Filhal By Muhammad Shariq – Last Episode 15

0

فلحال از محمد شارق -آخری قسط نمبر 15

–**–**–

حارث پولیس اسٹیشن سے صحیح معلومات فراہم نہیں کر سکا کہ اس دن کیا ہوا تھا مگر اسے قاسم کی باتیں ادھوری لگ رہی تھی ۔۔
وہ قاسم کے ساتھ گاڑی میں بیٹھا تھا قاسم نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالتے ہی اس سے پوچھا کہ اب کہاں جانا ہے تو وہ سوالیہ نظروں سے قاسم کو دیکھنے لگا۔
قاسم سلطان تو مشہور بندہ ہے وہ مجھے مل جاۓ گا مگر کومل کی کوئ تصویر نہیں کچھ نہیں کیوں ؟؟بنگلے میں بھی اسکی ایک بھی چیز موجود نہیں ایک تصویر بھی نہیں ۔۔کیا تم مجھے سب سچ بتاؤ گے ۔۔
قاسم حارث کی آخری بات پر ڈر کر اسکی جانب دیکھنے لگا اور سر جھکاۓ گویا ہوا۔
سر آپکے ساتھ ہوۓ اس حادثے کے بعد جواد صاحب کئ دفعہ بنگلے میں آۓ تھے وہ کومل سے وابستہ ہر شے کو ختم کر چکے تھے ۔۔۔مگر سر !!
اتنا کہہ کر قاسم رکا اور حارث کی طرف دیکھتے ہوۓ دونوں ہاتھ جوڑے اسے طلال کی تمام دھمکیوں اور چالوں کا خلاصہ دینے لگا جس سے حارث کا غصے و تکلیف سے چہرہ سرخ ہو چکا تھا ۔
قاسم کی بات پوری ہوتے ہی حارث نے اسے واپس گھر جانے کا کہا ۔۔اور قاسم نے اسکی تائید میں اسی طرف گاڑی کا رخ کیا ۔کچھ فاصلے طے ہونے کے بعد نہ جانے حارث کو کیا سوجی کہ اس نے قاسم سے کوئ گانے چلانے کا کہا قاسم نے حارث کی جانب چونک کر دیکھا اور کہا۔۔
سر آپ کو یاد ہے جو میڈم جی کا گانا آپ ہر وقت سنتے رہتے تھے وہ تو اس وقت موجود نہیں میں آگے سے لے لیتا ہوں ۔۔
قاسم کی بات سن کر حارث نے اسکی جانب چونک کر دیکھا ۔
میڈم؟؟ کون سا گانا ؟؟؟
قاسم نے ایک جگہ گاڑی رکی اور کہا سر میں سی ڈی لے آتا ہوں آپ سن لیجیے گا ۔۔
قاسم کچھ دیر بعد ہاتھ میں سی ڈی تھامے گاڑی میں آکر بیٹھا اور گاڑی اسٹارٹ کی ساتھ گانا بھی چلایا جسے سن کر حارث کو پھر سے کسی کا دھندلا عکس ستانے لگا تھا۔
ان گنت صدیوں کے تاریخ بیعمانہ طلسم
ریشموں و اطلس کم خواب میں بنواۓ ہوۓ
جانبجہ بکھتے ہوۓ کوچہ و بازار میں جسم
خاک میں لتڑے ہوۓ خون میں نہلاۓ ہوۓ
یہ سننا تھا کہ حارث کو کچھ یاد آتے ہی اس نے جیب سے اپنا والٹ نکالا اور اس میں سے ایک کارڈ نکالا مگر پھر نہ جانے کیا سوچ کر کارڈ واپس جیب میں رکھ دیا۔۔
گھر پہنچ کر وہ کمرے میں جانے لگا تو قاسم کی آواز پر اسکے بڑھتے قدم رکے ۔
سر آپکی غیر موجودگی میں ایک لڑکی پچھلے ایک سال سے آپکو ڈھونڈھ رہی تھی میں نے جواد صاحب کو بھی انفارم کیا تھا مگر انھوں نے منع کیا میرے پاس اسکا نمبر ہے ۔
حارث قاسم کی جانب تیزی سے آیا ۔
یہ بات اب بتا رہے ہو نمبر دو جلدی ۔۔
قاسم نے اسے نمبر دیا جسے سل پر وہ فوراً ڈائل کر چکا تھا مگر آگے سے کوئ فون اٹھا نہیں رہا تھا۔۔۔
قاسم مجھے اس نمبر کا لوکیشن چاہیۓ ابھی ۔۔۔
حارث اب پہلے والے اس پی جیسا بن چکا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بانو بیگم کا کھوٹا آج کچھ زیادہ ہی سجایا گیا تھا۔
حبہ نے ستارہ اور چاند کے ساتھ رقص کی تیاری کی تھی مگر بانو کی ہر وقت موجودگی کی وجہ سے وہ ان دونوں سے کوئ بات نہیں کر پائ تھی ۔۔۔
آخر وہ وقت آگیا جسکا سب کو انتظار تھا محفل سج چکی تھی مگر چند لوگوں کی موجودگی کے باوجود بانو اتنا کما چکی تھی جتنا وہ ایک مہینے میں بھی نہیں کما پاتی تھی ۔۔
شمعیں مدھم ہوئ اور حبہ پیرو میں گنگروں باندھے اک ادا سے جلوہ گر ہوئ ۔مگر اسکی نظریں جسے ڈھونڈھ رہی تھی وہ اسے نظر آیا تو اسے دیکھتے ہی حبہ بولی
کیسی ہے یہ داستان کچھ نہ ہم نے کہا کچھ نہ تم نے کہا
بات پہنچی کہاں سے کہاں
اور پھر رقص شروع ہوا۔
یہ اچھی پردہ داری ہے
یہ اچھی رازداری ہے
جو آۓ تمھارے بزم میں
دیوانہ ہوجاۓ
تو نے دیوانہ بنایا تو میں دیوانہ بنا
اب مجھے ہوش کی دنیا میں تماشہ نہ بنا۔۔
حبہ اپنے رقص سے سماں باندھ چکی تھی اور اسکی نظر دشمن جان پر بھی پڑ چکی تھی ۔
میں اپنے آہ کے صدقے کہ میری آہ میں بھی
تیری نگاہ کے انداز پاۓ جاتے ہیں۔
یوسف مصر شارق تیرے جلوہ کے نثار
میری بیداریوں کو خواب ذلیخہ نہ بنا
تو نے دیوانہ بنایا تو میں دیوانہ بنا۔
۔۔۔۔۔۔…………………….
حارث اس نمبر کا لوکیشن ٹریس کر چکا تھا اور وہ جہاں اپنی گاڑی میں موجود تھا اسے حیرت تھی کہ وہ وہی جگہ تھی جہاں وہ کچھ دن پہلے بھی آیا تھا وہ گاڑی سے اترا تھا کہ اسے سریلی بول سنائ دیے
تیری صورت سے نہیں ملتی کسی کی صورت
ہم جہاں میں تیری تصویر لیے پھرتے ہیں۔۔
حارث اب اسی جانب بڑھا تھا ۔۔
۔۔۔۔………………….
حبہ کا رقص جاری تھا کہ ستارہ بھی محفل کی خوبصورتی بڑھانے آگئ ۔۔
ذوق برباد ء دل کو بھی نہ کر تو برباد
دل کی اجڑی ہوئ بگڑی ہوئ دنیا نہ بنا
تو نے دیوانہ بنایا تو میں دیوانہ بنا
اب صائم کی باری تھی ضبط کرنے کی کیونکہ پلان ہی یہی تھا کہ جب تک تینوں ساتھ نہیں ہوگی کوئ بھی کسی قسم کا ردعمل نہیں کرے گا کیونکہ سلطان دانی سے معلومات لے چکا تھا کہ کھوٹے میں اسلحے لیے بانو کے کافی بندے ہر وقت موجود رہتے ہیں اسلۓ صائم غم و غصے کی ملی جلی کیفیت لیے ستارہ اپنی نمرہ کو دیکھے جا رہا تھا جو ان بولو پر رقص کر رہی تھی حبہ کے ساتھ
تو ملا بھی ہے تو جدا بھی ہے تیرا کیا کہنا
تو صنم بھی ہے اور نہیں بھی ہے تیرا کیا کہنا
یہ تمنا ہے کہ آزاد تمنا ہی رہوں
دل مایوس کو مانوس تمنا نہ بنا۔
جو بہار آئ میرے گلشن جان سے آئ
خاک کے ڈھیر میں یہ بات کہاں سے آئ
نگاہ ناز سے پوچھے گیں کسی دن یہ سہی
تو نے کیا کیا نہ بنایا کوئ کیا کیا نہ بنا۔
تو نے دیوانہ بنایا تو میں دیوانہ بنا۔۔
سلطان جو کب سے چاند کا انتظار کر رہا تھا دانی کے اشارے پر بڑی ہوشیاری سے ہادی اور صائم کو بتا کر اسی طرف گیا
کیا ہوا دانی ؟؟
سلطان نے دانی سے پوچھا۔
میں نے جان بوج کر سارے بندوں کو مین گیٹ پر معمور رکھا ہے تو بتیاں بند ہوتے ہی آپ سب اسی طرف ہی آنا آگے کا رستہ بالکل خالی ہے ۔
سلطان اثبات میں سر ہلاتا جونہی مڑا تھا تبھی چاند کو دو لڑکیوں کے ساتھ جاتا دیکھا۔۔
دانی نے جب یہ دیکھا تو ان لڑکیوں کو آواز دی ۔
اے لڑکیوں تم جاؤ چاند کو میں اندر بھجوا دونگی ۔
ان لڑکیوں کے جاتے ہی دانی سلطان کا ہاتھ تھامے اسے چاند یعنی کومل کی طرف لے گئ اور اسے اسکے سامنے کھڑا کر دیا۔
کومل اپنے سامنے کسی مرد کو کھڑا دیکھ کر پریشان ہو گئ جو اسے صحیح نظر نہیں آرہا تھا مگر سلطان کی آنکھیں چھلک چکی تھی کیونکہ اسے پتہ تھا کہ کومل اسے دیکھ نہیں سکتی ۔۔
کیا ہوا چاند دیکھ نہیں سکتی تو من کی آنکھوں سے دیکھ لے ۔کومل بیٹا تیرا چاہنے والا تجھ تک پہنچ گیا ۔۔
کومل کی تو کچھ سمجھ نہیں آرہا تبھی دانی نے اس سے جو کہا وہ سن کر کومل حیرت کے مارے سامنے کھڑے شخص کو جو اسے دھندلا نظر آرہا تھا اسکی جانب ایک قدم بڑھی اور اس سے لپٹ گئ ۔
میں ڈر گئ تھی بہت ڈر گئ تھی اور آپ اب آۓ ہیں۔۔
سلطان کو ساحل کا وہ منظر یاد آنے لگا اسکے دل کی دھڑکنیں تیز ہوتی کچھ کہہ رہی تھی کومل سے ۔
سینے سے تم میرے آکے لگ جاؤ نہ۔
ڈرتے ہو کیو ذرا پاس تو آؤ نہ
دھن میری دھڑکنوں کی سنو۔
چل وہاں جاتے ہیں
پیار کرنے چلو ہم وہاں جاتے ہین۔
لیکن ذہن میں کچھ آتے ہی وہ کومل سے الگ ہوا
کومل تم اندر جاؤ اور دونوں لڑکیوں میں سے کسی ایک کا ہاتھ تھامے رکھنا ٹھیک ہے نا اچھا دانی اب سب سنبھال لینا۔
سلطان یہ کہہ کر چلا گیا مگر کومل کو حیران کر گیا کیونکہ وہ اسے کوئ اور سمجھ بیٹھی تھی ۔
…………………………
حارث بانو بیگم کے کھوٹے کے پچھلی گیٹ سے نہایت ہوشیاری سے اندر داخل ہوا ہی تھا کہ ہر طرف اندھیرہ پھیل گیا ۔
ابھی کچھ دیر ہی ہوئ تھی کہ کھوٹے کے اندر فائرنگ کی بے تہاشا آوازیں سن کر حارث بھی اپنی بندوق سنبھالے اندر کی جانب بڑھا۔۔۔
……………………….
کومل کا ہاتھ تھامے نمرہ حبہ کے پیچھے پیچھے آرہی تھی اسے اندھیرے میں کچھ دکھائ نہیں دے رہا تھا کہ تبھی دانی ہاتھ میں ایک چھوٹا سا ٹارچ تھامے انکی جانب آئ لیکن دانی کے عقب میں نم آنکھیں لیے کھڑے شخص کو دیکھ کر نمرہ کو اپنی نظروں پر یقین نہیں آرہا تھا ۔وہ شخص نمرہ کے پاس آیا اور دونوں ہاتھوں سے اسکا چہرہ تھامے رو پڑا۔
مجھے معاف کردو نمرہ معاف کردو۔
صائم کو دیکھ کر اور محسوس کر کے نمرہ کو اپنے آپ کو سنبھالنا مشکل لگنے لگا تھا اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی سلطان اور ہادی وہاں پہنچے اور سب سے جلدی جلدی نکلنے کا کہا۔
وہ ابھی راہداری میں تھے کہ سب طرف روشنی ہوئ اور زرار اپنے ساتھ کچھ بندو کو لیکر وہاں پہنچا انکا انتظار کر رہا تھا مگر اس سے پہلے کہ کوئ بات ہوتی دانی نے اپنے دوپٹہ میں چھپے پستول سے زرار کی جانب فائر کیا جس سے وہ لوگ ایک طرف ہو گۓ تو دانی نے باقی سب کو جانے کا کہا اور خود رستے میں کھڑی ہوگئ ۔۔
سب سے آخر میں نمرہ اور صائم تھے تو حبہ انھیں پیچھے آتا دیکھ کر انکے پیچھے پیچھے آنے لگی اور مڑ مڑ کر دانی کی جانب دیکھنے لگی ۔
تبھی زرار کے کہنے پر اسکے بندو نے اندھا دھند فائرنگ شروع کی جس کی ضد میں سب سے پہلے دانی آئ اور جب سلطان نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اسے حبہ لڑکھڑاتی ہوئ آتی دکھائ دی اس نے صائم کو آواز دی کیونکہ وہ حبہ کے قریب تھا۔
صائم سلطان کی آواز اور اشارے پر فوراً حبہ کی جانب بھاگا اور اسے اٹھا کر باہر کی جانب آیا ۔
سب باہر آۓ تو نمرہ کی نظر حبہ پر پڑی جسکا لہنگا خون سے بھر چکا تھا تو نمرہ چیختی ہوئ اسکی جانب بڑھی ۔
کومل کا ہاتھ سلطان نے تھام رکھا تھا نمرہ کی چیخ سے کومل بھی ڈر گئ تھی تو اسنے اپنی گرفت سلطان کے ہاتھ پر اور مضبوط کردی ۔
رکو مت باہر نکلو پلیز ۔
سلطان کے کہنے پر صائم حبہ کو اپنی گود میں لیے سب کے ساتھ باہر آیا مگر وہاں حارث کو داخلی گیٹ پر دیکھ کر پہلے تو سلطان اسے پہچان نہ سکا مگر جب اسے غور سے دیکھا تو کومل کا ہاتھ چھوڑ کر اسکی طرف دوڑا ۔
حارث یہ تم ہی ہو نہ نکلو یہاں سے اور اپنی گاڑی جلدی لے آؤ ۔
حارث بھی سلطان کو پہچان چکا تھا وہ بہت کچھ پوچھنا چاہتا تھا مگر حبہ پر نظر پڑتے ہی وہ باہر کی جانب بڑھا اور باقی سب بھی ۔
پاشا بھی وہاں پہنچ چکا تھا سب دونوں گاڑیوں میں بیٹھ کر نکلے ۔
حارث کے ساتھ سلطان اور کومل تھے جبکہ پاشا کے ساتھ صائم جس نے پورا رستہ حبہ کو سنبھالے ہوۓ تھا اور نمرہ اور ہادی تھے ۔
تم نے ایسا کیوں کیا میں تمھیں دیکھ چکا تھا تم ہم سے آگے تھی تو پیچھے کیوں چلی گئ ۔
صائم روندھی آواز کے ساتھ حبہ سے سوال کر رہا تھا۔
کیونکہ مجھے لگا تم مجھ سے کہہ رہے تھے کہ
کچھ ایسا کر کمال کہ تیرا ہوجاؤں میں کسی اور کا ہوں فلحال کہ تیرا ہوجاؤں ۔
حبہ یہ کہتے ہی آنسوؤں سے تر چہرہ لیے صائم اور نمرہ کو دیکھنے لگی تھی اسکی سانسیں اکھڑنے لگی تھی ۔
تبھی گاڑی رکی اور پاشا نے سبکو اترنے کا کہا کیونکہ وہ اس وقت ایک چھوٹے سے کلینک کے پاس پہنچ چکے تھے ۔
حارث گاڑی چلاتے ہوۓ کئ بار کومل کی جانب دیکھ چکا تھا جو کہ بیک سیٹ پر بیٹھی تھی ۔
تبھی پاشا کی گاڑی رکتے ہی سلطان نے اسے گاڑی روکنے کا کہا اور ایک نظر کومل پر ڈال کر بنا کچھ کہے اتر گیا۔
سب کھڑے ڈاکٹر کا انتظار کر رہے تھے جو حبہ کا ٹریٹمنٹ کر رہا تھا ۔
ڈاکٹر کے کمرے سے باہر آتے ہی صائم اور ہادی بھاگ کر اسکے پاس پہنچے ۔
ڈاکٹر کیسی ہے وہ ؟؟
ہادی کے پوچھنے پر ڈاکٹر نے افسوس بھرے لہجے میں بولا۔
گولیاں زیادہ لگنے سے خون بہت بہہ چکا ہے اسلۓ انکا بچنا نا ممکن ہے آپ سے ملنا چاہتی ہے جلد از جلد مل لے ۔
یہ سننا تھا کہ سب حبہ کے پاس پہنچے سب سے آگے صائم تھا ۔
حبہ کی نظریں بھی صائم کے انتظار میں تھی ۔
کیوں کیا ایسا میں تمھارے احسانوں کا کوئ بدلہ بھی نہیں دے سکتا ۔۔۔
صائم روتے ہوۓ بولا جبکہ نمرہ جو صائم سے حبہ کی مدد کے بارے میں جان چکی تھی اسے بھی حبہ کیلۓ بہت دکھ ہو رہا تھا ۔
بدلہ دے سکتے ہو کچھ مانگوں گی دوگے ۔
حبہ نے چہرے سے آکسیجن ماسک ہٹا کر صائم اور نمرہ کو سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوۓ پوچھا تو ہادی نے فوراً آکر ماسک واپس اسے پہنایا
اسکے جسم پر جانبجا گولیاں لگنے سے خون بہہ رہا تھا مگر نظروں نے اب بھی اپنے محبوب کو اپنے حصار میں لیا ہوا تھا۔۔
اسکی کہی باتیں اسے سمجھ نہیں آرہی تھی ۔
وہ اسے اسطرح دیکھ کر تڑپ رہا تھا تبھی اسکی ہونٹوں نے ہلکی سی جنبش کی اور جو اس نے کہا اس سے وہ حیرت میں پڑھ گیا۔
سن۔سن۔سنو میرے مرنے سے پہلے مجھ سے نکاح کرلو پلیز!!!
اسکی یہ بات وہی موجود سب نے سنی اور سب کی آنکھیں نم تھی۔
جاری ہے ۔
————–
فلحال
از : محمد شارق
قسط 16 ( آخری )
کیا کہوں تم عجیب لگتے ہو
دور جتنا بھی جارہے ہو تم
مجھ کو اتنے قریب لگتے ہو
کیا کہوں تم عجیب لگتے ہو
میری قسمت میں تم نہیں پھربھی
مجھکو اپنا نصیب لگتے ہو
حبہ کا سوال سبکو رلا چکا تھا
ہادی نے صائم اور نمرہ کی جانب التجائ نظروں سے دیکھا۔۔
اسی وقت حارث کا فون بجا تو وہ وہاں سے باہر آیا۔
صائم خاموش تھا اور حبہ کی سانسیں اکھڑنے لگی تھی ۔۔
تبھی اپنے کندھے پر نمرہ کی گرفت محسوس کرتے ہی صائم اسکی جانب مڑا جسکی نم آنکھیں اور اثبات میں ہلاتے سر سے وہ اسکا فیصلہ سمجھ کر حبہ کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے اسکی جانب دیکھنے لگا ۔
ہادی نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر نکاح پڑھایا۔
کومل کی حالت بھی رو رو کر بری ہو رہی تھی مگر سلطان چاہ کر بھی اسے سنبھال نہیں پا رہا تھا ۔۔
حارث کچھ بتانے کیلۓ اندر آیا تو وہاں کا سماں دیکھ کر چھپ چھاپ سب ہوتا دیکھنے لگا مگر اسے دیکھتے ہی سلطان نے اسکی توجہ کومل کی جانب کرانے کیلۓ اس سے کہا۔
کومل بہت رو رہی ہے اسے سنبھالو پلیز ۔۔
کومل کا نام اور اسکی طرف اشارہ کرتے سلطان کی نگاہوں کے تعاقب کرتا حارث اب اسے دیکھے جا رہا تھا ۔
بہت کچھ جو اب تک ذہن میں دھندلا پڑا تھا ان سے دھند چٹھنے لگی تھی ۔
حارث کی پلکیں بھیگ رہی تھی وہ بوجل قدموں سے اسکی جانب بڑھتا اس تک پہنچا اور پل بھر میں اسے اپنی بانہوں میں لے لیا۔۔
کومل میری زندگی !!
کومل کی سماعتوں میں حارث کی آواز پڑتے ہی وہ خود پر قابو نہ کر پائ اور بلک بلک کر رونے لگی ۔
نکاح ہوتے ہی ہادی نے اپنی جیکٹ سے نکاح کے پیپر نکالے جو وہ حبہ کے منتیں کرنے پر پہلے ہی بنوا چکا تھا اور اس پر حبہ کے سائن بھی پہلے سے ہی موجود تھے ان پر صائم کے دستخط لیے اور حبہ سے مخاطب ہوا۔
حبہ میری بہن !! میں نے اپنا وعدہ نبھا لیا !!!
یہ کہتے ہی ہادی روتے ہوۓ باہر چلا گیا۔۔
اسکے جاتے ہی سلطان اور اسکے پیچھے حارث کومل کو تھامے باہر نکلا تو نمرہ بھی انکو اکیلا چھوڑنے کے غرض سے باہر نکل رہی تھی مگر حبہ کی آواز پر رکی۔
رکو!نمرہ !!
صائم تم سے بہت محبت کرتا ہے صرف تم سے ! میرا پیار ایک طرفہ ہے اور موقع ملتے ہی میں نے بس اپنا نام صائم کے ساتھ جوڑ دیا ۔۔
نمرہ روتے ہوۓ حبہ کی طرف دیکھنے لگی تھی ۔
حبہ اب صائم سے مخاطب ہوئ ۔
صائم !!
I Love you
اتنا کہتے ہی اسکی سانسیں رکنے لگی تھی،،
آنکھوں کے سامنے اندھیرہ چھانے لگا تو اس نے صائم کو تھام کر اسکے قریب ہونے کی کوشش کی نمرہ سے یہ سب دیکھنے نہیں ہو رہا تھا تو وہ بھی اپنے آنسو پونچھتے ہوۓ باہر نکلی ۔
صائم نے حبہ کو ایسا کرتا دیکھ اسے اپنی بانہوں میں بھر لیا جس سے حبہ کو شاید بہت سکون مل چکا تھا۔۔
صائم ! کچھ کہو نہ جسے سن کر مجھے راحت ملیں ۔ مجھے سنبھالو ورنہ میں بہت تکلیف سے مروں گی۔
صائم حبہ کی باتیں سن کر مزید رونے لگا۔۔
حبہ ! یہ جھوٹ ہے کہ پیار صرف ایک دفعہ ہی ہوتا ہے نکاح کے بعد مجھے بھی تم سے پیار ہو گیا ہے میں اب حق سے کہہ سکتا ہوں کہ I love you too
حبہ شاید یہی سننے کیلۓ سانسیں لے رہی تھی مگر صائم بہت کچھ کہے جا رہا تھا ۔۔
حبہ کی طرف سے کوئ جواب نہ پا کر صائم نے اسکے چہرے کی جانب دیکھا جو اب پرسکون تھا اور صائم کو گھیرتی اسکی بانہوں کی گرفت ڈھیلی پڑ گئ تو صائم نے ایک قرب سے اسے جنجھوڑا مگر حبہ کی طرف سے کوئ جواب نہ پاکر صائم نے اسے اپنے بے حد قریب کیا اور اسکے معصوم چہرے پر ہاتھ پھیرتا اسکے ہر نقش کو محسوس کرکے اسکی پیشانی پر اپنی محبت کی مہر دیکر اسے دوبارہ اپنی آغوش میں لیے رونے لگا۔
:”:”:’::”؛’؛’؛’؛”:”؛”؛”:”:”:”:”
ہادی صائم اور نمرہ کے ساتھ ایمبولینس میں حبہ کے ساکت وجود کو لیے وہاں سے نکل چکے تھے اب کلینک کے باہر سلطان حارث کومل اور پاشا موجود تھے ۔
حارث کا فون بجا اور اس پر ملنے والی اطلاع اب وہ وہاں موجود تینوں نفوسوں کو بتانے لگا۔
بانو بیگم کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور لڑکیوں کو بھی بازیاب کرا لیا گیا ہے مگر زرار فرار ہو چکا ہے اسے اسےپولیس ڈھونڈھ رہی ہیں۔۔
یہ سنتے ہی کومل نے ڈرتے ہوۓ دانی کا پوچھا ۔
اور دانی کہاں ہے مجھے دانی کے بارے میں بتائیں؟؟
کومل سوالیہ اور التجايانہ لہجے میں پوچھ رہی تھی تو حارث نے اسکی جانب دیکھ کر افسوس سے کہا۔
وہ دانی کی ڈیڈ باڈی ملی ہے ۔۔۔۔
یہ سننا تھا کہ کومل کے منہ سے ایک دلسوز چیخ نکلی اور وہ رونے لگی تو سلطان جو اسکی جانب بڑھنے لگا تھا حارث کو اسکی طرف جاتا دیکھ کر رک گیا۔
کومل پلیز رونا بند کرو !!
حارث نے کومل کو اپنی بانہوں میں لیے کہا تو کومل نے روتے ہوۓ جو کہا اسے سن کر حارث بھی تلملا اٹھا۔
دانی کو ہی پتہ تھا کہ میرا بیٹا کہاں ہے اب ہم کیسے ملے گیں اس سے ؟؟؟؟
حارث نے کومل کو خود سے الگ کیا اور حیرت سے پوچھا ۔
کیا بیٹا!!!؟؟؟
کومل نے اسے ساری باتیں بتانا شروع کی جسے سن کر حارث کے ساتھ سلطان بھی رو پڑا تھا ۔۔
کومل کی بات پوری ہوتے ہی سلطان انکے قریب آیا۔
حارث دانی مجھے بتا چکی ہے کہ آپ کا بیٹا کہاں ہے !!
یہ سننا تھا کہ دونوں کے چہرے دھمکنے لگے مگر اچانک دور سے آتی گاڑیوں کے شور سے پاشا دھاڑا سر نکلے یہاں سے یہ زرار کے بندوں کی گاڑیاں ہے میں انھیں پہلے بھی دیکھ چکا ہوں ۔۔
یہ سن کر حارث کومل کا ہاتھ تھامے تیزی سے اسے گاڑی میں بٹھا کر وہاں سے نکلا اور انکے ساتھ ہی دوسری گاڑی بھی نکلی جس میں سلطان اور پاشا تھے ۔
سنسان سڑک اور آڑا ترچھا راستہ اس پر ان دو گاڑیوں کے تعاقب میں پانچ گاڑیاں ۔۔فضاء میں عجب سا شور برپا کر رہا تھا ۔کیونکہ اب پیچھا کرتے گاڑیوں سے وقفے وقفے سے فائرنگ بھی ہو رہی تھی جسے سن کر سلطان نے اب حارث کی گاڑی کو کور دیا ہوا تھا حارث کی گاڑی کافی دور نکلی تو اس نے پولیس اسٹیشن کال کرکے فورس طلب کی ۔
اب ان گاڑیوں نے دونوں طرف سے سلطان کی گاڑی کو گھیر لیا تھامگر سلطان نے نہایت ہوشیاری سے انھیں ان بیلنس کرا کر سڑک کےکچھے حصے کی طرف لڑکھا دیا ۔۔
اچانک باقی تینوں گاڑیوں نے بھی سلطان کی گاڑی کو تینوں طرف سے گھیرا اور ایک طرف کی گاڑی کو سلطان پے در پے تصادم سے ان بیلنس کرا چکا تھا مگر باقی دو گاڑیوں سے اب فائرنگ شروع ہو چکی تھی سلطان ڈرائیونگ سیٹ سنبھالے ہوۓ تھا اور پاشا برابر میں ۔۔
پاشا کی سائیڈ کوئ گاڑی نہ تھی تو فائرنگ اسٹارٹ ہوتے ہی پاشا کو کچھ ہدایت دیکر پستول اسے دیکر گاڑی سے کھودنے کا کہا پاشا نے منع کیا مگر سلطان نے اسکی ایک نہ سنی اور مجبور ہو کر پاشا کھود گیا اسکے کھودتے ہی سلطان نے گاڑی کی اسپیڈ بہت بڑھائ مگر باقی دونوں گاڑیوں کے تصادموں اور فائرنگ کی زد میں سلطان کی گاڑی کا ٹائر آتے ہی اسکی گاڑی ایک جھٹکے سے الٹ گئ اور باقی گاڑیاں بھی اسکی ضد میں آگئ اور پھر ایک دھماکہ ہوا اور تینوں گاڑیاں اب آگ کی لپیٹ میں تھی ۔
یہ منظر حارث دیکھ چکا تھا مگر وہ اب کومل کی طرف دیکھ رہا تھا جو اس کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
،،،،،،،،،،………………………………………..
حبہ کی تدفین ہو چکی تھی اسکی خواہش پوری ہو چکی تھی مگر اسکے مرنے کے بعد ۔۔
اسکی قبر کے تختہ پر اسکی خواہش پوری ہونے کی مہر تھی
حبہ زوجہ صائم
اس وقت ہادی کے بلانے پر صائم نمرہ کو لیکر حبہ کے اپارٹمنٹ آیا تھا ۔
صائم یہ لو فائل اس میں حبہ کا اقرارنامہ ہے جس میں اس نے یہ اپارٹمنٹ اور اسکا بینک بیلنس تمھارے نام کیا ہوا ہے اور منع مت کرنا کیونکہ یہ سب اسکی خواہش تھی ۔
ہادی صائم کو چونکا چکا تھا ۔۔
صائم نے حبہ کی خاطر وہ فائل لے لیا تو ہادی نے اسکی جانب ایک اور خاکی پیکٹ بڑھایا ۔
صائم حبہ نے یہ پیکٹ بھی تمھیں دینے کا کہا تھا کہ اسکی تلاش اب تم پوری کرو ۔
صائم اس پیکٹ کو پہچان چکا تھا اس نے ہادی کے سامنے وہ پیکٹ کھولا جس میں کچھ رپورٹز اور ایک سی ڈی اور لیٹر تھا وہ اب اس لیٹر کو پڑھ رہا تھا ۔
…………………………………………………..
حارث اور کومل دونوں اس وقت حارث کے بنگلے میں موجود تھے ۔
حارث کافی دیر سے کومل کو کھانے کھلانے کی کوشش کر رہا تھا جس نے رو رو کر اپنا برا حال کر رکھا تھا۔
پلیز کومل کچھ کھالو میری خاطر پلیز !!
حارث ایک اور کوشش کر رہا تھا۔
میں نے اسے دیکھا تک نہیں کیونکہ مجھے اجازت نہیں دی تھی ظالموں نے
اور جن سے امید تھی کہ انکی وجہ سے اپنے بچے کو دیکھ پاؤنگی وہ امید بھی ختم ہوگئ ۔
کومل رو پڑی تھی کیونکہ دانی کے بعد سلطان ہی اسکی آخری امید تھی مگر وہ بھی اس حادثہ میں مر چکا تھا ۔۔
حارث نے کھانے کی پلیٹ ایک طرف رکھی اور کومل کو اپنی بانہوں میں لے لیا۔
فلحال تم کھانا کھالو پھر ہمیں آئ سرجن کے پاس بھی جانا ہے تمھاری آنکھوں کا چیک اپ کروانے ۔
فلحال لفظ سنتے ہی کومل نے اسکی طرف دیکھا۔
خدا کیلۓ یہ منحوس لفظ میرے سامنے نہ بولا کریں یہ فلحال !!!
کومل نے غصے سے کہا تو حارث اسے صوفے پر بٹھا کر اسکے پاس بیٹھا۔
دیکھوں کومل کوئ لفظ ہمارے لیے برے نہیں ہوتے ہم خود بنا لیتے ہین اور فلحال تو ایک حقیقت ہے جو ہمارے سامنے ہوتا ہے ہم اس میں پل بھر کیلۓ ہی سہی یقین سے جی لیتے ہیں اسلیے آئندہ ایسا مت کہنا اوکے !!
حارث نے یہ کہتے ہوۓ اس کی جانب محبت بھری نظروں سے دیکھا تبھی دروازوے پر دستک کی آواز سنتے ہی وہ کمرے سے باہر آیا جہاں ملازمہ نے اسے ہادی اور صائم کی آنے کی اطلاع دی۔۔
………………………..
حارث کے ہاتھ میں وہی لیٹر تھا جو صائم کو حبہ کے اسی پیکٹ سے ملا تھا ۔
وہ لیٹر ڈاکٹر سعید کا لکھا ہوا تھا جسے انھوں نے اپنی علالت کے ایام میں لکھا تھا ۔۔
ہر لائن بہت سارے راز افشا کر رہی تھی کہ کس طرح ان کو دھمکی دی گئ تھی بیٹی کا نام لیکر اور جھوٹی رپورٹز بنوائ گئ تھی ۔
حارث لیٹر پڑھ کر ایک گہرا سانس لیکر دونوں کی جانب دیکھنے لگا۔
اسکا مطلب حبہ ڈاکٹر سعید کی بیٹی تھی اور پچھلے ایک سال سے مجھے ڈھونڈھ رہی تھی ۔۔
ہادی نے اثبات میں سر ہلایا اور کچھ دیر ہلکی پلکی بات چیت کرنے کے بعد وہ دونوں وہاں سے چلے گؐؐۓ۔۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
پانچ سال بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صائم اور نمرہ دونوں اس وقت حبہ کی قبر پر موجود تھے ۔
دیکھو نمرہ آج بھی صائم جلدی جلدی بول بول کر مجھے ٹھیک طرح تیار بھی ہونے نہیں دیا ۔۔
نمرہ کے چھپ ہوتے ہی اب صائم بول پڑا ۔
نہیں تو کیا مجھے تم سے ملنا تھا اور یہ چھوٹی حبہ بھی بہت ضد کر رہی تھی ۔
حبہ کی قبر پر سرخ گلاب رکھتے ہوۓ صائم اور نمرہ کے ساتھ دو ننھے ہاتھ اور تھے جو ان دونوں کی بیٹی کے تھے جسکا نام حبہ رکھا تھا صائم نے۔۔۔۔۔۔۔
………………………..
………………………..
وہ اس وقت ایئرپورٹ سے اپنا لگیج لیے باہر کی جانب جا رہے تھے کہ ایک تین سال کے ننھے سے بچے نے آکر اسکے پیر پکڑے اور چھپنے لگا تو اس کے ساتھ موجود سات آٹھ سال کا لڑکا چلایا ۔
hey u little boy leave my dad!!
اپنے بیٹے کو ہنس کر دیکھنے کے بعد وہ اب گھٹنوں کے بل بیٹھا اس ننھے بچے سے مخاطب ہوا۔۔
آپ یہاں کیا کر رہی ہے لٹل پرنس؟؟
میں hide nd seek کھیل رہا ہوں اور میں پرنس نہیں سلطان ہوں وہ دیکھو وہ رہی مما مجھے چھپا لے انکل۔۔۔
وہ بچے کی بات پر مسکرا رہا تھا کہ کسی کی شناسا آواز سن کر اس طرف دیکھنے لگا جس طرف بچے نے بھی اشارہ کیا تھا تو اسکی پیروں کے نیچھے سے گویا زمین کسی نے کھینچ لی دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہونے لگی۔
سلطان !!!سلطان !!!
یہ کومل تھی ۔۔
ہارون!اس لٹل پرنس کو اسکی مما تک چھوڑ کر جلدی آؤ اینڈ رکنا مت وہاں اوکے!!
اس نے اپنے بیٹے کو ہدایت دی تو وہ اس بچے کا ہاتھ تھامے اسے اسکی ماں کی جانب لے گیا جہاں اب حارث بھی پہنچ چکا تھا
وہاں پہنچا تو اس نے اس بچے کی ماں کو آواز دی ۔
آنٹی یہ رہا آپ کا سلطان ۔۔
وہ اس بچے کو وہان پہنچا کر بھاگتا ہوا اپنے باپ کے پاس آیا تو وہ اسکو لیے ایک طرف گیا اور فون نکال کر کسی کو کال کرنے لگا۔
ھیلو پاشا کہاں ہو لگتا حارث کی فیملی بھی یہی آئ ہوئ ہے پتہ کرو اور اگر وہ یہاں رکنے والے ہیں تو ہمارے لیے دوبارہ لندن کی ٹکٹ کروا لو فوراً ۔۔
اس نے یہ کہہ کر فون کاٹ دیا اور ہارون کو اپنی بانہوں میں بھر لیا۔
میں تمھیں کھونے نہیں دونگا ہارون اور نہ ہی اب اسکی زندگی میں کوئ تکلیف اور آنے دونگا ۔۔
وہ اب ہارون کا ہاتھ تھامے وہاں سے جانے لگا تھا۔۔۔۔
اب ہارون ہی اسکی زندگی کا واحد سہارا تھا۔۔۔۔ اور کسی کی آخری نشانی سلطان کیلۓ!!!!
–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Pagal Aankhon Wali Larki Novel by Eshnaal Syed – Episode 7

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: