Haibat Naak Ghar Novel by Nazia Shazia – Last Episode 3

0

ہیبت ناک گھر از نازیہ شازیہ – آخری قسط نمبر 3

–**–**–

سارا نے فون ملایا ،تو آگے سے آواز آئ ،ہیلو جی کون ،ایک لڑکی کی آواز تھی ،ہیلو ہیلو ۔۔۔ ،سارا کی ڈر کے مارے آواز نہیں نکل رہی تھی ،جی میں میں سارا بول رہی ہوں سعدیہ کی بیٹی ،آپ فضا بول رہی ہیں ،جی میں فضا ہوں ایک paranormal investigator اور میں آپ کو پہچان گئی ہوں آپ کو مجھ سے کیا کام ہے ،فضا نے سوال کیا ،میں بہت بڑی مشکل میں پھنس گئی ہوں ،سارا رونے لگی ،آپ رويں مت مجھے تفصیل سے بتایں کیا ہوا ہے ،دراصل بات کچھ یوں ہے کے میں اور میری تین سہیلیاں ایک بہت ہی خوفناک گھر میں پھنس گۓ ہیں میری تینوں دوستوں کو اس گھر میں موجود شیطانی طاقتوں نے مار دیا ہے اور صرف میں ہی بچی ہوں اور وہ مجھے بھی مار دیں گے ،سارا نے جواب دیا ،اچھا آپ مجھے یہ بتایں کے یہ جگہ کیسی ہے مطلب آپ۔ جس گھر میں موجود ہیں یہ کہاں واقعہ ہے ،کیا اس گھر کے آس پاس کوئی اور گھر واقعہ ہے کے نہیں فضا نے سوال کیا،نہیں فضا یہ ایک بہت سنسان اور جنگل نما جگہ میں واقعہ ہے ،اس کے قریب کوئی گھر واقعہ نہیں ،ابھی سارا یہ بتا ہی رہی تھی کے کمرے کا دروازہ خود بخود کھل گیا ،ایک انسانی کٹا ہوا سر جس کی آنکھوں سے خون نکل رہا تھا ہوا میں اڑتا ہوا کمرے میں داخل ہو گیا اور ہنسنے لگا بلکہ قہقہہ لگانے لگا ،آآہ بچاؤ بچاؤ سارا اونچی اونچی چلانے لگی ،سارا وہاں جو کچھ بھی ہے تم اس کی طرف دھیان مت دو اور وہاں جلدی سے بھاگو اور میری بات غور سے سنو ،سب سے پہلے تم نل ڈھونڈو کے جس سے تم وضو کر سکو اور ساتھ ساتھ تم قرآن کا ورد کرتی رہو وضو کرنے کے بعد تم قرآن کا ورد کرتی رہو یہ بدروحیں تمھیں ورد کرنے سے روکنے کی کوشش کرے گی مگر تم رکنا نہیں ،سارا فضا کی باتیں سن رہی تھی اور ساتھ ساتھ بھاگ بھی رہی تھی تاکہ نل ڈھونڈ سکے جی جی فضا مجھے نل مل گیا ،اچھا سارا اگر تمہارے پاس انٹرنیٹ چل رہا ہے تو مجھے اپنی لوکیشن بھیج دو میں کچھ دیر میں پہنچتی ہوں یہاں اور سارا میری ایک بات یاد رکھنا اگر تم نے ورد کرنا چھوڑ دیا تو میں تمہاری جان نہیں بچا پاؤں گئی ،اچھا فضا ٹھیک ہے ،سارا نے یہ کہ کر فون بند کر دیا اللّه کے کرم سے سارا کے پاس انٹرنیٹ چل رہا تھا اس نے سب سے پہلے فضا کو لوکیشن بھیج دی اور فون وہی پھینک کر وضو کرنے لگی ،دوسری طرف فضا فوری طور پر کار میں بیٹھی اور سارا کی بھیجی ہوئی لوکیشن کی طرف روانہ ہو گئی ،سارا نے وضو کر کے جیسے ہی ورد شروع کیا تو اللّه کی پناہ ایسی بری بری شکلیں اس کے سامنے آئ کے توبہ ،سب سے پہلے اس کی چاروں سہیلیاں اس کے سامنے آکر کھڑی ہوگئی ،پھر اس کی ہمشکل لڑکی کھڑی ہوئی ،پھر کتنی ہی قسم کئی خوفناک شکلیں آئ ،سب نے ہاتھوں میں چاقو پکڑے تھے اور سب نے اپنا گلا کاٹنا شروع کر دیا سب کے گلوں سے خون کے فوارے پھوٹ پڑے سب نے اپنا چہرہ اپنے ہاتھوں میں رکھ لیا سب اونچی اونچی قہقہہ لگانے لگے ان سب کے منہ سے خون نکل رہا تھا ،مگر سارا نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اس نے ورد جاری رکھا ،ادھر فضا بھی گاڑی تیز تیز چلا رہی تھی تا کہ جلد از جلد سارا تک پہنچ سکے ،ان سب بدروحوں کا خیال تھا کے سارا یہ منظر دیکھ کر ڈر جائے گی اور ورد کرنا چھوڑ دے گئی مگر سارا نے ورد کرنا نا چھوڑا پھر ان بدروحوں نے خوف ناک آوازیں نکالنا شروع کر دی ،بند کر دے یہ ورد تو نہیں بچ پاۓ گئی ہاہاہا ، مگر یہ طریقہ بھی کارگر ثابت نا ہوا ،اب سارا کو رونے کی آواز آنے لگی جیسے ہی سارا نے منہ اٹھا کر اوپر دیکھا تو اس کی امی کھڑی تھی اور ان بدرحوں نے امی کو بہت برے طریقے سے پکڑا ہوا تھا پھر ان میں سے ایک نے امی کے پیٹ میں چاقو مارا امی کی چیخ سے پورا گھر گونج اٹھا ،امی چلانے لگی بیٹا مجھے بچالے بند کردے یہ ورد نہیں تو میں مر جاؤں گی بیٹا بند کردے سارا کی آنکھیں نم ہوگئی مگر اس نے ورد جاری رکھا انہوں نے امی کے پیٹ میں پھر سے چاقو مارا ایک بار پھر امی کی چیخ سے گھر گونج اٹھا ،سارا نے ساتھ ہی ورد کرنا بند کر دیا اور امی کے پاس بھاگ کر ان کو بچانے کے لئے گئی امی کی شکل فورا ایک ہیبتناک چڑیل میں بدل گئی اس کی آنکھیں مکمل سفید تھی چہرے پر جگہ جگہ خراشیں تھی اس نے بغیر کچھ کہے سارا کے پیٹ میں چاقو مار دیا سارا کہ منہ سے خون نکل آیا ،دوسری طرف فضا اس گھر کے سامنے پہنچ گئی اسے ایک اور کار کھڑی ہوئی نظر آئ وہ گھر دکھنے میں بہت خوفناک تھا فضا گھر کی جانب بھاگی گئی دروازہ کھولنے کی بہت کوشش کی مگر نا کھلا پھر اس نے پتھر اٹھا کر کھڑکی میں مارا اور کھڑکی سے اندر کود گئی ،اس نے اپنی جیب سے lighter نکالا اور ہال میں لٹک رہی ایک تصویر کو اٹھارہ lighter جلایا ابھی وہ تصویر جلانے ہی لگی تھی کے پوری بدروحوں کا ہجوم جو سارا کے اردگرد کھڑا تھا فضا کی جانب لپکا اور اس کے ہاتھ سے وہ تصویر اور lighter اٹھا کر نیچے پھینک دیا اتفاق سے وہ تصویر اور lighter سارا کے پاس جا کر گرا فضا چلائی ،سارا یہ جو frame میں تصویر لگی ہے اس کو نکال کر lighter سے جلادو سارا پہلے ہی خون میں لت پت تھی اس نے ہمت کر کے وہ lighter اٹھایا اور تصویر کو جلا دیا ،ان بدروحوں نے ابھی چاقو سے فضا کی گردن کو ہلکا سا ہی چیرا تھا لیکن سارا کا تصویر کو جلانا تھا تصویر کے جلتے ہی ان سب کو گھر سمیت آگ لگ گئی فضا کی گردن سے خون جاری تھا بہر حال اس نے ہمت کر کے سارا کو اٹھایا اور گھر کے باہر کی جانب لے گئی وہ پورا گھر ہیبت ناک چیخوں سے گونج اٹھا اور چند ہی منٹوں میں وہ ہیبت ناک گھر ختم ہوگیا فضا سارا کو لے کر ہسپتال کے لئے روانہ ہو گئی فضا کا خود بھی بہت خون بہہ چکا تھا پھر بھی وہ ہمت کر کے سارا کو ہسپتال لے گئی اور اس کے گھر والوں کو فون کر دیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلی صبح فضا ہسپتال کے جس کمرے میں سارا داخل تھی وہاں گئی سارا کو ہوش آگیا تھا سارا کا پورا خاندان اس کمرے میں موجود تھا سارا کسی سے کچھ بات نہیں کر رہی تھی جیسے ہی فضا سارا کے کمرے میں گئی سب اس کی طرف متوجه ہو گیۓ فضا سارا کو کیا ہوا تھا بتاؤ ہمیں کیا ہوا تھا سارا کی امی روتے ہوئے فضا سے پوچھ رہی تھی آپ لوگ مجھے سارا کے ساتھ کچھ دیر کے لئے اکیلا چھوڑ دیں میں بعد میں آپ کو سب کچھ بتا دوں گی ،فضا نے جواب دیا ،سب کمرے سے باہر چلے گئے ،فضا سارا سے مخاطب ہوئی سارا کیسی ہو ،سارا نے کچھ جواب نہیں دیا ،میں جانتی ہوں کے تم کیسی کرب ناک حالت سے گزر رہی ہو اس لئے کسی کو جواب نہیں دے رہی ،تمہارے ذہن میں یہ سوال مسلسل گردش کر رہا ہو گا کہ میں اس تصویر کے بارے میں کیسے جانتی تھی کے اس کو جلانے سے وہ سب ختم ہو جایں گے تو سنو “میری دو سہیلیاں بھی اسی خونی کھیل کا شکار ہوئی تھی وہ اسی گھر میں مری تھی جہاں تم پھنسی تھی لیکن میں ان کو نہیں بچا پائی اس کے بعد میں نے اس بارے میں کافی تحقیق کی تو مجھے پتا چلا کے پاکستان کی تخلیق سے پہلے وہاں ایک ہندی لڑکی رہتی تھی ایک روز اس نے اپنے شوہر کو کسی اور کی باہوں میں دیکھ لیا اس نے غصّہ میں آکر اپنے شوہر اور اس لڑکی سمیت سب گھر والوں کا قتل کر دیا تھا اس کے بعد سے اس لڑکی کی روح اس گھر میں گھومتی رہتی تھی اور جو بھی اس گھر میں جاتا تھا وہاں سے کبھی زندہ نا آ پایا اور وہ تصویر اس کی اور اس کے شوہر کی تھی جو اس کی واحد کمزوری تھی میں نے اس گھر کو بہت ڈھونڈہ لیکن وہ مجھے نا ملا آخرکار تمہاری مدد سے ہم نے اس خونی کھیل کو ختم کر دیا لیکن افسوس نا تم اپنی سہیلیوں کو بچا پائی اور نا میں اپنی سہیلیوں کو بچا پائی” سارا اور فضا دونوں کی آنکھیں نم تھیں- فضا لیکن جب میں اس گھر سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہی تھی تو مجھے کوئی کھڑکی نظر نہیں آرہی تھی مگر آپ کو کیسے نظر آئ ،سارا نے سوال کیا ،فضا نے کہا وہ تمہاری آنکھوں کا دھوکہ تھا اور کچھ نہیں ،سارا نے اپنی آنکھیں بند کر لی اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے-

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: