Ayesha Khanzadi Urdu Novels

Galat Fehmi Novel By Ayesha Khanzadi – Last Episode 2

Ghalat Fehmi Novel By Ayesha Khanzadi
Written by Peerzada M Mohin

غلط فہمی از عائشہ خانزادی – آخری دوسرا حصّہ

 غلط فہمی از عائشہ خانزادی – آخری دوسرا حصّہ

–**–**–
حاشر کی حالت ایسی تھی مانو کاٹو تو خون نہیں، وہ ایسے ہی خالی خالی نگاہوں سے سامنے ٹیبل پر نظر جمائے بیٹھا تھا، جہاں اس کی ماں کسی غیر مرد کہ ساتھ بیٹھی اس کہ ہاتھوں کھانے سے لطف اندوز ہورہی تھی۔ ایک تلخی اس کہ اندر اترتی محسوس ہوئی،
سر،سر، ویٹر کی آواز پر حاشر خیالوں کی دنیا سے باہر آیا تھا، کیفے بند کرنے کا وقت ہے، ویٹر نے مودبانہ لہجے میں کہا، حاشر کی چائ بھی ٹھنڈی ہوگئی تھی، ویٹر کو بل ادا کرتا اٹھ گیا، سر آپ کہ پیسے، ویٹر نے بقعیہ پیسے دینے کہ لئے اسکو آواز دی، رکھ لو حاشر کہتا کیفے سے باہر آگیا۔۔
کتنی دیر تو وہ ایسے ہی سڑکوں پر خاک چھانتا رہا، تبھی موبائل نے کسی کی کال آنے کا علان کیا،
حاشر نے موبائل پر نظر ڈالی تو نخوت سے کال کاٹ دی، مگر کال مسلسل آرہی تھی، اسلئے مجبوراً اسکو کال اٹھانی پڑی،
کہاں ہو بیٹا؟ کب سے آپ کو کال کرہی ہوں!! کتنی فکر ہورہی تھی، ہانیہ کال اٹھتے ہی شروع ہوگئی تھی،
“آرہا ہوں راستے میں ہوں”،حاشر نے بس اتنا ہی کہا،
جلدی آؤ آج میں بہت خوش ہوں، سارا آپ کی پسند کا کھانا بنایا ہے میں نے، ہانیہ نے دنیا جہاں کا پیار اپنے جملے میں سمیٹ کر کہا،
حاشر نے بس جی کہنے پر اکتفا کیا اور موبائل اپنی جیب میں رکھ لیا،
“”آج میں بہت خوش ہوں “” حاشر کہ دماغ میں اپنی ماں کا جملہ گونجہ، تلخ مسکراہٹ اس کہ لبوں پر نمودار ہوئی،
************************************
“جاؤ جلدی سے منہ ہاتھ دھو لو” میں کھانا گرم کرتی ہوں، ہانیہ نے سامنے سے آتے حاشر کو دیکھ کر کہا،
“مجھے بھوک نہیں ہے” حاشر کہتا اپنے کمرے کی طرف بڑا، تمہاری پسند کا کھانا••• ہانیہ نے اتنا ہی کہا تھا پر حاشر اپنے کمرے میں جا چکا تھا،
صبح بھی ناشتہ نہیں کیا، ابھی بھی نہیں کھایا طبیت تو خراب نہیں ہوگئی ہے اسکی، ہانیہ اپنے آپ سے بات کرتی حاشر کہ کمرے کی جانب بڑی۔
ہانیہ نے بہت دروازہ بجایا مگر حاشر نے دروازہ نہیں کھولا، تھک ہار کر ہانیہ واپس آگئی اور اکیلے کھانا کھانے لگی،
************************************
رات کہ تین بجے •••
حاشر نے جیسے ہی لائیٹ آن کی ہانیہ بیگم فوراً اٹھ گئیں، جو کہ کچن میں لگے ڈائینگ ٹیبل کہ ساتھ لگی کرسی پر بیٹھی تھیں، کیوں کہ انکو پتا تھا حاشر کو بھوکے پیٹ نیند نہیں آتی تھی،
آپ یہاں؟؟ حاشر نے اپنی ماں کو یوں کچن میں سوتے دیکھا تو حیران ہوتے ہوے مستفسر ہوا،
مجھے پتا تھا میرا بیٹا بھوکا نہیں رہ سکتا اس لئے یہاں تمھارے آنے کا انتظار کرہی تھی، مجھے پتا ہے تم ٹھنڈا کھانا نہیں کھاتے اور گرم کرنے کی زحمت کروگے نہیں، انتظار کرتے کرتے پتا نہیں کب آنکھ لگ گئی، ہانیہ بیگم نے سالن کا بائول اون میں رکھتے ہوے جواب دیا،
حاشر خاموش رہا، دیکھو میں نے پاستا، بریانی، گولہ کباب، پالک پنیر، اور یہ منچورین بنایا ہے، ہانیہ باری باری سب کہ ڈھکن ہٹاتی دکھا رہی تھی،
حاشر ہنوز خاموشی سے کھانے کی طرف متوجہ رہا، اور ہانیہ پیار سے اپنے بیٹے کی طرف دیکھتی رہی،
************************************
حاشر اب کالج جانے کہ بجائے روز اپنی ماں پر نظر رکھتا تھا، اور ہانیہ بھی روز اس مرد کہ ہمرا وقت گزار کر گھر آجاتی،
حاشر کی نفرت اب اپنی ماں کی جانب بہت بڑھ گئی تھی،
حاشر نے پلان بنایا کہ کیسے وہ اپنی ماں کی اصلیت اپنے باپ کہ سامنے لاۓ، اسی کشمکش میں حاشر کہ دماغ میں ایک ترقیب آئ،
ماما میں کالج کہ ساتھ ٹرپ پر جارہا ہوں، 3 دن بعد آؤنگا، حاشر نے اپنا بیگ پیک کرتے ہوے ماں کو بتایا اور نکل گیا،
ہانیہ بیگم نے حاشر کو آواز دے کر روکا اور لب کو حرکت دی، شاید کچھ پڑھ کر پھونک رہیں تھیں، ماما دیر ہو رہی ہے، حاشر کی بیزاری صاف واضح تھی، پر ماں کی ممتا کہاں سمجھتی ہے،
حاشر کا خیال تھا گھر میں اکیلے ہونے کی صورت میں ہانیہ ضرور اس مرد کو بلائے گی، اور حاشر رنگِ ہاتھوں اپنی ماں کو پکڑ لے گا،
حاشر ابھی لائحہ عمل سوچ ہی رہا تھا کہ اسکو اپنی ماں تیزی سے گاڑی میں بیٹھے کہیں جاتے ہوے دیکھی،
حاشر فوراً اس سے پیچھے بھاگا، دروازے سے جاتا تو خاصا وقت صرف ہوجاتا اسلئے اس نے پارک کی دیوار پھلانگ کر جانا چاہا جو زیادہ اونچی نا تھی، پر حاشر کی بد قسمتی کہ وہاں کھڑے گارڈ نے حاشر کو پکڑ لیا، اور پولیس اپنا فرض نبھاتے اسے لے جانے لگی،
حاشر نے انگلش میں کچھ کہا جسکا ترجمہ کچھ یوں تھا،
سر میں نے کچھ نہیں کیا گھر جلدی جانے کی جلدی میں یہاں سے کروس کرہا تھا، وہ سامنے والا میرا گھر ہے،
اچھا ہوالدار نے تنزیہ کہا، بیگ میں کیا ہے؟
میرے کپڑیں ہیں سر، پکنک پر جارہا تھا دوستوں کہ ساتھ،، وہ لیٹ ہوگئے تو میں نے سوچا گھر سے اپنا چارجر لے آتا ہوں جو میں جلدی میں بھول گیا تھا،
ہولدار کو جب تسلی ہوگئی تو گویہ ہوا، فائن تو دینا پڑے گا،
حاشر نے ایک معقول رقم اس کہ حوالے کی اور گیٹ کی جانب سے گھر کو ہو لیا،
حاشر بوجھل قدموں سے گھر کی جانب رواں تھا تبھی ایک ٹیکسی اس سے سامنے آ کر رکی، حاشر کو پہچاننے میں بلکل بھی دیر نہیں لگی تھی یہ کون ہے،
انکل! ابھی ایک لیڈی آپ کی ٹیکسی میں اس طرف گئیں تھیں، کیا آپ بتا سکتے ہیں وہ کہا گئی ہیں؟؟ حاشر جلد بازی میں ٹیکسی درائیور سے مستفسر ہوا،
ٹیکسی ڈرائیور نے مشکوک نظر حاشر پر ڈالی، حاشر نے بخوبی ڈرائیور کی سوچ بھانپ لی تھی، وہ میری ماما ہیں، میں پکنک پر گیا تھا ٹرپ کینسل ہوگئی اسلئے واپس آگیا، آتے وقت میں نے دیکھا کہ ماما آپ کی ٹیکسی میں بیٹھ کر کہیں چلی گئیں۔
حاشر کی بات پر اسی اس لئے یقین آگیا کیوں کہ اس کہ ہاتھ میں بیگ تھا جس میں پکنک کا سامان تھا، جو حاشر نے اپنی ماما کو دکھانے کا لئے پیک کیا تھا،
ڈرائیور نے ایک ہوٹل کا نام بتا کر گاڑی آگے بڑھادی۔
حاشر نے ہوٹل میں جا کر تھوڑی بہت معلومات لے کر آخر کمرے کا نمبر پتا لگوا ہی لیا،
جیسے ہی حاشر روم میں داخل ہوا کمرہ خالی تھا اور بیرا کمرہ صاف کرہا تھا، کمرے کا حال صاف بتا رہا تھا جیسے یہاں کوئی نیا شادی شدہ جوڑا روکا ہو،
حاشر بدہواس سا ہوٹل سے نکلا اور گھر کی جانب چل پڑا، گھر میں داخل ہوتے ہی سامنے اس کی نظر اپنے پاپا پر گئی،
پاپا !!!”ماما” اتنا کہ کر وہ حماد کہ گلے لگ کر رونا شروع ہوگیا، حماد بھی یو اپنے بیٹے کو ایسے پریشن دیکھ کر ڈر گیا ,
اسی اثنا میں ہانیہ بھی حاشر کہ پاس آگئی، ہانیہ نے پیار سے حاشر کہ ماتھے پر بوسہ دیا، پر دوسرے ہی لمحے حاشر نے اپنی ماں کو پیچھے دکھیل دیا، حاشر کہ اس ردِ عمل پر ہانیہ حماد چونکِ بنا نا رہ سکے تھے، ” کیا ہوا بیٹا میں ہوں آپ کی ماما ” کیوں ڈر رہے ہو آپ مجھ سے؟ ہانیہ کو لگا جیسے حاشر ڈر گیا تھا،
“نہیں ہو آپ میری ماں چلی جاؤ یہاں سے” حاشر کی اس بات سے ہانیہ سکتے میں آگئی،
تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے؟ کسی پاگلوں جیسی باتیں کرہے ہو، حماد صاحب چاہ کر بھی اپنے لہجے کی سختی نا چھپا سکے تھے،
آپ کو سچ پتا نہیں ہے نا اسلئے انکا سائیڈ لے رہے ہیں، یہ اچھی عورت نہیں ہیں آپ کی غیر موجودگی میں یہ پرائے مرد سے ملنے جاتی ہیں،
چٹاخ••••
ایک زوردار تھپڑ حاشر کہ چہرے پر نشان چھوڑ گیا تھا، مار لیں جتنا چاہیں مجھے مار لیں مگر یہ سچ ہے، پوچھیں ان سے یہ ابھی فلاح ہوٹل میں کیا کرنے گئیں تھیں، کس سے ملنے گئیں تھیں،
بس بہت بکواس کرلی تم نے” اگر اس کہ بعد کچھ بھی ہانیہ کہ خلاف کہا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا، حماد دھاڑا ہانیہ کو میں نے بلایا تھا ہوٹل میں۔
************************************
اپنا خیال رکھنا مجھے کال کرتے رہنا اوکے ماما کی جان، ہانیہ نے پیچھے سے آواز لگائی حاشر کو، حاشر جواب دیئے بغیر گھر سے نکل گیا،
ہانیہ کچن میں آگئی کھانے کی تیاری کرنے کہ لئے، رائیس کوکر میں دال کر بیٹھنے کا سوچ ہی رہی تھی کہ کال نے یہ سوچ ناکام بنا دی اور ہانیہ موبائل کی طرف بڑھ گئی،
ہیلو پر کیسے کہا ہیں میں آرہی ہوں،۔۔۔۔۔ یہ کہتے ہانیہ گیٹ سے باہر نکلی سامنے ہی اسے ٹیکسی مل گئی،
حماد نے ایک بڑا نوٹ نکال کر بیرے کی جانب بڑھایا، بیرے کہ چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی، سر کون تھیں یہ لیڈی ؟؟ بیرا کال پر جس عورت کہ ساتھ بات کرہا تھا اس کہ بارے حماد سے مستفسر ہوا، میری وائف ہے، حماد نے مختصر جواب دیا،
بہت پریشن ہوگئی تھیں آپ کہ ایکسیڈینٹ کی جھوٹی خبر سن کر، بیرے نے بتایا،
مجھے معلوم ہے، پر ابھی یہاں آکر خوش” بلکہ “بہت خوش ہوجائے گی، حماد کی بات سن کر بیرا سر ہلاتا گیٹ سے باہر نکل گیا،
ہانیہ۔ روم میں آگئی تھیں، پر اتنا اندھیرا کیوں کیا ہوا ہے کمرے میں،اور یہ خوشبو، ہانیہ نے ایک بار پھر گیٹ کہ باہر لگے نمبر پلیٹ پر نمبر صحیح ہونے کی تصدیق کی اور دوبارہ کمرے میں آگئی، موبائل کی لائٹ جلا کر سائیڈ میں لگے سوئچ بورڈ سے لائٹ کا بٹن آن کیا،
سامنے کا منظر دیکھ کر ہانیہ کی حیرت کی انتہا نا رہی، پورا کمرہ گلاب کی خوشبو سے مہک رہا تھا، ہر جگہ پھول ہی پھول، اور سامنے بیڈ پر بڑا سا “لوو ہانیہ ” لکھا ہوا تھا،
“ہیپی اینیورسری ٹو یوه” حماد سامنے سے ہاتھ میں کیک لئے گنگناتا ہوا نمودار ہوا،
ہانیہ نے دونوں ہاتھوں سے کانوںکو پکڑ کر سوری کہا، میں بھول گئی تھی پر آپ کو یاد رہا،
ان سب کہ لئے بہت وقت ہے پہلے آجاؤ کیک کاٹ لیں، آئس کیک ہے پگھل رہا ہے، حماد نے ہانیہ کو پاس کرتے ہوے کہا،
دونوں نے کیک کاٹا حماد نے پہلے ہانیہ کو کیک کھلایا پھر ہانیہ حماد کو کیک کھلانے کہ لئے ہاتھ اپر کر ہی رہی تھی کہ اسکو یاد آیا، “حماد کُکر،” حماد کا منہ کھلا کا کھلا ہی رہ گیا، مطلب ؟ حماد نے نا سمجھی سے پوچھا، بتاتی ہوں چلو ہانیہ نے حماد کو کھینچا، کیک تو لینے دو یار ، حماد رکا، اسٹاف کھا لے گا، ہانیہ نے جلدی سے کہا، اچھا چکھنے تو دو یار، حماد نے یہ کہ کر ایک پیس اٹھایا اور منہ میں ٹھوس لیا،
ہانیہ نے ریسپشنلیسٹ کو کیک کا بتایا ، جب تک حماد گاڑی لے آیا تھا،
گھر میں آتے سب سے پہلے ہانیہ نے کچن کا جائزہ لیا، حماد بھی گاڑی پارک کر کہ فوراً کچن میں آیا، کیا ہوا ہنی ؟؟ حماد کُکر کو دیکھ کر مستفسر ہوا،
کچھ نہیں میں بٹن آن کرنا تو بھول ہی گئی تھی، ہانیہ نے شرمندہ ہوتے ہوے بتایا،
شاباش!! حماد نے تنزیہ کہا اور لاؤنچ میں آگیا، ہانیہ نے بٹن آن کیا اور حماد کہ لئے چائ بنانے لگی، جب واپس آئ تو حاشر اپنے پاپا کہ گلے لگے بچوں کی طرح رورہا تھا ؟؟؟؟
************************************************
ٹھیک ہے مان لیا،آج آپنے بلایا تھا! اور جو روز آپ سامنے کیفے پر کسی سے ملنے جاتی تھیں وہ کون تھا، وہ تو پاپا نہیں تھے، انکی تو شکل بھی میں نے دیکھی ہے، حاشر نے آج اپنے دل کا سارا غبار نکال دیا تھا،
ہانیہ کہ چہرے پر چھانے والی پریشانی اس بات کی دلیل تھی کہ حاشر سچ کہ رہا ہے،
حماد نے ایک تلخ نظر ہانیہ پر ڈالی، کیا یہ سچ ہے؟ حماد کا غصہ ہانیہ سے چھپا نہیں تھا، ہانیہ نے نظریں جھکا کر ہاں کہا ۔۔۔۔،
دیکھا!! میں نے کہا تھا نا ماں کسی غیر مرد سے ملتی ہے،
ہانیہ کا ہاتھ گھوما اور تمانچے کی آواز سے پورا حال گونج اٹھا، میں نے اس بات کی حامی بھری ہے کہ ہاں میں باہر ملتی ہوں ، پر غیر مرد سے ملتی ہوں یہ بہتان ہے، ہانیہ نے تیش میں کہا،
تو تمہارا کونسا اپنا ہے یہاں u.s.a. میں حماد کہ جملے میں طنز کی آمیزش صاف واضح تھی،
ہانیہ نے حماد کی بات کو درگزر کیا، اور حاشر سے مخاطب ہوئی،
ہاں تو تم اپنی ماں پر ایک غیر مرد کہ ساتھ گھومنے کا الزام لگا رہے ہو، ہانیہ کے لہجے میں دکھ درد غصہ سب کچھ تھا،
حاشر بوکھلا گیا تھا، میں نے خود دیکھا تھا،
دیکھا تھا تو پہچان بھی لوگے؟؟ ہانیہ کا لہجہ پہلے کی نسبت زیادہ الجھا ہوا تھا،
ہاں پہچان لونگا، حاشر نے بھی ترکی بہ ترکی کہا،
ہانیہ نے اپنا موبائل اٹھایا اور ایک تصویر نکال کر حاشر کا سامنے کی، کیا یہ وہی شخص ہے؟؟ ہانیہ مستفسر ہوئی، حاشر نے اسبات میں سر ہلایا، جاؤ اپنے بابا کو دکھاؤ اور پوچھو کون ہے یہ، حاشر نا سمجھی سے حماد کی جانب بڑا، حماد نے تصویر دیکھ کر مختصر بتایا، تمہارے ماموں ہیں، اور حاشر کو کچھ سمجھ نہیں آئ، ایسے اچانک کیسے، پہلے کہاں تھے یہ، حاشر نے بہت سے سوال کے،
میں بتاتی ہوں،
ہانیہ نے کہانی سنانی شروع کی،••••
پر جب ہسپتال میں بھائی نے حماد سے غلط برتاؤ کیا، گلاس سے سر بھی زخمی کردیا، حماد سے بھی اپنی بے عزتی برداشت نہیں ہوئی، اور حماد نے مجھ سے صاف کہ دیا، “بھائی “یا” میں” میں تو پہلے ہی بھائی کو چھوڑ چکی تھی سوچا کچھ ٹائم بعد سب ٹھیک ہوجائے گا، پر ہم u.s.a. آگئے اور بھائی نے بھی گھر تبدیل کرلیا، یوں ہمیں بھائی سے الگ ہوے 18 سال ہوگے،
حماد کہ جانے سے ایک دن پہلے مجھے بھائی ملے، اور میں اپنے شوہر سے کیا وعدہ بھول گئی کہ “آج کہ بعد بھائی سے رشتہ ختم” اور بھائی کہ گلے لگ کر خوب روئی، ٹائم کم تھا اسلئے ان سے نمبر لے کر گھر آگئی، جب حماد چلے گئے تو میں بھی بھائی سے ملنے گئی، پر مجھے ڈر تھا حماد کو پتا چلا تو کیا ہوگا، انکی ناراضگی سے بچنے کہ چکّر میں، میں اپنے بیٹے کی نظر میں اس حد تک گر گئی، مجھے معلوم ہوتا تو میں ضرور حماد کو سچ بتا دیتی، یوں غلط فہمی نا بڑھتی،
حاشر نے فوراً ہی اپنی ماں کہ پیر پکڑ لئے، مجھے معاف کردیں ماما، مجھ سے غلطی ہوگئی، حماد نے حاشر کو بازو سے پکڑ کر اٹھایا، کوئی غلطی نہیں ہوئی ہے تم نے میری آنکھوں سے جھوٹے پیار کی پٹی ہٹائی ہے،،،
نہیں بابا، ماما آپ سے بہت پیار کرتی ہیں، بتا تو دیا ماما نے کہ وہ ماموں ہیں،
مجھے کیا پتا ماموں کہ علاوہ اور کن کن سے یہ رشتہ نبھا رہی ہے میرے پیٹھ پیچھے،
بابا وہ ماموں ہی تھے سچ میں، جن سے ماما ملنے گئیں تھی، پک میں وہی شخص ہیں،
مجھے اعتبار نہیں ہے اب اس عورت پر، حماد نے حقیر نظر ہانیہ پر ڈالی،
میں سچ کہ رہی ہوں، میرا کسی سے کوئی تعلق نہیں ہے، آپ الزام لگا رہے ہیں مجھ پر،
چپ!!!حماد دھاڑا، ہانیہ کو پکڑ کر کمرے میں دھکا دیا، اور گیٹ لاک کر کہ چابی جیب میں ڈال لی،
جب تک میں نا کہوں یہ گیٹ نہیں کھلے گا،
بابا یہ ناانصافی ہے، ماما بے قصورہیں، حاشر نے حماد کو روکنا چاہا، کہہ دیا نا نہیں کھلے گا تو نہیں کھلے گا، حماد حتمی فیصلہ سناتا گھر سے باہر چلا گیا، جاتے وقت ہانیہ کا موبائل ساتھ لے جانا نہیں بھولا تھا،
کچن میں دیکھو کیا جل رہا ہے، حماد نے رک کر کہا اور آگے بڑھ گیا۔
حاشر نے کُکر کا بٹن آف کیا اور چائ کا چولہا بھی ، جو تقریبً جل ہی گئی تھی، اور دوڑ کر گیٹ کی جانب آیا، سوری ماما میری وجہ سے ہورہا ہے یہ سب، مجھے معاف کردیں آپ، حاشر اپنی غلطی پر پیشیمان تھا،
نہیں ماما کی جان ایسے نہیں رو، آپ کی غلطی نہیں ہے، آپنے جو دیکھا، اسی سے اندازہ لگآیا، اصل بات سے آپ ناواقف تھے، ہانیہ نے اپنے بیٹے کو تسلی دی، جاؤ آپ چاول بوئل ہوگے ہونگے کھانا کھالو، جا کہ،
نہیں ماں مجھے بھوک نہیں ہے، حاشر نے منع کردیا،
بیٹا جاؤ جلدی سے، آدھی رات کو بھی تو اٹھو گے نا، ابھی کھالو، میں بھی باہر نہیں ہونگی آپ کو کھانا گرم کر کہ دینے کہ لئے، ہانیہ نے حاشر کو سمجھایا،
حاشر ایک بار پھر رونا شروع ہوگیا تھا،
“آپ تو ایسے رورہے ہیں جیسے ہم کسی جیل میں ہوں،” بابا ابھی آ کر گیٹ کھول دینگیں ، حاشر چپ ہوگیا تھا اور اب کچن میں کھانا لے رہا تھا۔
حاشر نے دو پلیٹ میں چاول ڈالے، اور دو ہی بائول میں مچلی کا سالن لیا، پر اس خیال سے کہ بائول نیچے سے کیسے اندر جائے گا، سالن چاول پر ہی دال کر نیچے سے اپنی ماں کو دیا اور خود بھی ساتھ بیٹھ کر کھانے لگا،
کھانے سے فارغ ہونے کہ بعد، ہانیہ کہ بہت اسرار پر حاشر اپنے کمرے میں چلا گیا اور ہانیہ بھی بیڈ پر آگئی،
************************************
20 سال کا ہمارا رشتہ
(2 سال شادی سے پہلے)
اتنی سی غلط فہمی کی وجہ سے کمزور ہوگیا، کیا سچ میں میری ایک غلطی نے اتنے سالوں کے یقین کو خوکھلا کردیا، کیا محبت بس یہاں تک ہی ہوتی ہے ایک غلط فہمی اور سب ختم، ہانیہ اپنے کیئے پر بہت پچھتا رہی تھی ، رات انہیں سوچوں میں گزر گئی ، تبھی دروازہ کھلتا ہے،
ہانیہ دوڑ کر حماد کہ پاس آتی ہے،
مجھے معاف کردیں، پلزز آج کہ بعد کچھ نہیں چھپائونگی، وعدہ، ہانیہ حماد سے کہ رہی ہوتی ہے، تبھی حماد ہاتھ سے چپ ہونے کا اشارہ کرتا ہے، باہر تمہارا بھائی کھڑا ہے جاؤ اور واپس یہاں کبھی نہیں آنا،
آپ میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے سب کو چھوڑ کر میں نے آپ کو اپنایا تھا، یہ سلا دیا اپنے مجھے میری محبت کا، حماد کھینچ کر ہانیہ کو باہر لے آیا،
بھائی پلز آپ جایں یہاں سے اور دوبارہ مجھ سے کبھی نہیں ملنا آپ، مجھے حماد کہ ساتھ ہی رہنا ہے، پلزز آپ جائیں ، ہانیہ نےفیضان صاحب سے کہا ،
حماد پلزز آپ مجھے ایسے ہی کمرے میں بند کر کہ جایا کرنا، پر مجھے خود سے الگ نہیں کریں میں مر جاؤنگی، اس بار ہانیہ حماد کہ پاؤں پکڑ کر کہ رہی تھی،
اٹھو اٹھو!! حماد نے ہانیہ کو گلے سے لگا لیا تھا، ہانیہ زارو قطار رو رہی تھی،
ہانیہ جب چپ ہوئی تو حماد نے بولنا شروع کیا، یہ نہیں سمجھنا میرا دل تمھارے رونے سے پگھلا ہے، یہ ہمارا پلان تھا،۔۔۔۔۔۔
ہمارا ؟؟؟؟ ہانیہ مستفسر ہوئی، جی فیضان بھائی صاحب تمہیں لینے نہیں یہیں رہنے آئے ہیں، اب یہ ہمارے ساتھ ہی رہیں گیں،
پر یہ سب کرنے کی وجہ؟ ہانیہ نے پوچھا۔۔
یہ سب اسلئے کیا ، کہ دوبارہ تم کبھی کوئی بات مجھ سے نہیں چھپاؤ، اگر حاشر نے بھائی صاحب کا چہرہ نا دیکھا ہوتا، تو میرے دل میں بھی یہ بات آجاتی کہ کون تھا وہ شخص،
سوری اب کچھ نہیں چھپاؤں گی، ہانیہ نے کان پکڑ کر کہا،
گڈ گرل۔۔۔۔ حماد نے کہا، اور ہانیہ پر اپنے پیار کی مہر لگانے ہی والا تھا، کہ فیضان صاحب نے کہا، ہم یہیں ہیں کچھ تو خیال کرو،
حماد نے ہانیہ کہ پیچھے رکھا نیوز پیپر اٹھا کر کہا یہ لے رہا تھا آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے،
فیضان صاحب نے تنزیہ کہا،
اچھا جی!!!!!! غلط فہمی۔۔۔۔۔۔۔۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: