Galti Novel By Aaban Dawood – Episode 2

0

غلطی از آبان داؤد – قسط نمبر 2

–**–**–

پیر کو اشعر تیار ہو کر آفس چلا گیا_آج کام معمول سے کچھ زیادہ ہی تھا_اس نے گھر فون کرکے ملازمہ کو بتا دیا کہ اس نے سرونٹ کوارٹر کا دروازہ صبح ہی کھول دیا تھا اس لیے وہ اپنا سامان وہاں رکھ دے اور خالہ کا خیال رکھے_
رات کو اشعر جیسے ہی گھر آیا اسے کچھ عجیب سی بدبو محسوس ہوئی_خالہ کے کمرے کی طرف بڑھا_نجانے کیوں اس کا دل کسی انجایے خوف سے کانپ رہا تھا_سامنے جو دیکھا تو اس کی روح تک کانپ گئی_سامنے ملازمہ اور اس کی بیٹی بیٹھی خالہ کے مردہ جسم کو نوچ نوچ کے کھا رہی تھیں _______
پورے کمرہ خون سے رنگا ہوا تھا___ملازمہ اور اس کی بیٹی کسی ڈائن کا روپ دھارے بیٹھی تھیں
اور دونوں کے منہ خون سے لتھڑے ہوئے تھے_اشعر کا خوف کے مارے برا حال تھا_اس کی تو گویا چیخنے چلانے کی قوت بھی سلب ہو چکی تھی_وہ بت بنا اس سارے منطر کو دیکھ رہا تھا_تبھی ملازمہ کی نطر اس پر پڑی اشعر کو جیسے ہوش آگیا وہ چیختے ہوئے باہر بھاگا_لیکن باہر کا دروازہ بند تھا_وہ پچھلے دروازہ کی طرف بھاگا تبھی اسے سامنے ملازمہ کھڑی نظر آئی وہ ایک تیز دھار خنجر لیے اسی کی طرف بڑھ رہی تھی_______ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا فضا اس کے وہشت ناک قہقہوں سے گونج رہی تھی______________
جانے دو____مجھے جانے دو___پلیز خدا کے لیے وہ چیخ رہا تھا _____
ہاہاہاہا آج میں تیرے خون سے امر ہو جاؤں گی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے__پھر کوئی اس مائی سے ٹکر نہیں لے سکے گا___شیطان دیوتا کے آگے تیرے خون کی بلی چڑھایے سے میری پانچ سو سال کے مراد بر آئے گی____میں امر ہو جاؤں گی مجھےمہان شکتی پرپت ہو گی_____اور میں شدھ ڈائن بن جاؤں گی اس دھرتی پر پہلی شدھ ڈائن____ملازمہ ایک مکروہ صورت بڑھیا کا روپ دھارے خوشی سے چلا رہی تھی___
میں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے پلیز مجھے جانے دو___پلیزززززززززز___اشعر رو رہا تھا گڑ گڑا رہا تھا لیکن وہ اسی کی جانب بڑھ رہی تھی____________فضا میں چہار سو ایک خوف تھا دہشت تھی___
وہ اللہ کو پکارنا چا رہا تھا لیکن اس کی زبان اسکا ساتھ نہیں دے رہی تھی___اشعر لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ کمرے کی طرف بھاگا ___اس نے کمرے کا دروازہ بند کر دیا___کمرے کا سارا سامان اکٹھا کر کے وہ دروازے کے سامنے پھینکتا گیا اس نے بیڈ گھسیٹ کر دروازے کے سامنے رکھا ____خوف کے مارے اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا———دفعتا کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا جونھی اس یے مڑ کر دیکھا خالہ اپنے ادھ کھائے وجود کے ساتھ کھڑی تھی اشعر چیخنے لگا بچاؤ بچاؤ________دروازہ تو وہ پہلے ہی بند کر چکا تھا اب بچاؤ کا کوئی راستہ نہیں تھا______تبھی جیسے قسمت کو اس پر رحم آگیا یا شاید اسے اس سے زیادہ سنگین اور دہشت ناک حالات سے گزرنا تھا___بھاگ دوڑ میں نہ جایے کب اس کا موبائل گرا اور مولانا صاحب کا نمبر ڈائل ہو گیا پہلے تو وہ ہیلو ہیلو کرتے رہے پھر اشعر کی چیخیں سن کر اس کے گھر کی طرف دوڑے کہ خدانخواستہ وہ کسی بڑی مصیبت کا شکار نہ ہو گیا ہو
_بیرونی دروازے کی بیل بجی_اس کے ساتھ ہی کسی نے زور زور سے دروازہ کھٹکھٹایا___________اشعر کی جان میں جان آئی____اس وقت کسی کی غیر متوقع آمد اس کی زندگی کی نوید لے کر آئی تھی____اچانک خالہ کا ادھ کھایا وجود بھی فضا میں تحلیل ہو گیا اور ساتھ ہی دہشت ناک قہقہے بھی تھم گئے_________________
اس کے باوجود اشعر کی ہمت نہیں ہو پا رہی تھی ک وہ کمرے کا دروازہ کھول کر باہر جا ئے_______
آخر کار اس نے اونچی آواز میں کلمہ کا ورد کرتے ہوئے بیڈ اور باقی سامان ہٹایا اور دروازہ کھول کر باہر آیا____پورا گھر اندھیرا میں ڈوبا ہوا تھا…..اشعر کا پیر کسی ٹھوس چیز سے ٹکرایا____ اشعر نے ہمت کر کے بلب آن کیا اور پھر چیختے ہوئے باہر دوڑ لگا دی____دروازے کے باہر خالہ کی لاش پڑی تھی _____بیرونی دروازہ کھولتے ہی وہ غش کھا کر گر پڑا___________________
اشعر نے جونہی آنکھیں کھولنے کی کوشش کی اس کے سر میں درد کی شدید ٹیسیں اٹھیں_______اس نے ہمت کر کے آنکھیں کھولیں تو خود کو ہسپتال کے بیڈ پر لیٹاہوا پایا______تبھی اسے پاس کھڑی نرس کی آواز سنائی دی_____مس مریض کو ہوش آگیا ہے میں ڈاکٹر صاحب کو بلا کر لاتی ہوں______________تبھی سفید چادر میں لپٹی ایک دوشیزہ اس کے پاس آئی____ارے ارے آپ آنکھیں مت کھولیی ابھی آپ کو تکلیف ہو گی___پورے تین دن کے بعد ہوش میں آئے ہیں____اشعر اس کی بات سن کر حیرت میں ڈوب گیا___اور بمشکل اسے پہچاننے کی کوشش کرنے لگا شاید آپ وہی ہیں جنہوں نے فرشتہ بن کر اس بھیانک رات میں میری جان بچائی___ان الفاظ کے ساتھ وہ خوفناک مناظر اس کے نظروں کے سامنے گھومنے لگے____
جھرجھری لے کے اس نے دوبارہ آنکھیں موند لیں_______
تبھی اسے امام صاحب کی آواز سنائی دی جو شاید ڈاکٹر سے بات کر رہے تھے_ڈاکٹر اس کے قریب آیا____اشعر صاحب آنکھیں کھولنے کی کوشش کریں___اس نے نا چاہتے ہوئےدوبارہ آنکھیں کھولیں اس بار درد کا احساس قدرے کم تھا___کیا آپ کو صاف دکھائی دے رہا ہے?????ڈاکٹر نے اشعر سے پوچھا_________
جی ڈاکٹر صاحب میں دیکھ سکتا ہوں___
ویل گڈ اینڈ تھینکس گاڈ کہ آپ کی آنکھیں سلامت ہیں ورنہ آپ کی کنڈیشن دیکھ کہ لگتا تھا کہ آپکی بینائی ضائع ہو چکی ہے____کیوں کی ہیڈ انجری بہت ہی شدید تھی___ٹیک کیئر آف یور سیلف(اپنا خیال رکھو)___ڈاکٹر اشعر کا کندھا تھپتھپائے ہوئے باہر نکل گیا___
تبھی مولوی صاحب کی مشفقانہ آواز سنائی دی___
اشعر میاں اب کیسے ہیں آپ???
ٹھیک ہوں مولوی صاحب___
میں یہاں کیسے آیا?????
ارے ارے میاں آپ کیوں دماغ پر بوجھ ڈال رہے ہیں ابھی آپ آرام کیجیے ایک بار ٹھیک ہو جائیں تو ہم آپ کو سب بتا دیں گے___
شام کو وہی لڑکی سوپ کا پیالہ لیے اس کے پاس آئی جب نرس اسکا بلڈ پریشر اور ٹمپریچر چیک کر رہی تھی___
اب آپ کیسا محسوس کر رہے ہیں??
جی ی ی ی بہتر_کیا میں پوچھ سکتا ہوں آپ کون ہیں???
اس وقت مولوی صاحب ادھر آتے ہوئے دکھائی دیے___
برخوردار اب کیسا محسوس کر رہے ہیں???
اب قدرے بہتر محسوس کر رہا ہوں___
اس دوران اشعر کی نطر اس لڑکی پر پڑی جو ابھی تک سوپ کا پیالہ لیے کھڑی تھی___ارے رابعہ بیٹی اشعر میاں کو سوپ پلایے__اشعر نے چونک کر مولانا صاحب کی طرف دیکھا__
مولانا صاحب بھی شاید اسکی نطروں کا مفہوم سمجھ چکے تھے_____ارے برخوردار یہ ہماری بٹیا ہیں رابعہ ____میاں ہم سے اس عمر میں اکیلے کہاں بھاگ دوڑ ہوتی اس لیے بٹیا کو لے آئے تھے ساتھ___مولانا صاحب آپکا شکریہ.آپ پ اشعر کے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے..,ارے ارے میاں کیوں گناہ گار کرتے ہیں یہ تو ہمارا اخلاقی فرض تھا اور اجر دینے والی ذات تو اس رب کی ہے__آپ آرام سے سوپ پیجیے ہم تب تک عشاء پڑھ کر آتے ہیں_____
سوپ پی کر اشعر نے دوا لی اور جلد ہی دوا کے زیراثر گہری نیند سو گیا_____
رات کے جانے کس پہر اشعر کی آنکھ کھلی___کاکھ لاکھ ککڑی کاکھ لاکھ ککڑی ی ی ی ی ____ایک پراسرار آواز اس کے کان میں پڑی_اشعر یے گردن گھما کر ادھر ادھر دیکھا اور جونہی اسکی نطر چھت پر پڑی اس کے اوسان خطا ہو گئے___وہی مکروہ صورت بڑھیا چھپکلی کی مانند چھت سے چپکی ہوئی تھی___بڑھیا نے اشعر کی طرف دیکھ کر ایک بھیانک قہقہہ لگایا ___چاہنے کے باوجود اشعر چیخ نہیں پا رہا تھا____تبھی بڑھیا نے وہ خنجر نکالا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ ہاتھ تیزی سے اس کی جانب بڑھنے لگا____اشعر نے ادھر ادھر دیکھا بیڈ کے ساتھ ہی اسے میز پر پڑا گلاس دکھائی دے گیا___اشعر نے اس کی طرف ہاتھ بڑھانا چاہا کہ ہو سکتا ہے گلاس گرنے کی آواز سن کر کوئی اس کی مدد کو آجائے لیکن اسی پل اسے محسوس ہوا جیسے اسکا پورا وجود کسی ان دیکھی رسی سے مضبوطی سے جکڑا ہوا ہے__اس کے اور خنجر کے درمیان اب صرف پانچ انچ کا فاصلہ رہ گیا تھا____اشعر بے بسی سے ہاتھ پاؤں ہلا رہا تھا____وہ آیت الکرسی کا ورد کرنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن بے سود یوں لگتا تھا جیسے اس کی زبان سلب کر لی گئ ہو____خنجر سے اس کا فاصلہ اب صرف دو انچ کا تھا__تبھی وارڈ کا دروازہ کھلا اور ایک نرس اس کی طرف بھاگتے ہوئے آئی___یس سر از دیئر اینی پروبلم(جی سر کیا کوئی مسئلہ ہے)
اشعر کی سانس ابھی تک پھولی ہوئی تھی__دہشت کے مارے آنکھیں باہر کو ابھر آئی تھیں__دھڑکنیں ابھی تک بے تر تیب تھیں___نرس یے اس کی حالت دیکھی تو فورا ڈاکٹر کو آواز دی____وہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ مم مجھے مار دے گی مم مجھے مار ڈالے گی مار ڈالے گی___اشعر زور زور سے چیخنے لگا___دو میل نرس بھاگتے ہوئے آئے اور اس کو پکڑا تبھی ڈاکٹر نے آکر اسے ایک سکون آوار انجیکشن دیا جس کے فورا بعد وہ نیند کی وادیوں میں کھو گیا____شاید قدرت نے اس کی زندگی لکھی تھی تبھی اس ک ہاتھ میز کے ساتھ لگی گھنٹی پر جا لگا تھا جو مریضوں کے بیڈ کی داہنی طرف نصب کی گئی تھی تا کہ کسی ایمرجنسی کی صورت میں وہ عملہ کو بلا سکیں_______
اشعر کی حالت دن بدن بگڑتی جا رہی تھی__جونہی وہ ہوش میں آتا زور زور سے چیخنے لگتا___مولوی صاحب بھی اس کی حالت کو لے کر کافی فکر مند ثھے__پھر ایک روز وہ قاری اللہ وسایا کو لے آیے___جو مولانا صاحب کے اچھے دوست تھے اور روحانی عملیات کے ماہر تھے___ان چند دنوں میں اشعر سوکھ کر کانٹا ہو گیا تھا___قاری صاحب کی نظر جو نہی اشعر پر پڑی وہ چونکے ارےےےے عبداللہ صاحب شکر ہے آپ ہمیں یہاں لے آئے ورنہ کل چاند کی آخری تاریخ تھی اشعر میاں اگلے دن کا سورج نا دیکھ پاتے____وہ خبیث ان کو قربان کر چکی ہوتی_____پہلے بھی اس نے ایک ماں باپ کی جان اسی لیے لی تا کہ وہ ان کے بچے کی بلی چڑھا کر امر ہو سکے_لیکن خدا کر کرنا ایسا ہوا کہ ہم نے پہلے ہی اس بچے کے گرد ایک ایسا حصار قائم کر دیا تھا جس میں وہ خبیث چاکر بھی اس پر وار نہیں کر سکتی تھی__لیکن اب تو شاید اس حصار کی مدت بھی پوری ہو چکی ہے نہ جانے وہ بچہ کس حال میں ہو گا____ارے قاری صاحب کہیں اس کے والد کا نام فاروق ہمدانی تو نہیں تھا ..,.مولوی صاحب کچھ سوچ کر بولے___ارےےےے ہاں ہاں فاروق ہمدانی ہی نام تھا ان کا لیکن آپ کیسے جانتے ہیں???
قاری صاحب یہ وہی بچہ ہے مولانا صاحب نے دکھی لہجے میں کہا___
قاری صاحب بولے میاں اس بچے کی قسمت….ورنہ ہم تو کب سے یہ شہر چھوڑ کر جا چکے تھے__خدا کی کرنی کہ ہمیں ایک دو دن کے لیے کسی کام سے اسلام آباد آنا پڑا ورنہ………
تبھی قاری صاحب کچھ پڑھ کر اشعر پر پھونکنے لگے___اور پانی دم کر کے دیا کہ اس سے اشعر کو غسل کروایا جائے اور پلایا جائے__مولانا صاحب نے ہسپتال کے عملے سے کہہ کر اشعر کو غسل کروایا__اس کے بعد رابعہ وقتا فوقتا اس کو دم کیا ہوا پانی پلاتی رہی__شام چھ بجے کے قریب اشعر نے آنکھیں کھول دیں__رابعہ نے قاری اللہ وسایا اور مولوی صاحب کو بلایا جو باہر بیٹھے گفتگو کر رہے تھے___اشعر کے استفسار پر مولانا اللہ وسایا نے اسے بتایا کی اس کی پیدائش کے چند روز بعد ہی انکے گھر عجیب سی صورتحال ہویے لگی__کبھی کسی جگہ کچا گوشت پڑا ہوا ملتا تو کبھی خونکے چھینٹے__آئے روز تم بیمار رہتے تھے___پھر ایک روز تمہارے والدین مہرے پاس آئے انہوں نے ساری صورت حال سے مجھے آگاہ کیا__میں نے اپنے علم سے پتا چلایا کہ تم چونکہ چاند کی اس تاریخ کو پیدا ہوئے تھے جب شیطان اپنے چیلوں کی اچھائیں پوری کر کے انہیں شیطانی قوتیں دان کرتا ہے اس لیے ایک خبیث ڈائن تمہارے در پے تھی کہ وہ کسی طرح تمہاری بلی چڑھا کر امر ہو جائے اور شدھ ڈائن بن جائے___میں نے تمہارے گرد ایک حصار قائم کر دیا تھا اس کے رہتے وہ کبھی تم پر حملہ آو ر نہیں ہو سکتی تھی___پھر مجھے کچھ سالبعد ہی یہ شہر چھوڑ کر فیصل آباد جانا پڑا__اس سے ایک دن پہلے میں نے تمہارے والد کو کہا کہ وہ تمہیں لے کر میرے پاس آئیں تا کہ میں تمہارے گرد پھر سے حصار قائم کر دوں کیوں کہ وہ اسی انتظار میں تھی کہ کب حصار کی مدت پوری ہو اور وہ تمہیں قربان کر کر امر ہو جائے___
لیکن تم شاید ان دنوں یونیورسٹی میں تھے_تمہارے والدین تمہیں لے کر میری طرف آنے والے تھے کہ راستے میں انہیں اجل نے جا لیا__اور یوں اس خبیث نے غصے میں تمہارے والدین کو موت کے گھاٹ اتار دیا___اس کے بعد تمہاری خالہ کو بھی اس نے اپنی ناکامی کے غصے میں لقمہ اجل بنایا___ہی سب سن کر اشعر زاروقطار رونے لگا اس نے اپنے سبھی رشتوں کو کھو دیا تھا__سب نے اسے تسلی دی قاری صاحب نے اس کے گرد بدنی حصار قائم کرنے کے بعد اس کو گلے میں پہننے کے لیے ایک تعویز بھی دیا___اور اجازت لے کہ چلے گئے___
چند دن میں ہی اشعر تندرست ہو گیا اور اسے ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا__اسی دوران اس کے آفس کولیگ اور باس بوھی اس کی خیریت درہافت کرنے آئے اور اشعر کے علاج کا پورا بل بھی کمپنی کی طرف سے ادا کیا گیا_
تین چار روز بعد ہی اشعر نے دوبارہ سے آفس جانا شروع کر دیا___سب کچھ معمول پر آگیا لیکن اشعر کو ہر وقت تنہائی کا احساس گھیرے رکھتا_ایسے میں کبھی کبھی اس کی آنکھوں کے سامنے رابعہ کا معصوم چہرا آ جاتا تو اس کے دل میں نہ جانے کیوں ایک ڈھارس سے بندھنے لگتی___

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: