Filhal By Muhammad Shariq – Episode 4

0

فلحال از محمد شارق – قسط نمبر 4

–**–**–

وہ رات کے خواب کے بعد اب تک سو نہیں پایا تھا ۔۔رات کے تین بجے جو وہ اٹھا تھا تب سے ایکسرسائز روم میں وہ مختلف ایکسر سائزز کر رہا تھا مگر پھر بھی وہ گولی کی گونج وہ خواب جو اسکے ذہن پر پچھلے تین سالوں سے سوار تھے ان سے پیچھا نہیں چھڑا پا رہا تھا۔۔
صبح کی ہلکی روشنی پھیلتے ہی وہ اب اپنے بنگلہ سے باہر جاگنگ سوٹ میں ملبوس جاگنگ کر رہا تھا اور اسکے ساتھ اسکے دو باڈی گارڈ بھی جن سے اسے تو چھڑ سی تھی مگر اپنے والد کی وجہ سے برداشت کر لیتا تھا۔۔۔۔بقول جنکے بڑے بڑے بزنس مینز کیلۓ یہ سب لازم ہے ۔۔۔
وہ جاگنگ کے بعد اب بنگلہ میں آکر گارڈن کی طرف گیا جہاں اسکے والد ہمیشہ کی طرح چاۓ اسکے ساتھ پینے کیلۓ اسکے انتظار میں تھے۔
گڈمارننگ ماۓ بواۓ!!!
اسے جاگنگ سے آتا دیکھ اسکے والد نے اسکی طرف محبت سے دیکھتے ہوۓ پرجوش انداز میں کہا۔۔۔
جسکے جواب میں وہ بھی مسکراتے ہوۓ انکے پاس آکر سامنے کی کرسی پر بیٹھ گیا اور ٹرالی میں موجود جوش کا گلاس اٹھا کر پینے لگا۔۔اور اب دونوں ہلکی پھلکی بات چیت کرنے لگے تھے۔
بیٹا میں آج شام کی فلائٹ سے جارہا ہوں وہاں کمپنی کی ڈیل تسلی بخش نہیں ہوئ ہے تو تم اپنا خاص خیال رکھنا اور ڈاکٹر کی اپائنمنٹ کی ڈیٹ یاد رکھنا۔۔
ڈاکٹر کا نام سنتے ہی اسکے چہرے پر ناگواری اتر آئ تھی۔۔۔
ڈیڈ میں اب ٹھیک ہوں اور ڈاکٹر کی نیڈ آپکو ہے مجھے نہیں اینڈ ٹریول آپ کیلۓ ٹھیک نہیں ہے اسلۓ آپ رہنے دیں میں چلا جاتا ہوں۔۔۔
یہ بات جیسے ایک دھماکہ تھا گرتی چاۓ کی پیالی کو سنبھالتے ہوۓ وہ اپنے بیٹے سے گویا ہوا۔
نہیں بیٹا تمھیں اس ڈیل کے بارے میں کچھ پتہ نہیں ہے اسلۓ میرا جانا ضروری ہے اور ویسے بھی تم نے یہاں سب سنبھال لیا ہے تو پھر یہی رہو اور مجھے گھومنے پھرنے دو!!!
آخری فقرے پر دونوں ہنس پڑے تھے ۔
اوکے ڈیڈ میں چلتا ہوں فریش ہونے ۔۔
“”””””””””””””””””!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!””””””””””””
آج پھر سے زرار اور بانو اس گراہک سے بحث کر رہے تھے۔۔
دیکھوں بھائ ایک تو تم اپنا نام نہیں بتاتے اور دو سالوں سے چاند کے پیچھے پڑے ہو جبکہ ہم بتا بتا کر تھک چکے ہیں کہ اسکے جلوے صرف دیکھنے کیلۓ ہیں اسے چھونے کی حیثیت کسی میں بھی نہیں اسلۓ آئندہ اگر آۓ تو دھکے مار کر باہر نکال دیۓ جاؤ گے ۔۔۔
بانو بیگم یہ کہہ کر اندر کی جانب چلدی اور زرار اس بندے کو اب باہر دکھیلنے لگا تھا۔۔۔۔
بانو اندر آئ تو اسکی نظر دانی پر پڑی جو ہاتھ میں کچھ کپڑے لیے گنگناتے ہوۓ جا رہی تھی۔
اے دانی کہاں جارہی ہے؟؟
بانو کی آواز پر دانی ایک دم رکی اور اسکی جانب دیکھ کر منہ ہی منہ بڑبڑائ۔۔
موٹی چڑیل!!!!
کیا کہاں؟؟؟
دانی کی بڑبڑاہٹ سنکر بانو نے پوچھا تو وہ مٹک مٹک کر اسکے پاس آئ۔۔
کچھ نہیں بانو بیگم میں تو بس ستارہ کیلۓ کپڑے دیکھ رہی تھی ۔
دانی نے مسکراتے ہوۓ جواب دیا تو بانو اسکے ہاتھوں میں موجود کپڑوں کو ٹٹولتے ہوۓ بولی۔۔
یہ نہیں آج دونوں کیلۓ میں نے سوٹ نکال کر رکھے ہے وہی پہنے گیں وہ تم آکر لے جاؤ ۔چلو!!
بانو کے چلتے ہی دانی بھی اسکی ہم قدم ہوئ تھی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پولیس لفظ سنتے ہی دونوں کی حالت ابتر ہو چکی تھی ۔
تبھی مراد کی آواز بھی آنے لگی جو پولیس سے بحث کر رہا تھا۔۔
یہاں کوئ نہیں آیا چلو جاؤ کوئ تلاشی کی ضرورت نہیں ۔۔۔
مراد پولیس والوں سے بحث کر رہا تھا ۔جسے سنکر کومل دروازہ کھولنے لگی ہی تھی کہ مسٹر x نے ایک بار پھر اسکی کلائ دبوچ لی تھی جسکی تکلیف سے کومل کی منہ سے ہلکی چیخ نکلی اور یہی وہ لمحہ تھا جب مسٹر x نے اسے غور سے دیکھا اسے وہ ایک پری کی مانند لگی اسکی آنکھوں کے آنسو اس سے دیکھے نہیں جارہے تھے تو فوراً اسکی کلائ سے اپنی گرفت ہٹا کر وہ پیچھے ہوا اور کومل اب دروازے کی جانب بڑھی جہاں اب مراد کے ساتھ اسے ایک اور شناسا آواز بھی سنائ دی
اس پی حارث !!
اس نے دل میں کہا اور دروازہ کھولا تو سامنے کا منظر دیکھ کر گبھرائ کیونکہ حارث نے مراد کی گریبان پکڑی ہوئ تھی۔۔
تم ویسے بھی کئ بار حوالات کی ہوا کھا چکے ہو اتنے گرے ہوۓ ہو کہ کوٹھہ سے بھی تمھاری شکایات آتی ہے
حارث مراد کے گریبان کو اب اپنے دونوں ہاتھوں پکڑے ہوۓ اس سے تیز آواز میں ہمکلام تھا جسے سنکر کومل کو اپنے آپ سے شرم آنے لگی کہ وہ مراد جیسے بندے کی بھانجی ہے ۔
رکیں سر!!!
یہ آواز سنتے ہی حارث دروازہ کی جانب مڑا تو اسے کومل نظر آئ۔۔
مس کومل آپ ؟؟!!!
حارث کومل کو وہاں دیکھ کر حیران ہو چکا تھا
جی یہ میرے ماموں ہے اور یہ میرا گھر ہے۔۔۔
کومل کی بات سنکر حارث نے مراد کو چھوڑا اور کچھ پولیس والوں کے ساتھ گھر کے اندر داخل ہوا ۔
انھیں اندر آتا دیکھ کر کومل کی سانسیں تیز ہونے لگی تھی اور مراد بھی
اب دوبارہ بحث کرنے لگا تھا مگر حارث اندر داخل ہوگیا اور چھوٹے سے گھر کی تلاشی لینے لگا۔۔۔
سب جگہ دیکھ لینے کے بعد حارث نے باقی پولیس والوں کو باہر جانے کا کہا اور خود کومل کے قریب آکر رک گیا۔۔
اور کون کون رہتا ہے اس گھر میں ؟
حارث نے کومل سے پوچھا۔۔۔
صرف میں اور میرے ماموں ۔۔۔
حارث کو جواب دیکر کومل اندر گئ تو حارث مراد سے ساری تفصیل لینے لگا۔۔۔
حارث کے جاتے ہی مراد اندر آکر کومل کا پرس ٹٹولنے لگا اور پیسے دیکھتے ہی خوش ہو کر گننے لگا۔۔
آج تو عیش کرونگا بس زرار کی نظر نہ پڑے۔۔۔
مراد پیسے گنتے ہوۓ بول رہا تھا جبکہ کومل بس ہمیشہ کی طرح افسوس کرنے کے علاوہ اور کچھ نا کر سکی۔۔۔۔۔
………………………………………..
مسٹر x اب ایک کار سے اتر کر اپنے رائٹ ہینڈ کو کال ملا رہا تھا۔۔
ھیلو میں پہنچ گیا ہوں اور جلدی سب کو اکٹھا کرو مجھے پتہ لگانا ہے کہ پولیس تک یہ خبر کیسے گئ۔۔۔
وہ فون بند کرتا ایک کمرہ میں گیا اور اب ڈریسنگ کی جانب چلا گیا۔۔
چینج کرنے کے بعد اب وہ آئینہ کے سامنے کھڑا اپنی تیاری کر رہا تھا تبھی اسکی آنکھوں کے سامنے کومل کا معصوم چہرہ اور نم آنکھیں لہرانے لگی اور جب وہاں سے نکلتے ہوۓ وہ چھت کی جانب بڑھا تھا اور مڑ کر آخری بار کومل کو دیکھا تھا تو اسکا سراپا اسکی نظروں میں سماں گیا ۔وہ مسکرانے لگا کہ دروازہ پر دستک کی آواز سے خیالوں کی دنیا سے باہر آیا۔۔۔۔
کون؟؟؟
اسنے پوچھا تو آگے سے ملازم نے جواب دیا۔۔۔
سر وہ آپکی دادی بلا رہی ہیں۔۔
اوکے !!
اس نے مختصر جواب دیا اور تیار ہونے کے بعد کمرے سے باہر نکلتا سیڑھیاں اترکر دادی کے کمرے کی جانب بڑھا۔۔
پلیز میم آپ میڈیسن لے لیں پلیز!!
ایک نرس دادی کے سر پر کھڑی انھیں میڈیسن دینے کی کب سے کوششیں کر رہی تھی مگر دادی ہے کہ مان ہی نہیں رہی تھی ۔کہ انکی نظر دروازے پر کھڑے اپنے پوتے پر پڑی
آؤ آؤ یاد تب ہی آۓ گی جب بلایا جاۓ گا نالائق کہاں تھے صبح سے ۔۔؟؟،
دادی کی بات پر وہ مسکراتا ہوا انکے پاس گیا اور نرس کے ہاتھ سے میڈیسن کی ٹرے لیکر دادی کے قریب بیڈ پر بیٹھ گیا ۔۔
اوہ دادی کام سے گیا تھا اور اس وقت آپ سو رہی تھی اسلۓ آپکو ڈسٹرب نہیں کیا۔
وہ بات کرتے ہوۓ دادی کو میڈیسن بھی کھلانے لگا تھا۔۔
دیکھو سلطان بیٹا تمھارے سوا میرا ہے ہی کون؟؟!! میرےاکلوتے بیٹے اور بہو کی تم آخری نشانی اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہو مجھ سے مل کر جایا کرو دل گھبراتا ہے میرا اکیلے بس اب جلدی سے شادی کرلو تاکہ میں سکون سے مر سکوں۔۔۔۔
دادی کی بات سن کر سلطان اٹھا اور انھیں بیڈ پر لٹانے لگا اور کمبل اوڑھا کر ان کے ماتھے پر بوسہ دیا۔
دادی جس دن سلطان کی ملکہ اسکو ملے گی اس دن وہ یہاں آپ کے سامنے ہوگی،ابھی میری میٹنگ ہے میں جارہا ہوں لیکن آپ اب آرام کریں گی رات کا کھانا ہم ساتھ میں کھاۓ گیں اوکے۔
یہ کہہ کر وہ کمرے سے نکلتا بنگلہ سے باہر آگیا اور اپنی فیورٹ لینڈکروزر میں بیٹھا اور جونہی وہ نکلا اسکے ساتھ دو محافظ گاڑیاں بھی اسکے پیچھے نکلی۔۔
مطلوبہ مقام پر پہنچتے ہی اس بے اپنے رائٹ ہینڈ جابر کو کال ملاکر اپنے آنے کی اطلاع دیتا ہوا مخصوص کمرے میں پہنچ کر اپنی سربراہی نشست پر براجمان ہوا۔
وہ واقعی ایک سلطان لگ رہا تھا اسے دیکھ کر سب اس پر رشک و فخر کر رہے تھے مگر طلال پاشا اسے حسد اور جلن سے تکتے جا رہا تھا ۔
پاشا کو سلطان کی کم عمری میں اتنی ترقی اور اسکی شخصیت اور رعب ہمیشہ سے جھلساتے تھے ۔سب کا سلطان کو ہی اہمیت دینا پاشا کو ایک آنکھ نا باتا۔اسی جلن کی وجہ سے پولیس کو پاشا نے ہی اسکی سیکریٹ میٹنگ کی اطلاع دی تھی وہ خوش تھا کہ آج سلطان ہی مسٹر x ہے اسکا پتہ پولیس کو چل جاۓ گا کیونکہ پولیس ہاتھ دھو کر مسٹر x کے پیچھے پڑی ہوئ تھی۔۔
پاشا کو یقین نہیں ہو رہا تھا کہ اسکے آنکھوں کے سامنے صحیح سلامت خوبرو سلطان بیٹھا ہوا ہے ۔۔
آج جس نے بھی پولیس کو بلا کر
اپنی اوقات دکھائ ہے آئندہ وہ ایسا کرنے سے پہلے سوچ لینا کہ میں کون ہوں!! اور ایک بات پولیس بھی میرے فین ہے اور آج میں یہاں ہوں یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سلطان کیلۓ سب ممکن ہے ۔آج کے بعد کوئ بھی اپنے معاملات کے بارے میں میرے یا جابر کے علاوہ کسی کو بھی نہیں بتاۓ گا میٹنگ از اوور !!!!!
سلطان اپنی بات پوری کرتا طلال پر ایک تنبہی نظر ڈالتا اٹھ کر اپنے گارڈز کے ہمراہ باہر کی جانب بڑھ گیا مگر اب طلال پریشان ہو چکا تھا۔۔۔۔
سلطان گاڑی میں بیٹھا اب کومل کے بارے میں سوچنے لگا تھا تبھی کچھ سوچ کر جابر سے مخاطب ہوا تھا۔۔
جابر!!! مراد کی ساری ڈیٹیل دو مجھے !!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کومل اسکول پہنچی تو مین گیٹ پر تالا دیکھ کر گبھرا گئ تھی چوکیدار پر نظر پڑتے ہی وہ اسکی جانب بڑھی
چاچا یہ گیٹ پر تالا کیوں لگا ہے۔۔
کومل کے چہرے سے اسکی پریشانی عیاں تھی۔
مجھے نہیں پتہ بیٹا بس مینجمنٹ نے یہ بتایا کہ فلحال اسکول بند رہے گا۔۔۔
فلحال لفظ سنکر کومل دو قدم پیچھے ہٹی اور واپس جانے کیلۓ مڑی ۔
یہ لفظ میرےلیے ایک نحوست ہے جب بھی سنا بس کچھ نہ کچھ غلط ہوا۔
کومل بڑ بڑبڑاتی ہوئ جا رہی تھی کہ اسکے پاس پولیس جیپ آکر رکی تو کومل نے اسی طرف دیکھا اور حارث کو دیکھ کر وہ کچھ کہے بغیر آگے بڑھی تو حارث جیپ سے اتر کر اسکے پاس آیا۔
مس کومل ایک منٹ بات تو سن لے وہ میں کل کیلیے سوری بولنے آیا تھا۔
حارث کومل کی جانب دیکھتے ہوۓ بولا تو جواباَ کومل نے بغیر اسکی طرف دیکھے کہا۔
او کے!!!
اور واپس چلنے لگی تبھی کومل کا فون بجا کومل نے پرس سے بیگ نکالا تو مراد کی کال تھی۔۔۔
جی ماموں ۔۔۔
کومل تمھارا اسکول اب کبھی نہیں کھلے گا میں ایک ایڈریس بھیج رہا ہوں تم ابھی کے ابھی وہی جاؤ میں نے تمھارے کام کا انتظام کر دیا ہے ۔۔
اس سے پہلے کے کومل کچھ کہتی مراد نے کال کاٹ دی تھی اور پھر ایک میسج آیا جسے پڑھکر کومل رکشہ روک کر وہاں جانے کا کرایہ پوچھنے لگی تو کرایہ سن کر اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ اسے اب پیدل جانے پڑے گا کیونکہ اتنی رقم اسکے پرس میں بھی موجود نہیں تھی جتنا وہاں کا کرایہ تھا۔
حارث کومل کی ساری حرکتيں دیکھ کر سب سمجھ گیا تھا وہ اسکے پاس آیا۔
آپ کو کہاں جانا ہے مجھے بتا دے ہوسکتا ہے میں آپکو وہاں جانے والی کسی بس کا بتا سکوں۔۔۔
کومل نے کچھ سوچ کر موبائل میں لکھا ایڈریس حارث کو دکھایا جسے دیکھ کر حارث اب حیرت سے کومل کو دیکھنے لگا تھا۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: