Filhal By Muhammad Shariq – Episode 6

0

فلحال از محمد شارق – قسط نمبر 6

–**–**–

اس سے پہلے کہ کومل کتوں کو دیکھ کر چیختی حارث جو کب سے کومل پر ہی نظر رکھے ہوۓ تھا فوراً کومل کے پاس آکر اسکے منہ پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنی جانب کھینچا ۔
کومل گھبرا چکی تھی مگر حارث کو دیکھ کر حیرآن تھی ۔
کومل جی اگر آپ نے چیخا تو یہ ٹرینڈ کتے ہماری بوٹیاں نوچ لیں گے اسلۓ بنا آواز کیے میرے ساتھ چلیں۔
دونوں ایک دوسرے کے اتنے قریب تھے کہ کومل کو حارث کی گرم سانسیں اپنے چہرے پر محسوس ہو رہی تھی جبکہ حارث کومل کی آنکھوں میں جھانک رہا تھا ۔۔
حارث نے اپنی گرفت ڈھیلی کی اور کومل کا ہاتھ پکڑ کر جیپ تک لایا اور اسے فرنٹ سیٹ پر بیٹھنے کا کہہ کر خود اپنی جگہ سنبھال کر عادتا” نورجہان جی کا وہی گانا چلا دیا ۔۔
کومل کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ بیٹھے یا نہیں کیونکہ اسے عجیب لگ رہا تھا۔
وہ اسی کشمکش میں تھی کہ کتے کی بھونکنے کی آواز سن کر چونک گئ اور جلدی سے جیپ میں بیٹھ گئ ۔۔۔
حارث نے اسے اسطرح جلدی میں بیٹھتے دیکھ کر مشکل سے اپنی ہنسی روکی تھی۔۔
سارا رستہ انکی کوئ بات نہیں ہوئ تھی ۔۔۔لیکن حارث نے کئ بار پوچھنے کی کوشش کی تھی کہ کومل سلطان کے بنگلے میں کیا کرنے گئ تھی مگر پوچھ نہیں سکا۔۔
کومل کے گھر کے پاس پہنچ کر اس نے جیپ روکی لیکن وہاں کا منظر دونوں کو حیرت میں ڈال گیا ۔۔
کومل کے گھر کے باہر محلے والے جمع تھے اور گھر کا سامان باہر گرا ہوا تھا۔۔۔
کومل یہ سب دیکھ کر بھاگتے ہوۓ گھر کے اندر گئ اور حارث نےپولیس اسٹیشن کال کرکے اب وہاں موجود لوگوں سے پوچھ تاچ کی تو یہ پتہ چلا کہ کچھ لوگ مراد سے پیسو کا مطالبہ کر رہے تھے اور پھر انھیں گھر کے اندر سے مراد کی چلانے کی آواز آئ تو محلے والوں نے گھر میں گھسنے کی کوشش کی تو ان لوگوں نے اسلحہ دکھا کر ڈرا دیا۔۔
حارث اب کومل کے گھر کے اندر داخل ہوا جہاں پورا گھر کا سامان ہر طرف بکھرا ہوا تھا اور صحن میں مراد لہولہان پڑا ہوا تھا اور کومل اس پر پانی چھڑکتے ہوۓ ماموں ماموں بول کر اسے اٹھانے کی کوشش کر رہی تھی ۔
حارث کو دیکھ کر کومل اسکی طرف آئ ۔
حارث دیکھو ماموں اٹھ نہیں رہے آؤ انھیں ہسپتال لے چلے بات ہی نہیں کر رہے۔
کومل روتے ہوۓ حارث سے کہہ رہی تھی ۔
حارث کو کومل کے منہ سے اپنا نام بے تکلفی میں سننا اچھا لگا مگر کومل کے آنسو اسے تکلیف دینےلگے اس کیلیے یہ سب نیا نہیں تھا مگر کومل کو لیکر اسکے دل میں عجب سا احساس شروع ہونے لگا تھا۔۔
کومل تم چھپ کرو میں نے ٹیم بلوائ ہے وہ آتی ہوگی فلحال تم کسی بھی چیز کو ہاتھ مت لگانا۔۔
فلحال سن کر کومل نے حارث کی طرف غصے سے دیکھا تبھی کچھ پولیس والے اور فورسینک ڈیپارٹمنٹ کے بوڑھے سے ڈاکٹر جنکا نام سعید تھا اندر آۓ ۔
ڈاکٹر سعید آپ پہلے وکٹم کو چیک کرے جلدی۔
حارث کی بات سن کر سعید مراد کی نبض چیک کرنے لگا
سر یہ مرچکا ہے۔
سعید کے منہ سے یہ سنتے ہی کومل زور زور سے رونے لگی تو حارث ٹیم کو ہدایات دیکر کومل کو لیکر باہر آیا اور جیپ کی طرف لے گیا ۔۔
کومل تمھارا اس وقت یہاں رکنا سیف نہیں یہ قتل کا معاملہ ہے یہ گھر کچھ دنوں تک سیل رہے گا اسلۓ فلحال تم کسی رشتہ دار یا سہیلی کے گھر جاکر رکو۔
حارث کومل کو زبردستی جیپ میں بٹھانے کے بعد جیپ اسٹارٹ کرنے کے بعد اس سے بولا ۔
تو ایک بار پھر فلحال لفظ سن کر کومل نے اپنے دونوں ہاتھ کانوں پر رکھ دیۓ اور رونے لگی ۔۔
کچھ فاصلہ طے کرنے کے بعد حارث نے جیپ روکی اور کومل کو پانی کی بوتل دی جسے لیکر کومل نے تھوڑا پانی پیا اور بوتل واپس دی ۔
کومل کیا آپ مجھے بتا سکتی ہے کہ مراد کہا ں کام کرتا تھا اور اسکا واسطہ کن لوگوں سے تھا مطلب اسکی مصروفیات اور دوست وغیرہ ۔۔۔
کومل نے اپنے آنسو پونچھے اور حارث کی طرف دیکھے بغیر جواب دیا۔
وہ کام نہیں کرتے تھے اسکے علاوہ وہ کہاں جاتے تھے اور کیا کرتے تھے کس سے ملتے تھے مجھے نہیں پتہ۔۔
کومل کی آنکھیں رو رو کر لال ہوچکی تھی اور اسکا چہرہ بھی سرخ ہو چکا تھا ۔
حارث اسکی جانب ہی دیکھے جا رہا تھا کہ کچھ یاد آنے پر وہ کومل سے کچھ پوچھنے لگا۔۔
کومل تم سلطان جیسے بزنس آیکن کے گھر کیا کرنے گئ تھی۔۔
کومل اب بھی حارث کو دیکھے بغیر جواب دے رہی تھی۔۔
میں آج اسکول گئ تھی تو وہاں تالا لگا تھا چوکیدار سے پوچھا تو اس نے کوئ ٹھیک جواب نہیں دیا تو پھر ماموں کے کہنے پر ہی میں وہاں گئ تھی جاب کے سلسلے میں اور جاب فائنل ہوچکی ہے کل سے جانا ہے سلطان سر کی دادی کی کیئر کرنی ہے بس یہی جاب ہے ۔۔
حارث کو کچھ عجیب لگا مگر اس نے اب سلطان کے حوالے سے کوئ بات نہیں کی اور کومل سے پوچھا۔۔
اگر آپکو برا نہ لگے تو کیا آپ میرے گھر چل سکتی ہے ۔۔۔؟
حارث کے سوال پر کومل نے چونک کر اسکی طرف دیکھا تو حارث اس نے اسکی جانب دیکھ کر سنجیدگی سے کہا۔۔
فلحال آپکا اپنے گھر جانا ٹھیک نہیں ہوگا اسلیے پوچھا۔
فلحال !!
کومل زیر لب بڑبڑاتے ہوئ بولی۔۔
اور ذہن میں دادی کا خیال آتے ہی حارث کی طرف دیکھ کر بولی
آپ مجھے سلطان سر کے بنگلے میں چھوڑ آئیں میں وہی رہونگی۔۔
کومل کا جواب سن کر حارث کے چہرے پر ناگواری جیسے آثار نمایا ہونے لگے مگر اس نے خود پر بامشکل کنٹرول رکھتے ہوۓ جیپ کو فل اسپیڈ میں دوڑاتے ہوۓ سلطان کے بنگلے تک پہنچ کر کومل کو وہاں چھوڑا۔۔
کومل اس سے بنا کوئ بات کیے اترنے لگی تو حارث نے اسے مخاطب کیا۔
آپ اپنا نمبر دیجیئے اور شہر سے باہر فلحال نہیں جاسکتی ہے ہمیں جب آپ سے پوچھ تاچ کرنی ہوگی تو کال کر دوں گا۔۔
کومل نے اسے اپنا نمبر لکھوایا اور بنگلے کے جانب بڑھی جبکہ حارث کو اب بے چینی ہونے لگی تھی۔۔۔۔
………………………………………..
اپنے بیٹے کوالوداع کرکے وہ اپنے پی اے کے ساتھ ڈیل کے سلسلے میں اب دوسرے ملک پہنچ چکا تھا اور اگلے دن اپنے پی اے کے ہمراہ کنٹرکٹ کینسل کرنے والی کمپنی میں موجود تھا۔۔
سر ویٹنگ روم میں چل کر بیٹھتے ہیں مسٹر s malik اس وقت کسی میٹنگ میں ہیں آدھے گھنٹے بعد فارغ ہوکر ہم سے میٹنگ کریں گے ۔
پی اے نے مودبانہ لہجے میں اپنی بات مکمل کی تو وہ اپنے پی اے کے ہمراہ ویٹنگ روم آکر صوفے پر بیٹھ گۓ مگر سامنے دیوار پر لگی تصویر دیکھ کر ایک دم کھڑے ہوگۓ ..
انکو اسطرح دیکھ کر انکا پی اے انکے پاس آیا ۔۔
سر کیا ہوا؟؟
پی اے کے سوال پر وہ غصے اور ڈر کے ملے جلے تاثر لیے اسکی طرف دیکھتے ہوۓ بولے۔۔
یہ تصویر کس کی ہے ؟؟؟
سر یہی تو ہے s m group of company کے چیئرمین سلطان ملک ۔
سلطان کا نام سنتے ہی انکی پیشانی پر پسینہ آنے لگا اور وہ گھبراتے ہوۓ تیز تیز قدموں سے باہر کی جانب جانے لگے۔۔۔۔
انکا پی اے سر !سر !کہتا انکے پیچھے پیچھے آرہا تھا مگر وہ کوئ جواب دیۓ بغیر کمپنی سے باہر آکر اپنی گاڑی میں جا کر بیٹھ چکے تھے ۔۔انکو سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی اور سینے میں درد محسوس ہونے لگا۔
انکا پی اے بھی گاڑی میں آکر بیٹھ گیا مگر اس سے پہلے کہ پی اے کچھ پوچھتا انکی حالت بگھڑنے لگی اور وہ سینے پر ہاتھ رکھ کر کراہنے لگے ۔پی اے کو انکی کنڈیشن کا اندازہ ہو چکا تھا اسلیے ڈرائیور سے فوراً ہسپتال کی طرف جانے کا کہا۔۔
ہسپتال پہنچنے کے بعد ڈاکٹر نے انکا معائنہ کیا تو پی اے سے کہا۔۔
انکو میجر ہارٹ اٹیک آیا ہے پلیز انکی فیملی کو انفارم کرکے بلوا لے کیونکہ یہ ابھی تک بھی شاک میں ہے ہم کچھ کہہ نہیں سکتے کہ کیا ہوگا۔۔
ڈاکٹر کی بات سن کر پی اے گھبرا گیا اور انکے بیٹے کو کال ملانے لگا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہادی ایک پارک میں حبہ اور صائم کے ساتھ تھا ۔۔
حبہ تمھیں جس شخص کی تلاش ہے میں اس وقت تمھیں کنفرم نہیں بتا سکتا کہ وہ زندہ ہے یا نہیں۔کچھ وقت اور لگ سکتا ہے مجھے اس سے جڑے کچھ اور لوگوں کا پتہ چلا ہے ان تک پہنچنا ذرا مشکل ہے۔۔۔
حبہ جو ایک امید لیے ہادی کے بلانے پر آئ تھی اسے اب افسوس ہونے لگا تھا۔۔
ہادی نے حبہ کو اپنی حاصل کردہ معلومات دی اور پھر صائم کی طرف متوجہ ہوا ۔
ہادی نے ایک گہرا سانس لیا اور صائم کی طرف دیکھ کر کہنے لگا۔
صائم جیسا کہ میں نے تمھیں پہلے بھی کہا تھا مجھے تمھارا کیس کچھ اور ہی لگ رہا ہے تو وہی ہوا جسکا مجھے شک تھا مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ آپ نے جس کی تلاش کا کہا تھا وہ لڑکی آج کل ایک کوٹھہ میں رقاصہ ہے ۔۔۔
یہ سننا تھا صائم کی کیفیت غم و غصے میں ابتر ہونے لگی ۔
حبہ بھی یہ سن کر چونک چکی تھی اور دل ہی دل افسوس کرنے لگی تھی ۔۔
یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں کس کوٹھے میں ہے نمرہ مجھے بتاؤ میں اسے لیکر آؤں گا۔۔۔
صائم غصے سے اٹھ کھڑا ہوا تھا تو ہادی نے اسکے ہاتھ پکڑ کر اسے بٹھایا ۔۔
صائم یہ بات واقعی برداشت سے باہر ہے مگر ہمیں جوش سے نہیں ہوش سے کام لینا ہے کیونکہ میرے پاس ایک حل ہے اس سے تم دونوں کا کیس حل ہو سکتا ہے بس مجھے ایک بندے سے ملنا ہے اور دعا کرو کہ مجھے اس سے ملنے کا موقع ملے۔۔۔اور اس کیلۓ مجھے تم دونوں کی مدد چاہیۓ ۔۔۔
صائم بیٹھ تو گیا مگر نمرہ کا سوچ سوچ کر اسکے آنکھوں سے آنسو بہنے لگے حبہ سے صائم کی آنسو دیکھے نہیں جا رہے تھے اس نے پہلی نظر میں ہی اسے اپنا دل دے دیا تھا اور اسے اس سے کوئ فرق نہیں پڑ رہا تھا کہ وہ کسی اور کو جی جان سے چاہتا ہے ۔
ہادی اب انکو آگے کی پلاننگ بتانے لگا تھا جسے حبہ سن تو رہی تھی مگر اسکی نظریں صائم پر تھی جسے ہادی بھی دیکھ چکا تھا۔۔
حبہ نے دل ہی دل میں طے کرلیا تھا کہ وہ صائم کی مدد ضرور کرے گی جتنا اس سے ہو سکے گا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چاند ستارہ اور دانی کمرے میں بیٹھی باتیں کر رہی تھی ۔
چاند تم اپنی آنکھوں کا آپریش کروالو اب تو بانو بیگم بھی تیار ہو چکی ہے۔۔
ستارہ کی بات سن کر چاند کو وہ دن یاد آیا جب وہ یہاں آنے کے بعد اگلے دن اٹھی تو اسے سب دھندلا دکھائ دینے لگا تھا مگر اس نے اس طرف دیہان نہیں دیا اور اسکے عدت کے بعد جب اسے رقص سکھایا جا رہا تھا تب بانو بیگم کو اندازہ ہو گیا تھا کہ چاند کی آنکھوں کے ساتھ کوئ مسئلہ ہے تو وہ خود اسے ہسپتال لیکر گئ تھی جہاں ڈاکٹر نے کہا تھا کہ سر پر گہری چھوٹ لگنے کی وجہ سے ایسا ہوا ہےاور اسکا حل آپریش بتاکر جو خرچہ بتایا وہ سن کر بانو چاند کو لیکر واپس کوٹھے پر آئ اور اس سے کہا پہلے کما پھر کروالینا آپریش مگر جس دن بانو نے مطلوبہ رقم چاند کے رقص سے حاصل ہوۓ اس دن بانو نے اسے اجازت دی کہ وہ آپریش کروالے مگر دانی نے چاند کو بانو بیگم کے ارادے بتاۓ تو وہ کانپ گئ اور منع کیا کیونکہ اسے پتہ تھا کہ ستارہ اور وہ بانو بیگم کیلۓ بہت اہم ہیں انکی کمائی کو کروڑوں تک لے جانے کا ذریعہ اسلیے وہ ستارہ کے ہوتے ہوۓ چاند سے بھی زبردستی نہیں کرسکتی مگر بات صرف یہ نہیں تھی دانی نے جب چاند کو بانو کے ارادے بتاۓ تو چاند نے منع کیا تھا آپریش سے ۔
کیونکہ بانو نے یہ فیصلہ کیا تھا چاند کی آنکھیں ٹھیک ہوتے ہی وہ ستارہ کو رقاصہ سے غلط کام میں ڈال دے گی تبھی چاند نے منع کردیا تھا آپریش سے۔۔
چاند ابھی ستارہ کو جواب دینے لگی تھی کہ انھیں کھوٹے کے صحن میں مار دھاڑ اور چلانے کی آوازیں آنے لگی اور پھر گولی چلی جسے سن کر تینوں سہم گئ اور دانی ان کو کمرے سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت کرکے باہر چلی گئ۔۔۔

Read More:  Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 4

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: