Galti Novel By Aaban Dawood – Episode 1

0

غلطی از آبان داؤد – قسط نمبر 1

–**–**–

پیش لفظ
قاری سے لکھاری بننے تک کا سفر کافی طویل تھا….”غلطی” میرے قلم کی پہلی جسارت ہے_میری پوری کوشش رہی ہے کہ اس ناول میں حت المقدور بلاوجہ طوالت سے گریز کروں تا کہ قارئین کو کسی قسم کے ہیجان کا سامنا نہ کرنا پڑے_امید کرتا ہوں یہ ناول آپ کے زوق نظر کی تسکین کرے گا _آپ کی قیمتی آراء میری اس کاوش کو مزید بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوگی_
آپکی دعاؤں کا طالب
آبان داؤد
____________________________________________________________________________________
سعد سعددددد…….ماما کی جان کہاں ہو?????
باہر آجاؤ بیٹا…….ماما آپ کو نہیں ڈھونڈ سکتی_
رابعہ پچھلے پانچ منٹ سے سعد کو آوازیں دیے رہی تھی ….ایسا لگتا تھا کہ سعد تک ماں کی آواز ہی نہیں پہنچ پا رہی…کہاں وہ ماں کی ایک آواز پر دوڑا چلا آتا تھا اور آج رابعہ کب سے اسے آوازیں دیے جا رہی تھی لیکن بے سود…
آدھا گھنٹہ گزر گیا تو رابعہ کو سچ مچ تشویش ہونے لگی…گھر کا ہر کونہ کھدرا تو وہ پہلے ہی دیکھ چکی تھی…اس کے تو ہاتھ پاؤں پھولنے لگے…موبائل ڈھونڈا کہ اشعر کو کال کر کے صورتحال سے آگاہ کرے
لیکن موبائل ملنے کا نام نہیں لے رہا تھا..,
یا اللہ رحم فرما_____میرے مالک میرے بچے کی حفاظت فرما!!!
رابعہ کی أنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے
ماما جانی آئی ایم ہیئر(ماں میں یہاں ہوں)…
جونہی رابعہ مڑی سعد اس کے پیچھے بھولی مسکان لیے کھڑا تھا…
شیطان….کدھر تھے???ماما کی جان نکال دی تھی..رابعہ نے سعد کو سینے سے چمٹاتے ہوئے کہا…
_____________________________________________________________________
کاکھ لاکھ ککڑی…,کاکھ لاکھ ککڑی….
سناؤ میرن بانو کیسے آنا ہوا…انتہائی مکروہ شکل بڑھیا نے شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ میرن سے پوچھا..
مائی کی خیر ہو…میرن جوش سے بولی
مائی تیرے لیے خوشخبری لائی ہوں,,,تیری برسوں کی مراد بر آئی ہے آج…
میرن ہاتھ نچاتے ہوئے بولی
ارے کمبخت پہیلیاں نہ بجھوا ..,.سیدھی بات بتا_____
کل تیری مراد کو تیرے در پر لاؤں گی..تو خود دیکھیو…
لیکن مائی تجھے اپنا وعدہ یاد ہے نا,,,اس داسی کی بات کو بھولیو مت…
اری موئی نگوڑماری تو کیا مائی کو جانتی نہیں ہے…,تیری جھولی بھر دوں گی___اور اتنا کچھ دوں گی کے تیرے وارے نیارے ہو جائیں گے…جا____چلی جا اب مائی کو آبھی تیاریاں بھی تو کرنی ہیں..,آخر کو میری برسوں کی مراد بر آنے والی ہے ہاہاہاہاہاہا جا جا جا کاکھ لاکہ ککڑی____ہاہاہاہاہا__
مکروہ صورت بڑھیا کے شیطانی قہقہے بوسیدہ جھونپڑی میں گونج رہے تھے..
_____________________________________________________________________________________
رابعہ اور اشعر کی شادی کو دس سال ہو چکے تھے_پانچ سال کے بعد االلہ نے انہیں اولاد کی نعمت عطا کی تھی_میاں بیوی دونوں ہی سعد کو دیکھ دیکھ کر جیتے تھے اور اس ذات کا شکر ادا کرتے نہ تھکتے تھے_
اشعر ایک نجی کمپنی میں اچھی پوسٹ پر ملازم تھا_ماں باپ ایک حادثے میں انتقال کر گئے_بھری دنیا میں لے دے کے ایک دور پار کی بیوہ خالہ تھی جو ماں باپ کے انقال کے چند روز بعد ہی نہ جانے کہاں سے ٹپک پڑی حالانکہ اس سے پہلے اشعر نے اپنے ماں باپ سے نہ کبھی کسی خالہ کا کوئی ذکر سنا تھا اور نہ ہی اس نے پہلے کبھی انہیں دیکھا تھا_
خیر ماں باپ کے انتقال نے اشعر کو غم سے نڈھال کر رکھا تھا ایسے میں کسی اپنے کے پاس ہونے کا احساس ہی کافی تھا کجا کہ وہ خالہ سے رشتہ داری کا ثبوت مانگتا_
وقت کا کام ہے گزرنا سو یہ گزر جاتاہے خواہ اچھا ہویا برا_لیکن سر سے ماں باپ جیسی شفیق ہستیوں کا سایہ اٹھنے کے بعد نہ جانے کیوں زمانے کے سردوگرم میں اس نے انہیں ہر بارہمیشہ شدت سے یاد کیا _اشعر اس وقت گریجویشن کر چکا تھا اور فاروق ہمدانی اور صابرہ خاتون کی بہترین تربیت کا ہی نتیجہ تھا کہ وہ ماں باپ کو کھونے کے باوجود برے راستوں سے بچا کرخود کو سنبھالے ہوئے تھا_
خالہ کچھ دن رہیں,اشعر کے کھانے پینے کا خیال وہی رکھ رہی تھیں_پھر ایک روز اشعر شام کے وقت چہل قدمی کر کے آیا تو خالہ اپنے مختصر سے سامان کے ساتھ جانے کے لیے تیار بیٹھی تھیں_اشعر کو دیکھتے ہی بولیں کہ بیٹا میں اب چلتی ہوں_بہن کا دکھ تھا تو چلی آئی اب کافی دن گزر گئے ہیں میں مصیبت کی ماری چلتی ہوں کہیں ٹھکانہ ڈھونڈنے_
ارے خالہ!میں شرمندہ ہوں آپ سے کبھی حال چال پوچھنے کا خیال ہی نہیں آیا_آپ پہلے کبھی آئی نہیں نہ ہی کبھی امی ابو سے آپ کے بارے میں سنا_
ارے بیٹا صابرہ نے جب ماں باپ کے فیصلے کے خلاف جا کر فاروق سے شادی کی تھی ماں باپ نے اسی روز ہی اس سے رشتہ توڑ دیا تھا-میں تو ان کے گھر کام کرتی تھی_صابرہ سے مجھے خاص انس تھا اس لیے چوری چھپے اس سے ملنے چلی آتی تھی_پھر فاروق کی پوسٹنگ اسلام آباد ہوئی تو دونوں ادھر چلے آئے یوں میرا رابطہ بھی ٹوٹ گیا_آج برسوں بعد صابرہ کے جانے کی خبر سنی تو دوڑی چلی آئی_یہ کہتے ہی خالہ رونے لگیں_
بس خالہ اللہ کی مرضی شاید قسمت میں یہی لکھا تھا_
خالہ ویسے میرے نانا نانی کو اس بات کی خبر نہیں ہوئی کیا_
ارے بیٹا وہ تو آج سےپچیس سال پہلے ہی انتقال کر گئے تھے_اس وقت تو تم پیدا بھی نہیں ہوئے تھے_ایک ماموں ہیں تمہارے لیکن اس کو بیوی کے ناز نخرے اٹھانے سے فرصت ہی نہیں کہ وہ مرحومہ بہن کا آخری دیدار کرنے ہی آ جاتا_
خالہ آپ کہاں جائیں گی?
بیٹا آگے پیچھے تو ہے کوئی نہیں_شوہر جوانی میں ہی داغ مفارقت دے گیا_ماں باپ اس سے پہلے ہی فوت ہو چکے تھے_تمہارے نانا نانی نے پناہ دی ان کی وفات کے بعد چند گھروں میں کام کاج کر کے پیٹ کی دوزخ بجھا رھی تھی_ان دنوں مالک بیرون ملک جا بسے ہیں_اب جا کر کوئی اور ٹھکانہ ڈھونڈوں گی_
ارے خالہ اور کوئی ٹھکانہ کیوں???
خالہ کی کہانی سن کر ہی اشعر کا دل پسیچ گیا …اس نےاسرارکر کے خالہ کو مستقل طور پر اپیے ہاں رکھ لیا_
وقت کا پہیہ چلتا رہا اور یوں تین ماہ گزر گئے_
اشعر نے باقاعدگی سے مسجد میں نماز ادا کرنا شروع کر دی تھی_ اس کی امام صاحب سے اکثر ملاقات ہو جایا کرتی تھی_ویسے بھی امام صاحب کی شخصیت اس قدر پراثر تھی کہ وہ خود بخود ان کی طرف کھینچا چلا آتا تھا_
ایک روز امام مسجد عبداللہ صاحب نے اسے مغرب کے بعد روک لیا_
دیکھو اشعر میاں! موت ایک اٹل حقیقت ہے_جو بھی اس دنیا میں آیا ہے اسے ایک نہ ایک دن اسے اس جہان فانی سے کوچ کر جانا ہے_فاروق ہمدانی صاحب بہت ہی شریف النفس انسان تھے_لیکن بیٹا مالک کی مرضی____میں نے آپ کو اس لیے روکا ہے کہ بیٹا آپ اب آگے کا کچھ سوچیں
ماشا اللہ آپ پڑھے لکھے با صلاحیت نوجوان ہیں کوئی نوکری ڈھونڈ کر زندگی کے پہیہ کو آگے بڑھائیں_
جی امام صاحب ضرور_میں آج ہی انڑنیٹ پر چیک کرتا ہوں _
اشعر کو امام صاحب کی بات بھلی لگی_ویسے بھی وہ پورا دن فارغ ہی رہتا تھا_ماں باپ نے اگرچہ اپنی اکلوتی اولاد کے لیے بہت کچھ چھوڑا تھا_بہرحال نوکری تو اسے کرنی ہی تھی گھر آخر کب تک گھر بیٹھتا ___
گھر آکر اس نے ملک کی چند مشہور کمپنیوں کوا پنی سی_وی بھیجی_اشعر کا تعلیمی ریکاڑ ویسے بھی اچھا تھا اور سونے پہ سہاگہ کہ اس نے یو_ای_ٹی ٹیکسلا جیسے نامور ادارے سے گریجویشن کی تھی_
چند دن بعد ہی اسے ایک معروف کمپنی سے انٹر ویو کے لیے کال آ گئی اور اگلے ہی روز اسے جاب کےلے ای میل موصول ہو گئی_
اشعر نے خالہ کو بتایا اور تیار ہو کر آفس روانہ ہو گیا_جہاں اسے سب سے پہلے کام کی نوعیت کے بارے میں بتایا گیا اس کے بعد کمپنی کے ملازمین سے اس کی تعارفی ملاقات ہوئی اور اشعر اپنے کیبن میں آ گیا_شام کو واپسی پر ہی اس کی ملاقات امام صاحب سےہوئی… اشعر نے انہیں اپنی نوکری کے بارے میں بتایا تو امام صاحب سن کر کافی خوش ہوئے اور اشعر کی پیٹھ تھپتھپا کر دعائیں دیتے ہوئے آگے بڑھ گئے_اشعر کو کمپنی جوائن کیے ہوئے ایک مہینہ ہو چکا تھا_ایک روز اچانک خالہ کا پاؤں پھسلا اور وہ گر پڑیں جس سے دائیں ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی_اشعر بھاگم بھاگ انہیں لے کے ہسپتال پہنچا_کچھ دن ایڈمٹ رہنے کے بعد انہیں ڈسچارج کر دیا گیا_لیکن وہ چلنے پھرنے سے قاصر تھیں_خالہ کا تو اپنی معزوری کا سن کر برا حال تھا_کہاں وہ بن ماں باپ کے بچے پر بوجھ بن گئیں لیکن اشعر نے انہیں سختی سے منع کر دیا کہ وہ خود کو اس پر بوجھ نہ سمجھیں _خالہ دن رات دعائیں دیتے نہ تھکتی تھیں_اشعر نے آفس کے ایک کو لیگ سےایسی کسی ملازمہ کابندوبست کرنے کا کہا جو کہ خالہ کا بھی اچھے سےخیال رکھ سکے اور گھر کی بھی دیکھ بھال کر سکے_احمد اسکا آفس کولیگ چونکہ شادی شدہ تھا اس لیے دوسرے دن ہی اس کی بیگم نے ایک ملازمہ کو اس کے گھر بھیج دیا_اشعر نے ملازمہ سے کہا کہ وہ ہفتے کے دن سے کام پر آ جائے_کیوں وہ گھر اور خالہ کو ایسے ہی کسی اجنبی کے ہاتھ میں نہیں دے سکتا تھا_اس لیے وہ چاہتا تھا کہ وہ ہفتے اور اتوار کو گھر رہ کر خود اچھی طرح دیکھ لے کہ ملازمہ کو مستقل کام پر رکھے یا نہیں_لیکن انسان کتنی ہی احتیاط کیوں نہ کر لے ہونی کو کون ٹال سکتا ہے_صبح جمعہ تھا اور اگلے روز ہفتہ_ہفتے کو ملازمہ نے صبح سویرے ہی دروازے کی بیل بجائی_اشعر نے دروازہ کھولا تو سامنے ہی ملازمہ کو دیکھ کر ایک لمحے کو نجایے کیوں اسے خوف کا احساس ہوا_اس کی آنکھیں عجیب سی تھیں باہر کو نکلی ہوئیں اور انگاروں کی طرح سرخ_اشعر سوچ میں گم تھا_
ملازمہ کی آواز پر وہ ہوش میں آیا____ارے صاحب کیا میرے کو یہیں باہر کھڑا رکھو گے_اشعر شرمندہ سا ہو کر ایک طرف ہو گیا_
ملازمہ نے اندر آکر پورے گھر کا ایک تفصیلی معائنہ کیا اور پھر معنی خیز مسکراہٹ کے سا تھ کام میں مصروف ہو گئی_اشعر اور خالہ کو ناشتہ بنا کر دیا جب تک انہوں نے ناشتہ کیا ملازمہ نے سارا گھر سمیٹ لیا_جھاڑو لگا کر برتن دھوئے_اشعر اس پورے وقت میں محسوس کروائے بغیر ملازمہ کی ہر ہر حرکت کا بغور جائزہ لے رہا تھا_
بارہ بجے ملازمہ نے آکر اشعر سے پوچھا کہ اس نے کام کر لیا ہے_اس نے کہا اس کو بتایا گیا تھا کہ صاحب کو اگر کام پسند آگیا تو اسے اپنے پاس رکھ لیں گے_اشعر کیوں کہ صبح سے شام تک آفس ہوتا تھا_خالہ کے بارے میں وہ کافی فکرمند تھا دو دن سے وہ ہر دو گھنٹے بعد خالہ کی خیریت دریافت کرنے گھر آتا تھا_شکر ہے اسکا آفس صرف آدھ گھنٹے کی مسافت پر تھا ورنہ اس کے لیے آنا جانا کافی مشکل ہوتا_
اشعر نے کچھ سوچ کر اسے کل سے مستقل طور پر یہیں رہنے کو کہہ دیا_تنخواہ وغیرہ کا فائنل کر کے وہ مطمئن ہو گیا_ملازمہ نے بتایا کہ اسکی ایک ہی بچی ہے شوہر کا کچھ ماہ پہلے ہی انتقال ہو چکا ہے اس لیے وہ بھی بھری دنیا میں تنہا ہی ہے_اشعر نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ بظاہر ایک چھوٹی سی غلطی اسے کتنی مہنگی پڑنے والی ہے_

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: