نہ تھا ۔ اسکا ڈر اب مزید بڑھ گیا تھا یہ لفظ سن کر وہ پھٹی آنکھوں سے حارث کو دیکھنے لگی تھی تبھی جیپ میں موجود وائرلیس کی بیپ سنتے ہی حارث کومل کا ہاتھ تھامے اسے جیپ کے پیچھے کی نشستوں پر بٹھانے لگا جلد بازی میں کومل کا پرس اسکے کندھے سے لڑک کر گرا تو وہ جیپ سے اترنے لگی جس پر حارث کو غصہ آیا اور پرس اٹھا کر اسکی جانب تقریباً پھینکتے ہوۓ فرنٹ سیٹ کی جانب لپکا اور ڈرائیو کرتے ہوۓ وائرلیس پر بات کرنے لگا
یس اس پی حارث ہیئر !!!
اس نے وائرلیس پر پیغام دیا تو آگے سے کسی کی آواز آئ
سر بلیک کلر کی کرولا فل اسپیڈ میں اسی طرف آرہی ہے فولو کریں سر !!
حارث کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ پھیل گئ تھی ۔
آج تو تم نہیں بچو گے مسٹر x!!!
یہ کہہ کر اس نے جیپ کی اسپیڈ تیز کردی اور جیپ میں موجود ٹیپ آن کیا جس میں عظیم سنگر ملکہ ترنم نورجہان کا مشہور گانا گونجنے لگا۔۔۔
مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نا مانگ ۔۔۔۔۔۔۔۔
کومل جو گبھرائ ہوئ اور کسی دردناک سوچ میں تھی گانے کی آواز پر چونکی اسے حارث کی دماغی حالت پر شبہ ہونے لگا ۔۔۔۔
تبھی ایک بلیک کرولا جیپ کو کراس کرتی فل اسپیڈ میں آگے نکلی تو حارث نے بھی جیپ کی رفتار مزید تیز کرتے ہوۓ اسکا پیچھا کیا اور اسے وارن کرنے کیلۓ سائرن آن کیا ۔
کومل گانے کی اور اب سائرن کی ملی جلی آوازیں سن کر مزید پریشان ہو چکی تھی ۔ وہ ڈر کے مارے سفید پڑ چکی تھی ۔
تبھی کرولا ایک سنسان کچھی سڑک کی جانب مڑی اور اسکے پیچھے پولیس جیپ بھی سڑک پر نظر پڑتے ہی کومل کو اپنا گھر یاد آیا ۔
“اس پی سر یہاں سے آگے ہی میرا گھر ہے ۔۔”
مگر حارث کو اسکی آواز سنائ نہیں دی یا شاید اسکا دیہان اسکی طرف تھا ہی نہیں وہ بس ہر حال میں آج مسٹر x کو رنگے ہاتھوں پکڑنا چاہتا تھا ….اور کومل تر تر کانپ رہی تھی گاڑی کی اسپیڈ کی وجہ سے وہ کئ بار سیٹ سے گرتے گرتے بچی تھی۔
دونوں گاڑیاں فل اسپیڈ میں سڑک پر دوڑ رہی تھی کہ حارث نے ایک غیر آباد مقام پر گن کا نشانہ کرولا کار کی ٹائر پر رکھ کر فائر کیا جس سے وہ آپے سے باہر ہو تے ہوئ لڑکتی ہوئ سڑک سے اتر کر ایک درخت سے جا ٹکرائ
اور اس میں موجود شخص پرتیلے پن کا مظاہرہ کرتے ہوۓ کار کے تصادم سے پہلے ہی کار سے کھود چکا تھا اور اب خود کو کمپوز کرتا ہاتھ میں گن تھامے کھڑا ہوا اسنے اپنے چہرے پر ماسک پہن رکھا تھا۔
حارث بھی جیپ اسکے قریب روک کر اب اسکے سامنے گن تھامے کھڑا ہو چکا تھا۔
ہوشیاری مت کرنا سمجھے مسٹر x چلو گن پھینکو اور یہ ماسک اتارو ابھی !!!!
حارث گراتے ہوۓ بولا تھا۔۔۔
جبکہ مسٹر x کی نظر جیپ سے اترتی کومل پر پڑی تو اسکے چہرے پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ رقص کرنے لگی تھی جسے ماسک کی وجہ سے حارث نہیں دیکھ پایا تھا۔
لڑکی کو پکڑ !!!!
مسٹر x چلایا تو حارث کو کومل کا خیال آیا اور وہ جونہی کومل کو دیکھنے کیلۓ پیچھے مڑا مسٹر x نے اسکی گن کی طرف فائر کیا جس سے حارث کا ہاتھ زخمی ہو گیا اور گن اسکے ہاتھ سے گر گئ ۔
جیپ میں چلنے والے گانے کے علاوہ پوری فضاء میں سناٹا چھا گیا ۔
وہ فائر کرتے ساتھ ہی کومل کی طرف تیزی سے بھاگا اور اس سے پہلے کے کومل یا حارث کو کچھ سمجھ آتا مسٹر x نے کومل کو پکڑ کر گن اسکے سر پر رکھی اور حارث کو اشارہ سے کوئ حرکت نا کرنےکی تنبیہ دیتا ہوا وہ کومل کو ڈھال بنا کر جیپ کی طرف بڑھا اور پلک جپکتے ہی جیپ میں بیٹھ کر اسے اسٹارٹ کرتے ساتھ ہی کومل کو دور دھکیلتے ہوۓ وہاں سے نکل گیا۔۔۔
کومل بہت بری طرح زمین پر گری تھی اور اسکا نقاب بھی اب ڈھیلا ہو کر سرک چکا تھا وہ رونے لگی تھی ۔
جیپ کے نکلتے ہی حارث نے اپنا موبائل نکالا اور ہیڈ کوارٹر کال ملا کر کچھ ہدایات دینے لگا ۔
اسکی بات ختم ہوتے ہی اس نے کومل کی طرف دیکھا اور موبائل جیب میں رکھتے ہوۓ رومال نکال کر اپنے زخمی ہاتھ پر لپیٹتے ہوۓ کومل کی جانب بڑھا۔۔۔
مس کومل آپ ٹھیک تو ہے ؟؟
کومل جو ابھی تک ڈری ہوئ تھی حارث کی آواز پر چونکتے ہوۓ اسکی جانب دیکھنے لگی اور حارث اسے دیکھ کر اپنی تکلیف بھول گیا تھا ۔۔۔
وہ ایک معصوم گڑیا کی مشابہت تھی نازک سی پیاری سی گوری گوری ۔۔
پریٹی ڈول ۔۔!!
حارث منہ ہی منہ بڑ بڑایا جو کومل سن نا سکی تھی ۔۔
اپنی جانب اسے تکتا دیکھ کر کومل اپنے آنسو پونچھتے ہوۓ آٹھی اور اثبات میں سر ہلایا۔۔۔
گڈ ! میں نے دوسری گاڑی منگوالی ہے وہ تھوڑی دیر میں آجاۓ گی سوری مجھے اندازہ نہیں تھا کہ ایسا کچھ ہوگا اور فلحال انتظار کرنے کے سوا اور کچھ کر نہیں سکتے …
وہ سچ میں شرمندہ تھا کہ وہ کومل کی گاڑی میں موجودگی بھول گیا تھا ۔۔۔مگر کومل فلحال لفظ سنتے ہی اب اس لفظ کی نحوست سے ڈرتے ہوۓ اٹھنے لگی تھی اسے اب یہاں سے جانا تھا۔۔
تبھی دور سے اک رکشہ آتا دیکھ کر کومل اپنا نقاب لگاتے ہوۓ روڈ کی جانب گئ اسکی چال میں بھی فرق آچکا تھا اور کپڑوں پر جگہ جگہ دھبے ۔۔۔۔۔
وہ پہلے کی طرح اپنا پرس سنبھالتے ہوۓ رکشہ کورکنے کا اشارے کرنے لگی۔۔
جبکہ حارث صرف اسے دیکھتے جا رہا تھا اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اس سے کیا کہے وہ بس اسکی آنکھوں کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
رکشہ رکا اور وہ اسے اپنی منزل کا کہہ کر جا چکی تھی مگر حارث اسے جاتا ہوا دیکھ کر ایک آہ بھرتا گنگنانے لگا تھا۔۔۔
تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے۔۔۔۔
،
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
مسٹر x گاڑی سڑک پر دوڑاتے ہوۓ مسلسل پیچھے مڑمڑ کر دیکھ رہا تھا تبھی اسکا موبائل بجا اور اس پر کالر نیم دیکھ کر اس نے سکون کا سانس لیا۔۔
“”ھیلو جابر !!! مال محفوظ مقام پر پہنچا دیا ہے نا ۔”””
جی سر!! مگر آپ کو کیسے پتہ چلا کہ پولیس وہاں آۓ گی؟ اور آپ نے جو کیا اگر کچھ گڑ بڑ ہو گئ تو؟
جابر پریشان ہوتا ہوا بول رہا تھا۔۔
کچھ نہیں ہوگا میں تمھیں لوکیشن بھیج رہا ہوں مجھے بتاؤ یہاں کوئ چھپنے کا ٹھکانہ ہے یا نہیں کیونکہ میں پولیس جیپ میں ہوں اور میں زیادہ دیر تک اس میں بیٹھے رہنا ٹھیک نہیں ہوگا اوکے۔۔۔
وہ فون بند کرکے لوکیشن سینڈ کرنے لگا اور تھوڑی دیر میں اسے ایک ایڈریس کا اس ایم اس مل چکا تھا۔۔
وہ پولیس کی جیپ سڑک کے اندرونی حصے میں کھڑی کرکے اب مطلوبہ پتہ کی جانب پیدل چلنے لگا تھا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کومل کو گھر آنے میں کافی دیر ہوچکی تھی۔ گھر میں موجود اسکا ماموں بے چینی سے اسکا انتظار کر رہا تھا ۔ کیونکہ کومل کے والدین اسکے بچپن میں ہی ایک حادثہ میں مر چکے تھے تب سے وہ اپنے ماموں کے ساتھ رہتی
تھی ۔جو کسی جلاد سے کم نہ تھا ایک جواری اور نشئ انسان ۔
آج کومل کو تنخواہ ملے گی تبھی تو اسے بے چینی سے اسکا انتظار تھا۔۔۔
دروازہ بجتے ہی وہ دوڑتا ہوا دروازہ تک گیا مگر کومل کے بجاۓ کسی اور کو دیکھ کر وہ خوش ہوا۔۔
آۓ جناب آ ۓ آپ اور میرے غریب خانہ میں مجھے جابر بھائ نے فون کیا تھا سر جی میں آپکا پرانا چوکیدار مراد ہوں آپ نے پہچانا ہوگا ضرور ۔۔۔۔
مگر آنے والا چہرے پر بغیر کسی تاثر کے اندر کی جانب بڑھا جہاں دو کمرے اور ایک کچن کے اسے کچھ اور نظر نہیں آیا۔۔۔
وہ چہرے پر ناگواری لیے مراد کی جانب دیکھ کر پوچھنے لگا۔۔
باتھ روم کہاں ہے ؟؟؟
جی جناب اس کمرے میں ہے۔۔ آپ اسی میں رہے جب تک جابر بھائ گاڑی نا بھیجے میں تب تک آپ کیلۓ کچھ کھانے کو لاتا ہوں ۔یہاں ایک زبردست ہوٹل ہے اور آپ فکر نا کرے جابر بھائ مجھے سب بتا چکے ہیں۔
وہ مراد کی بات کا جواب دیۓ بغیر کمرے کی جانب گیا اور مراد گھر سے باہر چلا گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حارث اس وقت پولیس ٹیم کے ہمراہ جیپ کے پاس کھڑا تھا۔۔
“وہ زیادہ دور نہیں گیا ہوگا نفری بڑھاؤ اور پولیس منگواؤ اور فوراً یہاں ایک چوکی قائم کرو ۔۔۔۔””
یہ کہتے ہوۓ حارث کو ذرا فاصلہ پر آبادی نظر آئ تو وہ کچھ پولیس والوں کو لیکر اسی جانب بڑھا۔۔۔
،،،،،،،،،،،…………………….۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کومل گھر پینچی تو وہ بہت کمزوری محسوس کرنے لگی تھی گھر میں مراد کو نا پا کر وہ ذرا پریشان ہوئ کیونکہ آج کے دن اس وقت اسکا یہاں موجود نا ہونا اسے عجیب لگا ۔وہ اپنی چادر اتار کر ایک طرف رکھتے ہوۓ کپڑے بدلنے کے غرض سے چھت پر سوکھا ہوا ایک لان کا سادہ سا سوٹ لیے باتھ روم کی جانب بڑھی تھی ۔۔۔
وہ کپڑے ایک طرف رکھ کر جیسے ہی باتھ روم کی جانب بڑھی باتھ روم کا دروازہ کھولتا ایک نوجوان اسے بغیر قمیض کے باہر آتا دکھا ۔
ایک اجنبی کو اسطرح دیکھ کر کومل کے اوسان خطا ہو چکے تھے وہ منہ موڑ کر وہاں سے بھاگنے لگی تھی کہ اسے اس نوجوان نے پیچھے سے دبوچ لیا ۔۔اور اسکے منہ پر ہاتھ رکھ دیا تاکہ اسکی آواز نا نکل سکے۔۔
کومل بن پانی کی مچھلی کی طرح تڑپنے لگی تھی وہ خود کو چھڑانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی جبکہ مقابل کیلۓ اسے کنٹرول کرنا بہت آسان تھا۔۔۔
“اے لڑکی اگر منہ سے آواز نکالی تو سوچ لو تمھارے ساتھ یہاں کیا ہوسکتا ہے ۔””
اسکی بات سن کر کومل کی حالت ابتر ہونے لگی تھی اور آنکھوں سے
آنسو بہنے لگے تھے ۔۔
جونہی کومل کے آنسوؤں سے اسکا ہاتھ بھیگنے لگا جس سے اس نے کومل کا منہ دبوچہ ہوا تھا تو اس نے ہاتھ کی گرفت ڈھیلی کردی ۔۔
کومل کی سانسیں بہال ہوئ تو وہ کھانستے ہوۓ اس سے دور ہوئ اور کمرے سے باہر آئ ۔۔
اس سے پہلے کی وہ سنبھلتی دروازہ زور زور سے بجنے لگا تو وہ دروازہ کی طرف دوڑی مگر اس سے پہلے کہ وہ وہاں تک پہنچتی ایک بار پھر وہ اسکی گرفت میں تھی ۔
اس نے کومل کو پکڑ کر دیوار سے لگایا اور اسکے بے حد قریب آیا اتنے قریب کہ کومل کو سانس لینا مشکل ہو رہا تھا۔
اے لڑکی اگر میرا کسی کو بتایا نا تو پتہ ہے نا ؟؟؟
کومل اسکی ادھوری بات کا مفہوم سمجھتے ہوۓ ڈر کر اثبات میں سر ہلانے لگی ۔
اب اس نے کومل کو اپنے مضبوط ہاتھوں سے آزاد کیا اور دروازے کی جانب جانے کا اشارہ کیا تو کومل اپنا چادر سر پر اوڑھے درواز ے کے جانب بڑھی اور بغیر کھولے پوچھا۔۔
کون ؟؟؟
تو آگے سے آواز آئ۔۔
پولیس !!!
جسے سنکر کومل سے زیادہ وہاں موجود مسٹر x پریشان ہو چکا تھا۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: