Harma Naseeb Na Thay By Huma Waqas – Episode 11

0
حرماں نصیب نہ تھے از ہماوقاص – قسط نمبر 11

–**–**–

ہیلو۔۔۔ جی بھاٸ۔۔۔ جی۔۔۔ ۔۔تارز نے فون کان کو لگاتے ساتھ کہا تھا۔۔
حبان کی کال پر اس کی آنکھ کھلی تھی۔۔۔ نظر گھوما کر بیڈ کے اطراف میں دیکھا جہاں رات ندوہ سوٸ تھی جگہ خالی تھی ندوہ کمرے میں موجود نہیں تھی۔۔۔آنکھیں ملتا ہوا وہ کہنیوں کے بل تھوڑا سا سیدھا ہوا تھا۔۔۔
تارز کہاں ہو کوٸ حال احوال نہیں۔۔۔ حبان کی پریشان حال آواز دوسری طرف سے ابھری تھی۔۔۔
بھاٸ۔۔ وہ کل میری شادی تھی ندوہ کے ساتھ۔۔۔۔۔۔تارز نے گھڑی کی طرف دیکھتے ہوۓ لب بھینچ کر کہا۔۔۔
گھڑی پر صبح کے گیارہ بج رہے تھے۔۔۔
اوہ۔۔۔۔۔ خدایا۔۔۔۔۔ شکر ہے۔۔۔۔ سب مان گے تھے کیا۔۔۔۔ حبان نے گہری سانس خارج کرتے ہوۓ کہا تھا۔۔۔
جی ۔۔۔ آپ پریشان نہ ہوں شام کو فلاٸٹ ہے ہم سب کی۔۔۔ تارز نے مسکراتے ہوۓ کہا۔۔۔
اچھا۔۔۔ میں ادھر رحیم یار خان ہوں۔۔۔۔۔ عاصم کے گھر ۔۔۔ تانیہ چلی گٸ ہے اپنے گھر۔۔۔۔ حبان نے مدھم سی آواز میں کہا ۔۔۔
ٹھیک ہے میں آتا ہوں تو آ کر پھر آپ کو بتاتا ہوں۔۔۔۔ تارز نے بیڈ سے اٹھتے ہوۓ کہا۔۔۔
ابھی اس کا کام ختم نہیں ہوا تھا ابھی حبان کو دوبارہ گھر لانا تھا۔۔۔ سب کا دل اس کی طرف سے صاف کرنا تھا۔۔۔ تانیہ کی اور اس کی شادی خوش اصلوبی سے کروانی تھی۔۔۔ ابھی بہت کچھ سمیٹنا ہے بیٹا دل میں سوچتےہوۓ وہ ہم کلام تھا۔۔۔
اب کرنا کیا ہے میں بہت پریشان ہوں۔۔۔ حبان کی بے چین سی آواز پر وہ اپنے خیالوں سے باہر آیا تھا۔۔۔
بلکل نہ ہوں سب کو سمجھانا میرا کام ہے۔۔۔تارز نے مسکراتے ہوۓ تسلی آمیز آواز میں حبان کی ڈھارس باندھی۔۔۔
دوسری طرف بلکل خاموشی تھی۔۔۔
سب ٹھیک ہو جاۓ گا۔۔۔ حبان کو خاموش دیکھ کر تارز نے ایک دفعہ پھر اپنے فقرے کو دھرایا تھا۔۔۔
مما بابا کیسے ہیں ۔۔۔ حبان کی آواز بہت دور سے آتی ہوٸ محسوس ہوٸ تھی۔۔۔
ٹھیک ہیں۔۔۔ اچھا آپ پریشان بلکل نہ ہوں ۔۔۔ میں اب بند کرتا ہوں کال۔۔۔ سامنے سے مہک کو آتا دیکھ کر تارز نے سرگوشی کے سے انداز میں کہا۔۔۔
تارز چلو آ جاٶ اب نیچے۔۔۔۔ مہک نے کمرے میں داخل ہوتے ہی مسکرا کر کہا۔۔۔
بس ابھی اٹھا تھا۔۔۔ تارز نے انگڑاٸ لیتے ہوۓ کہا۔۔۔
ندوہ کب سے بھوکی بیٹھی ہے جلدی آٶ۔۔۔ مہک نے جلدی سے کہا اور عجلت میں پلٹی تھی۔۔۔
رکو۔۔۔ سنو ۔۔۔آپی۔۔۔ تارز نے جھجکتے ہوۓ مہک کو روکا تھا۔۔۔
ہاں ۔۔۔ وہ مصروف سے انداز میں پلٹی تھی۔۔۔
تھنکیو ۔۔۔ میرا ساتھ دینے کے لیے۔۔۔ تارز نے اپنے مخصوص انداز میں کان کھجاتے ہوۓ کہا تھا۔۔۔
۔ خوش رہو۔۔۔ مہک بھر پور انداز میں مسکراٸ تھی۔۔۔
ہاں ۔۔۔ چلو اب آ جاٶ۔۔۔ اس لیے شادی کی کہ بچاری کو بھوکا مارو ویسے بھی صبح سے رو رہی ہے۔۔۔ مہک نے خفگی کے سے انداز میں کہا۔۔۔۔
ہیں۔۔۔۔۔۔ رو رہی ۔۔۔۔۔۔۔ وہ کیوں۔۔۔ ظلم خود کیا مجھ پر ۔۔ اور رو بھی خود ہی رہی۔۔۔۔تارز نے کندھے اچکاتے ہوۓ شرارت سے کہا۔۔۔
شرم کرو۔۔۔ شرم۔۔۔۔ آ جاٶ ۔۔۔ مہک نے ہلکا سا قہقہ لگایا تھا۔۔۔۔
وہ مسکراتا ہوا واش روم میں گھس گیا تھا۔۔۔
**************
آٶ آٶ۔۔۔۔ بیٹا۔۔۔ ۔۔۔۔۔ تارز کو سامنے سے آتا دیکھ کر خوش دلی سے کہتے ہوۓ حدید بھر پور انداز میں مسکراتے ہوۓ اپنی جگہ سے اٹھے تھے ۔۔۔
وہ ندوہ کے ساتھ بیٹھے تھے تارز کو آتا دیکھ کر وہ وہاں سے اٹھ گۓ تھے۔۔۔ وہ سادہ سے حلیے میں رو رو کر آنکھیں اور ناک سرخ کیے بیٹھی تھی۔۔۔ واہ۔۔۔ صدقے ۔۔۔ ساری رات ظلم مجھ پر اب ٹسوے بھی خود ہی بہا رہی میڈیم۔۔۔ تارز نے بھر پور انداز میں نظر بھر کر اسے دیکھا تھا۔۔۔
ادھر بیٹھو۔۔۔ حدید نے ندوہ کے ساتھ صوفے والی جگہ کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا تھا۔۔۔
اجازت ہے ۔۔۔۔۔ تارز نے ندوہ کے قریب ہو کر سر گوشی کی تھی ۔۔۔
وہ ویسے ہی ساکت بیٹھی تھی ہاں البتہ تارز کے آنے پر چہرے کی سختی اور بڑھ گٸ تھی۔۔۔
تارز نے بھر پور انداز میں ناشتہ کیا تھا جب کہ وہ کھانے کے ساتھ بس کھیلتی ہی رہی۔۔۔
ایسے کرو گی ۔۔۔ تو کھانا زبردستی کھلاٶں گا تمہیں۔۔۔ تارز نے سب سے نظر بچا کر ندوہ کے کان میں سر گوشی کی تھی۔۔۔
بس ایک کام میں زبردستی کا قاٸل نہیں ہوں ۔۔ لیکن اس طرح کے سارے معاملات میں ہوں۔۔۔ تارز نے مصنوعی رعب چلایا تھا۔۔۔
ندوہ نے گھور کر ناک پھلا کر دیکھا تھا۔۔۔
پھر سارا دن وہ اسے نظر نہیں آٸ تھی شام کو واپس جانا تھا کیوں کے اگلے دن ولیمے کی تقریب تھی۔۔۔
**************
مما یہ کیا بات ہوٸ۔۔۔ تارز نے چڑ کر کہا ۔۔ وہ دونوں ہاتھوں کو کمر پر ٹکاۓ بے زار سی شکل بنا کر کھڑا تھا۔۔۔
آج ولیمے کی تقریب کے بعد وہ اپنے کمرے میں آیا تو ندوہ وہاں موجود نہیں تھی۔۔ ابھی وہ اسے تلاش کرنے کو کمرے سے نکل ہی رہا تھا جب سیما مسکراتی ہوٸ کمرے میں آٸ اور اس کے سر پر ندوہ کا الگ کمرے میں سونے کا مطالبہ بم کی طرح پھوڑا ۔۔۔
بات ہے۔۔۔۔ اسے ابھی تھوڑا وقت دو ۔۔۔ تمہیں سمجھ لے۔۔۔جان لے۔۔۔ سیما نے پیار سے تارز کے کندھے ہر ہاتھ رکھ کر کہا۔۔۔
تو مما میں کب اس بات سے انکار کر رہا ہوں ۔۔۔ لیکن ضروری تو نہیں یہ وقت الگ روم میں ہی ملے ۔۔۔ تارز نے خفگی کے سے انداز میں کہا تھا۔۔۔
بیٹا ابھی وہ کمفرٹیبل نہیں تمھارے ساتھ ۔۔۔ سیما نے گال تھپتھپایا تھا۔۔۔
جی ۔۔۔۔ ۔۔۔ تارز نے خاموشی میں ہی آفیت جانی تھی۔۔ کیونکہ زیادہ اور ریکشن اسکی ندوہ کے لیے چھپی محبت ظاہر کر سکتا تھا۔۔۔
چلو تم سو جاٶ اب اپنے روم میں جا کر۔۔۔۔۔۔ بہت تھک گٸ ہوں میں بھی۔۔۔ سیما تھکے سے انداز میں کہتی ہوٸ وہاں سے نکلی تھیں۔۔۔
تارز تیزی سے اسے تلاش کرتا ہوا گیسٹ روم تک آیا تھا۔۔۔ اپنے مخصوص انداز میں بنا دستک دیے وہ اندر داخل ہوا تھا۔۔۔
ندوہ بڑے آرام سے بیڈ پر دراز تھی ۔۔۔ اس کو دیکھ کر ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھی تھی اور ماتھے پر بل نمودار ہو چکے تھے۔۔۔
اتنی بے اعتباری۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ تارز نے بھر پور نظر ڈال کر مدھم سے لہجے میں کہا۔۔۔
وہ ہاتھ سینے ہر باندھے کھڑا تھا۔۔۔
بے اعتباری کی بات نہیں ہے۔۔۔ ندوہ نے دانت پیس کر نظریں چراتے ہوۓ کہا۔۔
وہ ولیمے کی تقریب میں ہلکے فیروزی رنگ کے کامدار بڑے سے گھیرے والی مکسی میں اتنی حسین لگ رہی تھی کہ تارز کی بے تاب نظر کی تپش اسے پوری تقریب میں خود پر محسوس ہوتی رہی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔ پھر اس کا یوں بے باکی سے سب کے ہوتے ہوۓ اسے بار بار تاڑنا ۔۔۔ تھوڑے خوف میں مبتلا کر گیا تھا۔۔۔ پھر اس کےکمرے میں موجود چھوٹا سا بیڈ۔۔۔ سیما اس سے کھانے کا پوچھنے آٸ تھیں جب اس نےلب کچلتے ہوۓ کچھ دن الگ کمرے میں سونے کا مطالبہ کیا۔۔۔ جس کو سیما نے مسکراتے ہوۓ جھٹ سے مان لیا تھا۔۔۔۔
پھر۔۔۔۔۔ پھر کیا وجہ ہوٸ۔۔ جو یوں الگ کمرے میں۔۔۔ تارز نے ضبط سے لب بھینچے۔۔۔
پھر۔۔۔۔۔ پھر کچھ بھی نہیں ۔۔۔ تمہیں بتا تو دیا ہے پھپھو نے۔۔۔ ندوہ نے چڑ کر کہا۔۔۔
کیوں آ کر سر پر سوار ہو گیا تھا۔۔۔ جان بچا کر یہاں آٸ تھی اور ۔۔۔ ندوہ نے چہرے پر سختی سجا کر دیکھا۔۔۔ آج ولیمے والے ہی کوٹ پینٹ میں ملبوس تھا ۔۔۔۔ بس ٹاٸ کی ناٹ اب ڈھیلی ہونے کی وجہ سے ٹاٸ ایک طرف کو ڈھلکی ہوٸ تھی۔۔۔ اس کی بے چینی کو دیکھ کر ندوہ کو اپنا فیصلہ بلکل درست لگ رہا تھا۔۔۔اس پر حق رکھتا تھا۔۔۔ اس سے محبت کا دعوٸ دار تھا۔۔۔ کب تک اپنے حق سے دستبردار ہو سکتا تھا ۔۔۔ آج تیسری رات تھی شادی کی ۔۔۔ اور اس نے خود کو چھونے تک نہیں دیا تھا۔۔۔
تو کتنے دن اس طرح الگ رہنے کا ارادہ ہے۔۔۔۔ تارز نے آنکھیں سکیڑ کر ۔۔۔ طنز کے انداز میں پوچھا تھا۔۔۔
پتہ نہیں ابھی۔۔۔ ۔۔۔ ندوہ نے ہاتھوں کو مسلتے ہوۓ نظریں چرا کر کہا تھا۔۔۔
کیسے دل جیتوں تمھارا۔۔۔۔۔۔ تارز نے مدھم سی آواز میں اس کی طرف گہری نظروں سے دیکھتے ہوۓ پوچھا تھا۔۔۔
مجھے نہیں معلوم ۔۔۔ مجھے سونا ہے۔۔۔ جاٶ۔۔۔ ندوہ نے بے زاری سے کہا۔۔۔
تارز ایک دم سے لب بھینچتے ہوۓ پلٹا تھا لیکن پھر رک کر تیزی سے اس کے پاس آیا تھا۔۔۔ بازو سے کھینچ کر اسے قریب کیا تھا۔۔۔ وہ اس اچانک افتاد پر سٹپٹا گٸ تھی۔۔۔
سنو۔۔۔ کمرے کا دروازہ اندر سے اچھی طرح لاک کر لینا اگر میں تمہیں اپنے کمرے میں غیر محفوظ کر سکتا ہوں تو اس کمرے میں آنا میرے لیے مشکل نہیں۔۔۔ تارز نے شرارت سے کان میں سر گوشی کی تھی۔۔۔ اور ایک دم سے مسکراتا ہوا پیچھے ہوا تھا۔۔۔
ندوہ کا رنگ سرخ ہو گیا تھا۔۔۔
وہ ڈھیٹ پن سے ایک آنکھ دبا کر مسکراتا ہوا کمرے سے باہر جا چکا تھا۔۔۔
***************
بابا پلیز۔۔۔۔ پلیز۔۔۔۔ مجھے معاف کر دیں ۔۔ ۔۔۔۔ حبان ابتہاج کے آگے ہاتھ جوڑے کھڑا التجاٸ انداز میں کہہ رہا تھا۔۔
کس ۔۔۔۔کس۔۔۔ منہ سے مانگ رہے ہو معافی ہمیں زلیل و رسوا کر دیا پورے خاندان میں۔۔۔ ابتہاج نے ناگواری سے حبان کی طرف دیکھا اور دھاڑتے ہوۓ کہا۔۔
مما۔۔۔ میں مجبور تھا۔۔۔ حبان ایک دم سیما کی طرف مڑا تھا ۔۔۔
جو بلکل خاموش تھیں۔۔
تمہیں اس لڑکی کی زندگی کی اتنی فکر تھی ہماری فکر نہیں تھی ۔۔۔۔ سیما نےخفگی اور غصے کے ملے جلے لہجے میں کہتے ہوۓ حبان کے اپنے کندھے پر رکھے ہاتھوں کو جھٹکا تھا۔۔۔
مما ہے فکر کیوں نہیں تھی۔۔۔ حبان نے بے چارگی سے سیما کی طرف دیکھا تھا۔۔
تم یہ بتاٶ تم نے ہمیں پہلے انکار کیوں نہیں کیا۔۔۔ تم بتا سکتے تھے ہمیں اس طرح عین شادی کے دن گھر سے بھاگ جانا ۔۔۔ ابتہاج نے دانت پیستے ہوۓ حبان کا رخ اپنی طرف موڑا تھا۔۔۔۔
بابا آپ لوگوں نے پوچھا ہی کب صرف بتایا مجھے کہ میری نسبت طے کر رہے آپ لوگ۔۔۔ حبان نے سر جھکا کر مدھم سی آواز میں کہا۔۔۔
ہاں تو تم کہہ سکتے تھے کہہ نہیں مت کریں۔۔۔ ۔۔۔۔ ابتہاج نے غرانے کے انداز میں کہا۔۔۔
آپ لوگ بات کر چکے تھے۔۔۔ کر چکے تھے بات۔۔۔ حبان نے بے زار سا ہو کر التجا کی۔۔۔
11
بات ختم کرنےکی ذلت اس ذلت سے کم ہوتی سمجھے تم ۔۔۔ ابتہاج نے آنکھیں نکال کر حبان سے کہا۔۔۔
سیما اس سے کہو یہاں سے چلا جاۓ میرے سامنے نہ آۓ۔۔۔ ابتہاج نے ناگواری سے کہا اور رخ موڑ کر کھڑے ہو گۓ۔۔۔
بابا پلیز۔۔۔ پلیز ایسا مت کریں پوری ۔۔۔ حبان نے زبرستی ابتہاج کا رخ موڑتے ہوۓ بات شروع کی تھی جب تارز کی آواز نے دخل دیا۔۔
وہ جو بہت دیر سے کھڑا سب تماشہ دیکھ رہا تھا اب رہا نہیں گیا تھا۔۔۔وہ چار نفوس کمرے میں موجود تھے
مما ۔۔۔ بھاٸ سہی کہہ رہے ہیں ۔۔۔ پوری زندگی انھوں نے آپکی جی حضوری کی ۔۔۔ جو آپ نے کہا وہ پڑھا جو آپ نے چاہا وہ بنے۔۔۔ کبھی کھانے میں نہیں پہننے میں نہیں ۔۔۔۔ ہر کام میں آپ لوگوں کی مرضی۔۔۔ تارز رکے بنا رکے بول رہا تھا۔۔
زندگی میں پہلی دفعہ اگر انھوں نے اپنی خوشی کی خاطر کچھ کر ہی لیا چاہیے غلط طریقے سے ہی آپ لوگوں نے ان کی برسوں کی فرمابرداری کو خاک میں ملا دیا۔۔۔ تارز ماتھے پر بل ڈالے بھر پور انداز میں حبان کا دفاع کر رہا تھا۔۔
مجھے بتاٸیں یہ کہاں کا انصاف ہے۔۔۔ وہ اپنے مخصوص اندز میں سینے پر ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔۔۔
اور میں نے ہی فورس کیا تھا انہیں کے نکاح کر لیں اس لڑکی کی حالت اتنی کریٹیکل تھی۔۔۔ تارز نے دوٹوک انداز میں نڈر ہو کر کہا تھا۔۔۔
یہ تو تب بھی تیار تھے آپ لوگوں کے لیے اپنی زندگی کی ہر خوشی قربان کرنے کو۔۔۔ تارز نے حبان کی طرف اشارہ کیا لہجہ اب مدھم ہو چکا تھا۔۔۔
میرے خیال سے زندگی کا اتنا اہم فیصلہ کسی پر تھوپنا کوٸ انصاف نہیں ۔۔۔ تارز نے آخری بات کرتے ہوۓ گہری سانس خارج کی ۔۔
تو یہ پہلے بتا سکتا تھا۔۔۔ اب اس بچی پر بھی تو فیصلہ تھوپا گیا ہے نہ۔۔۔ سیما نے افسردگی سے کہا۔۔۔
میں اسے کسی چیز کی کمی نہیں آنے دوں گا میرا وعدہ ہے آپ اس کی فکر نہ کریں آپ بھاٸ کو معاف کریں اور ان کی شادی کی تیاری کریں۔۔۔ تارز نے دو ٹوک انداز میں ماتھے پر بل ڈال کر کہا۔۔
ابتہاج ایک دم سے لب بھینچتے ہوۓ کمرے سے باہر نکل گۓ تھے۔۔۔ پھر سیما دونوں پر ایک ایک نظر ڈال کر ابتہاج کے پیچھے چل دی تھیں۔۔۔
***********
جی آ جاٸیں۔۔۔ کمرے کے دروازے پر ہلکی سی دستک کی آواز پر ندوہ نے میگزین سے نظر اٹھا کر مدھر سی آواز میں کہا۔۔۔
دروازہ کھول کر حبان سر جھکاۓ کمرے میں داخل ہوا تھا۔۔۔ ندوہ ایک دم سے سیدھی ہوٸ تھی۔۔۔
آپ۔۔۔ ۔۔۔۔ ندوہ نے گھٹی سی آواز میں کہا تھا۔۔۔
ندوہ۔۔۔ میں تم سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔معافی مانگنے آیا ہوں۔۔۔ ۔۔۔۔۔ حبان نے مدھم سی آواز میں شرمندہ سا لہجہ اپناتے ہوۓ کہا۔۔۔
میں جانتا ہوں میں نے بہت غلط کیا تمھارے ساتھ ۔۔۔ لیکن وہ اس سے بھی غلط ہوتا اگر میں تم سے شادی کر لیتا اور تمہیں محبت نہ دے سکتا۔۔۔ بہت دھیما سا لہجہ تھا حبان کا ۔۔۔
وہ بار بار چہرے پر لگے چشمے کو درست کر رہا تھا۔۔۔
لیکن میں نے جو بھی کیا ۔۔۔ جن حالات میں کیا ۔۔۔ وہ بہت غلط کیا۔۔۔ تم مجھے معاف کر دو ۔۔۔ حبان نے گہری سانس لی اور پہلی دفع نظر اٹھا کر ندوہ کی طرف دیکھا جو خاموشی سے سر جھکاۓ بیٹھی تھی۔۔۔
تھوڑی دیر بلکل خاموشی رہی تھی۔۔۔ اب وہ حبان سے کیا کہے۔۔ جو ہونا تھا جو اس نے اس کے ساتھ کرنا تھا وہ تو وہ کر چکا تھا۔۔اب کیا ہو سکتا تھا ۔۔۔
ایسی باتیں مت کریں۔۔۔ میرے دل میں کسی کےلیے کوٸ خلش نہیں ہے جو قسمت میں تھا ۔۔۔ وہی ہوا۔۔۔ ندوہ نے سنجیدہ سے انداز میں مدھم سے لہجے میں کہا۔۔۔
تارز بہت اچھا ہے۔۔۔ مجھ سے تو بہت اچھا۔۔۔ مجھے یقین ہے وہ تمہیں بہت خوش رکھے گا۔۔۔ حبان نے مسکراتے ہوۓ اس کہ طرف دیکھا تھا۔۔۔
جی ۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ندوہ نے گھٹی سی آواز میں مختصر جواب دیا۔۔۔
شادی مبارک ہو۔۔۔ حبان نے مسکراتے ہوۓ کہا۔۔۔
خیر مبارک۔۔۔۔ ندوہ نے پر سوچ انداز میں کہا تھا۔۔۔
حبان اس کے کمرے سے جا چکا تھا۔۔۔۔۔ سارا قسمت کا کھیل تھا۔۔۔ سب لوگ اپنی اپنی زندگی میں خوش ہیں۔۔۔ ھدیل اپنی محبت پا کر اور حبان اپنی۔۔۔ دونوں نے اسے ٹھکرا دیا تھا۔۔۔اور جس نے اسے اپنایا تھا اس کو وہ ٹھکرا رہی تھی۔۔۔ وہ بیڈ پر ڈھنے کے سے انداز میں بیٹھی تھی۔۔۔
*************
ندوہ تیار نہیں ہوٸ کیا ابھی ۔۔۔ سیما نے مصروف سے انداز میں دوپٹے کو درست کرتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
امی بس ابھی آ رہی ہے۔۔۔ میں نے میک اپ کردیا ہے اس کا بس آنے والی ہے کپڑے تبدیل کر رہی ہے۔۔۔
ابتہاج کے بڑے بھاٸ وہاج نے آج ان کی اپنے گھر شادی کی خوشی میں دعوت کا انعقاد کیا تھا۔۔۔جس پر وہ سب گھر والے مدعو تھے صرف حبان نہیں جا رہا تھا۔۔۔
کاٹے نہیں کٹتے ہیں لمحے انتظار کے۔۔۔
نظریں جما کے بیٹھے ہیں رستے پہ یار کے
تارز نے ندوہ کے کمرے کے بند دروازے کی طرف دیکھا پورا ایک دن وہ اسکو بلکل نظر نہیں آٸ تھی ایک تو حبان کی وجہ سے سب لوگ چپ چپ تھے پھر وہ بھی سارا دن کمرے سے نہیں نکلی تھی۔۔۔
میرون رنگ کی لمبی سی فراک کو زیب تن کیے بالوں کو کھلا چھوڑے وہ اس کی پیاسی نظر کو تسکین دیتی ہوٸ آ رہی تھی۔۔۔۔
دل نے کہا دیکھے جو جلوے حسن یار کے
لایا ہے کون ان کو فلک سے اتار کے۔۔۔
تارز نے ایک ادا سے دل پر ہاتھ رکھا تھا۔۔۔۔ جب کے آنکھیں ندوہ کے سراپے کو دل میں اتار رہی تھیں۔۔۔
آپ لوگ چلیں کار پر میں لے کر آتا ہوں ۔۔۔ ندوہ کو۔۔۔ تارز نے مسکراتے ہوۓ وہاب کو گاڑی کی چابی پکڑاٸ۔۔۔
وہاب ۔۔۔مہک کا شوہر تھا ۔۔ اور پھر ابتہاج ،مہک علیا اور سیما بھی تھے۔۔۔ جن سب کو دعوت پر جانا تھا۔۔۔
تو باٸک پر لاٶ گے ۔۔۔ رہنے دو وہ چلی جاتی ہے ہمارے ساتھ۔۔ سیما نے ڈانٹنے کے سے انداز میں تارز سے کہا۔۔۔
مما ۔۔۔مجھے محسوس ہو رہا ہے۔۔ وہ میری کچھ نہیں لگتی۔۔۔ میرا بھی کچھ حق ہے اس پر کہ نہیں ۔۔۔ تارز نے بچوں کی طرح بے چارگی سے کہا۔۔۔
سب لوگ ایک دم سے اس کے اس انداز پر ہنسے تھے۔۔۔
کچھ نہیں ہوتا۔۔۔ تاری کے ساتھ ہی آنے دیں۔۔۔ وہاب نے تارز کی طرف دیکھ کر آنکھ دباتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
ٹھیک ہے بیٹا کوٸ مسٸلہ تو نہیں۔۔۔ سیما نے ندوہ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر مسکرا کر کہا۔۔۔
نہیں ۔۔۔ ۔۔۔ ندوہ نے مدھم سی آواز میں کہا تھا۔۔۔۔
وہ رات کو بہت سوچنے کے بعد اپنے دل کے کچھ روشن دان تارز کے لیے کھولنے پر مجبور ہو چکی تھی۔۔۔
ماشااللہ بہت پیاری میری بچی خوش رہو تم دونوں۔۔۔ سیما نے پیار سے ندوہ کو اپنے ساتھ لگاتے ہوۓ کہا تھا۔۔۔
اچھا پھر ہم نکلتے ہیں ۔۔۔ ابتہاج نے تارز کی طرف دیکھا اور سب کو ہاتھ کے اشارے سے گاڑی میں بیٹھنے کا کہا۔۔۔
سب لوگ گاڑی میں بیٹھ چکے تھے۔۔۔
چلیں۔۔۔ ۔۔۔۔ تارز نے ندوہ کے پاس آ کر دھیرے سے کہا تھا۔۔۔
جی چلیں۔۔۔ ۔۔۔۔ سنجیدہ سے لہجے میں پر سوچ انداز میں ندوہ نے کہا
وہ خود سے الجھی ہوٸ تھی ۔۔۔ دماغ چاہ رہا تھا کہ وہ اس رشتے کو قبول کرے لیکن دل تھا کہ ابھی بھی جزبز تھا۔۔۔
یہاں کی سڑکیں بہت خراب ہیں ۔۔۔ تارز نے شرارت سے ندوہ کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا جبکہ وہ باٸک کو ہینڈل سے تھامے پورچ سے باہر لا رہا تھا۔۔۔
تو۔۔۔ ۔۔۔ ندوہ نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔۔۔
تو مطلب ۔۔۔ مجھے پکڑ کر بیٹھنا۔۔۔ تارز نے کان کھجاتے ہوۓ شرارت سے مسکراہٹ دباٸ۔۔۔
مجھے باٸیک پر بیٹھنا آتا ہے۔۔۔ ۔۔۔۔ ندوہ نے سپاٹ لہجے میں کہا۔۔
واہ۔۔۔ اچھا۔۔۔ مجھے نہیں پتا تھا۔۔۔ لیکن یہ چھوٹا شہر ہے ۔۔۔ لاہور جیسی روڈز نہیں۔۔۔ تارز نے باٸیک کو کک لگاتے ہوۓ کہا۔۔۔
اچھا۔۔ تو پھر میں کار پر ہی چلی جاتی۔۔۔ ندوہ نے ماتھے پر بل ڈال کر دیکھا۔۔۔
میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا۔۔۔ تارز نے محبت بھری نظروں سے دیکھا تھا۔۔۔۔
چلیں۔۔۔وہ فراک سمیٹ کر باٸیک پر بیٹھ چکی تھی۔۔۔
مجھے روبرو تو کر کے دیکھیۓ۔۔
میں سارے غم سمیٹ لوں۔۔۔
یہ جو روح میں اترتے ہیں
میں وہی مرید خاص ہوں
تارز کے چہرے پر جاندار مسکراہٹ تھی ۔۔۔
ندوہ پریشان حال پیچھے بیٹھی اس کو غور سے دیکھنے میں مصروف تھی۔۔۔کب تک اس رشتے سے انکاری رہوں گی میں ۔۔۔ ندوہ نے لب کچلتے ہوۓ سوچا تھا۔۔۔۔ پر تارز ۔۔۔۔ کیا کروں۔۔۔۔
بے زاری سے ارد گرد چلتی ٹریفک کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
************
یہ ۔۔۔ آپ نے جو گفٹس دیے تھے۔۔۔ ان پر میرا کوٸ حق نہیں مجھے لگتا ہے یہ تانیہ کے پاس ہونے چاہیے۔۔ ندوہ نے ساری چیزیں حبان کے بیڈ پر رکھتے ہوۓ مدھم سے لہجے میں کہا۔۔۔
گفٹس۔۔۔ میں نے۔۔۔ نہیں تمہیں کوٸ غلط فہمی ہوٸ۔۔۔ میں نے کوٸ گفٹس نہیں بھیجے تمہیں کبھی بھی۔۔ حبان نے حیران سی شکل بنا کر ندوہ کی طرف دیکھا ۔۔ اور پھر نا سمجھی کے انداز میں کہا۔۔۔
وہ لوگ رات کو دیر سے وہاج کے گھر سے لوٹے تھے وہ کمرے میں آٸ تو گلے سے نکلیس اتارتے ہی اسے یاد آیا تھا کہ یہ حبان کے بھیجے گۓ پیسوں سے لیا تھا۔۔ وہ ساری چیزیں لےکر حبان کے کمرے میں آٸ تھی۔۔۔
آپ نے شادی سے پہلے تارز کو پیسے نہیں دیے تھے کیا۔۔کہ مجھے شاپنگ کروا دے۔۔۔ ندوہ نے عجیب سی نظروں سے دیکھتے ہوۓ حبان سے کہا تھا۔۔۔
نہیں ۔۔۔ کبھی نہیں۔۔۔ حبان نے حیران انداز میں گردن کو نفی میں جنبش دی۔۔۔
تو۔۔۔یہ۔۔۔ پھر ۔۔۔ ندوہ نے گفٹس کی طرف دیکھا۔۔۔۔
شاٸد مما نے بھیجے ہوں۔۔۔ حبان نے کندھے اچکاۓ اور پھر ساری چیزیں اٹھا کر ندوہ کی طرف بڑھا دیں۔۔۔۔
جی۔۔۔ ندوہ نے کسی سوچ کے زیر اثر ساری چیزوں کو تھاما اور خاموشی سے کمرے سے باہر آٸ۔۔۔۔
تنگ تو ساری زندگی کروں گا۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن کسی اور حوالے سے۔۔۔۔۔۔۔ مجھے معاف کر دوگی نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ غلطیاں میں جان بوجھ کر بھی کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔
تارز کی بہت سی باتیں اس کے ذہن میں گردش کر رہی تھیں اور اس کا ماتھا شکن آلودہ ہو رہا تھا۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: