Galat Fehmi Novel By Ayesha Khanzadi – Episode 1

0
 غلط فہمی از عائشہ خانزادی – پہلا حصّہ

–**–**–

آپ ایسے بات نہیں کرسکتے ان سے، یہ ہمارے شوہر ہیں، ہانیہ نے حماد کو پیچھے کیا اور خود اپنے بھائی کہ سامنے آگئی،
فیضان صاحب سے یہ برداشت نہیں ہوا تھا کہ ان کی بہن جس کو انہوں نے ماں باپ دونوں بن کہ پالا وہ انہیں یہ دن دکھائے گی،
“میں نہیں مانتا اس نکاح کو”، فیضان صاحب نے اپنے جذبات کو قابو کرتے ہوے تیش میں کہا،
آپ کہ ماننے نا ماننے سے کچھ نہیں ہوگا، ہمارا حماد سے نکاح ہوگیا ہے، اور یہ ہمارے شوہر ہیں، ہمارے بھائی ہونے کی حثیت سے اپکا فرض ہے آپ ان کی عزت کریں، چونکہ ہمارا نکاح ہوگیا ہے، اب آپ بھی یہ بات تسلیم کرلیں، اور ہمارے رشتے کو قبول کریں، ہانیہ نے آواز دہیمی پر لہجہ سخت رکھا تھا،
نکل جاؤ میرے گھر سے ابھی اسی وقت، فیضان صاحب نے ہانیہ کو اپنی طرف کھینچا اور حماد کو باہر کا راستہ دکھایا،
آپ میرے بڑے ہیں اسلئے میں آپکہ سامنے ہاتھ جوڑ کر درخواست کرتا ہوں، ہانیہ کو میرے ساتھ جانے دیں، حماد نے ہاتھ جوڑتے ہوے بہت ہی مودبانہ لہجے میں کہا،
یہ کہیں نہیں جائیگی، آئ سمجھ، یہ میری بہن ہے، اور میرے ساتھ ہی رہےگی، فیضان صاحب نے غصہ سے کہا،
ٹھیک ہے ، یہ بات ہانیہ کہے تو میں چپ چاپ اسی وقت طلاق دے کر چلا جائونگا، حماد نے کہا،
ہانیہ مجھے چھوڑ کر کبھی جا ہی نہیں سکتی ہے، بتا دو اسکو ہنی” فیضان صاحب نے فخرانہ انداز میں ہانیہ سے پوچھا،
ہانیہ خاموش تھی، فیضان صاحب نے ہانیہ کو خاموش دیکھ کر پھر سے کہا” بتاؤ نا”
ہانیہ نے آنکھیں بند کیں، اور ہاتھ سے حماد کی جانب انگلی کی، فیضان صاحب کی ہانیہ کہ ہاتھ پر پکڑ ڈہیلی پڑھ گئی،
اور فیضان صاحب سوفے پر اس طرح سے گرے جیسے ان کہ جسم سے روح پرواز کر چکی ہو،
بھائی!بھائی! ہانیہ فیضان صاحب کہ
گھٹھنے کہ قریب ہو کر بیٹھ گئی، بھائی مجھے معاف کردیں، میں اپنے پیار کہ ہاتھوں مجبور ہوں، ہانیہ رو رہی تھی، فیضان صاحب نے آنکھیں اٹھا کر ہانیہ کو دیکھا، جن میں پانی کا سہلاب تھا،” لے جاؤ اسی” فیضان صاحب نے ہانیہ کو دور دھکّہ دے کر حماد کو کہا،
حماد ہانیہ کو لے کر جارہا تھا، فیضان صاحب کو یوں لگ رہا تھا، جیسے ابھی ہی ان کی سانسیں روک جائیں گیں، فیضان صاحب اپنے کمرے میں جانے کہ لئے اٹھے، اور دھڑام سے زمین بوس ہوگئے، دونوں ہاتھوں سے دل کو تھامے درد سے تڑپ رہے تھے،
ہانیہ بھاگ کر اپنے بھائی کہ پاس آئ، سامنے سے شکیل( نوکر ) بھاگ کر آیا، جو دروازے کہ پیچھے کھڑے سب تماشا دیکھ رہا تھا،
حماد بھی فیضان صاحب کو اٹھانے میں مدد کرہا تھا، فیضان صاحب نے دونوں کو دھکا دیا، شکیل دوسرے ملازم کی مدد سے فیضان صاحب کو ہسپتال لے گیا،
حماد بھی ہانیہ کو ساتھ لے گیا،
دوسرے دن ہانیہ حماد ہسپتال میں تھے، فیضان صاحب کی حالت اب بہت بہتر تھی، ان دونوں کو دیکھ کر آگ بگولہ ہوگئے، دیکھیں ہم سے غلطی ہوئی ہے، آپ ہانیہ کو معاف کردیں یہ آپ سے بہت پیار کرتی ہے، حماد نے اتنا ہی کہا تھا کہ،،
فیضان صاحب نے پاس پڑا کانچ کا گلاس حماد کو دے مارا،
ہانیہ زور سے چیخی۔
حماد۔۔۔۔۔
************************************
کیا ہوا ہنی؟ حماد ہانیہ کہ زور سے چیخنے سے ڈر کر اٹھ گیا تھا، ہانیہ پسینے سے شرابور تھی، کیا ہوا کوئی ڈرائونا سپنا دیکھا؟ حماد نے ہانیہ کو اپنے قریب کرتے ہوے پوچھا، ہانیہ نے ہاں میں گردن ہلائی، یہ لو پانی پیو، حماد نے ہانیہ کو پانی کا گلاس پکڑاتے ہوے کہا، ہانیہ غٹاغٹ سارا پانی پی گئی، چلو آجاؤ سو جاؤ، حماد نے ہانیہ کو لٹایا، اور خد بھی ساتھ لیٹ گیا، تھوڑی دیر میں ہانیہ دوبارہ نیند کی آغوش میں تھی، واہ ڈیڈ یو میک دس فور می؟ حاشر نے ڈائینگ ٹیبل پر بیٹھتے ہوے کہا،
یس مائی ڈئیر، حماد نے آملیٹ حاشر کو دیتے ہوے پیار سے کہا، ویسے ماما کہاں ہیں؟ حاشر نے پوچھا، ماما سو رہی ہیں رات کو دیر سے سوئی تھیں، حماد نے بتایا،
اوکے ڈیڈ ناؤ ایم لیوینگ، حاشر نے اپنا بیگ اٹھاتے ہوے کہا،
************************************
گڈ مارننگ میڈم، حماد نے چائ کا کپ سائیڈ ٹیبل پر رکھتے ہوے کہا، ہانیہ نے ہلکی ہلکی آنکھیں کھولیں،
9 بج رہے ہیں میڈم جلدی سے اٹھ جائیں مجھے آفس بھی جانا ہے، حماد نے ہانیہ کو ہاتھ سے پکڑ کر بٹھایا، کیا ہوا طبیعت زیادہ خراب ہے کیا تمہاری؟ حماد نے ہانیہ کو مسلسل سر دباتے دیکھ پوچھا، نہیں بس مائیگرین کا درد ہے، ابھی ٹھیک ہوجائے گا، ہانیہ نے بتایا، چلو ٹھیک ہے جلدی سے ناشتہ کرو پھر دوائ کھا کر آرام کر لینا، حماد نے کہا، اور ہانیہ فریش ہونے کہ لئے اٹھ گئی،
************************************
ہانیہ حماد کی شادی کو 18 سال ہوگئے تھے، ان سالوں میں کبھی بھی فیضان صاحب ہانیہ سے نا ملے نا ہی کوئی کنٹیکٹ کیا، ہانیہ نے کوشش بھی کی مگر پتا چلا کہ وہ گھر سیل کر کہ کہیں اور چلے گئے ہیں،
حماد کہ گھر والوں نے بھی ہانیہ کو اکسیپٹ نہیں کیا تھا، مگر اپنی اکلوتی اولاد کی خوشی کی خاطر انہیں، یو۔ایس۔اے شفٹ کروا دیا، کچھ ٹائم ناراضگی رہی، پر حاشر کہ آنے کہ بعد سب ٹھیک ہوگیا،
بیٹا بھی اب بڑا ہوگیا تھا اور امریکا کہ ماحول نے کچھ زیادہ ہی سمجھ دار بنا دیا تھا،
************************************
واپس کب آنا ہے آپ نے؟ ہانیہ نے حماد کا بیگ پیک کرتے ہوے پوچھا، پتا نہیں یار کب آنا ہو، ویک تو لگ ہی جائیگا حماد نے بتایا،
چلو ٹھیک ہے اب سوجاتے ہیں صبح پانچ بجے کی فلائٹ ہے، حماد نے بیگ سائیڈ میں رکھتے ہوے کہا، اور خود نائٹ ڈریس لے کہ باتھ روم میں چلا گیا , ہانیہ نے بیڈ سمیٹا اور لیٹ گئی، حماد بھی چینج کر کہ سوگیا،
************************************
حماد جا چکا تھا، حاشر سو رہا تھا ، تبھی پانی کی طلب ہوئی، تو کچن میں پانی لینے کہ لئے آیا ،
ہیلو!حماد چلے گئے ہیں، 10 منٹ میں پارک میں ملیں، ہانیہ نے راز داری سے کہا اور کال کاٹ دی،
حاشر کو یہ بات عجیب تو لگی پر پھر اگنور کر کہ اپنے کمرے میں آگیا
10 بج رہے ہیں حاشر!! جلدی اٹھو، ہانیہ نے حاشر کو اٹھایا،
حاشر کو اٹھتے ہی صبح والی بات یاد آئ، ماما!! ایک بات پوچھوں؟؟ حاشر نے جھجکتے ہوے پوچھا،،
پوچھو؟ ہانیہ نے ہنوز بیڈ سمیٹتے ہوے کہا،
آپ صبح کہیں گئیں تھی کیا، حاشر چاہ کر بھی سیدھی طرح بات نا پوچھ سکا تھا،
ہانیہ کہ بلینکٹ تہ کرتے ہاتھ رک گئے تھے، پر پھر اپنے آپ کو نارمل کرتے ہوے گویا ہوئی، آپ کہ بابا اپنا ضروری سامان گھر بھول گئے تھے وہی ایئر پورٹ دینے گئی تھی،،،
حاشر کو دال میں کچھ کالا لگا تھا، مگر ابھی اس نے چپ رہنا ہی مناسب سمجھا،
ناشتہ نہیں بنائیےگا میں جارہا ہوں دیر ہو رہی ہے حاشر اپنے جذبات کو قابو کرتا نکل گیا، ہانیہ کو لگا کہ حاشر نے ہانیہ کو گھر سے جاتا دیکھ لیا ہوگا تبھی یہ بہانہ بنانا مناسب سمجھا،۔۔
************************************
ہائے بیبی، شیزوقا نے بے تکلفانہ انداز میں”حاشر کو گلے لگاتے ہوے کہا،
حاشر نے بس مسکرانے پر اکتفا کیا،
یو لک سیڈ، ایوری تھینگ اس او، کے؟
(تم اداس دیکھ رہے ہو؟ سب ٹھیک ہے؟ )
جسٹ لٹل بٹ پریشر آف اسٹیڈی،
(بس پڑھائی کا تھوڑا پریشر ہے) حاشر نے جھوٹ بولا،،
حاشر کا کالج میں دل نہیں لگ رہا تھا، اسلئے وہ اپنے گھر کی طرف روانہ ہوگیا،
پر گھر جا کر کونسا اسکو سکون ملنا
تھا اسلئے یہ پارک میں آگیا، تھوڑی دیر میں حاشر کی x.girlfriend شیزوقا آگئی،جو حاشر کی پڑوسن بھی تھی۔۔
وہ اسکی پریشانی دیکھ،، پوچھے بنا رہ نا سکی تھی، اسلئے حاشر نے ٹالمٹول کر کہ جواب دیا، اور گھر جانے کہ بہانے دوسری جگہ بیٹھنے کہ لئے ڈھونڈنے لگا،
جلد ہی ایک بینچ خالی مل گئی۔۔۔
شام کا وقت تھا، ٹھنڈ اب بڑھ گئی تھی، تبھی حاشر کو چائ کی طلب ہوئی اور وہ کینٹین کی جانب چل پڑا چائ لے کہ وہیں ایک ٹیبل پر بیٹھ گیا، سامنے ایک کپل بیٹھا تھا، مرد کی عمر زیادہ تھی مگر یہاں عمر دیکھتا کون ہے، وہ اس طرح بیٹھے تھے کہ مرد کا رخ حاشر کی جانب تھا جبکہ عورت کی پشت حاشر کی طرف تھی، مرد اپنے ہاتھ سے اس عورت کو کھانا کھلا رہا تھا، حاشر کو فوراً اپنے بابا یاد آگئے، ہاں وہ بھی تو ایسے ہی کھانا کھلاتے ہیں ماما کو، حاشر کہ چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی، پر یہ مسکراہٹ وقتی تھی، کچھ ہی منٹ میں یہ غائیب ہوگئی جب وہ عورت جانے کہ لئے کھڑی ہوئی، مرد کاؤنٹر کی طرف بل پے کرنے گیا، جب کہ عورت الوداعی ہاتھ ہلاتے کینٹین سے چلی گئی، حاشر بس ایک ہی لفظ کہ پایا تھا “ماما”
جاری ہے
#عائشہ_خانزادی

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: