Filhal By Muhammad Shariq – Episode 8

0

فلحال از محمد شارق – قسط نمبر 8

–**–**–

کومل کو سلطان کے گھر میں دو مہینے ہو چکے تھے وہ دادی کے ساتھ کافی گھل مل گئی تھی
سلطان بھی اب حارث کے معاملے میں ہو چکا تھا ..کیونکہ اب وہ کومل سے کوئی رابطہ رکھے ہوئے نہ تھا ..
جبکہ حارث کچھ دو مہینے سے اس تاک میں تھا کہ اسے کومل سے رابطے کا موقع ملے
کیونکہ سلطان یا پاشا میں سے ہر وقت کوئی ایک بنگلے میں موجود رہتا اور ان دونوں کی موجودگی میں کون سے رابطہ ناممکن تھا
ایک دن حارث کو فون آیا
موبائل اسکرین پر چمکتا ہوا نمبر دیکھ کر حارث کے چہرے پر مسکراہٹ تیرنے لگی
ہیلو کہنے کے بعد حارث میں فون پر جو سنا اس سے اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا
حارث نے دو مہینوں سے کسی کانسٹیبل کو سلطان کے بنگلے کے باہر تعینات کیا ہوا تھا جو بظاہر سلطان کی سیکورٹی کے لئے تھا مگر اصل میں حارث کو انکی پل پل کی خبر دیتا رہتا تھا
اور آج اس نے حارث کو بتا دیا تھا کہ پاشا اور سلطان دونوں ساتھ باہر نکلے ہیں
حارث کو جیسے اسی موقعے کا انتظار تھا
حارث نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر کومل کا نمبر ملایا چند بل کے بعد کال اٹھائ گئ۔
ھیلو
کومل کی آواز سنتے ہی حارث کاچہرہ تلملا اٹھا۔۔
ھیلو !! کومل کیسی ہو؟
حارث نے بھی سنجیدگی سے کہا
کومل حیرت اور خوشی کے ملے جلے تاثر لیے بولی۔۔
حارث تم !!مطلب اس پی سر آپ ؟؟کیسے ہین آپ؟؟
حارث نے ایک گہرا سانس لیا جیسے اسے سکون سا ملا ہو اور خود کو کمپوز کرتا ہوا بولا۔۔
کومل مجھے کیس کے سلسلے میں کچھ معلومات دینی تھی آپ کو تو آپکو آج ابھی تھانے آنا ہوگا۔۔
کومل نے کچھ سوچ کر ایڈریس لیا اور دادی کو بتا کر بنگلہ سے نکلی۔
دادی کا کہا نا مانتے ہوۓ وہ ٹیکسی کرکے مطلوبہ ایڈریس پر پہنچی تو اسے حیرت ہوئ کیونکہ وہ کوئ بہت بڑی کمپنی تھی ۔
کومل نے پریشانی میں حارث کو فون کیا۔۔
ھیلو !!
حارث کہتا ہوا عین اسکے پیچھے آکر کھڑا ہوا۔
وہ چونک گئ مگر اسے تسلی ہوئ ۔
یہ کونسی جگہ ہے۔۔
کومل کی بات کا جواب دیے بغیر وہ اسے اندر کی طرف ہاتھ کے مودبانہ اشارہ سے اپنے پیچھے بلاتا ہوا لے گیا۔
اندر لفٹ سے اوپری منزل پر آتے ساتھ ہی ایک بڑا سا آفس جہاں میل فیمیل ہر طرح کے آفس پرسن دیکھ کر کومل کو اچنبھہ ہوا۔
سب حارث کو دیکھتے ہی اپنی نشستوں سے اٹھ کر سلام کر ریے تھے ۔
کومل سر جھکاۓ بس حارث کی ہم قدم تھی۔
ایک روم کے قریب پہنچ کر حارث نے دروازہ کھولا اور کومل کو اندر جانے کا کہہ کر اسکے داخل ہوتے ہی خود بھی اندر آچکا تھا۔
یہ ایک ول فرنشڈ آفس تھا ۔
کومل کو ایک ڈر سا گھیرنے لگا۔۔
حارث نے اسے بیٹھنے کو کہا۔۔
وہ وہاں موجود ایک طرف صوفے پر بیٹھی تو حارث بھی دوسری جانب بیٹھا ۔
کومل مراد کے قتل کے ایک دن پہلے آپ کے اسکول جہاں آپ ٹیچنگ کر رہی تھی اسے ایک کمپنی نے خریدا اور وہ کمپنی سلطان کے ساتھ پارٹنرشپ میں ہے۔
کومل نے یہ سنا تو حارث کو دیکھنے لگی ۔جسے اسے سمجھ نہ آئ ہو اسکی بات۔۔
جی میں سمجھی نہیں ؟؟
کومل کی بات سن کر حارث نے لمبا سانس لیا اور صوفے سے پشت ٹھکا کر کومل کو گہری نظروں سے دیکھنے لگا ۔
کومل نے اپنی نظریں جھکا لی تھی۔۔
تمھیں سمجھ نہیں آرہی ؟
حارث کا لہجہ اب سخت تھا۔۔
کومل نے ڈر کر اسکی جانب دیکھا۔۔
جی!!
کومل نے بہت مشکل سے کہا ۔۔
سچ میں تمھیں سمجھ نہیں آرہی کہ تمھارا اسکول بند ہوتے ہی تمھیں جاب کی آفر آئ اور پھر اگلے دن ہی مراد کا مارا جانا پھر تم اسکے گھر میں اور میرا وہاں آنا بند کرنا اور تو اور وہ کتا!! کیوں کیا جا رہا ہے یہ سب ہاں!!!!
حیرت سے اب کومل اسکی جانب نم آنکھوں سے دیکھ رہی تھی۔۔
حارث اپنی نشست سے اٹھا تو کومل کی منہ سے ڈر کے مارے ہلکی سی چیخ نکلی۔۔
جس پر حارث کے چہرے پر ایک درد بھری مسکراہٹ آکر گئ۔۔
وہ کومل کے پاس آیا تو کومل ادھر ادھر دیکھ کر الجھن کا شکار ہوتی کانپنے لگی۔۔
اس سے پہلے حارث کچھ کہتا کومل اٹھی ۔
مجھے گھر جانا ہے،،،
یہ سننا تھا کہ حارث آپے سے باہر ہوا اور اسکے قریب جانے لگا۔
کومل بھی ڈر کر پیچھے جانے لگی اور دیوار تک پہنچ کر رونے لگی۔
حارث اسکے سر پر کھڑا اسکی آنکھو ں میں دیکھے بولنے لگا۔
وہ سامنے فریم دیکھ رہی ہو اس تصویر میں میرے ساتھ میرے ڈیڈ ہے جو باہر ہوتے ہیں اور یہ ہماری کمپنی ہے ۔کیا کہا تھا رشوت اور مجھے کیا کہا تھا؟
کومل اب ہاتھ جوڑے اسکی طرف روتے ہوۓ دیکھ کر بولی۔
مجھے گھر جانا ہے پلیز جانے دو مجھے ؛
یہ کہہ کر اسکی ہچکی بندھ گئ۔
حارث اس سے دور ہوا اور ٹیبل پر موجود پانی کی بوتل اسکی جانب بڑھائ ۔
کومل نے بوتل جلدی سے لیکر کچھ گھونٹ پانی کے لیے اور باہر جانے لگی تو حارث نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنی جانب کھینچا۔۔
کومل کی حالت یوں تھی گویا وہ اب سانس نہیں لے پاۓ گی۔۔
حارث اسکے بے حد قریب تھا ۔۔
کومل تمھیں اندازہ نہیں کہ میری حالت کیا ہے پچھلے دو مہینوں سے یہ سوچ سوچ کر کہ تم اس بنگلہ میں ہو اور اور وہ تمھیں دیکھتا ہوگا تمھیں تمھیں !!!!
یہ کہہ کر حارث کومل سے دور ہوا اور خود پر ضبط کرنے لگا
وہ رونے لگا اور روتے ہوۓ وہی زمین پر بیٹھ گیا ۔
کومل کتنی دیر تک یہ سب دیکھتی رہی اور اب دھیرے دھیرے اسکے پاس آئ ۔
وہ بھی اسکے پاس نیچھے بیٹھی اور اسے ہلکی آواز میں پکارا
حارث !!
حارث نے مڑ کر اسکی جانب دیکھا تو کومل سے اسکی نم لال آنکھیں میں موجود اپنے لیے محبت کا اندازہ ہوگیا۔
وہ اسکی آنکھوں کی تپش برداشت نہ کرتے ہوۓ اٹھی اور اٹھی۔
مجھے گھر جانا ہے۔۔
کومل کی بات سن کر حارث اٹھا اور باہر کی جانب قدم بڑھا ۓ۔۔
کومل بھی اسکی ہم قدم ہوئ …
وہ اب کمپنی سے باہر تھے حارث خاموش تھا اور کومل بھی ۔
حارث کومل سے کچھ کہنے کیلۓ آگے بڑھا ہی تھا کہ ایک کے بعد ایک تین چار گاڑیاں وہاں آکر رکی اور ان سب سے آگے تھی ایک بلیک بی ایم ڈبلیو اور اس میں سے اترتے ہوۓ شخص کو دیکھ کر کومل کی دھڑکنیں تیز ہونے لگی تھی۔
وہ شخص سلطان تھا جسکے ساتھ اب پاشا بھی آکر کھڑا ہو چکا تھا۔۔۔
“:؛:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
چاند اور ستارہ تیز چلتی ہوئ گاڑی میں خود کو آج بے سہارا محسوس کر رہی تھی۔
ایک دلدل سے باہر آئ تھی پھر بھی وہی جانا چاہ رہی تھی
اپنے ارد گرد موجود شیطانوں سے انکو ڈر لگ رہا تھا۔۔
دونوں رو رہی تھی ۔۔
اچانک انکی گاڑیوں کو بہت ساری گاڑیوں نے گھیر لیا۔
اور کچھ فاصلے کے بعد ساری گاڑیاں رکی تو جیسے ایک جنگ چڑی ۔۔
بانو بیگم نے اپنے ہر خاص و عام کام کرنے والوں کو بلا کر بھیجا تھا ان گاڑیوں کے پیچھے اور زرار کے ساتھ دانی کو بھی بھیجا کہ وہ موقع ملتے ہی کسی خالی گاڑی میں چاند اور ستارہ کو لیکر واپس یہی لے آۓ۔۔
دانی کافی دیر تک یہ سارا تماشہ دیکھتی رہی ۔
وہ ہر گاڑی پر نظر رکھتے ہوۓ تھی کہ اسکی نظر اس گاڑی پر پڑی جس میں اسے وہ دونوں نظر آئ۔۔
دانی اب گاڑی سے اتر کر انکی جانب بڑھی اور نہایت چالاکی سے ہاتھ میں ریوالور تھامے گاڑی کا دروازہ کھول کر سامنے بیٹھے دو بندوں پر تان لی ۔
او چلو باہر آؤ لڑکیوں اور تم دونوں منحوسوں اب مرو۔۔
یہ کہہ کر دانی نے اپنے ساتھ آۓ ہوۓ بندو کو گاڑی میں موجود آدمیوں کو سنبھالنے کا کہا اور ستارہ اور چاند کو لیکر دوسری جانب چل پڑی۔۔
وہ تینوں اس جگہ سے دور آئ تو دانی رکی۔
چاند ستارہ سنو یہ لو یہ پیسے رکھو اور جاؤ یہاں سے جلدی۔۔۔
وہ دونوں حیران ہوکر دانی کی جانب دیکھنی لگی۔
تبھی سامنے سے ایک گاڑی آتی دکھائ دی تو دانی سڑک کے بیچ آکر کھڑی ہوئ ۔۔
گاڑی ایک جھٹکے سے رکی تو دانی ڈرائیور کی جانب چلی۔
اے اللہ کے بندے ان دو معصوموں کی مدد کرو انکو کہی چھوڑ آؤ اللہ تمھارا بھلاکر ے گا۔
دانی کو گآڑی کے پاس کھڑا دیکھ کر ستارہ چاند کا ہاتھ تھامے وہاں آئ تو پچھلے دروازے سے کوئ باہر اترا اور دانی کی جانب چند نوٹ بڑھانے لگا۔
اسے ایسا کرتے دیکھ ستارہ نے اسکا نوٹ لیے آگے کیا ہوا ہاتھ جھٹکا اور دانی سے مخاطب ہوئ ۔
دانی یہ کیا کر رہی ہو ؟؟چلو یہاں سے ۔۔
دانی ستارہ کو لیے ایک طرف ہوئ اور اسے سمجھانے لگی تو چاند کا ہاتھ ستارہ سے چھوٹ گیا اور وہ وہی کھڑی رہی ۔
گاڑی سے اترنے والا شخص واپس گاڑی میں بیٹھنے لگا تو اسے محسوس ہوا کہ سامنے کھڑی لڑکی کو ٹھیک نظر نہیں آتا ۔
تبھی سامنے سے اچانک ایک بائیک تیزی سے اسی طرف آنے لگی اس سے پہلے کہ وہ چاند سے ٹکراتی ۔اس شخص نے گاڑی کا دروازہ چھوڑا اور چاند کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا جس سے چاند اسکی آغوش میں آکر اسکی چھاتی سے ٹکرائ اور اب وہ چاند کو قریب سے دیکھنے لگاتھا۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: