Harma Naseeb Na Thay By Huma Waqas – Episode 1

0
حرماں نصیب نہ تھے از ہماوقاص – قسط نمبر 1

–**–**–

کون ہے۔۔۔ وہ ایک دم گھبرا کر پلٹی تھی۔۔۔ سینے پر ہاتھ رکھے اور ایک ہاتھ میں موم بتی کو پکڑے۔۔۔ آواز میں ایک دم سے خوف در آیا تھا۔۔۔
ایک تو صبح سے بجلی نہیں تھی ۔۔ اور پھر یہ جرنیٹر ہمیشہ غلط وقت پر ہی دھوکا دیتا رہا۔۔۔ اور آج بھی ایسا ہی ہوا۔۔۔ اور اب رات کو تو اور مصیبت ہو گٸ تھی جب بلکل ہی اندھیرا ہوا گیا تھا۔۔۔حدفہ۔۔پتہ نہیں کہاں سے ایک موم بتی لانے میں کامیاب ہو پاٸ تھی۔۔ اور ماچس لانے سے وہ بلکل انکار کر چکی تھی اور اس کی ذمہ داری وہ اس کے کندھوں پر ڈال چکی تھی۔۔۔ رات کا ایک بج رہا تھا جب وہ کچن میں ماچس کی تلاش میں بھٹک رہی تھی جب اپنے عقب سے کسی کے قدموں کی چاپ سناٸ دی۔۔۔
میں ہوں۔۔۔ تارز۔۔۔۔ بھاری مردانہ آواز ابھری تھی اور ساتھ ہی لاٸٹر سے نکلنے والے آگ کے شعلے نے اندھیرے میں روشنی بکھیر دی تھی۔۔۔
وہ ہاتھ میں لاٸٹر لیے بلکل اس کے سامنے کھڑا تھا۔۔۔
اوہ۔۔۔ گھبرا گٸ تھی میں۔۔۔ ندوہ نے سینے سے ہاتھ ہٹاتے ہوۓ اس پر نظر ڈالی وہ آج صبح ہی پہنچا تھا اور سارا دن سونے کے بعد اب ہی نظر آیا تھا۔۔۔۔۔۔ مونچھوں کی وجہ سے چہرہ بلکل ہی بدل گیا تھا اس کا۔۔۔
ابھی بھی گھبرا جاتی ہو۔۔۔ معنی خیز لہجے میں بھنویں اچکا کر اور آنکھیں سکیڑ کر کہا۔۔۔۔
میرا وہ مطلب نہیں تھا۔۔۔ ندوہ نے ۔۔۔ تنک کر کہا۔۔۔ ماتھے پر ناگواری کے بل تھے۔۔
کیسی ہو۔۔۔ لہجہ ۔۔۔ کاٹ دار تھا۔۔۔
تارز نے ہاتھ بڑھا کر جلتے ہوۓ لاٸٹر کے شعلے سے اس کے ہاتھ میں پکڑی موم بتی کو روشن کر دیا تھا۔۔۔
زندہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ندوہ نے جلدی سے موم بتی کے شعلے کو ہتھیلی اسکے گرد گھوما کر بجھنے سے بچایا۔۔۔ اور پلٹ کر ماچس کی ڈبیہ کی تلاش میں نظر کو ارد گرد دوڑایا۔۔۔
وہ تو ہر کوٸ رہتا ہے۔۔۔ وہی کاٹ دار لہجہ۔۔۔ طنز بھرے تیر۔۔۔
تارز نے لاٸٹر کو اپنی سگریٹ کے قریب کیا تھا۔۔۔ اور اپنی کمر کو کچن کی شلف سے ٹکا کر کھڑا ہو گیا۔۔۔
تمھارے رہنے اور میرے رہنے میں فرق ہے۔۔۔ دانت پیستے ہوۓ ندوہ نے کہا۔۔۔ ۔
کچن کے کبینٹ کو کھولتے اس کے ہاتھ لمحہ بھر کے لیے اس کے کاٹ دار لہجے پر رکے تھے۔۔۔
ہنہ۔۔۔ فرق۔۔۔ تارز نے گردن کو ہوا میں جھٹکا دیا اس کے لبوں پر آج جیت جیسی مسکراہٹ تھی۔۔۔
درست کہا۔۔۔ ویسے۔۔۔ جھوٹ تو کبھی نہیں بولا تم نے۔۔۔ طنز بھرے ہلکے سے قہقے کے ساتھ تارز نے نظریں اس پر گاڑتے ہوۓ کہا۔۔۔
تم طنز کے ہی تیر برساتے رہو گے کیا ۔۔۔ بلکل نہیں بدلے۔۔۔ کبینٹ سے ماچس نکال کر ہاتھ میں پکڑتے ہوۓ خود کو نارمل ظاہر کرتے ہوۓ ندوہ نے کہا۔۔۔
وہ جیسے ہی پلٹی تارز بلکل اس کے سامنے ہی کھڑا تھا۔۔۔ وہی آج سے تین سال پہلے والا انداز ۔۔۔
تم تو بہت بدل گٸ ہو۔۔۔ سگریٹ کا کش لگا کر طنز کے انداز میں کندھے اچکاتے ہوۓ کہا۔۔۔
میرے خیال سے وقت کے ساتھ خود کو بدل لینا چاہیے۔ ۔۔ ندوہ نے اس سارے پل میں پہلی دفعہ اس سے نظر ملاٸ تھی۔۔۔
وہ بلکل سچ ہی تو کہہ رہا تھا وہ تو نہیں بدلہ تھا۔۔۔ اس کی آنکھیں آج بھی وہی سب کچھ کہہ رہی تھیں۔۔۔
ندوہ نے فورا نظروں کا رخ بدل ڈالا۔۔۔
اچھا ۔۔۔ بہت عقل والی باتیں کرنے لگی ہو۔۔۔ تارز نے اس کے چہرے پر جھکتے ہوۓ کہا۔۔۔ لہجہ ابھی بھی کانٹے چبھوتا ہوا تھا۔۔۔
ہمیشہ سے ہوں۔۔ راستہ دے دو۔۔ ندوہ نے بمشکل آواز کی سختی کو قابو کرتے ہوۓ کہا۔۔۔
کیوں نہیں کبھی نہیں روکا۔۔۔ جاٶ۔۔۔ وہ بڑے معنی خیز انداز میں کہتا ہوا ایک طرف ہوا تھا۔۔۔
ندوہ نے غنیمت جانا اور تیزی سے دروازے کی طرف بڑھی جب پھر سے اس کی طنز بھری آواز اس کے عقب سے سناٸ دی۔۔۔
ھدیل سے رابطہ ہوا۔۔۔۔ بڑا طنز بھرا لہجہ تھا۔۔۔
نہیں۔۔۔۔ کرنا بھی نہیں چاہتی۔۔۔ ندوہ نے پلٹے بنا کہا ۔۔ اور قدم آگے بڑھا دیے۔۔۔
ہا۔۔ہا۔۔۔ہا۔۔۔ تم نہیں چاہتی یا وہ۔۔ پیچھے سے تارز کا ایک اور طنز اس کی روح کو چھلنی کر دینے کے لیے کافی تھا۔۔۔۔ ایک دم سے آنسوٶں کا گولا گلے میں اٹک سا گیا تھا۔۔۔
اسکو وہیں کچن کے اندھیرے میں چھوڑتی وہ آگے بڑھ گٸ تھی۔۔۔
**************
اتنی دیر لگا دی کیا کر رہی تھی۔۔۔ حدفہ نے بیڈ پر سیدھے ہوتے ہوۓ ہوۓ حیرانگی سے پوچھا۔۔۔
وہ جلتی ہوٸ موم بتی کو ہاتھ میں پکڑے پاس آٸ تھی۔۔۔
کچھ نہیں لو پکڑو۔۔ ۔۔۔۔۔موم بتی کو حدفہ کو تھاماتے ہوۓ تھکے سے انداز میں اس نے کہا تھا۔۔۔
دوپٹہ اتار کر بیڈ پر پھینکا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور بے دلی سے بیڈ پر ڈھنے کے سے انداز میں بیٹھی۔۔۔
اسے لگتا تھا اس تین سال کے عرصے میں تازر سب کچھ بھول گیا ہو گا۔۔۔ وہ وقتی خمار تھا جو سر چڑھ کر بولا کرتا تھا۔۔۔۔ لیکن نہیں وہ آج بھی ویسا ہی تھی ضدی۔۔۔ ڈھیٹ۔۔۔۔ اور اس کا ذرا بھی لحاظ نہ کرنے والا۔۔۔۔
کیا ہوا اتنا کیوں موڈ خراب۔۔ حدفہ نے اس کی پریشان سی شکل دیکھ کر پوچھا۔۔۔۔
حدفہ۔۔۔ کوٸ اور کینڈل ملے گی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تارز نے دروازے میں آ کر کہا۔۔۔
اسکی بھاری آواز سے ایک دم کمرے کی خاموشی میں خلل پڑا تھا۔۔۔ وہ کمرے کے دروازے میں جم کر کھڑا تھا اور بازو ارد گرد دروازے کے پٹ پر جماۓ ہوۓ تھے۔۔۔ وہ اب اور بھی مضبوط اور بڑا دکھنے لگا تھا۔۔۔۔ اور مونچھوں کی وجہ سے چہرہ اور بارعب ہو گیا تھا۔۔۔
ندوہ جو بنا دوپٹے کے سیدھے لیٹی ہوٸ تھی جھٹ سے دوپٹہ اٹھا کر سینے پر ڈالا۔۔۔ وہ آج بھی ایسا ہی بد لحاظ تھا بنا دروازہ بجاۓ گھس آیا تھا۔۔۔ ندوہ کے ماتھے پر نا گواری کے بل واضح ہو گۓ تھے۔۔۔
تارز بھاٸ۔۔۔ یہ ہی تھی۔۔ اب کبھی کینڈل کوٸ لایا بھی تو نہیں۔۔ حدفہ جلدی سے اٹھ کر بیٹھتے ہوۓ بولی ۔۔۔
اوہ۔۔۔ چلو کوٸ بات نہیں۔۔۔ تارز نے ایک گہری نظر ندوہ پر ڈالی اور مڑ گیا۔۔۔
تو اس لیے موڈ خراب جناب کا۔۔۔ حدفہ نے معنی خیز انداز میں کہا۔۔۔۔
نہیں جی غلط فہمی تمہیں۔۔۔ میرا کیوں ہونے لگا خراب۔۔ وہ بھی اس کی وجہ سے۔ ۔۔۔ دوپٹے کو پھر سے ایک طرف پھینک کر اس نے کروٹ لی تھی۔۔۔
پہلے بھی تو ہو جایا کرتا تھا۔۔۔ حدفہ نے لیٹتے ہوۓ اسے پھر سے وہ تلخ باتیں یاد دلاٸیں تھی جن کو وہ بہت مشکل سے ان تین سالوں میں بھولنے میں کامیاب ہو پاٸ تھی۔۔۔
تم چپ سے سو نہیں سکتی۔۔۔۔ سر کھا رہی ہو میرا ۔۔۔ ایک دم سے ندوہ کے لہجے میں سختی در آٸ تھی۔۔۔
حدفہ تو ڈر کر چپ سے لیٹ گٸ تھی ۔۔۔ لیکن وہ اب بیچین ہو گٸ تھی۔۔۔
تو تارز ابتہاج تم نہیں بدلے ۔۔۔ ویسے ہی بیوقوف اور ڈھیٹ ہو ۔۔۔
دل عجیب طرح سے گھٹن سے بھرنے لگا ۔۔۔ اور ھدیل کا دکھ پھر سے آنکھوں کے کونے نم کرنے لگا۔۔۔۔
موم بتی کے ملگجے سے اندھیرے میں اس کا چہرہ اس کے کرب کی عکاسی کرنے لگا۔۔ اور پھر جیسے ہی اس نے لمبی پلکوں کی جھالر کو گرایا تو گال بھیگ گۓ تھے۔۔۔
*************
ندوہ حدید ۔۔۔۔۔۔۔۔پتھر پر بھی پانی پڑتا رہے تو اس میں سوراخ ہو جایا کرتا ہے۔۔۔۔۔۔وہ سگریٹ کے کش لگا رہا تھا۔۔۔۔ اور سوچوں کے محور میں گردش کر رہا تھا۔۔۔
شرٹ ایک طرف کرسی پر پڑی تھی بنیان میں اس کی مضبوط جسامت اس کی تین سال کی انتھک محنت کا گواہ تھا۔۔
موباٸل کی ٹارچ لاٸٹ کمرے کو روشن کیے ہوۓ تھی۔۔ اور وہ کمرے کی صحن میں کھلنے والی کھڑکی میں کھڑا تھا ۔۔۔ لمبا قد کسرتی بدن۔۔۔ چوڑا سینہ۔۔۔۔ گھنے ہلکے سے گھنگرالے بال ۔۔۔
کھڑی ناک۔۔۔ لمباٸ کے رخ میں پھیلی گہری بولتی آنکھیں۔
وہ تھا تارز ابتہاج۔۔۔۔ تین سال بعد اس نے اپنے ننھال میں قدم رکھا تھا۔۔تین سال تک جس بات کو وہ بھلانے کی کوشش میں سرگرداں رہا وہ آج بھی پھن پھلاۓ ویسے ہی اس کے اندر موجود تھی۔۔۔ ندوہ۔۔۔۔ ہاں ندوہ حدید ۔۔ وہ بری طرح اس لڑکی کی محبت میں گرفتار تھا۔۔۔
ھدیل کو تمھاری قدرو قیمت کا اندازہ ہی کیا۔۔۔ ۔۔۔۔۔ سگریٹ کی راکھ کو پاس پڑی ایش ٹرے پر مارتے ہوۓ طنز بھری مسکراہٹ کے ساتھ سوچا۔۔۔۔
تم کیا ہو میرے دل سے پوچھو جو ان تین سالوں میں ایک لمحے کے لیے بھی خود کو تمھاری یادوں سے باہر نہیں کھینچ پایا۔۔ کچھ دیر پہلے لاٸٹر کی روشنی میں اس کا دمکتا چہرہ اس کی آنکھوں کے آگے لہرا گیا تھا۔۔۔۔
وہ ایک نازک سا سراپا رکھنے والی من موہنی سی صورت کی لڑکی تھی جس نے چھ سال سے اس کا چین چرا رکھا تھا۔۔۔
وہ دھیرے سے مسکرا دیا تھا۔۔۔ اور کھڑکی سے نظر آتے چاند کو غور سے دیکھا۔۔۔۔ تین سال پہلے وہ یہاں سے مایوس ہو کر گیا تھا اور خود سے اور اس سے عہد کر کے گیا تھا کہ اب کبھی وہ یہاں نہیں لوٹے گا لیکن آج تین سال بعد ایک امید تھی کہ وہ لوٹ کر آیا تھا۔۔۔ اور اسی جگہ پر کھڑا تھا جہاں وہ اس سے آخری دفعہ ہاتھ جوڑے کھڑے چھوڑ کر گیا تھا۔۔۔
*************
مجھے ناشتہ بنا دو۔۔۔ تارز کی بھاری آواز پر وہ ایک دم چونک کر پلٹی تھی۔۔۔
وہ اپنے مخصوص انداز میں کچن کے دروازے کے درمیان میں کھڑا تھا ۔۔۔ اور بڑی بے تکلفی سے اسے ناشتہ بنانے کا کہا۔۔۔
حدفہ کو کہتی ہوں وہ بنا دے گی۔۔۔ سخت لہجے میں چولہا بند کرتے ہوۓ ندوہ نے ناگواری کے لہجے میں کہا۔۔۔
حدفہ کیوں تم کیوں نہیں۔۔۔۔۔۔۔ گردن کو داٸیں سے باٸیں موڑ کر محبت بھرے لہجے میں کہا ۔۔ جب کے آنکھیں اس کی پشت پر بکھرے بالوں میں گڑی تھیں۔۔۔
یہ وہی تو اس کا مخصوص لہجہ تھا جس سے ندوہ کو چڑ تھی بری طرح چڑ تھی۔۔۔۔
مجھے اور بھی بہت سے کام ہیں۔۔۔۔۔ چاۓ کو کپ میں انڈیل کر لاپرواہی کے انداز میں ندوہ نے کہا تھا۔۔۔
مہمان ہوں میں کچھ تو خیال کرو۔۔۔ مسکراہٹ دباتے ہوۓ اس کے دلکش چہرے پر اپنی نظریں گاڑتے ہوۓکہا۔۔۔
خیال ہی ہے تو حدفہ سے کہنے جارہی ہوں ۔ ۔۔۔ کہ ناشتہ بنا کر دے تمہیں۔۔۔ ٹرے ہاتھ میں اٹھا کروہ تارز کے قریب آٸ تھی۔۔
جو اب اپنے مخصوص انداز میں دروازے کو بلکل بند کر کے کھڑا تھا۔۔۔۔۔
١
راستہ چھوڑو تارز۔۔۔ندوہ نے تھوڑی ناگواری ظاہر کی ۔۔۔
تم نے ھدیل کے بارے میں مجھ سے کیوں چھپایا۔۔۔بڑی گہری اور مدھم سی آواز میں کہا جب کہ آنکھیں اس کے خوبصورت چہرے کا طواف کر رہی تھیں۔۔۔
کیا مطلب ۔۔۔ تمہیں کیوں بتاتی میں۔۔۔ ندوہ نے ٹرے ایک طرف رکھ دی تھی اسے پتہ تھا اب یہ جلدی جان چھوڑنے والوں میں سے نہ تھا۔۔۔
مطلب ۔۔ میں اس کے لیے تمہیں چھوڑ کر گیا تھا۔۔۔ اب جب وہ تمہیں چھوڑ گیا تو بتانا چاہیے تھا نہ مجھے۔۔۔ بڑے بھیگے اور محبت بھرے لہجے میں سرگوشی کی تھی۔۔۔۔
اوہ جسٹ شٹ اپ۔۔۔ تارز ۔۔ تمہیں چھوڑنے کی وجہ یہ ہر گز نہیں تھی جو تھی وہ معلوم ہے تمہیں۔۔۔ ندوہ نے غصے سے اس کی طرف دیکھا تھا
وہ تو ڈھیٹ بنا مسکرا رہا تھا ۔۔۔ تین سال پہلے والا خوف تو پھر سے اس کے اندر سراٸیت کرنے لگا تھا۔۔۔
نہ کل میرے لیے وہ وجہ کوٸ معنی رکھتی تھی اور نہ آج رکھتی ہے۔۔ دیکھو مجھے ۔۔۔۔ بڑے انداز میں اس کے قریب ہوا۔۔۔ اور وہ واقعی اس کے سامنے چھوٸ موٸ سی ہی تو لگ رہی تھی
تم کیا سمجھتے ہو یہ باڈی بنا کر یہ مونچھیں رکھ کر آٶ گے اور میں کہوں گی ۔۔۔۔ آہ۔۔۔ تارز ابتہاج مسٸلہ ہی حل ہو گیا۔۔۔۔
ناک چڑھا کر طنز کے انداز میں کہا۔۔
اور وہ ڈھیٹ بن کر قہقہ لگا گیا تھا اس کی اس بات پر۔۔۔۔
ویسے کہہ تو سہی رہی ہو ۔۔۔ کیا تو سب اسی لیے ہے میں نے۔۔۔۔ اپنی مونچھوں کو ہلکے سے تاٶ دیتے ہوۓ کہا۔۔۔
اس کے خوبرو چہرے پر مونچھیں جچ بھی بہت رہی تھیں۔۔۔خوبصورت تو پہلے سے بہت تھا اب اور ہی انداز تھا
تو میں اس سے بھی امپرس نہیں ہوٸ ہٹو میرے آگے سے۔۔
ٹھیک ہے تم ناشتہ نہیں بنانا چاہتی مت بناٶ ۔۔۔ لیکن جس کام کے لیے تم نے تین سال پہلے مجھے روکا تھا وہ میں کر دیتا ہوں۔۔۔تارز نے بڑے انداز میں سینے پر ہاتھ باندھتے ہوۓ کہا۔۔۔
کیا مطلب۔۔۔ پلیز تارز ۔۔۔ تم ایسا کچھ نہیں کرو گے۔۔ وہ ایک دم سے ہڑ بڑا گٸ تھی ۔۔۔ سختی سے اس کی آنکھوں کے آگے انگلی نچاتے ہوۓ کہا۔۔۔
کیوں نہیں کروں گا۔۔۔میں آیا ہی اس مقصد کے سلسلے میں ہوں۔۔۔ وہ تن کر آگے ہوا تھا اور دو ٹوک انداز میں کہا۔۔۔
لیکن میں تم سے محبت نہیں کر سکتی تمہیں یہ بات نہ کل سمجھ آتی تھی اور نہ آج سمجھ آ رہی ہے۔۔۔ ندوہ نے بری طرح دانت پیستے ہوۓ کہا۔۔۔
ہو جاۓ گی میری قسم ۔ ۔۔۔۔ بڑے انداز میں اس کی آنکھوں کے آگے کھڑی انگلی کو اپنے ہاتھ سے پکڑا تھا اور اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں تھام لیا۔۔۔
ندوہ ایک دم سٹ پٹا گٸ تھی ایک جھٹکے سے ہاتھ چھڑوایا تھا۔۔جس کو وہ اپنے مخصوص انداز میں سینے سے لگا چکا تھا۔۔۔
تارز تمھارے لیے میرے دل میں وہ محبت کبھی نہیں جاگ سکتی تمہیں سمجھ کیوں نہیں آتی یہ بات اتنی بڑی وجہ تمہیں کیوں نہیں دکھاٸ دیتی۔۔۔ وہ اب سختی کے بجاۓ روہانسی آواز میں کہہ رہی تھی۔۔۔
یہ کوٸ وجہ نہیں ہے۔۔۔ ہمارے نبی نے مثال قاٸم کی ہے۔۔۔ اب وہ بھی ایک دم سے سنجیدہ ہو گیا تھا۔۔۔۔
تارز ۔۔۔۔ اٹھ گۓ بیٹا۔۔۔۔ عقب سے ودود کی آواز پر دونوں ایک دم سے سٹپٹا گۓ تھے۔۔۔
تارز نے لپک کر ندوہ کا ہاتھ پھر سے پکڑ لیا تھا۔۔۔ جسے اب وہ بری طرح چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔
جی نانا ابو۔۔۔۔ آپ کیسے ہیں ۔۔۔ مسکراہٹ دباتے ہوۓ کہا۔۔۔ اور بری طرح تڑپتی ندوہ کی طرف دیکھا۔۔۔۔
ایسے ہی نکل آۓ آپ ۔۔۔ مجھے آواز دیتے تو۔۔۔۔ گھور کے ندوہ کی طرف دیکھا جو اب اس کے ہاتھ پر دانت گاڑے کھڑی تھی۔۔۔۔
ارے بیٹا ۔۔۔۔ گھر کا تو چپہ چپہ جانوں ہوں میں ۔۔۔ داود نے اپنی چھڑی کو داٸیں باٸیں فرش پر گھوماتے ہوۓ کہا۔۔۔
کون ہے۔۔۔ ندوہ۔۔۔۔ داود نے اپنی کرسی پر بیٹھتے ہوۓ کہا۔۔۔
اچانک داود کے ایسے کہنے پر تارز نے فورا ندوہ کا ہاتھ چھوڑا تھا۔۔۔
جی دادا جی ۔۔۔ ندوہ نے اپنی کلاٸ کو سہلاتے ہوۓ کہا اور اسے کچن کے دروازے سے دھکا دیتے ہوۓ آگے آٸ تھی۔۔۔
اسے ہی کہہ رہا تھا نانا ابو کہ ناشتہ بنا دے میرا۔۔۔ وہ بھی اب بلکل اس کے پیچھے کھڑا تھا اور اس کے دوپٹے کے کونے کو دھیرے سے ہاتھوں میں لیا۔۔۔
بنا دے بیٹا ۔۔۔ مجھے بھی دے دے۔۔۔ داود نے نقاہت بھری آواز میں کہا اور ساتھ پڑے ریڈیو کو تلاش کرتے ہوۓ ہاتھ مارا ۔
جی دادا جی۔۔۔ ندوہ پیچھے مڑی تو وہ اس کے دوپٹے کے کونے کو پکڑے کھڑا تھا جھٹکے سے اپنا دوپٹہ اس سے چھڑوا کر وہ کچن میں اس کا ناشتہ بنا نے کو چل دی تھی۔۔۔
اور وہ مسکراتا ہوا دواد کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گیا تھا۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: