Haibat Naak Ghar Novel by Nazia Shazia – Episode 2

0

ہیبت ناک گھر از نازیہ شازیہ – قسط نمبر 2

–**–**–

نائلہ تم نے صائمہ کی چیخ کی آواز سنی ،سارا نائلہ سے پوچھتی ہے ،ہاں سنی میں نے ،نائلہ جواب دیتی ہے ،عروہ اور اقرا بھی ابھی تک آئ نہیں ،پھر وہ دونوں اونچی اونچی صائمہ،اقرا اور عروہ کو پکارتی ہیں اور ان کو ڈھونڈتی ہیں مگر ان کو کوئی نہیں ملتا ،اچھا سارا تم ان کو دوسری طرف جا کر دیکھو میں سامنے دیکھتی ہوں اور دیکھو اب مجھے نہ مت کہنا اب ہمیں ان کو جلدی سے ڈھونڈ کر یہاں سے نکلنا ہے (ان دونوں کو ایک کمرے سے پیٹرول مل گیا تھا ) ،نائلہ سارا کو کہتی ہے ،ٹھیک ہے پر جلدی ڈھونڈنے کی کوشش کریں گے ،سارا جواب دیتی ہے، ٹھیک ہے ،نائلہ سامنے کی طرف چل پڑتی ہے جبکہ سارا دوسری طرف چلے جاتی ہے ،اب تو نائلہ کو بھی ڈر لگ رہا تھا ،نائلہ ڈرتے ڈرتے آگے جا رہی تھی کے ایک بہت بڑا دروازہ اس کو نظر آیا ،اچانک وہ دروازہ کھلا اور اس دروازے پر اقرا اور عروہ کا سر اور دھڑ لٹک رہا تھا ،یہ خوفناک منظر دیکھ کر نائلہ کہ اوسان خطا ہو جاتے ہیں ،وہ چیختی ہے اور سارا سارا چلاتی ہوئی بھاگ پڑتی ہے ،سارا اس کی چیخ سن کر بہت ڈر جاتی ہے اور اس جانب بھاگتی ہے جہاں نائلہ گئی تھی ،نائلہ گرتی پڑتی سارا کے پاس پہنچتی ہے اور اس کے سامنے گر جاتی ہے اور اونچی اونچی رونا شروع کر دیتی ہے ،سارا بہت پریشان ہو جاتی ہے ،کیا ہوا نائلہ تم ایسے کیوں رو رہی ہو ،وہ وہ سارا وہاں وہاں عروہ اور اقرا ،کیا عروہ اور اقرا کیا ہوا ان دونوں کو بتاؤ نائلہ مجھے بہت فکر ہو رہی ہے، ان دونوں کی لاشیں دروازے پر لٹک رہی تھیں اور ان دونوں کا سر بھی دھڑ سے الگ تھا ،کیا سارا چیختی ہے ،میں نے تم لوگوں سے کتنا کہا تھا کے یہ جگہ سہی نہیں ہے یہاں نہ جاؤ پر تم لوگوں نے میری ایک بات نہ مانی ،سارا ان باتوں کا ابھی بالکل بھی وقت نہیں ہے ابھی ہمیں صائمہ کو جلدی سے ڈھونڈ کر یہاں سے نکلنا ہے ،نائلہ کہتی ہے ،مجھے یاد کیا ،یہ تو صائمہ کی آواز ہے ،سارا کہتی ہے ،جیسے ہی وہ دونوں پیچھے مڑ کر دیکھتی ہیں ،تو ایک بہت بھیانک لڑکی جس کے منہ پر خون ہی خون تھا اور اس کی آنکھیں ،ناک اور کان کچھ نہیں تھا کھڑی تھی ،آہ وہ دونوں زوردار چیخ مارتی ہیں ،کیا ہوا ڈر کیوں رہی ہو میں صائمہ ہوں تم دونوں کی دوست جسے تم لوگ ڈھونڈ رہی تھیں ،نہیں تم صائمہ نہیں ہو سکتی سارا کہتی ہے ،پھر دونوں وہاں سے بھاگتی ہیں ،پیچھے سے صائمہ کا زوردار قہقہہ بلند ہوتا ہے ،کہیں بھاگ نہیں سکتی تم لوگ، موت کا سایہ تم لوگوں کے اردگرد منڈلا رہا ہے ہاہاہاہاہا ،ابھی وہ دونوں بھاگ رہیں تھی کہ سامنے ان کو اقرا اور سارا کا دھڑ اور سر نظر آیا وہ دونوں اونچی اونچی ہنس رہی تھیں ،نہیں بچ سکتی تم دونوں نہیں بچ سکتی ہاہا ،جب وہ پیچھے مڑتی ہیں تو صائمہ رینگتے ہوئے تیزی سے ان کی طرف آرہی تھی وہ دونوں جلدی سے سامنے والے کمرے میں بھاگ کر کنڈی لگا لیتی ہیں ،ابھی انہوں نے کنڈی لگائی ہی تھی اور جب پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک بہت خوفناک عورت زمین پر بیٹھی تھی اس کے ہونٹ دونوں طرف سے پھٹے تھے جہاں سے اس کے خون آلود دانت نظر آرہے تھے اس کی دونوں آنکھیں نہیں تھیں، جس سے وہ بہت زیادہ خوفناک نظر آرہی تھی ،نائلہ اور سارا زوردار چیخ مارتی ہیں سارا کنڈی کھول کر جلدی سے باہر بھاگ جاتی ہے جب کہ نائلہ کا وہ عورت پاؤں پکڑ کے اس کو نیچے گرا دیتی ہے ،سارا ،نائلہ چیخ مار کر سارا کو مدد کے لئے پکارتی ہے لیکن دروازہ بند ہو جاتا ہے ،پھر وہ عورت نائلہ کی ایک پاؤں میں چھری پیوست کر دیتی ہے اور ایک چھری دوسرے پاؤں میں پیوست کر دیتی ہے ،پھر دونوں چھریوں کو وہ تیزی سےاوپر کی طرف کھینچتی ہے اور اس کے جسم کو چیرتی ہوئی تین حصوں میں تقسیم کر دیتی ہے نائلہ کے جسم سے پورا خون، گوشت وغیرہ نکل کر باہر آجاتا ہے ،سارا نائلہ کی دلخراش چیخیں سن رہی تھی جیسے ہی وہ پیچھے مڑتی ہے تو اقرا ،صائمہ اور عروہ سامنے کھڑی تھیں۔۔۔۔

سارا نے جب پیچھے مڑ کر دیکھا تو صائمہ ،اقرا اور عروہ اس کے سامنے کھڑی تھیں وہ تینوں اونچی اونچی قہقہہ لگا رہی تھیں ان کے دلخراش قہقہہ سارا کے کانوں کے پردے پھاڑنے والے تھے،سارا نے فوری طور پر اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ لیا ،اس کو اپنی موت کا یقین ہو گیا تھا ،اس کے دیکھتے ہی دیکھتے اس کی تینوں سہیلیاں غائب ہو گئیں ،سارا کو اپنی آنکھوں پر یقین نا آیا ،سارا کو رونے کی آوازیں آنے لگی سارا نے چاروں طرف گھوم کر دیکھا لیکن اس کو کوئی نظر نا آیا لیکن رونے کی آواز مسلسل آرہی تھیں ،جیسے ہی اس نے اوپر چہرہ اٹھا کر دیکھا تو اس کی امی چھت کے ساتھ لٹک رہی تھیں ان کی آنکھوں سے خون نکل رہا تھا ،سارا چلا اٹھی ،امی کیا ہوا آپ کو ،امی —-

سارا کی امی اچانک نیچے گر گئیں ،ان کا چہرہ زمین کی طرف تھا ،سارا بھاگ کر اپنی امی کی طرف گئی جیسے ہی اسنے امی کو سیدھا کیا تو ان کی آنکھیں تھی ہی نہیں ،چہرہ زردی مائل اور سب سے خوفناک بات یہ تھی کے اس کی امی کے ہونٹ اور دانت نہیں تھے ( یعنی منہ تھا ہی نہیں ) پھر اچانک امی کی منہ والی جگہ پھٹنے لگی اور اس میں سے خون کے فوارے نکلنے لگے ،سارا فوراً پیچھے ہٹ گئی سارا کی امی کے لمبے لمبے نوکیلے ناخن تھے جس میں گوشت کے لوتھڑے پھنسے ہوئے تھے وہ کہنے لگی سارا میری بچی میرے پاس آجا ،آجا نا میرے پاس ،سارا بھاگ کر ایک کمرے میں جا چھپی ،اس نے کنڈی لگا لی تھی ،اس کو اونچی اونچی ہنسنے کی آوازیں مسلسل آرہی تھیں ،سارا بری طرح ڈری ہوئی تھی ،اس کا سانس پھولا ہوا تھا ،ایک تو اس پر خوف طاری تھا دوسری طرف اسے اپنی سہیلیوں کے بچھڑ جانے کا غم تھا ،اب ہنسنے کی آواز بند ہو گئیں تھی ،اس نے دروازہ کھول کر دیکھا تو باہر کوئی نہیں تھا ،پھر وہ باہر جانے کے بارے میں سوچنے لگی ،وہ اس بات پر بہت حیران تھی کہ جب اس نے گھر کو باہر سے دیکھا تھا تو اس میں بہت سی کھڑکیاں تھی لیکن اندر تو ایک بھی کھڑکی نہیں تھی کہ جس سے وہ باہر جا سکے اس نے دو دفع پورے گھر میں گھوم کر دیکھا لیکن اس کو کوئی کھڑکی نظر نا آئ لیکن ایک کمرہ جو سیڑھیوں کے پیچھے تھا جسے سارا نے نہیں دیکھا تھا جب تیسری دفعہ وہ سیڑھیوں پر چڑھنے لگی تو اس کو کھٹ کھٹ کی آواز آئ جیسے نی سارا نے ڈرتے ڈرتے نیچے دیکھا تو اس کو ایک کمرہ نظر آیا جو کھلا تھا ،وہ کپکپاتے ہاتھوں اور پاؤں کے ساتھ نیچے اتری اور کمرے میں جھانک کر دیکھا تو اسے ایک کھڑکی کھلی ہوئی نظر آئ ،سارا کو امید کی ایک کرن نظر آنے لگی ،وہ بھاگ کر کھڑکی کی جانب لپکی جیسے ہی اسنے کھڑکی کھولی تو اقرا کا کٹا ہوا چہرہ کھڑکی کے ساتھ لٹک رہا تھا ،سارا چیخ مار کر باہر کی طرف بھاگی تو اس نے دیکھا کے ٹی وی لاؤنج میں سارا کی ہمشکل لڑکی بیٹھی تھی اس کی دونوں آنکھوں اور ماتھے میں چاکو پیوست تھے ،سارا نے دیکھا کے سامنے والے کمرے کا بند دروازہ کھلا اور نائلہ رینگتے ہوئے کمرے سے باہر نکلی اور سارا جیسی شکل کی لڑکی کے پہلو میں لیٹ گئی ،سارا جہاں کھڑی تھی وہیں جم گئی تھی ،وہ چیخنا چاہ رہی تھی پر چیخ نا پائی وہ بھاگنا چاہ رہی تھی پر بھاگ نا پائی ،پھر سارا کی ہمشکل نے اپنی ایک آنکھ سے چاکو نکالا اور ایک ہی وار میں نائلہ کا بازو اس کے جسم سے الگ کردیا پھر اس کے بازو کی جلد(skin) اتارنے لگی اب نائلہ کے بازو کا گوشت نظر آنے لگا پھر اس لڑکی نے نائلہ کے بازو سے چن چن کر گوشت نکالا اور اس گوشت کو کھانے لگی ،یہ دیکھ کر سارا کا دل متلانے لگا ،سارا کے پاس نا جانے کہاں سے طاقت آئ اور وہ وہاں سے بھاگ کھڑی ہوئی ،پیچھے سے اسکو مسلسل آواز آرہی تھی کے ،کہاں بھاگ رہی ھے سارا تو نہیں بچے گی تیرا بھی یہی حال ہوگا ،ہاہاہا ،اچانک سارا کو یاد آیا کے گاڑی سے اترتے وقت اس نے احتیاط کے طور پر موبائل رکھ لیا تھا ،جیسے ہی اس نے اپنی جیب سے موبائل نکالا تو اس کی چارجنگ (charging) نہیں تھی۔۔۔

سارا نے دیکھا کے اس کے فون کی بیٹری ختم ہو گئی تھی ،یہ دیکھ کر سارا بہت حیران ہو گئی کیوں کہ اسے یاد تھا کے جب اس نے موبائل اپنی پاکٹ(pocket) میں ڈالا تھا تو اس کی چارجنگ 77% تھی یہ کیسے ہو سکتا ہے ،سارا بولی ، پھر اچانک اس کا موبائل خود بخود بند ہوگیا اور پھر خود بخود چل پڑا اب کی بار اس کی چارجنگ 100% تھی یہ دیکھ کر تو سارا کے پسینے چھوٹ گئے ،ایک بار پھر موبائل بند ہو گیا ،اب کی بار سارا نے موبائل میں جو کچھ دیکھا تو اس کی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی سانس نیچے ہی رہ گئی ،اس کے ہاتھ سے موبائل نیچے گر گیا ،ڈر کے مارے وہ اپنی جگہ سے ہل نہیں پائی ،اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑی بہہ نکلی ،اس نے دیکھا کے اس کی امی اور ابو فرش پر لیٹے ہوئے تھے ،ان دونوں کا پیٹ چاک تھا اور سارا ان کا گوشت اور آنتیں نکال نکال کر کھا رہی تھی ،اس کا منہ خون سے لت پت تھا ،اور یہ سب وہ اپنی آنکھوں سے موبائل میں دیکھ رہی تھی ،وہ خوفناک منظر بالکل ایک ویڈیو(video) کی طرح موبائل میں چل رہا تھا ،اچانک سارا کو زوردار قہقہ کی آواز آئ جیسے ہی اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہی اس کی ہمشکل لڑکی کھڑی تھی اس نے اپنا کٹا ہوا سر اپنے ہاتھ میں رکھا تھا ،سارا نے چیخ ماری اور موبائل ہاتھ میں اٹھا کر وہاں سے بھاگ کھڑی ہوئی ،ایک کمرے میں پہنچی اور کنڈی لگا لی ،اس نے فورا موبائل کھولا لیکن اب کی بار وہ خوفناک منظر جو اس نے موبائل پر دیکھا تھا وہ نہیں تھا ،اس نے جلد از جلد اپنے موبائل میں سے امی کا نمبر ملایا اور کال لگا دی ،دوسری طرف سے آواز آئ ،ہیلو میری بچی کہاں ھے تو ہم سب تیری وجه سے بہت پریشان ہیں ،سارا رونے لگی ،امی امی مجھے بچا لیں یہ سب مجھے مار دیں گے ،کون کون مار دے گا میری بچی کو ،امی نے پریشان اور سوالیہ انداز میں پوچھا ،امی اس سب کا وقت نہیں ،آپ نے مجھے ایک بار بتایا تھا کے آپ کی ایک سہیلی کی بیٹی paranormal investigator ہے ،ہاں — وہ سہی کہا تم نے ،امی کی آواز خوف اور پریشانی کی وجه سے نکل نہیں رہی تھی ،امی بس اگر آپ کے پاس ان کا نمبر ہے تو مجھے سینڈ کردے ،خدا حافظ ،یہ کہہ کر سارا نے فون بند کردیا کیوں کے وہ اپنی امی کو پریشان نہیں کرنا چاہ رہی تھی ،کچھ دیر بعد اس کے موبائل کی گھنٹی بجی اور اس کو message ملا جس میں ایک فون نمبر لکھا ہوا تھا اور اس کے اوپر ایک نام لکھا ہوا تھا “فضا” ،سارا نے وہ فون نمبر ملایا ،اگے سے آواز آئ ،ہیلو

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Zeest k Hamrahi Novel by Huma Waqas – Episode 6

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: