Hajj E Akbar Afsane By Saadat Hasan Manto – Episode 2

0
حجِ اکبر از سعادت حسن منٹو | حصہ دوئم

–**–**–

حجِ اکبر

امتیاز صغیر کی شادی ہوئی تو شہر بھر میں دھوم مچ گئی، آتش بازیوں کا رواج باقی نہیں رہا تھا مگر دولہے کے باپ نے اس پرانی عیاشی پر بے دریغ روپیہ صرف کیا، جب صغیر زیوروں سے لدے پھندے سفید براق گھوڑے پر سوار تھا تو اس کے چاروں طرف انار چھوٹ رہے تھے، مہتابیاں اپنے رنگ برنگ شعلے بکھیر رہی تھیں، پٹاخے چھوٹ رہے تھے، صغیر خوش تھا۔

صغیر نے امتیاز کو ایک شادی کی تقریب میں دیکھا تھا، اس کی جھلک اسے دکھائی دی تھی، مگر وہ اس پر سو جان سے فریضہ ہو گیا، اور اس نے دل میں عہد کر لیا کہ وہ اس کے علاوہ کسی کو اپنی رفیقہ حیات نہیں بنائے گا، چاہے دنیا ادھر کی ادھر نہ ہو جائے، دنیا ادھر کی ادھر نہ ہوئی، صغیر نے امتیاز کے راستے ڈھونڈ لئے شروع شروع میں اس خوبرو لڑکی کے حجاب آڑے آیا، لیکن بعد میں صغیر کو اس کا التفات حاصل ہو گیا۔ صغیر بہت مخلص دل کا نوجوان تھا، اس میں ریا کاری نام کو بھی تھی، اس کو امتیاز سے محبت ہو گئی تو اس نے یہ سمجھا کہ اسے اپنی زندگی کا اصل مقصد حاصل ہو گیا، اس کو اس بات کی کوئی فکر نہیں تھی کہ امتیاز اسے قبول کرے گی یا نہیں وہ اس قسم کا آدمی تھا کہا اپنی محبت کے جذبے کے سہارے ساری زندگی بسر کر دیتا، اس کو جب امتیاز سے پہلی بار بات کرنے کا موقع ملا تو اس نے گفتگو کی ابتدا ہی ان الفاظ سے کی، دیکھو لالی، میں ایک نا محرم آدمی ہوں، میں نے مجبور کیا ہے تم مجھ سے ملو، اب اس ملاپ کا انجام بھی نیک ہونا چاہئیے، یہ میرے ضمیر اور دل کی اکھٹی آواز ہے، تم بھی وعدہ کرو کہ جب تک میں زندہ ہو مجھے کوئی آزا نہیں پہنچاؤں گی اور میری موت کے بعد بھی مجھے یاد کرتی رہو گی، اس لئے کہ قبر میں بھی میری سوکھی ہڈیاں تمہارے پیار کی بھوکی ہوں گی۔

امتیاز نے دھڑکتے ہوئے دل سے وعدہ کیا کہ وہ اس عہد پر قائم رہے گی، اس کے بعد ان دونوں میں چھپ چھپ کے ملاقاتیں رہیں، صغیر مطمئن تھا کہ امتیاز اس کی محبت کی دعوت قبول کر چکی ہے، اس لئے اب اور زیادہ گفتگو کرنے کی ضرورت تھی، ویسے وہ بھی اپنی محبوبہ سے ملنا اس لئے ضروری سمجھتا تھا کہ وہ اس کے عادات و خصائل سے واقف ہو جائے اور وہ بھی اس کو اچھی جان پہچان لے تاکہ وہ اس خصلت کا اندازہ کر سکے اور اس کو شکایت کا کوئی موقع نہ ملے، اس نے ایک دن امتیاز سے بڑے غیر عاشقانہ انداز میں کہا، نازی میں اب بھی تم سے کہتا ہوں کہ اگر تم نے مجھ میں کوئی خامی دیکھی ہے اگر میں تمہارے معیار پر پورا نہیں اترا تو مجھے سے صاف صاف کہہ دو، تم کسی بندھن میں گرفتار نہیں ہو، تم مجھے دھتکار تو مجھے کوئی شکایت نہیں ہو گی، میری محبت میرے لئے کافی ہے، میں اس کے اور ان ملاقاتوں کے سہارے کافی دیر تک جی سکتا ہوں۔

امتیاز اس سے بہت متاثر ہوئی اس کا جی چاہا کہ صغیر کو اپنے گلے سے لگا کر رونا شروع کر دے مگر وہ اسے نا پسند کرتا تھا، اس لئے اس نے اپنے جذبات اندر ہی مسل ڈالے، وہ چاہتی تھی کہ صغیر اس سے فلسفانہ باتیں نہ کریں، لیکن کبھی کبھی اس طور رپ بھی اس سے پیش آئے، جس طرح فلموں میں ہیرو اپنی ہیروئن سے پیش آتا ہے، مگر صغیر کو ایسی عامیانہ حرکت سے نفرت تھی۔

پہلی رات کو حجلہ عروسی میں جب صغیر داخل ہوا تو امتیاز چھینک مار رہی تھی، وہ بہت متفکر ہوا امتیاز کو بلا شبہ زکام ہو رہا تھا لیکن وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کا خاوند اس معمولی سے عارضے کی طرف متوجہ ہو کر اس کی تمام امنگوں کو فراموش کر دے وہ سرتاپا سپردگی تھی مگر صغیر کو اس بات کی تشویش تھی کہ امتیاز اس کی جان سے زیادہ عزیز ہستی علیل ہے، چنانچہ اس نے فورا ڈاکٹر بلوایا، جو دوائیاں اس نے تجویز کیں بازار سے خرید کر لایا، اور اپنی نئی دلہن کو جس کو ڈاکٹر کی آمد سے کوئی دلچسپی تھی نہ اپنے خاوند کی تیمار داری سے مجبور کیا کہ وہ انجکشن لگوائے اور چار چار گھنٹے کے بعد دار پئے، زکام کچھ شدید قسم کا تھا اس لئے چار دن اور چار راتین صغیر اپنی دلہن کی تیمار داری میں مصروف رہا، امتیاز چڑ گئی، وہ جانے کیا سوچ کر عروسی جورا پہن کر صغیر کے گھر آئی تھی، مگر وہ بے کار، اس کے زکام کو درست کرنے کے پیچھے کے پیچھے پڑا ہوا تھا، جیسے دلہا دلن کیلئے بس ایک یہی چیز اہم ہے باقی اور باتیں سب فضول ہیں۔

تنگ آ کر ایک دن اس نے اپنے ضرورت سے زیادہ شریف شوہر سے کہا، آپ چھوڑئیے میرے معالجے کو، میں اچھی بھلی ہوں، پھر اس نے دعوت بھری نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا میں دلہن ہو آپ کے گھر آئی ہوں، اور آپ نے اسے اسپتال بنا دیا ہے، صغیر نے بڑے پیار سے دلہن کا ہاتھ دبایا اور مسکرا کر کہا، نازی خدا نہ کرے کہ یہ کوئی اسپتال ہو، یہ میرا گھر نہیں تمہارا گھر ہے، اس کے بعد امتیاز کو جو فوری شکایت تھی وہ دور ہو گئی، اور شیر و شکر ہو کر رہنے لگے صغیر اس سے محبت کرتا تھا لیکن اس کو ہمیشہ امتیاز کی صحت اس کے جسم کی خوبصورتیوں اور اس کو ترو تازہ دیکھنے کا خیال رہتا تھا، وہ اسے کانچ کے نازک پھولدان کی طرح سمجھتا تھا، جس کے متعلق ہر وقت یہ خدشہ ہو کہ زرا سی بے احتیاطی سے ٹوٹ جائے گا، امتیاز اور صغیر کا رشتہ دوہرا تھا دو بھائی اصغر حسین اور امجد حسین تھے، کھاتے پیتے تاجر، صغیر بڑے بھائی اصغر حسین کا لڑکا تھا اور امتیاز امجد حسین کی بیٹی تھی، اب یہ دنوں میاں بیوی تھے، شادی سے پہلے دونوں بھائیوں میں کچھ اختلافات تھے جو اب دور ہو گئے۔

امتیاز کی دو بہنیں اور تھیں اور جو اس پر جان چھڑکتی تھیں، امتیاز کا بیاہ تو ہوا ان دونوں کی باری قدرتی طور پر آ گئی، وہ اپنے گھروں میں آبا خوش تھیں، کبھی کبھی امتیاز سے ملنے آتیں، اور صغیر کے اخلق سے متاثر ہوتیں ان کی نظر میں وہ آئیڈیل شوہر ہے۔ دو برس گزر گئے امتیاز کے ہاں کوئی بچہ نہ ہوا دراصل چاہتا تھا کہ اتنی چھوٹی عمر میں وہ اولاد کے بکھیڑوں میں نہ پڑے، ان دنوں کے دن کے ابھی کھیلنے کودنے کے تھے، صغیر ہر روز اسے سینما لے جاتا باغوں کی سری کراتا، نہر کے کنارے کنارے سے اسکے ساتھ ساتھ چہل قدمی کرتا، اس کی ہر آسائش کا خیال تھا، بہترین کھانے، اچھے سے اچھا باورچی اگر امتیاز کبھی باورچی خانے کا رخ کرتی تو وہ اسے کہتا تازی انگیٹھیوں میں پتھر کے کوئے جلتے ہیں، ان کی بو بہت بری ہوتی ہے، اور صحت کیلئے نا مفید، میری جان تم اندر نہ جایا کرو، دو نوکر ہیں، کھانے پکانے کا کام جب تم نے ان کے سپرد کر رکھا ہے تو اس زحمت کی کیا ضرورت ہے، امتیاز مان جاتی۔

سردیون میں صغیر کا بڑا بھائی اکبر جو نیروبی میں ایک عرصہ مقیم تھا اور ڈاکٹر تھا کسی کام کے سلسلے میں کراچی آیا ہوا تھا تو اس نے سوچا کہ چلو لاہور صغیر سے مل آئیں بذریعہ ہوائی جہاز لاہور پہنچا اور اپنے چھوٹے بھائی کے پاس ٹھہرا، وہ صرف چار روز کیلئے آیا کہ ہوائی جہان میں اس کی سیٹ پانچویں دن کی بک تھی، مگر جب اس کی بھابی نے جو اس کی آمد پر خوش ہوئی تھی، اصرار کیا تو چھوٹے بھائی صغیر نے اس سے کہا، بھائی جان آپ اتنی دیر کے بعد آئے ہیں کچھ دن اور ٹھہر جائیے، میری شادی میں آپ شریک ہوئے تھے جتنے آپ فالتو ٹھہریں گے اتنا جرمانہ سمجھ لیجے گا، امتیاز مسکرائی اور اکبر سے مخاطب ہوئی، اس تو آپ کو ٹھہرنا ہی پڑے گا اور پھر مجھے آپ نے شادی پر کوئی تحفہ بھی تو نہیں دیا، میں جب تک وصول نہیں کر لوں گی آپ کیسے جا سکتے ہیں اور آپ کو میں جانے بھی کب دوں گی۔

دوسرے روز اکبر اس کو ساتھ لے گیا اور سچے موتیوں کا ایک ہار لے دیا، صغیر نے اپنے بڑے بھائی کا شکریہ ادا کیا، اس لئے کہ ہار بہت قیمتی تھا کم از کم پانچ ہزار کا ہو گا ہی، اسی دن اکبر نے واپسی نیروبی جانے کا ارادہ ظاہر کیا اور صغیر سے کہا کہ وہ ہوائی جہاز میں اس کے ٹکٹ کا بندوبست کر دے اس لئے کے اس کی لاہور شہر میں کافی واقفیت تھی اکبر نے اس کو روپے دئیے مگر اس نے کو درانہ انداز میں کہا، آپ ابھی اپنے پاس رکھئے میں لے لوں گا، اور ٹکٹ کا بندوبست کرنے چلا گیا، اسے کوئی دقت نہ ہوئی اس لئے کہ ہوائی جہاز سروس کا ایک جنرل مینیجر اس کا دوست تھا اس نے فورا ٹکٹ لے دیا، صغیر کچھ دیر اس کے ساتھ بیٹھا گپ لڑا تا رہا اس کے بعد گھر کا رخ کیا، موٹر گیراج میں بند کر کے وہ اندر داخل ہوا لیکن فورا باہر نکل آیا، گراج سے موٹر نکالی اور اس میں بیٹھ کے جانے کہا روانہ ہو گیا، اکبر اور امتیاز دیر تک اس کا انتظار کرتے رہے مگر وہ نہ آیا انہوں نے موٹر کے آنے اور گیراج میں بند ہونے کی آواز سنی تھی، مگر انہوں نے سوچا کہ شاید ان کے کانوں کو دھوکا ہوا تھا، اس لئے کہ صغیر موجود تھا نہ اس کی موٹر وہ غائب ہو گیا تھا؟ اکبر کو واپس جانا تھا، مگر اس نے ایک ہفتہ انتظار کیا ادھر ادھر کئی جگہ پوچھ گچھ کی پولیس میں رپورٹ لکھوائی مگر صغیر کی کوئی سن گن نہ ملی، آخری دن جب کہ اکبر جا رہا تھا پولیس اسٹیشن سے اطلاع ملی کہ پی بی ایل 100591 نمبر کی موٹر کار جس کے ایک خانے میں صغیر اختر نام کے لائسنس نکلا ہے، ہوائی اڈے کے باہر کئی دنوں سے پڑی ہے، دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ اکبر امجد حسین نام کے ایک آدمی نے آٹھ روز پہلے ہوائی جہاز میں نیروبی کا سفر کیا ہے، اکبر کی سیٹ نیروبی کیلئے بک تھی امتیاز سے رخصت لے کر جب وہ کنیا پہنچا تو اسے بڑی مشکلوں کے بعد صرف اتنا پتہ ایک صاحب جن کا نام اکبر امجد تھا ہوائی جہاز کے ذریعے سے یہاں پہچنے تھے ایک ہوٹل میں دور روز ٹھہرے اس کے بعد چلے گئے۔ اکبر نے بہت تلاش کی مگر کوئی پتہ نہ چلا اس دوران میں اس کو امتیاز کے کئی خطوط آئے، پہلے دو تین خطوں کی تو اس نے رسید بھیجی اس کے بعد جو بھی خط آیا پھاڑ دیتا تاکہ اس کی بیوی نہ پڑھ لے، دس برس گزر گئے امجد حسین یعنی امتیاز کا باپ بہت پریشان تھا، بہت لوگوں کا خیال تھا کہ صغیر مر کھپ چکا ہے مگر امجد حسین کا دل نہیں مانتا تھا۔

کہیں اس کی لاش ہی مل جاتی، خود کشی کرنے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ بڑا نیک، شریف اور برخوردار لڑکا تھا، امجد کو اس سے بہت محبت تھی، ایک ہی بات اس کی سمجھ میں آئی تھی کہ اس کی بیٹی امتیاز نہ کہیں اس جیسے ذکی الحس آدمی کو اسیے ٹھیس نہ پہنچائی ہو کہ وہ دل شکستہ ہو کر کہیں رو پوش ہو گیا ہے، چنانچہ اس نے امتیاز سے کئی مرتبہ اس بار میں پوچھا مگر وہ صاف منکر ہو گئی، خدا اور رسول کی قسمیں کھا کر اس نے اپنے باپ کی تشفی کر دی، کہ اس سے اسی کوئی حرکت سرز نہیں ہوئی اکثر اوقات وہ روتی تھی، اس کو صغیر یاد آتا تھا، اس کی نرم و نازک محبت یاد آتی تھی، اس کو وہ دھیما دھیما نیسم سحری کا سلوک یاد آتا تھا، جو اس کی فطرت تھی، نیا پیرا امجد کا ایک دوست حج کو گیا، واپس آیا تو اس نے اس کو یہ خوشخبری سنائی کہ صغیر زندہ ہے اور ایک عرصے سے مکے میں مقیم ہے امجد حسین کو ہوش ہوا، اس کو اس کے دوست نے صغیر ہندی کا پتا دیا تھا، اس نے اپنی بیٹی کو تیار کیا کہ وہ اس کے ساتھ حجاز چلے، فورا ہوائی جہاز کا سفر کا انتظام کیا، امتیاز ساتھ جانے کو تیار نہ تھی، اس کو جھجھک سی محسوس ہو رہی تھی۔

بہر حال باپ بیٹی سرزمین حجاز میں پہنچے، ہر مقدس مقام کی زیارت کی، امجد حسین نے ایک ایک کونہ چھان مارا مگر صغیر کا پتہ نہ چلا، چند آدمیوں سے جو اس کو جانتے تھے، صرف اتنا معلوم ہوا کہ وہ آپ کی آمد سے دس روز پہلے، کیونکہ اسے کسی نہ کسی طریق معلوم ہو چکا تھا، کہ آپ تشریف لا رہے ہیں، کھڑکی دے کود اور گر کر ہلاک ہو گیا، مرنے سے پہلے چند لمحات اس کے ہونٹوں پر ایک لفظ کانپ رہا تھا غالباً امتیاز تھا۔ اس کی قبر کہاں ہے وہ کب اور کیسے دفن ہوا اس کے متعلق صغیر کے جاننے والوں نے کچھ نہ بتایا، یہ ان کے علم میں نہیں تھا، امتیاز کو یقین ہو گیا کہ اس کے خاوند نے خودکشی کر لی ہے، اس کو شادی اس کا سبب معلوم تھا، مگر اس کا باپ یہ ماننے سے یکسر منکر تھا، چنانچہ اس نے ایک بار اپنی بیٹی سے کہا میرا دل کہتا ہے وہ زندہ ہے، وہ تمہاری محبت کی خاطر اس وقت تک زندہ رہے گا جب تک خدا اس کو موت کے فرشتے کے حوالے نہ کر دے، میں اس کو اچھی طرح سمجھتا تمہاری جگہ اگر وہ میرا بیٹا ہوتا تو میں خود کو دنیا کا سب سے خوش نصیب انسان سمجھتا، یہ سن کر امتیاز خاموش رہی۔ دونوں سرزمین حجاز سے بے نیل و مرام واپس آ گئے، ایک برس گزر گیا، اس دوران میں امجد حسین بڑی مہلک بیماری یعنی دل کے عارضے میں گرفتار ہوا اور وفات پا گیا، مرتے وقت اس نے اپنی بیٹی کو کچھ کہنا چاہا مگر وہ شاید بڑی اذیت دہ تھی کہ وہ خاموش رہا اور صرف سرزنس بھری نگاہوں سے امتیاز کو دیکھتے دیکھتے مر گیا، اس کے بعد امتیاز اپنی بہن ممتاز کے پاس راولپنڈی چلی گئی، ان کی کوٹھی کے سامنے ایک اور کوٹھی تھی، جس میں ایک ادھیڑ عمر کا مرد بہت تھکا تھکا سا دکھائی دیتا تھا، دھپو تاپتا اور کتابیں پڑھتا رہتا تھا، ممتاز اس کو ہر روز دیکھتی، ایک دن اس نے امتیاز سے کہا، مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے یہ صغیر ہے، کیا تم نہیں پہچان سکتی ہو، وہ ناک نقشہ متانت وہی سنجدگی، امتیاز نے اس آدمی کی طرف غور سے دیکھا ایک دم چلائی ہاں ہاں وہی ہے پھر فورا رک گئی، لیکن وہ کیسے ہو سکتے ہیں وہ تو وفات پا چکے ہیں۔

انہیں دنوں ان کی چھوٹی بہن شہناز بھی آ گئی ممتاز اور امتیاز نے ان کو قبل از وقت مرجھایا اور افسردہ مرد دکھایا جس کی داڑھی کھچڑی تھی، اور اس سے پوچھا تم بتاؤ اس کی شکل صغیر سے ملتی ہے یا نہیں؟ شہناز نے اس کو بڑی گہری نظروں سے دیکھا اور فیصلہ کن لہجے میں کہا، شکل ملتی کی ہے یہ خود صغیر ہے سونی صدی صغیر اور یہ کہہ کہ وہ سامنے والی کوٹھی میں داخل ہو گئی وہ شخص کتاب پڑھنے میں مشغول تھا چونکا، شہناز جس نے شادی کے موقع پر اس کی جوتی چرائی تھی، اسی پرانے انداز میں کہا، جناب آپ کب تک چھپے رہیں گے؟

اس شخص نے شہناز کی طرف دیکھا اور بڑی سنجیدگی اختیار کرتے ہوئے پوچھا آپ کون ہیں؟

شہناز طراز تھی اس کے علاوہ اس کو یقین تھا کہ جس سے وہ ہم کلامی ہے وہ اس کا بہنوئی ہے چنانچہ اس نے بڑے نوکیلے لہجے میں کہا جناب میں آپ کی سالی شہناز ہوں، اس شخص نے شہناز کو سخت نا امید کی اس نے کہا، مجھے افسوس ہے کہ آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے، اس کے بعد شہناز نے اور بہت سے باتیں کیں مگر اس نے بڑے ملائم انداز میں اس سے جو کچھ کہا، اس کا یہ مطلب تھا کہ تم ناحق اپنا وقت ضائع کر رہی ہوں، میں تمہیں جانتا ہوں نہ تمہاری بہن کو جس کے متعلق تم کہتی ہو کہ میری بیوی ہے، میری بیوی اپنی زندگی میں ہے ار میں ہی اس کا خاوند ہو۔

شہناز اور ممتاز کو معلوم ہو گیا تھا کہ وہ امتیاز کے متعلق تمام معلومات حاصل کرتا ہے، ان کو یہ بھی پتہ چل گیا تھا کہ اس پر اسرار مرد کے نوکر کے ذریعے سے کہ وہ راتوں کو اکثر روتا ہے نمازیں پڑھتا ہے اور دعائیں مانگتا ہے کہ زندہ رہے وہ چاہتا ہے کہ اس کو جو اذیت پہنچی ہے اس سے دیر تک لطف اندوز ہوتا رہے، نوکر حیران تھا کہ انسان کی زندگی میں ایسی کون سی تکلیف ہو سکتی ہے، جس سے وہ حظ اٹھا سکتا تھا، سب باتیں امتیاز سنتی تھی اور اس کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی تھی کہ مر جائے، چنانچہ اس نے جب یہ سنا کہ وہ شخص جس کو امتیاز اچھی طرح پہچانتی تھی، اس کے نام سے قطعاً نا آشنا ہے تو اس نے ایک روز افیم کھا لی اور یہ ظاہر کیا کہ اس کے سر میں درد ہے اور اکیلی آرام کرنا چاہتی ہے، وہ آرام کرنے چلی گئی لیکن شہناز نے جب اس کو غنودگی کے عالم میں دیکھا تو اسے شبہ ہوا اس نے ممتاز سے بات کی، اس کا ماتھا بھی ٹھنڈا کمرے میں جا کر دیکھا تو امتیاز بالکل بے ہوش پڑی تھی، اس کو جھنجھوڑا مگر نہ جاتی شہناز دوڑی دوڑی سامنے کوٹھی میں گئی اور اس شخص جس کا نام راولپنڈی میں کسی کو نا معلوم تھا، سخت گھبراہٹ میں یہ اطلاع دی کہ اس کی بیوی نے زہر کھا لیا ہے، اور مرنے کے قریب ہے، یہ سن کر اس نے اتنا کہا آپ کو غلط فہمی ہے وہ میری بیوی نہیں ہے، لیکن میرے ہاں اتفاق سے ایک ڈاکٹر آیا ہوا ہے، آپ چلیئے میں اسے بھیج دیتا ہوں۔

شہناز گئی تو وہ اندر کوٹھی میں گیا اور اپنے بھائی اکبر سے کہا، یہ جو کوٹھی سامنے ہے اس میں کسی عورت نے زہر کھا لیا ہے، بھائی جان آپ جلدی سے جائیے، اور کوشش کیجئے کہ بچ جائے، اس کا بھائی جو نیروبی میں بہت بڑا ڈاکٹر تھا امتیاز کو نہ بچا سکا دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تو اس کا رد عمل بہت مختلف تھا، امتیاز فورا مر گئی اور اکبر اپنا بیگ لے کر واپس چلا گیا، صغیر نے اس سے پوچھا کیا حال ہے مریضہ کا؟ اکبر نے جواب دیا مر گئی، صغیر نے اپنے ہونٹ بھینچ کر بڑے مضبوط لہجے میں کہا میں زندہ رہوں گا، لیکن ایک دم سنگین فرش پر لڑکھڑانے کے بعد گرا اور جب اکبر نے اس کی نبض دیکھی تو وہ ساکت تھی۔

کھول دو

امر تسر سے اسپیشل ٹرین دوپہر دو بجے کو چلی آٹھ گھنٹوں کے بعد مغل پورہ پہنچی، راستے میں کئی آدمی مارے گئے، متعدد زخمی اور کچھ ادھر ادھر بھٹک گئے۔

صبح دس بجے۔۔۔۔کیمپ کی ٹھنڈی زمین پر جب سراج الدین نے آنکھیں کھولیں، اور اپنے چاروں طرف مردوں، عورتوں اور بچوں کا ایک متلاطم سمندر دیکھا تو اس کی سوچنے کی قوتیں اور بھی ضعیف ہو گئیں، وہ دیر تک گدلے آسمان کو ٹکٹکی باندھے دیکھتا رہا، یو تو کیمپ میں ہر طرف شور برپا تھا، لیکن بوڑھے سراج الدین کے کان جیسے بند تھے، اسے کچھ سنائی نہیں دیتا تھا، کوئی اسے دیکھتا تو یہ خیال کرتا تھا، کہ وہ کسی گہری فکر میں غرق ہے، اسے کچھ سنائی نہیں دیتا ہے، اس کے ہوش و حواس شل تھے، اس کا سارا وجود خلا میں معلق تھا۔

گدلے آسمان کی طرف بغیر کسی ارادے کے دیکھتے دیکھتے سراج الدین کی نگاہیں سورج سے ٹکرائیں، تیز روشنی اس کے وجود کے رگ و ریشے میں اتر گئی اور وہ جاگ اٹھا، اوپر تلے اس کے دماغ پر کئی تصویریں دوڑ گئیں، لوٹ، آگ۔۔۔۔۔بھاگم بھاگ۔۔۔۔۔اسٹیشن۔۔۔۔گولیاں۔۔۔۔رات اور سکینہ۔۔۔سراج الدین ایک دم اٹھ کھڑا ہوا اور پاگلوں کی طرح اس نے اپنے چاروں طرف پھلیے ہوئے انسانوں کے سمندر کو کھٹکانا شروع کیا۔ پورے تین گھنٹے وہ سکینہ سکینہ پکارتا کیمپ کی خاک چھانتا رہا، مگر اسے اپنی جوان اکلوتی بیٹی کا پتہ نہ چل سکا،چاروں طرف ایک دھاندلی سی مچی ہوئی تھی، کوئی اپنا بچہ ڈھونڈ رہا تھا، کوئی ماں، کوئی بیوی اور کوئی بیٹی، سراج الدین تھک ہار کر ایک طرف بیٹھ گیا، اور حافظے پر زور دینے لگا، کہ سکینہ اس سے کب اور کہاں جدا ہوئی تھی لیکن سوچتے سوچتے اس کا دماغ سکینہ کی ماں کی لاش پر جا کر جم جاتا ہے، جس کی ساری انتڑیاں باہر نکلی ہوئی تھیں، اس سے آگے وہ اور کچھ نہ سوچ سکا۔

سکینہ کی ماں مر چکی تھی، اس نے سراج الدین کی آنکھوں کے سامنے دم توڑا تھا، لیکن سکینہ کہاں تھی، جس کے متعلق اس کی ماں نے مرتے ہوئے کہا تھا، مجھے چھوڑ دو اور سکینہ کو لے کر جلدی یہاں سے بھاگ جاؤ۔

سکینہ اس کے ساتھی ہی تھی، دونوں ننگے پاؤں بھاگ رہے تھے، سکینہ کا دوپٹہ گر پڑا تھا، اسے اٹھانے کیلئے سراج الدین نے رکنا چاہا مگر سکینہ نے چلا کر کہا ابا جی۔۔۔۔۔چھوڑئیے، لیکن اس نے دوپٹہ اٹھا لیا تھا۔۔۔یہ سوچتے سوچتے اس نے اپنے کوٹ کی بھری ہوئی جیب کی طرف دیکھا اور میں ہاتھ ڈال کر ایک کپڑا نکالا۔۔۔۔۔سکینہ کا وہی دوپٹا تھا۔۔۔۔لیکن سکینہ کہاں تھی؟

سراج الدین نے اپنے تھکے ہوئے دماغ پر بہت زور دیا مگر وہ کسی نتیجہ پر نہ پہنچ سکا، کیا وہ سکینہ کو اپنے ساتھ اسٹیشن لے آیا تھا؟۔۔۔۔کیا وہ اس کے ساتھ ہی گاڑی میں سوار تھی؟۔۔۔ راستہ میں جب گاڑی روکی گئی تھی اور بلوائی اندر گھس آئے تھے تو کیا وہ بے ہوش تھا جو وہ سکینہ کو اٹھا کر لئے گئے؟

سراج الدین کے دماغ میں سوال ہی سوال تھے، جواب کوئی بھی نہیں تھا، اس کو ہمدردی کی ضرورت تھی، لیکن چاروں طرف جتنے بھی انسان پھیلے ہوئے تھے، سب کو ہمدردی کی ضرورت تھی، سراج الدین نے رونا چاہا، مگر آنکھوں نے اس کی مدد نہ کی، آنسو جانے کہاں غائب ہو گئے تھے۔ چھ روز کے بعد جب ہوش و حواس کسی قدر درست ہوئے تو سراج ان لوگوں سے ملا جو اس کی مدد کرنے کیلئے تیار تھے، آٹھ نوجوان تھے، جن کے پاس لاری تھی، بندوقیں تھیں، سراج الدین نے ان کو لاکھ لاکھ دعائیں دیں اور سکینہ کا حلیہ بتایا، گورا رنگ ہے، بہت ہی خوبصورت ہے۔۔۔۔مجھ پر نہیں اپنی ماں پر تھی۔۔۔۔عمر سترہ برس کے قریب اکلوتی لڑکی ہے، ڈھونڈ لاؤ، تمہارا خدا بھلا کرے گا۔

رضاکار نوجوانوں نے بڑے جذبے کے ساتھ بوڑھے سراج الدین کو یقین دلایا کہ اگر اس کی بیٹی زندہ ہوئی تو چند ہی دنوں میں اس کے پاس ہو گی۔

آٹھوں نوجوانوں نے کوشش کی، جان ہتھیلی پر رکھ کر وہ امر تسر گئے، کئی عورتوں کئ مردوں اور کئی بچوں کو نکال نکال کر انہوں نے محفوظ مقاموں پر پہنچایا، دس روز گزر گئے مگر انہیں سکینہ نہ ملی۔

ایک روز وہ اسی خدمت کیلئے لاری پر امر تسر جا رہے تھے، کہ چھ ہرٹہ کے پاس سڑک پر انہیں ایک لڑکی دکھائی دی، لاری کی آواز سن کر وہ بدکی اور بھاگنا شروع کر دیا، رضاکاروں نے موٹر روکی اور سب کے سب اس کے پیچھے بھاگے، ایک کھیت میں انہوں نے لڑکی کو پکڑ لیا، دیکھا تو بہت ہی خوبصورت تھی، دہنے گال پر موٹا تل تھا، ایک لڑکے نے اس سے کہا گھبراؤ نہیں۔۔۔۔۔۔کیا تمہارا نام سکینہ ہے؟

لڑکی کا رنگ اور بھی زرد ہو گیا، اس نے کوئی جواب نہ دیا، لیکن جب تمام لڑکوں نے اسے دم سلاسہ دیا تو اس کی وحشت دور ہوئی اس نے مان لیا کہ وہ سراج الدین کی بیٹی سکینہ ہے۔

آٹھ رضا کار نوجوانوں نے ہر طرح سے سکینہ کی دل جوئی کی، اسے کھانا کھلایا، دودھ پلایا، اور لاری میں بیٹھا دیا، ایک نے اپنا کوٹ اتار کر اسے دے دیا، کیونکہ دوپٹہ نہ ہونے کے باعث وہ بہت الجھن محسوس کر رہی تھی، اور بار بار بانہوں سے اپنے سینے کو ڈھانکنے کی ناکام کوشش میں مصروف تھی۔ کئی دن گزر گئے۔۔۔۔۔۔۔سراج الدین کو سکینہ کی کوئی خبر نہ ملی، وہ دن بھر مختلف کیمپوں اور دفتروں کے چکر کاٹتا رہتا، لیکن کہیں سے بھی اس کی بیٹی سکینہ کا پتہ نہ چلا سکا، رات کو وہ بہت دیر تک ان رضا کر نوجوانوں کی کامیابی کیلئے دعائیں مانگتا رہا، جنہوں نے اس کو یقین دلایا تھا کہ اگر سکینہ زندہ ہوئی تو چند ہی دنوں میں وہ اسے ڈھونڈ نکالیں گے۔

ایک روز سراج الدین نے کیمپ میں ان نوجوان رضا کاروں کو دیکھا، لاری میں بیٹھے تھے، سراج الدین بھاگا بھاگا ان کے پاس گیا، لاری چلنے والی تھی کہ اس نے پوچھا بیٹا میری سکینہ کا پتہ چلا؟

سب نے یک زبان ہو کر کہا چلا جائے گا، چل جائے گا اور لاری چلا دی۔

سراج الدین نے ایک بار پھر ان نوجوانوں کی کامیابی کیلئے دعا مانگی اور اس کا جی کس قدر ہلکا ہو گیا، شام کے قریب کیمپ میں جہاں سراج الدین بیٹھا تھا، اس کے پاس ہی کچھ گر بڑ سی ہوئی چار آدمی کچھ اٹھا کر لا رہے تھے، اس نے دریافت کیا تو معلوم ہو کہ ایک لڑکی ریلوے لائن کے پاس بے ہوش پڑی تھی، لوگ اسے اٹھا کر لائے ہیں، سراج الدین ان کے پیچھے پیچھے ہولیا، لوگوں نے لڑکی کو اسپتال والوں کے سپرد کیا اور چلے گئے۔

کچھ دیر بعد ایسے ہی اسپتال کے باہر گڑے ہوئے لکڑی کے کھمبے کے ساتھ لگ کر کھڑا رہا، پھر آہستہ آہستہ اندر چلا گیا، کمرے میں کوئی نہیں تھا، ایک اسٹیریچر تھا، جس پر ایک لاش پڑی تھی، سراج الدین چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اس کی طرف بڑھا، کمرے میں دفعتاً روشنی ہوئی سراج الدین نے لاش کے زرد چہرے پر چمکتا ہو تل دیکھا اور چلایا، سکینہ۔

ڈاکٹر نے جس نے کمرے میں روشنی کی تھی، سراج الدین سے پوچھا کیا ہے؟

سراج الدین کے حلق سے صرف اس قدر نکل سکا،جی میں۔۔۔۔۔ جی میں۔۔۔۔۔۔۔۔اس کا باپ ہوں۔ ڈاکٹر نے اسٹریچر پر پڑی ہوئی لاش کی طرف دیکھا، اس کی نبض ٹٹولی اور سراج الدین سے کہا کھڑکی کھول دو۔

سکینہ کے مردہ جسم میں جنبش پیدا ہوئی، بے جان ہاتھوں سے اس نے ازار بند کھولا اور شلوار نیچے سرکا دیا، بوڑھا سراج الدین خوشی سے چلایا، زندہ ہے۔۔۔۔۔۔میری بیٹی زندہ ہے۔۔۔۔ڈاکٹر سر سے پیر تک پسینے میں غرق ہو گیا۔

بلاؤز

کچھ دنوں سے مومن بہت بے قرار تھا۔ اس کا وجود کچا پھوڑا سا بن گیا تھا۔ کام کرتے وقت، باتیں کرتے ہوئے، حتٰی کہ سوچتے ہوئے بھی اسے ایک عجیب قسم کا درد محسوس ہوتا تھا۔ ایسا درد جس کو اگر وہ بیان کرنا چاہتا تو نہ کر سکتا۔

بعض اوقات بیٹھے بیٹھے وہ ایک دم چونک پڑتا۔ دھندلے دھندلے خیالات جو عام حالتوں میں بے آواز بلبلوں کی طرح پیدا ہو کر مٹ جایا کرتے ہیں مومن کے دماغ میں بڑے شور کے ساتھ پیدا ہوتے اور شور ہی کے ساتھ پھٹتے۔ اس کے دل و دماغ کے نرم و نازک پردوں پر ہر وقت جیسے خار دار پاؤں والی چیونٹیاں سی رینگتی رہتی تھیں۔ ایک عجیب قسم کا کھنچاؤ اس کے اعضا میں پیدا ہو گیا تھا جس کے باعث اسے بہت تکلیف ہوتی تھی۔ اس تکلیف کی شدت جب بڑھ جاتی تو اس کے جی میں آتا کہ اپنے آپ کو ایک بڑے سے ہاون میں ڈال دے اور کسی سے کہے کہ مجھے کوٹنا شروع کر دیں۔

باورچی خانے میں گرم مصالحہ جات کوٹتے وقت جب لوہے سے لوہا ٹکراتا اور دھمکوں سے چھت میں ایک گونج سی دوڑ جاتی تو مومن کے ننگے پیروں کو یہ لرزش بہت بھلی معلوم ہوتی۔ پیروں کے ذریعے یہ لرزش اس کی تنی ہوئی پنڈلیوں اور رانوں میں دوڑتی ہوئی اس کے دل تک پہنچ جاتی جو تیز ہوا میں رکھے ہوئے دیے کی لو کی طرح کانپنا شروع کر دیتا۔

مومن کی عمر پندرہ برس تھی۔ شاید سولہواں بھی لگا ہو۔ اسے اپنی عمر کے متعلق صحیح اندازہ نہیں تھا۔ وہ ایک صحت مند اور تندرست لڑکا تھا جس کا لڑکپن تیزی سے جوانی کے میدان کی طرف بھاگ رہا تھا۔ اسی دوڑ نے جس سے مومن بالکل غافل تھا اس کے لہو کے ہر قطرے میں سنسنی پیدا کر دی۔ وہ اس کا مطلب سمجھنے کی کوشش کرتا مگر ناکام رہتا۔

اس کے جسم میں کئی تبدیلیاں ہو رہی تھیں۔ گردن جو پہلے پتلی تھی اب موٹی ہو گئی تھی۔ بانہوں کے پٹھوں میں اینٹھن سی پیدا ہو گئی تھی۔ کنٹھ نکل رہا تھا۔ سینے پر گوشت کی موٹی تہہ ہو گئی تھی اور اب کچھ دنوں سے پستانوں میں گولیاں سی پڑ گئی تھیں، جگہ ابھر آئی تھی جیسے کسی نے ایک بنٹا اندر داخل کر دیا ہے۔ ان ابھاروں کو ہاتھ لگانے سے مومن کو بہت درد محسوس ہو تا تھا۔ کبھی کبھی کام کرنے کے دورا ن میں غیر ارادی طور پر جب کا ہاتھ ان گولیوں سے چھو جاتا تو وہ تڑپ اٹھتا۔ قمیض کے موٹے اور کھردرے کپڑے سے بھی اس کی تکلیف دہ سرسراہٹ محسوس ہوتی تھی۔

غسل خانے میں نہاتے وقت یا باورچی خانہ میں جب کوئی اور موجود نہ ہوتا۔ مومن اپنے قمیض کے بٹن کھول کر ان گولیوں کو غور سے دیکھتا۔ ہاتھوں سے مسلتا۔ درد ہوتا، ٹیسیں اٹھتیں جیسے جسم پھلوں سے لدے ہوئے پیڑ کی طرح زور سے ہلا دیا گیا ہو۔ کانپ کانپ جاتا مگر اس کے باوجود وہ اس درد پیدا کرنے والے کھیل میں مشغول رہتا۔ کبھی کبھی زیادہ دبانے پر یہ گولیاں پچک جاتیں اور ان کے منہ سے ایک لیس دار لعاب نکل آتا۔ اس کو دیکھ کر اس کا چہرہ کان کی لوؤں تک سرخ ہو جاتا۔ وہ یہ سمجھتا کہ اس سے کوئی گناہ سر زد ہو گیا ہے۔ گناہ اور ثواب کے متعلق مومن کا علم بہت محدود تھا۔ ہر وہ فعل جو ایک انسان دوسرے انسان کے سامنے نہ کر سکتا ہو، اس کے خیال کے مطابق گناہ تھا۔ چنانچہ جب شرم کے مارے اس کا چہرہ کان کی لوؤں تک سرخ ہو جاتا تو وہ جھٹ سے اپنی قمیض کے بٹن بند کر لیتا اور دل میں عہد کرتا کہ آئندہ ایسی فضول حرکت کبھی نہیں کر ے گا لیکن اس عہد کے باوجود دوسرے یا تیسرے روز تخلیے میں وہ پھر اسی کھیل میں مشغول ہو جاتا۔

مومن کا بھی بالکل یہی حال تھا۔ وہ کچھ دنوں سے موڑ مڑتا زندگی کے ایک ایسے راستے پر آ نکلا تھا جو زیادہ لمبا تو نہیں تھا مگر بے حد پُرخطر تھا۔ اس راستے پر اس کے قدم کبھی تیز تیز اٹھتے تھے، کبھی ہولے ہولے۔ وہ در اصل جانتا نہیں تھا کہ ایسے راستوں پر کس طرح چلنا چاہئے۔ انہیں جلدی طے کرنا چاہئے یا کچھ وقت لے کر آہستہ آہستہ ادھر ادھر کی چیزوں کا سہارا لے کر طے کرنا چاہئے۔ مومن کے ننگے پاؤں کے نیچے آنے والے شباب کی گول گول چکنی بنٹیاں پھسل رہی تھیں۔ وہ اپنا توازن برقرار نہیں رکھ سکتا تھا۔ اس لئے بے حد مضطرب تھا۔ اسی اضطراب کے باعث کئی بار کام کرتے کرتے چونک کر وہ غیر ارادی طور پر کسی کھونٹی کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیتا اور اس کے ساتھ لٹک جاتا۔ پھر اس کے د ل میں خواہش پیدا ہوتی کہ ٹانگوں سے پکڑ کر اسے کوئی اتنا کھینچے کہ وہ ایک مہین تار بن جائے۔ یہ سب باتیں اس کے دماغ کے کسی ایسے گوشے میں پیدا ہوتی تھیں کہ وہ ٹھیک طور پر ان کا مطلب نہیں سمجھ سکتا تھا۔

مومن سے سب گھر والے خوش تھے۔ بڑا محنتی لڑکا تھا۔ جب ہر کام وقت پر کر دیتا تو کسی کو شکایت کا موقع کیسے ملتا۔ ڈپٹی صاحب کے یہاں اسے کام کرتے ہوئے صرف تین مہینے ہوئے تھے لیکن اس قلیل عرصے میں اس نے گھر کے ہر فرد کو اپنی محنت کش طبعیت سے متاثر کر لیا تھا۔ چھ روپے مہینے پر نوکر ہوا تھا مگر دوسرے مہینے ہی اس کی تنخواہ میں دو روپے بڑھا دئے گئے تھے۔ وہ اس گھر میں بہت خوش تھا اس لئے کہ اس کی یہاں قدر کی جاتی تھی مگر اب کچھ دنوں سے وہ بے قرار تھا۔ ایک عجیب قسم کی آوارگی اس کے دماغ میں پیدا ہو گئی تھی۔ اس کا جی چاہتا تھا کہ وہ سارا دن بے مطلب بازاروں میں گھومتا پھرے یا کسی سنسان مقام پر جا کر لیٹا رہے۔

اب کام میں اس کا جی نہیں لگتا تھا لیکن اس بے دلی کے ہوتے ہوئے بھی وہ کاہلی نہیں برتتا تھا۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ گھر میں کوئی بھی اس کے اندرونی انتشار سے واقف نہیں تھا۔ رضیہ تھی سو وہ دن بھر باجہ بجانے، نئی نئی فلمی طرزیں سیکھنے اور رسالے پڑھنے میں مصروف رہتی تھی۔ اس نے کبھی مومن کی نگرانی ہی نہ کی تھی۔ شکیلہ البتہ مومن سے ادھر ادھر کے کام لیتی تھی اور کبھی کبھی اسے ڈانٹتی بھی تھی مگر اب کچھ دنوں سے وہ بھی چند بلاؤزوں کے نمونے اتارنے میں بے طرح مشغول تھی۔ یہ بلاؤز اس کی ایک سہیلی کے تھے جسے نئی نئی تراشوں کے کپڑے پہننے کا بے حد شوق تھا۔ شکیلہ اس سے آٹھ بلاؤز مانگ کر لائی تھی اور کاغذوں پر ان کے نمونے اتار رہی تھی چنانچہ اس نے بھی کچھ دنوں سے مومن کی طرف دھیان نہیں دیا تھا۔

ڈپٹی صاحب کی بیوی سخت گیر عورت نہیں تھی۔ گھر میں دو نوکر تھے یعنی مومن کے علاوہ ایک بڑھیا بھی تھی جو زیادہ تر باورچی خانے کا کام کرتی تھی۔ مومن کبھی کبھی اس کا ہاتھ بٹا دیا کرتا تھا۔ ڈپٹی صاحب کی بیوی نے ممکن ہے مومن کی مستعدی میں کوئی کمی دیکھی ہو مگر اس نے مومن سے اس کا ذکر نہیں کیا تھا اور وہ انقلاب جس میں مومن کا دل و دماغ اور جسم گزر رہا تھا، اس سے تو ڈپٹی صاحب کی بیوی بالکل غافل تھی۔ چونکہ اس کا کوئی لڑکا نہیں تھا اس لئے وہ مومن کی ذہنی اور جسمانی تبدیلیوں کو نہیں سمجھ سکی اور پھر مومن نوکر تھا…. نوکروں کے متعلق کون غور و فکر کرتا ہے۔ بچپن سے لے کر بڑھاپے تک وہ تمام منزلیں پیدل طے کر جاتے ہیں اور آس پاس کے آدمیوں کو خبر تک نہیں ہوتی۔

غیر شعوری طور پر وہ چاہتا تھا کہ کچھ ہو…. کیا ہو؟ …. بس کچھ ہو۔ میز پر قرینے سے چنی ہوئی پلیٹیں ایک دم اچھلنا شروع کریں۔ کیتلی پر رکھا ہوا ڈھکا پانی ایک ہی ابال سے اوپر کو اڑ جائے۔ نل کی جستی نال پر دباؤ ڈالے تو وہ دوہری ہو جائے اور اس میں سے پانی کا ایک فوارہ سا پھوٹ نکلے۔ اسے ایک ایسی زبردست انگڑائی آئے کہ اس کے سارے جوڑ جوڑ علیحدہ علیٰحدہ ہو جائیں اور اس میں ایک ڈھیلا پن پیدا ہو جائے۔ کوئی ایسی بات وقوع پذیر ہو جو اس نے پہلے کبھی نہ دیکھی ہو۔

مومن بہت بے قرار تھا۔ رضیہ نئی طرز سیکھنے میں مشغول تھی اور شکیلہ کاغذوں پر بلاؤزوں کے نئے نمونے اتار رہی تھی۔ جب اس نے یہ کام ختم کر لیا تو وہ نمونہ جو ان سب میں اچھا تھا، سامنے رکھ کر اپنے لئے اودی ساٹن کا بلاؤز بنانا شروع کر دیا۔ اب رضیہ کو بھی اپنا باجہ اور فلمی گانوں کی کاپی چھوڑ کر اس طرف متوجہ ہونا پڑا۔

شکیلہ ہر کام بڑے اہتمام اور چاؤ سے کرتی تھی۔ جب سینے پرونے بیٹھتی تو اس کی نشست بڑی پر اطمینان ہوتی تھی۔ اپنی چھوٹی بہن رضیہ کی طرح وہ افرا تفری پسند نہیں کرتی تھی۔ ایک ایک ٹانکا سوچ سمجھ کر بڑے اطمینان سے لگاتی تھی تاکہ غلطی کا امکان نہ رہے۔ پیمائش بھی اس کی بہت صحیح تھی۔ اس لئے کہ پہلے کاغذ کاٹ کر پھر کپڑا کاٹتی تھی یوں وقت زیادہ صرف ہوتا ہے مگر چیز بالکل فٹ تیار ہوتی تھی۔ شکیلہ بھر ے بھرے جسم کی صحت مند لڑکی تھی، ہاتھ بہت گدگدے تھے۔ گوشت بھری مخروطی انگلیوں کے آخر میں ہر جوڑ پر ایک ننھا گڑھا تھا جب مشین چلاتی تھی تو یہ ننھے گڑھے ہاتھ کی حرکت سے کبھی کبھی غائب ہو جاتے تھے۔

شکیلہ مشین بھی بڑے اطمینان سے چلاتی تھی۔ آہستہ آہستہ اس کی دو یا تین انگلیاں بڑی صفائی کے ساتھ مشین کی ہتھی گھماتی تھیں۔ کلائی میں ایک ہلکا سا خم پیدا ہو جاتا تھا۔ گردن ذرا ایک طرف کو جھک جاتی تھی اور بالوں کی ایک لٹ جسے شاید اپنے لئے کوئی مستقل جگہ نہیں ملتی تھی نیچے پھسل آتی تھی۔ شکیلہ اپنے کام میں اس قدر منہمک رہتی کہ اسے ہٹانے یا جمانے کی کوشش ہی نہیں کرتی تھی۔

جب شکیلہ اودی ساٹن سامنے پھیلا کر اپنے ماپ کا بلاؤز تراشنے لگی تو اسے ٹیپ کی ضرورت محسوس ہوئی۔ کیونکہ ان کا ٹیپ گھس گھسا کر اب بالکل ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا تھا۔ لوہے کا گز موجود تھا مگر اس سے کمر اور سینے کی پیمائش کیسے ہو سکتی ہے۔ اس کے اپنے کئی بلاؤز موجود تھے مگر اب چونکہ وہ پہلے سے کچھ موٹی ہو گئی تھی اس لئے ساری پیمائش دوبارہ کرنا چاہتی تھی۔

قمیض اتار کر اس نے مومن کو آواز دی۔ جب وہ آیا تو اس سے کہا “جاؤ مومن دوڑ کر چھ نمبر سے کپڑے کا گز لے آؤ۔ کہنا شکیلہ بی بی مانگتی ہے “۔

مومن کی نگاہیں شکیلہ کی سفید بنیان سے ٹکرائیں۔ وہ کئی بار شکیلہ بی بی کو ایسی بنیانوں میں دیکھ چکا تھا مگر آج اسے ایک عجیب قسم کی جھجک محسوس ہوئی۔ اس نے اپنی نگاہوں کا رخ دوسری طرف پھیر لیا اور گھبراہٹ میں کہا۔ “کیسا گز بی بی جی۔”

شکیلہ نے جواب دیا” کپڑے کا گز…. ایک گز تو یہ تمہارے سامنے پڑا ہے۔ یہ لوہے کا ہے۔ ایک دوسرا گز بھی ہوتا ہے کپڑے کا۔ جاؤ چھ نمبر میں جاؤ اور دوڑ کے ان سے یہ گز لے آؤ۔ کہنا شکیلہ بی بی مانگتی ہے۔”

چھ نمبر کا فلیٹ بالکل قریب تھا۔ مومن فوراً ہی کپڑے کا گز لے کر آگیا۔ شکیلہ نے اس کے ہاتھ سے لے لیا اور کہا “یہاں ٹھہر جا۔ اسے ابھی واپس لے جانا۔”پھر وہ اپنی بہن رضیہ سے مخاطب ہوئی۔ ان لوگوں کی کوئی چیز اپنے پاس رکھ لی جائے تو وہ بڑھیا تقاضے کر کے پریشان کر دیتی ہے …. ادھر آؤ یہ گز لو اور یہاں سے میرا ماپ لو۔

رضیہ نے شکیلہ کی کمر اور سینے کا ماپ لینا شروع کیا تو ان کے درمیان کئی باتیں ہوئیں۔ مومن دروازے کی دہلیز پر کھڑا تکلیف دہ خاموشی سے یہ باتیں سنتا رہا۔

“رضیہ تم گز کو کھینچ کر ماپ کیوں نہیں لیتیں…. پچھلی دفعہ بھی یہی ہوا۔ جب تم نے ماپ لیا اور میرے بلاؤز کا ستیا ناس ہو گیا…. اوپر کے حصہ پر اگر کپڑا فٹ نہ آئے تو ادھر ادھر بغلوں میں جھول پڑ جاتے ہیں۔”

“کہاں کا لوں، کہاں کا نہ لوں۔ تم تو عجب مخمصے میں ڈال دیتی ہو۔ یہاں کا ماپ لینا شروع کیا تھا تو تم نے کہا ذرا اور نیچے کا لو…. ذرا چھوٹا بڑا ہو گیا تو کون سی آفت آ جائے گی۔”

“بھئی واہ…. چیز کے فٹ ہونے ہی میں ساری خوبصورتی ہوتی ہے۔ ثریا کو دیکھو کیسے فٹ کپڑے پہنتی ہے۔ مجال ہے جو کہیں شکن پڑے، کتنے خوبصورت معلوم ہوتے ہیں ایسے کپڑے …. لو اب تم ماپ لو….”۔

یہ کہہ کر شکیلہ نے سانس کے ذریعے اپنا سینہ پھلانا شروع کیا۔ جب اچھی طرح پھول گیا تو سانس روک کر اس نے گھٹی گھٹی آواز میں کہا ” لو اب جلدی کرو۔”

جب شکیلہ نے سینے کی ہوا خارج کی تو مومن کو ایسا محسوس ہوا کہ اس کے اندر ربڑ کے کئی غبارے پھٹ گئے ہیں۔ اس نے گھبرا کر کہا “گز لائیے بی بی جی…. دے آؤں۔”

شکیلہ نے اسے جھڑ ک دیا۔ “ذرا ٹھہر جا”۔

یہ کہتے ہوئے کپڑے کا گز اس کے ننگے بازو سے لپٹ گیا۔ جب شکیلہ نے اسے اتارنے کی کوشش کی تو مومن کو اس کی سفید بغل میں کالے کالے بالوں کا ایک گچھا نظر آیا۔ مومن کی اپنی بغلوں میں بھی ایسے ہی بال اگ رہے تھے مگر یہ گچھا اسے بہت بھلا معلوم ہوا۔ ایک سنسنی سی اس کے سارے بدن میں دوڑ گئی۔ ایک عجیب و غریب خواہش اس کے دل میں پیدا ہوئی کہ یہ کالے کالے بال اس کی مونچھیں بن جائیں۔ بچپن میں وہ بُھٹوں کے کالے اور سنہری بال نکال کر اپنی مونچھیں بنایا کرتا تھا۔ ان کو اپنے بالائی ہونٹ پر جماتے وقت جو سرسراہٹ اسے محسوس ہوتی تھی۔ اسی قسم کی سرسراہٹ اس خواہش نے اس کے بالائی ہونٹ اور ناک میں پیدا کر دی۔

شکیلہ کا بازو اب نیچے جھک گیا تھا اور بغل چھپ گئی تھی مگر مومن بھی کالے بالوں کا وہ گچھا دیکھ رہا تھا۔ اس کے تصور میں شکیلہ کا بازو دیر تک ویسے ہی اٹھا رہا اور بغل میں اس کے سیاہ بال جھانکتے رہے۔

تھوڑی دیر بعد شکیلہ نے مومن کو گز دے دیا اور کہا “جاؤ، واپس دے آؤ۔ کہنا بہت بہت شکریہ ادا کیاہے “۔

مومن گز واپس دے کر باہر صحن میں بیٹھ گیا۔ اس کے دل و دماغ میں دھندلے دھندلے خیال پیدا ہو رہے تھے۔ دیر تک ان کا مطلب سمجھنے کی کوشش کرتا رہا جب کچھ سمجھ میں نہ آیا تو اس نے غیر ارادی طور پر اپنا چھوٹا سا ٹرنک کھولا، جس میں اس نے عید کے لئے نئے کپڑے بنوا رکھے تھے۔

جب ٹرنک کا ڈھکنا کھولا اور نئے لٹھے کی بو اس کی ناک تک پہنچی تو اس کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ نہا دھو کر یہ نئے کپڑے پہن کر وہ سیدھا شکیلہ بی بی کے پاس جائے اور اسے سلام کرے۔ اس کی لٹھے کی شلوار کس طرح کھڑ کھڑ کرے گی اور اس کی رومی ٹوپی….

رومی ٹوپی کا خیال آتے ہی مومن کی نگاہوں کے سامنے اس کا پھندنا آگیا اور پھندنا فوراً ہی ان کالے کالے بالوں کے گچھے میں تبدیل ہو گیا جو اس نے شکیلہ کی بغل میں دیکھا تھا۔ اس نے کپڑوں کے نیچے سے اپنی نئی رومی ٹوپی نکالی اور اس کے نرم اور لچکیلے پھندنے پر ہاتھ پھیرنا شروع ہی کیا تھا کہ اندر سے شکیلہ بی بی کی آواز آئی۔ “مومن”

مومن نے ٹوپی ٹرنک میں رکھی، ڈھکنا بند کیا اور اندر چلا گیا جہاں شکیلہ نمونے کے مطابق اودی ساٹن کے کئی ٹکڑے کاٹ چکی تھی۔ ان چمکیلے اور پھسل پھسل جانے والے ٹکڑوں کو ایک جگہ رکھ کر وہ مومن کی طرف متوجہ ہوئی۔ “میں نے تمہیں اتنی آوازیں دیں۔ سو گئے تھے کیا؟”

مومن کی زبان میں لکنت پیدا ہو گئی۔ “نہیں بی بی جی”۔

“تو پھر کیا کر رہے تھے؟”

“کچھ…. کچھ بھی نہیں”۔

“کچھ تو ضرور کرتے ہو گے۔”شکیلہ یہ سوال کئے جا رہی تھی مگر اس کا دھیان اصل میں بلاؤز کی طرف تھا جسے اب اسے کچا کرنا تھا۔

مومن نے کھسیانی ہنسی کے ساتھ جواب دیا۔ ٹرنک کھول کر اپنے نئے کپڑے دیکھ رہا تھا۔ شکیلہ کھل کھلا کر ہنسی۔ رضیہ نے بھی اس کا ساتھ دیا۔

شکیلہ کو ہنستے دیکھ کر مومن کو ایک عجیب تسکین محسوس ہوئی اور اس تسکین نے اس کے دل میں یہ خواہش پیدا کی کہ وہ کوئی ایسی مضحکہ خیز طور پر احمقانہ حرکت کرے جس سے شکیلہ کو اور زیادہ ہنسنے کا موقع ملے چنانچہ لڑکیوں کی طرح جھینپ کر اور لہجے میں شرماہٹ پیدا کر کے اس نے کہا۔ “بڑی بی بی جی سے پیسے لے کر میں ریشمی رومال بھی لوں گا۔”

شکیلہ نے ہنستے ہوئے اس سے پوچھا۔ “کیا کرو گے اس رومال کو؟”

مومن نے جھینپ کر جوا ب دیا۔ “گلے میں باندھ لو ں گا بی بی جی…. بڑا اچھا معلوم ہو گا۔” یہ سن کر شکیلہ اور رضیہ دونوں دیر تک ہنستی رہیں۔

“گلے میں باندھو گے تو یاد رکھنا اسی سے پھانسی دے دوں گی”یہ کہہ کر شکیلہ نے اپنی ہنسی دبانے کی کوشش کی اور رضیہ سے کہا۔ “کم بخت نے مجھ سے کام ہی بھلا دیا۔ رضیہ میں نے اسے کیوں بلایا تھا؟”

رضیہ نے جواب نہ دیا اور نئی فلمی طرز گنگنانا شروع کر دی جو وہ دو روز سے سیکھ رہی تھی۔ اس دوران میں شکیلہ کو خود ہی یاد آگیا کہ اس نے مومن کو کیوں بلایا تھا۔ “دیکھو مومن میں تمہیں یہ بنیان اتار کر دیتی ہوں۔ دوائیوں کے پاس جو ایک دکان نئی کھلی ہے نا، وہاں جہاں تم اس دن میرے ساتھ گئے تھے۔ وہاں جاؤ اور پوچھ کے آؤ کہ ایسی چھ بنیانوں کے وہ کیا لے گا…. کہنا ہم چھ لیں گے۔ اس لئے کچھ رعایت ضرور کرے …. سمجھ لیا نا؟”

“مومن نے جواب دیا۔ “جی ہاں”۔

“اب تم پرے ہٹ جاؤ۔”

مومن باہر نکل کر دروازے کی اوٹ میں ہو گیا۔ چند لمحات کے بعد بنیان اس کے قدموں کے پاس آگرا اور اندر سے شکیلہ کی آواز آئی۔ “کہنا ہم اس قسم کی ہی ڈیزائن کی بالکل یہی چیز لیں گے۔ فرق نہیں ہونا چاہئے۔”

مومن نے بہت اچھا کہہ کر بنیان اٹھا لیا جو پسینے کے باعث کچھ کچھ گیلا ہو رہا تھا جیسے کسی نے بھاپ پر رکھ کر فوراً ہی اٹھا لیا ہو۔ بدن کی بو بھی اس میں بسی ہوئی تھی۔ میٹھی میٹھی گرمی بھی تھی۔ یہ تمام چیزیں اس کو بہت بھلی معلوم ہوئیں۔

وہ اس بنیان کو جو بلی کے بچے کی طرح ملائم تھا، اپنے ہاتھوں میں مسلتا ہوا باہر چلا گیا۔ جب بھاؤ دریافت کر کے بازار سے واپس آیا تو شکیلہ بلاؤز کی سلائی شروع کر چکی تھی۔ اس اودی، اودی ساٹن کے بلاؤز کی جو مومن کی رومی ٹوپی کے پھندنے سے کہیں زیادہ چمکیلی اور لچک دار تھی۔

یہ بلاؤز شاید عید کے لئے تیار کیا جا رہا تھا کیونکہ عید اب بالکل قریب آ گئی تھی۔ مومن کو ایک دن میں کئی بار بلا گیا۔ دھاگہ لانے کے لئے، استری نکالنے کے لئے، سوئی ٹوٹ گئی تو نئی سوئی لانے کے لئے، شام کے قریب جب شکیلہ نے دوسرے روز پر باقی کام اٹھا دیا تو دھاگے کے ٹکڑے اور اودی ساٹن کی بیکار کترنیں اٹھانے کے لئے بھی اسے بلایا گیا۔

مومن نے اچھی طرح جگہ صاف کر دی۔ باقی سب چیزیں اٹھا کر باہر پھینک دیں مگر ساٹن کی چمکیلی کترنیں اپنی جیب میں رکھ لیں…. بالکل بے مطلب کیونکہ اسے معلوم نہیں تھا کہ وہ ان کا کیا کر ے گا؟

دوسرے روز اس نے جیب سے کترنیں نکالیں اور الگ بیٹھ کر ان کے دھاگے الگ کرنے شروع کر دئے۔ دیر تک وہ اس کھیل میں مشغول رہا حتیٰ کہ دھاگے کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کا ایک گچھا سا بن گیا۔ اس کو ہاتھ میں لے کر وہ دباتا رہا، مسلتا رہا لیکن اس کے تصور میں شکیلہ کی وہی بغل تھی جس میں اس نے کالے کالے بالوں کا ایک چھوٹا سا گچھا دیکھا تھا۔

اس دن بھی اسے شکیلہ نے کئی بار بلایا…. اودی ساٹن کے بلاؤز کی ہر شکل اس کی نگاہوں کے سامنے آتی رہی۔۔

پہلے جب اسے کچا کیا گیا تھا تو اس پر سفید دھاگے کے بڑے بڑے ٹانکے جا بجا پھیلے ہوئے تھے۔ پھر اس پر استری پھیری گئی جس سے سب شکنیں دور ہو گئیں اور چمک بھی دوبالا ہو گئی۔ اس کے بعد کچی حالت ہی میں شکیلہ نے اسے پہنا۔ رضیہ کو دکھایا۔

دوسرے کمرے میں سنگھار میز کے پاس آئینے میں خود اس کو ہر پہلو سے اچھی دیکھا۔ جب پورا اطمینان ہو گیا تو اسے اتارا۔ جہاں جہاں تنگ یا کھلا تھا وہاں نشان لگائے۔ اس کی ساری خامیاں دور کیں۔ ایک بار پھر پہن کر دیکھا جب بالکل فٹ ہو گیا تو پکی سلائی شروع کی۔

اُدھر ساٹن کا یہ بلاؤز سیا جا رہا تھا، اِدھر مومن کے دماغ میں عجیب و غریب خیالوں کے ٹانکے ادھڑ رہے تھے …. جب اسے کمرے میں بلایا جاتا اور اس کی نگاہیں چمکیلی ساٹن کے بلاؤز پر پڑتیں تو اس کا جی چاہتا کہ وہ ہاتھ سے چھو کر اسے دیکھے صرف چھو کر ہی نہیں…. بلکہ اس کی ملائم اور روئیں دار سطح پر دیر تک ہاتھ پھیرتا رہے۔ اپنے کھردرے ہاتھ۔

اس نے ان ساٹن کے ٹکڑوں سے اس کی ملائمت کا اندازہ کر لیا تھا۔ دھاگے جو اس نے ان ٹکڑوں سے نکالے تھے اور بھی زیادہ ملائم ہو گئے تھے۔ جب اس نے ان کا گچھا بنایا تو دباتے وقت اسے معلوم ہوا کہ ان میں ربڑی کی سی لچک بھی ہے …. وہ جب بھی اندر آ کر بلاؤز کو دیکھتا تو کا خیال فوراً ان بالوں کی طرف دوڑ جاتا جو اس نے شکیلہ کی بغل میں دیکھے تھے۔ کالے کالے بال۔ مومن سوچتا تھا کہ وہ بھی ساٹن ہی کی طرح ملائم ہوں گے؟

بلاؤز بالآخر تیار ہو گیا…. مومن کمرے کے فرش پر گیلا کپڑا پھیر رہا تھا کہ شکیلہ اندر آئی۔ قمیض اتار کر اس نے پلنگ پر رکھی۔ اس کے نیچے اسی قسم کا سفید بنیان تھا جس کا نمونہ لے کر مومن بھاؤ دریافت کرنے گیا تھا…. اس کے اوپر شکیلہ نے اپنے ہاتھ کا سلا ہوا بلاؤز پہنا۔ سامنے کے ہک لگائے اور آئینے کے سامنے کھڑی ہو گئی۔

مومن نے فرش صاف کرتے ہوئے آئینہ کی طرف دیکھا۔ بلاؤز میں اب جان سی پڑ گئی تھی۔ ایک دو جگہ پر وہ اس قدر چمکتا تھا کہ معلوم ہوتا تھا ساٹن کا رنگ سفید ہو گیا ہے …. شکیلہ کی پیٹھ مومن کی طرف تھی جس پر ریڑھ کی ہڈی کی لمبی جھری بلاؤز فٹ ہونے کے باعث اپنی پوری گہرائی کے ساتھ نمایاں تھی۔ مومن سے رہا نہ گیا۔ چنانچہ اس نے کہا “بی بی جی، آپ نے درزیوں کو بھی مات کر دیا ہے۔”

شکیلہ اپنی تعریف سن کر خوش ہو ئی مگر وہ رضیہ کی رائے طلب کرنے کے لئے بے قرار تھی۔ اس لئے وہ صرف “اچھا ہے نا”کہہ کر باہر دوڑ گئی…. مومن آئینے کی طرف دیکھتا رہ گیا جس میں بلاؤز کا سیاہ اور چمکیلا عکس دیر تک موجود رہا۔

رات کو جب وہ پھر اس کمرے میں صراحی رکھنے کے لئے آیا تو اس نے کھونٹی پر لکڑی کے ہینگر میں اس بلاؤز کو دیکھا۔ کمرے میں کوئی موجود نہیں تھا۔ چنانچہ آگے بڑھ کر پہلے اس نے غور سے دیکھا پھر ڈرتے ڈرتے اس پر ہاتھ پھیرا۔ ایسا کرتے ہوئے یوں لگا کہ کوئی اس کے جسم کے ملائم روؤں پر ہولے ہولے بالکل ہوائی لمس کی طرح ہاتھ پھیر رہا ہے۔

رات کو جب وہ سویا تو اس نے کئی اوٹ پٹانگ خواب دیکھے …. ڈپٹی صاحب نے پتھر کے کوئلوں کا ایک بڑا ڈھیر اسے کوٹنے کو کہا جب اس نے ایک کوئلہ اٹھایا اور اس پر ہتھوڑے کی ضرب لگائی تو وہ نرم نرم بالوں کا ایک گچھا بن گیا…. یہ کالی کھانڈ کے مہین مہین تار تھے جن کا گولا بنا ہوا تھا…. پھر یہ گولے کالے رنگ کے غبارے بن کر ہوا میں اڑنے شروع ہو گئے…. بہت اوپر جا کر یہ پھٹنے لگے …. پھر آندھی آ گئی اور مومن کی رومی ٹوپی کا پھندنا کہیں غائب ہو گیا…. پھندنے کی تلاش میں نکلا…. دیکھی اور ان دیکھی جگہوں میں گھومتا رہا…. نئے لٹھے کی بو بھی یہیں کہیں سے آنا شروع ہو گئی۔ پھر نہ جانے کیا ہوا…. ایک کالی ساٹن کی بلاؤز پر اس کا ہاتھ پڑا …. کچھ دیر تک وہ کسی دھڑکتی ہوئی چیز پر اپنا ہاتھ پھیرتا رہا۔ پھر دفعتہً ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ تھوڑی دیر تک وہ کچھ سمجھ نہ سکا کیا ہو گیا ہے۔ اس کے بعد اسے خوف، تعجب اور ایک انوکھی ٹھیس کا احساس ہوا۔ اس کی حالت اس وقت عجیب و غریب تھی…. پہلے اسے تکلیف دہ حرارت محسوس ہوئی۔ مگر چند لمحات کے بعد ایک ٹھنڈی سی لہر اس کے جسم میں رینگنے لگی۔

مس مالا

گانے لکھنے والا عظیم گوبند پوری جب اے بی سی پروڈکشنز میں ملازم ہوا تو اس نے فوراّ اپنے دوست میوزک ڈائریکٹر بھٹساوے کے متعلق سوچا جو مرہٹہ تھا اور عظیم کے ساتھ کئی فلموں میں کام کر چکا تھا۔ عظیم اس کی اہلیتوں کو جانتا تھا۔ سٹنٹ فلموں میں آدمی اپنے جوہر کیا دکھا سکتا ہے، بے چارہ گمنامی کے گوشے میں پڑا تھا۔

عظیم نے چنانچہ اپنے سیٹھ سے بات کی اور کچھ اس انداز میں کی کہ اس نے بھٹساوے کو بلایا اور اس کے ساتھ ایک فلم کا کنٹریکٹ تین ہزار روپوں میں کر لیا۔ کنٹریکیٹ پر دستخط کرتے ہی اسے پانچ سو روپے ملے جو اس نے اپنے قرض خواہوں کو ادا کر دیئے۔ عظیم گوبندپوری کا وہ بڑا شکر گزار تھا۔ چاہتا تھا کہ اس کی کوئی خدمت کرے، مگر اس نے سوچا آدمی بے حد شریف ہے اور بے غرض ۔۔۔ کوئی بات نہیں، آئندہ مہینے سہی۔ کیونکہ ہر ماہ اسے پانچ سو روپے کنٹریکٹ کی رُو سے ملنے تھے۔ اس نے عظیم سے کچھ نہ کہا۔ دونوں اپنے اپنے کام میں مشغول تھے۔

عظیم نے دس گانے لکھے جن میں سے سیٹھ نے چار پسند کیے۔ بھٹساوے نے موسیقی کے لحاظ سے صرف دو۔ ان کی اس نے عظیم کے اشتراک سے دھُنیں تیار کیں جو بہت پسند کی گئیں۔

پندرہ بیس روز ریہرسلیں ہوتی رہیں۔ فلم کا پہلا گانا کورس تھا۔ اس کے لیے کم از کم دو گویا لڑکیاں درکار تھیں۔ پروڈکشن منیجر سے کہا گیا۔ مگر جب وہ انتظام نہ کر سکا تو بھٹساوے نے مس مالا کو بلایا جس کی اچھی آواز تھی۔ اس کے علاوہ وہ پانچ چھ اور لڑکیوں کو جانتی تھی جو سُر میں گا لیتی تھیں۔ مس مالا کھانڈیکر جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے کولہاپور کی مرہٹہ تھی۔ دوسروں کے مقابلے میں اس کا اُردو تلفظ زیادہ صاف تھا۔ اس کو یہ زبان بولنے کا شوق تھا۔ عمر کی زیادہ بڑی نہیں تھی۔ لیکن اس کے چہرے کا ہر خدوخال اپنی جگہ پر پختہ، باتیں بھی اس انداز میں کرتی کہ معلوم ہوتا اچھی خاصی عمر کی ہے۔ زندگی کے اتار چڑھاؤ سے باخبر ہے۔ اسٹوڈیو کے ہر کارکن کو بھائی جان کہتی اور ہر آنے جانے والے سے بہت جلد گھل مل جاتی تھی۔

اس کو جب بھٹساوے نے بلایا تو وہ بہت خوش ہوئی۔ اس کے ذمے یہ کام سپرد کیا گیا کہ وہ فوراّ کورس کے لیے دس گانے والی لڑکیاں مہیا کر دے۔ وہ دوسرے روز ہی بارہ لڑکیاں لے آئی۔ بھٹساوے نے ان کا ٹسٹ لیا۔ سات کام کی نکلیں۔ باقی رخصت کر دی گئیں۔ اس نے سوچا کہ چلو ٹھیک ہے، سات ہی کافی ہیں۔ جگتاپ ساونڈ ریکارڈسٹ سے مشورہ کیا۔ اس نے کہا میں سب ٹھیک کر لوں گا۔ ایسی ریکارڈنگ کروں گا کہ لوگوں کو ایسا معلوم ہو گا کہ بیس لڑکیاں گا رہی ہیں۔

جگتاب اپنے فن کو سمجھتا تھا۔ چنانچہ اس نے ریکارڈنگ کے لئے ساونڈ پروف کمرے کے بجائے سازندوں اور گانے والیوں کو ایک ایسے کمرے میں بٹھایا جس کی دیواریں سخت تھیں۔ جن پر ایسا کوئی غلاف نہیں چڑھا ہوا تھا کہ آواز دب جائے۔ فلم “بے وفا “کا مہورت اسی کورس سے ہوا۔ سینکڑوں آدمی آئے۔ ان میں بڑے بڑے فلمی سیٹھ اور ڈسٹری بیوٹر تھے۔ اے بی سی پروڈکشنز کے مالک نے بڑا اہتمام کیا ہوا تھا۔

پہلے گانے کی دو چار ریہرسلیں ہوئیں۔ مس مالا کھانڈیکر نے بھٹساوے کے ساتھ پورا تعاون کیا۔

سات لڑکیوں کو فرداّ فرداّ آگاہ کیا کہ خبردار رہیں اور کوئی نقص پیدا نہ ہونے دیں۔ بھٹساوے پہلی ہی ریہرسل سے مطمئن تھا لیکن اس نے مزید اطمینان کی خاطر چند اور ریہرسلیں کرائیں۔ اس کے بعد جگتاپ سے کہا کہ وہ اپنا اطمینان کر لے۔ اس نے جب ساؤنڈ ٹریک میں یہ کورس پہلی مرتبہ ہیڈفون لگا کر سنا تو اس نے خوش ہو کے بہت اونچا “اوکے “کہہ دیا۔ ہر ساز اور ہر آواز اپنے صحیح مقام پر تھی۔

مہمانوں کے لیے مائکروفون کا انتظام کر دیا تھا۔ ریکارڈنگ شروع ہوئی تو اسے اون کر دیا گیا۔ بھٹساوے کی آواز بھونپو سے نکلی “سونگ نمبر ایک، ٹیک فرسٹ، ریڈی ون ٹو۔”اور کورس شروع ہو گیا۔

بہت اچھی کمپوزیشن تھی۔ سات لڑکیوں میں سے کسی ایک نے بھی کہیں غلط سُر نہ لگایا۔ مہمان بہت محظوظ ہوئے۔ سیٹھ، جو موسیقی کیا ہوتی ہے اس سے بھی قطعاًّ ناآشنا تھا، بہت خوش ہوا۔ اس لیے کہ سارے مہمان اس کورس کو تعریف کر رہے تھے۔ بھٹساوے نے سازندوں اور گانے والیوں کو شاباشیاں دیں۔ خاص طور پر اس نے مس مالا کا شکریہ ادا کیا جس نے اس کو اتنی جلدی گانے والیاں فراہم کر دیں۔ اس کے بعد وہ جگتاپ ساؤنڈ ریکارڈسٹ کے گلے مل رہا تھا۔ کہ اے بی سی پروڈکشنز کے مالک سیٹھ رنچھوڑ داس کا آدمی آیا کہ وہ اسے بلا رہے ہیں۔ عظیم گوبندپوری کو بھی۔

دونوں بھاگے، اسٹوڈیو کے اس سرے پر گئے جہاں محفل جمی تھی۔ سیٹھ صاحب نے سب مہمانوں کے سامنے ایک سو روپے کا سبز نوٹ انعام کے طور پر پہلے بھٹساوے کو دیا۔ پھر دوسرا عظیم گوبندپوری کو۔ وہ مختصر سا باغیچہ جس میں مہمان بیٹھے تھے، تالیوں کی آواز سے گونج اٹھا۔

جب مہورت کی یہ محفل برخواست ہوئی تو بھٹساوے نے عظیم سے کہا، “مال پانی ہے، چلو آؤٹ‌ ڈور چلیں۔”

عظیم اس کا مطلب نہ سمجھا، “آؤٹ‌ ڈور کہاں؟”

بھٹساوے مسکرایا، “مازے ملگے (میرے لڑکے ) موز شوک (موج شوق) کرنے جائیں گے۔ سو روپیہ تمہارے پاس ہے، سو ہمارے پاس ۔۔۔ چلو۔”

عظیم سمجھ گیا۔ لیکن وہ اس کے موز شوک (موج شوق) سے ڈرتا تھا، اس کی بیوی تھی، دو چھوٹے بچے بھی۔ اس نے کبھی عیاشی نہیں کی تھی۔ مگر اس وقت وہ خوش تھا۔ اس نے اپنے دل سے کہا “چلو رے ۔۔۔ دیکھیں گے کیا ہوتا ہے۔”

بھٹساوے نے فوراّ ٹیکسی منگوائی۔ دونوں اس میں بیٹھے اور گرانٹ روڈ پہنچے۔ عظیم نے پوچھا، “ہم کہاں جا رہے ہیں، بھٹساوے؟”وہ مسکرایا، “اپنی موسی کے گھر۔”

اور جب وہ اپنی موسی کے گھر پہنچے تو مس مالا کھانڈیکر کا گھر تھا۔ وہ ان دونوں سے بڑے تپاک کے ساتھ ملی۔ انہیں اندر اپنے کمرے میں لے گئی۔ ہوٹل سے چائے منگوا کر پلائی۔ بھٹساوے نے اس سے چائے پینے کے بعد کہا، “ہم موز شوک کے لیے نکلے ہیں۔ تمہارے پاس ۔۔۔ تم ہمارا کوئی بندوبست کرو۔”

مالا سمجھ گئی۔ وہ بھٹساوے کی احسان مند تھی۔ اس لیے اس نے فوراّ مرہٹی زبان میں کہا جس کا یہ مطلب تھا کہ میں ہر خدمت کے لیے تیار ہوں۔ دراصل بھٹساوے، عظیم کو خوش کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے کہ اس نے اس کو ملازمت دلوائی تھی۔ چنانچہ بھٹساوے نے مالا سے کہا کہ وہ ایک لڑکی مہیا کر دے۔

مس مالا نے اپنا میک اپ جلدی جلدی ٹھیک کیا اور تیار ہو گئی۔ سب ٹیکسی میں بیٹھے۔ پہلے مس مالا پلے بیک سنگر شانتا کرنا کرن کے گھر گئی۔ مگر وہ کسی اور کے ساتھ باہر جا چکی تھی۔ پھر وہ انسویا کے ہاں گئی مگر وہ اس قابل نہیں تھی کہ ان کے ساتھ مہم پر جا سکے۔

مس مالا کو بہت افسوس ہوا کہ اسے دو جگہ ناامیدی کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن اس کو امید تھی کہ معاملہ ہو جائے گا۔ چنانچہ ٹیکسی گول پیٹھا کی طرف لپکی۔ وہاں کرشنا تھی۔ پندرہ سولہ برس کی گجراتی لڑکی۔ بڑی نرم و نازک، سُر میں‌ گاتی تھی۔ مالا اس کے گھر داخل ہوئی اور چند لمحات کے بعد اس کو ساتھ لیے باہر نکل آئی۔ بھٹساوے کو اس نے ہاتھ جوڑ کے نمسکار کیا اور عظیم کو تھی۔ مالا نے ٹھیٹ دلالوں کے انداز میں عظیم کو آنکھ ماری اور گویا خاموش زبان میں اس سے کہا، “یہ آپ کے لیے ہے۔”

بھٹساوے نے اس پر نگاہوں ہی نگاہوں میں صاد کر دیا۔ کرشنا عظیم گوبندپوری کے پاس بیٹھ گئی۔ چونکہ اس کو مالا نے سب کچھ بتا دیا تھا، اس لیے وہ اس سے چہلیں کرنے لگی۔ عظیم لڑکیوں کا سا حجاب محسوس کر رہا تھا۔ بھٹساوے کو اس کی طبیعت کا علم تھا۔ اس لیے اس نے ٹیکسی ایک بار کے سامنے ٹھہرائی۔ صرف عظیم کو اپنے ساتھ اندر لے گیا۔

نغمہ نگار نے صرف ایک دو مرتبہ پی تھی۔ وہ بھی کاروباری سلسلے میں۔ یہ بھی کاروباری سلسلہ تھا۔ چنانچہ اس نے بھٹساوے کے اصرار پر دو پیگ رم کے پیئے اور اس کو نشہ ہو گیا۔ بھٹساوے نے ایک بوتل خرید کر اپنے ساتھ رکھ لی۔ اب وہ پھر ٹیکسی میں تھے۔

عظیم کو اس بات کا قطعاً علم نہیں تھا کہ اس کا دوست بھٹساوے دو گلاس اور سوڈے کی بوتلیں ساتھ لے آیا ہے۔

عظیم کو بعد میں معلوم ہوا کہ بھٹساوے پلے بیک سنگر کرشنا کی ماں سے یہ کہہ آیا تھا کہ جو کورس دن میں لیا گیا تھا، اس کے جتنے ٹیک تھے، سب خراب نکلے ہیں اس لیے رات کو پھر ریکارڈنگ ہو گی۔ اس کی ماں ویسے کرشنا کو باہر جانے کی اجازت کبھی نہ دیتی مگر جب بھٹساوے نے کہا کہ اسے اور روپے ملیں گے تو اس نے اپنی بیٹی سے کہا کہ جلدی جاؤ اور فارغ ہو کر سیدھی یہاں آؤ، وہاں اسٹوڈیو میں نہ بیٹھی رہنا۔

ٹیکسی ورلی پہنچی یعنی ساحل سمندر کے پاس۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں عیش پرست کسی نہ کسی عورت کو بغل میں دبائے آیا کرتے۔ ایک پہاڑی سی تھی، معلوم نہیں مصنوعی یا قدرتی ۔۔۔ اس پر چڑھتے ۔۔۔ کافی وسیع مرتفع قسم کی جگہ تھی۔

اس میں لمبے فاصلوں پر بنچیں رکھی ہوئی تھیں جن پر صرف ایک ایک جوڑا بیٹھتا۔ سب کے درمیان ان لکھا سمجھوتہ تھا کہ وہ ایک دوسرے کے معاملے میں مخل نہ ہوں۔ بھٹساوے نے جو عظیم کی دعوت کرنا چاہتا تھا، ورلی کی پہاڑی پر کرشنا کو اس کے سپرد کر دیا اور خود مالا کے ساتھ ٹہلتا ٹہلتا ایک جانب چلا گیا۔

عظیم اور بھٹساوے میں ڈیڑھ سو گز کا فاصلہ ہو گا۔ عظیم، جس نے غیر عورت کے درمیان ہزاروں میل کا فاصلہ محسوس کیا تھا، جب کرشنا کو اپنے ساتھ لگے دیکھا تو اس کا ایمان متزلزل ہو گیا۔ کرشنا ٹھیٹ مرہٹی لڑکی تھی، سانولی سلونی، بڑی مضبوط، شدید طور پر جوان اور اس میں وہ تمام دعوتیں تھیں جو پُر کشش کھُل کھیلنے والی میں ہو سکتی ہیں۔ عظیم چونکہ نشے میں تھا اس لیے وہ اپنی بیوی کو بھول گیا اور اس کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ کرشنا کو تھوڑے عرصے کے لیے بیوی بنا لے۔

اس کے دماغ میں مختلف شرارتیں پیدا ہو رہی تھیں۔ کچھ رم کے باعث اور کچھ کرشنا کی قربت کی وجہ سے۔ عام طور پر وہ بہت سنجیدہ رہتا تھا۔ بڑا کم گو۔ لیکن اس وقت اس نے کرشنا کے گدگدی کی۔ اس کو کئی لطیفے اپنی ٹوٹی پھوٹی گجراتی میں سنائے۔ پھر جانے اسے کیا خیال آیا کہ زور سے بھٹساوے کو آواز دی اور کہا، “پولیس آ رہی ہے۔ پولیس آ رہی ہے۔”

بھٹساوے مالا کے ساتھ آیا۔ عظیم کو موٹی سے گالی دی اور ہنسنے لگا۔ وہ سمجھ گیا تھا کہ عظیم نے اس سے مذاق کیا ہے۔ لیکن اس نے سوچا بہتر یہی ہے کسی ہوٹل میں چلیں جہاں پولیس کا خطرہ نہ ہو۔ چاروں اٹھ رہے تھے کہ پیلی پگڑی والا نمودار ہوا۔ اس نے ٹھیٹ سپاہیانہ انداز میں پوچھا، “تم لوگ رات کے گیارہ بجے یہاں کیا کر رہے ہو؟ مالوم نہیں دس بجے کے پیچھو یہاں بیٹھنا ٹھیک نہیں ہے؟ کانون ہے۔”

عظیم نے سنتری سے کہا، “جناب اپن فلم کا آدمی ہے۔”

“یہ چھوکری؟”اس نے کرشنا کی طرف دیکھا۔

“یہ بھی فلم میں کام کرتی ہے۔ ہم لوگ کسی بُرے خیال سے یہاں نہیں آئے۔ یہاں پاس ہی اسٹوڈیو ہے، اس میں کام کرتے ہیں۔ تھک جاتے ہیں تو یہاں چلے آتے ہیں کہ تھوڑی سی تفریح ہو گی۔ بارہ بجے ہماری شوٹنگ پھر شروع ہونے والی ہے۔”

پیلی پگڑی والا مطمئن ہو گیا۔ پھر وہ بھٹساوے سے مخاطب ہوا، “تم ادھر کیوں بیٹھا ہے؟”

بھٹساوے پہلے گھبرایا لیکن سنبھل کر اس نے مالا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں‌ لیا اور سنتری سے کہا، “یہ ہمارا وائف ہے۔ ہمارے ٹیکسی نیچے کھڑی ہے۔”

تھوڑی سی اور گفتگو ہوئی اور چاروں کی خلاصی ہو گئی۔ اس کے بعد انہوں نے ٹیکسی میں بیٹھ کر سوچا کہ کسی ہوٹل میں چلیں۔ عظیم کو ایسے ہوٹلوں کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا جہاں آدمی چند گھنٹوں کے لیے کسی غیر عورت کے ساتھ خلوت اختیار کر سکے۔ بھٹساوے نے بیکار اس سے مشورہ کیا۔ چنانچہ اس کو فوراّ ڈیوک یارڈ کا “سی ویو ہوٹل”یاد آیا اور اس نے ٹیکسی والے سے کہا کہ وہاں چلو۔ سی ویو ہوٹل میں بھٹساوے نے دو کمرے لیے۔ ایک میں عظیم اور کرشنا چلے گئے۔ دوسرے میں بھٹساوے اور مس کھانڈیکر۔ کرشنا بدستور مجسم دعوت تھی۔ لیکن عظیم جس نے دو پیگ اور پی لیے تھے، فلسفی رنگ اختیار کر چکا تھا۔ اس نے کرشنا کو غور سے دیکھا اور سوچا کہ اتنی کم عمر لڑکی نے گناہ کا یہ بھیانک رستہ کیوں اختیار کیا۔ خون کی کمی کے باوجود اس میں جنس کی اتنی تپش کیوں ہے؟ کب تک یہ نرم و نازک لڑکی جو گوشت نہیں کھاتی، کب تک اپنا گوشت پوست بیچتی رہے گی۔ عظیم کو اس پر بڑا ترس آیا۔ چنانچہ اس نے واعظ بن کر اس سے کہنا شروع کیا، “کرشنا معصیت کی زندگی سے کنارہ کش ہو جاؤ۔ خدا کے لیے اس راستے سے جس پر تم گامزن ہو، اپنے قدم ہٹا لو۔ یہ تمہیں ایسے مہیب غار میں لے جائے گا جہاں سے تم نکل نہ سکو گی۔ عصمت فروشی انسان کا بدترین فعل ہے۔ یہ رات اپنی زندگی کی روشن رات سمجھو۔ اس لیے کہ میں نے تمہیں نیک و بد سمجھا دیا ہے۔”کرشنا نے اس کا جو مطلب سمجھا وہ یہ تھا کہ عظیم اس سے محبت کر رہا ہے۔ چنانچہ وہ اس کے ساتھ چمٹ گئی۔ اور عظیم اپنا گناہ و ثواب کا مسئلہ بھول گیا۔

بعد میں وہ بڑا نادم ہوا۔ کمرے سے باہر نکلا تو بھٹساوے برآمدے میں ٹہل رہا تھا۔ کچھ اس انداز سے جیسے بھڑوں کے پورے چھتے کے ڈنک اس کے جسم میں کُھبے ہوئے ہیں۔ عظیم کو دیکھ کر وہ رک گیا۔ مطمئن کرشنا کی طرف نگاہ ڈالی اور پیچ و تاب کھا کر عظیم سے کہا، “وہ سالی چلی گئی۔”

عظیم جو اپنی ندامت میں ڈوبا ہوا تھا، چونکا، “کون؟”

“وہی – مالا۔”

“کیوں؟”

بھٹساوے کے لہجے میں عجیب و غریب احتجاج تھا، “ہم اس کو اتنا وقت چومتے رہے۔ جب بولا آؤ تو سالی کہنے لگی تم ہمارا بھائی ہے۔ ہم نے کسی سے شادی کر لی ہے۔”اور باہر نکل گئی۔ کہ وہ سالا گھر میں آ گیا ہو گا۔

دھواں

وہ جب اسکول روانہ ہوا تو اس نے راستے میں ایک قصائی دیکھا جس کے سر پر ایک بہت بڑا ٹوکرا تھا۔ اس میں دو تازہ ذبح کیئے ہوئے بکرے تھے۔ کھالیں اتری ہوئی تھیں اور ان کے گوشت میں سے دھواں اُٹھ رہا تھا۔ جگہ جگہ پر یہ گوشت جس کو دیکھ کر مسعود کے ٹھنڈے گالوں پر گرمی کی لہریں سی دوڑ جاتی تھیں، پھڑک رہا تھا جیسے کبھی کبھی اس کی آنکھ پھڑکا کرتی تھی۔

سوا نو بجے ہوں گے، مگر جھکے ہوئے خاکستری بادلوں کے باعث ایسا معلوم ہوتا تھا کہ بہت سویرا ہے۔ سردی میں شدت نہیں تھی، لیکن راہ چلتے آدمیوں کے منہ سے گرم گرم سماوار کی ٹونٹیوں کی طرح گاڑھا سفید دھواں نکل رہا تھا۔ ہر شئے بوجھل دکھائی دیتی تھی جیسے بادلوں کے وزن کے نیچے دبی ہوئی ہے۔، موسم کچھ ویسی ہی کیفیت کا حامل تھا جو ربڑ کے جوتے پہن کر چلنے سے پیدا ہوتی ہے۔ اس کے باوجود کہ بازار میں لوگوں کی آمد و رفت جاری تھی اور دکانوں میں زندگی کے آثار پیدا ہو چکے تھے، آوازیں مدھم تھیں، جیسے سرگوشیاں ہو رہی ہیں، چپکے چپکے، دھیرے دھیرے باتیں ہو رہی ہیں۔ ہولے ہولے لوگ قدم اٹھا رہے ہیں کہ اونچی آواز پیدا نہ ہو۔

مسعود بغل میں بستہ دبائے اسکول جا رہا تھا۔ آج اس کی چال سُست تھی۔ جب اس نے بے کھال کے تازہ ذبح کئے ہوئے بکروں کے گوشت سے سفید سفید دھواں اٹھتا دیکھا تو اسے راحت محسوس ہوئی۔ اس دھوئیں نے اس کے ٹھنڈے گالوں پر گرم گرم لکیروں کا ایک جال سا بُن دیا۔ اس گرمی نے اسے راحت پہنچائی اور وہ سوچنے لگا کہ سردیوں میں ٹھنڈے یخ ہاتھوں پر بید کھانے کے بعد اگر یہ دھواں مل جایا کرے تو کتنا اچھا ہو۔

فضا میں اجلا پن نہیں تھا۔ روشنی تھی مگر دھندلی۔ کہر کی ایک پتلی سے تہہ ہر شے پر چڑھی ہوئی تھی جس سے فضا میں گدلا پن پیدا ہو گیا تھا۔ یہ گدلا پن آنکھوں کو اچھا معلوم ہوتا تھا، اس لئے کہ نظر آنے والی چیزوں کی نوک پلک کچھ مدھم پر گئی تھی۔

مسعود جب اسکول پہنچا تو اسے اپنے ساتھیوں سے یہ معلوم کر کے قطعی طور پر خوشی نہ ہوئی کہ اسکول سکتر صاحب کی موت کے باعث بند کر دیا گیا ہے۔ سب لڑکے خوش تھے، جس کا ثبوت یہ تھا کہ وہ اپنے بستے ایک جگہ پر رکھ کر اسکول کے صحن میں اوٹ پٹانگ کھیلوں میں مشغول تھے۔ کچھ چھٹی کا پتہ معلوم کرتے ہی گھر چلے گئے تھے، کچھ آ رہے تھے اور کچھ نوٹس بورڈ کے پاس جمع تھے، اور بار بار ایک ہی عبارت پڑھ رہے تھے۔

مسعود نے جب سنا کہ سکتر صاحب مر گئے ہیں تو اسے بالکل افسوس نہ ہوا۔ اس کا دل جذبات سے خالی تھا۔ البتہ اس نے یہ ضرور سوچا کہ پچھلے برس جب اس کے دادا جان کا انتقال انہی دنوں میں ہوا تھا تو ان کا جنازہ لے جانے میں بڑی دقت ہوئی تھی۔ اس لیے کہ بارش شروع ہو گئی تھی۔ وہ بھی جنازے کے ساتھ گیا تھا اور قبرستان میں چکنی کیچڑ کے باعث ایسا پھسلا تھا کہ کُھدی ہوئی قبر میں گرتے گرتے بچا تھا۔ یہ سب باتیں اس کو اچھی طرح یاد تھیں۔ سردی کی شدت، اس کے کیچڑ سے لت پت کپڑے، سرخی مائل نیلے ہاتھ جن کو دبانے سے سفید سفید دھبے پڑ جاتے تھے۔ ناک جو کہ برف کی ڈلی معلوم ہوتی تھی اور پھر آ کر ہاتھ پاؤں دھونے اور کپڑے بدلنے کا مرحلہ ۔۔۔ یہ سب کچھ اس کو اچھی طرح یاد تھا۔ چنانچہ جب اس نے سکتر صاحب کی موت کی خبر سنی تو اسے یہ سب بیتی ہوئی باتیں یاد آ گئیں۔ اور اس نے سوچا جب سکتر صاحب کا جنازہ اٹھے گا تو بارش شروع ہو جائے گی اور قبرستان میں اتنی کیچڑ ہو جائے گی کہ کئی لوگ پھسلیں گے اور ان کو ایسی چوٹیں آئیں گی کہ بلبلا اٹھیں گے۔

مسعود نے یہ خبر سن کر سیدھا اپنی کلاس کا رخ کیا۔ کمرے میں پہنچ کر اس نے اپنے ڈیسک کا تالا کھولا۔ دو تین کتابیں جو اسے دوسرے روز پھر لانا تھیں، اس میں رکھیں اور باقی بستہ اٹھا کر گھر کی جانب چل پڑا۔

راستے میں اس نے پھر وہی دو تازہ ذبح کیئے ہوئے بکرے دیکھے۔ ان میں سے ایک کو اب قصائی نے لٹکا دیا تھا۔ دوسرا تختے پر پڑا تھا۔ جب مسعود دکان سے گزرا تو اس کے دل میں‌ خواہش پیدا ہوئی کہ وہ گوشت کو جس میں سے دھواں اٹھ رہا تھا، چھو کر دیکھے۔ چنانچہ اس نے آگے بڑھ کر انگلی سے بکرے کے اس حصے کو چھو کر دیکھا جو ابھی تک پھڑک رہا تھا۔ گوشت گرم تھا۔ مسعود کی ٹھنڈی انگلی کو یہ حرارت بھلی معلوم ہوئی۔ قصائی دکان کے اندر چھریاں تیز کرنے میں مصروف تھا۔ چنانچہ مسعود نے ایک بار پھر گوشت کو چھو کر دیکھا اور وہاں سے چل پڑا۔

گھر پہنچ کر اس نے جب اپنی ماں کو سکتر صاحب کی موت کی خبر سنائی تو اسے معلوم ہوا کہ اس کے ابا جی انہی کے جنازے کے ساتھ گئے ہوئے ہیں۔ اب گھر میں صرف دو آدمی تھے۔ ماں اور بڑی بہن۔ ماں باورچی خانے میں بیٹھی سالن پکا رہی تھی اور بڑی بہن کلثوم پاس ہی ایک کانگڑی لیے درباری کی سرگم یاد کر رہی تھی۔

چونکہ گلی کے دوسرے لڑکے گورنمنٹ اسکول میں پڑھتے تھے جس پر اسلامیہ اسکول کے سکتر کی موت کا کچھ اثر نہیں ہوا تھا، اس لیے مسعود نے خود کو بالکل بیکار محسوس کیا۔ اسکول کا کوئی کام بھی نہیں تھا۔ چھٹی جماعت میں جو کچھ پڑھایا جاتا ہے وہ گھر میں اپنے ابا جی سے پڑھ چکا تھا۔ کھیلنے کے لیے بھی اس کے پاس کوئی چیز نہ تھی۔ ایک میلا کچیلا تاش طاق میں پڑا تھا مگر اس سے مسعود کو کوئی دلچسپی نہ تھی۔ لوڈو اور اس قسم کے دوسرے کھیل جو اس کی بڑی بہن اپنی سہیلیوں کے ساتھ ہر روز کھیلتی تھی، اس کی سمجھ سے بالاتر تھے۔ سمجھ سے بالاتر یوں تھے کہ مسعود نے کبھی ان کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی تھی۔ اس کو فطرتاّ ایسے کھیلوں سے لگاؤ نہیں تھا۔

بستہ اپنی جگہ پر رکھنے اور کوٹ اتارنے کے بعد وہ باورچی خانے میں اپنی ماں کے پاس بیٹھ گیا اور درباری کی سرگم سنتا رہا جس میں کئی دفعہ سارے گاما آتا تھا۔ اس کی ماں پالک کاٹ رہی تھی۔ پالک کاٹنے کے بعد اس نے سبز سبز پتوں کا گیلا گیلا ڈھیر اٹھا کر ہنڈیا میں ڈال دیا۔ تھوڑی دیر کے بعد جب پالک کو آنچ لگی تو اس میں سے سفید سفید دھواں اٹھنے لگا۔

اس دھوئیں کو دیکھ کر مسعود کو بکرے کا گوشت یاد آ گیا۔ چنانچہ اس نے اپنی ماں سے کہا “امی جان آج میں نے قصائی کی دکان پر دو بکرے دیکھے کھال اتری ہوئی تھی اور ان میں دھواں نکل رہا تھا۔ بالکل ایسے ہی جیسا کہ صبح سویرے میرے منہ سے نکلا کرتا ہے۔”

“اچھا ۔۔۔ “یہ کہہ کر اس کی ماں چولہے میں لکڑیوں کے کوئلے جھاڑنے لگی۔

“ہاں، اور میں نے گوشت کو اپنی انگلی سے چھُو کر دیکھا تو وہ گرم تھا۔”

“اچھا ۔۔۔ “یہ کہہ کر اس کی ماں نے وہ برتن اٹھایا جس میں اس نے پالک کا ساگ دھویا تھا اور باورچی خانے سے باہر چلی گئی۔

“اور یہ گوشت کئی جگہ پر پھڑکتا تھا۔”

“اچھا ۔۔۔”مسعود کی بڑی بہن نے درباری سرگم یاد کرنا چھوڑ دی اور اس کی طرف متوجہ ہوئی، “کیسے پھڑکتا تھا؟”

“یوں ۔۔۔ یوں۔”مسعود نے انگلیوں سے پھڑکن پیدا کر کے اپنی بہن کو دکھائی۔

“پھر کیا ہوا؟”

یہ سوال کلثوم نے اپنے سرگم بھرے دماغ سے کچھ اس طور پر نکالا کہ مسعود ایک لحظے کے لیے بالکل خالی الذہن ہو گیا۔ “پھر کیا ہونا تھا۔ میں نے ایسے ہی آپ سے بات کی تھی کہ قصائی کی دکان پر گوشت پھڑک رہا تھا۔ میں نے انگلی سے چھُو کر بھی دیکھا تھا۔ گرم تھا۔”

“گرم تھا۔۔۔۔ اچھا مسعود، یہ بتاؤ تم میرا ایک کام کرو گے؟”

“بتائیے۔”

“آؤ، میرے ساتھ آؤ۔”

“نہیں آپ پہلے بتائیے۔ کام کیا ہے؟”

“تم آؤ تو سہی، میرے ساتھ۔”

“جی نہیں ۔۔۔ آپ پہلے کام بتائیے۔”

“دیکھو، میری کمر میں بڑا درد ہو رہا ہے ۔۔۔ میں پلنگ پر لیٹتی ہوں۔ تم ذرا پاؤں سے دبا دینا ۔۔۔ اچھے بھائی جو ہوئے۔ اللہ کی قسم بڑا درد ہو رہا ہے۔”یہ کہہ کر مسعود کی بہن نے اپنی کمر پر مکیاں مارنا شروع کر دیں۔

“یہ آپ کی کمر کو کیا ہو جاتا ہے؟ جب دیکھو درد ہو رہا ہے۔ اور پھر آپ دبواتی بھی مجھی سے ہیں۔ کیوں نہیں اپنی سہلیوں سے کہتیں۔”مسعود اٹھ کھڑا ہوا اور راضی ہو گیا۔

“چلیئے، لیکن آپ سے یہ کہے دیتا ہوں کہ دس منٹ سے زیادہ میں بالکل نہیں دباؤں گا۔”

“شاباش، شاباش۔”اس کی بہن اٹھ کھڑی ہوئی اور سرگموں کی کاپی سامنے طاق میں رکھ کر اس کمرے کی طرف روانہ ہوئی جہاں وہ اور مسعود دونوں سوتے تھے۔

صحن میں پہنچ کر اس اپنی دکھتی ہوئی کمر سیدھی کی اور اوپر آسمان کی طرف دیکھا۔ مٹیالے بادل جھکے ہوئے تھے “مسعود آج ضرور بارش ہو گی۔”یہ کہہ کر اس نے مسعود کی طرف دیکھا مگر وہ اندر اپنی چارپائی پر لیٹا تھا۔

جب کلثوم اپنے پلنگ پر اوندھے منہ لیٹ گئی تو مسعود نے اٹھ کر گھڑی میں وقت دیکھا۔ “دیکھیئے باجی، گیارہ بجنے میں دس منٹ باقی ہیں۔ میں پورے گیارہ بجے آپ کی کمر دابنا چھوڑ دوں گا۔

“بہت اچھا، لیکن تم اب خدا کے لیے زیادہ نخرے نہ بگھارو۔ ادھر میرے پلنگ پر آ کر جلدی کمر دباؤ۔ ورنہ یاد رکھو، بڑے زور سے کان اینٹھوں گی۔”کلثوم نے مسعود کو ڈانٹ پلائی۔ مسعود نے اپنی بڑی بہن کے حکم کی تعمیل کی اور دیوار کا سہارا لے کر پاؤں سے اس کی کمر دبانا شروع کر دی۔ مسعود کے وزن کے نیچے کلثوم کی چوڑی چکلی کمر میں خفیف سا جھکاؤ پیدا ہو گیا۔ جب اس نے پیروں سے دبانا شروع کیا۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح مزدور مٹی گوندھتے ہیں، تو کلثوم نے مزا لینے کی خاطر ہولے ہولے، ہائے ہائے کرنا شروع کیا۔

کلثوم کے کولھوں پر گوشت زیادہ تھا۔ جب مسعود کا پاؤں اس حصے پر پڑا تو اسے ایسا محسوس ہوا کہ وہ اس بکرے کے گوشت کو دبا رہا ہے جو اس نے قصائی کی دکان میں اپنی انگلی سے چھو کر دیکھا تھا۔ اس احساس نے چند لمحات کے لیے اس کے دل و دماغ میں ایسے خیالات پیدا کر دیئے جن کا کوئی سر تھا نہ پیر۔ وہ ان کا مطلب نہ سمجھ سکا اور سمجھتا بھی کیسے جبکہ کوئی خیال مکمل ہی نہ تھا۔

ایک دو بار مسعود نے یہ بھی محسوس کیا کہ اس کے پیروں کے نیچے گوشت کے لوتھڑوں میں حرکت پیدا ہوئی ہے۔ اس قسم کی حرکت جو اس نے بکرے کے گرم گرم گوشت میں دیکھی تھی۔ اس نے بڑی بد دلی سے کمر دبانا شروع کی تھی، مگر اس اسے اس کام میں لذت محسوس ہونے لگی۔ اس کے وزن کے نیچے کلثوم ہولے ہولے کراہ رہی تھی۔ یہ بھینچی بھینچی آواز جو مسعود کے پیروں کی حرکت کا ساتھ دے رہی تھی، اس گمنام سی لذت میں اضافہ کر رہی تھی۔

ٹائم پیس میں گیارہ بج گئے، مگر مسعود اپنی بہن کلثوم کی کمر دباتا رہا۔ جب کمر اچھی طرح دبائی جا چکی تو کلثوم سیدھی لیٹ گئی اور کہنے لگی، “شاباش مسعود، شاباش، لو اب لگے ہاتھوں ٹانگیں بھی دبا دو۔ بالکل اسی طرح ۔۔۔ شاباش میرے بھائی۔”

مسعود نے دیوار کا سہارا لے کر کلثوم کی رانوں پر جب اپنا پورا وزن ڈالا تو اس کے پاؤں کے نیچے مچھلیاں تڑپ گئیں۔ بے اختیار وہ ہنس پڑی اور دہری ہو گئی۔ مسعود گرتے گرتے بچا۔ لیکن اس کے تلووں میں مچھلیوں کی تڑپ منجمد سی ہو گئی۔ اس کے دل میں زبردست خواہش پیدا ہوئی کہ وہ پھر اسی طرح دیوار کا سہارا لے کر اپنی بہن کی رانیں دبائے۔ چنانچہ اس نے کہا، “یہ آپ نے ہنسنا کیوں شروع کر دیا۔ سیدھی لیٹ جائیے، میں آپ کی ٹانگیں دبا دوں۔”

کلثوم سیدھی لیٹ گئی۔ رانوں کی مچھلیاں ادھر ادھر ہونے کے باعث جو گُدگُدی ہوئی تھی، اس کا اثر ابھی اس کے جسم میں باقی تھا۔ “نا بھائی، میرے گُدگُدی ہوتی ہے۔ تم وحشیوں کی طرح دباتے ہو۔”

مسعود نے خیال کیا کہ شاید اس نے غلط طریقہ استعمال کیا ہے۔ “نہیں، اب کی دفعہ میں پورا بوجھ آپ پر نہیں ڈالوں ۔۔۔ آپ اطمینان رکھیے۔ اب ایسی اچھی طرح دباؤں گا کہ آپ کو کوئی تکلیف نہ ہو گی۔”

دیوار کا سہارا لے کر مسعود نے اپنے جسم کو تولا اور اس انداز سے آہستہ آہستہ کلثوم کی رانوں پر اپنے پیر جمائے کہ اس کا آدھا بوجھ غائب ہو گیا۔ ہولے ہولے بڑی ہوشیاری سے اس نے پیر چلانے شروع کیئے۔ کلثوم کی رانوں میں اکڑی ہوئی مچھلیاں اس کے پیروں کے نیچے دب دب کر ادھر ادھر پھسلنے لگیں۔ مسعود نے ایک بار اسکول میں تنے ہوئے رسے پر ایک بازیگر کر چلتے دیکھا تھا۔ اس نے سوچا کہ بازی گر کے پیروں کے نیچے تنا ہوا رسا اسی طرح پھسلتا ہو گا۔

اس سے پہلے کئی بار اس نے اپنی بہن کلثوم کی ٹانگیں دبائی تھیں۔ مگر وہ لذت جو اسے اب محسوس ہو رہی تھی، پہلے کبھی محسوس نہیں ہوئی تھی۔ بکرے کے گرم گرم گوشت کا اسے بار بار خیال آتا تھا۔ ایک دو مرتبہ اس نے سوچا کلثوم کو اگر ذبح کیا جائے تو کھال اتر جانے پر کیا اس کے گوشت میں سے بھی دھواں نکلے گا؟ لیکن ایسی بیہودہ باتیں سوچنے پر اس نے اپنے آپ کو مجرم محسوس کیا اور دماغ کو اس طرح صاف کر دیا جیسے وہ سلیٹ کو اسفنج سے صاف کیا کرتا تھا۔

“بس، بس “کلثوم تھک گئی “چلیں بس۔”

مسعود کو شرارت سوجی۔ وہ پلنگ سے نیچے اترنے لگا تو اس نے کلثوم کی دونوں بغلوں میں گُدگُدی شروع کر دی۔ ہنسی کے مارے وہ لوٹ پوٹ ہو گئی۔ اتنی سکت نہیں تھی کہ وہ مسعود کے ہاتھوں کو پرے جھٹک دے لیکن جب اس ارادہ کر کے اس کے لات جمانی چاہی تو مسعود اچھل کر زد سے باہر ہو گیا اور سلیپر پہن کر کمرے سے نکل گیا۔

جب وہ صحن میں داخل ہوا تو اس نے دیکھا کہ ہلکی ہلکی بوندا باندی ہو رہی ہے۔ بادل اور بھی جھک آئے تھے۔ پانی کے ننھے ننھے قطرے آواز پیدا کیے بغیر صحن کی اینٹوں میں آہستہ آہستہ جذب ہو رہے تھے۔ مسعود کا جسم ایک دلنواز حرارت محسوس کر رہا تھا۔ جب ہوا کا ٹھنڈا ٹھنڈا جھونکا اس کے گالوں کے ساتھ مس ہوا اور دو تین ننھی ننھی بوندیں اس کے ناک پر پڑیں تو ایک جھُرجھُری سی اس کے بدن میں لہرا اٹھی۔ سامنے، کوٹھے کی دیورا پر ایک کبوتر اور ایک کبوتری پاس پاس پر پھُلائے بیٹھے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ دونوں دم پخت کی ہوئی ہنڈیا کی طرح گرم ہیں۔ گلِ داؤدی اور نازبُو کے ہرے ہرے پتے اوپر لال لال گملوں میں نہا رہے تھے۔ فضا میں نیندیں کھلی ہوئی تھیں۔ ایسی نیندیں جن میں بیداری زیادہ ہوتی ہے اور انسان کے ارد گرد نرم نرم خواب یوں لپٹ جاتے ہیں جیسے اُونی کپڑے۔

مسعود ایسی باتیں سوچنے لگا جن کا مطلب اس کی سمجھ میں‌ نہیں آتا تھا۔ وہ ان باتوں کو چھُو کر دیکھ سکتا تھا مگر ان کا مطلب اس کی گرفت سے باہر تھا۔ پھر بھی ایک گمنام سا مزا اس سوچ بچار میں اسے آ رہا تھا۔

بارش میں کچھ دیر کھڑے رہنے کے باعث جب مسعود کے ہاتھ بالکل یخ ہو گئے اور دبانے سے ان پر سفید دھبے پڑنے لگے تو اس نے مٹھیاں کس لیں اور ان کو منہ کی بھاپ سے گرم کرنا شروع کیا۔ ہاتھوں کو اس عمل سے کچھ گرمی پہنچی مگر وہ تم آلود ہو گئے۔ چنانچہ آگ تاپنے کے لیے وہ باورچی خانے میں چلا گیا۔ کھانا تیار تھا۔ ابھی اس پہلا لقمہ ہی اٹھایا تھا کہ اس کا باپ قبرستان سے واپس آ گیا۔ باپ بیٹے میں کوئی بات نہ ہوئی۔ مسعود کی ماں اٹھ کر فوراّ دوسرے کمرے میں چلی گئی اور وہاں دیر تک اپنے خاوند کے ساتھ باتیں کرتی رہی۔

کھانے سے فارغ ہو کر مسعود بیٹھک میں چلا گیا اور کھڑکی کھول کر فرش پر لیٹ گیا۔ بارش کی وجہ سے سردی کی شدت بڑھ گئی تھی۔ کیونکہ اب ہوا بھی چل رہی تھی۔ مگر یہ سردی ناخوشگوار معلوم نہیں ہوتی تھی۔ تالاب کے پانی کی طرح یہ اوپر ٹھنڈی اور اندر گرم تھی۔ مسعود جب فرش پر لیٹا تو اس کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ وہ اس سردی کے اندر دھنس جائے جہاں اس کے جسم کو راحت انگیز گرمی پہنچے۔ دیر تک وہ ایسی شیر گرم باتوں کے متعلق سوچتا رہا جس کے باعث اس کے پٹھوں میں ہلکی ہلکی دکھن پیدا ہو گئی۔ ایک دو بار اس نے انگڑائی لی تو اسے مزا آیا۔ اس کے جسم کے کسی حصے میں، یہ اس کو معلوم نہیں تھا کہ کہاں کوئی چیز اٹک سی گئی تھی، یہ چیز کیا تھی۔ اس کے متعلق بھی مسعود کو علم نہیں تھا۔ البتہ اس اٹکاؤ نے اس کے سارے جسم میں اضطراب، ایک دبے ہوئے اضطراب کی کیفیت پیدا کر دی تھی۔ اس کا سارا جسم کھینچ کر لمبا ہو جانے کا ارادہ بن گیا تھا۔

دیر تک گدگدے قالین پر کروٹیں بدلنے کے بعد وہ اٹھا اور باورچی خانے سے ہوتا ہوا صحن میں آ نکلا۔ کوئی باورچی خانے میں تھا نہ صحن میں۔ ادھر ادھر جتنے کمرے تھے، سب کے سب بند تھے۔ بارش اب رکھ گئی تھی۔ مسعود نے ہاکی اور گیند نکالی اور صحن میں کھیلنا شروع کر دیا۔ ایک بار جب اس نے زور کی ہٹ لگائی تو گیند صحن کے دائیں ہاتھ والے کمرے کے دروازے پر لگی۔ اندر سے مسعود کے باپ کی آواز آئی “کون؟”

“جی میں ہوں، مسعود۔”

اندر سے آواز آئی “‌کیا کر رہے ہو؟”

“جی کھیل رہا ہوں۔”

“کھیلو۔۔۔۔۔۔”پھر تھوڑے سے توقف کے بعد اس کے باپ نے کہا، “‌ تمہاری ماں میرا سر دبا رہی ہے ۔۔۔ زیادہ شور نہ مچانا۔”

یہ سن کر مسعود نے گیند وہیں پڑی رہنے دی اور ہاکی ہاتھ میں‌ لیے سامنے والے کمرے کا رخ کیا۔ اس کا ایک دروازہ بند تھا اور دوسرا نیم باز ۔۔۔ مسعود کو شرارت سوجھی۔ دبے پاؤں وہ نیم باز دروازے کی طرف بڑھا اور دھماکے کے ساتھ دونوں پٹ کھول دیئے۔ دو چیخیں بلند ہوئیں اور کلثوم اور اس کی سہیلی بملا نے جو پاس پاس لیٹی تھیں خوفزدہ ہو کر جھٹ سے لحاف اوڑھ لیا۔

بملا کے بلاؤز کے بٹن کھلے ہوئے تھے اور کلثوم اس کے عریاں سینے کو گھور رہی تھی۔

مسعود کچھ سمجھ نہ سکا۔ اس کے دماغ پر دھواں سے چھا گیا۔ وہاں سے الٹے قدم لوٹ کر وہ جب بیٹھک کی طرف روانہ ہوا تو اسے معاًّ اپنے اندر ایک اتھاہ طاقت کا احساس ہوا جس نے کچھ دیر کے لیے اس کی سوچنے سمجھنے کی قوت بالکل کمزور کر دی۔

بیٹھک میں کھڑکی کے پاس بیٹھ کر جب مسعود نے ہاکی کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر گھٹنے پر رکھا تو یہ سوچا کہ ہلکا سا دباؤ ڈالنے پر بھی ہاکی میں خم پیدا ہو جائے گا اور زیادہ زور لگانے پر تو ہینڈل چٹاخ سے ٹوٹ جائے گا۔ اس نے گھٹنے پر ہاکی کے ہینڈل میں خم تو پیدا کر لیا مگر زیادہ سے زیادہ زور لگانے پر بھی وہ ٹوٹ نہ سکا۔ دیر تک وہ ہاکی کے ساتھ کشتی لڑتا رہا۔ جب تھک کر ہار گیا تو جھنجھلا کر اس نے ہاکی پرے پھینک دی۔

جاؤ، حنیف جاؤ

چودھری غلام عباس کی تازہ ترین تقریر پر تبادلہ خیالات ہو رہا تھا۔ ٹی ہاؤس کی فضا وہاں کی چائے کی طرح گرم تھی۔ سب اس بات پر متفق تھے کہ ہم کشمیر لے کر رہیں گے اور یہ کہ ڈوگرہ راج کا فی الفور خاتمہ ہو جانا چاہیے۔

سب کے سب مجاہد تھے۔ لڑائی کے فن سے نابلد تھے، مگر میدان جنگ میں جانے کے لیے سر بکف تھے۔ اس کا خیال تھا کہ اگر ایک دم ہلہ بول دیا جائے تو یوں چٹکیوں میں کشمیر سر ہو جائے گا۔ پھر ڈاکٹر گراہموں کی کوئی ضرورت نہ رہے گی، نہ یو این او میں ہر چھٹے مہینے گڑگڑانا پڑے گا۔

ان مجاہدوں میں میں بھی تھا۔ مصیبت یہ ہے کہ پنڈت جواہر لال نہرو کی طرح میں تھی کشمیری ہوں۔ اس لیے کشمیر میری زبردست کمزوری ہے۔ چنانچہ میں نے باقی مجاہدوں کی ہاں میں ہاں ملائی۔ اور آخر میں طے یہ ہوا کہ جب لڑائی شروع ہو تو ہم سب اس میں شامل ہوں اور صفِ اول میں نظر آئیں۔

حنیف نے یوں تو کافی گرم جوشی کا اظہار کیا، مگر میں نے محسوس کیا کہ وہ افسردہ سا ہے۔ میں نے بہت سوچا مگر مجھے اس افسردگی کی کوئی وجہ معلوم نہ ہو سکی۔

چائے پی کر باقی سب چلے گئے، لیکن میں اور حنیف بیٹھے رہے۔ اب ٹی ہاؤس قریب قریب خالی تھا۔ ہم سے بہت دور ایک کونے میں دو لڑکے ناشتہ کر رہے تھے۔

حنیف کو میں ایک عرصے سے جانتا تھا۔ مجھ سے قریب قریب دس برس چھوٹا تھا۔ بی-اے پاس کرنے کے بعد سوچ رہا تھا کہ اردو کا ایم-اے کروں یا انگریزی کا۔ کبھی کبھی اس کے دماغ پر یہ سنک بھی سوار ہو جاتی کہ ہٹاؤ پڑھائی کو، سیاحی کرنی چاہیے۔

میں نے حنیف کو غور سے دیکھا۔ وہ ایش ٹرے میں سے ماچس کی جلی ہوئی تیلیاں اٹھا اٹھا کر ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر رہا تھا۔ جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں، وہ افسردہ تھا۔ اس وقت بھی اس کے چہرے پر وہی افسردگی چھائی ہوئی تھی۔ میں نے سوچا موقع اچھا ہے، اس سے دریافت کرنا چاہیے۔ چنانچہ میں نے اس سے کہا، “تم خاموش کیوں ہو؟”

حنیف نے اپنا جھکا ہوا سر اٹھایا۔ ماچس کی تیلی کے ٹکڑے کر کے ایک طرف پھینکے اور جواب دیا، “ایسے ہی۔”

میں نے سگریٹ سلگایا، “ایسے ہی، تو ٹھیک جواب نہیں۔ ہر چیز کی کوئی نہ کوئی وجہ ضرور ہوتی ہے ۔۔۔ تم غالباً کسی بیتے ہوئے واقعے کے متعلق سوچ رہے ہو۔”

حنیف نے اثبات میں سر ہلایا، “ہاں۔”

“اور وہ واقعہ کشمیر کی سرزمین سے تعلق رکھتا ہے۔”

حنیف چونکا، “اپ نے کیسے جانا؟”

میں نے مسکرا کر کہا، “شرلک ہومز ہوں میں بھی ۔۔۔ ارے بھئی کشمیر کی باتیں جو ہو رہی تھیں ۔۔۔ جب تم نے مال لیا کہ سوچ رہے ہو ۔۔۔ کسی بیتے ہوئے واقعے کے متعلق سوچ رہے ہو تو میں فوراً اس نتیجے پر پہنچ گیا کہ اس بیٹے ہوئے واقعے کا تعلق کشمیر کے سوا اور کسی سرزمین سے نہیں ہو سکتا ۔۔۔ کیا وہاں کوئی رومان لڑا تھا تمہارا؟”

“رومان ۔۔۔ معلوم نہیں ۔۔۔ جانے کیا تھا۔ بہرحال، کچھ نہ کچھ ہوا ضرور تھا۔ جس کی یاد اب تک باقی ہے۔”

میری خواہش تھی کہ میں حنیف سے اس کی داستان سنوں۔ “اگر کوئی امر مانع نہ ہو تو کیا تم مجھے بتا سکتے ہو کہ وہ کچھ نہ کچھ کیا تھا؟”

حنیف نے مجھ سے سگریٹ مانگ کر سلگایا اور کہا، “منٹو صاحب، کوئی خاص دلچسپ نہیں ۔۔۔ لیکن اگر آپ خاموشی سے سنتے رہیں گے اور مجھے ٹوکیں گے نہیں تو میں آج سے تین برس پہلے جو کچھ ہوا، آپ کو من و عن بتا دوں گا ۔۔۔ میں افسانہ گو نہیں ۔۔۔ پھر بھی میں کوشش کروں گا۔”

میں نے وعدہ کیا کہ میں اس کے تسلسل کو نہیں توڑوں گا۔ اصل میں وہ اب دل و دماغ کی گہرائیوں میں ڈوب کر اپنی داستان بیان کرنا چاہتا تھا۔

حنیف نے تھوڑے توقف کے بعد کہنا شروع کیا، “منٹو صاحب، آج سے دو برس پہلے کی بات ہے جب کہ بٹوارہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ گرمیوں کا موسم تھا۔ میری طبیعت اداس تھی۔ معلوم نہیں کیوں ۔۔۔ میرا خیال ہے کہ ہر کنوارہ نوجوان اس قسم کے موسم میں ضرور اداسی محسوس کرتا ہے۔ خیر، میں نے ایک روز کشمیر جانے کا ارادہ کر لیا۔ مختصر سا سامان لیا اور لاریوں کے اڈے پر جا پہنچا۔ ٹکٹ لیا۔ لاری جب کد پہنچی تو میرا ارادہ بدل گیا۔ میں نے سوچا سری نگر میں کیا دھرا ہے، بیسیوں مرتبہ دیکھ چکا ہوں ۔۔۔ اگلے اسٹیشن بٹوت پر اتر جاؤں گا۔ سنا ہے بڑا صحت افزا مقام ہے۔ تپ دق کے مریض یہیں آتے ہیں اور صحت یاب ہو کر جاتے ہیں۔ چنانچہ میں بٹوت اتر گیا اور وہاں ایک ہوٹل میں ٹھہر گیا۔ ہوٹل بس ایسے ہی واجبی سا تھا۔ بہرحال ٹھیک تھا۔ مجھے بٹوت پسند آ گیا۔ صبح چڑھائی کی طرف سیر کو نکل جاتا، واپس آ کر خالص مکھن اور ڈبل روٹی کا ناشتہ کرتا اور لیٹ کر کسی کتاب کے مطالعے میں مصروف ہو جاتا۔

دن اس صحت افزا فضا میں بڑی اچھی طرح گزر رہے تھے۔ آس پاس جتنے دوکاندار تھے سب میرے دوست بن گئے تھے، خاص طور پر سردار لہنا سنگھ جو درزیوں کا کام کرتا تھا۔ میں اس کی دکان پر گھنٹوں بیٹھا رہتا تھا۔ عشق و محبت کے افسانے سننے اور سنانے کا اسے قریب قریب خبط تھا۔ مشین چلتی رہتی تھی اور وہ یا تو کوئی داستان عشق سنتا رہتا تھا یا سناتا رہتا تھا۔

اس کو بٹوت سے متعلق ہر چیز کا علم تھا۔ کون کس سے عشق لڑا رہا ہے، کس کس کی آپس میں‌کھٹ پٹ ہوئی۔ کون کون سے لونڈیا پر پرزے نکال رہی ہے۔ ایسی تمام باتیں اس کی جیب میں ٹھنسی رہتی تھیں۔

شام کو میں اور وہ اترائی کی طرف سیر کو جاتے تھے اور بانہال کے درے تک پہنچ کر پھر آہستہ آہستہ واپس چلے آتے تھے۔ ہوٹل سے اترائی کی طرف پہلے موڑ پر سڑک کے داہنے ہاتھ مٹی کے بنے ہوئے کوارٹر تھے۔ میں نے ایک دن سردار جی سے پوچھا کہ یہ کوارٹر کیا رہائش کے لیے ہیں؟ یہ میں نے اس لیے دریافت کیا تھا کہ مجھے وہ پسند آ گئے تھے۔ سردار جی نے مجھے بتایا کہ ہاں، رہائش ہی کے لیے ہیں۔ آج کل اس میں سرگودھے کے ایک ریلوے بابو ٹھہرے ہوئے ہیں۔ ان کی دھرم پتنی بیمار ہے۔ میں سمجھ گیا کہ دق ہو گی۔ خدا معلوم میں دق سے اتنا کیوں ڈرتا ہوں۔ اس دن کے بعد جب کبھی میں ادھر سے گزرا، ناک اور منہ پر رومال رکھ کے گزرا۔ میں داستان کو طویل نہیں کرنا چاہتا۔

قصہ مختصر یہ کہ ریلوے بابو، جن کا نام کندن لال تھا، سے میری دوستی ہو گئی اور میں نے محسوس کیا کہ اسے اپنی بیمار بیوی کی کوئی پرواہ نہیں۔ وہ اس فرض کو محض ایک فرض سمجھ کر ادا کر رہا ہے۔ وہ اس کے پاس بہت کم جاتا تھا اور دوسرے کوارٹر میں رہتا تھا جس میں وہ دن میں تین مرتبہ فنائل چھڑکتا تھا۔ مریضہ کی دیکھ بھال اس کی چھوٹی بہن سمتری کرتی تھی۔ دن رات یہ لڑکی جس کی عمر بمشکل چودہ برس کی ہو گی، اپنی بہن کی خدمت میں مصروف رہتی تھی۔

میں نے سمتری کو پہلی مرتبہ مگو نالے پر دیکھا۔ میلے کپڑوں کا بڑا انبار پاس رکھے وہ نالے کے پانی سے غالباً شلوار دھو رہی تھی کہ میں پاس سے گزرا۔ آہٹ سن کر وہ چونکی۔ مجھے دیکھ کر اس نے ہاتھ جوڑ کر نمستے کہا۔ میں نے اس کا جواب دیا اور اس سے پوچھا، تم مجھے جانتی ہو؟ سمتری نے باریک آواز میں کہا، جی ہاں۔ آپ بابو جی کے دوست ہیں۔ میں نے ایسا محسوس کیا کہ مظلومیت ہے جو سکڑ کر سمتری کی شکل اختیار کر گئی ہے۔ میرا جی چاہتا تھا کہ اس سے باتیں کروں اور کچھ کپڑے دھو ڈالوں تاکہ اس کچھ بوجھ ہلکا ہو جائے۔ مگر پہلی ملاقات میں ایسی بے تکلفی نامناسب تھی۔

دوسری ملاقات بھی اسی نالے پر ہوئی۔ وہ کپڑوں پر صابن لگا رہی تھی تو میں نے اس کو نمستے کہا اور چھوٹی چھوٹی بٹیوں کے بستر پر اس کے پاس ہی بیٹھ گیا۔ وہ کسی قدر گھبرائی لیکن جب باتیں شروع ہوئیں تو اس کی یہ گھبراہٹ دور ہو گئی اور وہ اتنی بے تکلف ہو گئی کہ اس نے مجھے اپنے گھر کے تمام معاملات بتانے شروع کر دیئے۔

بابو جی یعنی کندن لال سے اس کی بڑی بہن کی شادی ہوئے پانچ برس ہو چلے تھے۔ پہلے برس تو بابو جی کا سلوک اپنی بیوی سے ٹھیک رہا، لیکن جب رشوت کے الزام میں وہ نوکری سے معطل ہوا تو اس نے اپنی بیوی کا زیور بیچنا چاہا۔ زیور بیچ کر وہ جوا کھیلنا چاہتا تھا کہ دُگنے روپے ہو جائیں گے۔ بیوی نہ مانی۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ اس نے اس کو مارنا پیٹنا شروع کر دیا۔ سارا دن ایک تنگ و تاریک کوٹھری میں رکھتا اور کھانے کو کچھ نہ دیتا۔ اس نے مہینوں ایسا کیا۔ آخر ایک دن عاجز آ کر اس کی بیوی نے اپنے زیور اس کے حوالے کر دیئے۔ لیکن زیور لے کر وہ ایسا غائب ہو کہ چھ مہینے تک اس کی شکل نظر نہ آئی۔ اس دوران میں سمتری کی بہن فاقہ کشی کرتی رہی۔ وہ اگر چاہتی تو اپنے میکے جا سکتی تھی۔ اس کا باپ مالدار تھا اور اس سے بہت پیار کرتا تھا۔ مگر اس نے مناسب نہ سمجھا۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ اس کو دق ہو گئی۔ کندن لال چھ مہینے کے بعد اچانک گھر آیا تو اس کی بیوی بستر پر پڑی تھی۔ کندن لال اب نوکری پر بحال ہو چکا تھا۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ وہ اتنی دیر کہاں رہا تو وہ گول کر گیا۔

سمتری کی بہن نے اس سے زیوروں کے بارے میں نہیں پوچھا۔ اس کا پتی گھر واپس آ گیا تھا۔ وہ بہت خوش تھی کہ بھگوان نے اس کی سن لی۔ اس کی صحت کسی قدر بہتر ہو گئی مگر “ان کے آنے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق”والا معاملہ تھا۔ ایک مہینے کے بعد اس کی حالت اور بھی زیادہ خراب ہو گئی۔ اس اثناء میں سمتری کے ماں باپ کو پتہ چل گیا۔ وہ فوراً وہاں پہنچے اور کندن لال کو مجبور کیا کہ وہ اپنی بیوی کو فوراً کسی پہاڑ پر لے جائے۔ خرچ وغیرہ کا ذمہ انہوں نے کہا، ہمارا ہے۔ کندن لال نے کہا چلو سیر ہی سہی، سمتری کو دل بھلاوے کے لیے ساتھ لیا اور بٹوت پہنچ گیا۔

یہاں وہ اپنی بیوی کی قطعاً دیکھ بھال نہیں کرتا تھا۔ سارا دن باہر تاش کھیلتا رہتا۔ سمتری پرہیزی کھانا پکاتی تھی۔ اس لیے وہ صبح شام ہوٹل سے کھانا کھاتا۔ ہر مہینے سسرال لکھ دیتا کہ خرچ زیادہ ہو رہا ہے، چنانچہ وہاں سے رقم میں اضافہ کر دیا جاتا۔

میں داستان لمبی نہیں کرنا چاہتا۔ سمتری سے میری ملاقات اب ہر روز ہونے لگی۔

نالے پر وہ جگہ جہاں وہ کپڑے دھوتی تھی، بڑی ٹھنڈی تھی۔ نالے کا پانی بھی ٹھنڈا تھا۔ سیب کی درخت کی چھاؤں بہت پیاری تھی اور گول گول بٹیاں، جی چاہتا تھا کہ سارا دن انہیں اٹھا اٹھا کر نالے کے شفاف پانی میں پھینکتا رہوں۔ یہ تھوڑی سی بھونڈی شاعری میں نے اس لیے کی ہے کہ مجھے سمتری سے محبت ہو گئی تھی اور مجھے یہ بھی معلوم تھا کہ اس اسے قبول کر لیا ہے۔ چنانچہ ایک دن جذبات سے مغلوب ہو کر میں نے اسے اپنے سینے کے ساتھ لگا لیا۔ اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے اور آنکھیں بند کر لیں۔ سیب کے درخت میں چڑیاں چہچہا رہی تھیں اور مگو نالے کا پانی گنگناتا ہوا بہہ رہا تھا۔

وہ خوبصورت تھی۔ گو دُبلی تھی مگر اس طور پر کہ غور کرنے پر آدمی اس نتیجے پر پہنچتا تھا کہ اسے دُبلی ہی ہونا چاہیے تھا۔ اگر وہ ذرا موٹی ہوتی تو اتنے نازک طور پر خوبصورت نہ ہوتی۔ اس کی آنکھیں غزالی تھیں۔ جن میں قدرتی سرمہ لگا رہتا تھا۔ ٹھمکا سا قد، گھنے سیاہ بال جو اس کی کمر تک آتے تھے۔ چھوٹا سا کنوارا جوبن۔ منٹو صاحب میں اس کی محبت میں سرتاپا غرق ہو گیا۔

ایک دن جب وہ اپنی محبت کا اظہار کر رہی تھی، میں نے وہ بات جو بڑے دنوں سے میرے دل میں کانٹے کی طرح چبھ رہی تھی، اس سے کہی کہ دیکھو سمتری، میں مسلمان ہوں، تم ہندو، بتاؤ انجام کیا ہو گا۔ میں کوئی اوباش نہیں کہ تمہیں خراب کر کے چلتا بنوں۔ میں تمہیں اپنا جیون ساتھی بنانا چاہتا ہوں۔ سمتری نے میرے گلے میں بانہیں ڈالیں اور بڑے مضبوط لہجے میں کہا، حنیف میں مسلمان ہو جاؤں گی۔

میرے سینے کا بوجھ اتر گیا۔ طے ہوا کہ جونہی اس کی بہن اچھی ہو گی، وہ میرے ساتھ چل دے گی۔ اس کی بہن کو کہاں اچھا ہونا تھا۔ کندن لال نے مجھے بتایا تھا کہ وہ اس کی موت کا منتظر ہے۔ یہ بات ٹھیک بھی تھی۔ گو اس طرح سوچنا اور اس کا علاج کرنا کچھ مناسب نہیں تھا، بہرحال حقیقت سامنے تھی۔ کم بخت مرض ہی ایسا تھا کہ بچنا محال تھا۔

سمتری کی بہن کی طبیعت دن بدن گرتی گئی۔ کندن لال کو کوئی پرواہ نہیں تھی۔ چونکہ اب سسرال سے روپے زیادہ آنے لگے تھے اور خرچ کم ہو گیا تھا یا خود کم کر دیا گیا تھا، اس نے ڈاک بنگلے جا کر شراب پینا شروع کر دی اور سمتری سے چھیڑ چھاڑ کرنے لگا۔

منٹو صاحب، جب میں نے یہ سنا تو میری آنکھوں میں خون اتر آیا۔ اتنی جرات نہیں تھی ورنہ میں بیچ سڑک کے اس کی مرمت جوتوں سے کرتا۔ میں نے سمتری کو اپنے سینے سے لگایا، اس کے آنسو پونچھے اور دوسری باتیں شروع کر دیں جو پیار محبت کی تھیں۔

ایک دن میں صبح سویرے سیر کو نکلا۔ جب ان کوارٹروں کے پاس پہنچا تو میں نے محسوس کیا کہ سمتری کی بہن اللہ کو پیاری ہو چکی ہے۔ چنانچہ میں نے دروازے کے پاس کھڑے ہو کر کندن لال کو آواز دی۔ میرا خیال درست تھا۔ بے چاری نے رات گیارہ بجے آخری سانس لیا تھا۔

کندن لال نے مجھے سے کہا کہ میں تھوڑی دیر وہاں کھڑا رہوں تاکہ وہ کریا کرم کے لیے بندوبست کر آئے۔ وہ چلا گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد مجھے سمتری کا خیال آیا۔ وہ کہاں تھی۔ جس کمرے میں اس کی بہن کی لاش تھی، بالکل خاموش تھا۔ میں ساتھ والے کوارٹر کی طرف بڑھا۔ اندر جھانک کر دیکھا، سمتری چارپائی پر گٹھری سی بنی لیٹی تھی۔ میں اندر چلا گیا۔ اس کا کندھا ہلا کر میں نے کہا، سمتری، سمتری۔ اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ میں نے دیکھا کہ اس کی شلوار بڑے بڑے دھبوں سے بھری ہوئی ہے۔ میں نے پھر اس کا کندھا ہلایا مگر وہ خاموش رہی۔ میں نے بڑے پیار سے پوچھا، کیا بات ہے سمتری؟ سمتری نے رونا شروع کر دیا۔ میں اس کے پاس بیٹھ گیا۔ کیا بات ہے سمتری۔ سمتری سسکیوں بھری آواز میں بولی۔ جاؤ، حنیف جاؤ۔ میں نے کہا کیوں۔ افسوس ہے کہ تمہاری بہن کا انتقال ہو گیا، مگر تم تو اپنی جان ہلکان نہ کرو۔ اس نے اٹک اٹک کر کہا، اس کی آواز نہیں نکلتی تھی، وہ مر گئی ہے، پر میں اس کا غم نہیں کر سکتی۔ میں خود مر چکی ہوں۔ میں اس کا مطلب نہ سمجھا۔ تم کیوں مرو۔ تمہیں تو میرا جیون ساتھی بننا ہے۔ یہ سن کر وہ دھاڑیں مار کر رونے لگی۔ جاؤ حنیف جاؤ۔ میں اب کسی کام کی نہیں رہی۔ کل رات، کل رات باجو جی نے میرا خاتمہ کر دیا۔ میں چیخی، ادھر دوسرے کوارٹر سے جیجی چیخی اور مر گئی۔ وہ سمجھ گئی تھی۔ ہائے، کاش میں نہ چیخی ہوتی۔ وہ مجھے کیا بچا سکتی تھی۔ جاؤ، حنیف جاؤ۔ یہ کہہ کر وہ اٹھی، دیوانہ وار میرا بازو پکڑا اور گھسیٹتی باہر لے گئی۔ پھر دوڑ کر کوارٹر میں داخل ہوئی اور دروازہ بند کر دیا۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ حرامزادہ کندن لال آیا۔ اس کے ساتھ چار پانچ آدمی تھے۔ خدا کی قسم اکیلا ہوتا تو میں پتھر مار مار کر اسے جہنم واصل کر دیتا۔ بس یہ ہے میری کہانی۔ سمتری کی کہانی جس کے یہ الفاظ ہر وقت میرے کانوں میں گونجتے رہتے ہیں۔ جاؤ، حنیف جاؤ۔ کس قدر دکھ ہے ان تین لفظوں میں۔

حنیف کے آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے۔ میں نے اس سے پوچھا، “جو ہونا تھا وہ تو ہو گیا تھا۔ تم نے سمتری کو قبول کیوں نہ کیا؟”

حنیف نے آنکھیں جھکا لیں ۔۔۔ خود کو ایک موٹی گالی دے کر اس نے کہا، “کمزوری ۔۔۔ مرد عموماً ایسے معاملوں میں بڑا کمزور ہوتا ہے ۔۔۔ لعنت ہے اس پر ۔۔۔”

شادی

جمیل کو اپنا شیفر لائف ٹائم قلم مرمت کے لیے دینا تھا۔ اس نے ٹیلی فون ڈائریکٹری میں شیفر کمپنی کا نمبر تلاش کیا۔ فون کرنے سے معلوم ہوا کہ ان کے ایجنٹ میسرز ڈی جے سمتوئر ہیں۔ جن کا دفتر گرین ہوٹل کے پاس واقعہ ہے۔

جمیل نے ٹیکسی لے اور فورٹ کی طرف چل دیا۔ گرین ہوٹل پہنچ کر اسے میسرز ڈی جے سمتوئر کا دفتر تلاش کرنے میں دقت نہ ہوئی۔ بالکل پاس تھا مگر تیسری منزل پر۔

لفٹ کے ذریعے جمیل وہاں پہنچا۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی چوبی دیوار کی چھوٹی سی کھڑکی کے پیچھے اسے ایک خوش شکل اینگلوانڈین لڑکی نظر آئی جس کی چھاتیاں غیر معمولی طور پر نمایاں تھیں۔ جمیل نے قلم اس کھڑکی کے اندر داخل کر دیا اور منہ سے کچھ نہ بولا۔ لڑکی نے قلم اس کے ہاتھ سے لے لیا۔کھول کر ایک نظر دیکھا اور ایک چٹ پر کچھ لکھ کر جمیل کے حوالے کر دی۔ منہ سے وہ بھی کچھ نہ بولی۔

جمیل نے چٹ دیکھی۔ قلم کی رسید تھی۔ چلنے ہی والا تھا کہ پلٹ کر اس نے لڑکی سے پوچھا۔ “دس بارہ روز تک تیار ہو جائے گا۔ میرا خیال ہے۔”

لڑکی بڑے زور سے ہنسی۔ جمیل کچھ کھسیانا سا ہو گیا۔ “میں آپ کی اس ہنسی کا مطلب نہیں سمجھا۔”

لڑکی نے کھڑکی کے ساتھ منہ لگا کر کہا، “مسٹر ۔۔۔ آج کل وار ہے وار ۔۔۔ یہ قلم امریکہ جائے گا ۔۔۔ تم نو مہینے کے بعد پتہ کرنا۔”

جمیل بوکھلا گیا، “نو مہینے۔”

لڑکی نے اپنے بریدہ بالوں والا سر ہلایا ۔۔۔ جمیل نے لفٹ کا رخ کیا۔

یہ نو مہینے کا سلسلہ خوب تھا ۔۔۔ نو مہینے ۔۔۔ اتنی مدت بعد تو عورت گل گوتھنا بچہ پیدا کر کے ایک طرف رکھ دیتی ہے۔ ۔۔۔ نو مہینے ۔۔۔ نو مہینے تک اس چھوٹی سی چٹ کو سنبھالے رکھو۔ اور یہ بھی کون وثوق سے کہہ سکتا ہے کہ نو مہینے تک آدمی یاد رکھ سکتا ہے کہ اس نے ایک قلم مرمت کے لیے دیا تھا۔ ہو سکتا ہے اس دوران میں وہ کم بخت مر کھپ ہی جائے۔

جمیل نے سوچا، یہ سب ڈھکوسلا ہے۔ قلم میں معمولی سی خرابی تھی۔ اس کا فیڈر ضرورت سے زیادہ روشنائی سپلائی کرتا تھا۔ اس کے لیے اسے امریکہ کے ہسپتال میں بھیجنا صریحاً چالبازی تھی۔ مگر پھر اس نے سوچا، لعنت بھیجو جی اس قلم پر۔ امریکہ جائے یا افریقہ۔ اس میں شک نہیں کہ اس نے یہ بلیک مارکیٹ سے ایک سو پچھتر روپے میں خریدا تھا۔ مگر اس نے ایک برس اسے خوب استعمال بھی تو کیا تھا۔ ہزاروں صفحے کالے کر ڈالے تھے۔ چنانچہ وہ قنوطی سے ایک دم رجائی بن گیا۔ اور رجائی بنتے ہی اسے خیال آیا کہ وہ فورٹ میں ہے اور فورٹ میں شراب کی بے شمار دکانیں۔ وسکی تو ظاہر ہے نہیں ملے گی لیکن فرانس کی بہترین کونک برانڈی تو مل جائے گی، چنانچہ اس نے قریب والی دکان کا رخ کیا۔

برانڈی کی ایک بوتل خرید کر وہ لوٹ رہا تھا کہ گرین ہوٹل کے پاس آ کے رک گیا۔ ہوٹل کے نیچے قد آدم شیشوں کا بنا ہوا قالینوں کا شو روم تھا۔ یہ جمیل کے دوست پیر صاحب کا تھا۔

اس نے سوچا چلو اندر چلیں۔ چنانچہ چند لمحات کے بعد ہی وہ شو روم میں تھا اور اپنے دوست پیر سے، جو عمر میں اس سے کافی بڑا تھا، ہنسی مذاق کی گفتگو کر رہا تھا۔

برانڈی کی بوتل باریک کاغذ میں لپٹی دبیر ایرانی قالین پر لیٹی ہوئی تھی۔ پیر صاحب نے اس کر طرف اشارہ کرتے ہوئے جمیل سے کہا، “یار اس دلہن کا گھونگٹ تو کھولو۔ ذرا اس سے چھیڑ خانی تو کرو۔”

جمیل مطلب سمجھ گیا، “تو پیر صاحب، گلاس اور سوڈے منگوائیے۔ پھر دیکھئیے کیا رنگ جمتا ہے۔”

فوراً گلاس اور یخ بستہ سوڈے آ گئے۔ پہلا دور ہوا۔ دوسرا دور شروع ہونے ہی والا تھا کہ پیر صاحب کے ایک گجراتی دوست اندر چلے ائے اور بڑی بے تکلفی سے قالین پر بیٹھ گئے۔ اتفاق سے ہوٹل کا چھوکرا دو کے بجائے تین گلاس اٹھا لایا تھا۔ پیر صاحب کے گجراتی دوست نے بڑی صاف اردو میں چند ادھر ادھر کی باتیں کیں اور گلاس میں یہ بڑا پیگ ڈال کر اس کو سوڈے سے لبا لب بھر دیا۔ تین چار لمبے لمبے گھونٹ لے کر انہوں نے رومال سے اپنا منہ صاف کیا۔ “سگریٹ نکالو یار۔”

پیر صاحب میں ساتوں عیب شرعی تھے۔ مگر وہ سگریٹ نہیں پیتے تھے۔ جمیل نے جیب سے اپنا سگریٹ کیس نکالا اور قالین پر رکھ دیا۔ ساتھ ہی لائٹر ۔۔۔

اس پر پیر صاحب نے جمیل سے اس گجراتی کا تعارف کرایا۔ “مسٹر نٹور لال ۔۔۔ آپ موتیوں کی دلالی کرتے ہیں۔”

جمیل نے ایک لحظے کے لیے سوچا، کوئلوں کی دلالی میں تو انسان کا منہ کالا ہوتا ہے۔ موتیوں کی دلالی میں ۔۔۔ “

پیر صاحب نے جمیل کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، “مسٹر جمیل، مشہور سونگ رائٹر۔”

دونوں نے ہاتھ ملایا اور برانڈی کا نیا دور شروع ہوا۔ اور ایسا شروع ہوا کہ بوتل خالی ہو گئی۔

جمیل نے دل میں سوچا کہ کم بخت موتیوں کا دلال بلا کا پینے والا ہے۔ میری پیاس اور سرور کی ساری برانڈی چڑھا گیا۔ خدا کرے اسے موتیا بند ہو۔

مگر جونہی آخری دور کے پیگ نے جمیل کے پیٹ میں اپنے قدم جمائے، اس نے نٹور لال کو معاف کر دیا۔ اور آخر میں اس سے کہا “مسٹر نٹور، اٹھئے ایک بوتل اور ہو جائے۔”

نٹور لال فوراً اٹھا۔ اپنے سفید دگلے کی شکنیں درست کیں۔ دھوتی کی لانگ ٹھیک کی اور کہا، چلئے۔”

جمیل پیر صاحب سے مخاطب ہوا، “ہم ابھی حاضر ہوتے ہیں۔”

جمیل اور نٹور نے باہر نکل کر ٹیکسی لی اور شراب کی دکان پر پہنچے۔ جمیل نے ٹیکسی روکی مگر نٹور نے کہا، “مسٹر جمیل ۔۔۔ یہ دکان ٹھیک نہیں۔ ساری چیزیں مہنگی بیچتا ہے۔”یہ کہہ کر وہ ٹیکسی ڈرائیور سے مخاطب ہوا، “دیکھو کولابہ چلو۔”

کولابہ پہنچ کر نٹور، جمیل کو شراب کی ایک چھوٹی سی دکان میں لے گیا۔ جو برانڈ جمیل نے فورٹ سے لیا تھا، وہ تو نہ مل سکا، ایک دوسرا مل گیا جس کی نٹور نے بہت تعریف کی کہ نمبر ون ہے۔

یہ نمبر ون چیز خرید کر دونوں باہر نکلے، ساتھ ہی بار تھی۔ نٹور رک گیا، “مسٹر جمیل، کیا خیال ہے آپ کا، ایک دو پیگ یہیں پی کر چلتے ہیں۔”

جمیل کو کوئی اعتراض نہیں تھا۔ اس لیے کہ اس کا نشہ حالتِ نزاع میں تھا۔ چنانچہ دونوں بار کے اندر داخل ہوئے۔ معاً جمیل کو خیال آیا کہ بار والے تو کبھی باہر کی شراب پینے کی اجازت نہیں دیا کرتے۔ “مسٹر نٹور آپ یہاں کیسے پی سکتے ہیں۔ یہ لوگ اجازت نہیں دیں گے۔

نٹور نے زور سے آنکھ ماری۔ “سب چلتا ہے۔”

اور یہ کہہ کر ایک کیبن کے اندر گھس گیا۔ جمیل بھی اس کے پیچھے ہو لیا۔ نٹور نے بوتل سنگین تپائی پر رکھی اور بیرے کو آواز دی۔ جب وہ آیا تو اس کو بھی آنکھ ماری، “دیکھو دو سوڈے روجرز ۔۔۔ ٹھنڈے ۔۔۔ اور دو گلاس، ایک دم صاف۔”

بیرا یہ حکم سن کر چلا گیا اور فوراً سوڈے اور گلاس حاضر کر دیئے۔ اس پر نٹور نے اسے دوسرا حکم دیا، “فسٹ کلاس چپس اور ٹومیٹو سوس ۔۔۔ اور فسٹ کلاس کٹلس۔”

بیرا چلا گیا۔ نٹور جمیل کی طرف دیکھ کر ایسے ہی مسکرایا۔ بوتل کا کارک نکالا اور جمیل کے گلاس میں اس سے پوچھے بغیر ایک ڈبل ڈال دیا۔ خود اس سے کچھ زیادہ۔ سوڈا حل ہو گیا تو دونوں نے اپنے گلاس ٹکرائے۔

جمیل پیاسا تھا۔ ایک ہی جرعے میں اس نے آدھا گلاس ختم کر دیا۔ سوڈا چونکہ بہت ٹھنڈا اور تیز تھا اس لیے پھوں پھوں کرنے لگا۔

دس پندرہ منٹ کے بعد چپس اور کٹلس آ گئے۔ جمیل صبح گھر سے ناشتہ کر کے نکلا تھا لیکن برانڈی نے اسے بھوک لگا دی۔ چپس گرم گرم تھے، کٹلس بھی۔ وہ پل پڑا۔ نٹور نے اس کا ساتھ دیا۔ چنانچہ دو منٹ میں دونوں پلیٹیں صاف۔

دو پلیٹیں اور منگوائی گئیں۔ جمیل نے اپنے لیے چپس بھی منگوائے۔ دو گھنٹے اسی طرح گزر گئے۔ بوتل کی تین چوتھائی غائب ہو چکی تھی۔ جمیل نے سوچا کہ اب پیر صاحب کے پاس جانا بیکار ہے۔

نشے خوب جم رہے تھے، سرور خوب گھٹ رہے تھے۔ نٹور اور جمیل دونوں ہوا کے گھوڑوں پر سوار تھے۔ ایسے سواروں کو عام طور پر ایسی وادیوں میں جانے کی بڑی خواہش ہوتی ہے جہاں انہیں عریاں بدن حسین عورتیں ملیں۔ وہ ان کی کمر میں ہاتھ ڈال کر گھوڑے پر بٹھا لیں اور یہ جا وہ جا۔

جمیل کا دل و دماغ اس وقت کسی ایسی ہی وادی کے متعلق سوچ رہا تھا جہاں اس کی کسی ایسی خوبصورت عورت سے مڈبھیڑ ہو جائے جس کو وہ اپنے تپتے ہوئے سینے کے ساتھ بھینچ لے اس زور سے کہ اس کی ہڈیاں تک چٹخ جائیں۔

جمیل کو اتنا تو معلوم تھا کہ وہ ایسی جگہ پر ہے ۔۔۔ مطلب ہے ایسے علاقے میں ہے جو اپنے بروتھلز (قحبہ خانے ) کی وجہ سے ساری بمبئی میں مشہور ہے۔ جنہیں عیاشی کرنا ہوتی ہے وہ ادھر کا رخ کرتے ہیں۔ شہر سے بھی جس لڑکی کو لک چھپ کر پیشہ کرنا ہوتا ہے، یہیں آتی ہے۔ ان معلومات کی بنا پر اس نے نٹور سے کہا، “میں نے کہا ۔۔۔ وہ ۔۔۔ وہ ۔۔۔ میرا مطلب ہے، ادھر کوئی چھوکری ووکری نہیں ملتی؟”

نٹور نے اپنے گلاس میں ایک بڑا پیگ انڈیلا اور ہنسا، “مسٹر جمیل، ایک نہیں ہزاروں ۔۔۔ ہزاروں ۔۔۔ ہزاروں ۔۔۔”

یہ ہزاروں کی گردان جاری رہتی اگر جمیل نے اس کی بات کاٹی نہ ہوتی، “ان ہزاروں میں سے آج ایک ہی مل جائے تو ہم سمجھیں گے کہ نٹور بھائی نے کمال کر دیا۔”

نٹور بھائی مزے میں تھے۔ جھوم کر کہا، “جمیل بھائی ۔۔۔ ایک نہیں ہزاروں ۔۔۔ چلو اس کو ختم کرو۔”

دونوں نے بوتل میں جو کچھ بچا تھا آدھ گھنٹے کے اندر اندر ختم کر دیا۔ بل ادا کرنے اور بیرے کو تگڑی ٹپ دینے کے بعد دونوں باہر نکلے۔ اندر اندھیرا تھا۔ باہر دھوپ چمک رہی تھی۔ جمیل کی آنکھیں چندھیا گئیں۔ ایک لحظے کے لیے اسے کچھ نظر نہ آیا۔ آہستہ آہستہ اس کی آنکھیں تیز روشنی کی عادی ہوئیں تو اس نے نٹور سے کہا، “چلو بھئی۔”

نٹور نے تلاشی لینے والی نگاہوں سے جمیل کی طرف دیکھا، “مال پانی ہے نا؟”

جمیل کے ہونٹوں پر نشیلی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ نٹور کی پسلیوں میں کہنی سے ٹھوکا دے کر اس نے کہا، “بہت۔ نٹور بھائی بہت۔”اور اس نے جیب سے پانچ نوٹ سو سو کے نکالے، “کیا اتنے کافی نہیں؟”

نٹور کی باچھیں کھل گئیں۔ “کافی ۔۔۔؟ بہت زیادہ ہیں ۔۔۔ چلو آؤ، پہلے ایک بوتل خرید لیں، وہاں ضرورت پڑے گی۔”

جمیل نے سوچا بات بالکل ٹھیک ہے، وہاں ضرورت نہیں پڑے گی تو کیا کسی مسجد میں پڑے گی۔ چنانچہ فوراً ایک بوتل خرید لی گئی۔ ٹیکسی کھڑی تھی۔ دونوں اس میں بیٹھ گئے اور اس وادی کی سیاحی کرنے لگے۔

سینکڑوں بروتھلز تھے۔ ان میں سے بیس پچیس کا جائزہ لیا گیا، مگر جمیل کو کوئی عورت پسند نہ آئی۔ سب میک اپ کی موٹی اور شوخ تہوں کے اندر چھپی ہوئی تھیں۔ جمیل چاہتا تھا کہ ایسی لڑکی ملے جو مرمت شدہ مکان معلوم نہ ہو۔ جس کو دیکھ کر یہ احساس نہ ہو کہ جگہ جگہ اکھڑے پلستر کے ٹکڑوں پر بڑے اناڑی پن سے سرخی اور چونا لگایا گیا ہے۔

نٹور تنگ آ گیا۔ اس کے سامنے جو بھی عورت آتی تھی، وہ جمیل کا کندھا پکڑ کر کہتا، “جمیل بھائی یہ چلے گی۔”

مگر جمیل اٹھ کھڑا ہوتا، “ہاں چلے گی ۔۔۔ اور ہم بھی چلیں گے۔”

دو جگہیں اور دیکھی گئیں مگر جمیل کو مایوسی کا منہ دیکھنا پڑا۔ وہ سوچتا تھا کہ ان عورتوں کے پاس کون آتا ہے جو سؤر کے سوکھے گوشت کے ٹکڑوں کی طرح دکھائی دیتی ہیں۔ ان کی ادائیں کتنی مکروہ ہیں۔ اٹھنے بیٹھنے کا انداز کتنا فحش ہے، اور کہنے کو یہ پرائیویٹ ہیں، یعنی ایسی عورتیں جو درپردہ پیشہ کراتی ہیں۔ جمیل کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ پردہ ہے کہاں جس کے پیچھے یہ دھندا کرتی ہیں۔

جمیل سوچ ہی رہا تھا کہ اب پروگرام کیا ہونا چاہیے، کہ نٹور نے ٹیکسی رکوائی اور اتر کر چلا گیا کہ ایک دم اسے ایک ضروری کام یاد آ گیا تھا۔

اب جمیل اکیلا تھا۔ ٹیکسی تیس میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی تھی۔ اس وقت ساڑھے چار بج چکے تھے۔ اس نے ڈرائیور سے پوچھا، “یہاں کوئی بھڑوا ملے گا؟”

ڈرائیور نے جواب دیا، “ملے گا جناب۔”

“تو چلو اس کے پاس۔”

ڈرائیور نے دو تین موڑ گھومے اور ایک پہاڑی نما بلڈنگ کے پاس گاڑی کھڑی کر دی۔ دو تین مرتبہ ہارن بجایا۔

جمیل کا سر نشے کے باعث سخت بوجھل ہو رہا تھا۔ آنکھوں کے سامنے دھند سی چھائی ہوئی تھی۔ اسے معلوم نہیں کیسے اور کس طرح، مگر جب اس نے ذرا دماغ کو جھٹکا تو اس نے دیکھا کہ وہ ایک پلنگ پر بیٹھا ہے اور اس کے پاس ہی ایک جوان لڑکی، جس کی ناک پر پھننگ چھوٹی سی پھنسی تھی، اپنے بریدہ بالوں میں کنگھی کر رہی ہے۔

جمیل نے غور سے دیکھا۔ سوچنے ہی والا تھا کہ وہ یہاں کیسے پہنچا مگر اس کے شعور نے اس کو مشورہ دیا کہ دیکھو یہ سب عبث ہے۔ جمیل نے سوچا یہ ٹھیک ہے لیکن پھر بھی اس نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈال کر اندر ہی اندر نوٹ گن کر اور پاس پڑی ہوئی تپائی پر برانڈی کی سالم بوتل دیکھ کر اپنی تشفی کر لی کہ سب خیریت ہے۔ اس کا نشہ کسی قدر نیچے اتر گیا۔

اٹھ کر وہ اس گیسو بریدہ لڑکی کے پاس گیا اور، اور کچھ سمجھ میں نہ آیا، مسکرا کر اس سے کہا، “کہیے مزاج کیسا ہے؟‘

اس لڑکی نے کنگھی میز پر رکھی اور کہا، کہیے آپ کا کیسا ہے؟”

“ٹھیک ہوں۔”یہ کہہ کر اس نے لڑکی کی کمر میں ہاتھ ڈالا ۔۔۔ “آپ کا نام؟”

“بتا تو چکی ہوں ایک دفعہ ۔۔۔ آپ کو میرا خیال ہے یہ بھی یاد نہ ہو گا کہ آپ ٹیکسی میں یہاں آئے ۔۔۔ جانے کہاں کہاں گھومتے رہے ہوں گے کہ بل اڑتیس روپے بنا جو آپ نے ادا کیا اور ایک شخص جس کا نام شاید نٹور تھا، آپ نے اس کو بے شمار گالیاں دیں۔”

جمیل اپنے اندر ڈوب کر سارے معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرنے ہی والا تھا کہ اس نے سوچا کہ فی الحال اس کی ضرورت نہیں۔ میں بھول جایا کرتا ہوں ۔۔۔ یا یوں سمجھئے کہ مجھے بار بار پوچھنے میں‌ مزہ آتا ہے۔ وہ صرف اتنا یاد کر سکا کہ اس نے ٹیکسی والے کا بل جو کہ اڑتیس روپے بنتا تھا ادا کیا تھا۔

لڑکی پلنگ پر بیٹھ گئی۔ “میرا نام تارا ہے۔”

جمیل نے اس کو لٹا دیا اور اس سے مصنوعی قسم کا پیار کرنے لگا۔

تھوڑی دیر کے بعد اس کو پیاس محسوس ہوئی تو اس نے تارہ سے کہا، “دو یخ بستہ سوڈے اور گلاس۔

تارہ نے یہ دونوں چیزیں فوراً حاضر کر دیں۔ جمیل نے بوتل کھولی۔ اپنے لیے ایک پیگ ڈال کر اس نے دوسرا تارہ کے لیے ڈالا ۔۔۔ پھر دونوں پینے لگے۔

تین پیگ پینے کے بعد جمیل نے محسوس کیا کہ اس کی حالت بہتر ہو گئی ہے۔ تارہ کو چومنے چاٹنے کے بعد اس نے سوچا کہ اب قصہ مختصر ہو جانا چاہیے۔ “کپڑے اتار دو۔”

“سارے “

“ہاں سارے۔”

تارہ نے کپڑے اتار دیئے اور لیٹ گئی۔ جمیل نے اس کے ننگے جسم کو ایک نظر دیکھا اور یہ رائے قائم کی کہ اچھا ہے۔ اس کے ساتھ ہی خیالات کا ایک تانتا بندھ گیا۔ جمیل کا نکاح ہو چکا تھا۔ اس نے اپنی بیوی کو دو تین مرتبہ دیکھا تھا۔

اس کا بدن کیسا ہو گا ۔۔۔ کیا وہ تارہ کی طرح اس کے ایک مرتبہ کہنے پر اپنے سارے کپڑے اتار کر اس کے ساتھ لیٹ جائے گی؟

کیا وہ اس کے ساتھ برانڈی پیئے گی؟”

کیا اس کے بال کٹے ہوئے ہیں؟”

پھر فوراً اس کا ضمیر جاگا جس نے اس کو لعنت ملامت شروع کر دی۔ نکاح کا یہ مطلب تھا کہ اس کی شادی ہو چکی تھی۔ صرف ایک مرحلہ باقی تھا کہ وہ اپنی سسرال جائے اور لڑکی کا ہاتھ پکڑ کر لے ائے۔ کیا اسکے لیے یہ واجب تھا کہ ایک بازاری عورت کو اپنی آغوش کی زینت بنائے۔ خم کے خم لنڈھاتا پھرے۔

جمیل بہت خفیف ہوا اور اسی خفت میں اس کی آنکھیں مندنا شروع ہو گئیں اور وہ سو گیا۔ تارہ بھی تھوڑی دیر کے بعد خوابِ غفلت کے مزے لینے لگی۔

جمیل نے کئی بے ربط، اوٹ پٹانگ خواب دیکھے۔ کوئی دو گھنٹے کے بعد جب کہ ایک بہت ہی ڈراؤنا خواب دیکھ رہا تھا، وہ ہڑبڑا کے اٹھا۔ جب اچھی طرح آنکھیں کھلیں تو اس نے دیکھا کہ وہ ایک اجنبی کمرے میں ہے اور اس کے ساتھ الف ننگی لڑکی لیٹی ہوئی ہے۔ لیکن تھوڑی ہی دیر کے بعد واقعات آہستہ آہستہ اس کے دماغ کی دھند چیر کر نمودار ہونے لگے۔

وہ خود بھی الف ننگا تھا۔ بوکھلاہٹ میں اس نے الٹا پاجامہ پہن لیا، مگر اس کو احساس نہ ہوا۔ کُرتا پہن کر اس نے اپنی جیبیں ٹٹولیں۔ نوٹ سب کے سب موجود تھے۔ اس نے سوڈا کھولا اور ایک پیگ بنا کر پیا۔ پھر اس نے تارہ کو ہولے سے جھنجوڑا۔ “اٹھو۔”

تارہ آنکھیں ملتی اٹھی۔ جمیل نے اس سے کہا “کپڑے پہن لو۔”

تارہ نے کپڑے پہن لیے۔ باہر گہری شام رات بننے کی تیاریاں کر رہی تھی۔ جمیل نے سوچا، اب کوچ کرنا چاہیے۔ لیکن وہ تارہ سے کچھ پوچھنا چاہتا تھا، کیونکہ بہت سی باتیں اس کے ذہن سے نکل گئی تھیں، “کیوں تارہ جب ہم لیٹے، میرا مطلب ہے جب میں نے تم سے کپڑے اتارنے کو کہا تو اس کے بعد کیا ہوا؟”

تارہ نے جواب دیا، “کچھ نہیں ۔۔۔ آپ نے اپنے کپڑے اتارے اور میرے بازو پر ہاتھ پھیرتے پھیرتے سو گئے۔”

“بس؟”

“ہاں ۔۔۔ لیکن سونے سے پہلے آپ دو تین مرتبہ بڑبڑائے اور کہا ‘ میں گنہگار ہوں ۔۔۔ میں گنہگار ہوں۔”یہ کہہ کر تارہ اٹھی اور اپنے بال سنوارنے لگی۔

جمیل بھی اٹھا۔ گناہ کا احساس دبانے کے لیے اس نے ڈبل پیگ اپنے حلق میں جلدی جلدی انڈیلا۔ بوتل کو کاغذ میں لپیٹا اور دروازے کی طرف بڑھا۔

تارہ نے پوچھا، “چلے۔”

“ہاں، پھر کبھی آؤں گا۔”یہ کہہ کر وہ لوہے کی پیچ دار سیڑھیوں سے نیچے اتر گیا۔ بڑے بازار کی طرف اس کے قدم اٹھنے ہی والے تھے کہ ہارن بجا، اس نے مڑ کر دیکھا تو ایک ٹیکسی کھڑی تھی۔ اس نے کہا چلو اچھا ہوا، یہیں مل گئی۔ پیدل چلنے کی زحمت سے بچ گئے۔

اس نے ڈرائیور سے پوچھا، “کیوں بھائی خالی ہے؟”

ڈرائیور نے جواب دیا، “خالی ہے کا کیا مطلب ۔۔۔ لگی ہوئی ہے۔”

“تو پھر۔۔۔۔۔۔”یہ کہہ کر جمیل مڑا، لیکن ڈرائیور نے اس کو پکارا، “کدھر جاتا ہے سیٹھ؟”

جمیل نے جواب دیا، “کوئی اور ٹیکسی دیکھتا ہوں۔”

ڈرائیور باہر نکل آیا، “مستک تو نہیں پھرے لا ۔۔۔ یہ ٹیکسی تمہیں نے تو لے رکھی ہے۔”

جمیل بوکھلا گیا، “میں نے؟”

ڈرائیور نے بڑے گنوار لہجے میں اس سے کہا، “ہاں تو نے ۔۔۔ سالا دارو پی کر سب کچھ بھول گیا۔”

اس پر تُو تُو میں میں شروع ہو گئی۔ ادھر ادھر سے لوگ اکٹھے ہو گئے۔ جمیل نے ٹیکسی کا دروازہ کھولا اور اندر بیٹھ گیا، “چلو “

ڈرائیور نے ٹیکسی چلائی، “کدھر؟”

جمیل نے کہا، “پولیس سٹیشن۔”

ڈرائیور نے اس پر جانے کیا واہی تباہی بکی ۔۔۔ جمیل سوچ میں پڑ گیا۔ جو ٹیکسی اس نے لی تھی، اس کا بل جو اڑتیس روپے کا تھا، اس نے ادا کر دیا تھا۔ اب یہ نئی ٹیکسی کہاں سے آن ٹپکی۔ گو وہ نشے کی حالت میں تھا مگر وہ یقینی طور پر کہہ سکتا تھا کہ یہ وہ ٹیکسی نہیں تھی اور نہ وہ ڈرائیور جو اسے یہاں لایا تھا۔

پولیس سٹیشن پہنچے۔ جمیل کے قدم بری طرح لڑکھڑا رہے تھے۔ سب انسپکٹر جو اس وقت ڈیوٹی پر تھا، فوراً بھانپ گیا کہ معاملہ کیا ہے۔ اس نے جمیل کو کرسی پر بیٹھنے کے لیے کہا۔

ڈرائیور نے اپنی داستان شروع کر دی جو سرتاپا غلط تھی۔ جمیل یقیناً اس کی تردید کرتا مگر اس میں زیادہ بولنے کی ہمت نہیں تھی۔ سب انسپکٹر سے مخاطب ہو کر اس نے کہا، “جناب میرے سمجھ میں نہیں آتا یہ کیا قصہ ہے جو ٹیکسی میں نے لی تھی، اس کا کرایہ میں نے اڑتیس روپے ادا کر دیا تھا۔ اب معلوم نہیں یہ کون ہے اور مجھ سے کیسا کرایہ مانگتا ہے۔”

ڈرائیور نے کہا، “حضور انسپکٹر بہادر، یہ دارو پئے ہے۔”اور ثبوت کے طور پر اس نے جمیل کی برانڈی کی بوتل میز پر رکھ دی۔

جمیل جھنجھلا گیا، “ارے بھئی کون سؤر کہتا ہے کہ اس نے نہیں پی ۔۔۔ سوال تو یہ ہے کہ آپ کہاں سے تشریف لے آئے۔”

سب انسپکٹر شریف آدمی تھا۔ کرایہ ڈرائیور کے حساب سے بیالیس روپے بنتا تھا۔ اس نے بارہ روپے میں فیصلہ کر دیا۔ ڈرائیور بہت چیخا چلایا مگر سب انسپکٹر نے اس کو ڈانٹ ڈپٹ کر تھانے سے نکلوا دیا۔ پھر اس نے ایک سپاہی سے کہا کہ وہ دوسری ٹیکسی لائے۔ ٹیکسی آئی تو اس نے ایک سپاہی جمیل کے ساتھ کر دیا کہ وہ اسے گھر چھوڑ آئے۔ جمیل نے لکنت بھرے لہجے میں اس کا بہت بہت شکریہ ادا کیا اور پوچھا، “جناب کیا یہ گرانٹ روڈ پولیس سٹیشن ہے؟”

سب انسپکٹر نے زور سے قہقہہ لگایا اور پیٹ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا، “مسٹر اب ثابت ہو گیا کہ تم نے خوب پی رکھی ہے ۔۔۔ یہ کولابہ پولیس سٹیشن ہے۔ جاؤ اب گھر جا کر سو جاؤ۔”

جمیل گھر جا کے کھانا کھائے اور کپڑے اتارے بغیر سو گیا ۔۔۔ برانڈی کی بوتل بھی اس کے ساتھ سوتی رہی۔

دوسرے روز وہ دس بجے کے قریب اٹھا۔ جوڑ جوڑ میں درد تھا۔سر میں جیسے بڑے بڑے وزنی پتھر تھے۔ منہ کا ذائقہ خراب۔ اس نے اٹھ کر دو تین گلاس فروٹ سالٹ کے پیئے۔ چار پانچ پیالے چائے کے، کہیں شام کو جا کر طبیعت کسی قدر بحال ہوئی اور اس نے خود کو گزشتہ واقعات کے متعلق سوچنے کے قابل محسوس کیا۔

بہت لمبی زنجیر تھی۔ ان میں سے بعض کڑیاں تو سلامت تھیں، مگر بعض غائب۔ واقعات کا تسلسل شروع سے لیکر گرین ہوٹل اور وہاں سے لے کر کولابہ تک بالکل صاف تھا۔ اس کے بعد جب نٹور کے ساتھ خاص وادی کی سیاحی شروع ہوتی تھی، معاملہ گڈمڈ ہو جاتا تھا۔ چند جھلکیاں دکھائی دیتی تھیں۔ بڑی واضح، مگر فوراً مبہم پرچھائیوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا تھا۔

وہ کیسے اس لڑکی کے گھر پہنچا ۔۔۔ اس کا نام جمیل کے حافظے سے پھسل کر جانے کس کھڈ میں جا گرا تھا۔ اس کی شکل و صورت اسے البتہ بڑی اچھی طرح یاد تھی۔ وہ اس کے گھر کیسے پہنچا تھا۔ یہ جاننا بہت اہم تھا۔ اگر جمیل کا حافظہ اس کی مدد کرتا تو بہت سی چیزیں صاف ہو جاتیں۔ مگر بصد کوشش وہ کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکا۔

اور یہ ٹیکسیوں کا کیا سلسلہ تھا۔ اس نے پہلی کو تو چھوڑ دیا تھا، مگر دوسری کہاں سے ٹپک پڑی تھی؟

سوچ سوچ کے جمیل کا دماغ پاش پاش ہو گیا۔ اس نے محسوس کیا کہ جتنے وزنی پتھر تھے سب آپس میں ٹکرا ٹکرا کر چُور چُور ہو گئے ہیں۔

رات کو اس نے برانڈی کے تین پیگ پئے، تھوڑا سا ہلکا کھانا کھایا اور گزشتہ واقعات کے متعلق سوچتا شوچتا سو گیا۔

وہ ٹکڑے جو گم ہو گئے تھے، ان کو تلاش کرنا اب جمیل کا شغل ہو گیا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ جو کچھ اس روز ہوا، من و عن اس کی آنکھوں کے سامنے آ جائے اور یہ روز روز کی مغز پاشی دور ہو۔ اس کے علاوہ اس بات کا بھی بڑا قلق تھا کہ اس کا گناہ نامکمل رہ گیا۔ وہ سوچتا تھا کہ یہ ادھورا گناہ جائے گا کس کھاتے میں۔ وہ چاہتا تھا کہ بس ایک دفعہ اس کی بھی تکمیل ہو جائے۔ مگر تلاشِ بسیار کے باوجود وہ پہاڑی بنگلوں جیسا مکان جمیل کی آنکھوں سے اوجھل رہا۔ جب تھک ہار گیا تو اس نے ایک دن سوچا کیا یہ سب خواب ہی تو نہیں تھا۔

مگر خواب کیسے ہو سکتا تھا۔ خواب میں آدمی اتنے روپے تو خرچ نہیں کرتا۔ اس دن اس کے کم از کم ڈھائی سو روپے خرچ ہوئے تھے۔

پیر صاحب سے اس نے نٹور کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ اس روز کے دوسرے دن ہی سمندر پار کہیں چلا گیا ہے۔ غالباً موتیوں کے سلسلے میں۔ جمیل نے اس پر ہزار لعنتیں بھیجیں اور اپنی تلاش شروع کر دی۔

اس نے جب اپنے حافظے پر بہت زور دیا تو اسے بنگلے کی دیوار کے ساتھ پیتل کی ایک پلیٹ نظر آئی۔ اس پر کچھ لکھا تھا۔ غالباً ۔۔۔ ڈاکٹر ۔۔۔ ڈاکٹر بیرام جی ۔۔۔ آگے جانے کیا۔

ایک دن کولابہ کی گلیوں میں چلتے چلتے آخر وہ ایک ایسی گلی میں پہنچا جو اس کو جانی پہچانی محسوس ہوئی۔ دو رویہ اسی قسم کی بنگلہ نما عمارتیں تھیں۔ ہر عمارت کے باہر چھوٹے چھوٹے پیتل کے بورڈ لگے ہوئے تھے۔ کسی پر چار کسی پر پانچ ۔۔۔ کسی پر تین۔

وہ ادھر ادھر غور سے دیکھتا چلا جا رہا تھا، مگر اس کے دماغ میں وہ خط گھوم رہا تھا جو صبح اس کی ساس کی طرف سے موصول ہوا تھا کہ اب انتظار کی حد ہو گئی ہے۔ میں نے تاریخ مقرر کر دی ہے۔ آؤ اور اپنی دلہن کو لے جاؤ۔

اور وہ ادھر ایک نامکمل گناہ کو مکمل بنانے کی کوشش میں مارا مارا پھر رہا تھا۔ جمیل نے کہا، ہٹاؤ اس وقت ۔۔۔ پھرنے دو مارا مارا ۔۔۔ ایک دم اس نے اپنے داہنے ہاتھ پیتل کا ایک چھوٹا سے بورڈ دیکھا۔ اس پر لکھا تھا ۔۔۔ ڈاکٹر ایم بیرام جی – ایم ڈی۔

جمیل کانپنے لگا۔ یہ وہی بلڈنگ، بالکل وہی، وہی رنگ، وہی بل کھاتی ہوئی سیڑھیاں، جمیل بے دھڑک اوپر چلا گیا۔ اس کے لیے اب ہر چیز جانی پہچانی تھی۔

کوریڈور سے نکل کر اس نے سامنے والے دروازے پر دستک دی۔

ایک لڑکے نے دروازہ کھولا۔ اسی لڑکے نے جو اس روز سوڈا اور برف لایا تھا۔ جمیل نے ہونٹوں پر مصنوعی مسکراہٹ پیدا کرتے ہوئے اس سے پوچھا، “بیٹا، بائی جی ہیں؟”

لڑکے نے اثبات میں سر ہلایا، “جی ہاں”

“جاؤ، ان سے کہو، صاحب ملنے آئے ہیں۔”جمیل کے لہجے میں بے تکلفی تھی۔

لڑکا دروازہ بھیڑ کر اندر چلا گیا۔

تھوڑی دیر کے بعد دروازہ کھلا اور تارہ نمودار ہوئی۔ اس کو دیکھتے ہی جمیل نے پہچان لیا کہ وہی لڑکی ہے مگر اب اس کے ناک پر پھنسی نہیں تھی۔ “نمستے۔”

“نمستے، کہیے مزاج کیسے ہیں؟”یہ کہہ کر اس نے اپنے کٹے ہوئے بالوں کو ایک خفیف سا جھٹکا دیا۔

جمیل نے جواب دیا۔ “اچھے ہیں۔ میں پچھلے دنوں بہت مصروف رہا۔ اس لیے آ نہ سکا۔کہو پھر کیا ارادہ ہے؟”

تارہ نے بڑی سنجیدگی سے کہا، “معاف کیجیئے، میری شادی ہو چکی ہے۔”

جمیل بوکھلا گیا۔ “شادی ۔۔۔ کب؟”

تارہ نے بڑی سنجیدگی سے جواب دیا۔ “جی، آج صبح ۔۔۔ آئیے، میں آپ کو اپنے پتی سے ملاؤں۔”

جمیل چکرا گیا اور کچھ کہے سنے بغیر کھٹا کھٹ نیچے اتر گیا۔ سامنے ٹیکسی کھڑی تھی۔ جمیل کا دل ایک لحظہ کے لیے ساکت سا ہو گیا۔ تیز قدم اٹھاتا وہ بڑے بازار کی طرف نکل گیا۔

معاً جمیل کو جاتے دیکھ کر ڈرائیور نے زور سے کہا، “سیٹھ صاحب ٹیکسی۔”

جمیل نے جھنجھلا کر کہا ۔۔۔ “نہیں کم بخت شادی۔”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: