Afsanay Manto k Afsany Saadat Hasan Manto

Hajj E Akbar Afsane By Saadat Hasan Manto – Episode 1

Written by Peerzada M Mohin

حجِ اکبر از سعادت حسن منٹو | حصہ اول

حجِ اکبر از سعادت حسن منٹو | حصہ اول

–**–**–

مزدوری

لُوٹ کھسوٹ کا بازار گرم تھا۔ اس گرمی میں اِضافہ ہو گیا جب چاروں طرف آگ بھڑکنے لگی۔ ایک آدمی ہارمونیم کی پیٹی اُٹھائے خوش خوش گاتا جا رہا تھا۔ “جب تم ہی گئے پردیس لگا کے ٹھیس، او پیتم پیارا، دُنیا میں کون ہمارا۔”ایک چھوٹی عمر کا لڑکا جھولی میں پاپڑوں کا انبار ڈالے بھاگا جا رہا تھا، ٹھوکر لگی تو پاپڑوں کی ایک گڈی اس کی جھولی میں سے گر پڑی، لڑکا اسے اُٹھانے کے لیئے جھکا تو ایک آدمی نے جس نے سر پر سلائی مشین اُٹھائی ہوئی تھی، اُس سے کہا۔ رہنے دیے بیٹا! رہنے دے۔ اپنے آپ ہی بھن جائیں گے۔

بازار میں دھب سے ایک بھری ہوئی بوری گری۔ ایک شخص نے جلدی سے بڑھ کر اپنے چھُرے سے اس کا پیٹ چاک کیا۔ آنتوں کے بجائے شکر، سفید دانوں والی شکر اُبل کر باہر نکل آئی۔ لوگ جمع ہو گئے اور اپنی جھولیاں بھرنے لگے۔ ایک آدمی کرتے کے بغیر تھا، اُس نے جلدی سے اپنا تہبند کھولا وار مُٹھّیاں بھر بھر کر اس میں ڈالنے لگا۔ “ہٹ جاؤ، ہٹ جاؤ”ایک تانگہ تازہ تازہ روغن شدہ الماریوں سے لدا ہوا گزر گیا۔

اُونچے مکان کی کھڑکی میں سے مل مل کا تھان پھڑپھڑاتا ہوا باہر نکلا، شعلے کی زبان نے ہولے ہولے اسے چاٹا۔ سڑک تک پہنچا تو راکھ کا ڈھیر تھا۔ “پوں پوں، پوں پوں”موٹر کے ہارن کی آواز کے ساتھ دو عورتوں کی چیخیں بھی تھیں۔

لوہے کا ایک سیف دس پندرہ آدمیوں نے کھینچ کر باہر نکالا اور لاٹھیوں کی مدی سے اس کو کھولنا شروع کیا۔

کاؤ اینڈ کیٹ، دودھ کے کئی ٹیں دونوں ہاتھوں پر اُٹھائے اپنی تھوڑی سے ان کو سہارا دیے ایک آدمی دُوکان سے باہر نکلا اور آہستہ آہستہ بازار میں چلنے لگا۔

بلند آواز آئی، “آؤ وؤ لیمونیڈ کی بوتلیں پیو، گرمی کا موسم ہے”گلے میں موٹر کا ٹائر ڈالے ہوئے آدمی نے دو بوتلیں لیں اور شکریہ ادا کیے بغیر چل دیا۔

ایک آواز آئی “کوئی آگ بجھانے والوں کو تو اطلاع کر دے، سارا مال جل جائے گا۔”کسی نے اس مشورے کی طرف توجہ نہ دی، لُوٹ کھسوٹ کا بازار اسی طرح گرم رہا اور اس گرمی میں چاروں طرف بھڑکنے والی آگ بدستور اضافہ کرتی رہی۔ بہت دیر کے بعد تڑ تڑ کی آواز آئی۔ گولیاں چلنے لگیں۔ پولیس کو بازار خالی نظر آیا، لیکن دُور دھوئیں میں ملفوف موڈ کے پاس ایک آدمی کا سایہ دکھائی دیا۔ پولیس کے سپاہی سیٹیاں بجاتے اس کی طرف لپکے۔ سایہ تیزی سے دھوئیں کے اندر گھس گیا تو پولیس کے سپاہی بھی اس کے تعاقب میں گئے۔ دھوئیں کا علاقہ ختم ہوا تو پولیس کے سپاہیوں نے دیکھا کہ ایک کشمیری مزدور پیٹھ پر وزنی بوری اُٹھائے بھاگا چلا جا رہا ہے۔

سیٹیوں کے گلے خشک ہو گئے مگر وہ مزدور نہ رُکا۔ اُس کی پیٹھ پر وزن تھا۔ وزن معمولی نہیں، ایک بھری ہوئی بوری تھی مگر وہ یوں دوڑ رہا تھا جیسے پیٹھ پر کچھ ہے ہی نہیں۔

سپاہی ہانپنے لگے۔ ایک نے تنگ آ کر پستول نکالا اور داغ دیا۔ گولی کشمیری مزدور کی پنڈلی میں لگی۔ بوری اس کی پیٹھ سے گر پڑی، گھبرا کی اس نے اپنے پیچھے سپاہیوں کو دیکھا۔ پنڈلی سے بہتے ہوئے خون کی طرف بھی اس نے غور کیا لیکن ایک ہی جھٹکے سے بوری اُٹھائی اور پیٹھ پر ڈال کر پھر بھاگنے لگا۔ سپاہیوں نے سوچا، “جانے دو، جہنم میں جائے “مگر پھر اُنہوں نے اُسے پکڑ لیا۔

راستے میں کشمیری مزدور نے بارہا کہا “حضرت! آپ مجھے کیوں پکڑتی ہے، میں تو غریب آدمی ہوتی، چاول کی ایک بوری لیتی، گھر میں کھاتی۔ آپ ناحق مجھے گولی مارتی۔”لیکن اُس کی ایک نہ سنی گئی۔ تھانے میں کشمیری مزدور نے اپنی صفائی میں بہت کچھ کہا۔ حضرت! دوسرا لوگ بڑا بڑا مال اُٹھاتی، میں تو ایک چاول کی بوری لیتی۔ حضرت! میں بہت غریب ہوتی۔ ہر روز بھات کھاتی۔

جب وہ تھک گیا تو اُس نے اپنی میلی ٹوپی سے ماتھے کا پسینہ پونچھا اور چاولوں کی بوری کی طرف حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ کر تھانے دار کے آگے ہاتھ پھیلا کر کہا۔ اچھا حضرت! تم بوری اپنے پاس رکھ۔ میں اپنی مزدوری مانگتی، چار آنے۔

ٹوبہ ٹیک سنگھ

بٹوارے کے دو تین سال بعد پاکستان اور ہندوستان کی حکومتوں کو خیال آیا کہ اخلاقی قیدیوں کی طرح پاگلوں کا تبادلہ بھی ہونا چاہئے یعنی جو مسلمان پاگل، ہندوستان کے پاگل خانوں میں ہیں انہیں پاکستان پہنچا دیا جائے اور جو ہندو اور سکھ پاکستان کے پاگل خانوں میں ہیں انہیں ہندوستان کے حوالے کر دیا جائے .

معلوم نہیں یہ بات معقول تھی یا غیر معقول، بہر حال دانش مندوں کے فیصلے کے مطابق ادھر ادھر اونچی سطح کی کانفرنسیں ہوئیں، اور با‌لاخر ایک دن پاگلوں کے تبادلے کے لئے مقرّر ہو گیا۔ اچّھی طرح چھان بین کی گئی۔ وہ مسلمان پاگل جن کے لواحقین ہندوستان ہی میں تھے۔ وہیں رہنے دئے گئے تھے۔ جو باقی تھے ان کو سرحد پر روانہ کر دیا گیا۔ یہاں پاکستان میں چونکہ قریب قریب تمام ہندو سکھ جا چکے تھے۔ اس لئے کسی کو رکھنے رکھانے کا سوال ہی نہ پیدا ہوا۔ جتنے ہندو سکھ پاگل تھے۔ سب کے سب پولیس کی حفاظت میں بارڈر پر پہنچا دیے گئے

ادھر کا معلوم نہیں۔ لیکن ادھر لاہور کے پاگل خانے میں جب اس تبادلے کی خبر پہنچی تو بڑی دلچسپ چہ می گوئیاں ہونے لگیں۔ ایک مسلمان پاگل جو بارہ برس سے ہر روز با قاعدگی کے ساتھ “زمیندار “پڑھتا تھا اس سے جب اس کے ایک دوست نے پوچھا۔ “مولبی ساب، یہ پاکستان کیا ہوتا ہے”۔ تو اس نے بڑے غور و فکر کے بعد جواب دیا۔ “ہندوستان میں ایک ایسی جگہ ہے جہاں استرے بنتے ہیں”۔

یہ جواب سن کر اس کا دوست مطمئن ہو گیا .

اسی طرح ایک سکھ پاگل نے ایک دوسرے سکھ پاگل سے پوچھا۔ “سردار جی ہمیں ہندوستان کیوں بھیجا جا رہا ہے ہمیں تو وہاں کی بولی نہیں آتی”۔

دوسرا مسکرایا۔ “مجھے تو ہندوستوڑوں کی بولی آتی ہے ہندوستانی بڑے شیطانی آکڑ آکڑ پھرتے ہیں”

ایک دن نہاتے نہاتے ایک مسلمان پاگل نے “پاکستان زندہ باد”کا نعرہ اس زور سے بلند کیا کہ فرش پر پھسل کر گرا اور بیہوش ہو گیا۔

بعض پاگل ایسے بھی تھے جو پاگل نہیں تھے۔ ان میں اکثریت ایسے قاتلوں کی تھی جن کے رشتہ داروں نے افسروں کو دے دلا کر پاگل خانے بھجوا دیا تھا کہ پھانسی کے پھندے سے بچ جائیں۔ یہ کچھ کچھ سمجھتے تھے کہ ہندوستان کیوں تقسیم ہوا ہے اور یہ پاکستان کیا ہے۔ لیکن صحیح واقعات سے یہ بھی بے خبر تھے۔ اخباروں سے کچھ پتا نہیں چلتا تھا اور پہرہ دار سپاہی انپڑھ اور جاہل تھے۔ ان کی گفتگو سے بھی وہ کوئی نتیجہ برآمد نہیں کر سکتے تھے۔ ان کو صرف اتنا معلوم تھا کہ ایک آدمی محمّد علی جناح ہے جس کو قائدِ اعظم کہتے ہیں۔ اس نے مسلمانوں کے لئے ایک علیٰحدہ ملک بنایا ہے جس کا نام پاکستان ہے۔ یہ کہاں ہے، اس کا محلِّ وقوع کیا ہے۔ اس کے متعلّق وہ کچھ نہیں جانتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ پاگل خانے میں وہ سب پاگل جن کا دماغ پوری طرح ماؤف نہیں ہوا تھا اس مخمصے میں گرفتار تھے کہ وہ پاکستان میں ہیں یا ہندوستان میں۔ اگر ہندوستان میں ہیں تو پاکستان کہاں ہے۔ اگر وہ پاکستان میں ہیں تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ کچھ عرصہ پہلے یہیں رہتے ہوئے بھی ہندوستان میں تھے۔

ایک پاگل تو پاکستان اور ہندوستان، اور ہندوستان اور پاکستان کے چکّر میں کچھ ایسا گرفتار ہوا کہ اور زیادہ پاگل ہو گیا۔ جھاڑو دیتے دیتے ایک دن درخت پر چڑھ گیا اور ٹہنے پر بیٹھ کر دو گھنٹے مسلسل تقریر کرتا رہا جو پاکستان اور ہندوستان کے نازک مسئلے پر تھی۔ سپاہیوں نے اسے نیچے اترنے کو کہا تو وہ اور اوپر چڑھ گیا۔ ڈرایا دھمکایا گیا تو اس نے کہا “میں ہندوستان میں رہنا چاہتا ہوں نہ پاکستان میں۔ میں اس درخت ہی پر رہوں گا”۔

بڑی مشکلوں کے بعد جب اس کا دورہ سرد پڑا تو وہ نیچے اترا اور اپنے ہندو سکھ دوستوں سے گلے مل مل کر رونے لگا۔ اس خیال سے اس کا دل بھر آیا تھا کہ وہ اسے چھوڑ کر ہندوستان چلے جائینگے۔

ایک ایم ایس سی پاس ریڈیو انجینئر جو مسلمان تھا اور دوسرے پاگلوں سے با‌لکل الگ تھلگ باغ کی ایک خاص روش پر سارا دن خاموش ٹہلتا رہتا تھا یہ تبدیلی نمودار ہوئی کہ اس نے تمام کپڑے اتار کر دفعدار کے حوالے کر دئے اور ننگ دھڑنگ سارے باغ میں چلنا پھرنا شروع کر دیا۔

چنیوٹ کے ایک موٹے مسلمان پاگل نے جو مسلم لیگ کا سر گرم کارکن رہ چکا تھا اور دن میں پندرہ سولہ مرتبہ نہایا کرتا تھا یک لخت یہ عادت ترک کر دی۔ اس کا نام محمّد علی تھا۔ چنانچہ اس نے ایک دن اپنے جنگلے میں اعلان کر دیا کہ وہ قائدِ اعظم محمّد علی جنّاح ہے۔ اس کی دیکھا دیکھی ایک سکھ پاگل ماسٹر تارا سنگھ بن گیا۔ قریب تھا کہ اس جنگلے میں خون خرابہ ہو جائے مگر دونوں کو خطرناک پاگل قرار دے کر علیحدہ علیٰحدہ بند کر دیا گیا۔

لاہور کا ایک نوجوان ہندو وکیل تھا جو محبّت میں نا کام ہو کر پاگل ہو گیا تھا۔ جب اس نے سنا کہ امرتسر ہندوستان میں چلا گیا ہے تو اسے بہت دکھ ہوا۔ اسی شہر کی ایک ہندو لڑکی سے اسے محبّت ہو گئی تھی۔ گو اس نے اس وکیل کو ٹھکرا دیا تھا مگر دیوانگی کی حالت میں بھی وہ اس کو نہیں بھولا تھا۔ چنانچہ ان تمام ہندو اور مسلم لیڈروں کو گالیاں دیتا تھا جنہوں نے مل ملا کر ہندوستان کے دو ٹکڑے کر دئے اس کی محبوبہ ہندوستانی بن گئی اور وہ پاکستانی۔

جب تبادلے کی بات شروع ہوئی تو وکیل کو کئی پاگلوں نے سمجھایا کہ وہ دل برا نہ کرے۔ اس کو ہندوستان بھیج دیا جائیگا۔ اس ہندوستان میں جہاں اس کی محبوبہ رہتی ہے۔ مگر وہ لاہور چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔ اس لئے کہ اس کا خیال تھا کہ امرتسر میں اس کی پریکٹس نہیں چلے گی۔

یوروپین وارڈ میں دو اینگلو انڈین پاگل تھے۔ ان کو جب معلوم ہوا کہ ہندوستان کو آزاد کر کے انگریز چلے گئے ہیں تو ان کو بہت صدمہ ہوا۔ وہ چھپ چھپ کر گھنٹوں آپس میں اس اہم مسئلے پر گفتگو کرتے رہتے کہ پاگل خانے میں ان کی حیثیت کس قسم کی ہو گی۔ یوروپین وارڈ رہیگا یا اڑا دیا جائیگا۔ بریک فاسٹ ملا کریگا یا نہیں۔ کیا انہیں ڈبل روٹی کے بجائے بلڈی انڈین چپاٹی تو زہر مار نہیں کرنا پڑے گی۔

ایک سکھ تھا جس کو پاگل خانے میں داخل ہوئے پندرہ برس ہو چکے تھے۔ ہر وقت اس کی زبان سے یہ عجیب و غریب الفاظ سننے میں آتے تھے۔ “اوپڑ دی گڑ گڑ دی اینکس دی بے دھیانا دی منگ دی دال آف دی لالٹین”۔ دن کو سوتا تھا نہ رات کو۔ پہرہ داروں کا یہ کہنا تھا کہ پندرہ برس کے طویل عرصے میں وہ ایک لحظے کے لئے بھی نہیں سویا۔ لیٹتا بھی نہیں تھا۔ البتّہ کبھی کبھی کسی دیوار کے ساتھ ٹیک لگا لیتا تھا۔

ہر وقت کھڑے رہنے سے اس کے پاؤں سوج گئے تھے۔ پنڈلیاں بھی پھول گئی تھیں۔ مگر اس جسمانی تکلیف کے باوجود لیٹ کر آرام نہیں کرتا تھا۔ ہندوستان، پاکستان اور پاگلوں کے تبادلے کے متعلّق جب کبھی پاگل خانے میں گفتگو ہوتی تھی تو وہ غور سے سنتا تھا۔ کوئی اس سے پوچھتا کہ اس کا کیا خیال ہے تو وہ بڑی سنجیدگی سے جواب دیتا۔ “اوپڑ دی گڑ گڑ دی اینکس دی بے دھیانا دی مونگ دی دال آف دی پاکستان گورنمنٹ”۔

لیکن بعد میں “آف دی پاکستان گورنمنٹ”کی جگہ “آف دی ٹوبہ ٹیک سنگھ گورنمنٹ”نے لے لی اور اس نے دوسرے پاگلوں سے پوچھنا شروع کیا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے جہاں کا وہ رہنے والا ہے۔ لیکن کسی کو بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ پاکستان میں ہے یا ہندوستان میں۔ جو بتانے کی کوشش کرتے تھے وہ خود اس الجھاؤ میں گرفتار ہو جاتے تھے کہ سیالکوٹ پہلے ہندوستان میں ہوتا تھا پر اب سنا ہے کہ پاکستان میں ہے۔ کیا پتا ہے کہ لاہور جو اب پاکستان میں ہے کل ہندوستان میں چلا جائے۔ یا سارا ہندوستان ہی پاکستان بن جائے۔ اور یہ بھی کون سینے پر ہاتھ رکھ کر کہہ سکتا تھا کہ ہندوستان اور پاکستان دونوں کسی دن سرے سے غائب ہی ہو جائیں۔

اس سکھ پاگل کے کیس چھدرے ہو کے بہت مختصر رہ گئے تھے۔ چونکہ بہت کم نہاتا تھا اس لئے ڈاڑھی اور سر کے بال آپس میں جم گئے تھے۔ جن کے باعث اس کی شکل بڑی بھیانک ہو گئی تھی۔ مگر آدمی بے ضرر تھا۔ پندرہ برسوں میں اس نے کبھی کسی سے جھگڑا فساد نہیں کیا تھا۔ پاگل خانے کے جو پرانے ملازم تھے وہ اس کے متعلّق اتنا جانتے تھے کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں اس کی کئی زمینیں تھیں۔ اچّھا کھاتا پیتا زمین دار تھا کہ اچانک دماغ الٹ گیا۔ اس کے رشتہ دار لوہے کی موٹی موٹی زنجیروں میں اسے باندھ کر لائے اور پاگل خانے میں داخل کرا گئے۔

مہینے میں ایک بار ملاقات کے لئے یہ لوگ آتے تھے اور اس کی خیر خیریت دریافت کر کے چلے جاتے تھے۔ ایک مدّت تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ پر جب پاکستان، ہندستان کی گڑبڑ شروع ہوئی تو ان کا آنا بند ہو گیا۔

اس کا نام بشن سنگھ تھا مگر سب اسے ٹوبہ ٹیک سنگھ کہتے تھے۔ اس کو قطعاً معلوم نہیں تھا کہ دن کون سا ہے، مہینہ کون سا ہے، یا کتنے سال بیت چکے ہیں۔ لیکن ہر مہینے جب اس کے عزیز و اقارب اس سے ملنے کے لئے آتے تھے تو اسے اپنے آپ پتا چل جاتا تھا۔ چنانچہ وہ دفعدار سے کہتا کہ اس کی ملاقات آ رہی ہے۔ اس دن وہ اچّھی طرح نہاتا، بدن پر خوب صابن گھستا اور سر میں تیل لگا کر کنگھا کرتا، اپنے کپڑے جو وہ کبھی استعمال نہیں کرتا تھا نکلوا کے پہنتا اور یوں سج بن کر ملنے والوں کے پاس جاتا۔ وہ اس سے کچھ پوچھتے تو وہ خاموش رہتا یا کبھی کبھار “اوپڑ دی گڑ گڑ دی اینکس دی بے دھیانا دی مونگ دی دال آف دی لالٹین”کہ دیتا۔

اس کی ایک لڑکی تھی جو ہر مہینے ایک انگلی بڑھتی بڑھتی پندرہ برسوں میں جوان ہو گئی تھی۔ بشن سنگھ اس کو پہچانتا ہی نہیں تھا۔ وہ بچّی تھی جب بھی اپنے باپ کو دیکھ کر روتی تھی، جوان ہوئی تب بھی اس کی آنکھوں سے آنسو بہتے تھے۔

پاکستان اور ہندوستان کا قصّہ شروع ہوا تو اس نے دوسرے پاگلوں سے پوچھنا شروع کیا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے۔ جب اطمینان بخش جواب نہ ملا تو اس کی کرید دن بدن بڑھتی گئی۔ اب ملاقات بھی نہیں آتی تھی۔ پہلے تو اسے اپنے آپ پتہ چل جاتا تھا کہ ملنے والے آ رہے ہیں، پر اب جیسے اس کے دل کی آواز بھی بند ہو گئی تھی جو اسے ان کی آمد کی خبر دے دیا کرتی تھی۔

اس کی بڑی خواہش تھی کہ وہ لوگ آئیں جو اس سے ہم دردی کا اظہار کرتے تھے اور اس کے لئے پھل، مٹھائیاں اور کپڑے لاتے تھے۔ وہ اگر ان سے پوچھتا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے تو وہ یقیناً اسے بتا دیتے کہ پاکستان میں ہے یا ہندوستان میں۔ کیونکہ اس کا خیال تھا کہ وہ ٹوبہ ٹیک سنگھ ہی سے آتے ہیں جہاں اس کی زمینیں ہیں۔ پاگل خانے میں ایک پاگل ایسا بھی تھا جو خود کو خدا کہتا تھا۔ اس سے جب ایک روز بشن سنگھ نے پوچھا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ پاکستان میں ہے یا ہندوستان میں، تو اس نے حسبِ عادت قہقہہ لگایا اور کہا۔ “وہ پاکستان میں ہے نہ ہندوستان میں۔ اس لئے کہ ہم نے ابھی تک حکم نہیں دیا”۔

بشن سنگھ نے اس خدا سے کئی مرتبہ بڑی منّت سماجت سے کہا کہ وہ حکم دے دے تاکہ جھنجھٹ ختم ہو مگر وہ بہت مصروف تھا اسلئے کہ اسے اور بے شمار حکم دینے تھے۔ ایک دن تنگ آ کر وہ اس پر برس پڑا۔ “اوپڑ دی گڑ گڑ دی اینکس دی بے دھیانا دی منگ دی دال آف واہے گورو جی دا خالصہ اینڈ واہے گورو جی کی فتح جو بولے سو نہال، ست سری اکال”۔

اس کا شاید یہ مطلب تھا کہ تم مسلمانوں کے خدا ہو سکھوں کے خدا ہوتے تو ضرور میری سنتے۔

تبادلے سے کچھ دن پہلے ٹوبہ ٹیک سنگھ کا ایک مسلمان جو اس کا دوست تھا ملاقات کے لئے آیا۔ پہلے وہ کبھی نہیں آیا تھا۔ جب بشن سنگھ نے اسے دیکھا تو ایک طرف ہٹ گیا اور واپس جانے لگا۔ مگر سپاہیوں نے اسے روکا۔ “یہ تم سے ملنے آیا ہے تمہارا دوست فضل دین ہے”۔

بشن سنگھ نے فضل دین کو ایک نظر دیکھا اور کچھ بڑبڑانے لگا۔ فضل دین نے آگے بڑھ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ “میں بہت دنوں سے سوچ رہا تھا کہ تم سے ملوں لیکن فرصت ہی نہ ملی تمہارے سب آدمی خیریت سے ہندوستان چلے گئے تھے مجھ سے جتنی مدد ہو سکی، میں نے کی۔ تمہاری بیٹی روپ کور . . . .”

وہ کچھ کہتے کہتے رک گیا۔ بشن سنگھ کچھ یاد کرنے لگا۔”بیٹی روپ کور”۔

فضل دین نے رک رک کر کہا۔ “ہاں . . . . وہ . . . . وہ بھی ٹھیک ٹھاک ہے۔۔۔ان کے ساتھ ہی چلی گئی تھی”۔

بشن سنگھ خاموش رہا۔ فضل دین نے کہنا شروع کیا۔ “انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ تمہاری خیر خیریت پوچھتا رہوں۔ اب میں نے سنا ہے کہ تم ہندوستان جا رہے ہو۔ بھائی بلبیسر سنگھ اور بھائی ودھاوا سنگھ سے میرا سلام کہنا-اور بہن امرت کور سے بھی . . . . بھائی بلبیسر سے کہنا۔ فضل دین راضی خوشی ہے۔ وہ بھوری بھینسیں جو وہ چھوڑ گئے تھے۔ ان میں سے ایک نے کٹّا دیا ہے۔ دوسری کے کٹّی ہوئی تھی پر وہ چھ دن کی ہو کے مر گئی . . . . اور . . . . میری لائق جو خدمت ہو، کہنا، میں ہر وقت تیار ہوں . . . . اور یہ تمہارے لئے تھوڑے سے مرونڈے لایا ہوں”۔

بشن سنگھ نے مرونڈوں کی پوٹلی لے کر پاس کھڑے سپاہی کے حوالے کر دی اور فضل دین سے پوچھا۔ “ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے؟”۔

فضل دین نے قدرے حیرت سے کہا۔ “کہاں ہے؟ وہیں ہے جہاں تھا”۔

بشن سنگھ نے پھر پوچھا۔ “پاکستان میں یا ہندوستان میں؟”

“ہندوستان میں نہیں پاکستان میں”۔ فضل دین بوکھلا سا گیا۔

بشن سنگھ بڑبڑاتا ہوا چلا گیا۔ “اوپڑ دی گڑ گڑ دی اینکس دی بے دھیانا دی منگ دی دال آف دی آف دی پاکستان اینڈ ہندوستان آف دی دور فٹے منہ!”

تبادلے کے تیاریاں مکمّل ہو چکی تھیں۔ ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر آنے والے پاگلوں کی فہرستیں پہنچ گئی تھیں اور تبادلے کا دن بھی مقرّر ہو چکا تھا۔

سخت سردیاں تھیں جب لاہور کے پاگل خانے سے ہندو سکھ پاگلوں سے بھری ہوئی لاریاں پولیس کے محافظ دستے کے ساتھ روانہ ہوئیں۔ متعلّقہ افسر بھی ہمراہ تھے۔ واہگہ کے بورڈر پر طرفین کے سپرنٹندنٹ ایک دوسرے سے ملے اور ابتدائی کاروائی ختم ہونے کے بعد تبادلہ شروع ہو گیا جو رات بھر جاری رہا۔

پاگلوں کو لاریوں سے نکالنا اور دوسرے افسروں کے حوالے کرنا بڑا کٹھن کام تھا۔ بعض تو باہر نکلتے ہی نہیں تھے۔ جو نکلنے پر رضا مند ہوتے تھے۔ ان کو سنبھالنا مشکل ہو جاتا تھا۔ کیونکہ ادھر ادھر بھاگ اٹھتے تھے، جو ننگے تھے ان کو کپڑے پہنائے جاتے تو وہ پھاڑ کر اپنے تن سے جدا کر دیتے۔کوئی گالیاں بک رہا ہے۔ کوئی گا رہا ہے۔ آپس میں لڑ جھگڑ رہے ہیں۔ رو رہے ہیں، بلک رہے ہیں۔ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ پاگل عورتوں کا شور و غوغا الگ تھا اور سردی اتنی کڑاکے کی تھی کہ دانت سے دانت بج رہے تھے۔

پاگلوں کی اکثریت اس تبادلے کے حق میں نہیں تھی۔ اسلئے کہ ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ انہیں اپنی جگہ سے اکھاڑ کر کہاں پھینکا جا رہا ہے۔ وہ چند جو کچھ سوچ سمجھ سکتے تھے “پاکستان زندہ باد” اور “پاکستان مردہ باد” کے نعرے لگا رہے تھے۔ دو تین مرتبہ فساد ہوتے ہوتے بچا، کیونکہ بعض مسلمانوں اور سکھوں کو یہ نعرے سن کر طیش آ گیا تھا۔

جب بشن سنگھ کی باری آئی اور واہگہ کے اس پار متعلّقہ افسر اس کا نام رجسٹر میں درج کرنے لگا تو اس نے پوچھا۔ “ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے؟ پاکستان میں یا ہندوستان میں؟”

متعلّقہ افسر ہنسا۔ “پاکستان میں”۔

یہ سن کر بشن سنگھ اچھل کر ایک طرف ہٹا اور دوڑ کر اپنے باقی ماندہ ساتھیوں کے پاس پہنچ گیا۔ پاکستانی سپاہیوں نے اسے پکڑ لیا اور دوسری طرف لے جانے لگے، مگر اس نے چلنے سے انکار کر دیا۔ “ٹوبہ ٹیک سنگھ یہاں ہے” اور زور زور سے چلّانے لگا۔ “اوپڑ دی گڑ گڑ دی اینکس دی بے دھیانا دی منگ دی دال آف ٹوبہ ٹیک سنگھ اینڈ پاکستان”۔ اسے بہت سمجھایا گیا کہ دیکھو اب ٹوبہ ٹیک سنگھ ہندوستان میں چلا گیا ہے۔اگر نہیں گیا تو اسے فوراً وہاں بھیج دیا جائیگا۔ مگر وہ نہ مانا۔ جب اس کو زبردستی دوسری طرف لے جانے کی کوشش کی گئی تو وہ درمیان میں ایک جگہ اس انداز میں اپن سوجی ہوئی ٹانگوں پر کھڑا ہو گیا جیسے اب اسے کوئی طاقت وہاں سے نہیں ہلا سکے گی۔

آدمی چونکہ بے ضرر تھا اس لئے اس سے مزید زبردستی نہ کی گئی، اس کو وہیں کھڑا رہنے دیا گیا اور تبادلے کا باقی کام ہوتا رہا۔

سورج نکلنے سے پہلے ساکت و صامت بشن سنگھ کے حلق سے ایک فلک شگاف چیخ نکلی۔ ادھر ادھر سے کئی افسر دوڑے آئے اور دیکھا کہ وہ آدمی جو پندرہ برس تک دن رات اپنی ٹانگوں پر کھڑا رہا، اوندھے منہ لیٹا ہے۔ ادھر خاردار تاروں کے پیچھے ہندوستان تھا ادھر ویسے ہی تاروں کے پیچھے پاکستان۔ درمیان میں زمین کے اس ٹکڑے پر جس کا کوئی نام نہیں تھا۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ پڑا تھا۔

بابو گوپی ناتھ

بابوگوپی ناتھ سے میری ملاقات سن چالیس میں ہوئی، ان دنوں میں بمبئی کا ایک ہفتہ وار چرچہ ایڈٹ کیا کرتا تھا، دفتر میں عبدالرحیم سینڈو ایک ناٹے آدمی کے ساتھ داخل ہوا میں اس وقت لیڈ لکھ رہا تھا، سینڈو نے اپنے مخصوص انداز میں با آواز بلند مجھے آداب کیا اور اپنے ساتھی سے متعارف کرایا، منٹو صاحب بابو گوپی ناتھ سے ملئے۔

میں نے اٹھ کر اس سے ہاتھ ملایا، سینڈو نے حسب عادت میری تعریفوں کے پل باندھنے شروع کر دئیے، بابو گوپی ناتھ، تم ہندوستان کے نمبر ون رائٹر سے ہاتھ ملا رہے ہو، لکھتا ہے تو دھڑن تختہ ہو جاتا ہے لوگوں کا، ایسی ایسی کنٹی نیو ٹلی ملاتا ہے کہ طبعیت صاف ہو جاتی ہے، پچھلے دنوں کیا چٹکلہ لکھا تھا، آپ نے منٹو صاحب، مس خورشید نے کار خریدی، اللہ بڑا کار ساز ہے، کیوں بابو گوپی ناتھ ہے نہ اینٹی پینٹی پو؟

عبدلرحیم سینڈو کے باتیں کرنے کا انداز بالکل نرالا تھا، کنٹی نیو ٹلی، دھڑن تختہ اور اینٹی پینٹی پو ایسے الفاظ اس کی اپنی اختراع تھے، جن کو وہ گفتگو میں بے تلکف استعمال کرتا تھا، میرا تعارف کرانے کے بعد وہ بابو گوپی ناتھ کی طرف متوجہ ہوا، جو بہت مرعوب نظر آتا تھا، آپ ہیں بابو گوپی ناتھ، بڑے خانہ خراب لاہور سے جھک مارتے مارتے بمبئے تشریف لائے ہیں ساتھ کشمیر کی ایک کبوتری ہے، بابو گوپی ناتھ مسکرایا۔

عبد الرحیم سینڈو نے تعارف کو ناکافی سمجھ کر کہا کہ نمبر ون بے وقوف ہو سکتا ہے تو وہ آپ ہیں، لوگ ان کے مسکا لگا کر روپیہ بٹورتے ہیں، میں صرف باتیں کر کے ان سے ہر روز پولسن بٹر کے دو پیکٹ وصول کرتا ہوں، بس منٹو صاحب، یہ سمجھ لیجیے کہ بڑے انٹی فلو جیسٹس قسم کے آدمی ہیں، آپ آج شام کو انکے فلیٹ پر ضرور تشریف لائیے۔

بابو گوپی ناتھ خدا معلوم کیا سوچ رہا تھا چونک کر کہا ہاں ہاں ضرور تشریف لائیے منٹو صاحب، پھر سینڈو سے پوچھا کیوں سینڈو کیا آپ کچھ اس کا شغل کرتے ہیں۔ تو عبدالرحیم نے زور سے قہقہہ لگایا، اجی ہر قسم کا شغل کرتے ہیں، تو منٹو صاحب آج شام کو ضرور آئیے گا، میں نے بھی پینی شروع کر دی ہے، اس لئے کہ مفت ملتی ہے۔

سینڈو نے مجھے فلیٹ کا پتہ لکھ کر دیا، جہاں میں حسب وعدہ شام کو چھ کے قریب پہنچ گیا، تین کمرے کا صاف ستھرا فلیٹ تھا، جس میں بالکل نیا فرنیچر سجا ہوا تھا، سینڈو اور بابو گوپی ناتھ کے علاوہ بیٹھنے والے کمرے میں دو مرد اور عورتیں موجود تھیں، جن سے سینڈو نے مجھے متعارف کرایا۔

ایک تھا غفار سائیں، تہمد پوش، پنجاب کا ٹھیٹ سائیں، گلے میں موٹے موٹے دانوں کی مالا، سینڈو نے اس کے بارے میں کہا کہ، آپ بابو گوپی ناتھ کے لیگل ایڈوائزر ہیں، میرا مطلب سمجھ جائیے آپ، ہر آدمی جس کی ناک بہتی ہو جس کے منہ سے لعاب نکلتا ہو، پنجاب میں خدا کو پہنچا ہوا درویش بن جاتا ہے، یہ بھی بس پہنچے ہوئے ہیں یا پہنچنے والے ہیں، لاہور سے بابو گوپی ناتھ کے ساتھ آئے ہیں، کیونکہ انہیں وہاں کوئی اور وقوف ملنے کی امید نہیں تھی، یہاں آپ بابو گوپی ناتھ سے کریون اے کے سگریٹ اور سکاچ وسکی کے پیگ پی کر دعا کرتے رہتے ہیں،کہ انجام نیک ہو۔

دوسرے مرد کا نام تھا غلام علی، لمبا تڑنگا جوان،کسرتی بدن،منہ پر چیچک کے داغ، اس کے متعلق سینڈو نے کہا یہ میرا شاگرد ہے، اپنے استاد کے نقش قدم پر چل رہا ہے، لاہور کی ایک نامی طوائف کی کنواری بیٹی اس پر عاشق ہو گئی، بڑی کنٹی وٹیاں ملائی گئیں اس کو پھانسنے کیلئے مگر اس نے کہا، ڈو اور ڈائی، میں لنگوٹ کا پکا رہوں گا، ایک تکئیے میں بات چیت پیٹے ہوئے بابو گوپی ناتھ سے ملاقات ہو گئی، بس اس دن سے ان کے ساتھ چمٹا ہوا ہے،ہر روز کریون اے کا ڈبہ اور کھانا پینا مقرر ہے۔

گول چہرے والی ایک سرخ و سفید عورت تھی، کمرے میں داخل ہوتے ہی میں سمجھ گیا تھا،کہ یہ وہی کشمیری کبوتری ہے، جس کے متعلق سینڈو نے دفتر میں ذکر کیا تھا، بہت صاف ستھری عورت تھی، بال چھوٹے تھے،ایسا لگتا تھا کٹے ہوئے ہیں،مگر ایسا نہیں تھا، آنکھیں شفاف اور چمکیلی تھیں، چہرے کے خطوط سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ بے حد الہڑ اور نا تجربہ کار ہے، سینڈو نے اس سے تعارف کراتے ہوئے کہا زینت بیگم بابو گوپی ناتھ پیار سے زینو کہتے ہیں، ایک بڑی خرانٹ نائکہ کشمیر سے یہ سیب توڑ کر لاہور لے آئی بابو گوپی ناتھ کو اپنی سی آئی ڈی سے پتہ چلا کہ اور ایک رات لے اڑے، مقدمے بازی ہوئی تقریباً دو مہینے تک پولیس عیش کرتی رہی، آخر بابو گوپی ناتھ نے مقدمہ جیت لیا اور اسے یہاں لے آئے۔۔۔۔۔دھڑن تختہ۔

اب گہرے سانولے رنگ کی عورت باقی رہ گئی تھی جو خاموش بیٹھی سگریٹ پی رہی تھی، آنکھیں سرخ تھیں جن سے کافی بے حیائی مترشح تھی، بابو گوپی ناتھ نے اس کی طرف اشارہ کیا، اس کے متعلق بھی کچھ ہو جائے۔

سینڈو نے اس عورت کی ران پر ہاتھ دے مارا اور کہا جناب یہ ہے، ٹین پٹونی فل فل فونی، مسز عبد الرحیم سینڈو عرف سردار بیگم۔۔۔۔۔آپ بھی لاہور کی پیداوار ہیں، سن چھتیس میں مجھ سے عشق ہوا تھا، دو برسوں ہی میں میرا دھڑن تختہ کر کے رکھ دیا، میں لاہور چھوڑ کر بھاگا، بابو گوپی ناتھ نے اسے یہاں بلوا لیا ہے، تاکہ میرا دل لگا رہے، اس کو بھی ایک ڈبہ کریون اے کا راشن ملتا ہے، ہر روز شام کو ڈھائی روپے کا مورفیا کا انجکشن لیتی ہے، رنگ کالا ہے، مگر ویسے بڑی ٹیٹ فور ٹیٹ قسم کی عورت ہے۔

سردار نے ایک ادا سے صرف اتنا کہا، بکواس نہ کر، اس ادا میں پیشہ ور عورت کی بناوٹ تھی۔

سب سے متعارف کرانے کے بعد سینڈو نے حسب عادت میری تعریف کے پل باندھنے شروع کر دئیے، میں نے کہا چھوڑو یار، آؤ کچھ باتیں کریں۔

سینڈو چلایا بوائے وسکی اینڈ سوڈا۔۔۔۔۔۔۔۔۔بابو گوپی ناتھ لگاؤ ایک سبزے کو۔ نوٹ سینڈو کے حوالے کر دیا، سینڈو نوٹ لے کر اس کی طرف غور سے دیکھا اور کھڑا کھڑا کر کہا اور گوڈ۔۔۔او میرے رب العالمین۔۔۔۔وہ دن کب آئے گا جب میں بھئ لب لگا کر یوں نوٹ نکالا کروں گا۔۔۔۔جاؤ بھی غلام علی وہ دو بوتلیں جانی وا کر سٹل گوتنگ سٹرانگ کی لئے آؤ۔ بوتلیں آئیں تو سب نے پینا شروع کیں، یہ شغل دو تین گھنٹے تک جاری رہا، اس دوران میں سے زیادہ باتیں حسب معمول عبدالرحیم نے کیں، پہلا گلاس ایک ہی سانس میں ختم کر کے وہ چلایا، دھڑن تختہ منٹو صاحب وسکی ہو تو ایسی حلق سے اتر کر پیٹ میں انقلاب زندہ باد لکھتی چلی گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بابو گوپی ناتھ جیو۔

بابو گوپی ناتھ بے چارہ خاموش رہا، کبھی کبھی البتہ وہ سینڈو کی ہاں ملا دیتا تھا، میں نے سوچا اس شخص کی اپنی کوئی رائے نہیں ہے، دوسرا جو کہے مان لیتا ہے، ضعیف الاعتقادی کا ثبوت غفار سائیں جسے وہ بقول سینڈو اپنا لیگل ایڈوائزر بنا کر لایا تھا، سینڈو کا اس سے دراصل یہ مطلب تھا کہ بابو گوپی ناتھ کو اس سے عقیدت تھی، یوں بھی مجھے دوران گفتگو میں معلوم ہوا کہ لاہور میں اس کا اکثر وقت فقیروں اور درویشوں کی صحبت میں گزرتا تھا، یہ چیزیں میں خاص طور پر نوٹ کی کہ وہ کھویا کھویا سا تھا، جیسے وہ کچھ سوچ رہا ہے، میں نے چنانچہ اس سے ایک بار کہا بابو گوپی ناتھ کیا سوچ رہے ہو آپ۔

وہ چونک پڑا۔جی میں۔۔۔۔۔میں۔۔۔۔۔۔۔کچھ نہیں، یہ کہہ کر وہ مسکرایا اور زینت کی طرف ایک عاشقانہ نگاہ ڈالی، ان حسینوں کے متعلق سوچ رہا تھا۔۔۔۔۔اور ہمیں کیا سوچ ہو گی۔

سینڈو نہ کہا بڑے خانہ خراب ہیں یہ منٹو صاحب، بڑے خانہ خراب ہیں۔۔۔۔۔۔۔لاہور کی کوئی طوائف نہیں جس کے ساتھ بابو گوپی ناتھ کی کنٹی نیو ٹی نہ رہ چکی ہو، بابو گوپی ناتھ نے یہ سن کر بڑے بھونڈے انکسار کے ساتھ کہا اب کمرے میں وہ دم ہے نہیں منٹو صاحب۔

اس کے بعد واہیات گفتگو شروع ہوئی، لاہور کی طوائفوں کے سب گھرانے گنے گئے، کون ڈیرہ دار تھی؟ کون نئی تھی، کون کس کی نوچی تھی؟ نتھنی اتارنے کا گوپی ناتھ جی نے کیا دیا تھا، وغیرہ وغیرہ، یہ گفتگو سردار،سینڈو، غفار سائیں اور غلام علی کے درمیان ہوتی رہی، ٹھیٹ لاہور کے کوٹھوں کی زبان میں، مطلب تو میں سمجھتا رہا بعض اصطلاحیں سمجھ میں نہ آئے۔

زینت بالکل خاموش بیٹھی رہی، کبھی کبھی کسی بات پر مسکرا دیتی، مگر مجھے ایسا محسوس ہوا کہ اسے اس گفتگو سے کوئی دلچسپی کے سگریٹ بھی پیتی تھی، تو معلوم ہوتا تھا، اس تمباکو اور اس کے دھوئیں سے کوئی رغبت نہیں لیکن لطف یہ ہے کہ سب سے زیادہ سگریٹ اسی نے پی، بابو گوپی ناتھ سے اسے محبت تھی، اس کا پتہ مجھے کسی بات سے پتہ نہ چلا، اتنا البتہ ظاہر تھا کہ بابو گوپی ناتھ کو اسکا کافی خیال تھا، کیونکہ زینت کی آسائش کیلئے ہر سامان مہیا تھا، لیکن ایک بات مجھے محسوس ہوئی کہ ان دونوں میں کچھ عجیب سا کھنچاؤ تھا، میرا مطلب ہے وہ دونوں ایک دوسرے کے قریب ہونے کے بجائے کچھ ہٹے سے ہوئے معلوم ہوتے تھے۔

آٹھ بجے کے قریب سردار، ڈاکٹر مجید کے ہاں چلی گئ کیونکہ اسے مورفیا کا انجکشن لینا تھا، غفار سائیں تین پیگ پینے کے بعد اپنی تسبیح اٹھا کر قالین پر سوگیا، غلام علی کو ہوٹل سے کھانا لینے کیلئے بھیج دیا گیا تھا، سینڈو نے اپنی دلچسپ بکواس جب کچھ عرصے کے لئے بند کی تو بابو گوپی ناتھ نے جو اب نشے میں تھا، زینت کی طرف وہ ہی عاشقانہ نگاہ ڈالی اور کہا، منٹو صاحب میری زینت کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے۔

میں نے سوچا کیو کہوں، زینت کی طرف دیکھا تو وہ جھینپ گئی، میں نے اسے ہی کہہ دیا، بڑا نیک خیال ہے۔

بابو گوپی ناتھ خوش ہو گیا، منٹو صاحب ہے بھی بڑی نیک لوگ، خدا کی قسم نہ زیور کا شوق ہے نہ کسی چیز کا، میں نے کئی بار کہا، جان من مکان بنوا دوں؟ جواب کیا دیا، معلوم ہے آپ کو۔۔۔۔۔۔؟ کیا کروں گی مکان لے کر، میرا کون ہے۔۔۔۔۔۔منٹو صاحب موٹر کتنے میں آ جائے گی۔ میں نے کہا مجھے معلوم نہیں۔

بابو گوپی ناتھ نے تعجب سے کہا کیا بات کرتے ہو منٹو صاحب۔۔۔۔۔۔۔آپ کو اور کاروں کی قیمت معلوم نہ ہو، کل چلئیے گا میرے ساتھ، زینو کیلئے ایک موٹر لیں گے، میں نے اب دیکھا ہے کہ بمبئے میں موٹر ہونی چاہئیے۔

زینت کا چہرہ رد عمل سے خالی تھا۔

بابو گوپی ناتھ کا نشہ تھوڑی دیر کے بعد بہت تیز ہو گیا، ہمہ تن جذبات ہو کر اس نے مجھ سے کہا، منٹو صاحب آپ بڑے لائق آدمی ہیں، میں تو بالکل گدھا ہوں، لیکن آپ مجھے بتائیے، میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں، کل باتوں باتوں میں سینڈو نے آپ کا ذکر کیا، میں نے اسی وقت ٹیکسی منگوائی اور اس سے کہا مجھے لے چل منٹو صاحب کے پاس، مجھ سے کوئی گستاخی ہو تو معاف کر دیجئے گا۔۔۔۔۔بہت گناہ گار آدمی ہوں۔۔۔۔۔۔۔ وسکی منگواؤں کیا آپ کے لئے اور۔

میں نے کہا نہیں نہیں۔۔۔۔۔۔بہت پی چکے ہیں۔

وہ اور زیادہ جذباتی ہو گیا، اور پیجئیے منٹو صاحب یہ کہہ کر جیب سے سوسو کے نوٹوں کا پلندہ نکالا اور ایک نوٹ جدا کرنے لگا لیکن میں نے سب نوٹ اس کے ہاتھ سے لئے اور واپس اس کی جیب میں ٹھونس دئیے، سو روپے کا ایک نوٹ آپ نے غلام علی کو دیا اس کا کیا ہوا؟

مجھے دراصل کچھ ہمدردی سی ہو گئی تھی،بابو گوپی ناتھ سے، کتنے آدمی اس غریب کے ساتھ جونک کی طرح چمٹے ہوئے تھے،میرا خیال تھا بابو گوپی ناتھ بالکل گدھا ہے، لیکن وہ میرا اشارہ سمجھ گیا اور مسکرا کر کہنے لگا، منٹو صاحب اس نوٹ میں سے جو کچھ باقی بچا ہے وھ یا تو غلام علی کی جیب سے گر پڑے یا۔۔۔۔

بابو گوپی ناتھ نے پورا جملہ بھی ادا نہیں کیا تھا کہ غلام علی نے کمرے میں داخل ہو کر بڑے دکھ کے ساتھ یہ اطلاع دی کہ کسی حرامزادے نے اس کی جیب میں سے ساری روپے نکال لئیے، بابو گوپی ناتھ میری طرف دیکھ کر مسکرایا، پھر سو روپے کا ایک نوٹ جیب سے نکالا اور غلام علی کو دے کر کہا جلدی کھانا۔۔۔۔لے آؤ۔

انچ چھ ملاقاتوں کے بعد مجھے پتہ چلا کہ پوری طرح خیر انسان کسی کو بھی نہیں جان سکتا، لیکن مجھے اس کے بہت سے حالات معلوم ہوئے جو بے حد دلچسپ تھے۔

پہلے تو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میرا یہ خیال کہ وہ پرلے درجے کا چغد ہے غلط ثابت ہوا، اس کو اس کا پوا حساس تھا کہ سینڈو، غلام علی اور سردار وغیرہ جو اس کے مصاحب بنے ہوئے تھے مطلبی انسان ہیں، وہ ان جھڑکیاں گالیاں سب سنتا تھا لیکن غصے کا اظہار نہیں کیا،اس نے مجھ سے کہا، منٹو صاحب میں نے آج تک کسی کا مشورہ رد نہیں کیا، جب بھی مجھے کوئی رائے دیتا ہے، میں کہتا ہوں، سبحان اللہ وہ مجھے بے وقوف سمجھتے ہیں لیکن میں انہیں عقلمند سمجھتا ہوں، اس لئے کہ ان میں کم از کم اتنی عقل تو تھی کہ جو مجھ سے ایسی بے وقوفی کو شناخت کر لیا، جن سے ان کا الو سیدھا ہو سکتا ہے بات دراصل یہ ہے کہ میں شروع سے فقیروں اور کنجروں کی صحبت میں رہا ہوں، مجھے ان سے کچھ محبت سی ہو گئی ہے، میں ان کے بغیر نہیں رہا سکتا، میں نے سوچ رکھا ہے جب میری دولت بالکل ختم ہو جائے گی، تو کسی تکئیے میں جا بیٹھوں گا، رنڈی کا کوٹھا اور پیر کا مزار، بس یہ دو جگہیں ہیں جہاں میرے دل کوسکون ملتا ہے، رنڈی کا کوٹھا تو چھوٹ جائے گا، اس لئے جیب خالی ہونے والی ہے لیکن ہندوستان میں ہزاروں پیر ہیں، کسی ایک کے مزار پر چلا جاؤں گا۔

میں نے اس سے پوچھا، رنڈی کے کوٹھے اور تکئے آپ کو کیوں پسند ہیں، کچھ دیر بعد سوچ کر اس نے جواب دیا اس لئے کہ ان دونوں جگہوں پر فرش سے لے کر چھت تک دھوکا ہی دھوکا ہوتا ہے جو آدمی خود کو دھوکہ دینے چاہے، اس کے لئے ان سے اچھا مقام اور کیا ہو سکتا ہے۔

میں نے ایک اور سوال کیا آپ کو طوائفوں کا گانا سننے کا شوق ہے کیا آپ موسیقی کی سمجھ رکھتے ہیں۔

اس نے جواب دیا بالکل نہیں اور یہ اچھا ہے کیونکہ میں کن سری سے کن سری طوائف کے ہاں جا کر بھی اپنا سر ہلا سکتا ہوں۔۔۔۔۔منٹو صاحب مجھے گانے سے کوئی دلچسپی نہیں لیکن جیب میں سے دس یا سو کا نوٹ نکال کر گانے والی کو دکھانے میں بہت مزا آتا ہے، نوٹ نکالا اور اس کو دکھایا، وہ اسے لینے کیلئے ایک ادا سے اٹھی، پاس آئی تو نوٹ جراب میں اڑس لیا، اس نے جھک کر اسے باہر نکالا تو ہم خوش ہو گئے، ایسی بہت فضول فضول سی باتیں ہیں جو ہم ایسے تماش بینوں کو پسند ہیں ورنہ کون نہیں جانتا کہ رنڈی کے کوٹھے پر ماں باپ اپنی اولاد سے پیشہ کرواتے ہیں اور مقبروں اور تکیوں میں انسان اپنے خدا سے۔

بابو گوپی ناتھ کا شجرہ نسب تو میں نہیں جانتا لیکن اتنا معلوم ہوا کہ کہ وہ ایک بہت بڑے کنجوس بنیے کا بیٹا ہے باپ کے مرنے کے بعد اسے دس لاکھ کی جائداد ملی جو اس نے اپنی خواہش کے مطابق اڑانا شروع کر دی، بمبئے آتے وقت وہ اپنے ساتھ پچاس ہزار ساتھ لایا تھا، اس زمانے میں سب چیزیں سستی تھیں، لیکن پھر بھی ہر روز تقریباً سو سوا سو روپے خرچ ہو جاتے تھے۔

زینوں کیلئے اس نے فیسٹ موٹر خریدی، یاد نہیں رہا، لیکن شاید تین ہزار روپے میں آئی تھی،ایک ڈرائیور رکھا لیکن وہ بھی لفنگے ٹائپ کا، بابو گوپی ناتھ کو کچھ ایسے ہی آدمی پسند تھے۔

ہماری ملاقاتوں کا سلسلہ بڑھ گیا، بابو گوپی ناتھ سے مجھے صرف دلچسپی تھی لیکن اسے مجھ سے کچھ یوں عقیدت ہو گئی تھی، یہی وجہ ہے کہ وہ دوسروں کی بہ نسبت میرا بہت زیادہ احترام کرتا تھا۔

ایک روز شام کے قریب جب میں فلیٹ پر گیا تو مجھے وہاں شفیق کو دیکھ کر سخت حیرانی ہوئی، محمد شفیق طوسی کہوں تو شاید آپ سمجھ لیں کہ میری مراد کس آدمی سے ہے، یوں تو شفیق کافی مشہور آدمی تھے، کچھ اپنی جدت طراز گائیکی کے باعث اور کچھ اپنی بذلہ سنج طبعیت کی بدولت، لیکن اس کی زندگی کا ایک حصہ اکثریت سے پوشیدہ ہے، بہت کم آدمی جانتے ہیں کہ تین سگی بہنوں کو یکے بعد دیگرے تین تین چار چار سال کے وقفے کے بعد داشتہ بنانے سے پہلے اسکا تعلق ان کی ماں سے بھی تھا، یہ بھی تھا، یہ بھی بہت کم مشہور ہے کہ اس کو اپنی پہلی بیوی اس لئے پسند نہ تھی کہ اس میں طوائفوں والے غمزے اور عشوے نہیں تھے،لیکن یہ تو خیر ہر آدمی جو شفیق طوسی سے تھوڑی بہت واقفیت بھی رکھتا ہے جانتا ہے کہ چالیس برس یہ اس زمانے کی عمر ہے کی عمر میں سیکنٹروں طوائفوں نے اسے رکھا، اچھے سے اچھا کپڑا پہنا، عمدہ سے عمدہ کھانا کھایا۔

نفیس سے نفیس موٹر رکھی مگر اس نے اپنی گرہ سے کسی طوائف پر ایک دمڑی بھی خرچ نہ کی۔

عورتوں کیلئے خاص طور پر جو کہ پیشہ ور ہوں، اس کے بذلہ سبخ طبعیت میں جس میں میراثنوں کے مزاج کی جھلک تھی، بہت جاذب نظر تھی، وہ کوشش کئے بغیر ان کو اپنی طرف کھینچ لیتا تھا۔

میں نے جب اسے ہنس ہنس کر زینت سے باتیں کرتے دیکھا تو مجھے اس لئے حیرت نہ ہوئی کہ وہ ایسا کیوں کر رہا ہے، میں نے صرف اتنا سوچا کہ وہ دفعتہً یہاں پہنچا کیسے، سینڈو اسے جانتا تھا، مگر ان کی بول چال تو ایک عرصے سے بند تھی لیکن بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ سینڈو ہی اسے ساتھ لایا تھا، ان دونوں میں صلح صفائی ہو گئی تھی۔

بابو گوپی ناتھ ایک طرف بیٹھا حقہ پی رہا تھا، میں نے شاید اس سے پہلے ذکر نہیں کیا، وہ سگریٹ بالکل نہیں پیتا تھا، محمد شفیق طوسی میراثنوں کے لطیفے سنا رہا تھا، جس میں زینت کسی قدر کم اور سردار بہت زیادہ دلچسپی لے رہی تھی، شفیق نے مجھے دیکھا اور کہا بسم اللہ بسم اللہ کیا آپ کا گزر بھی اس وادی میں ہوتا ہے۔

سینڈو نے کہا تشریف لے آئیے عزرائیل صاحب یہاں دھڑن تختہ۔ میں اس کا مطلب سمجھ گیا۔

تھوڑی دیر گپ بازی ہوتی رہی، میں نے نوٹ کیا کہ زینت اور محمد شفیق طوسی کی نگاہیں آپس میں ٹکرا کر کچھ اور بھی کہہ رہی ہیں زینت اس فن میں بالکل کوری تھی، لیکن شفیق کی مہارت زینت کی خامیوں کو چھپاتی رہی، سردار دونوں کی ناگاہ بازی کو کچھ اس انداز سے دیکھ رہی تھی جسیے خلیفے اکھاڑے کے باہر بیٹھ کر اپنے پھٹوں کے داؤں پیچ کو دیکھتے ہیں۔

اس دوران میں میں بھی زینت سے کافی بے حد تکلف ہو گیا تھا، وہ مجھے بھائی کہتے تھی، جس پر مجھے اعتراض نہیں تھا، اچھی ملنسار طبعیت کی عورت تھی، کم گو، سادھ لوح، صاف ستھری۔ شفیق سے مجھے اس کی ناگاہ بازی پسند نہیں آئی تھی، اول تو اس میں بھونڈا پن تھا اس کے علاوہ۔۔۔۔کچھ یوں کہئیے کہ اس بات کا بھی اس میں دخل تھا کہ وہ میرے بھائی کہتی تھی، شفیق اور سینڈو اٹھ کر باہر چلے گئے تو میں نے شاید بڑی بے رحمی کے ساتھ اس سے نگاہ بازی کے متعلق استفار کیا کیونکہ فورا اس کی آنکھوں میں یہ موٹے موٹے آنسو آ گئے اور روتی روتی دوسرے کمرے میں چلی گئی، بابو گوپی ناتھ جو ایک کونے میں بیٹھا حقہ پی رہا تھا، اٹھ کر تیزی سے اسکے پیچھے چلا گیا سردار نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اس سے کہا لیکن مطلب نہ سمجھا، تھوڑی دیر کے بعد بابو گوپی ناتھ کمرے سے باہر نکلا اور آئیے منٹو صاحب کہہ کر مجھے اپنے ساتھ اندر لے گیا۔

زینت پلنگ پر بیٹھی تھی، میں اندر داخل ہوا تو دونوں ہاتھوں سے منہ ڈھانپ کر لیٹ گئی، میں اور بابو گوپی ناتھ دونوں پلنگ کے پاس کرسیوں پر بیٹھ گئے، بابو گوپی ناتھ نے بڑی سنجیدگی کے ساتھ کہنا شروع کیا منٹو صاحب مجھے اس عورت سے بہت محبت ہے، دو برس سے یہ میرے ساتھ ہے میں حضرت غوث اعظم جیلانی کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس نے مجھے کبھی کسی شکایت کا موقع نہیں دیا، اس کی دوسری بہنیں، میرا مطلب ہے اس پیشے کی دوسری عورتیں دونوں ہاتھوں سے مجھے لوٹ کھاتی رہی مگر اس نے کبھی ایک زائد پیسہ مجھ سے نہیں لیا میں اگر کسی دوسری عورت کے پاس ہفتوں پڑا رہا تو اس غریب نے اپنا کوئی زیور گروی رکھ کر گزارہ کیا، میں جیسا کہ آپ سے ایک دفعہ کہہ چکا ہوں بہت جلد اس دنیا سے کنارہ کش ہونے والا ہوں، میری دولت اب کچھ دن کی مہمان ہے، میں نہیں چاہتا اس کی زندگی خراب ہو میں نے لاہور میں اس کو بہت سمجھایا کہ تم دوسری طوائفوں کی طرف دیکھوں جو کچھ وہ کرتی ہیں سیکھو، میں آج دولت مند ہوں کل مجھے بھکاری ہونا ہے، تم لوگوں کی زندگی میں صرف ایک امیر کافی نہیں ہے، میرے بعد تم کسی اور کو نہیں پھانسو گی تو کام نہیں چلے گا، لیکن منٹو صاحب اس نے میری ایک نہ سنی، سارادن شریف زادیوں کی طرح گھر میں بیٹھی رہتی ہے، میں نے غفار سائیں سے مشورہ کیا، اس نے کہا بمبئی لے جاؤ اسے معلوم تھا اس نے ایسا کیوں کہا بمبئی میں اس کی دو جاننے والی طوائفیں ایکڑیس بنی ہوئی ہیں لیکن میں نے سوچا بمبئی ٹھیک ہے دو پمینے ہو گئے ہیں اسے یہاں لائے ہوئے، سردار کو لاہور سے بلایا ہے کہ اس کو سب گر سکھائے، غفار سائیں سے بھی یہ بہت کچھ سیکھ سکتی ہے یہاں مجھے کوئی نہیں جانتا، اس کو یہ خیال تھا کہ بابو گوپی ناتھ کی بے عزتی ہو گی، میں نے کہا تم چھوڑ اس کو بمبئی بہت بڑا شہر ہے لاکھوں رئیس ہیں۔

میں نے تمہیں موٹر لے دی ہے کوئی اچھا آدمی تلاش کر اور۔۔۔۔۔۔۔منٹو صاحب میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہو میری دلی خواہش ہے کہ یہ اپنے پیروں پر کھڑی ہو جائے، اچھی طرح ہوشیار ہو جائے، میں اس کے نام آج ہی بنک میں دس ہزار روپے جمع کرانے کو تیار ہو، مگر مجھے معلوم ہے دس دن کے اندر اندر یہ باہر بیٹھی ہوئی سردار اس کی ایک ایک پائی اپنی جیب میں ڈال لے گی۔۔۔۔۔آپ بھی اسے سمجھائیے کہ چالاک بننے کی کوشش کرے جب سے موٹر خریدی ہے، سردار اسے ہر روز شام کو اپو لو بندر لے جاتے ہیں ابھی بھی کامیابی نہیں ہوئی ہے، سینڈو آج بڑی مشکل سے محد شفیق کو یہاں لایا ہے، آپ کا کیا خیال ہے اس کے متعلق۔

میں نے اپنا خیال ظاہر نہیں کیا،لیکن بابو گوپی ناتھ نے خود ہی کہا اچھا کھاتا پیتا آدمی معلوم ہوتا ہے اور خوبصورت بھی ہے۔۔۔۔۔کیوں زینو جانی۔۔۔۔۔پسند ہے تمہیں؟

زینو خاموش رہی۔

بابو گوپی ناتھ سے جب مجھے زینت کو بمبئی لانے کی غرض و غایت معلوم ہوئی تو میرا دماغ چکرا گیا، مجھے یقین نہ آیا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے لیکن بعد میں مشاہدے نے میری حیرت دور کر دی، بابو گوپی ناتھ کی دلی آرزو تھی کہ زینت بمبئی میں کسی اچھے مالدار آدمی کی داشتہ بن جائے یا ایسے طریقے سیکھ لے، جس سے وہ مختلف آدمیوں سے روپیہ وصول کر تے رہنے میں کامیاب ہو سکے۔

زینت سے صرف چھٹکارا ہی حاصل کرنا ہو تو یہ کوئی اتنی مشکل چیز نہیں تھی، بابو گوپی ناتھ ایک ہی دن میں یہ کام کر سکتا تھا چونکہ اس کی نیت صاف تھی اس لئے اس نے زینت کے مستقبل کیلئے ہر ممکن کوشش کی، اس کو ایکٹریس بنانے کیلئے اس نے کئی جعلی ڈائریکٹروں کی دعوتیں کیں، گھر میں ٹیلیفون لگوا دیا اونٹ کسی کروٹ نہ بیٹھا۔

محمد شفیق طوسی تقریباً ڈیڑھ ماہ آتا رہا کئی راتیں بھی اس نے زینت کے ساتھ بستر کیں لیکن وہ ایسا آدمی نہ تھا جو کسی عورت کا سہارا بن سکے، بابو گوپی ناتھ نے ایک روز افسوس اور رنج کے ساتھ کہا شفیق صاحب تو خالی خولی جنٹل مین ہی نکلے۔

ھسہ دیکھئیے،لیکن بے چاری زینت سے چار چادریں چھ تکئیے کے غلاف اور دو سو روپے نقد ہتیا کر لے گئے، سنا ہے آج کل ایک لڑکی الماس سے عشق لڑا رہے ہیں۔

یہ درست ہے الماس نذیر جان پٹیالے والی کی سب سے چھوٹی اور آخری لڑکی تھی، اس سے پہلے تین بہنیں شفیق کی داشتہ رہ چکی ہیں، دو سو روپے جو اس نے زینت سے لئے تھے مجھے معلوم ہے الماس پر خرچ ہوئے تھے، بہنوں کے ساتھ لڑ جھگڑ کر الماس نے زہر کھا لیا تھا۔

محمد شفیق نے جب آنا جانا بند کر دیا تو زینت نے مجھے کئی ٹیلی فون کئیے اور کہا اسے ڈھونڈ کر میرے پاس لائیے، میں نے اسے تلاش کیا لیکن کسی کو اس کا پتہ نہیں تھا کہ وہ کہاں رہتا ہے، ایک روز اتفاقیہ ریڈیو اسٹیشن پر ملاقات ہوئی، میں نے اس سے کہا کہ تمہیں زینت بلاتی ہے تو اس نے جواب دیا، مجھے یہ پیغام اور ذریعوں سے بھی مل چکا ہے افسوس ہے آج کل مجھے بالکل فرصت نہیں ہے، زینت بہت اچھی عورت ہے لیکن افسوس ہے کہ بے حد شریف ہے۔۔۔۔۔ایسی عورتوں سے جو بیویوں جسی لگیں مجھے کوئی دلچسپی نہیں۔

شفیق سے جب مایوسی ہوئی تو زینت نے سردار کے ساتھ پھر اپولو بندر جانا شروع کیا، پندرہ دنوں میں بڑی مشکلوں سے کئی گیلن پیٹرول پھونکنے کے بعد سردار نے دو آدمی پھانسے، ان سے زینت کو چار سو روپے ملے، بابو گوپی ناتھ نے سمجھا کہ حالات امید افزا ہیں، کیونکہ ان میں سے ایک نے جو ریشمی کپڑوں کی مل کا مالک تھا زینت سے کہا تھا میں تم سے شادی کروں گا، ایک مہینہ گزر گیا لیکن یہ آدمی پھر زینت کے پاس نہ آیا۔

ایک روز میں جانے کس کام سے ہار بنی روڈ پر جا رہا تھا کہ مجھے فٹ پاتھ کے پاس زینت کی موٹر نظر آئی پچھلی نشست پر یاسین بیٹھا تھا، نگینہ ہوٹل کا مالک، میں نے اس سے پوچھا، یہ موٹر تم نے کہاں سے لی؟

یاسین مسکرایا تم جانتے ہو موٹر والی کو۔

میں نے کہا جانتا ہوں۔

تو بس سمجھ لو میری پاس کیسے آئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اچھی لڑکی ہے یار۔ یاسین نے مجھے آنکھ ماری۔ میں مسکرایا۔

اس کے عین چوتھے روز بابو گوپی ناتھ ٹیکسی پر میرے دفتر میں آیا اس سے مجھے معلوم ہوا کہ زینت سے یاسین کی ملاقات کیسے ہوئی، ایک شام اپولو بندر سے ایک آدمی لے کر سردار اور زینت نگینہ ہوٹل میں گئیں، وہ آدمی کسی بات پر جھگڑا کر کے چلا گیا، لیکن ہوٹل کے مالک سے زینت کی دوستی ہو گی۔

بابو گوپی ناتھ مطمئن تھا کیونکہ دس پندرہ روز کی دوستی کے دوران میں یاسین نے زینت کو چھ بہت ہی عمدہ اور قیمتی ساڑیاں لے دی تھیں، بابو گوپی ناتھ اب یہ سوچ رہا تھا کہ کچھ دن اور گزر جائیں زینت اور یاسین کی دوستی اور مضبوط ہو جائے تو لاہور واپس چلا جائے۔۔۔۔۔مگر ایسا نہ ہوا۔

نگینہ ہوٹل میں ایک کرسچن عورت نے کمرہ کرائے پر لیا، اس کی جوان لڑکی میوریل سے یاسین کی آنکھ لڑ گئی، چنانچہ زینت بے چاری ہوٹل میں بیٹھی رہتی اور یاسین اس کی موٹر میں صبح شام اس لڑکی کو گھماتا رہتا، بابو گوپی ناتھ کو اس کا علم ہونے پر بہت دکھ ہوا،اس نے مجھ سے کہا منٹو صاحب یہ کیسے لوگ ہیں، بھئی دل اچاٹ ہو گیا ہے تو صاف کہہ دو، لیکن زینت بھی عجیب ہے، اچھی طرح معلوم ہے کیا ہو رہا ہے، مگر منہ سے اتنا بھی نہیں کہتی میاں اگر تم اس کرسٹان چھوکری سے عشق لڑانا ہے تو اپنی موٹر کا بندوبست کرو، میری موٹر کیوں استعمال کرتے ہو۔۔۔۔میں کیا کروں منٹو صاحب شریف اور نیک بخت عورت ہے۔۔۔۔۔۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا ہے، تھوڑی سی چالاک تو بننا چاہئیے۔

یاسین سے تعلق قطع ہونے پر زینت نے کوئی صدمہ محسوس نہ کیا۔

بہت دنوں تک کوئی نئی بات وقوع پذیر نہ ہوئی، ایک دن ٹیلی فون کیا تو معلوم ہوا بابو گوپی ناتھ غلام علی اور سائیں غفار کے ساتھ لاہور چلا گیا ہے، روپے کا بندوبست کرنے کیونکہ پچاس ہزار ختم ہو چکے ہیں، جاتے وقت وہ زینت سے کہہ گیا تھا کہ اگر لاہور میں زیادہ دن لگیں گے کیونکہ اسے چند مکان فروخت کرنے پڑیں گے۔

سردار کو موفیا کے ٹیکو کی ضرورت تھی، سینڈو کو پولس مکھن کی، چنانچہ دونوں نے متحدہ کوشش کی اور روز دو تین آدمی پھانس کر لے آتے، زینت سے کہا گیا، کہ بابو گوپی ناتھ واپس نہیں آتے اس لئے اپنی فکر کرنی چاہئیے، سو سوا سو روپے روز کے ہو جاتے ہیں جس میں سے آدھے زینت کو ملتے ہیں باقی سینڈو اور سردار دبا لیتے ہیں۔ میں نے ایک دن زینت سے کہا یہ تم کیا کر رہی ہو۔

اس نے بڑے الہڑ پن سے کہا مجھے معلوم نہیں بھائی جان، یہ لوگ جو کچھ کرنے کیلئے کہتے ہیں مان لیتی ہوں۔

جی چاہتا تھا کہ دیر تک پاس بیٹھ کر سمجھاؤں کہ جو کچھ تم کر رہی ہو ٹھیک نہیں ہے۔

سینڈو اور سردار پنا الو سیدھا کرنے کیلئے تمہیں بیچ بھی ڈال لیں گے، مگر میں نے کچھ نہ کہا، زینت اکتا دینے والی حد تک بے سمجھ، بے امنگ اور جان عورت تھی، اس کم بخت کو اپنی زندگی کی کچھ قدر و قیمت معلوم نہیں تھی، جسم بیچتی مگر اس میں بیچنے والوں کا کوئی انداز تو ہوتا، واللہ مجھے بہت کوفت ہوئی اسے دیکھ کر، سگریٹ سے، شراب سے کھانے سے، گھر میں ٹیلیفون سے، حتی کہ اس صوفے سے بھی جس پر وہ اکثر لیٹی رہتی تھی، اسے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔

بابو گوپی ناتھ پورے ایک مہینے بعد لوٹا، تاہم گیا تو وہاں فلیٹ میں کوئی اور ہی تھا، سینڈو اور سردار کے مشورے سے زینت نے باندرہ میں ایک بنگلے کا بالائی حصہ کرائے پر لے لیا تھا، بابو گوپی ناتھ میرے پاس آئے تو میں نے پورا پتہ بتا دیا، اس نے مجھ سے زینت کے متعلق پوچھا، جو کچھ مجھے معلوم تھا میں نے کہہ دیا لیکن یہ نہ کہا کہ سینڈو اور سردار اس سے پیشہ کرا رہے ہیں۔

بابو گوپی ناتھ اب کی دس ہزار اپنے ساتھ لایا تھا،جو اس نے بڑی مشکلوں سے حاصل کیا تھا، غلام علی اور غفار سائیں کو وہ لاہور میں چھوڑ آیا تھا، ٹیکسی نیچے کھڑی ہے بابو گوپی ناتھ نے اصرار کیا کہ میں ابھی اس کے ساتھ چلو۔

قریباً ایک گھنٹے میں ہم باندرہ پہنچ گئے، پالی ہل پر ٹیکسی چڑھ رہی تھی کہ سامنے تنگ سڑک پر سینڈو دکھائی دیا، بابو گوپی ناتھ نے زور سے پکارا سینڈو۔

سینڈو نے جب بابو گوپی ناتھ کو دیکھا تو اس کے منہ سے صرف اس قدر نکلا دھڑن تختہ۔

بابو گوپی ناتھ نے اس سے کہا آؤ ٹیکسی میں بیٹھ جاؤ اور ساتھ چلو لیکن سینڈو نے کہا ٹیکسی ایک طرف کھڑی کیجئیے، مجھے آپ سے کچھ پرائیوٹ باتیں کرنی ہیں۔

ٹیکسی ایک طرف کھڑی کی گئی، بابو گوپی ناتھ باہر نکلا تو سینڈو اسے کچھ دور لے گیا، دیر تک ان میں باتیں ہوتی رہیں، جب ختم ہوئیں تو بابو گوپی ناتھ اکیلا ٹیکسی کی طرف آیا، ڈرائیور سے اس نے کہا واپس چلو، بابو گوپی ناتھ خوش تھا، ہم داور کے پاس پہنچے تو اس نے کہا منٹو صاحب زینو کی شادی ہونے والی ہے، میں نے حیرت سے کہا کس سے؟

بابو گوپی ناتھ نے جواب دیا حیدرآباد سندھ کا ایک دولت مند زمیندار ہے، خدا کرے دونوں خوش رہیں، یہ بھی اچھا ہے جو میں عین وقت پر آ ن پہنچا، جو روپے میرے پاس ہیں ان سے زینو کا جہز بن جائے گا۔۔۔۔۔۔کیوں کیا خیال ہے آپ کا۔

میرے دماغ میں اس وقت کوئی خیال نہیں تھا، میں سوچ رہا تھا، کہ یہ حیدرآباد سندھ کا دولت مند زمیندار کون ہے؟ ہے سینڈو اور سردار کی کوئی جعل سازی تو نہیں لیکن بعد میں اس کی تصدیق ہو گئی کہ وہ حقیقتاً حیدرآباد کا متمول زمیندار تھا، جو حیدر آباد سندھی ہی کے ایک میوزک ٹیچر کی معرفت زینت سے متعارف ہوا، یہ میوزک ٹیچر زینت کا گانا سکھانے کی بے سود کوشش کیا کرتا تھا، ایک روز یہ اپنے مربی غلام حسین یہ حیدر آباد سندھ کے رئیس کا نام تھا، کو ساتھ لے کر آیا، زینت نے خوب خاطرمدارات کی غلام حسین کی پر زور فرمائش پر اس نے غالب کی غزل

نکتہ چیں ہے غم دل اس کو سنائے نہ بننے

گا کر سنائی، غلام حسین سو جان سے اس پر فریفتہ ہو گیا، اس کو ذکر میوزک ٹیچر نے زینت سے کیا، سردار اور سینڈو نے مل کر معاملہ پکا کر دیا اور شادی طے ہو گئی۔

بابو گوپی ناتھ خوش تھا ایک دفعہ سینڈو کے دوست کی حیثیت سے وہ زینت کے ہاں گیا، غلام حسین سے اس کی ملاقات ہوئی اس سے مل کر بابو گوپی ناتھ کی خوشی دوگنی ہو گئی، مجھ اس نے مجھ سے کہا منٹو صاحب خوبصورت جوان اور بڑا لائق آدمی ہے۔۔۔۔میں نے یہاں آتے ہی۔۔۔۔۔۔۔داتا گنج بخش کے حضور جا کر دعا مانگی تھی جو قبول ہوئی۔۔۔۔۔۔بھگوان کرے دنوں خوش رہیں۔

بابو گوپی ناتھ نے بڑے خلوص اور بڑی توجہ سے زینت کی شادی کا انتظام کیا، دو ہزار کے زیور اور دو ہزار کے کپڑے دئیے اور پانچ ہزار نقد دئیے۔

محمد شفیق طوسی، محمد یاسین پروپرائیٹر نگینہ ہوٹل، سینڈو، میوزک ٹیچر اور بابو گوپی ناتھ شادی میں شامل تھے، دولہن کی طرف سے سینڈو وکیل تھا۔

ایجاب و قبول ہوا تو سینڈو نے آہستہ سے کہا دھڑن تختہ۔

غلام حسین سرج کا نیلا سوٹ پہنے تھا، سب نے اس کو مبارک باد دی جو اس نے خندہ پیشانی سے قبول کی، کافی وجیہہ آدمی تھا، بابو گوپی ناتھ اس کے مقابلے میں چھوٹی سی بٹیر معلوم ہوتا تھا۔

شادی کی دعوتوں پر خوردو نوش کا جو سامان بھی تھا، بابو گوپی ناتھ نے مہیا کیا تھا، دعوت سے جب لوگ فارغ ہوئے تو بابو گوپی ناتھ نے سب کے ہاتھ دھلوائے، میں جب ہاتھ دھونے گیا تو اس نے مجھ سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔بچوں کے سے انداز میں کہا، منٹو صاحب ذرا اندر جائیے اور دیکھئے زینو دولہن کے لباس میں کیس لگتی ہے۔

میں پردھ ہٹا کر اندر داخل ہوا، زینت سرخ زر بفت کا شلوار کرتہ پہنے تھی۔۔۔۔۔دوپٹہ بھی اس رنگ کا تھا، جس پر گوٹ لگی تھی، چہرے پر ہلکا ہلکا میک اپ تھا، حالانکہ مجھے ہونٹوں پر لپ اسٹک کی سرخی بہت بری معلوم ہوتی تھی، مگر زینت کے ہونٹ سجے ہوئے تھے، اس نے شرما کر مجھے آداب کیا تو بہت پیاری لگی، لیکن جب میں نے دوسرے کونے میں ایک مسہری دیکھی جس پر پھول پھول تھے تو مجھے بے اختیار ہنسی آ گئی، میں زینت سے کہا یہ کیا مسخرہ پن ہے۔

زینت نے میری طرف بالکل کبوتری کی طرح دیکھا، آپ مذاق کرتے ہیں بھائی جان،اس نے یہ کہا اور آنکھوں میں آنسو ڈبڈبا آئے۔

مجھے اس غلطی کا احساس بھی نہ ہوا تھا کہ بابو گوپی ناتھ اندر داخل ہوا، بڑے پیار سے اس نے اپنے رومال کے ساتھ زینت کے آنسو پونچھے اور بڑے دکھ کے ساتھ مجھ سے کہا منٹو صاحب میں سمجھتا تھا آپ بڑے سمجھ دار اور لائق آدمی ہیں۔۔۔۔۔ زینو کا مذاق اڑانے سے پہلے آپ نے کچھ سوچ لیا ہوتا۔

بابو گوپی ناتھ کے لہجے میں وہ عقیدت جو اسے مجھ سے تھی، زخمی نظر آئی لیکن پیشتر اس کہ کہ میں اس سے معافی مانگوں، اس نے زینت کے سر پر ہاتھ پھیرا اور بڑے خلوص کے ساتھ کہ، خدا تمہیں خوش رکھے۔

یہ کہہ کر بابو گوپی ناتھ نے بھیگی ہوئی آنکھوں سے میری طرف دیکھا ان میں ملامت تھی۔۔۔۔۔ بہت ہی دکھ بھری ملامت۔۔۔۔۔۔اور چلا گیا۔

موذیل

ترلوچن نے پہلی مرتبہ۔۔۔۔۔۔چار برسوں میں میں پہلی مرتبہ رات کو آسمان دیکھا تھا اور وہ بھی اس لئے کہ اس کی طبعیت سخت گھبرائی ہوئی تھی اور وہ نہ محض کھلی ہوا میں کچھ دیر سوچنے کیلئے اڈوانی چیمبرز کے ٹیرس پر چلا آیا تھا۔

آسمان بالکل صاف تھا بادلوں سے بے نیاز، بہت بڑے خاکستری تنبو کی طرح ساری بمبئی پر تنا ہوا تھا، حد نظر تک جگہ جگہ بتیاں روشن تھیں، ترلوچن نے ایسا محسوس کیا تھا کہ آسمان سے بہت سارے ستارے جھڑ کر بلڈنگوں سے جو رات کے اندھیرے میں بڑے بڑے درخت معلوم ہوتی تھیں، اٹک گئے، اور جگنوؤں کی طرح ٹمٹما رہے ہیں۔

ترلوچن کیلئے یہ بالکل ایک نیا تجربہ، ایک نئی کیفیت تھی،۔۔۔رات کو کھلے آسمان کے نیچے ہونا اس نے محسوس کیا کہ وہ چار برس تک اپنے فلیٹ میں قید رہا، اور قدرست تھی کہ ایک بہت بڑی نعمت سے محروم، قریب قریب تین بجے تھے، ہوا بے حد ہلکی ہلکی تھی، ترلوچن پنکھے کی میکانی ہوا کا عادی ہو چکا تھا، جو اس کے سارے وجود کو بوجھل کر دیتی تھی، صبح اٹھ کر وہ ہمیشہ یوں محسوس کرتا تھا، کہ رات بھر اس اس کو مارا پیٹا گیا ہے، پر اب صبح کی قدرتی ہوا میں اس کے جسم کا رواں رواں، تر و تازگی چوس کر خوش ہو رہا تھا، جب وہ اوپر آیا تھا تو اس کا دل و دماغ سخت مضطرب اور ہیجان زدہ تھا، لیکن آدھے گھنٹے ہی میں وہ اضطراب اور ہیجان جو اس کو بہت تنگ کر رہا تھا، کسی حد تک ٹھنڈا ہو گیا تھا اور اب صاف طور پر سوچ سکتا تھا۔ کرپال کور اور کا سارا خاندان۔۔۔۔۔محلے میں تھا، جو کٹر مسلمانوں کا مرکز تھا، یہاں کئی مکانوں کو آگ لگ چکی تھی، کئی جانیں تلف ہو چکی تھیں، ترلوچن ان سب کو لے آیا ہوتا، مگر مصیبت یہ تھی، کہ کرفیو نافذ ہو گیا تھا اور وہ بھی نہ جانے کتنے گھنٹوں کا۔۔۔۔غالباً اڑتالیس گھنٹوں کا۔۔۔۔۔ اور ترلوچن لازما مغلوب تھا، آس پاس سب مسلمان تھے، بڑے خوفناک مسلمان تھے، اور پنجاب سے دھڑا دھڑ خبریں آ رہی تھیں کہ وہاں سکھ مسلمانوں پر بہت ظلم ڈھا رہے ہیں، کوئی بھی ہاتھ۔۔۔مسلمان ہاتھ بڑی آسانی سے نرم و نازک کرپال کور کی کلائی پکڑ کر موت کے کنوئیں کی طرف لے جا سکتا تھا۔

کرپال کی ماں اندھی تھی، باپ مفلوج، بھائی تھا، وہ کچھ عرصے سے دیوالی میں تھا کہ اسے وہاں اپنے تازہ تازہ لئے ہوئے ٹھیکے کی دیکھ بھال کرنا تھی، ترلوچن کو کرپال کے بھائی نرجن پر بہت غصہ آتا تھا، اس نے جو کہ ہر روز اخبار پڑھتا تھا، فسادات کی تیزی و تندہی کے متعلق ہفتہ بھر پہلے آگاہ کر دیا تھا، اور صاف لفظوں میں کہہ دیا تھا، نرنجن یہ ٹھیکے ویکے رہنے دو ہم ایک بہت ہی نازک دور سے گزر رہے ہیں، تمہارا اگر چہ رہنا بہت ضروری ہے، لیکن یہاں سے اٹھ جاؤں اور میرے یہاں چلے آؤ، اس میں کوئی شک نہیں کہ جگہ کم ہے، لیکن مصیبت کے دنوں میں آدمی کسی نہ کسی طرح گزارا کر لیا کرتا ہے، مگر وہ مانا، اس کا اتنا بڑا لیکچر سن کر صاف اپنی گھنی موچھوں میں مسکرادیا، یار تم خواہ مخواہ فکر مند ہوتے ہو۔۔۔۔میں نے یہاں ایسے کئی فساد دیکھے ہیں، یہ امرتسر یا لاہور نہیں ہے، بمبے ہے۔۔۔۔۔بمبے تمہیں یہاں آئے صرف چار برس ہوئے ہیں، اور میں بارہ برس سے یہاں ہوں۔۔۔۔۔بارہ برس سے۔

جانے نرجن بمبئی کو کیا سمجھتا تھا، اس کا خیال تھا کہ یہ ایسا شہر ہے، اگر فساد برپا بھی ہو تو انکو اثر خود بخود زائل ہوتا ہے، جیسے کہ اس کے پاس چھو منتر ہے۔۔۔۔۔۔یا وہ کہانیوں کا کوئی ایسا قلعہ ہے، جس پر کوئی آفت نہیں آ سکتی ہے مگر ترلوچن صبح کی ٹھنڈی ہوا میں صاف دیکھ رہا تھا کہ۔۔۔۔۔محلہ بالکل محفوظ نہیں، وہ تو صبح کے اخباروں میں یہ بھی پڑھنے کیلئے تیار تھا کہ کرپال کور اور اس کے ماں بار قتل ہو چکے ہیں۔اس کو کرپال کور کے مفلوج باپ اور اس کی اندھی ماں کی کوئی پرواہ نہیں تھی، وہاں دیو لالی میں اس کا بھائی نرنجن بھی مارا جاتا تو اور بھی اچھا تھا، کہ ترلوچن کیلئے میدان صاف ہو جاتا، خاص طور پر نرنجن اس کے راستے میں ایک روڑا ہی نہیں، بہت بڑا گھنگھرا تھا چنانچہ جب کبھی کرپال کور اس کی بات ہوتی تو وہ اسے نرنجن سنگھ کے بجائے کھنگر سنگھ کہتا۔

صبح کی ہوا دھیرے دھیرے بہہ رہی تھی۔۔۔۔ ترلوچن کا کیسوں سے بے نیاز سر بڑی خوشگوار ٹھنڈک محسوس کر رہا تھا مگر اس کی زندگی میں داخل ہوئی تھی، وہ یوں تو ہے کئے کھنگھر سنگھ کی بہن تھی، مگر بہت ہی نرم، نازک لچکیلی تھی، اس نے دیہات میں پرورش پائی تھی، وہاں کی کئی گرمیاں سردیاں دیکھیں تھیں، مگر اس میں وہ سختی، وہ گھٹاؤ، وہ مردانہ پن، نہیں تھا، جو دیہات کی عام سکھ لڑکیوں میں ہوتا ہے، جنہیں کڑی سے کڑی مشقت کرنے پڑتی ہے۔

اس کے نقش پتلے پتلے تھے، جیسے ابھی نامکمل ہیں، چھوٹی چھوٹی چھاتیاں تھیں جن پر بالائیوں کی چند اور تہیں چڑھنے کی ضرورت تھی، عام سکھ لڑکیوں کے مقابلے میں اس کا رنگ گورا تھا مگر کورے لٹھے کی طرح اور بدن چکنا تھا، جس طرح مرسی رائزڈ کپڑے کی سطح ہوتی ہے، بے حد شرمیلی تھی۔

ترلوچن اسی کے گاؤں کا تھا، مگر زیادہ دیر وہاں رہا نہیں تھا، پرائمری سے نکل کر جب وہ شہر کے ہائی اسکول میں گیا تو بس پھر وہیں کا ہو گیا، اسکول سے فارغ ہو کر کالج کی تعلیم شروع ہو گئی، اس دوران میں کئی مرتبہ لاتعداد مرتبہ اپنے گاؤں گیا، مگر اس نے کرپال کور کے ناک کی کسی لڑکی کا نام تک نہ سنا شاید اس لئے کہ ہر بار اس افراتفری میں رہتا تھا کہ جلد از جلد واپس شہر پہنچے۔

کالج کا زمانہ بہت پیچھے رہ گیا تھا، اڈوانی چیمبرز کے ٹیریس اور کالج کی عمارت میں غالباً دس برس کا فاصلہ اور یہ فاصلہ ترلوچن کی زندگی کے عجیب و غریب واقعات سے پر تھا، برما، سنگا پور، ہانگ کانگ۔۔۔۔پھر بمبئی جہاں وہ چار برس سے مقیم تھا۔ان چار برسوں میں اس نے پہلی مرتبہ رات کو آسمان کی شکل دیکھی تھی، جو بری نہیں تھی۔۔۔۔خاکستری رنگ کے تنبو کی چھت میں ہزار ہادئیے، روشن تھے، اور ہوا ٹھنڈی اور ہلکی پھلکی تھی۔

کر پال کور کا سوچتے سوچتے، وہ موذیل کے متعلق سوچنے لگا، اس یہودی لڑکی کے بارے جو اڈوانی چیمبرز میں رہتی تھی، اس سے ترلوچن کو گوڈے گوڈے عشق ہو گیا تھا، ایسا عشق جو اس نے اپنی پینتیس برس کی زندگی میں کبھی نہیں کیا تھا۔

جس دن اس نے اڈوانی چیمبرز میں اپنے ایک عیسائی دوست کی معرفت دوسرے مالے پر فلیٹ لیا اسی دن اس کی مڈ بھیڑ موذیل سے ہوئی۔ گو پہلی نظر دیکھنے پر اسے خوفناک دیوانی معلوم ہوئی، کٹے ہوئے بھورے بال، اس کے پریشان تھے، بے حد پریشان، ہونٹوں پر لپ اسٹک یوں جمی جیسے گاڑھا خون اور وہ بھی جگہ جگہ سے چیختی ہوئی تھی، ڈھیلا ڈھالا لمبا سفید چغہ پہنے تھی، جس کے کھلے گریباں سے اس کی نیل پڑی بڑی بڑی چھاتیاں چوتھائی کے قریب نظر آ رہی تھی، بانہیں جو کہ ننگی تھیں، مہین مہین بالوں سے اٹی ہوئی تھیں، جیسے وہ ابھی ابھی کسی سیلون سے بال کٹوا کر آئی ہے، اور ان کی ننھی ننھی ہوائیاں ان پر جم گئی ہیں۔ ہونٹ اتنے موٹے نہیں تھے مگر گہرے عنابی رنگ کی لپ اسٹک کچھ اس انداز سے لگائی گئی تھی، کہ وہ موٹے اور بھینسے کے گوشت کے ٹکڑے معلوم ہوتے تھے۔

ترلوچن کا فلیٹ اس کے فلیٹ کے بالکل سامنے تھا بیچ میں ایک تنگ گلی تھی، بہت ہی تنگ، جب ترلوچن اپنے فلیٹ میں داخل ہونے کیلئے آگے بڑھا تو موذیل باہر آ گئی، کھڑاؤں پہنے تھی، ترلوچن ان کی آواز سن کر رک گیا، موذیل نے اپنے پریشان بالوں کی چقوں میں سے بڑی بڑی آنکھوں سے ترلوچن کی طرف دیکھا اور ہنسی۔۔۔۔۔۔ترلوچن بوکھلا گیا، جیب سے چابی نکال کر وہ جلدی سے دروازے کی جانب بڑھا، موذیل کی ایک کھڑاؤں سیمنٹ کے چکنے فرش پر پھسلی اور اس کے اوپر آ رہی۔

جب ترلوچن سنبھلا تو موذیل اس کے اوپر تھی، کچھ اس طرح کہ اس کا لمبا چغہ اوپر چڑھ گیا تھا اور اس کی دو ننگی، بڑی تگڑی ٹانگیں اس کے ادھر ادھر تھیں، اور جب ترلوچن نے اٹھنے کی کوشش کی تو بوکھلاہٹ میں کچھ اس طرح موذیل۔۔۔۔۔ساری موذیل سے الجھا جیسے وہ صابن کی طرح اس کے سارے بدن پر پھر گیا ہے۔جب ترلوچن نے ہانپتے ہوئے مناسب و موزوں الفاظ میں اس سے معافی مانگی، موذیل نے اپنا لبادہ ٹھیک کیا اور مسکرادی یہ کھڑاؤں ایک دم کنڈم چیز ہے، اور وہ اتری ہوئی کھڑاؤں میں اپنا انگوٹھا اور اس کے ساتھ والی انگلی پھنساتی کوریڈور سے باہر چلی گئی۔

تر لو چن کا خیال تھا کہ موذیل سے دوستی پیدا کرنا شاید مشکل ہو لیکن وہ بہت ہی تھوڑے عرصے میں اس سے گھل مل گئی، لیکن ایک بات تھی کہ وہ بہت خود سر تھی، وہ ترلوچن کو کبھی خاطر میں نہیں لاتی تھی، اس سے کھاتی تھی، اس سے پیتی تھی، اس کے ساتھ سینما جاتی تھی، سارا سارا دن اس کے ساتھ جو ہو پر نہاتی تھی، لیکن جب وہ بانہوں اور ہونٹوں سے آگے بڑھنا چاہتا تو اسے ڈانٹ دیتی، کچھ اس طور پر سے گھر کتی کہ اس کے سارے ولولے اس کی داڑھی اور مونچھو میں چکر کاٹتے رہ جاتے۔

ترلوچن کو پہلے کسی کے ساتھ محبت نہیں ہوئی تھی، لاہور میں، برما، سنگاپور میں وہ لڑکیاں کچھ عرصے کے لئے خرید چکا تھا، اس کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ بمبئے پہنچتے ہی وہ ایک نہایت الہڑ قسم کی یہودی لڑکی کے عشق میں گوڈے گوڈے دھنس جائے گا، وہ اس سے کچھ عجیب قسم کی بے اعتنائی اور بے التفاتی برتتی تھی، اس کے کہنے پر فورا سج بن کر سینماجانے پر تیار ہو جاتی تھی، مگر جب وہ اپنی سیٹ پر بیٹھتے تو ادھر ادھر نگاہیں دوڑانا شروع کر دیتی، کوئی اس کا آشنا نکل آئے تو اس سے ہاتھ ہلاتی اور ترلوچن سے اجازت لئے بغیر اس کے پہلو میں جا بیٹھتی۔

ہوٹل میں بیٹھے ہیں ترلوچن نے خاص طور پر موذیل کیلئے پر تکلف کھانے منگوائے ہیں، مگر اس کو کوئی اپنا دوست نظر آ گیا اور وہ نوالہ چھوڑ کر پاس جا بیٹھتی ہے اور ترلوچن کے سینے پر مونگ دل رہی ہے۔ ترلوچن بعض اوقات بھنا جاتا تھا، کیونکہ وہ اسے قطعی طور پر چھوڑ کر اپنے ان پرانے دوستوں اور شناساؤں کے ساتھ چلی جاتی تھی، اور کئ کئی دن اس سے ملاقات نہ کرتی تھی، کبھی سر درد کا بہانہ، کبھی پیٹ کی خرابی، جس کے متعلق ترلوچن کو اچھی طرح معلوم تھا کہ فولاد کی طرح سخت ہے اور کبھی خراب نہیں ہو سکتا۔جب اس سے ملاقات ہوتی ہے تو اس سے کہتی ہے، تم سکھ ہو۔۔۔۔۔یہ نازک باتیں تمہاری سمجھ میں نہیں آ سکتیں۔

ترلوچن بھن جاتا اور پوچھتا کون سی نازک باتیں۔۔۔تمہارے پرانے یاروں کی؟

موذیل دونوں ہاتھ جوڑے چکلے کولہوں پر لٹکا کر اپنی تگڑی ٹانگیں چوڑی کر دیتی اور کہتی یہ تم مجھے ان کے طعنے کیا دیتے رہتے ہو۔۔۔۔۔ہاں وہ میرے یار ہیں۔۔۔۔اور مجھے اچھے لگتے ہیں، تم جلتے ہو تو جلتے رہو۔

ترلوچن بڑے وکیلانہ انداز میں پوچھتا ہے اس طرح تمہاری میری کس طرح نبھے گی۔

موذیل زور کا قہقہہ لگاتی ہے، تم سچ مچ سکھ ہو۔۔۔۔ایڈیٹ تم سے کس نے کہا کہ میرے ساتھ نبھاؤ۔۔۔۔۔اگر نبھانے کی بات ہے تو جاؤ اپنے وطن میں کسی سکھنی سے شادی کر لو۔۔۔۔میرے ساتھ تو اسی طرح چلے گا۔

ترلوچن نرم ہو جاتا، دراصل موذیل اس کی زبردست کمزور ی بن گئی تھی، وہ ہر حالت میں اس کی قربت کا خواہشمند تھا، اس میں کوئی شک نہیں کہ موذیل کی وجہ سے اس کی اکثر توہین ہوتی تھی، معمولی کرسٹان لونڈوں کے سامنے جن کی حقیقت ہی نہیں تھی، اسے خفیف ہونا پڑتا تھا، مگر دل سے مجبور ہو کر یہ سب کچھ برداشت کرنے کا تہیہ کر لیا تھا۔

عام طور پر توہین اور ہتک کا رد عمل انتقام ہوتا ہے، مگر ترلوچن کے معاملے میں ایسا نہیں تھا، اس نے اپنے دل و دماغ کی بہت سے آنکھیں میچ لی تھی، اور کئی کانوں میں روئی ٹھونس لی تھی، اس کو موذیل پسند تھی۔۔۔۔ پسند ہی نہیں جیسا کہ وہ اپنے دوستوں سے کہا کرتا تھا گوڈے گوڈے اس کے عشق میں دھنس گیا تھا، اب اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں تھا اس کے جسم کا جتنا حصہ باقی رہ گیا ہے وہ بھی اس عشق کے دلدل میں چلا جائے اور قصہ ختم ہو۔

دو برس تک وہ اسی طرح خوار ہوتا رہا، لیکن ثابت قدم رہا، آخر ایک روز جب کہ موذیل موج میں تھی، اپنے بازوؤں میں سمیٹ کر پوچھا موذیل کیا تم مجھ سے محبت نہیں کرتی ہو۔موذیل اس کے بازوؤں سے جدا ہو گئی اور کرسی پر بیٹھ کر اپنے فراک کا گھیرا دیکھنے لگی پھر اس نے اپنی موٹی موٹی یہودی آنکھیں اٹھائیں اور گھنی پلکیں چھپکا کر کہا، میں سکھ سے محبت نہیں کر سکتی۔

ترلوچن نے ایسا محسوس کیا کہ پگڑی کے نیچے اس کے کیسوں میں کسی نے دہکتی ہوئی چنگاریاں رکھ دی ہیں، اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔۔۔۔۔موذیل تم ہمیشہ میرا مذاق اڑاتی ہو۔۔۔۔یہ میرا مذاق نہیں، میری محبت کا مذاق ہے۔

موذیل اٹھی اور اس نے بھورے ترشے ہوئے بالوں کو ایک دل فریب جھٹکا دیا، تم شیو کرا لو اور اپنے سر کے بال کھلے چھوڑ دو۔۔۔تو میں شرط لگا سکتی ہو ں کہ کئ لونڈے تمہیں آنکھ ماریں گے۔۔۔۔تم خوبصورت ہو۔

ترلوچن کے کیسوں میں مزید چنگاریاں پڑ گئیں، اس نے آگے بڑھ کر زور سے موذیل کو اپنی طرف گھسٹیا اور اس کے عنابی ہونٹوں میں اپنے مونچھوں بھرے ہونٹ پیوست کر دئیے۔

موذیل نے ایک دم پھوں پھوں کی اوراس کی گرفت سے علیحدہ ہو گئی، میں صبح اپنے دانتوں کو برش کر چکی ہوں، تم تکلیف نہ کرو۔

ترلوچن چلایا، موذیل۔

موذیل وینٹی بیگ سے ننھا سا آئینہ نکال کر اپنے ہونٹ دیکھنے لگی جس پر لگی ہوئی گاڑھی لپ اسٹک پر خراشیں آ گئی تھیں، خدا قسم۔۔۔تم اپنی داڑھی اور مونچھوں کا صحیح استعمال نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔ان کے بال ایسے اچھے ہیں کہ میرا نیوی بلو اسکرٹ بہت اچھی طرح صاف کر سکتے ہیں،۔۔۔۔بس تھوڑا سا پیٹرول لگانے کی ضرورت ہو گی۔

ترلوچن غصے کی اس انتہا تک پہنچ چکا تھا، جہاں وہ بالکل ٹھنڈا ہو گیا تھا، آرام سے صوفے پر بیٹھ گیا، موذیل بھی آ گئی اور اس نے ترلوچن کی داڑھی کھولنی شروع کر دی۔۔۔۔اس میں جو پنیں لگی تھیں وہ اس نے ایک ایک کر کے اپنے دانتوں تلے دبا لیں۔

ترلوچن خوبصورت تھا، جب اس کے داڑھی مونچھ نہیں اگی تھی تو واقعی لوگ اس کے کھلے گیسؤوں کے ساتھ دیکھ کر دھوکا کھا جاتے تھے، کہ وہ کوئی کم عمر خوبصورت لڑکی ہے۔مگر بالوں کے اس انبار نے اب اس کے تمام خدوخال جھاڑیوں کے مانند اندر چھپا لئے تھے، اس کو اس کا احساس تھا، مگر وہ ایک اطاعت شعار بردار لڑکا تھا، اس کے دل میں مذہب کا احترام تھا، وہ نہیں چاہتا تھا، کہ ان چیزوں کو اپنے وجود سے الگ کر دے، جن سے اس کے مذہب کی ظاہری تکمیل ہوتی تھی۔

جب داڑھی پوری کھل گئی اور اسکے سینے پر لٹکنے لگی تو اس نے موذیل سے پوچھا، یہ تم کیا کر رہی ہو؟

دانتوں میں پنیں دبائے وہ مسکرائی،تمہارے بال بہت ملائم ہیں۔۔۔۔۔میرا اندازہ غلط تھا کہ ان سے میرا نیوی بلو اسکرٹ صاف ہو جائے گا تر لوچ تم یہ مجھے دے دو میں انہیں گوندھ کر اپنے لئے ایک فسٹ کلاس بٹوا بناؤں گئی۔

اب تو ترلوچن کی داڑھی میں چنگاریاں پھڑکنے لگیں، وہ بڑی سنجیدگی سے موذیل سے مخاطب ہوا، میں نے آج تک تمہارے مذہب کا مذاق اڑایا ہے تم کیوں اڑاتی ہو۔۔۔دیکھو کسی کے مذہبی جذبات سے کھیلنا اچھا نہیں ہوتا۔۔۔میں یہ کبھی برداشت نہ کرتا مگر صرف اس لئے کرتا ہوں کہ مجھے تم سے بے پناہ محبت ہے۔۔۔۔کیا تمہیں اس کا پتہ نہیں۔

موذیل نے ترلوچن کی داڑھی سے کھیلنا بند کر دیا، معلوم ہے۔

پھر ترلوچن نے اپنی داڑھی کے بال بڑی صفائی سے تہہ کئے اور موذیل کے دانتوں سے پنیں نکال لیں، تم اچھی طرح جانتی ہو کہ میری محبت بکواس نہیں۔۔۔میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔

مجھے معلوم ہے، بالوں کو ایک خفیف سا جھٹکا دے کر وہ اٹھی اور دیوار سے لٹکی ہوئی تصویر کی طرف دیکھنے لگی، میں بھی قریب یہی فیصلہ کر چکی ہو کہ تم سے شادی کروں گی۔

ترلوچن اچھل پڑا سچ؟

موذیل کے عنابی ہونٹ موٹی مسکراہٹ کے ساتھ کھلے اور اس کے سفید مخبوط دانت ایک لحظے کیلئے چمکے۔ہاں۔

ترلوچن نے اپنی نصف لپٹی ہوئی داڑھی ہی سے اس کو اپنے سینے کے ساتھ بھینچ لیا۔ تو تو کب؟

موذیل الگ ہٹ گئی، جب۔۔۔۔۔تم اپنے بال کٹوا دو گے جب۔

ترلوچن اس وقت جو ہو سو ہو تھا، اس نے کچھ نہ سوچا اور کہہ دیا میں کل ہی کٹوا دوں گا۔

موذیل فرش پر ٹیپ ڈانس کرنے لگی، تم بکواس کرتے ہو ترلوچ۔۔۔۔۔تم میں اتنی ہمت نہیں ہے۔

اس نے ترلوچن کے دل و دماغ سے مذہب کے رہے سہے خیال کو نکال باہر پھینکا، تم دیکھ لو گی۔

اور وہ تیزی سے آگے بڑھی ترلوچ کی مونچھوں کو چوما اور پھو پھوں کرتی باہر نکل گئی۔

ترلوچن نے رات بھر کیا سوچا۔۔۔وہ کن کن اذیتوں سے گزرا، اس کا تذکرہ فضول ہے اس لئے کہ دوسرے روز اس نے فورٹ میں اپنے کیس کٹوا دئیے اور داڑھی بھی منڈوا دی۔۔۔۔یہ سب کچھ ہوتا رہا اور وہ آنکھیں میچے رہا، جب سارا معاملہ صاف ہو گیا تو اس نے آنکھیں کھول لیں اور دیر تک اپنی شکل آئینے میں دیکھتا رہا، جس میں بمبئی کی حسین سے حسین لڑکی بھی کچھ دیر کیلئے غور کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔

ترلوچن وہی عجیب و غریب ٹھنڈک محسوس کرنے لگا تھا، جو سیلون سے باہر نکل کر اس کو لگی تھی، اس نے ٹیرس پر تیز تیز چلنا شروع کر دیا، جہاں ٹینکوں اور نلوں کا ایک ہجوم تھا وہ چاہتا تھا کہ اس داستان کا بقایا حصہ اس کے دماغ میں نہ آئے مگر وہ بن نہ رہا۔ بال کٹوا کر وہ پہلے دن گھر سے باہر نہیں نکلا تھا، اس نے اپنے نوکر کے ہاتھ دوسرے روز چٹ موذیل کی بھیجی کہ اس کی طبعیت ناساز ہے تھوڑی دیر کیلئے آ جائے، موذیل آئی ترلوچن کو بالوں کے بغیر دیکھ کر پہلے وہ ایک لحظے کیلئے ٹھٹکی پھر مائی ڈارلنگ ترلوچن کے صاف اور ملائم گالوں پر ہاتھ پھیرا اس کے چھوٹے انگریزی وضع کے کٹے ہوئے بالوں میں اپنی انگلیوں سے کنگھی کی اور عربی زبان میں نعرے مارتی رہی، اس نے اس قدر شور مچایا کہ اس کی ناک سے پانی بہنے لگا۔۔۔۔۔۔موذیل نے جب اسے محسوس کیا تو اپنی اسکرٹ کا گھیرا اٹھایا اور اسے پونچھنا شروع کر دیا۔۔۔۔ ترلوچن شرما گیا، اس نے اسکرٹ نیچی کی اور سرزنش کے طور پراس سے کہا، نیچے کچھ پہن تو لیا کرو۔ موذیل پر اس کا کچھ اثر نہ ھوا، باسی اور جگہ جگہ سے اکھڑی ہوئی لپ اسٹک لگے ہونٹوں سے مسکرا کر اس نے صرف اتنا ہی کہا مجھے بڑی گھبراہٹ ہوتی ہے۔۔۔۔۔ ایسے ہی چلتا ہے۔

ترلوچن کو وہ پہلا دن یاد آگیا جب وہ موذیل دونوں ٹکرا گئے اور آپس میں عجیب طرح گڈ مڈ ہو گئے تھے، مسکرا کر اس نے موذیل کو اپنے سینے کے ساتھ لگا لیا، شادی کل ہو گی؟

ضرور، موذیل نے ترلوچن کی ملائم تھوڑی پر اپنے ہاتھ کی پشت پھیری۔

طے یہ ہوا کہ شادی پونے میں ہو، چونکہ سول میرج تھی، اس لئے ان کو دس پندرہ دن کا نوٹس دینا تھا، عدالتی کارروائی تھی، اس لئے مناسب یہی خیال کیا گیا کہ پونہ بہتر ہے، پاس ہے اور ترلوچن کے وہاں کئی دوست بھی ہیں، دوسرے روز انہیں پروگرام کے مطابق پونہ روانہ ہو جاتا تھا۔

موذیل فورٹ کے ایک اسٹور میں سیلز گرل تھی، اس سے کچھ فاصلے پر ٹیکسی اسٹینڈ تھا، بس یہیں موذیل نے اس کو انتظار کرنے کیلئے کہا تھا،۔۔۔ترلوچن وقت مقررہ پر وہاں پہنچا، ڈیڑھ گھنٹہ انتظار کرتا رہا، مگر وہ نہ آئی، دوسرے روز اسے معلوم ہوا کہ وہ اپنے ایک پرانے دوست کے ساتھ جس نے تازہ تازہ موٹر خریدی ہے، دیولالی چلی گئی ہے اور ایک غیر معین عرصے کیلئے وہیں رہے گی۔

ترلوچن پر کیا گزری؟۔۔۔ایک بڑی لمبی کہانی ہے، قصہ مختصر یہ ہے کہ اس نے جی کڑا کیا اور اس کو بھول گیا۔۔۔۔ اتنے میں اس کی ملاقات کرپال کور سے ہو گئی اور وہ اس سے محبت کرنے لگا اور تھوڑے ہی عرصے میں اس نے محسوس کیا کہ موذیل بہت واہیات لڑکی تھی، جس کے دل کے ساتھ پتھر لگے ہوئے ہیں اور جو چڑوں کی مانند ایک جگہ سے دوسری جگہ پھدکتا رہتا تھا، اس احساس سے اس کو گونہ تسکین ہوئی تھی کہ وہ موذیل سے شادی کرنے کی غلطی نہ کر بیٹھا تھا۔لیکن اس کے باوجود کبھی کبھی موذیل کی یاد میں ایک چٹکی کے مانند اس کے دل کو پکڑ لیتی تھی اور پھر چھوڑ کر کد کڑے لگاتی غائب ہو جاتی تھی۔

وہ بے حیا تھی۔۔۔۔۔بے مروت تھی، اس کو کسی کے جذبات کا پاس نہیں تھا ترلوچن کو پسند تھی، اس لئے کبھی کبھی اس کے متعلق سوچنے پر مجبور ہو جاتا تھا، کہ وہ دیولالی میں اتنے عرصے سے کیا کر رہی ہے،، اس آدمی کے ساتھ ہے جس نے نئی نئی کار خریدی تھی، یا اسے چھوڑ کر کسی اور کے پاس چلی گئی ہے، اس کو اس خیال سے سخت کوفت ہوتی تھی کہ وہ اس کے سوا کسی اور کے پاس ہو گی، حالانکہ اس کو موذیل کے کردار کا بخوبی علم تھا۔

وہ اس پر سینکڑوں نہیں ہزاروں روپے خرچ کر چکا تھا، لیکن اپنی مرضی سے، ورنہ موذیل مہنگی نہیں تھی، اس کو بہت سسی قسم کی چیزیں پسند آتی تھی، ایک مرتبہ ترلوچن نے اسے سونے کی ٹوپس دینے کا ارادہ کیا جو اسے بہت پسند تھے مگر اسی دکان میں موذیل جھوٹے اور بھڑکیلے اور بہت سستے آویزوں پر مر مٹی اور سونے کے ٹوپس چھوڑ کر ترلوچن سے منتیں کرنے لگی کہ وہ انہیں خرید دے۔

ترلوچن اب تک نہ سمجھ سکا کہ موذیل کس قماش کی لڑکی ہے، کس آب و گل سے بنی ہے، وہ گھنٹوں اس کے ساتھ لیٹی رہتی تھی اور اس کو چومنے کی اجازت دیتی تھی، وہ سارا کا سارا صابن کی مانند اس کے جسم پر پھر جاتا تھا، مگر وہ اس کو اس سے آگے ایک انچ نہ بڑھنے دیتی تھی، اس کو چرانے کی خاطر اتنا کہہ دیتی کہ تم سکھ ہو۔۔۔۔مجھے تم سے نفرت ہے۔

ترلوچن اچھی طرح محسوس کرتا تھا، کہ موذیل کو اس سے نفرت نہیں ہے،اگر ایسا ہوتا تو وہ اس سے کبھی نہ ملتی، برداشت کا مادہ اس میں رتی بھر نہیں تھا، وہ کبھی کبھار دو برس تک اس کی صحبت میں نہ گزارتی، دو ٹک فیصلہ کر دیتی، انڈروئیر اس کو ناپسند تھے اس لئے کہ ان سے اس کو الجھن ہوتی تھی، ترلوچن نے کئی بار اس کو ان کی اشد ضرورت سے آگاہ کیا، اس کو شرم و حیا کا واسطہ دیا، مگر اس اس نے یہ چیز کبھی نہ پہنی۔

ترلوچن جب اس سے حیا کی بات کرتا تھا تو وہ چڑ جاتی تھی، یہ حیا ویا کیا بکواس ہے۔۔۔اگر تمہیں اس کا کچھ خیال ہے تو آنکھیں بند کر لیا کرو۔۔۔۔تم مجھے یہ بتاؤ کہ کون سا لباس ہے جس میں آدمی ننگا نہیں ہو سکتا۔۔۔۔۔۔یا جس میں سے تمہاری نگاہیں پار نہیں ہو سکتیں۔۔۔۔۔۔مجھ سے ایسی بکواس نہ کیا کرو۔۔۔۔۔تم سکھ ہو۔۔۔۔۔مجھے معلوم ہے کہ تم پتلون کے نیچے ایک سلی انڈروئیر پہنتے ہو جو نیکر سے ملتاجلتا ہے۔۔۔۔۔۔یہ بھی تمہاری داڑھی اور سر کے بالوں کی طرح تمہارے مذہب میں شامل ہے۔۔۔۔۔شرم آنی چاہئیے۔۔۔۔۔۔اتنے بڑے ہو گئے اور ابھی تک یہی سمجھتے ہو کہ تمہارا مذہب انڈروئیر میں چھپا بیٹھا ہے۔

ترلوچن کو شروع شروع میں ایسی باتیں سن کر غصہ آیا تھا مگر بعد میں غور و فکر کرنے پر وہ کبھی کبھی لڑھک جاتا تھا اور سوچتا تھا کہ موذیل کی باتیں شاید نادرست نہیں اور جب اس نے اپنے کیسوں اور داڑھی کا صفایا کرا دیا تھا تو اسے قطعی طور پر ایسا محسوس ہوا کہ وہ بیکار اتنے دن بالوں کا بوجھ اٹھائے پھرا جس کا کچھ مطلب نہیں تھا۔

پانی کی ٹنکی کے پاس پہنچ کر ترلوچن رک گیا، موذیل کو ایک بڑی موٹی گالی دے کر اس نے اس کے متعلق سوچنا بند کر دیا،۔۔۔کرپال کور، ایک پاکیزہ لڑکی جس سے اس کو محبت ہوئی تھی، خطرے میں تھی، وہ ایسے محلے میں تھی، جس میں کٹر قسم کے مسلمان رہتے تھے اور وہاں دو تین وارداتیں بھی ہو چکیں تھیں۔۔۔۔۔لیکن مصیبت یہ تھی کہ اس محلے میں اڑتالیس گھنٹے کا کرفیو تھا، مگر اڑتالیس گھنٹے کے کرفیو کی کون پروا کرتا ہے، اس چالی کے مسلمان اگر چاہتے تو اندر ہی اندر کرپال کا، اس کی ماں کا، اس کے باپ کا بڑی آسانی کے ساتھ صفایا کر سکتے تھے۔

ترلوچن سوچتا سوچتا پانی کے موٹے نل پر بیٹھ گیا، اس کے سر کے بال اب کافی لمبے ہو گئے تھے، اس کو یقین تھا کہ ایک برس کے اندر اندر یہ پورے کیسیوں میں تبدیل ہو جائیں گے، اس کی داڑھی تیزی سے بڑھی تھی مگر اسے بڑھانا نہیں چاہتا تھا، فورٹ میں ایک باربر تھا، وہ اس صفائی سے اسے تراشتا تھا، کہ ترشی ہوئی دکھائی دیتی تھی۔۔۔۔

اس نے اپنے لمبے اور ملائم بالوں میں انگلیاں پھیریں اور ایک سرد آہ بھری۔۔۔اٹھنے کا ارادہ کر ہی رہا تھا۔۔۔ کہ اسے کھڑاؤں کی کرخت آواز سنائی دی، اس نے سوچا کون ہو سکتا ہے؟۔۔بلڈنگ میں کئی یہودی عورتیں تھیں، جو کہ سب کھڑاؤں پہنتی تھیں۔۔۔۔۔۔آواز قریب آتی گئی، یک لخت اس نے دوسری ٹنکی کے پاس موذیل کو دیکھا۔جو یہودیوں کی خاص قطع کا ڈھیلا ڈھالا کرتہ پہنے بڑے زور کی انگڑائی لے رہی تھی۔۔۔۔۔اس زور کی کہ ترلوچن کو محسوس ہوا کہ آس پاس کی ہوا چٹخ جائے گی۔

ترلوچن پانی کے نل پر سے اٹھا، اس نے سوچا یہ ایکا ایک کہاں سے نمودار ہو گئی۔۔۔۔اور اس وقت ٹیرس پر کیا کرنے آئی ہے؟

موذیل نے ایک اور انگڑائی لی۔۔۔۔۔۔۔اب ترلوچن کی ہڈیاں چٹخنے لگیں۔

ڈھیلے ڈھالے کرتے میں اس کی مضبوط چھاتیاں دھڑکیں۔۔۔۔۔۔۔ترلوچن کی آنکھوں کے سامنے کئ گول گول اور چپٹے چپٹے نیل ابھر آئے، وہ زور سے کھانسا، موذیل نے پلٹ کر اس کی طرف دیکھا، اس کا رد عمل بالکل خفیف تھا، کھڑاؤں گھسٹتی وہ اس کے پاس آئی اور اس کی ننھی منی داڑھی دیکھنے لگی، تم پھر سکھ بن گئے تر لو چ؟

داڑھی کے بال ترلوچن کو چبھنے لگے۔

موذیل نے آگے بڑھ کر اس کی ٹھوڑی کے ساتھ اپنے ہاتھ کی پشت رگڑی اور مسکرا کر کہا، اب یہ برش اس قابل ہے کہ میری نیوی بلو اسکرٹ صاف کر سکے۔۔۔مگر وہ تو وہیں دیولالی میں رہ گئی ہے۔

ترلوچ خاموش رہا۔

موذیل نے اس کے بازو کی چٹکی لی بولتے کیوں نہیں سردار صاحب؟

ترلوچن اپنی پچھلی بے وقوفیوں کا اعادہ نہیں کرنا چاہتا تھا، تاہم اس نے صبح کے ہلکے اندھیرے میں موذیل کے چہرے کو غور سے دیکھا۔۔۔۔کوئی خاص تبدیلی واقع نہیں ہوئی تھی، ایک طرح وہ پہلے سے کچھ کمزور نظر آتی تھی، ترلوچن نے اس سے پوچھا، بیمار رہی ہو؟

نہیں موذیل نے اپنے تراشے ہوئے بالوں کو ایک خفیف سا جھٹکا دیا۔

پہلے سے کمزور دکھائی دیتی ہو؟

میں ڈائیٹنگ کر رہی ہوں، موذیل پانی کے موٹے نل پر بیٹھ گئی اور کھڑاؤں فرش کے ساتھ بجانے لگی، تم گویا کہ۔۔۔۔اب پھر۔۔۔نئے سرے سے سکھ بن رہے ہو۔

ترلوچن نے کسی قدر ڈھٹائی کے ساتھ کہا، ہاں۔

مبارک ہو موذیل نے ایک کھڑاؤں پیر سے اتار لی اور پانی کے تل پر بجانے لگی کسی اور لڑکی سے محبت کرنی شروع کر دی۔

ترلوچن نے آسہتہ سے کہا، ہاں۔

مبارک ہو۔۔۔۔اسی بلڈنگ کی ہے کوئی؟

نہیں۔

یہ بہت بری بات ہے، موذیل کھڑاؤں اپنی انگلیوں میں اڑس کر اٹھی، ہمیشہ آدمی کو اپنے ہمسایوں کا خیال رکھنا چاہئیے۔

ترلوچن خاموش رہا، موذیل نے بڑھ کر اس کی داڑھی کو اپنی پانچوں انگلیوں سے چیرا، کیا اس لڑکی نے تم کو بال بڑھانے کا مشورہ دیا ہے۔

نہیں۔

ترلوچن بڑی الجھن محسوس کر رہا تھا، کنگھا کرتے کرتے اس کی داڑھی کے بال آپس میں الجھ گئے ہیں، جب اس نے نہیں کہا تو اس کے لہجے میں تیکھا پن تھا۔

موذیل کے ہونٹوں پر لپ اسٹک باسی گوشت کی طرح معلوم ہوتی تھی، وہ مسکرائی تو ترلوچن نے ایسا محسوس کیا کہ اس کہ گاؤں میں جھٹکے کی دکان پر قصائی نے چھری سے موٹی رگ کے گوشت کے دو ٹکڑے کر دئیے۔ مسکرانے کے بعد وہ ہنسی، تم اب یہ داڑھی منڈا ڈالو تو کسی کی بھی قسم لے لو، میں تم سے شادی کر لوں گی۔ ترلوچن کے جی میں آیا کہ اس سے کہے کہ وہ ایک بڑی شریف، با عصمت اور پاک طینت کنواری لڑکی سے محبت کر رہا ہے، اور اسی سے شادی کرے گا۔۔۔۔۔موذیل اس کے مقابلے میں فاحشہ ہے، بد صورت ہے، بے وقوف ہے، بے مروت ہے، مگر وہ اس قسم کا گھٹیا آدمی نہیں تھا، اس نے موذیل سے صرف اتنا کہا، موذیل میں اپنی شادی کا فیصلہ کر چکا ہوں، میرے گاؤں کی ایک سیدھی سادی لڑکی ہے۔۔۔۔۔۔جو مذہب کی پابند ہے، اسی لئے میں نے بال بڑھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

موذیل سوچ بچار کی عادی نہیں تھی، لیکن اس نے کچھ دیر سوچا اور کھڑاؤں پر نصف دائرے میں گھوم کر ترلوچن سے کہا، وہ مذہب کی پابند ہے تو تمہیں کیسے قبول کرے گی کیا اسے معلوم نہیں کہ تم ایک دفعہ اپنے بال کٹوا چکے ہو؟ اس کو ابھی تک معلوم نہیں۔۔۔۔۔داڑھی میں نے تمہارے دیولالی جانے کے بعد ہی بڑھانی شروع کر دی تھی۔۔۔۔۔محض انتقامی طور پر۔۔۔۔۔۔اس کے بعد میری کرپال کور سے ملاقات ہوئی مگر میں پگڑی اس طریقے سے باندھتا ھوں کہ سو میں سے ایک ہی آدمی مشکل سے جان سکتا ہے کہ میرے کیس کٹے ہوئے ہیں۔ مگر اب یہ بہت جلد ٹھیک ہو جائیں گے، ترلوچن نے اپنے لمبے ملائم بالوں میں انگلیوں سے کنگھی کرنا شروع کر دی۔

موذیل نے لمبا کرتا اٹھا کر اپنی گوری گوری دبیز ران کھجانی شرو ع کر دی، یہ بہت اچھا ہے۔۔۔۔مگر یہ کمبخت مچھر یہاں بھی موجود ہیں۔۔۔۔دیکھا کس زور سے کاٹا ہے۔ ترلوچن نے دوسری طرف دیکھنا شروع کر دیا، موذیل نے اس جگہ جہاں مچھر نے کاٹا تھا انگلی سے لب لگائی اور کرتہ چھوڑ کر سیدھی کھڑی ہو گئی، کب ہو رہی ہے تمہاری شادی؟ ابھی کچھ نہیں یہ کہہ کر تو لو چن سخت متفکر ہو گیا۔

چند لمحات کی خاموشی رہی، اس کے بعد موذیل نے اس کے تفکر کا اندازہ لگا کر اس سے بڑے سنجیدہ انداز میں پوچھا،ترلوچن۔۔۔۔تم کیا سوچ رہے ہو؟ ترلوچن کو اس وقت کسی ہمدرد کی ضرورت تھی، خواہ وہ موذیل ہی کیوں نہ ہو، چنانچہ اس نے اس کو سارا ماجرا سنادیا، موذیل ہنسی، تم اول نمبر کے ایڈیٹ ہو۔۔۔۔جاؤ اس کو لے آؤ، ایسی کیا مشکل ہے۔ مشکل۔۔۔۔موذیل تم اس معاملے کی نزاکت کو کبھی نہیں سمجھ سکتیں۔۔۔۔کسی بھی معاملے کی نزاکت۔۔۔۔۔۔تم ایک لا ابالی قسم کی لڑکی ہو۔۔۔۔یہی وجہ ہے کہ تمہارے اور میرے تعلقات قائم نہیں رہ سکے،جس کا مجھے ساری عمر افسوس رہے گا۔

موذیل نے زور سے اپنی کھڑاؤں پانی کے نل کے ساتھ ماری، افسوس ایڈیٹ۔۔۔تم سے سوچو کہ تمہاری اس۔۔۔۔کیا نام ہے اس کا۔۔۔۔اس حملے سے بچا کر لانا کیسے ہے۔۔۔تم بیٹھ گئے ہو تعلقات کا رونا رونے۔۔۔۔تمہارے میرے تعلقات قائم نہیں رہ سکے۔۔۔۔۔تم ایک سلی قسم کے آدمی ہو۔۔۔۔اور بہت ڈرپوک، مجھے نڈر مرد چاہئیے۔۔۔۔۔لیکن چھوڑ ان باتوں کو۔۔۔۔۔چلو آؤ تمہاری اس کور کو لے آئیں۔

اس نے ترلوچن کا بازو پکڑ لیا۔۔۔۔۔۔ترلوچن نے گھبراہٹ میں اس سے پوچھا کہاں سے؟

وہیں سے جہاں وہ ہے۔۔۔۔۔میں اس محلے کی ایک ایک اینٹ کو جانتی ہوں، چلو آؤ میرے ساتھ۔

سنو تو۔۔۔کر فیو ہے۔

موذیل کیلئے نہیں۔۔۔۔چلو آؤ۔

وہ ترلوچن کو بازوسے پکڑ کر کھینچتی اس دروازے تک لے گئی ہے جو نیچے سیڑھیوں کی طرف کھلتا تھا،دروازہ کھول کر وہ اتر نے والی تھی کہ رک گئی اور ترلوچن کی داڑھی کی طرف دیکھنے لگی۔

ترلوچن نے پوچھا کیا بات ہے؟

موذیل نے کہا یہ تمہاری داڑھی۔۔۔۔۔لیکن خیر ٹھیک ہے، اتنی بڑی نہیں ہے۔۔۔۔۔ ننگے سر چلو تو کوئی نہیں سمجھے گا کہ تم سکھ ہو۔

موذیل نے بڑے معصوم انداز میں پوچھا،کیوں؟

ترلوچن نے اپنے بالوں کی ایک لٹ ٹھیک کی، تم سمجھتی نہیں ہو، میرا وہاں پگڑی کے بغیر جانا ٹھیک نہیں ہے۔

کیوں ٹھیک نہیں ہے۔

تم سمجھتی کیوں نہیں ہو کہ اس نے مجھے ابھی تک ننگے سر نہیں دیکھا۔۔۔۔وہ یہی سمجھتی ہے کہ میرے کیس ہیں، میں اس پر یہ راز افشاں نہیں کرنا چاہتا۔

موذیل نے زور سے اپنی کھڑاؤں دروازے کی دہلیز پر ماری، تم واقعی اول درجے کے ایڈیٹ ہو۔۔۔۔۔گدھے کہیں کے۔۔۔۔۔اس کی جان کا سوال ہے۔۔۔۔۔کیا نام ہے۔۔۔۔ تمہاری اس کور کا، جس سے تم محبت کرتے ہو۔

ترلوچن نے اسے سمجھانے کی کوشش کی، موذیل وہ بڑی مذہبی قسم کی لڑکی ہے۔۔۔۔۔۔اگر اس نے مجھے ننگے سر دیکھ لیا تو مجھ سے نفرت کرنے لگے گی۔ موذیل چڑھ گئی، اوہ تمہاری محبت۔۔۔۔میں پوچھتی ہوں کیا سارے سکھ تمہاری طرح کے بیوقوف ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔اس کی جان کا خطرہ ہے اور تم کہتے ہو کہ پگڑی ضرور پہنو گے۔۔۔۔اور شاید وہ اپنا انڈروئیر بھی جو نیکر سے ملتا جلتا ہے۔ ترلوچن نے کہا وہ تو میں ہر وقت پہنتا ہوں۔

بہت اچھا ہے کرتے ہو۔۔۔مگر اب تم یہ سوچو کہ معاملہ اس محلے کا ہے جہاں میاں بھائی رہتے ہیں، اور وہ بھی بڑے بڑے داد اور بڑے بڑے موالی۔۔۔تم پگڑی پہن کر گئے تو وہیں ذبح کر دئیے جاؤ گے۔ ترلوچن نے مختصر سا جواب دیا، مجھے اس کی پرواہ نہیں۔۔۔۔اگر میں تمہارے ساتھ وہاں جاؤں گا تو پگڑی پہن کر جاؤں گا۔۔۔۔میں اپنی محبت خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتا۔

موذیل جھنجلا گئی، اسی روز سے اس نے پیچ و تاب کھائے کہ اس کی چھاتیاں آپس میں بھڑ بھڑ گئیں، گدھے۔۔۔۔۔تمہاری محبت ہی کہاں رہے گی، جب تم نہ رہو گے۔۔۔۔تمہاری وہ۔۔۔کیا نام ہے اس بھڑوی کا۔۔۔۔جب وہ بھی نہ رہے گی، اس کا خاندان تک نہ رہے گا۔۔۔تم سکھ ہو۔۔۔۔خدا کی قسم تم سکھ ہو اور بڑے ایڈیٹ سکھ ہو۔ ترلوچن بھنا گیابکواس نہ کرو۔

موذیل زور سے ہنسی، مہین مہین بالوں کے غبار سے اٹی ہوئی بانہیں اس نے ترلوچن کے گلے میں ڈال دیں اور تھوڑا سا جھول کر کہا، ڈارلنگ چلو، جیسے تمہاری مرضی۔۔۔۔جاؤ پگڑی پہن آؤ، میں نیچے بازار میں کھڑی ہوں۔ یہ کہہ کر وہ نیچے جانے لگی ترلوچن نے اسے روکا تم کپڑے نہیں پہنو گی، موذیل نے اپنے سر کو جھکا کر کہا، نہیں۔۔۔۔۔چلے گا اسی طرح۔

یہ کہہ کر وہ کھٹ کھٹ کرتی نیچے اتر گئی، ترلوچن نچلی منزل کی سیڑھیوں پر بھیاس کی کھڑاؤں کی چوبی آواز سنتا رہا، پھر اس نے اپنے لمبے لمبے بال انگلیوں سے پیچھے کی طرف سمیٹے اور نیچے اتر کر اپنے فلیٹ میں چلا گیا، جلدی جلدی اس نے کپڑے تبدیل کئے پگڑی بندھی بندھائی رکھی تھی، اسے اچھی طرح سر پر جمایا اور فلیٹ کا دروازہ مقفل کر کے نیچے اتر گیا۔باہر فٹ پاتھ پر موذیل اپنی تگڑی ٹانگیں چوڑی کئے سگریٹ پی رہی تھی، بالکل مردانہ انداز میں جب ترلوچن اس کے نزدیک پہنچا تو اس نے شرارت کے طور پر منہ بھر کے دھواں اس کے چہرے پر دے مارا، ترلوچن نے غصے میں کہا تم بہت ذلیل ہو۔

موذیل مسکرائی، یہ تم نے کوئی نئی بات نہیں کی۔۔۔۔۔اس سے پہلے اور کئ مجھے ذلیل کہہ چکے ہیں، پھر اس نے ترلوچن کی پگڑی کی طرف دیکھا یہ پگڑی تم نے واقعی بہت اچھی طرح باندھی ہے۔۔۔۔۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ تمہارے کیس ہیں۔

بازار بالکل سنسان تھا۔۔۔۔ایک طرف ہوا چل رہی ہو، اور وہ بھی دھیرے دھیرے جیسے کرفیو سے خوفزدہ ہے، بتیاں روشن تھیں، مگر ان کی روشنی بیمار سی معلوم ہوتی تھی، عام طور پر اس وقت ٹریمیں چلنی شروع ہو جاتی تھیں، اور لوگوں کی آمد و رفت بھی جاری ہو جاتی تھی، اچھی خاصی گہما گہمی ہوتی تھی، پر اب ایسا معلوم ہوتا تھا کہ سڑک پر کوئی انسان گزرا ہے نہ گزرے گا۔

موذیل آگے آگے تھی، فٹ پاتھ کے پتھروں پر اس کی کھڑاؤں کھٹ کھٹ کر رہی تھیں، یہ آواز، اس خاموش فضا میں ایک بہت بڑا شور تھی ترلوچن دل ہی دل میں موذیل کو برا بھلا کہہ رہا تھا، کہ دو منٹ میں اور کچھ نہیں تو اپنی واہیات کھڑاؤں چھوڑ کر کوئی اور دوسری چیز پہن سکتی تھی، اس نے سوچا کہ موذیل سے کہے، کھڑاؤں اتار دو اور ننگے پاؤں چلو، مگر اس کو یقین تھا کہ وہ کبھی نہیں مانے گی، اس لئے خاموش رہا۔

ترلوچن سخت خوفزدہ تھا، کوئی پتا کھڑکتا تو اس کا دل دھک سے رہ جاتا تھا، مگر موذیل بالکل بے خوف چلی جا رہی تھی، سگریٹ کا دھواں اڑاتی جسیے وہ بے فکری سے چہل قدمی کر رہی ہے۔

چوک میں پہنچے تو پولیس مین کی آواز گونجی۔۔۔۔۔۔اے کدھر جار ہے ہو۔ ترلوچن سہم گیا، موذیل آگے بڑھی اور پولیس مین کے پاس پہنچ گئ اور بالوں کو ایک خفیف جھٹکا دیا اور کہا کہ وہ تم۔۔۔۔ہم کو پہچانا نہیں۔ موذیل۔۔۔۔۔پھر اس نے ایک گلی کی طرف اشارہ کیا، ادھر اس باجو۔۔۔۔۔ہمارا بہن رہتا ہے، اس کی طبعیت خراب ہے۔۔۔۔۔ڈاکٹر لے کر جا رہا ہے۔ سپاہی اسے پہچاننے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس نے خدا معلوم کہاں سے سگریٹ کی ڈبیہ نکالی اور ایک سگریٹ نکال کر اس کو دیا۔ لو پیو۔سپاہی نے سگریٹ لے لیا، موذیل نے اپنے منہ سے سلگا ہوا سگریٹ نکالا اور اس سے کہا، ہئیر از لائٹ۔

سپاہی نے سگریٹ کا کش لیا، موذیل نے داہنی آنکھ اس کو اور بائیں آنکھ ترلوچن کو ماری اور کھٹ کھٹ کرتی اس گلی کی طرف چل دی۔۔۔جس میں سے گزر کر انہیں۔۔۔۔محلے جانا تھا۔

ترلوچن خاموش تھا، مگر وہ محسوس کر رہا تھا، کہ موذیل کرفیو کی خلاف ورزی کر کے عجیب و غریب قسم کی مسرت محسوس ہو رہی تھی، خطروں سے کھیلنا اسے پسند تھا، وہ جب جو ہو پر اس کے ساتھ جاتی تھی، تو اس کے لئے مصیبت بن جاتی ہے، سمندر کی پیل تن لہروں سے ٹکراتی، بھڑتی وہ دور تک نکل جاتی تھی اور اس کو ہمیشہ اس بات کا دھڑکا رہتا تھا کہ کہیں وہ ڈوب نہ جائے، جب واپس آتی تو اس کا جسم نیلوں اور زخموں سے بھرا ہوتا تھا مگر اسے ان کی کوئی پروہ نہیں ہوتی تھی۔

موذیل آگے آگے تھی ترلوچن اس کے پیچھے پیچھے، ڈر ڈر کے ادھر ادھر دیکھتا رہتا تھا کہ اس کی بغل میں سے کوئی چھری مار نمودار نہ ہو جائے، موذیل رک گئی جب ترلوچن پاس آیا تو اس نے سمجھانے کے انداز میں اس سے کہا ترلوچ ڈئیر۔۔۔۔۔اس طرح ڈرنا اچھا نہیں۔۔۔۔تم ڈرو گے تو ضرور کچھ نہ کچھ ہو کے رہے گا۔۔۔۔۔۔۔سچ کہتی ہو، یہ میری آزمائی ہوئی بات ہے۔

ترلوچن خاموش رہا۔

جب وہ گلی طے کر کے دوسری گلی میں پہنچے جو اس محلے کی طرف نکلتی تھی جس میں کرپال کور رہتی تھی۔۔۔۔۔تو موذیل چلتے چلتے ایک دم رک گئی، کچھ فاصلے پر بڑے اطمینان سے ایک مارواڑی کی دکان لوٹی جا رہی تھی، ایک لحظے کیلئے اس نے اس معاملے کا جائزہ لیا اور ترلوچن سے کہا، کوئی بات نہیں۔۔۔۔چلو آؤ۔

دونوں چلنے لگے۔۔۔۔۔ایک آدمی جو سر پر بہت بڑی پرات اٹھائے چلا آ رہا تھام ترلوچن سے ٹکرا گیا، اس آدمی نے غور سے ترلوچن کی طرف دیکھا، صاف معلوم ہوتا تھا، کہ وہ سکھ ہے، اس آدمی نے جلدی سے اپنے نیفے میں ہاتھ ڈالا، کہ موذیل آ گئی، لڑکھڑاتی ہوئی جیسے نشے میں چور ہے، اس نے زورسے اس آدمی کو دھکا دیا اور مخمور لہجے میں کہا، اے کیا کرتا ہے۔۔۔۔۔ اپنے بھائی کو مارتا ہے۔۔۔۔۔۔ہم اس سے شادی بنانے کو مانگتا ہے۔۔۔۔۔پھر وہ تر لو چن سے مخاطب ہوئی کریم۔۔اٹھاؤ، پرات اور رکھ دو اس کے سر پر۔

اس آدمی نے نے نیفے سے ہاتھ نکال لیا اور شہوانی آنکھوں سے موذیل کی طرف دیکھا، پھر آگے بڑھ کر اپنی کہنی سے اس کی چھاتیوں میں ایک ٹہوکا دیا عیش کر سالی۔۔۔۔۔عیش کر پھر اس نے پرات اٹھایا اور یہ جا وہ جا۔

تر لو چن بڑبڑایا کیسی ذلیل حرکت ہے، حرامزادے کی۔

موذیل نے اپنی چھاتیوں پر ہاتھ پھیرا کوئی ذلیل حرکت نہیں۔۔۔۔سب چلتا ہے۔۔۔۔آؤ۔

اور تیز تیز چلنے لگی۔۔۔۔ترلوچن نے بھی قدم تیز کر دئیے۔

یہ گلی طے کرنے کے بعد دونوں اس محلے میں پہنچ گئے، جہاں کرپال کور رہتی تھی، موذیل نے پوچھا کس گلی میں جانا ہے؟

تر لو چن نے آہستہ سے کہا، تیسری گلی میں۔۔۔۔نکڑ والی بلڈنگ۔

موذیل نے اس طرف چلنا شروع کر دیا، یہ راستہ بالکل خاموش تھا، آس پاس اتنی گنجان آبادی تھی مگر کسی بچے کی رونے کی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔

جب وہ اس گلی کے قریب پہنچے تو کچھ گڑ بڑ دکھائی دی۔۔۔۔ایک آدمی بڑی تیزی سے اس کنارے والی بلڈنگ سے نکلا اور دوسرے کنارے والی بلڈنگ میں گھس گیا، اس بلڈنگ سے تھوڑی دیر بعد تین آدمی نکلے، فٹ پاتھ پر انہوں نے ادھر ادھر دیکھا اور بڑی پھرتی سے دوسری بلڈنگ میں چلے گئے، موذیل ٹھٹک گئی، اس نے ترلوچن کو اشارہ کیا کہ اندھیرے میں ہو جائے، پھر اس نے ہولے سے کہا ترلوچن ڈئیر۔۔۔۔یہ پگڑی اتار دو۔

ترلوچن نے جواب دیا میں یہ کسی صورت بھی نہیں اتارسکتا۔

موذیل جھنجلا گئی، تمہاری مرضی۔۔۔لیکن تم دیکھتے نہیں سامنے کیا ہو رہا ہے۔۔۔۔۔۔ سامنے جو کچھ ہو رہا ہے تھا دونوں کی آنکھوں کے سامنے تھا۔۔۔۔۔صاف گڑ بڑ ہو رہی تھی اور بڑی پراسرار قسم کی، دائیں ہاتھ کی بلڈنگ سے جب دو آدمی پیٹھ پر بوریاں اٹھائے نکلے ہیں۔

بوریاں اٹھائے نکلے تو موذیل ساری کی ساری کانپ گئی، ان میں سے کچھ گاڑھی گاڑھی سیال سی چیز ٹپک رہی تھی، موذیل اپنے ہونٹ کاٹنے لگی غالباً وہ سوچ رہی تھی، جب یہ دونوں آدمی گلی کے دوسرے سرے پر پہنچ کر غائب ہو گئے، تو اس نے ترلوچن سے کہا۔

دیکھو ایسا کرو۔۔۔۔۔میں بھاگ کر نکڑ والی بلڈنگ میں جاتی ہوں۔۔۔۔تم میرے پیچھے آنا۔۔۔۔۔بڑی تیزی سے جیسے تم میرا پیچھا کر رہے ہو۔۔۔سمجھے۔۔۔مگر یہ اب ایک دم جلدی جلدی میں ہو۔

موذیل نے ترلوچن کے جواب کا انتظار کیا اور نکڑ والی بلڈنگ کی طرف کھڑاؤں کھٹکھٹاتی بڑی تیزی سے بھاگی،ترلوچن بھی اس کے پیچھے دوڑا، چند لمحوں میں وہ بلڈنگ کے اندر تھے۔۔۔۔۔ سیڑھیوں کے پاس۔۔۔ ترلوچن ہانپ رہا تھا، مگر موذیل بالکل ٹھیک ٹھاک تھی، اس نے ترلوچن سے پوچھا کون سا مالا؟

ترلوچن نے اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری، دوسرا۔

چلو۔

یہ کہہ کر کھٹ کھٹ سیڑھیاں چڑھنے لگی، تو تر لو چن اس کے پیچھے ہولیا، زینوں پر خون کے بڑے بڑے دھبے پڑے تھے، ان کو دیکھ دیکھ کر اس کا خون خشک ہو رہا تھا۔ دوسرے مالے پر پہنچے تو کوری ڈور میں کچھ دور جا کر ترلوچن نے ہولے سے ایک دروازے پر دستک دی، موذیل دو سیڑھیوں کے پاس کھڑی رہی۔

ترلوچن نے ایک بار پھر دستک دی اور دروازے کے ساتھ منہ لگا کر آواز دی۔

مہنگا سنگھ جی۔۔۔۔۔۔مہنگا سنگھ جی؟

اندر سے مہین آواز آئی۔کون؟

ترلوچن

دروازہ دھیرے سے کھلا۔۔۔۔ترلوچن نے موذیل کو اشارہ کیا، وہ لپک کر آئی دونوں اندر داخل ہوئے۔۔۔۔موذیل نے اپنی بغل میں ایک پتلی لڑکی کو دیکھا۔۔۔۔جو بے حد سہمی ہوئی تھی، موذیل نے اس کو ایک لحظے کیلئے غور سے دیکھا، پتلے پتلے نقش تھے، ناک بہت ہی پیاری تھی مگر زکام میں مبتلا، موذیل نے اس کو اپنے چوڑے چکلے سینے کے ساتھ لگا لیا اور اپنے ڈھیلے ڈھالے کرتے کا دامن اٹھا کر اس کی ناک پونچھی۔

ترلوچن سرخ ہو گیا۔

موذیل نے کرپال کور سے بڑے پیار کے ساتھ کہا، ڈرو نہیں ترلوچن تمہیں لینے آیا ہے۔

کرپال کور نے ترلوچن کی طرف اپنی سہمی ہوئی آنکھوں سے دیکھا اور موذیل سے الگ ہوئی۔

ترلوچن نے اس سے کہا سردار صاحب سے کہو کہ جلدی تیار ہو جائیں۔۔۔۔اور ماتا جی سے بھی۔۔۔۔لیکن جلدی۔

اتنے میں اوپر کی منزل پر بلدن آوازیں آنے گلیں جیسے کوئی چیخ رہا ہو اور دھینگا مشتی ہو رہی ہو۔

کرپال کور کے حلق سے دبی دبی چیخ نکلی، اسے پکڑ لیا انہوں نے۔

ترلوچن نے پوچھا کسے؟

کرپال کور نے جواب دینے والی تھی کہ موذیل نے اس کو بازو سے پکڑا اور گھسیٹ کر ایک کونے میں لے گئی، پکڑ لیا تو اچھا ہوا۔۔۔۔۔۔تم یہ کپڑے اتارو۔

کرپال کور کو ابھی سوچنے بھی نہ پائی تھی کہ موذیل نے آنا فانا اس کی قمیض اتار کر ایک طرف رکھ دی، کرپال کور نے اپنی بانہوں میں اپنے ننگے جسم کو چھپا لیا اور وحشت زدہ ہو گئی، ترلوچن نے منہ دوسری طرف موڑ لیا، موزیل نے اپنا ڈھیلا ڈھالا کرتہ اتار اور اس کو پہنا دیا، خود وہ ننگ دھڑنگ تھی، جلدی جلدی اس نے کرپال کور کا آزار بند ڈھیلا کی اور اس کی شلوار اتار کر، ترلوچن سے کہنے لگی، جاؤ اسے لے جاؤ،لیکن ٹھہرو۔

یہ کہہ کر اس نے کرپال کور کے بال کھول دئیے، اس سے کہا جاؤ۔۔جلدی۔۔نکل جاؤ۔۔ ترلوچن نے اس سے کہا آؤ مگر فورا ہی رک گیا، پلٹ کر اس نے موذیل کی طرف دیکھا جو دھوئے دیدے کی طرح ننگی کھڑی تھی اس کی بانہوں پر مہین مہین بال سردی کے باعث جاگے ہوئے تھے۔

تم جاتے کیوں نہیں ہو؟ موذیل کے لہجے میں چڑا چڑا پن تھا۔

ترلوچن نے آہستہ سے کہا، اس کے ماں باپ بھی تو ہیں۔

جہنم میں جائیں وہ۔۔۔۔۔تم اسے لے جاؤ۔

اور تم۔

میں آ جاؤں گی۔

ایک دم اوپر کی منزل سے کئی آدمی دھڑا دھڑا دھڑ نیچے اترنے لگے، دروازے کے پاس آ کر انہوں نے کوٹنا شروع کر دیا، جیسے وہ اسے توڑ ہی ڈالیں گے۔

کرپال کور کی اندھی ماں اور مفلوج باپ دوسرے کمرے میں پڑے کراھ رہے ہیں۔

کرپال کور نے سوچااور بالوں کو خفیف جھٹکا دیا اور اس نے ترلوچن سے کہا سنو اب صرف ایک ہی ترکیب سمجھ میں آتی ہے۔۔۔میں دروازہ کھولتی ہو۔۔۔۔

کرپال کور کے خشک حلق سے چیخ نکلتی دب گئی، دروازہ۔

موذیل ترلوچن سے مخاطب رہی میں دروازہ کھول کر باہر نکلتی ہوں۔۔۔تم میرے پیچھے بھاگنا۔۔۔۔میں اوپر چڑھ جاؤ گی۔۔۔تم بھی اوپر چلے جانا۔۔۔۔یہ لوگ دروازہ توڑ رہے ہیں، سب کچھ بھول جائیں گے اور ہمارے پیچھے چلے آئیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترلوچن نے پوچھا پھر؟

موذیل نے کہا یہ تمہاری۔۔۔۔کیا نام ہے اس کا۔۔۔۔۔۔موقع پا کر نکل جائے۔۔۔اس لباس میں اسے کچھ نہ کہے گا۔

ترلوچن نے جلدی جلدی کرپال کور کو سار بات سمجھا دی، موذیل زور سے چلائی دروازہ کھولا اور دھڑام سے باہر کے لوگوں پر گری، سب بوکھلا گئے اٹھ کر اس نے اوپر کی سیڑھیوں کا رخ کیا، ترلوچن اس کے پیچھے بھاگا سب ایک طرف ہٹ گئے۔

موذیل اندھا دھند سیڑھیاں چڑھ رہی تھیں۔۔۔۔۔۔۔کھڑاؤں اس کے پیروں میں تھی۔۔۔۔۔۔وہ لوگ جو دروازے کو توڑنے کی کوشش کر رہے تھے، سنبھل کر ان کے تعاقب میں دوڑے، موذیل کا پاؤ ں پھسلا۔۔۔۔۔۔۔اوپر کے زینے سے وہ کچھ اس طرح لڑھکی کہ ہر پتھریلے زینے کے ساتھ ٹکراتی لوہے کے جنگلے کے ساتھ الجھتی وہ نیچے آ رہی۔۔۔۔۔۔ پتھریلے فرش پر۔

ترلوچن ایک دم نیچے اترا، جھک کر اس نے دیکھا تو اس کی ناک سے خون بہہ رہا تھا، منہ سے خون بہہ رہا تھا، کانوں کے رستے بھی خون نکل رہا تھا، وہ جو دروازہ توڑنے آئے تھے، ارد گرد جمع ہو گئے۔۔۔۔۔کسی نے بھی نہ پوچھا کیا ہوا ہے، سب خاموش تھے اور موذیل کے ننگے اور گورے جسم کو دیکھ رہے تھے، جس پر جا بجا خراشیں پڑی تھیں۔

ترلوچن نے اس کا بازو ہلایا اور آواز دی، موذیل۔۔۔۔موذیل۔

موذیل نے اپنی بڑی بڑی یہودی آنکھیں کھولیں، جو لال بہوٹی ہو رہی تھیں اور مسکرائی۔ ترلوچن نے اپنی پگڑی اتار اور کھول کر اس کا ننگا جسم ڈھک دیا،موذیل پھر مسکرائی اور آنکھ مارکر اس نے ترلوچن سے منہ میں خون کے بلبلے اڑاتے ہوئے کہا کہ جاؤ دیکھو، میرا انڈر وئیر وہاں ہے کہ نہیں۔۔۔۔۔۔میرا مطلب ہے وہ۔۔۔۔۔۔۔

ترلوچن اس کا مطلب سمجھ گیا مگر اس نے اٹھانا نہ چاہا، اس پر موذیل نے غصے میں کہا۔۔۔۔۔۔تم سچ مچ سکھ ہو۔۔۔۔۔۔جاؤ دیکھ کر آؤ۔

ترلوچن اٹھ کر کرپال کور کے فلیٹ کی طرف چلا گیا، موذیل نے اپنی دھندلی آنکھوں سے آس پاس کھڑے مردوں کی طرف دیکھا اور کہا یہ میاں بھائی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن بہت دادا قسم کا۔۔۔۔میں اسے سکھ کہا کرتی ہوں۔

ترلوچن واپس آگیا، اس نے آنکھوں ہی آنکھوں میں موذیل کو بتا دیا کہ کرپال کور جاچکی ہے۔۔۔۔۔۔موذیل نے اطمینان کا سانس لیا۔۔۔۔۔۔لیکن ایسا کرنے سے بہت سا خون اس کے منہ سے بہہ نکلا۔۔۔۔اوہ ڈیم اٹ۔۔۔۔۔یہ کہہ کر اس نے اپنی مہین مہین بالوں سے اٹی ہوئی کلائی سے اپنا منہ پونچھا اور ترلوچن سے مخاطب ہوئی، آل رائٹ ڈارلنگ۔۔۔۔۔بائی بائی۔

ترلوچن نے کچھ کہنا چاہا، مگر لفظ اس کے حلق میں اٹک گئے۔

موذیل نے اپنے بدن سے ترلوچن کی پگڑی ہٹا لی۔لے جاؤ اس کو۔۔۔۔۔۔اپنے اس مذہب کو، اور اس کا بازو اس کی مضبوط چھاتیوں پر بے حس ہو کر گر پڑا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: