Filhal By Muhammad Shariq – Episode 9

0

فلحال از محمد شارق – قسط نمبر 9

–**–**–

سلطان نے اپنی جگہ پر خاموش کھڑا بس حارث کو دیکھے جا رہا تھا۔
اور حارث بھی۔۔۔۔۔۔
کومل دونوں کو اسطرح دیکھ کر گھبرا رہی تھی…
سلطان سر آپ یہاں وہ بھی اس طرح؟؟؟
حارث نے بات شروع کی ۔۔
تو پاشا چند قدم حارث کی جانب بڑھا ۔۔مگر کومل کی طرف دیکھ کر بولا۔۔۔
میڈم دادی نے آپکے یہاں آنے کی اطلاع دی تھی اور ساتھ لانے کا کہا ہے تو آپ کی میٹنگ ختم ہوچکی ہوگی چلیے۔۔۔
پاشا کی بات مکمل ہوتے ہی سلطان اپنی bmw میں بیٹھ گیا اور فرنٹ سیٹ کا ڈور کھول دیا جو اس بات کا اشارہ تھا کہ کومل آکر یہی بیٹھ جاۓ۔۔
پاشا دوسری گاڑی میں بیٹھ گیا اور باقی گاڑیاں ایک ایک کرکے نکل چکی ۔۔
کومل نے ایک التجائ نظر حارث پر ڈالی اور بوجھل قدموں سے چلتی سلطان کی گاڑی میں بیٹھ گئ ۔۔
گاڑی فل اسپیڈ میں وہاں سے نکل چکی تھی اور یہاں حارث کو اب اپنے ساتھ ساتھ کومل پر بھی غصہ آنے لگا تھا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔…………………………………………………..
ایک گھنٹے سے دونوں گاڑی میں بیٹھے تھے مگر ابھی تک بنگلے تک نہیں پہنچ پاۓ تھے..
کومل کی پریشانی اور ڈر بڑھتی جا رہی تھی ۔۔
جبکہ سلطان کو اپنی اور دادی کی ایک مہینے پہلے کی ہونے والی باتیں بار بار ذہن میں دہراتی نظر آرہی تھی۔۔
سلطان مجھے ایک بات بتاؤ؟؟
جی دادی۔۔۔
تم کم گو اور تمھیں بلا مقصد کسی سے بات کرتے بھی آج تک نہیں دیکھا اور؟؟؟
اور کیا دادی؟؟؟
اور یہ کہ نہ کسی کو دیکھنے کیلۓ بار بار میرے کمرے میں بہانے بہانے سے چکر لگاتے ہوۓ ۔۔۔
سلطان ہلکا سا مسکرایا تھا۔۔مگر کوئ جواب نہیں دیا تھا۔۔
دیکھو بیٹا مجھے کومل بہت اچھی لگتی ہے تم کہو تو میں اس سے بات کرلوں ؟؟
نہیں دادی ابھی نہیں جب میں کہوں گا تب۔۔
۔۔؛:؛:؛؛’؛:؛:؛:!:؛:؛:؛؛؛؛؛؛؛
سلطان کے ذہن الجھا ہوا تھا اور کومل ڈری سہمی تو تھی مگر اسے حارث کی آنکھیں وہ نم آنکھیں جن میں بہت کچھ دیکھ چکی تھی وہ یاد آرہی تھی وہ بھی الجھ چکی تھی مگر سلطان کی اسطرح بے مقصد گاڑی کو مسلسل اتنی دیر سے سڑکوں پر دوڑانا عجیب لگ رہا تھا۔۔
سر ہم گھر کب جائے گیں کافی دیر ہو چکی ہے؟؟؟
کومل کی بات سن کر سلطان نے گاڑی روکی اور نیچھے اتر گیا اور کومل کی سائیڈ کا ڈور کھولتا وہ آگے نکل گیا۔۔
کومل ڈرتے ڈرتے گاڑی سے اتری مگر سلطان کو چلتا دیکھ کر وہ اسکے ہم قدم ہوئ ۔۔
یہ شہر کا نامی گرامی ایک بڑا سا ہوٹل تھا۔
ریسپشینسٹ کے پاس آکر سلطان نے اس سے چابیاں لی اور لفٹ کی طرف بڑھا تو کومل کا دل چاہا کہ وہ وہاں سے بھاگ جاۓ ۔
وہ لفٹ کے پاس پہنچی مگر سلطان سے کچھ کہنے کی ہمت نہیں کر پارہی تھی ۔
سلطان کا فون بجا تو وہ اس میں مصروف ہوا ۔
وہ کومل کا ہاتھ تھامے لفٹ سے اسے ایک طرف کھڑا کرکے خود فون پر بات کرنے لگا۔۔
کومل بے چینی سے یہاں وہان دیکھ رہی تھی کہ اسکی نظر سامنے کھڑے حارث پر پڑی ۔
حارث نے کومل کو موبائل دکھایا اور کومل اسکا اشارہ سمجھتی ہوئ پرس سے اپنا موبائل نکال کر دیکھنے لگی جس میں حارث کا میسج نظر آرہا تھا ۔
میسج پڑھ کر کومل نے مشکل سے بہت ہمت کرتی سلطان کے پاس آئ اور سر جھکاۓ بولی ۔
مجھے واش روم جانا ہے۔۔
سلطان جو فون پر لگا ہوا تھا اسکی بات سن کر اسے ایک طرف اشارہ کرکے جانے کا کہا۔۔
وہ اسی طرف چلی گئ جیسے اسے آزادی مل گئ ہو۔
وہ وہاں پہنچی جہاں لیڈیز اور جینٹس ٹوائلٹ الگ الگ پورشن پر تھے اور سامنے ہی ہاؤس کیپنگ اسٹاف روم تھا ۔
کومل وہی کھڑی گہری گہری سانسیں لینے لگی اسکی آنکھوں میں آنسو بھر آۓ تھے۔۔
کہ تبھی کوئ اسے تقریباً کھینچتے ہوۓ اسٹاف روم میں اپنے ساتھ لے گیا۔۔
کومل اسے دیکھ کر چونکی نہیں تھی بلکہ اسے دیکھ کر خود کو محفوظ سمجھنے لگی تھی اور رونے لگی تھی۔۔
اششش چھپ کرو یہ سر درد تمھارا اپنا پالا ہوا ہے اس دن میرے گھر چلتی تو آج یہاں نہیں ہوتی اب میری بات غور سے سنو۔
کومل حارث کی بات سن کر چھپ ہوگئ ۔
ابھی تم جاؤ اور اس سے کہو کہ تمھیں بھوک لگی ہے اور اس سے پہلے تم دادی کو فون کرکے سب بتادو۔
حارث کی بات سن کر کومل نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا اور ہوچھا۔
دادی کو کیا سب بتادوں ۔۔؟؟؟
حارث اسکی جانب بڑھا اور اسکے چہرے پر آئ آوارہ لٹو کو پکڑ نے کیلۓ ہاتھ بڑھایا مگر رک گیا اور بولا۔
دادی سے کہو کہ تمھیں حارث سے بے پناہ عشق ہے اور کل اسکے والد رشتے کیلۓ آرہے ہیں تو ایک ہفتے میں ہی رخصتی کی تیاری کی جاۓ۔۔۔
کومل نے اپنا سر شرم سے جھکا کر دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ چھپالیا۔
حارث کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اسے اہنی بانہوں میں بھر لے ۔۔
شرمانا نکاح کے بعد ابھی دادی کو بتاؤ کہ سلطان تمھیں کسی ہوٹل میں لایا ہے اور تم ڈری ہوئ ہو۔۔۔
کومل نے اثبات میں سر ہلایا اور دادی کو فون کرنے لگی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔…………………………………..۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سلطان کومل کو آتا دیکھ کر واپس لفٹ کی طرف بڑھا تبھی کومل دوڑتی ہوئ اسکی طرف آئ ۔۔
وہ مجھے نا بھوک لگی ہے !!!
سلطان نے اسکی طرف دیکھا ۔۔
تو!!!
سلطان کے منہ سے تو سن کر کومل کے طوطے اڑنے لگے ۔
تو مطلب کھانا کھاتے ہیں پہلے یہی نیچھے ریسٹورنٹ میں ۔۔
سلطان نے کچھ سوچ کر قدم ریسٹورنٹ کی جانب بڑھاۓ ۔
وہ اندر داخل ہوۓ ہی تھے کہ سلطان کا فون بجا اور وہ جی جی کرتا کومل کو ہاتھ کے اشارے سے اپنے پیچھے بلاتا باہر نکل گیا۔۔
کسی نے لابی میں سلطان کو ایک لڑکی کے ساتھ دیکھا تو ایک مکرہ مسکراہٹ چہرے پر سجائے اپنے ساتھ موجود اپنے اسسٹنٹ سے بولا۔
مجھے اس لڑکی کی ساری ڈیٹیل چاہیۓ !!!!!
۔
:؛:؛:؛:؛:؛:؛:؛:؛:؛:؛:؛:؛:؛:؛::؛:؛:::؛:!:؛:؛:!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!
وہ اسکو اتنے قریب سے دیکھ رہا تھا ۔اسے یوں لگ رہا تھا جیسے یہ کوئ اپنا ہے مگر کون؟؟؟
اس نے اس سے کچھ پوچھنے کیلۓ لب کھولے ہی تھے کہ زرار وہاں آپہنچا اور چاند کو اسکی گرفت سے کھینچتا ہوا اس کے سامنے کھڑا ہوا۔
اے بھائ شکریہ بچی کو بچا لیا آپ نے بیچاری کی آنکھیں بہت کمزور ہے۔
وہ زرار کی بات سن کر بغیر کوئ جواب دیے گاڑی میں بیٹھنے لگا تھا کہ زرار نے اسء دوبارہ آواز دی ۔
صاحب لفٹ دیگے مہربانی ہوگی زیادہ دور نہیں جانا ہماری گاڑی خراب ہو چکی ہے۔اور یہاں ٹیکسی ملنا مشکل ہے ۔
اس نے ایک نظر زرار کو اور پھر دانی سمیت ان دو لڑکیوں کو دیکھا تو اثبات میں سر ہلاتا ہوا ڈرائیور کو اپنے پیچھے آنے کا کہہ کر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالے بیٹھ گیا۔۔
وہ بار بار نا چاہتے ہوۓ بھی سائیڈ مرر سے چاند کو دیکھ رہا تھا ۔
زرار کی نظر اس پر پڑ چکی تھی ۔
گاڑی مطلوبہ مقام پر پہنچی تو زرار نے گاڑی رکوائ اور سب کو اترنے کا کہا۔
سب کے اترتے ہی زرار نے اس شخص کی جانب اپنا کارڈ بڑھایا اور بولا۔
صاحب جب دل چاہے دیدار کا تو فون کردیجیے گا ۔۔
زرار یہ کہہ کر چلا گیا اور وہ کارڈ کو ایک نظر دیکھ کر اپنی جیب میں رکھتا ہوا اب ڈرائیور کا انتظار کرنے لگا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہادی اور صائم اس وقت بانو بیگم کے کھوٹے کے باہر کھڑے تھے اور حبہ کا انتظار کر رہے تھے ۔
ہادی اور صائم اپنا حلیہ بالکل بدل کر آۓ تھے.
انکے سامنے ایک لڑکی آکر کھڑی ہوئ جو بہت ماڈرن لگ رہی تھی ۔ مگر دونوں نے اسے کچھ اور سمجھ کر کوئ ردعمل ظاہر نہیں کیا۔۔
ایکسکیوزمی!! یہ میں ہوں حبہ !!
حبہ کی آواز سن کر دونوں چونک گۓ تھے ۔
ارے واہ تم تو بالکل پہچان میں ہی نہیں آرہی ہو یار چلو اب پلین پتہ ہے نا کیا کرنا ہے بس صائم تم کو بہت کنٹرول کرنا ہوگا اوکے ورنہ گڑبڑ ہو جاۓ گی۔۔
صائم نے اثبات میں سر ہلایا اور تینوں کھوٹے کے گیٹ پر کھڑے اب چوکیدار سے بات کر رہے تھے ۔
دیکھو صاحب آج تو مشکل نہیں ناممکن ہے تم کل آنا کل ۔۔
چوکیدار کو اندر کے معاملات کی خبر تھی اسلۓ وہ انکو ٹال رہا تھا۔
تبھی وہاں گاڑی آکر رکی جس میں سے کچھ لوگ اترے مگر ستارہ کو دیکھ کر صائم کی دھڑکنیں تیز ہونے لگی تھی ۔
پلیز کنٹرول پلیز ۔۔
ہادی نے سرگوشی کی تھی مگر صائم کو تو جیسے کچھ سنائ ہی نا دے رہا ہو تبھی حبہ نے اسکا ہاتھ پکڑا اور اسے ایک طرف لے گئ۔
پلیز صائم اگر ہوش کھو دوگے تو اسے بھی کھو دو گے یاد رکھنا ۔
صائم نے اثبات میں سر ہلایا اور وہ گیٹ کے پاس آیا جہاں اب ہادی زرار کے ساتھ اپنے آنے کی وجہ بتا رہا تھا۔
رکو میں اندر پوچھ کر آتا ہوں مگر کیمرہ باہر ہی رکھ آنا سمجھے ۔۔
زرار یہ کہہ کر چلا گیا تھا مگر صائم کی نظریں کسی کو ڈھونڈھ رہی تھی ۔
وہ اندر جا چکی ہے مجنو۔۔
ہادی کی بات سن کر صائم کے چہرے پر ایک درد بھری مسکراہٹ کو حبہ دیکھ کر سامنے دیکھنے لگی جونہی سامنے کھڑی گاڑی پر موجود شخص پر حبہ کی نظر پڑی تو وہ اپنے ہوش کھو بیٹھی ۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: