Galti Novel By Aaban Dawood – Last Episode 3

0

غلطی از آبان داؤد – آخری قسط نمبر 3

–**–**–

ایک روز بیٹھے بیٹھے اشعر کو خیال آیا تو اس نے احمد سے ملازمہ کا پوچھا اس نے بتایا کہ ہم نے جو ملازمہ بھیجی تھی اس نے آکر بتایا کہ اشعر صاحب نے پہلے سے ہی مللازمہ کا بندوبست کر لیا ہے___اشعر کو سن کر شدید حیرت ہوئی__کاش کہ وہ پہلے ہی احمد سے بات کر لیتا تو اسے وہ اذیت نہ برداشت کرنی پڑتی___اسے شدت سے ماں باپ یاد آنے لگے__وہ کس سے اپنا دکھ سکھ بانٹتا اس کا تھا ہی کون……………..
اگلے روز شام کو مولوی صاحب نے معرب کے بعد اشعر کو روکا اشعر سے حال چال پوجھا___اشعر کو لگا مولوی صاحب اس سے کچھ کہنا چاہتے ہیں لیکن جھجھک رہے ہیں__اشعر نے ان سے پوچھا کہ خیریت مولانا صاحب آپ شاید کچھ کہنا چاہ رہے ہیں??
مولوی صاحب بولے کہ بیٹا بات تو میں آپ سے کرنا چاہ رہا ہوں لیکن یہاں نہیں اگر آپ کو تکلیف نہ ہو تو گھر بیٹھ کر بات کرتے ہیں____
کیوں نہیں مولوی صاحب اس میں تکلیف کیسی____آپ تو میرے محسن ہیں__
مولوی صاحب نےبیٹھک دروازہ کھولا اور اشر کو اندر بٹھایا___
اس کے بعد گلا گھنگار کر گویا ہوئے کہ بیٹا آپ کے علم میں ہے کہ میں اب بوڑھا ہو چکا ہوں___ابھی تک رابعہ بیٹی کے فرض سے سبکدوش نہیں ہو سکا____زمانہ ایسا ہے بیٹا کہ جان پہچان کے بغیر کسی شخص پر اعتماد نہیں کر سکتا___اور جان پہچان والے چند رشتے مجھے مناسب نہیں لگے_____میں جانتا ہوں بیٹا آپ بہت مشکل حالات سے گزرے ہیں___
تبھی دروازے پر دستک ہوئی اور رابعہ چائے کی ٹرے تھامے اندر داخل ہوئی___ارے مولانا صاحب اس تکلف کی کیا ضرورت تھی___ارے بیٹا تکلف کیسا???رابعہ ٹرے رکھ کر فورا ہی پلٹ گئی___اشعر مولانا صاحب کی تمہید سے بات کچھ کچھ سمجھ ہی چکا تھا………..
مولانا صاحب نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا___بیٹا آپ بھی اکیلے ہیں__زندگی اکیلے تو نہیں کٹ سکتی_____کیا آپ کو کوئی پسند ہے???
نہیں نہیں مولانا صاحب___کبھی اس حوالے سے سوچا ہی نہیں …..
تو بیٹا میں آپ کے سامنے اپنی رابعہ کا رشتہ رکھتا ہوں____آپ سوچ سمجھ کر جواب دے دیں___بس میں جلد از جلد اس فرض سے سبکدوش ہو نا چاہتا ہوں____
اشعر کو اس سے بڑھ کر اور کیا چاہیے تھا اس نے مولانا صاحب کو ہاں کر دی_____اور یوں رابعہ اشعر کی شریک سفر بن گئی____اشعر کی زندگی میں گویا پھر سے بہار آگئی____انہوں نے مولانا صاحب کو بھی اپنے پاس رکھ لیا_____
شادی کو دو سال ہونے کو تھے لیکن ابھی تک دونوں اولاد کی نعمت سے محروم تھے_____
بالاآخر پانچ سال کے بعد اللہ نے انہیں اولاد کی نعمت عطا کی_____انہوں نے اپنے بیٹے کا نام سعد رکھا___اسی دوران مولانا صاحب بھی ایک روز چپکے سے خالق حقیقی سے جا ملے_____
زندگی اپنی ڈگر پر چل رہی تھی___راقم ابھی تک اشعر کی زندگی میں چین ہی لکھ رہا تھا لیکن پھر حلالات نے پلٹا کھایا__سعد چونکہ ابھی چھوٹا تھا___رابعہ کے لیے گھر سنبھالنا مشکل تھا__اس لیے اشعر نے اسے ملازمہ رکھ دی_____میرن ان کی کالونی کی دیکھی بھالی ملازمہ تھی جو سوسائٹی کے چند گھروں میں پہلے سے ہی کام کر رہی تھی_______
__________________________________________________________________________________________
میرن کی عمر پینتیس سال تھی_دس سال پہلے اس کی شاہد سے شادی ہوئی___وہ ایک سکول میں چوکیداری کرتا تھا_ابھی تک میرن کی گود سونی تھی___گزر بسر تو پہلے ہی مشکل سے ہو رہی تھی اوپر سے شاہد کو بھی نشے کی لت لگ کئی_جو کماتا وہ باہر ہی نشے پر اڑا آتا_تنگ آکر میرن نے لوگوں کے گھروں میں کام کرنا شروع کر دیا تھا_ایک روز جب وہ گھر آرہی تھی راستے میں ہی اسے مائی مل گئی_____
سنا ری میرن کیسی گزر رہی ہے___
پہلے تو میرن ٹھٹکی پھر بولی بس مائی بھلی گزر رہی ہے____
ارے مائی سے مت چپا مائی سب جانتی ہے___تیری سونی کوکھ کو مالی بھر دے گی___اولاد کی خواہش تو میرن کو کب سے تھی_جب جب گلی محلے میں بچوں کو دیکھتی دل مسوس کہ رہ جاتی___
میرن تو سنتے ہی مائی کے قدموں میں جا گری_ارے ارے اٹھ جا ہم تیرے بھاگ جگائیں گے__پر تجھے بھی مائی کی سیوا کرنی ہی گی__
ضرور کروں گی__مائی تو حکم کر__
اور یوں میرن مائی کے روپ میں آئی ڈائن کی چیلی بن گئ___
میرن تو بہت خوش تھی اب اسے زیادہ کام ملنے لگا تھا لیکن اس کی گود ابھی تک سونی تھی__
مائی نے اس سے وعدہ کیا تھا اگر وہ وقت آنے پر مائی کا ایک کام کرے تو وہ تانتر ودیا سے اس کی کوکھ اوشے ہری کرے گی__
اور اب وہ وقت آ گیا تھا___
میرن کو اشعر کے گھر کام کرتے ایک ماہ گزر گیا_رابعہ اس کے کام سے مطمئن تھی_اسے لیے وہ میرن کی موجودگی میں اکثر سعد کو اس کے پاس چھوڑ کر آس پڑوس میں چلی جاتی تھی__
ایک دن موقع پاتے ہی میرن نے سعد کو اٹھایا اور اسے لے کے ابھی دروازے سے نکلنے ہی والی تھی کہ رابعہ آگئی…
میرن بوکھلا گئی اور رابعہ سے کہا کہ وہ سعد کو رابعہ کے پاس ہی لے کے آرہی تھی کیونکہ سعد ماں کو نا پا کر رو رہا تھا___
رابعہ کو کچھ شک تو ہوا لیکن چونکہ میرن نے ابھی تک کوئی چوری چکاری جیسی حرکت نہیں کی تھی اس لیے رابعہ اس کی بات کو سچ مان کر مطمئن ہو گئی اور سعد کو لے کر کمرے میں چلی آئی__
میرن تو یہ سوچ کر ہی کانپ گئی کہ اگر وہ پکڑی جاتی تو اسکا کیا حشر ہوتا____
مائی یے اسے لعنت ملامت کی کہ اس کے ہوتے ہوئے کوئی میرن کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا_لیکن اسے چاند کی آخری تاریخ سے پہلے سعد کو کسی بھی طرح اس کی کٹیا میں لانا تھا____
کیوں کی سعد بھی اتفاقا چاند کی اسی تاریخ کو پیدا ہوا تھا جس تاریخ کو اشعر پیدا ہوا تھا___اشعر کیونک بدنی حصار میں تھا اس لیے وہ اس پر وار نہیں کر سکتی تھی__لیکن سعد کی بلی چڑھا کر وہ امر ہو سکتی تھی__
اشعر اس واقع کے بعد بہت اہتمام سے وہ تعویز بھی پہنا کرتا تھا__
لیکن اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ خطرہ ابھی ٹلا نہیں تھا___
چاند کی آخری تاریخ نزدیک آتی جا رہی تھی__
اور پھر چاند کی آخری تاریح میں صرف ایک دن باقی رہ گیا______آج میرن کو ہر حال میں سعد کو مائی کے پاس لے کے جانا تھا___مائی نے میرن کو ایک نشہ آور دوا کی پڑیا دی تا کہ وہ رابعہ کو بے ہوش کر کے سعد کو اس کے پاس لے آئے___پہلے تو میرن گھبرائی لیکن پھر اولاد کے حصول کی لالچ میں آکر اس نے چائے میں رابعہ کو نشہ آور دوا ملا کے دے دی___چند منٹ بعد ہی رابعہ اس کے زیر اثر بے وہش ہو چکی تھی__میرن سعد کو لے کے مائی کے پاس بھاگ_
________________________________________________________________________
قاری اللہ وسایا آج کافی عرصے کے بعد لوگوں کے پرزور اصرار پر مسجد میں درس قرآن کے لیے تشریف لا رہے تھے___اشعر نے سنا تو بیان کے بعد ضد کر کے انہیں گھر لے آیا__اشعر نے ایک دو بار بیل بجائی اس کے بعد جونہی اس نے دروازے کو یاتھ لگایا دروازہ خلاف معمول کھل گیا___اشعر کو حیرت ہوئی کیونکہ رابعہ کا معمول تھا کہ وہ اشعر کے آنے سے پہلے دروازے کو کنڈی لگائی رکھتی تھی___اشعر رابعہ کو آواز دیتا ہوا اندر داخل ہوا رابعہ کمرے کے دروازے کے باہر ہی بے سدھ پڑی تھی__اشعر نے فورا پانی کے چھینٹے مارے تو رابعہ نے کسمسا کے آنکھیں کھول دیں___اشعر سعد رابعہ چیخی کیونکہ بے ہوش ہونے سے پہلےآخری آواز جو اس کے کان میں پڑی تھی وہ سعد کے رونے کی تھی____
اشعر نے بد حواسی میں پورا گھر چھان مارا لیکن سعد کہیں نہیں تھا____تبھی قاری صاحب بھی اندر تشریف لے آئے__انہیں نے ماجرا سنا تو فورا اس ڈائن کا خیال آیا انہوں نے اشعر سے سعد کی تاریخ پیدائش پوچھی تو چونکے جس بات کا ڈر تھا وہی ہوا___قاری صاحب اشعر کو لے کے فورا باہر کو بھاگے کیونکہ ابھی میرن کو گئے زیادہ وقت نیہں گزرا تھا__اشعر نے گاڑی نکالی_بہت جلد ہی انہیں کالونی کی مخالف سمت میی ایک ہیولا سا بھاگتا ہوا دکھائی دیا___دونوں اس کے پیچھے ہو لیے_
آہستہ آہستہ اندھیرا پھیل رہا تھا___
گھر میں رابعہ کا رو رو کر براحال تھا وہ مصلی بچھائے رب کے حضور اپنے شوہر اور بچے کی حفاظت کےلیے گڑگڑا رہی تھی__
گاڑی اچانک ہی کسی زوردار چیز سے ٹکرائی اور گاڑی کی ہیڈ لائٹس چھناک سے ٹوٹ گئیں___
اشعر نے گاڑی اسٹارٹ کریے کی کوشش کی مگر بے سود ایسا لگتا تھا کسی ان دیکھی قوت نے ان کی گاڑی کو جکڑ رکھا ہو____
اشعر بیٹا وقت برباد مت کرو چاند نکلنے والا ہے اس سے پہلے پہلے تمہیں سعد کو اس خبیث سےبچانا ہو گا___ڈائن کی ساری خبیث شکتی اس کی چوٹی میں ہوتی ہے اگر تم کسی طرح اسکی چوٹی کاٹ دو تو وہ خود ہی بھسم ہو جائے گی…اور تعویز لے جاؤ کسی بھی طرح تمہیں ہی سعد کے گلے میں ڈالنا ہو گا____ا
اشعر نے گاڑی کا دروازہ کھول کر اترنے کی کوشش کی لیکن دروازہ سختی سے بند تھا___اشعر نے زور زور سے دروازے کو ٹھوکر یں ماریں لیکن دروازہ تھا کہ کھلیے کا نام نہیں لے رہا تھا_قاری صاحب کچھ پڑھ پڑھ کر پھونک رہے تھے___اچانک دروازہ کھل گیا اشعر فورا باہر کو دوڑا___بھاگتے بھاگتے اس کا پیر پتھر سے ٹکرایا اور وہ منہ کے بل گر پڑا___اشعر کی آنکھوں کے سامنے تارے ناچ گئے____تبھی اس کی آنکھوں کے سامنے سعد کا معصوم چہرہ آیا______وہ لڑکھڑاتے ہوئے اٹھا اور لنگڑاتا ہوا پھر سے بھاگنے لگا____چند گز کے فاصلے پر ہی اسے ایک بوسیدہ جھونپڑی نظر آگئی____یہ اسی ڈائن کا مسکن تھا___تبھی اشعر کے دائیں پیر کے نیچے کسی نرم سی چیز کا احساس ہوا اس نے اندھیرے میں آنکھیں پھاڑپھاڑ کر دیکھا تو اسے ہر طرف سانپ ہی سانپ نظر آئے_______اشعر کی چیخ نکل گئی______اب وہ کدھر جائے___اس نے زور زور سے آیت الکرسی کا ورد شروع کر دیا____دیکھتے ہی دیکھتے اسے ایک روشنی کا ہیولا سا نظر آیا سارے سانپ خود بخود عائب ہو گئے____اشعر کے پاس وقت کم تھا____اسے چاند نکلیے سے پہلے پہلے سعد کے گلے میں وہ تعویز ڈالنا تھا___وہ دوڑتا ہوا جھونپڑی کے پاس پہنچا___اندر ہر طرف ناگوار بدبو کے بھبھکے اٹھ رہے تھے____اشعر کے لیے سانس لینا دوبھر ہو گیا______
کاکھ لاکھ ککڑی____کاکھ لاکھ ککڑی ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا آج پراپت ہو گی مہان شکتی شیطان دیوتا کی جئے شیطان دیوتا کی جئے__________مکروہ بوڑھی ڈائن خوشی سے ناچ رہی تھی____________اس کے سامیے ہی ایک زنگ آلود تخت پر سعد لیٹا تھا___اشعر کا دل بے اختیار بھر آیا____
ہاہاہاہاہاہاہا تو کیا سمجھا تھا تو اس بڈھے کے بدنی حصار سے میری بلی کی اچھا کو کبھی پورا نہیں ہونے دے گا____ہاہاہاہا اب دیکھ میرے تیرے سامنے تیری اس بلونگڑے کی بلی چڑھا کر شدھ ڈائن بن جاؤں گی____امر ہو جاؤں گی امر وہ خوشی سے پھر ناچنے لگی___
اشعر نے جونہی آگے بڑھنے کی کوشش کی ہر طرف وہی سانپ نظر آنے لگے___دیکھتے ہی دیکھتے پوری کٹیا سانپوں سے بھر گئی___لیکن بدنی حصار کی وجہ سے وہ اشعر پر حملہ نہیں کر سکتے تھے_____بڑھیا سعد کے اردگر ناچتے ہوئے منتر پڑھ رہی تھی___آہستہ آہستہ چاند اوٹ سے جھانکنے لگا___اشعر چیخ رہا تھا چھوڑ دو پلیز مہرے بچے کو کچھ مت کرو پلیز میں ہاتھ جوڑتا ہوں ____اشعر کی منت زاری کے ساتھ ہی بڑھیا کے قہقہے بلند اور ہیبت ناک ہوتے جا رہے تھے____بڑھیا ڈائن کے روپ میں آچکی تھی___میرن بھی شاید پہلی بار اس کا اصلی روپ دیکھ رہی تھی___خوف کے مارے وہ بھی ایک کونے میں سمٹی جا رہی تھی____
اشعر نے ہمت کر کے آگے بڑھنے کی کوشش کی بڑھیا تو ہی دیکھ کر طیش آ گیا اس نے ایک زوردار پتھر اشعر کی طرف اچھالا___اشعر کے سر سے خون بہنے لگا___اس کےقدم لڑکھڑائے لیکن اسے اپنی اولاد کو ہر حال میں بچانا تھا______________
اشعر ہمت کر کے پھر آگے بڑھا___اس نے بڑھیا کی لمبی چوٹی پکڑی اس اجنک حملے پر بڑھیا تخت کی دوسری جانب گر پڑی…,,
لیکن اس لمحے بڑھیا کی چوٹی خطرناک حد تک لمبی ہو کر اشعر کے گرد لپٹنے لگی……..
اشعر کو اپنی ہڈیاں چٹختی ہوئی محسوس ہوئیں_____اس کی گرفت ہر لمحے مظبوط ہوتی جا رہی تھی___اشعر کی آنکھیں باہر کو ابل آئیں__اس کے سر سے بھی کافی خون بہہ چکا تھا__اشعر کی آنکھیں بند ہونے لگی___
اسی لمحے سعد زور زور سے رونے لگا___اشعر بے بسی سے گڑگڑ ایا ___بڑھیا ابھی تک قہقہے لگا ئے جا رہی تھی____
اشعر نے ہمت نہ ہاری اس نے کسی نہ کسی طرح ایک ہاتھ لپٹی چوٹی سے باہر نکال کر بڑہیا کی ٹی کو زور سے جھٹکا دیا بڑھیا کی چیخ نکل گلی اشعر نے ایک اور جھٹکا دیا پے درپے جھٹکوں سے بڑھیا کے ہاتھ سے خنجر دور جا گرا_سعد نے لپک کر خنجر پکڑنے کی کوشش کی لیکن وہ اسے سے کافی فاصلے پر تھا__
نی جانے میرن کو کیا سوجھی وہ اٹھ کر حنجر کی طرف بڑھی اشعر چیخا نن نن نہیں____اس کے ساتھ ہی ایک بھیانک چیخ فضا میں گونجی اور ہر طرف ایک بدبودار دھواں پھیل گیا___
میرن نے ڈائن کی چوٹی کاٹ دی تھی___اشعر جیسے ہی چوٹی کی گرفت سے آزاد ہوا وہ سعد کے پاس پہنچا اور فورا اس کے گلے میں تعویز ڈال دیا_____
اجانک پولیس وین کے سائرن کی آواز سنائی دی__رابعہ قاری صاحب کی کال پر احمد کے ہمراہ پولیس کو لے کر پہنچی____پولیس نے میرن کو کرفتار کر لیا___اشعر کو ہسپتال لے جایا گیا__بعد ازاں رابعہ اور اشعر نے میرن کو معاف کر کے کیس واپس لے لیا___
یوں انہوں نے خبیث ڈائن سے چھٹکارا حاصل کر لیا___مولانا صاحب نے اشعر رابعہ اور سعد پر بدنی حصار فائم کر دیا_______________
اب سعد پانچ سال کا ہو چکا ہے آج جب سعد شرارتا چھپا تو رابعہ ایک بار پھر سے اسے کھونے کے ڈر سے بدحواس ہو گئی اور اب اسے سینے سے چمٹائے پیار کیے جا رہی تھی____
سچ ہے برائی کتنی ہی طاقت ور کیوں نہ ہو آخر پر جیت ہمیشہ اچھائی کی ہی ہوتی ہے_____

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: