Ghulam Hai Dil Ye Tera Novel By Suhaira Awais

0
غلام ہے دل یہ تیرا از سہیرا اویس – مکمل ناول

–**–**–

آج ساتواں روزہ تھا۔۔
عالیان مغرب کی نماز پڑھنے کے کافی دیر بعد گھر آیا۔۔۔۔
اور وہ جب کچن میں گھسا تو ربیعہ کو بڑے انہماک سے اپنے پکوڑوں پر ہاتھ صاف کرتا دیکھ کر۔۔
اس کا دل باہر آ گیا، اس کے اندر غصے کا ایک ابال اٹھا۔۔
اس نے جھپٹ کر اس کے سامنے سے پلیٹ اٹھائی۔۔
اس میں۔۔ کیچپ میں غرق ہوا۔۔ صرف ایک پکوڑہ اور آدھا سموسہ موجود تھا۔۔
وہ بری طرح کلس کر رہ گیا،
“موٹی چڑیل۔۔ میرے سارے سموسے پکوڑے کھا گئی۔۔”
اس نے دھاڑتے ہوئے کہا۔۔ اور شکل تقریباً رونے والی تھی۔۔
“کھبل دال جو میلی اپی تو موتی چولیل کا۔۔چھمجے۔۔”
(خبر دار جو میری آپی کو موٹی چڑیل کہا۔۔ سمجھے)
وہیں ربیعہ کے پاس بیٹھی اس کی چھوٹی سی، تین سالہ بہن۔۔انفال نے اپنی توتلی زبان میں کہا۔۔
ربیعہ۔۔پہلے تو تھوڑا سا سہمی تھی پر پھر اس بے چارے کی شکل دیکھ کر اور انفال کی بات سن بے اختیار اس کی ہنسی چھوٹی۔۔
عالیان کو۔۔ ربیعہ پر تو غصہ آ ہی رہا تھا پر اب اس ننھی سی انفال پر بھی تاؤ آیا۔۔ پر وہ بچاری تو بچی تھی۔۔ اس لیے وہ اسے تو کچھ نہیں کہ سکتا تھا۔۔
پر ربیعہ کا کوئی نہ کوئی علاج کرنا تھا۔۔!!
کیونکہ اس کا روزانہ کا یہی معمول تھا۔۔
اس سے افطاری میں جوس، شربت اور پانی کے علاوہ کچھ کھایا پیا نہیں جاتا تھا۔۔ اور اوپر سے جو وہ اپنے حصے کے سموسے پکوڑے کچن میں چھپا کر جاتا۔۔
نماز کے بعد اسے وہ ملتے ہی نہیں تھے۔۔
آج تو اس کے ہاتھ موقع لگ گیا تھا۔۔
گھر والے سارے عید کی شاپنگ کے لیے نکلے تھے کیونکہ بعد میں پھر بازاروں کا رش ناقابل برداشت ہوتا ہے۔۔
اب گھر میں وہ تھا۔۔ ربیعہ تھی اور۔۔ وہ ننھی انفال۔۔
“مجھے نہیں پتا،۔۔ مجھے ابھی کے ابھی نئے سموسے تل کے دو اور پکوڑے بھی بنا کرد۔” عالیان نے اس پر اپنا دھونس جمایا۔
“یہ تم کس ٹون میں بات کررہے ہو۔۔؟؟
لہجہ درست رکھو اپنا۔۔!!
اور میں تو نہیں کہتی تمہیں کہ اپنے پکوڑے چھوڑ کر جاؤ۔۔
اب میں نے کھا لیے تو کھا لیے۔۔
لیکن میں اب پھر سے بنا کر دینے والی۔۔
سمجھے۔۔” ربیعہ نے اس کے دھونس کا جواب ڈبل دھونس جماتے ہوئے دیا۔
“آج تو میں تم سے بنواکر ہی رہوں گا۔۔ چلو شاباش۔۔!! عزت اور تمیز سے بنادو۔۔ورنہ۔۔!!!” عالیان نے تڑی لگا کر ربیعہ کو سلگانے کی کوشش کی۔
اور وہ سلگ بھی گئی!
“ورنہ کیا۔۔ ہاں۔۔ دھمکی دے رہے ہو مجھے؟؟
جاؤ۔۔ کرو جو کرنا ہے۔۔ میں تمہیں کچھ نہیں بنا کر دینے والی۔۔” اس نے اپنی کمر پر دونوں ہاتھ باندھتے ہوئے۔۔ اس کی تڑی کا جواب دیا۔
عالیان نے ایک چھبتی نظر ربیعہ پر ڈالی۔۔
اور انفال کی طرف بڑھ کر اسے گود میں اٹھایا۔
“کسی پالی شی بچی کو،ائسکریم کھانی ہے؟؟ ” عالیان نے انفال کو لالچ دیا۔۔
“دی عالی بھیا۔۔ میں آشیم تھاوں دی۔۔”
(جی عالی بھیا میں آئس کریم کھاؤں گی۔۔) انفال بھی مزے سے اس کے دام میں آ گئی۔۔
“تو پھر۔۔ آپ اس موٹی چڑیل سے کہو کہ عالی بھیا کو۔۔ سموسے بنا کر دیں۔۔۔” عالیان نے مزے سے۔۔ انفال کی آنکھوں میں آئس کریم کی بڑھتی لالچ دیکھ کر اپنا موقف پیش کیا۔
ربیعہ کھڑی ان دونوں کی ڈائیلاگ بازی پر کان لگائے۔۔ بڑی شدید گھوریوں سے دونوں کو نواز رہی تھی۔
ارے۔۔ یہ کیا انفال نے تو پارٹی ہی بدل ڈالی تھی۔۔
اب تو اسے ، ربیعہ کو موٹی چڑیل پکارنے پر بھی غصہ نہیں آیا۔
اور الٹا وہ معصوموں کی طرح آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے ربیعہ کو دیکھ رہی تھی۔۔ کہ جیسے کہہ رہی ہو۔۔ “سموسے بنائیں”
“اوئے۔۔ لالچی عورت۔۔ بند کرو اپنے ڈرامے۔۔ میں نے نہیں کوئی پکوڑے بنانے۔۔” ربیعہ نے انفال کی معصومیت کا بھی لحاظ نہیں کیا ۔
الٹا اسے عورت ہی بنا ڈالا۔۔
ربیعہ کا یہ کہنا تھا کہ۔۔
انفال مچل کر عالیان کی گود سے نکلی۔۔
اور زمین پر لیٹ گئی۔۔
لمحے کی دیر کئے بغیر۔۔ اس نے بھاں بھاں کر کے۔۔ رونا شروع کردیا۔۔
اب ربیعہ کو پتہ تھا کہ جب تک اس کی بات مانی نہیں جانی۔۔ سب تک اس نے چپ نہیں ہونا۔۔
سو۔۔ ناچار۔۔ وہ فریج تک گئی اور سموسے نکالے۔۔
آئل گرم کرنے کے لیے چولہے پر رکھا۔۔
اور بڑے زہر آلود انداز میں۔۔ بار بار۔۔ پیچھے چھوٹی سی ٹیبل پر بیٹھے ، عالیان کو دیکھتی رہی۔۔
عالیان وہاں انفال کے ساتھ کھیلنے میں بزی تھا۔۔ اور گاہے بگاہے۔۔ مسکراتے ہوئے ربیعہ کی طرف دیکھ کر اسے مزید جلا دیتا۔
پر اس کی مسکراہٹ جلانے کے لیے نہیں تھی۔۔
وہ تو۔۔ ایسے ہی ربیعہ کا وجود۔۔ ہمہ وقت اس کی مسکراہٹ کی وجہ بنا رہتا ہے۔
اس سے لڑائیاں اور پنگے اپنی جگہ۔۔
اور محبت اپنی جگہ۔۔
اب یہ الگ بات ہے کہ عالیان نے آج تک اس پر اپنی محبت ظاہر نہیں کی۔
ربیعہ نے سموسے بنا کر پٹخنے والے انداز میں ، اسے Serve کیے۔۔
اور تنتناتی ہوئی۔۔ کچن سے باہر نکلی۔۔
×××××
رات کو جب سارے شاپنگ کر کے واپس لوٹے تو۔۔
محمل اپنے اور ربیعہ کے مشترکہ روم میں بیٹھی۔۔ اسے اپنی شاپنگ دکھانے لگی۔۔
محمل ، ربیعہ کے تایا کی بیٹی، عالیان کی بہن اور اس کی سب سے اچھی سہیلی تھی۔
محمل اپنے بیڈ پر پھیلے شاپنگ بیگز، ایک ایک کر کے کھول کر دکھا رہی تھی۔۔
“یار یہ کیا۔۔ ؟؟ تم اتنا ہیوی ڈریس پہنو گی عید پر۔۔؟؟ یہ تو تقریباً تقریباً ایک برائیڈل ڈریس ہے۔۔؟؟ ہاں؟؟” ربیعہ نے جھپٹ کر محمل سے ہاتھ سے وہ سوٹ لے کر، حیرانی سے پوچھا۔
“ارے۔۔ یہ میرا نہیں۔۔ میری ہونے والی بھابھی کا ہے۔۔
عالیان بھائی کا نکاح ہے ناں عید پر۔۔” محمل نے مزے لیتے ہوئے۔۔ ربیعہ پر بم پھوڑا ،
“نکاح۔۔؟؟ کیسا نکاح؟؟ آئی مین۔۔ یہ کب طے ہوا؟؟ اور کسی نے مجھے کیوں نہیں بتایا۔۔” ربیعہ کا تو میٹر گھوم گیا تھا۔۔
مطلب اتنی بڑی بات۔۔۔اس کو نہیں پتہ چلی۔۔
“یار وہ۔۔ وہ کل جس وقت تم انفال کو، بیٹھ کر سلا رہی تھیں نا۔۔۔تب گھر کے بڑوں نے طے کیا تھا۔۔” محمل نے ، ربیعہ کے ری ایکشن کا کوئی اثر نہ لیتے ہوئے۔۔ بڑے مزے لے کر کہا۔
ربیعہ مزید مشتعل ہوگئی۔۔
“مطلب پورا ایک دن گزر گیا۔۔
اور کسی نے بتایا تک نہیں۔۔
اور وہ لڑکی کون ہے ۔۔
جس سے تمہارے عالیان بھائی کا نکاح ہورہا ہے۔۔؟؟
اور یہ رشتہ دیکھنے کب گئے۔۔ ؟؟
مطلب اندر کھاتے سب کام کر لیے۔۔
اور مجھے بے خبر رکھا ۔۔۔ آخر کیوں۔۔؟؟؟
میں ابھی جا کر، سب سے پوچھتی ہوں؟؟
اور تم میری اس سوال کا جواب تیار رکھو۔۔ کہ اس ساری فضول شاپنگ میں میرا عید کا جوڑا کدھر ہے۔۔؟؟ کہا بھی تھا کہ میرے لیے کوئی اچھا سا سوٹ دیکھ کر لے آنا۔۔
تم سارے کے سارے ہی ایک جیسے ہو۔۔
مطلب میری کوئی امپورٹینس ہی نہیں؟؟
تم رکو یہیں۔۔!! میں سب کی خبر لے کر آتی ہوں۔۔اور آکر ۔۔ تمہارا حساب کتاب کروں گی۔۔”
ربیعہ کی دماغ کی رگیں سختی سے تن چکی تھیں۔۔
ایک تو پہلے ہی عالیان کے سموسوں والے فرمائشی پروگرام نے اس کا دماغ الٹا ہوا تھا۔۔
اور اوپر سے۔۔ اس قدر غیر ضروری ہونے کا احساس۔۔
وہ اپنے غصے پر حق بجانب تھی۔
وہ ایسے ہی غصہ ناک پر دھرتے۔۔ لاؤنج تک گئی جہاں، اس کی امی، ابو اور تائی امی۔۔ تینوں بیٹھے چائے پی رہے تھے۔۔
ظاہر ہے اتنی دیر شاپنگ کرنے کے بعد انہیں تھکن ہوگئی تھی۔۔ اور تھکن بھگانے کا چائے سے زیادہ پاور فل ٹانک۔۔ ابھی تک پاکستانیوں نے نہیں دریافت کیا۔
خیر وہ دونوں ہاتھ کمر پر رکھے کڑے تیوروں سے ان تینوں کو گھور رہی تھی۔۔
“کیا ہوا بیٹا۔۔ ایسے کیوں کھڑی ہو؟ کوئی بات کہی ہے کیا۔۔؟؟” اس کی امی نے بڑے پیار سے پوچھا۔۔
اتنے میں پتہ نہیں کہاں سے، عالیان بھی وہاں نمودار ہوا۔۔اور دھپ سے ،اپنی امی کے پاس صوفے پر بیٹھا۔۔
“حوش کہیں کا۔۔!!” ربیعہ کھا جانے والی نظروں سے دیکھتی بڑبڑائی۔۔
اور پھر اپنی امی کی بات کا جواب دینے کے لیے۔۔ زبان تیار کی۔۔
“کہنے سننے کو بچا ہی کیا ہے؟؟
آپ لوگ یہ بتائیں کہ میں سوتیلی ہوں۔۔
اس گھر میں میری کوئی اہمیت نہیں۔۔؟؟” ربیعہ کا غم وغصہ عروج پر تھا۔۔
“کیوں بیٹا ۔۔ کیا ہوا؟
تم سے کس نے کہا؟
تم تو میری پیاری بیٹی ہو۔۔
ادھر آؤ میرے پاس بیٹھو۔۔!!” اس بار جواب تائی امی کی طرف سے آیا تھا۔
“رہنے دیں تائی اماں۔۔ آپ نے بھی غیروں والا سلوک کیا ہے۔۔
عالیان کا نکاح کر رہی ہیں۔۔ شاپنگ بھی کر کے آگئیں اور مجھے بھنک نہیں لگنے دی۔۔
نہیں مجھے بتائیں۔۔ کہ اگر بتا دیتیں تو کیا چلا جاتا آپ لوگوں کا؟؟
میں نے کوئی اس نمونے کی دلہن پر جادو ٹونا کرانا تھا؟
بتائیں کیوں چھپائی مجھ سے یہ بات۔۔” ربیعہ کی زبان رکنے میں ہی نہیں آرہی تھی۔۔
اس نے ،اپنے بابا، آفتاب صاحب کے بولنے پر اپنی زبان کو لگام دی۔
“بس بیٹا خاموش ہو جائیں۔۔ بدتمیزی کررہی ہیں آپ۔۔
یہ بات آرام سے بھی کی جا سکتی ہے۔۔
آئندہ کبھی آپ کو اس لہجے میں بات کرتا نہ سنوں۔۔” وہ یہ کہہ کر وہاں سے اٹھ کر چلے گئے۔۔
اور وہاں عالیان کا ، اس کی شکل دیکھ کر، قہقہہ چھوٹا۔
ربیعہ کی امی اسے کڑے تیوروں سے گھور رہی تھیں۔۔
اور ان کا دل کیا کہ یہی چپل اتار کر اپنی اس نکمی بیٹی کی دھلائی کردیں۔۔
پر اس وقت انہوں نے اپنی اس خواہش کا گھلا گھونٹا۔۔
اور ربیعہ کو جواب دیے بغیر وہاں سے رفو چکر ہوگئیں۔
اس کی تائی امی کو اس کا خفا خفا سا چہرہ دیکھ کر بڑا پیار آیا۔۔
انہوں نے اٹھ کر، اسے اپنے پاس لا کر بٹھایا۔
عالیان کا تو ہنس ہنس کر برا حال تھا۔
“میں بتاؤں تمہیں، میری دلہن کون ہے؟؟” اس نے شرارت سے کہا۔
“رہنے دو۔۔ اور مجھ سے بات مت کرو۔۔
تم بھی ایک نمبر کے گھنے ہو۔۔
مجھ سے سموسے بنوا کر کھا لیے اور اتنی بڑی نہیں بتائی۔۔” اس کی خفگی میں کوئی کمی نہیں آئی۔
“چلو صحیح ہے۔۔ بعد میں شکایت نہ کرنا کہ بتایا نہیں۔۔ گڈ نائٹ۔۔” وہ ہنستا ہوا وہاں سے چلا گیا۔
“ہنہ۔۔ آیا بڑا!! شکایت نہ کرنا ۔۔ گڈ نائٹ۔۔ گھنٹہ رہتا ہے سحری میں۔۔ اب کیا خاک سوئے گا،” وہ ٹیڑھے میڑھے منہ بناتی۔۔ اسی کی نقل اتارتے ہوئے بڑبڑائی۔
“ناراض ہوگئی ہو۔۔؟؟” اس کی تائی امی نے۔۔ اس کے خفا سے چہرے کو پیار سے دیکھتے ہوئے کہا۔
“جی۔۔ بہت زیادہ۔۔ اور منانے کی کوشش مت کیجئے گا۔۔ اور نہ ہی اب اپنی ہونے والی بہو کا کوئی بائیو ڈیٹا بتائیے گا۔۔ ربیعہ بس اب عید پر ہی دیکھے گی۔۔ اس چڑیل کو۔۔ جو یہاں آنے سے پہلے ہی میری اہمیت نگل گئی۔۔” وہ اپنی تائی امی کو لاڈ بھرے غصے میں باتیں سناتی وہاں سے چلی گئی۔
اور تائی امی پیچھے، اسے جاتا دیکھ کر، خود بھی مسکراتے ہوئے اٹھیں اور اپنے کمرے کی طرف چل دیں۔
×××××
ربیعہ نے سب کا شدید بائیکاٹ کر رکھا تھا۔۔
اس نے ایک آدھ دفع منع کیا کر دیا۔۔ کہ آگے سے کسی نے اسے دلہن کے متعلق بتانے کی کوشش بھی نہیں کی۔
اس بات پر اسے اور بھی تپ چڑھی،
اب تو ، اسے اس لڑکی کا تجسس ہونے لگا تھا۔
××××
ایک ایک کرکے سارے روضے گزر گئے۔۔
اور کسی کو یہ احساس بھی نہیں ہوا کہ وہ سب سے خفا ہے۔۔
اس لیے کسی نے منانے کی کوشش بھی نہیں کی۔
محمل تک نے اس سے کوئی بات نہیں کی۔
اب تو اس کی جلن اور بھڑک اور بھی بڑھ چکی تھی۔
اس لیے وہ زبان پر زہر رکھ کر گھوم رہی تھی تاکہ موقع ملتے ہی اگل سکے۔
اور یہ موقع, اسے عالیان کہ صورت میں جلد ہی مل گیا۔
ربیعہ لان میں ، چہل قدمی کی غرض سے آئی تھی،
وہاں عالیان۔۔ پہلے سے ہی موجود تھا۔۔
اور لان میں رکھے جھولے پر بیٹھا آنکھیں بند کیے گنگا رہا تھا۔
طلب ہے تو۔۔
تو ہے نشہ
غلام ہے دل یہ تیرا
کھل کے ذرا جی لوں تجھے
آجا میری سانسوں میں آ
مریض عشق ہوں میں
کردے دوا۔۔۔
ہاتھ رکھ دے تو دل پہ ذرا۔۔
ربیعہ نے وہاں جلوہ گر ہوتے ہی۔۔ زور دار تالیاں بجا کر۔۔ عالیان کے سُروں میں خلل پیدا کیا۔۔
اس نے ایک دم چونک کر آنکھیں کھولیں۔۔اور اس کی طرف دیکھا۔۔
“واہ۔۔ آج محترمہ یہاں کا راستہ کیسے بھٹک گئیں۔۔؟
آئی مین میرے پاس کیسے آ گئیں۔۔؟؟” عالیان نے مسکرا کر پوچھا۔
” شیطان تو خیر سے آزاد ہوگیا۔۔
عید کا چاند جو نظر آچکا ہے۔۔
تو میں یہ دیکھنے آئی تھی کہ وہ اپنی آزادی کیسے celebrate کر رہا ہے۔۔!!” ربیعہ ہنوز جلی ہوئی تھی۔
“اچھا۔۔!! دیکھ لیا پھر۔۔؟؟”
“ہاں۔۔ بہت اچھے سے دیکھ لیا۔۔
ارے ابھی تو شادی نہیں ہوئی۔۔
اور دل کو غلام بھی بنا لیا۔۔
اوپر سے اس کی وجہ سے گانے گا گا کر شیطان کو خوش کرنے میں لگے ہوئے ہو۔۔۔
نجانے کیا آفت ہوگی وہ لڑکی ۔۔ توبہ۔۔”
ربیعہ کی جلن دیکھنے لائق تھی۔
عالیان کو اس کے انداز پر بری طرح ہنسی آئی۔۔
“آفت تو ہے وہ۔۔
لیکن یقین کرو۔۔ میں اس کے متعلق تمہیں کچھ نہیں بتانے والا۔۔
مجھے پتہ ہے تم اسی چکر میں یہاں آئی ہو۔۔
ویسے ایک بات بتاؤ۔۔ تمہیں اس سے جیلسی ہورہی ہے۔۔
چلو رہنے دو۔۔ ابھی نہ بتاؤ
اسے دیکھ کر پھر سچی سچی بتانا۔۔۔
بس کل تک کا ویٹ کرو۔۔
اللّٰه حافظ۔۔
اب کل ملاقات ہوگی۔۔” عالیان زبان کا گھوڑا دوڑا کر ، ربیعہ کی سنے بغیر ، وہاں سے رفو چکر ہوگیا۔
اور وہ پیچھے ہاتھ ملتی رہ گئی۔۔
×××××
صبح صبح سب کی عید کی تیاری میں مصروف تھے۔۔
اور بہت ایکسائیٹڈ بھی تھے۔۔
ایک ربیعہ ہی تھی ، جس نے منہ پر نحوست طاری کی ہوئی تھی۔۔
اس کا دل ہی نہیں لگ رہا تھا۔۔
وہ بے دلی سے تیار شیار ہوکر واشروم سے باہر نکلی
تو محمل باہر کھڑی مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
“ارے۔۔ یہ کیا پہن کر آ گئیں۔۔ تمہارا عید کا ڈریس یہ تھوڑی ہے۔۔ ایک سیکنڈ میں لا کر دیتی ہوں تمہارا آج کا اسپیشل جوڑا۔۔” محمل آنکھ مار کر کہتی باہر چلی گئی۔
جبکہ ربیعہ ناسمجھی سے وہیں کھڑی۔۔ اس کی بات کا سر پیر تلاش رہی تھی۔۔
اتنے میں محمل دوبارہ کمرے میں داخل ہوئی۔۔اور اس کے ہاتھ میں وہی جوڑا تھا۔۔
اب اسے کچھ کچھ بات سمجھ آنے آنے لگی،
“ہاں ہاں۔۔ تمہارا ہی ہے یہ ، حیران کیوں ہو رہی ہو۔۔ چلو۔۔ چینج کر کے آؤ،
سب مرد حضرات نماز پڑھ کر آنے والے ہونگے۔۔
تم تیار رہو۔۔
کیونکہ آج اللّٰه کے فضل و کرم سے تمہارے تایا یعنی میرے ابا۔۔ تمہارا نکاح۔۔ اپنے ہینڈسم سے بچے سے کرانے والے ہیں۔۔
شاباش ریڈی ہو جاؤ،” محمل نے تو اسے بری طرح چونکا دیا تھا۔
وہ بے چاری ۔۔ اسکی تو سیٹی ہی گم ہوگئی،
انکار جیسی چیز کا تو کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔۔ کیوں کہ وہ اپنے ابو کو جانتی تھی۔۔ کہ وہ اس کے انکار کو خاطر میں نہیں لائیں گے۔۔
تو چپ چاپ۔۔ محمل کی ہدایات پر عمل کیا۔
محمل نے اس کا ہلکا پھلکا میک اپ کر کے۔۔ اس کے حسن کو مزید شعلے لگائے۔
وہ بے چاری تو اس اچانک خبر پر گونگی ہی بن گئی تھی۔۔
آنے والے وقت کے لیے ، اس کا دل زور زور سے دھڑکے جا رہا تھا۔
××××
سب عید کی نماز ادا کرکے آ چکے تھے۔
کچھ دیر انتظار کے بعد اس کی دونوں پھپھؤں کی فیملیز بھی وہاں موجود تھیں۔۔
کچھ دیر بعد ان دونوں کا نکاح ہوا۔۔
اور ربیعہ کی رہی سہی اکڑ بھی اکھڑ کر رہ گئی۔۔
پتہ نہیں اسے کیا ہوا تھا کہ اس کی شرم ہی ختم ہونے میں نہیں آرہی تھی۔۔
اور عالیان اسے شرماتا دیکھ کر۔۔ بڑا ہی محظوظ ہوا۔
وہ دونوں ایک ساتھ بیٹھے تھے۔۔ ربیعہ کا دل حلق میں آیا ہوا تھا۔۔ اس کا کانپ کانپ کر برا حال تھا۔۔
سور عالیان اسے ایسے کانپتا، شرماتا دیکھ کر ، اپنی مسکراہٹ ہی نہیں روک پا رہا تھا۔
محمل کو اس کی کنڈیشن، بہت ہی مزہ دے رہی تھی۔۔
ان سارے بدتمیز لوگوں میں۔۔ ایک اس کی سویٹ سی تائی امی کو اس کی حالت پر ترس آیا تو انہوں نے محمل کو۔۔ اسے اندر لے کر جانے کا بولا۔
وہ کمرے میں پہنچتے ہی محمل پر چڑھ دوڑی۔۔
“اوئے گھنی چڑیل۔۔ پہلے نہیں بتا سکتی تھیں۔۔
اللّٰه پوچھے تم سب کو۔۔
ایسے گھنے ہیں سب کے سب۔۔کہ منہ سے کچھ بولے نہیں۔۔
ابھی میں انکار کر دیتی ناں۔۔ تو مزہ آ جانا تھا۔۔”
“تم انکار کرتیں۔۔ یہ تو تب کی بات تھی۔۔
ابھی تو تم نے کوئی انکار نہیں کیا۔۔
نہ ہی کوئی چوں چراں کی۔۔
اف اللّٰه !! یہ بات بھائی کو بتاؤں گی تو خوشی سے پاگل ہی ہوجائیں گے۔۔۔ہی ہی ہی” محمل نے دانت نکالتے ہوئے کہا۔
“ارے واہ۔۔ مطلب دلہن صاحبہ پورے دل سے راضی تھیں۔۔۔” عالیان کی آواز پر دونوں نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔۔
محمل اپنے بھائی کا اشارہ سمجھ کر ۔۔ کمرے سے خود ہی غائب ہوئی۔۔اور جاتے ہوئے دروازوہ بھی بند کر گئی۔
اور یہاں ربیعہ کی حالت خراب ہونے لگی تھی۔
عالیان اس کے سامنے۔۔ اس کے بہت قریب کھڑا تھا۔۔
شرم وحیا کے مارے۔۔ ربیعہ کو نظریں اٹھانا مشکل ہوگیا تھا۔۔
“ہاں۔۔تو بتاؤ۔۔ کیسی لگی میری دلہن۔۔؟؟
آفت ہے ناں؟؟”
عالیان اس کے کان کے قریب آکر سرگوشی کی اور پھر دور ہو کر جاندار قہقہہ لگایا۔۔
“یار یہ گیا گونگی بن گئی ہو تم۔۔ میری طرف دیکھ بھی نہیں رہی۔۔ شرمانا بند کرو۔۔ میری بات کا جواب دو۔۔” عالیان نے اسے خاموش پا کر کہا۔
“کوئی گونگی نہیں ہوں میں۔۔ اور شرما بھی نہیں رہی ۔۔
تم ایسا کرو۔۔ دفع ہو جاؤ میرے کمرے سے۔۔ بدتمیز انسان۔۔ بتا نہیں سکتے تھے پہلے۔۔” ربیعہ ساری شرم کو آگ لگا کر ، بھڑک اٹھی تھی۔۔
“جان اگر پہلے بتایا ہوتا۔۔ تو تمہیں سرپرائز کیسے ملتا۔۔
اب اپنی یہ شکل درست کرو۔۔
اور جلدی سے میری عیدی دو۔۔” عالیان نے پیار سے اس کے گال پر چٹکی کاٹتے ہوئے کہا۔
“کونسی عیدی۔۔؟؟ کیسی عیدی۔۔؟؟ میں بھلا کیوں عیدی دوں گی تمہیں۔۔اور دوسری بات۔۔مجھ سے زیادہ فرینک مت ہو۔۔ ناراض ہوں میں تم سے۔۔” ربیعہ نے منہ پھلائے کہا۔
“آں۔۔ چلو عیدی رہنے دو۔۔ ویسے بھی یہ تمہارے بس کا کام نہیں۔۔ تم بس اپنی ناراضگی ختم کرو۔۔”
“میں نے نہیں ختم کرنی۔۔”
“یار یہ ظلم تو نہ کرو۔۔
پہلے دل تمہاراغلام ہے۔۔ اور اب ایسے ظلم کر کے مزید مت تڑپاؤ۔۔ یہ دیکھو کان پکڑ رہا ہوں۔۔ اور پرامس۔۔ آئیندہ کبھی کچھ نہیں چھپاؤں گا تم سے۔۔ پیپلز معاف کردوو۔۔”عالیان کان پکڑ کر بہت پیار سے کہا۔
وہ اس وقت اتنا کیوٹ لگ رہا تھا کہ ربیعہ بے اختیار مسکرادی۔۔
“اوہ ہو۔۔ لڑکی مسکرا دی۔۔ مطلب مان گئی۔۔”
عالیان نے پرجوش ہوکر کہا۔
ربیعہ کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی۔۔
اس نے آگے بڑھ کر اس کے بال بگاڑے۔۔
اور اسے “اسٹوپڈ” کہتی وہاں سے بھاگ گئی۔۔
عالیان نے دل پر ہاتھ رکھ کر، اسے محبت سے جاتے ہوئے دیکھا اور دل میں اللّٰه سے ہمیشہ اس چلبلی کو خوش رکھنے کی دعا مانگی۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: