Filhal By Muhammad Shariq – Episode 7

0

فلحال از محمد شارق – قسط نمبر 7

–**–**–

حارث رات گۓ جاگا ہوا تھا اور بیڈ پر بیٹھا لیپ ٹاپ پر کسی کیس کو اسٹڈی کر رہا تھا مگر اسکا دل اور دماغ دونوں کسی اور سوچ میں ڈوبے ہوۓ تھے ۔
اسکی نظروں کے سامنے بار بار کومل کا خوبصورت چہرہ لہرا رہا تھا۔
یہ مجھے کیا ہو رہا ہے بار بار وہ میری سوچو میں کیو آرہی ہے؟؟؟
وہ خود سے ہمکلامی کرتا اٹھکر کمرے میں موجود بالکونی میں آیا اور آسمان کی جانب دیکھنے لگا کہ اچانک ایک خیال کے آتے ہی اس نے جیب سے موبائل نکالا اور کومل کا نمبر ڈائل کیا ۔۔
دو تین بل جاتے ہی کومل نے فون اٹھایا اور اسکی نیند بھی ڈوبی آواز سن کر حارث مسرور ہوا۔
ھیلو کون؟؟
کومل کی آواز سنتا حارث بھی مسکرا کر بولا
میں حارث !
یہ سنتے ہی کومل کی نیند اڑ گئ اور وہ زور سے بولی
جی!
اچانک کومل کی آواز میں تبدیلی دیکھ کر حارث سنبھلتے ہوۓ بولا۔
جی میں اس پی حارث وہ میں نے اسلۓ کال کی تھی کہ آپکو جگہ مل گئ ۔
اپنی بے وقوفی والی بات پر حارث اپنا سر کھجانے لگا اور کومل بھی پریشان ہونے لگی ۔
کیا کہا آپ نے میں سمجھی نہیں ۔؟؟
کومل کے سوال پر حارث خود کو کمپوز کرتا جواب دینے لگا
کچھ نہیں بس آپکی خیریت اور کوئ کام تو نہیں ہے یہ پوچھنے کیلۓ کال کی آپ ہماری ذمہ داری ہے نا اس لیے ،،
کومل نے موبائل میں وقت دیکھا اور کچھ سوچ کر بولی۔
سر وہ مجھے گھر سے اپنے کپڑے اور کچھ سامان لینے ہے تو کیا میں کل چلی جاؤں؟؟
کومل کی اس بات پر حارث کو لگا یہی صحیح موقع ہے۔۔
نہیں اکیلے نہیں آپ صبح آٹھ بجے تک تیار رہنا میں خود آکر آپکو وہاں لے جاؤں گا ۔اوکے اللہ حافظ۔
حارث کی بات سنتے ہی کومل نے بھی خداحافظ کہہ کر کال منقطع کر دی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔…………………………………..
اگلی صبح حارث پولیس یونیفارم کی جگہ نارمل ڈریسنگ اور جیپ کے بجاۓ اپنی کرولا کار میں سلطان کے بنگلے کے باہر پہنچتے ہی کومل کو کال کرکے اب گاڑی سے باہر آکر کھڑا اسکے آنے کا انتظار کر رہا تھا۔
کومل جب باہر آئ تو حارث کو اسطرح دیکھ کر حیران ہوئ اور رک گئ۔۔
کومل کی حیرت کو بھانپتے ہوۓ حارث اسکی جانب دیکھ کر مسکرایا اور کہا۔
چلیے جلدی ورنہ پھر سے کوئ کتا نہ آجاۓ ۔۔
حارث کی بات سن کر کومل فوراً گاڑی میں آکر بیٹھ گئ ۔
گاڑی وہاں سے نکل چکی تھی مگر کوئ تھا جو کب سے ان دونوں کو دیکھ کر غصے سے آگ بگولہ ہو چکا تھا۔۔
کومل کے گھر تک پہنچتے تک دونوں کے درمیان کوئ بات نہیں ہوئ تھی مگر حارث کئ بار چھپ چھپ کر چور نظروں سے کومل کو دیکھتا رہا تھا۔۔
گھر کے پاس پہنچتے ہی دونوں گاڑی سے اترے تو وہاں موجود ایک کانسٹیبل حارث کو دیکھتے ہی اسکے پاس آیا تو حارث نے اسے گھر کا تالا کھولنے کا کہہ کر کومل کو اندر جانے کا کہا۔اور خود باہر رہ کر کانسٹیبل سے معلومات لینے لگا۔۔۔
کچھ دیر بعد کومل ہاتھ میں ایک بیگ لیے باہر آئ اور حارث کی جانب بڑھاتے ہوۓ بولی ۔
اس میں میرے کپڑے ڈاکومنٹس اور کچھ کتابیں ہیں آپ چیک کرلے ۔
حارث نے بیگ پر ایک سر سری ڈالی اور کومل کو لیے گاڑی کی جانب بڑھا۔۔
گاڑی کچھ فاصلہ طے کرنے کے بعد رکی تو
کومل نے چونک کر باہر کی جانب دیکھا تو اسے ایک ریسٹورنٹ نظر آیا ۔
آپ نے گاڑی یہاں کیوں روکی ؟
کومل نے حارث کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوۓ پوچھا۔
فلحال مجھے چاۓ کی طلب ہو رہی تھی تو سوچا آپ کے ساتھ پی لوں۔
حارث نے مسکرا کر کہا مگر کومل کے چہرے کے بگھڑے ہوۓ تاثرات دیکھ کر اسکی مسکراہٹ غائب ہو چکی تھی جسکی وجہ حارث کی بے تکلفی اور فلحال لفظ سے سدا کی نفرت تھی۔۔
فلحال !فلحال ! یہ تو جیسے آپکا تکیہ کلام ہے اور میں اول دن سے ہی سمجھ گئ تھی کہ آپکی نیت کیا ہے اپنی اوقات دکھا نا دی تھرڈ کلاس لوفر!!!
کومل کے الفاظ نہیں پگھلا ہوا سیسہ تھے جو حارث کے کان سن رہے تھے ۔
کومل بات سنو!!
حارث کچھ کہتا اس سے پہلے کومل نے اسکے منہ پر تھپڑ مار دیا۔
حارث کا چہرہ اور آنکھیں غصے سے لال ہو چکی تھی مگر اس نے کومل کو کوئ جواب نہیں دیا۔
بس !!زیادہ بے تکلف ہونے کی ضرورت نہیں میرے ماموں کے قاتلوں کی تلاش کرو سمجھے اور جب مجھ سے رشوت کی امید نہیں رہی تو یہ گھٹیا ہتھکنڈے آزما رہے ہو۔
کومل کی باتیں اس سے برداشت نہیں ہو رہی تھی ۔
کومل یہ کہہ کر گاڑی سے اترنے لگی تھی کہ حارث نے کار آٹو لاک کر کے فل اسپیڈ میں بھگانے شروع کی۔اور ساتھ ملکہ جی کا وہی گانا۔۔
کومل کی گاڑی کی بڑھتی رفتار سے سہم چکی تھی مگر وہ چھپ تھی اس نے ایک نظر حارث کی جانب دیکھا تو اسکا غصے سے لال چہرہ اور سرخ نم آنکھیں دیکھ کر اسے اپنے کہی باتوں پر افسوس ہونے لگا۔
منزل پر پہنچتے ہی حارث گاڑی سے اترا اور کومل کی سائیڈ آکر اس طرف کا دروازہ کھول کر کھڑا ہوا ۔
کومل بوجھل قدموں سے گاڑی سے اتر کر بنگلہ کی طرف گئ ۔۔
بنگلہ میں داخل ہوتے ہی کومل سامنے کا منظر دیکھ کر چیختے ہوئ باہر کی طرف بھاگنے لگی ۔
کومل کی چیخ حارث نے بھی سنی تھی اور وہ بھی بنگلہ کے اندر داخل ہوا ۔
اس سے پہلے کومل اور حارث ٹھکراتے سلطان دونوں کے بیچ آکر کھڑا ہوا اور کومل سلطان سے ٹکراتے ٹکراتے بچی سلطان کا چہرہ کومل کی جانب تھا مگر وہ اب ھی ڈر کے مارے کانپ رہی تھی۔
سلطان آنکھوں پر بلیک گاگلز پہنے کومل کو کراس کرتا آگے نکل گیا ۔
حارث نے بھی سلطان کو دیکھ کر اپنے قدم روک لیے تھے۔اور اسکی طرف دیکھ رہا تھا جبکہ کومل اب حارث کو دیکھ رہی تھی۔۔
سلطان آگے بڑھا اور گارڈن میں بیٹھ کر اس چیز کو آواز دیکر بلانے لگا جہاں دادی بھی پہلے سے موجود تھی اور جسے دیکھ کر کومل ڈر گئ تھی۔
چارلی!!
سلطان کے کہتے ہی ایک بھورا اور سفید رنگ کا کتا بھاگتے ہوۓ سلطان کی طرف آیا۔۔
اب کومل اور حارث حیرت سے سلطان کی جانب دیکھ رہے تھے جبکہ سلطان معنی خیز مسکراہٹ لیے دونوں کی طرف ۔۔۔
تبھی دادی کی آواز پر کومل انکی جانب متوجہ ہوئ ۔
کومل میرے بچے آؤ اندر اور اب تمھیں کتوں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے تمھارا ڈر ختم کرنے کیلۓ ہی یہ کتا منگوایا گیا ہے آج ہی۔۔۔
کومل دادی کی بات پر حیران ہوتی انکی جانب بڑھی ۔
حارث بنا کوئ بات کیے باہر کی جانب مڑا تو اسے پاشا اسکے سامنے کھڑا ملا۔
اس پی سر آج کے بعد آپکو کومل میڈم سے کوئ تفتیش کرنی ہو تو آپ مجھ سے رابطہ کرے یہ لے میرا کارڈ رکھ لیں اور آئندہ یہاں آنے کی زہمت نہ کریں میں خود لے آؤں گا میڈم کو۔۔
پاشا حارث کی جانب اپنا ویزیٹنگ کارڈ بڑھاۓ اپنی بات مکمل کر چکا تھا اور اب حارث اسکے ہاتھ سے کارڈ لیے باہر چلا گیا۔جسکو کومل بھی اب جاتا دیکھ کر افسوس کر رہی تھی.
کومل بیٹا اس پولیس والے سے کوئ خاص جان پہچان ہے کیا تمھاری ؟
دادی کے سوال پر کومل خود بھی سوچ میں پڑ گئ تھی مگر خود کو کمپوز کرکے دادی کی جانب مسکراتے ہوۓ دیکھ کر بولی
نہیں دادی بس وہ ماموں کے کیس کے سلسلے میں ان سے بات ہوتی ہے اور آج گھر سے کپڑے اور کچھ چیزیں لانی تھی تو اس لیے انکو بلایا تھا۔۔
کپڑے چاہیے تھے تو مجھ سے کہتی ہم نۓ دلوا دیتے اب آج کے بعد تم اس گھر میں مجھ سے پوچھے بغیر نہیں جاؤ گی سمجھی۔
دادی کی مصنوعی خفگی سے کہی بات پر کومل نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا۔
سلطان جو بظاہر چارلی کے ساتھ کھیل رہا تھا مگر اسکی نظریں کومل پر تھی اور اب وہ کومل کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھ کر دل ہی دل میں سکون محسوس کر رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پی اے کی کال پر وہ فوراً پہنچا تھا اور اب گاڑی میں موجود مطلوبہ ہاسپیٹل کی جانب جا رہا تھا وہ مسلسل ڈرائیور سے جلدی کرنے کی تلقین کر رہا تھا ۔کہ ایک مقام پر گاڑی رکتے ہی وہ غصے سے دھاڑا ۔
گاڑی کیو روک دی؟؟؟؟
تو ڈرائیور ڈر کر جواب دینے لگا
سر وہ ٹریفک بہت زیادہ ہے مگر آپ فکر نہ کریں میں آپکو دوسرے رستے سے لے چلتا ہوں وہ ذرا سنسان سا ہے مگر۔۔
اگر مگر چھوڑو جلدی چلو۔۔
اسکا حکم سنتے ہی ڈرائیور نے گاڑی دوسری جانب موڑ دی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔…………………………………………………….
گولی کی آواز سنتے ہی دانی جب نیچھے آئ تو سامنے کا منظر دیکھ کر ڈر گئ ۔
سات آٹھ بندے صحن میں اسلحہ سمیت موجود تھے اور ان میں سے ایک نے بانو کے سر پر گن رکھی ہوئ تھی۔
چاند اور ستارہ کو دو ہمیں ورنہ آج تیری جان گئ سمجھ ۔
اس آدمی کی دھمکی پر بانو نے زرار کو آواز دی۔۔
ابے زرار جلدی کر اور دونوں کو لاکر انکے حوالے کر ۔
زرار تھوڑی دیر میں دونوں کو لاکر انکے حوالے کر گیا۔
تو دانی انکی جانب بڑھی ۔اور چلائ
کہاں لے جارہے ہو دونوں کو منحوسوں!!؟؟
دانی کے سوال پر ان میں سے ایک مکروہ مسکراہٹ لیے جواب دینے لگا۔
ایک کو تو کسی کیلۓ اور ایک کو اپنے لیے ۔۔۔
اسکے ایسا کہتے ہی سب ایک ساتھ قہقہے لگانے لگے اور دونوں کو زبردستی باہر لیجا کر ایک گاڑی میں بٹھا کر اور مزید دو گاڑیوں میں بیٹھ کر وہاں سے نکلے۔۔
انکے نکلتے ہی بانو غراتے ہوۓ زرار کو آواز دینے لگی
زرار !!زرار!!
آج سبکو بلاؤ اور مجھے میری ستارہ اور چاند واپس لاکر دے چاہے کچھ بھی ہوجاۓ ۔
بانو کی بات سنتے ہی زرار ہاتھ میں فون تھامے کسی کو فون کرتا لنگڑاتے ہوۓ باہر نکلا۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: