Filhal By Muhammad Shariq – Episode 5

0

فلحال از محمد شارق – قسط نمبر 5

–**–**–

آپ یہاں کیو جا رہی ہے ؟؟؟
حارث کے سوال پر کومل نے اسکی جانب بیزاری سے دیکھا۔۔
۔
آپ سے مطلب ؟؟؟آپکو بس کا پتہ ہے تو ٹھیک ہے ورنہ میں خود دیکھ لونگی..
کومل جانے لگی تو حارث نے اسے آواز دی۔۔
رکے مس کومل !!!
حارث نے کومل کو ذرا سختی سے مخاطب کیا تھا۔۔جس سے کومل ڈر کر پیچھے مڑی۔۔۔
جی!!!
کومل کے منہ سے بامشکل ہی الفاط ادا ہوا ۔۔
اس طرف کوئ بس نہیں جاتی اور میں بھی اسی طرف ہی جا رہا ہوں تو اگر آپکو صحیح لگے تو آپ چل سکتی ہے۔۔
حارث کی بات سن کر کومل سوچنے لگی اور پھر مجبور ہوکر اسے حارث کے ساتھ جانا پڑا کیونکہ نہ تو اسکے پاس اتنے پیسے تھے کہ وہ وہاں جا پاتی اور نہ اتنی ہمت کہ مراد کی باتیں سنتی۔۔اسے حارث پر بھروسہ ہو چکا تھا۔۔
کومل پچھلی نشست پر بیٹھی تو حارث نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالتے ہوۓ پھر سے میڈم کا وہی گانا چلا دیا
مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کومل کو شروع سے ہی موسیقی سے چھڑ تھی اور بڑی مشکل سے یہ سب برداشت کر رہی تھی ۔۔جبکہ حارث تھوڑی تھوڑی دیر میں سائیڈ مرر سے کومل کو دیکھتا رہتا۔۔۔
سارا رستہ دونوں خاموش تھے بس میڈم کا ایک ہی گانا اب تیسری بار ریپیٹ ہو رہا تھا کہ جیپ رکی تو کومل نے باہر کی طرف دیکھا جہاں ایک وسیع و عریض رقبے پر پھیلا ایک شاندار بنگلہ تھا ۔
مس کومل ایڈریس اسی بنگہ کا ہے ۔۔۔
حارث کومل کو ایک نظر دیکھ کر جیپ سے اترا اور کومل سے پہلے باہر کھڑے گارڈ سے بات کرنے لگا ۔
کومل بھی وہاں پہنچی تو تب تک بنگلہ کا گیٹ کھل چکا تھا اور کومل سے پہلے حارث اندر داخل ہوا تو کومل کو حیرانی ہوئ ۔
اسکے پیچھے کومل بھی داخل پوئ
سنے آپ اندر کیوں آۓ ہیں؟مطلب یہاں سے جاۓ ۔۔۔
مگر وہ کومل کی بات پر مسکراتا ہوا آگے جانے لگا تبھی جابر اندرونی گیٹ پر کھڑا ملا ۔۔
کیسے ہے اس پی سر ؟سلطان آپ کا ہی انتظار کر رہے ہیں آپ میرے ساتھ اور کومل میم آپ بھی ۔۔
دونوں جابر کے پیچھے اندر داخل ہوۓ ۔۔
وہ بنگلہ بہت ہی خوبصورت اور جدید طرز کا شاہکار تھا۔۔
اندر داخل ہوتے ہی کومل کو رکنے کا کہہ کر جابر حارث کو لیے ایک طرف گیا۔۔
کومل آس پاس کی سجاوٹ اور بنگلہ کی بناوٹ دیکھ کر دنگ رہ گئ تھی اس بات سے بے خبر کہ کوئ اسے دیکھ رہا ہے۔۔
………………………………………..
یہ ایک خوبصورت اور بڑا ڈرائینگ روم تھا جہاں سنگل صوفہ پر لیپ ٹاپ پر انگلیاں چلاتے ہوۓ سلطان اب حارث سے ہمکلام تھا۔۔
ٹھیک ہے اس پی سر اب کوشش کریے گا کہ ہر بزنس مین کو سیکیوٹی میسر ہوں آجکل بہت دھمکی بھری کالز اور سیکیوٹی خدشات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اسی لیے میں نے کمشنر کو فون کیا تھا۔۔
سلطان کی بات سن کر حارث اپنی جگہ سے اٹھتا ہوا سلطان سے الوداعی مصافحہ کرتے ہوۓ بولا۔
بے فکر رہیں اب آپ آئندہ کسی کو کوئ پرابلم نہیں ہوگی سیکیورٹی کے حوالےسے۔ تو پھر میں چلتا ہوں۔
جواب میں سلطان صرف مسکرایا تھا۔۔
حارث کے جاتے ہی سلطان صوفے سے اٹھکر کھڑکی کے پاس جاکر کھڑا ہوا۔۔
حارث کے ایک دروازہ سےنکلتے ہی کومل جابر کے ہمراہ دوسرے دروازے سے اندر داخل ہوئ ۔
جابر اسے صوفے پر بیٹھنے کا کہہ کر چلا گیا ۔
اب وہاں کومل اور سلطان کے علاوه کوئ نہ تھا ۔۔
کومل سر جھکاۓ بیٹھی تھی اور سلطان کی پشت اسکی جانب تھی۔۔
آپ نے کہاں تک پڑھائی کی ہے؟
سلطان کی آواز سن کر کومل چونک گئ۔۔
جی میں گریجویٹ ہوں۔۔
سلطان مسکرایا مگر مڑا نہیں ۔۔
مراد ہمارا ملازم تھا اس نے تمھیں کام پر رکھنے کا کہا تھا مگر مجھے لگتا نہیں ہے کہ آپ کیلیے وہ کام ٹھیک رہے گا ۔۔
مراد کا نام سن کو کومل کھڑی ہو گئ ۔۔
نہیں سر میں کرلونگی جو بھی کام ہے پلیز آپ مجھے پہلے بتا تو دیں اور آزما کر دیکھ لیں ۔
کومل کا جواب سنکر سلطان مسکراتا ہوا مڑا تو کومل اسے دیکھتے ہی چونکی۔
آپ ؟؟؟
کومل کا چہرہ سفید پڑ گیا وہ ڈرنے لگ گئ تھی ۔
کومل کے چہرہ دیکھ کر سلطان اسکی جانب ایک قدم بڑھا کر گویا ہوا۔
ریلیکس !پلیز آپ بیٹھ جائیں میں سب کلیئر کرنا چاہتا ہوں۔
یہ کہہ کر وہ اپنے سنگل صوفے پر بیٹھا جبکہ کومل اسکے سامنے صوفے پر بیٹھ گئ۔۔
اس دن میری گاڑی خراب ہوگئ تھی تو مراد ملا تھا مجھے اس نے فورس کیا تو میں اسکے گھر چلا گیا مگر آپ کو دیکھ کر میں ایسا ری اکٹ کر گیا کیونکہ ہماری فیلڈ ہی ایسی ہے کہ ہم کسی پر بھی بھروسہ نہیں کرتے اور پولیس پر بھی مجھے شک تھاکہ وہ ریئل نہ ہو اس لیے میں وہاں سے چلا گیا۔
اور اس دن کیلۓ سوری ۔۔۔۔مجھے اس طرح نہیں کرنا چاہیۓ تھا۔۔
سلطان نے ایک ہی سانس میں ساری بات کہدی۔۔
کومل اب تک خاموش تھی تبھی دروازہ پر دستک کی آواز سن کر کومل نے نظریں اٹھا کر سلطان کی طرف دیکھا جو کومل کی طرف ہی دیکھ رہا تھا تو کومل نے جلدی سے سر دوبارہ جھکا لیا۔۔
کومل کی اس حرکت پر سلطان مسکرانے لگا اور “کم ان” کہہ کر دستک دینے والے کو آنے کی اجازت دی۔۔۔۔تو نرس اندر آئ۔۔
سر وہ آپکی دادی پھر سے میڈیسن کھانے سے منع کر رہیں ہیں۔۔
سلطان اٹھا تو کومل بھی کھڑی ہو گئ ۔۔۔سلطان چلتے ہوۓ رکا اور کومل کی طرف دیکھے بغیر اس سے کہا۔
اگر آپ کو یہاں کام کرنا ہے تو آپ میرے ساتھ چل سکتی ہیں ورنہ لفٹ سائیڈ پر باہر جانے کا دروازہ ہے۔۔۔۔
سلطان یہ کہہ کر رکا نہیں اور چلنے لگا اور کومل یہ سنتے ہی مراد کا سوچ کر فوراً اٹھ کر سلطان کی طرف تیز قدموں سے چلنے لگی ….
سلطان دادی کے کمرے میں داخل ہوا تو دادی نے اسے دیکھ کر منہ پھیر لیا۔۔جبکہ نرس بھی اب اندر آچکی تھی اور اسکے ساتھ کومل بھی۔۔
بس بہت کھالی دوائیاں کھانے سے پہلے کھانے کے بعد ہر وقت ہروقت یہ دوائیاں !!!!!
مرنا تو ہے نا تو بس اب سے کوئ دوائ نہیں !!!
دادی منہ پھیرے غصے میں بولے جارہی تھی تو سلطان انکے پاس آکر بیڈ کے سرہانے بیٹھ گیا۔۔
دادی پلیز ایسا مت کہیں اور یہ دوائ لے لیں جلدی ۔۔۔
سلطان میڈیسن ہاتھ میں دادی کو منانے لگا تو انھوں نے اسکی جانب دیکھا اور اسکے ہاتھ سے میڈیسن لیکر واپس رکھنے لگی کہ انکی نظر دروازے پر کھڑی کومل پر پڑی تو انکا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا۔۔۔
سلطان یہ لڑکی کون ہے کتنی پیاری ہے کہی یہ میری بہو تو نہیں ہاۓ میں صدقہ اندر آؤ بیٹا میرے پاس آؤ وہاں کیوں کھڑی ہو۔۔
دادی کی بات سن کر کومل کے ہوش اڑ گۓ جبکہ سلطان ہنسنے لگا۔۔
ارے نہیں دادی آپ غلط سمجھ رہے ہو یہ کومل ہے آج سے آپ کے ساتھ رہا کرے گی آپ بور ہوتی ہے نا اسلۓ میں نے اسے آپکا خیال رکھنے کیلیے رکھا ہے۔
سلطان کی بات سنکر کومل پرسکون ہوئ اور اپنا کام بھی سمجھ چکی تھی مگر دادی کے چہرے پر آئ خوشی اب باقی نہ رہی۔
اوہ!! معاف کرنا بیٹا میں تمھیں کچھ اور سمجھ بیٹھی آؤ اندر تو آؤ میرے پاس آکر بیٹھو ۔۔۔
دادی کے بلانے پر کومل مسکراتے ہوۓ انکی طرف بڑھی تو سلطان کمرے سے باہر چلا گیا۔۔
کومل اب دادی کے پاس بیڈ پر بیٹھ چکی تھی۔۔
تمھارا نام بڑا پیارا ہے کومل! کس نے رکھا۔؟
دادی نے کومل سے شفقت بھرے لہجے میں بات چیت شروع کردی تھی۔
جی میری امی نے۔۔
کومل نے بھی پیار سے جواب دیا۔۔
چلو اچھا ہے مجھے باتیں کرنے کیلیے کوئ تو ملی ہم آج جی بھر کر باتیں کرے گیں …
دادی خوش ہوکر کہنے لگی تو کومل بولی۔۔
نہیں دادی آج نہیں کل سے میں آیا کروں گی مگر پہلے آپ دوا لیں جلدی۔
۔۔
کومل دادی کو دوا دیتے ہوۓ بولی جو انھوں نے فوراً لی۔۔اور پھر دادی کو اللہ حافظ کہہ کر وہ باہر آئ جہاں سلطان اسی کا انتظار کر رہا تھا۔۔
کومل کو آتا دیکھ کر وہ اسکی جانب بڑھا۔
جی تو آپ سمجھ تو گئ ہونگی کہ آپکا کام کیا ہے تو پھر کیا سوچا ہے آپ نے!؟؟؟
سلطان کے سوال پر کومل نے سنجیدگی سے جواب دیا۔
جی میں سمجھ چکی ہوں اور کل سے روزانہ آیا کرونگی۔۔
سلطان دل ہی دل میں بہت خوش ہوا مگر کومل کے سامنے سنجیدگی اختيار کیے ہوۓ تھا۔
اوکے تو پھر کل سے گاڑی آپکو پک اینڈ ڈراپ کیلۓ روزانہ آۓ گی اور ابھی بھی آپ ڈرائیور کے ساتھ چلی جاۓ۔۔
سلطان کی بات سن کر کومل نے اسکی جانب دیکھتے ہوۓ نارمل لہجے میں کہا۔۔
نہیں میں ابھی خود چلی جاؤں گی آپ کل سے گاڑی بھجوا دیجیے گا اچھا تو پھر میں چلتی ہوں ۔۔
کومل اپنی بات پوری کرکے باہر کی جانب گئ اور سلطان اسے تب تک تکتا رہا جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہیں ہوئ ۔۔۔
بنگلہ سے باہر آتے ہی کومل تیز تیز قدموں سے سڑک پر چلنے لگی ۔
اوہ خدا اب کتنا چلنا پڑے گا پتہ نہیں یہاں رکشہ آتے ہیں بھی یا نہیں اتنے بڑے بڑے بنگلے ہیں۔۔
کومل بڑبڑاتی ہوئ چل رہی تھی کہ سامنے کا منظر دیکھ کر آنکھیں پھاڑے وہی ساکت ہو گئ۔
اسکے قدم رک چکے تھے اور وہ مارے دہشت کے کانپنے لگی تھی کیونکہ اسکے سامنے ذرا فاصلہ پر دو بڑے کالے کتے کھڑے تھے لیکن انکا منہ مخالف سمت میں تھا ۔
کومل مارے خوف کے چیخنے ہی والی تھی کہ کسی نے اسے پیچھے سے آکر اپنی جانب کھینچتے ہوۓ اسکے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔۔۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،……………….۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بانو بیگم کے کھوٹے پر آج ہجوم لگا تھا ۔۔
سارے امیر ترین،نامور ‘بزنس مین بلکہ ہر خاص و عام موجود تھا۔
تبھی ایک گراہک جو شاید پہلی بار آیا تھا بولا۔
آج تو ایسالگ رہا ہے پورا شہر یہاں آن پڑا ہے۔۔
اسکی بات سن کر دانی جو لوگوں کو انکے حیثیت کے مطابق نشستوں کا بتا رہی تھی بولی۔۔
لگتا ہے نوا ہے کچھ پتہ نہیں ہے بیچارے کو کہ آج آسمان سے اترے چاند اور ستارہ کا رقص ہے وہ بھی ایک ساتھ ۔نصیب والے ہو جو دیکھنے کا موقع مل گیا ورنہ لوگ تو ترس جاتے ہیں ایک کو بھی دیکھنے کیلۓ ۔
دانی کی بات سن کر وہ آگے کی طرف بڑھا تو دانی اسکے سامنے آکر کھڑی ہوئ ۔
اوہ بابو
کہاں چلے آپ کا پہلا دن ہے تو آپ میں برداشت نہ ہوگا اسلۓ پہلی دفعہ آنے والے اس طرف بٹھاۓ جاتے ہیں۔۔
دانی نے ایک طرف اشارہ کیا جہاں رقص کو ایک باریک پردے کی آڑ میں دیکھا جاتا تھا اور یہ نۓ آنے والوں کیلۓ لازم تھا ورنہ اسے دھکے مار کر باہر بھیج دیا جاتا۔
وہ بھی مجبور ہوکر اسی طرف بیٹھ گیا جہاں کافی لوگ پہلے سے موجود تھے۔
تبھی گنگروں کا اک شور سا اٹھا اور کچھ رقاصاؤں کے بیچ ستارہ اور چاند رقص کرتی نظر آئ ۔۔
سب کی ہوس بھری اور غلیظ نظروں نے ان دونوں کو گھیرا ہوا تھا۔۔
ایک شخص جو یہاں بہت دفعہ آچکا تھا آج اسے بھی ان دونوں کو دیکھنے کا موقع ملا تھا کیونکہ وہ یہاں کسی کی تلاش میں آتا تھا۔لیکن آج اسے ایک کے بجاۓ دو دو لوگ وہاں نظر آئے جن کی اسے تلاش تھی
اسے دونوں رقاصاؤں میں سے ایک کی بینائی کے بارے میں شبہ ہوا تو اس نے پاس بیٹھے ایک شرابی سے پوچھا۔
ارے بھائ یہ ایک رقاصہ اندھی معلوم ہوتی ہے نا!!
اسکی بات سن کر شرابی بولا۔
اندھی نہیں ہے بیچاری کو دھندلا دکھتا ہے دانی کی مہربانی سے پتہ چلا تھا مجھے بھی۔۔
اسے یوں لگا کہ اسکا کام پورا ہو چکا ہے تو وہ وہاں سے اٹھ کر باہر کی جانب بڑھا ۔۔
باہر آکر وہ اپنی کار کے پاس آیا اور جیب سے موبائل نکال کر کسی کو کال ملانے لگا وہ پچھلے کئ دنوں سے یہاں کے ہر کھوٹے کی خاک چھان چکا تھا اور اب اسے جو معلوم حاصل ہوچکی تھی وہ کسی کو بتانا بہت ضروری ہو گیا تھا۔۔
اسنے کال ملائ اور سامنے والے نے اٹینڈ کرلی۔۔
ھیلو آپکا مطلوبہ بندہ مل چکا ہے میں ڈیٹیل آپکو سینڈ کر رہا ہوں اور ایک پرانا کیس بھی آج حل ہو گیا اسکی بھی ڈیٹیل ہے اس میں ۔۔
کال منقطع ہو تے ہی کچھ دیر میں اسکے لیپ ٹاپ پر کچھ تصویریں نظر آئ جھنیں دیکھ کر وہ سواۓ افسوس کے اور کچھ نہ کر سکا۔۔

Read More:  Mohay Piya Milan ki Ass Novel By Huma Waqas – Episode 20

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: