Harma Naseeb Na Thay By Huma Waqas – Episode 10

0
حرماں نصیب نہ تھے از ہماوقاص – قسط نمبر 10

–**–**–

دادا جی۔۔۔ تو کیا ضروری ہے۔۔۔ میری شادی ہو۔۔۔ کچھ لڑکیوں کی شادی نہیں بھی ہوا کرتی۔۔۔ ندوہ نے روہانسی شکل بنا کر کہا تھا۔۔۔
وہ داٶد کے ساتھ ان کے پلنگ پر حواس باختہ سی بیٹھی تھی۔۔۔ اس نٸ افتاد نے اس کے ہاتھ پاٶں پھلا دیے تھے۔۔۔تارز ہی کیوں۔۔۔ وہ ہی کیوں گھوم پھر کر اس کی زندگی پر مسلط ہو رہا تھا۔۔۔ کتنی حرماں نصیب تھی وہ۔۔۔جس کی ایک دفعہ نسبت ختم ہوٸ تھی اور اب شادی۔۔۔
مجھے تارز سے شادی نہیں کرنی۔۔۔ندوہ کی گھٹی سی آواز نے کمرے کا سکوت توڑا تھا۔۔
دل عجیب سی گھٹن کا شکار ہو رہا تھا۔۔۔۔ تارز کے ساتھ اپنا یہ رشتہ دل قبول کرنے کو تیار ہی نہ تھا۔۔۔اس کا دماغ ساٸیں ساٸیں کرنے لگا تھا۔۔۔ تارز کے ساتھ تو کبھی بھول کر بھی اس نے خود کو نہیں سوچا تھا ۔۔۔ سارے خواب چکنا چور ہو رہے تھے۔۔۔ ایک میچور ہزبینڈ۔۔۔۔۔۔جس کے سامنے وہ چھوٹی سی لگے۔۔۔ وہ اس کے لاڈ اٹھاۓ۔۔۔ اور وہ اس کا احترام کرے ۔۔ لیکن تارز ۔۔۔ تارز کے لیے تو دل میں احترام نام کی کوٸ چیز ہی نہیں تھی ۔۔۔ ہاں الٹا دل میں اس کا معیار بری طرح گر چکا تھا۔۔۔ ایک لا پرواہ۔۔۔ بدتمیز۔۔۔ شرارتی ۔۔۔ ڈھیٹ۔۔۔ فلرٹ ۔۔۔ ٹاٸپ کا امیج دل نے بنا رکھا تھا اس کا۔۔۔اس کو ہمیشہ سے سنجیدہ ۔۔ کم گو۔۔۔ زمہ دار سےمرد پسند تھے۔۔۔۔ جیسے ھدیل تھا۔۔۔۔ اور جیسے اب حبان کے لیے دل کو رضامند کر چکی تھی وہ۔۔ لیکن تارز اس کے اندر ان میں سے تو بھی خاصیت موجود نہ تھی سونے پر سہاگا وہ اس سے چھوٹا تھا جس پر دل اور بد دل ہو رہا تھا۔۔۔ کرے تو کیا کرے۔۔۔۔
وہ بری طرح لب کچلتے ہوۓ سوچوں میں گم تھی جب نظر داٶد کے بوڑھے جڑے ہاتھوں پر پڑی۔۔۔
دادا جی ۔۔۔ ہاتھ کیوں جوڑ رہے ہیں۔۔ اس نے گھبرا کر ان کے ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھ چھوڑے تھے۔۔۔
اب ۔۔ کہاں سے ۔۔۔۔ رات تک تمھارے لیے نیا رشتہ تلاش کریں ۔۔۔داٶد نے روہانسی آواز میں کہا تھا۔۔۔
جن لڑکیوں کی بارات نہیں آتی ان کے پھر رشتے بھی نہیں آتے۔۔۔۔ نہ ان کے نہ ان کی چھوٹی بہنوں کے۔۔۔ داٶدنے آنکھوں سے گرتے آنسو صاف کیے۔۔۔
اور ندوہ کاچہرہ ہاتھوں سے ٹوٹلتے ہوۓ۔۔۔ اپنی ہتھیلوں میں بھرا تھا۔۔۔
حدید کمرے میں داخل ہوا تھا۔۔۔ندوہ بھاگ کر ان کے سینے سے لگی تھی اور پھر پھوٹ کر رو دی تھی۔۔
ابا۔۔۔۔ ۔۔۔ گھٹی سی آواز حلق میں سے نکلی تھی ندوہ نے بے چارگی سے نظر اٹھا کر حدید کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
رو مت۔۔۔ میری لاج تمھارے ہاتھ میں ہے بس اتنا کہوں گا۔۔۔۔حدید نے مدھم سے لہجے میں اس کے کان میں سرگوشی کی تھی۔۔۔
اور پھر وہ کچھ نہیں بول سکی تھی ۔۔۔ بس ان کے سینے سے لگی آنسو بہا رہی تھی اور حدید بار بار شفقت بھرا بوسہ اس کے سر پر دے رہے تھے۔۔۔
***************
یہ ٹھیک ہے بس ایسے۔۔۔ ۔۔۔ تارز نے کرتے کے کالر کو درست کیا تھا۔۔۔
چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا۔۔ آنکھیں محبت کے حصول سے سرشار تھیں۔۔۔ باچھیں کھلیں ہوٸ تھیں۔۔۔ سفید رنگ کے سادہ سے قیمیض شلوار میں وہ لاکھوں دلوں کو دھڑکا دینے کی حد تک خوبرو لگ رہا تھا۔۔۔۔
اچھے لگ رہے ہو۔۔۔ ھادی نے مسکرا کر دیکھا۔۔۔ اور پھر آنکھوں میں حیرانی در آٸ تھی۔۔۔
ہم۔م۔م۔ سچ کہو۔۔۔ تارز نے گھوم کر رخ آٸینے کی طرف کیا تھا۔۔۔
وہ نکاح کے لیے تیار ہو رہا تھا۔۔۔ دل خوشی سے جھوم اٹھا تھا کہ ندوہ مان گٸ تھی۔۔۔ عجیب سی گدگدی تھی جو تن بدن میں سراٸت کر رہی تھی۔۔۔ وہ خوشی سے سرشار تھا۔۔
سچ ہے۔۔۔ خوش ہو۔۔۔ ھادی نے حیران سی شکل بنا کر دیکھا تھا۔۔۔
ھادی ندوہ کے ماموں کا بیٹا تھا۔۔۔سب لوگوں کو پتہ تھا کہ یہ شادی اچانک ہو رہی ہے جس میں تارز حبان کی جگہ مجبوری میں شادی کر رہا ہے لیکن یہاں تارز کی خوشی دیکھ کر وہ حیران اور پریشان ہو رہا تھا۔۔
ہاں۔۔۔ کیوں۔۔۔ تارز نے مصروف سے انداز میں خود کو جانچتے ہوۓ کہا۔
مطلب ایسے اچانک شادی ہو رہی تمھاری بھابھی بننا تھا اس کو۔۔۔ مطلب عجیب سا۔۔ ھادی نے بات درمیان میں چھوڑی اور پھر سے اس کے چہرے کو غور سے دیکھا۔۔۔
سب لوگ اداس تھے ۔۔۔ ایک صرف تارز کے چہرے پر سکون تھا۔۔۔۔
نہ۔۔۔ہاں ۔۔۔ ہاں ۔۔۔ لگ رہا ہے بہت عجیب سا۔۔۔ پر قسمت میں جو لکھا ہو اسے ہنس کر قبول کرنا چاہیے۔۔۔۔ تارز ایک دم سے خجل ہوا تھا اور نظریں چراتے ہوۓ کان کو کھجایا۔۔۔
بڑے دل والے ہو یار۔۔۔ میں تمھاری جگہ ہوتا تو ۔۔۔ ھادی نے مسکرا کر دیکھا۔۔۔
ارے ۔۔۔۔ ارے۔۔۔ تم کیوں ہوتے میری جگہ۔۔۔ میری جگہ صرف میں ہی۔۔۔ چل اب جلدی سے۔۔۔ تارز تیزی سے کہتا ہوا آگے بڑھا تھا۔۔۔
**************
ندوہ کیا کر رہی ہو سیدھی چلو نہ۔۔۔۔۔۔۔ حدفہ نے بری طرح گرتی پڑتی بے زار سی شکل بناتی ندوہ کو پکڑا ہوا تھا اور اس کے کان میں سرگوشی کی۔۔۔
حدفہ اور مہک ندوہ کو پکڑ کر سٹیج پر لا رہی تھیں جہاں تارز پہلے سے فتح کا جھنڈا گاڑے اس کے حسن کے سحر میں جکڑا بیٹھا تھا۔۔۔ نکاح ہو چکا تھا ۔۔۔ وہ اس کی ہو گٸ تھی۔۔۔وہ اپنی کہانی کو اپنی طرف سے مکمل کر چکا تھا۔۔۔
یہ دن یہ رات یہ لمحے اچھے لگتے ہیں
تمہیں سوچوں تو سارے
سلسلے اچھے لگتے ہیں
بہت دور تک چلنا
مگر پھر بھی وہیں رہنا۔۔۔
مجھے تم سے تمہی تک
داٸرۓ اچھے لگتے ہیں۔۔۔
ندوہ کا گداز ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر اس نے نرماہٹ سے اسے سٹیج پر چڑھایا تھا۔۔۔ سرخ رنگ کے جوڑے میں نظریں گراۓ سپاٹ چہرے کے ساتھ اب وہ اس کے پہلو میں بیٹھ چکی تھی۔۔۔
میں اپنی ہی کہانی کا ایسا کردار ہوں ۔۔۔ جو دور کھڑی بس تماشہ دیکھ رہی ہے ۔۔۔ ندوہ کے دل میں ایک پھانس سی اٹک گٸ تھی۔۔۔۔اس کے ساتھ بیٹھا وجود نہ اس کے دل کو منظور تھا اور نہ دماغ قبول کر رہا تھا۔۔۔
اس نے ایسا سر جھکایا تھا اور اب جب رات کو لا کر اوپر تارز کے کمرے میں اسے بیٹھایا گیا تب جا کر وہ ایک دم سے ہوش میں آٸ تھی۔۔۔سب لوگ کمرے میں موجود تھے۔۔ ۔۔ تب ہی نکلے جب وہ کمرے کے دروازے پر اپنے مخصوص انداز میں کھڑا ہوا۔۔۔
************
سب لوگوں کے کمرے سے جانے کے بعد وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا بیڈ تک آیا تھا جہاں ندوہ بنا گھونگھٹ گراۓ سپاٹ چہرہ لیے کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
اففف۔۔۔ اب دل جیتنےکا مرحلہ شروع بیٹا۔۔۔ تارز نے دل میں سوچا اس کا سخت چہرہ اس کے اندر ابلنے والے طوفان سے آگاہی دے رہا تھا۔۔۔ تارز اس کے بلکل سامنے بیڈ پر بیٹھا تھا۔۔۔
میں نے مجبوری میں یہ رشتہ قبول کیا ہے ۔۔ ۔۔۔۔ اس سے پہلے کے تارز کوٸ بات شروع کرتا وہ دانت پیستے ہوۓ گویا ہوٸ تھی۔۔۔
مجھے پتہ ہے۔۔۔ ۔۔۔ تارز نے شرارت سے دیکھتے ہوۓ پرسکون لہجے میں کہا۔۔۔۔
نظریں اس کے خوبصورت چہرے کا طواف کر رہی تھیں ۔۔ ہمیشہ سے سادہ سے حلیے میں رہنے والی ندوہ آج سارے سنگہار سے لیس غضب ڈھا رہی تھی۔۔۔
تو پھر اب تو ہو گٸ شادی ۔۔۔۔۔۔ تارز نے مسکراہٹ دباٸ۔۔۔
تو ۔۔۔ تمہیں یہ بتا رہی ہوں دل سے قبول نہیں کیا یہ رشتہ میں نے ۔۔۔ ندوہ نے دانت پیسے۔۔۔۔۔
تارز نے ڈھیٹ پن سے مسکراتے ہوۓ مہندی سے بھرے ہاتھ کو دھیرے سے اپنے ہاتھوں میں لیا تھا۔۔۔ ندوہ نے ایک دم سے چہرہ اوپر اٹھایا تھا اور ہاتھ کو کھینچنا چاہا تھا لیکن تارز اپنی گرفت ہر دفعہ کی طرح مظبوط کرچکا تھا۔۔۔
ہاتھ چھوڑو۔۔۔۔ ناک پھلا کر ناگوار سی شکل بناٸ۔۔۔
یہ تو تب نہیں چھوڑتا تھا جب کوٸ حق نہیں تھا۔۔۔ اب تو حق رکھتا ہوں۔۔۔ ۔۔۔ ڈھیٹ پن سے مسکراتے ہوۓ ہاتھ کو سینے سے لگایا۔۔۔۔
وہ مسلسل ہاتھ چھڑانے کی کوشش میں روہانسی ہوۓ چلی جا رہی تھی شکل پر غم اور غصہ ملا جلا تھا۔۔۔
اچھا میری بات سنو۔۔۔ ۔۔ اس کے ہاتھ کو اور مضبوطی سے پکڑ کر تارز قریب ہوا تھا۔۔۔ آواز میں بلا کی نرماہٹ تھی ۔۔۔ اور اس کہ قربت کی خماری تھی۔۔۔
دیکھو تم نے اپنی نفرت میں ہر طرح کی کوشش کی مجھ سے دور جانے کی اور میں نے اپنی محبت میں ہر طرح کی کوشش کی تمھارے پاس آنے کی۔۔۔۔۔اب اس میں میرا کیا قصور بولو۔۔۔ تارز نے دھیرے سے اس کے چہرے کا رخ اپنی طرف کیا جس کو وہ بےدردی سے پھر سے موڑ چکی تھی۔۔۔
میری محبت جیت گٸ۔۔۔ تارز نے اس کے دوسرے ہاتھ کو بھی گرفت میں لیا جس سے وہ بار بار اس کے ہاتھ کو جھٹک رہی تھی اب ندوہ کی دونوں کلایٸیوں کو اپنے ایک ہی ہاتھ کی گرفت میں لیے ہوۓ تھا۔۔۔
ندوہ نے غصے سے بھری نظر ڈالی دل لرزنے سا لگا تھا۔۔۔ عجیب طرح کی گھٹن سی تھی اس کے قریب آنے پر۔۔۔ اب یہ کیا کرے گا۔۔۔ شرمندگی کا احساس تھا۔۔۔ تارز کی دل کی دھڑکنوں کے بجتے تار سے یکسر بے نیاز وہ بس اب اس سے چھٹکارے کے بارے میں سوچ رہی تھی۔۔۔
آج تمہیں پایا ہے۔۔۔ کل اس دل میں محبت جگا دوں گا۔۔۔ تارز نے خمار آلودہ سی آواز میں کہا۔۔۔ آنکھیں اس کی قربت پر ادھ کھلی سی ہو گٸ تھیں۔۔
اس کے لیے تمہیں میرا ساتھ تو دینا ہو گا ۔۔۔ تارز نے اس کے ماتھے پر لگی بندیا کو درست کیا تھا۔۔۔
ندوہ نے چونک کر خوف سے بھری نظر ڈالی تھی۔۔۔ اللہ۔۔۔ کہاں جاٶں۔۔۔ زمین پھٹے اور اس میں سما جاٶں یا آسمان ہی نگل لے آج مجھے بس اس سے بچ جاٶں میں۔۔۔۔ندوہ نے اپنی کپکپاہٹ پر قابو پایا۔۔۔۔
جاگ ہی نہ جاۓ محبت کہیں۔۔۔ اس سے پہلے تمھارے سر سے یہ بچپنے کے عشق کا بھوت اتر چکا ہوا گا۔۔۔ ندوہ نے اس کی گرفت ڈھیلی محسوس کی تو جھٹکے سے ہاتھ چھڑوایا تھا۔۔۔
کیا مطلب عشق کا بھوت۔۔۔ بے پناہ محبت کرتا ہوں تم سے نہ ختم ہونے والی۔۔۔ تارز نے محبت سے سرشار لہجے میں اس کی بات کی نفعی کی تھی۔۔۔
اچھا۔۔۔ نہ ختم ہونے والی۔۔۔ ھدیل کی دفعہ بھی ہوٸ تھی ختم ۔۔۔ پھر حبان دفعہ بھی ہوٸ تھی ختم ۔۔۔ تم نے پاگل سمجھ رکھا مجھے۔۔۔ ندوہ نے کلاٸ سہلاتے ہوۓ دانت پیس کر طنز بھرے لہجے میں کہا۔۔
اچھا تم ۔۔۔۔ عجیب ہو ۔۔۔ پہلے خود ہی مجھے بھگاتی ہو۔۔۔ اگر
10
میں تمھاری خوشی کی خاطر تمہیں چھوڑ گیا تھا تو اب کہہ رہی تمھاری محبت ختم ہوٸ تھی۔۔۔ تارز نے نا سمجھی کے انداز میں اسے دیکھا تھا۔۔۔
کبھی نہیں ہوٸ تھی محبت میری ختم۔۔۔ بے چارگی سے ندوہ کی طرف دیکھا ۔۔
تین سال تم اسلام آباد میں رہے۔۔۔ وہاں اور پتا نہیں مجھ جیسی کتنی محبتیں کی ہوں گی تم نے۔۔۔ ندوہ نے بے زاری اور ناگورای چہرے پر سجاٸ اور کاٹ دار لہجے میں گویا ہوٸ۔۔۔
نہیں ۔۔۔ بلکل نہیں ۔۔ تم پہلی۔۔۔ اور تم ہی آخری۔۔۔ تارز اس کی بات پر مسکرا اٹھا تھا۔۔۔ چلو محترمہ کو نفرت کے ساتھ ساتھ بے اعتباری بھی ہے۔۔۔ تارز کے لب مسکرا دۓ تھے۔۔۔
ندوہ ایک دم سے لہنگا سنبھالتی شکن آلودہ ماتھے کے ساتھ بیڈ سے نیچے اترنے لگی۔۔۔
کیا ہوا اب ۔۔۔ تارز نے پریشان سا ہو کر دیکھا۔۔۔
مجھے کپڑے بدلنے ہیں ۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ندوہ کا لہجہ ناگواری بھرا تھا شکل بے زار تھی۔۔
کچھ دیر تو رہنے دو نہ۔۔۔ تارز نے چہرے پر معصومیت سجاٸ۔۔۔
وجہ۔۔۔ ندوہ نے سختی سے کہا وہ نیچے اتر چکی تھی ۔۔۔
میں نے تو ابھی جی بھر کے دیکھا بھی نہیں۔۔۔ تارز نے بے چارگی سے مڑتے ہوۓ اس کو سنگہار میز کے سامنے کھڑے دیکھا جو اب بے دردی سے چوڑیاں اتار رہی تھی۔۔۔
جب سے کمرے میں آیا ہوں بس لڑے جا رہی ہو۔۔۔ تارز ایک دم سے بیڈ سے اٹھا تھا اب اس کے بلکل پیچھے کھڑا تھا۔۔۔
میں کرو ہیلپ۔۔۔ ۔۔۔۔ کان کھجاتے ہوۓ مسکراہٹ دباٸ۔۔۔
وہ بری طرح دوپٹے کو لگاٸ گٸ پنز سے الجھ رہی تھی۔۔۔
نہیں۔۔۔ خبردار جو مجھے ہاتھ بھی لگایا۔۔۔ ندوہ ایک جھٹکے سے مڑی تھی اور کھا جانے والی نظروں سے دیکھا اس کو۔۔۔
ٹھیک ہے پھر لگی رہو۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔۔ تارز نے کندھے اچکاۓ اور واش روم میں گھس گیا۔۔۔
وہ وضو کر کے باہر نکلا اور جاۓ نماز بچھا کر نوافل ادا کرنے لگا۔۔۔ اس ذات کا شکر بجا لانا زیادہ ضروری تھا جس نے اس کوشش میں اس کا ساتھ دیا اور اس کی محبت کو پانے میں اس کی مدد کی۔۔۔
ندوہ نے عجیب سی نظروں سے اسے دیکھا تھا جو بڑے پر سکون چہرے کے ساتھ نماز ادا کر رہا تھا۔۔۔ اور ایک وہ تھی جس کے چہرے پر بے زاری۔۔۔۔ ناگواری۔۔۔۔ کوفت۔۔۔۔ کے آثار تھے۔۔۔
وہ واش روم سے اسی سادہ سے حلیے میں نمودار ہوٸ تھی جس میں وہ ہمیشہ ہوتی تھی۔۔۔اور پھر اپنے دوپٹے کو اپنے اوپر اوڑھتی ہوٸ وہ چھوٹے سے صوفے پر لیٹنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔۔۔
کہاں۔۔۔۔ تارز جاۓ نماز سمیٹ کر اب اس کے سر پر کھڑا تھا۔۔۔
سونے لگی ہوں۔۔۔ دوپٹے کی اٶٹ سے ناگواری بھری آواز ابھری تھی۔۔۔
تو یہاں کہاں۔۔۔ تارز نے ایک دم سے اس کے چہرے پر سے دوپٹہ کھینچ کر الجھن بھرے لہجے میں کہا۔۔۔
یہیں ۔۔۔ ندوہ نے دانت پیس کر کہا اور پھر سے دوپٹہ چہرے تک تان لیا۔۔۔
تم اسطرح کرو گی تو فاصلےاور بڑھیں گے۔۔۔ تارز نے مسکراہٹ دباٸ ۔۔۔ شرارت کی رگ پھر سے پھڑکنے لگی تھی۔۔۔
میں یہ ہی چاہتی ہوں۔۔۔ ندوہ کی دوٹوک انداز میں کہا گیا جملہ اس کے لبوں کی مسکراہٹ کو اور بڑھا گیا تھا۔۔۔
لیکن مسٸلہ یہ ہے میں یہ نہیں چاہتا۔۔۔ تارز ایک دم سے جھکا تھا اور ایک ہی جست میں اس کے نازک سراپے کو بازٶں میں اٹھا لیا تھا۔۔۔
تارز۔۔۔ تارز۔۔۔۔ ندوہ کا دل اچھل کر حلق میں آ گیا تھا۔۔۔ وہ زور زور سے ٹانگیں مار رہی تھی۔۔۔
آۓ۔۔ۓ۔۔ۓ۔۔۔ۓ۔۔۔ یہاں لیٹو ۔۔۔ تارز نے بیڈ پر ایک دم سے گرایا تھا اور خود ساتھ ہی بیٹھ گیا تھا۔۔۔
میری بات سنو۔۔۔ وہ بھوکی شیرنی کی طرح اٹھی تھی جب اس کے دونوں بازو وہ نیچے لگا چکا تھا۔۔۔اور مسکراہٹ دباتے ہوۓ کہا۔۔۔
ندوہ بری طرح اپنا آپ چھڑوا رہی تھی ۔۔ چہرہ غصے سے سرخ ہو رہا تھا۔۔۔ لب پیوست تھے۔۔۔
مچھلی کی طرح تڑپنا بند کرو گی تو بات کروں گا ۔۔۔ تارز نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کے بازو تھام رکھے تھے۔۔۔
تو سنو سکون میرے ۔۔۔ تارز نے اپنا چہرہ اس کے کان کے قریب کیا تھا ۔۔۔
محبتوں میں ہوس کے اسیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم بھی نہیں
غلط نہ جان کہ اتنے حقیر ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ ہم بھی نہیں
ہمیں بجھا دے ہماری انا کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قتل نہ کر۔۔
کے بے ضرر سہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بے ضمیر ہم بھی نہیں۔۔۔
تارز کے لب اس کی کان کی لو کو چھو رہے تھے ۔۔۔ ندوہ کی سانس ہی تو اٹک گٸ تھی لیکن تارز کے الفاظ تھوڑا حوصلہ دے گۓ تھے وہ ایک دم سے سیدھا ہوا تھا اور پھر کھڑا ہو گیا تھا۔۔۔
دماغ اس کی اتنی قربت سے گھنٹی بجانے لگا تھا کہ میں چھٹی پر جا رہا ہوں اور دل اچھل کر باہر آنے کو تھا۔۔۔۔
تو آرام سے یہاں سو سکتی ہو تم ۔۔۔ تارز نے مدھم سی آواز میں خود کو سنبھالتے ہوۓ کہا تھا۔۔۔
ندوہ ایک جھٹکے سے پھر سے اٹھی تھی۔۔۔غصے سے چہرہ لال ہو رہا تھا۔۔۔
جتنی دفعہ اٹھو گی اتنی دفعہ ویسے ہی بیڈ پر لا کر لیٹاٶں گا۔۔۔ تارز نے ڈانٹنے کے سے انداز میں انگلی کھڑی کرتے ہوۓ کہا۔۔
ندوہ نے ایک دم سے سر کو بیڈ پر پٹخا تھا۔۔۔ضبط سے چہرہ لال تھا۔۔۔کتنی بے بس تھی وہ اس کے آگے دل تو کر رہا تھا ۔۔۔۔ وہ اپنی سوچ پر دانت پیس کر ہی رہ گٸ تھی۔۔۔
گڈ۔۔۔ بہت اچھی بیوی ہو۔۔۔ پر ظالم بھی ہو۔۔۔ تارز نے ہونٹ سکیڑ کر کہا تھا۔۔۔اور پھر قہقہ لگاتا ہوا دوسری طرف لیٹ گیا تھا۔۔۔
اتنے دن جاگنے کے بعد آج ہی تو سونا تھا اسے ۔۔۔وہ اسکے پہلو میں آج صرف اس کی ہو کر لیٹی تھی ۔۔ اس کی دسترس میں تھی اس کی تھی۔۔۔ تارز نے سکون سے آنکھیں موندیں تھی۔۔۔
کیا سوچا تھا اور کیا ہو گیا ہے یہ۔۔۔ اور اب جس شخص سے جان کی خلاصی چاہتی تھی وہی تمام عمر کے لیے مسلط ہو گیا ہےمجھ پر۔۔۔۔۔۔ نیند تو آنکھوں سے کوسوں دور تھی ۔۔۔ ندوہ جھنجلا کر اٹھ بیٹھی تھی تارز آرام سے سو رہا تھا۔۔۔
ایک بے زار سی نظر اس نے تارز پر ڈالی تھی۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: