Harma Naseeb Na Thay By Huma Waqas – Episode 12

0
حرماں نصیب نہ تھے از ہماوقاص – قسط نمبر 12

–**–**–

سزا ختم ہوٸ کیا میری۔۔ تارز نےحیران ہو کر سامنے کھڑی ندوہ کو دیکھا اور معنی خیز انداز میں مسکراتے ہوۓ کہا۔۔۔
ندوہ اس کے سوال کو یکسر نظر انداز کرتے ہوۓ آگے بڑھی اور ہاتھ میں پکڑی ساری چیزیں بیڈ پر ڈھیر کر دیں۔۔۔
یہ کیا ہے سب ۔۔۔ ندوہ نے دانت پیستے ہوۓ سوال کیا
کیا۔۔۔ تارز نے نا سمجھی کے انداز میں دیکھا ۔۔۔
یہ سب کس لیے لے کر دیا تھا مجھے ۔۔۔ نہ تو حبان نے تمہیں پیسے بھیجے تھے اور نہ ہی یہ پھپھو کی طرف سے تھا سب۔۔۔ ندوہ نے دانت پیس کر کہا وہ ماتھے پر بل ڈالے کھڑے تھی۔۔۔۔ناک غصے کی وجہ سے پھولا ہوا تھا اور چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔۔۔
تارز ایک دم سے گڑ بڑا گیا تھا ۔۔۔
ہاں۔۔۔ یہ سب میری طرف سے تھا۔۔ کیوں ۔۔ بڑی مشکل سے خود ہر قابو پا کر اس نے خجل ہوتے ہوۓ کہا۔۔۔
تم نے کہا تھا ایک دلہا اپنی دلہن کو شاپنگ کروانا چاہتا۔ ۔۔۔ ندوہ نے دانت پیستے ہوۓ کہا اور کن اکھیوں سے تارز کے چہرے کا جاٸزہ لیا۔۔۔
تمہیں پتا تھا ہماری شادی ہوگی۔۔۔ غصے سے سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ پوچھا۔۔۔
۔۔۔۔کیا ۔۔۔۔۔۔مطلب تمھارا ۔۔۔ تارز نے خود کو نارمل ظاہر کرتے ہوۓ کہا۔۔۔
چل بیٹا ۔۔۔ اب دے صفاٸیاں۔۔۔ ۔ تارز نے دل میں سوچا۔۔۔
تم سب سمجھ رہے ہو میں کیا کہنا چاہتی ہوں زیادہ انجان بننے کی ضرورت نہیں ہے تمہیں۔۔۔ ندوہ نے سر ہلاتے ہوۓ لب بھینچے۔۔لہجہ طنز بھرا تھا۔۔۔
مجھے بتاٶ ۔۔۔ تمہیں پہلے سے معلوم تھا کہ حبان مجھ سے شادی نہیں کرے گا عین شادی کے دن مجھے چھوڑ کے جاۓ گا۔۔۔ ندوہ نے اپنے مخصوص انداز میں انگلی اس کے چہرے کی سیدھ میں کرتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
پتا تھا تمہیں ۔۔۔ اسی لیے تم اتنے خوش تھے۔۔۔ طنز بھری مسکراہٹ غصے سے لال چہرے پر ابھری۔۔
تم نے سب کو جان بوجھ کر حقیقت سے انجان رکھاتا کہ تم مجھ سے شادی کرسکو۔۔۔ دانت پیستے ہوۓ کہا۔۔۔
تارز اپنے لبوں پر تین انگلیوں کو رکھے بس اس کو دیکھ رہا تھا ۔۔ وہ سب ٹھیک کہہ رہی تھی بولنے کو کچھ تھا ہی نہیں۔۔۔
بولو۔۔۔ ایسا کیا نہ تم نے۔۔۔ کیوں کیا۔۔۔۔۔۔ تم اچھی طرح جانتے تھے میں تمہیں بلکل پسند نہیں کرتی تم سے کسی صورت شادی کو تیار نہیں ہوں گی۔۔۔ ندوہ اب تھوڑے چیخنے کے انداز میں اس سے پوچھ رہی تھی۔۔۔
میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں ندوہ۔۔۔ تارز نے لبوں سے انگلیاں ہٹا کر دونوں ہاتھوں کو ٹرایوزر کے جیبوں میں ڈالتے ہوۓ مدھم سے لہجے میں کہا۔۔۔
تو تم خود غرض ہو گۓ ہاں۔۔۔ محبت ایک طرفہ نہیں ہوتی تارز ۔۔۔ ندوہ نے دانت پیس کر ناگواری سے دیکھا۔۔
تم نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی تم نے سب کی نظروں میں دھول جھونکی سچ جانتے ہوۓ بھی میرے ماں باپ اور مجھے زلیل و رسوا کیا۔۔۔ ندوہ نے اب روہانسی آواز میں کہا۔۔۔چہرہ غصے سے سرخ ہو رہا تھا۔۔۔
ندوہ ۔۔۔ غلط ۔۔۔ سمجھ رہی ہو سب ۔۔۔ میں ایسا کچھ بھی نہیں چاہتا تھا۔۔۔تارز نے معصومیت سے محبت بھرے لہجے میں کہا۔۔۔
جسٹ شٹ اپ۔۔۔ تم نے ایسا ہی کیا۔۔۔ میری نظروں میں تو بہت پہلے گر چکے اب تو مجھے افسوس ہو رہا کہ میں تمھارے نکاح میں ہوں۔۔۔ندوہ نے سینے ہر ہاتھ باندھ کر ناگواری سے چہرے کا رخ ایک طرف کیا۔۔
تارز کے ماتھے پر ایک دم سے بل نمودار ہوۓ تھے۔۔ تیزی سے آگے بڑھ کر ندوہ کو بازو سے کھینچ کر قریب کیا تھا پھر اسے گھوما کر اپنے ساتھ لگا کر اس کے منہ پر ہاتھ رکھ چکا تھا۔۔۔
بس ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے کان میں غصے سے کہا۔۔۔
ندوہ اس کے پیٹ میں کہنیاں مار رہی تھی ۔۔۔ لیکن اپنا وجود ہلانا مشکل ہو رہا تھا۔۔۔
بس بہت بول چکی تم۔۔۔ اب میری سنو۔۔۔ تارز نے اس کے کان میں مدھم سی آواز میں کہا۔۔۔
میں پانچ سال سے بری طرح تمھارے پیچھے خوار ہوا ۔۔ تمہیں اپنی سچی محبت کا ہر طرح سے یقین دلایا۔۔۔ تم سے محبت کی بھیک تک مانگی ۔۔۔ وہ ندوہ کے کان کے اتنے قریب ہو کر بول رہا تھا کہہ اس کی آواز کے ساتھ ساتھ اس کی سانسوں کے گرم ہوا بھی اس کی کان کی لو پر پڑ رہی تھی۔۔۔
تم نے بدلے میں مجھے صرف دھتکارا ۔۔۔ ۔۔۔ تارز نے طنز بھری آواز میں کہا۔۔۔
ندوہ نے خود کو چھڑوانے کی کوشش بند کر دی تھی لیکن ماتھے پر ابھی بھی ناگواری کے بل نمودار تھے۔۔۔ بول یا چیخ سکتی نہیں تھی کیونکہ تارز نے مضبوطی سے منہ بند کر رکھا تھا۔۔۔چارو نا چار اس کہ باتیں سننا پڑ رہی تھیں۔۔۔
اور پھر جب میں نے دیکھا کہ حبان بھی ھدیل کی طرح صرف مجبوری میں تمہیں اپنا رہا ہے۔۔۔ مجھے یہ ہی بہتر لگا کہ میں تم سے شادی کروں ۔۔۔ تارز نے دھیرے سے ٹھہرے ٹھہرے لہجے میں کہا۔۔۔
اب مسٸلہ یہ تھا کہ اگر سب کو پہلے سے بتاتا تو نہ تو تم مانتی مجھ سے شادی کروانا اور نا باقی سب گھر والے۔۔۔ تارز نے ہلکا سا قہقہ لگایا تھا۔۔۔
رہی بات تمھاری نفرت کی ۔۔۔ تو سکون میرے۔۔۔ محبت کی نہیں جاتی ہو جایا کرتی ہے۔۔۔ محبت سے گال اس کے گال کے ساتھ لگایا تھا۔۔۔
جسٹ۔۔۔۔۔۔ ویٹ۔۔۔۔۔۔ اینڈ واچ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔مدھم سی سرگوشی کی اور دھیرے سے اپنا ہاتھ اس کے منہ پر سے ہٹا دیا تھا۔۔۔
ندوہ تڑپ کر سیدھی ہوٸ تھی ۔۔۔ گالوں پر تارز کے ہاتھ سرخی ماٸل شکل میں چھپ چکے تھے۔۔۔
نہیں ہو گی۔۔ ۔۔۔ ندوہ دانت پیس کر خونخوار نظروں سے دیکھا تھا۔۔۔
محبت میں زبردستی کو سودا نہیں ہوتا۔۔۔ اور تم نے شروعات ہی زبردستی سے کی ہے۔۔۔ کاٹ دار لہجے میں کہا اور ناگواری سے تارز کی طرف دیکھا۔۔۔
چلو پھر دیکھتے ہیں۔۔۔کون جیتے گا ۔۔۔ تم یا میں۔۔۔ میں اپنی ہرکوشش کروں گا کہ تمہیں مجھ سے محبت ہو جاۓ ۔۔ اور تم اپنی پوری کوشش کرنا کہ تمہیں مجھ سے محبت نہ ہو۔۔۔ تارز نے مسکراتے ہوۓ سینے پر ہاتھ باندھ کر کہا۔۔۔
ندوہ نے آنکھیں سکیڑ کر ناک پھلا کر دیکھا پر سوچ انداز میں دیکھا ۔۔۔
منظور۔۔۔ سخت لہجے اور سپاٹ چہرے کے ساتھ کہا۔۔۔
اور اگر تم ہارے تو تم ۔۔۔ مجھے چھوڑ دو گے ۔۔۔ ندوہ نے دو ٹوک انداز میں کہا۔۔۔
دل تھا کہ تارز کے لیے ایک پل کو اس رشتے کو قبول کرنے کو تیار نہیں تھا۔۔۔ ایسے وہ کیسے ساری عمر گزار سکتی تھی اس کے ساتھ۔۔۔
یہ نوبت کبھی نہیں آۓ گی۔۔۔۔۔۔ ساری زندگی کا ساتھ ہے ۔۔۔تارز ایک دم سے مسکرایا تھا۔۔۔
دیکھ لیں گے۔۔۔ ندوہ نے سپاٹ چہرے کے ساتھ کہا۔۔۔
ایک شرط ہے۔۔۔ تمہیں میرے ساتھ اس کمرے میں رہنا ہے ۔۔۔ میرے پاس۔۔۔ تارز نے شرارت بھری نظر سے دیکھتے ہوۓ مسکراہٹ دبا کر کہا۔۔۔
نہیں۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ ندوہ نے فورا سخت لہجے میں کہا۔۔۔
چہرے پر ابھی بھی ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے اس کا ہاتھ کو۔۔۔
تو یہ بات تو غلط ہوٸ نہ تم الگ رہوگی تو نفرت قاٸم رہے گی نہ۔۔۔ تارز نے محبت اور شرارت سے کہا۔۔۔
ٹکر ہونی چاہیے۔۔۔ ندوہ تارز۔۔۔۔۔ یہاں میرے ساتھ ۔۔۔ میرے پاس۔۔۔ رہ کر تم اتنی مضبوط رہو تو مانوں تمہیں۔۔۔تارز نے شوخ سے لہجے میں کہا ۔۔۔اور شرارت بھری نظر اس پر ڈالی۔۔۔
میری بھی ایک شرط ہے۔۔۔ ۔۔۔ ندوہ نے سنجیدہ چہرے سے سخت لہجے میں کہا۔۔۔
حکم ۔۔۔ سکون میرے۔۔۔ تارز نے محبت سے شوخ انداز میں کہا۔۔۔
تم ۔۔ اپنا حق نہیں جتاٶ گے۔۔۔۔۔۔۔۔ ندوہ نے نظریں چراتے ہوۓ کہا تھا۔۔۔
تارز ایک دم سے کچھ بولنے لگا تھا جب ندوہ نے ہاتھ کے اشارے سے رکتے ہوۓ کہا۔۔
جب تک ۔۔۔ جب تک ۔۔۔ بقول تمھارے مجھے تم سے محبت نہیں ہو جاتی جو کہ کبھی نہیں ہو گی۔۔۔ ندوہ نے پر عزم انداز میں فقرہ مکمل کیا تھا۔۔۔۔
منظور ۔۔۔ لیکن تھوڑی سی ترمیم۔۔۔ ۔۔۔۔۔ تارز کہ شرارتی رگ پھر سے پھڑکنے لگی تھی۔۔۔
پاس آ سکتا ہوں ۔۔۔ ہاتھ پکڑ سکتا ہوں۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔۔۔ وہ بڑے انداز میں مسکراہٹ دباتا ہوا بول رہا تھا جب ندوہ نے اس کی بات کو کاٹا۔۔۔
بس ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ اس کے اگلے اور پر ندوہ نے سختی سے کہا۔۔
یہ زیاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ تارز نے خفا سی شکل بنا کر دیکھا تھا۔۔۔
اور جو رول توڑے گا اسے سزا ملے گی ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ندوہ نے دانت پیستے ہوۓ کہا تھا۔۔۔
اچھا۔۔۔ منظور ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ تارز کے چہرے پر جاندار مسکراہٹ تھی۔۔۔
چلو پھر ۔۔۔ آٶ ۔۔۔۔۔۔۔ تارز نے شریر سے لہجے میں آگے ہو کر ہاتھ پکڑنا چاہا تھا۔۔۔
کہاں آٶ۔۔۔ کل سے۔۔۔ لاہور جانے کے بعد۔۔۔۔۔۔۔ ندوہ نے ایک دم سے اسے آگے بڑھتا دیکھ کر کہا تھا۔۔۔
اور پھر تارز کے پھولے چہرے کو یکسر نظر انداز کرتی وہ کمرٕے سے باہر جا چکی تھی۔۔۔
*************
اگر یہ بدتمیز تنگ کرے کچھ بھی کہے مجھے بتانا۔۔۔ سیما نے ندوہ کو گلے لگا کر کہا۔۔۔
اور اگر یہ مجھے تنگ کرے تو میں کسے بتاٶں گا۔۔۔۔ تارز نے مصنوعی خفگی بھرے انداز میں کہا۔۔۔
ہلکے گرے رنگ کی شرٹ میں نکھرا سا چہرہ لیے آنکھوں میں دنیا بھر کی محبت سموۓ وہ ندوہ کا دیکھ رہا تھا جو سیما کے گلے لگی ہوٸ تھی۔۔۔
وہ لوگ لاہور کے لیے نکل رہے تھے۔۔۔ تارز کے آفس کی چھٹی ختم ہو چکی تھی اور ندوہ کو بھی پھر سے یونیورسٹی جانا تھا ۔۔۔ وہ اپنا رٸزاین واپس لینے کے بات کر چکی تھی۔۔۔
یہ بلکل تنگ کرنے والی بچی نہیں ہے۔۔۔ سیما نے تارز کی طرف دیکھ کر کہا اور پھر محبت سے ندوہ کو خود سے الگ کیا۔۔۔
اوہ۔۔۔ آپ کو پتہ نہیں اس کا پھر۔۔۔ تارز نے شرارت سے کہا۔
اچھا بس کر ۔۔۔ کبھی تو سنجیدہ ہو جایا کر۔۔۔ ۔۔۔ سیما نے مسکراتے ہوۓ چپت لگاٸ تھی۔۔۔
یہی تو مسٸلہ ہے اس کا کبھی سنجیدہ ہوتا ہی نہیں۔۔۔ ۔۔۔ ندوہ نے چڑ کر سوچا تھا۔۔۔
حبان بھاٸ کہاں ہے۔۔۔ تارز نے سیما سے الگ ہو کر پوچھا۔۔۔
اپنے کمرے میں۔۔۔ ۔۔۔ سیما نے سپاٹ چہرے کے ساتھ جواب دیا۔۔۔
مما چلیں بس کریں اب چھوڑ دیں غصہ۔۔۔ بابا کو بھی راضی کریں۔۔۔ تارز نے سیما کو دونوں کندھوں سے تھام کر التجاٸ انداز میں کہا۔۔۔
سیما نے بس خفگی بھری نظر تارز پر ڈالی تھی۔۔۔
پھپھو۔۔۔۔۔ حبان کو معاف کر دیں۔۔۔ ندوہ نے مدھم سی آواز میں سر جھکا کر کہا۔۔۔
سیما بس مسکرا دی تھی۔۔۔
*************
12
سنو کبھی ساحل کی ریت دیکھی ہے
سمندر کی لہریں جسے چھو کر چھوڑ جاتی ہیں۔۔
سنو میں بھی اس ریت جیسا ہوں۔۔۔
تمھارے لمس کا برسوں سے منتظر ہوں میں
اک ایسے طوفاں کی آس میں ہوں بیٹھا
جو تمھارے دل کے سمندر میں
میری محبت جگا دے گا
ندوہ کب سے اس کے کندھے پر سر رکھے بے خبر سو رہی تھی۔۔۔اور وہ بار بار مسکرا کر اس کے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
اچانک آنکھ کھلنے پر وہ ایک دم خجل سی ہوٸ تھی وہ کتنے مزے سے اس کے کندھے کو تکیہ بنا کر سو رہی تھی۔۔۔وہ دنوں کوچ سے لاہور کے لیے روانہ ہوۓ تھے ۔۔
پہنچ گۓ کیا۔۔۔ ندوہ نے مدھم سی آواز میں اپنی شرمندگی کے زیر اثر کہا تھا۔۔۔
خجل ہوتے ہوۓ بالوں کو کانوں کے پیچھے کیا تارز کی شرارت بھری آنکھیں اور لبوں پر سجی معنی خیز مسکراہٹ اسے کوفت زدہ کر رہی تھی۔۔۔
ہم۔م۔م۔م بس۔۔۔ پہنچنے والے۔۔۔ تارز نے مسکراہٹ دبا کر محبت بھرے لہجے میں کہا۔۔۔
اچھا۔۔۔ ندوہ کو اس کا مسلسل دیکھنا الجھن کا شکار کر رہا تھا۔۔۔
سوری۔۔۔ ندوہ نے نظریں چراتے ہوۓ کہا۔۔۔
کس بات کے لیے۔۔۔ ۔۔۔۔ تارز نے گہری نظروں سے دیکھتے ہوۓ کہا۔۔۔
مجھے سفر میں بہت نیند آتی ہے۔۔۔۔۔ تو پتہ نہیں چلا ۔۔۔ شرمندہ سے لہجے میں کہا ۔۔
میرا تو دل چاہ رہا تھا۔۔ یہ سفر ختم ہی نہ ہو۔۔۔ ۔۔۔تارز نے بھیگی سی آواز میں کہا
ندوہ کی شرمندگی بھک سے اڑی تھی۔۔۔
ہاٶ۔۔ٶ۔ٶ۔ٶ۔۔۔۔۔ چیپ۔۔۔۔۔۔۔ ناک چڑھا کر ناگورای سے کہا۔۔۔
اٹ واز۔۔۔۔۔۔۔ رومینٹک۔۔۔۔۔۔۔۔ تارز نے اسی کے انداز میں ناک چڑھا کر کہا۔۔۔
نو ۔۔۔ چیپ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ندوہ نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔۔۔
سو جاٶ پھر سے ابھی کچھ وقت پڑا ہے۔۔۔ تارز نے کندھا آگے کیا اور مسکراہٹ دبا کر شرارت سے اس کی طرف دیکھا۔۔
ندوہ نے گھور کر دیکھا تھا۔۔۔
جس پر تارز نے ڈھیٹ بن کر قہقہ لگایا تھا۔۔۔
****************
یہ کیوں۔۔ چھوڑو ہاتھ میرا۔۔۔ندوہ نے الجھ کر اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کی تھی۔۔
وہ صبح سے چلے رات کو لاہور پہنچے تھے اور اب ندوہ شرط کے مطابق اوپر کمرے میں موجود تھی وہ سمٹ کر بیڈ کی ایک طرف لیٹی ہی تھی جب احساس ہوا تارز نے ہاتھ تھاما ہے۔۔بند کی ہوٸ پلکیں بجلی کی رفتار سے کھلی تھیں۔۔۔
اس کی پرمیشن دے چکی ہو تم ۔۔۔ تارز نے اس کا ہاتھ سینے پر رکھتے ہوۓ جزب کے عالم میں کہا۔۔۔
تو ۔۔۔۔ کیا اب تم ساری رات ہاتھ پکڑ کر رکھو گے۔۔۔ ندوہ نے دانت پیس کر کہا۔۔۔
اور لب بھینچتے ہوۓ ہاتھ کو کھینچنے کی کوشش کی۔۔۔
ہاں ۔۔۔ بلکل ۔۔۔ ۔۔۔۔۔ تارز نے ڈھیٹ انداز میں جواب دیا تھا۔۔۔
نہیں۔۔۔ ندوہ نے ایک جھٹکے سے ہاتھ چھڑوایا تھا۔۔۔۔
یہ غلط بات ہے ۔۔۔ تارز ایک دم سے قریب ہوا تھا اور کہنی کے بل تھوڑا سا اوپر اٹھ کر سر ہاتھ پر ٹکایا۔۔۔
کوٸ غلط بات نہیں ہے۔۔۔ مجھے ایسے نیند نہیں آۓ گی ۔۔۔ ندوہ نے تھوڑا سا دور کسھکتے ہوۓ ناگواری سے کہا۔۔۔
تو عادت ہو جاۓ گی نہ۔۔۔ ۔۔۔ محبت سے ندوہ پر بھر پور نظر ڈالی۔۔۔
وہ اتنا قریب تھی دل کی حالت غیر ہو رہی تھی۔۔۔ وہ جانتا تھا وہ کس قدر کرب سے گزر رہا ہے۔۔۔ وہ جس سے وہ شدید محبت کرتا ہے وہ اس کے قریب اس کی ہو کر موجود ہے لیکن اس سے کوسوں دور ہے۔۔۔
اتنی فضول عادت مجھے نہیں ڈالنی۔۔۔ ندوہ نے غصے سے ناک چڑھایا۔۔۔
فضول۔۔۔ل۔۔۔ل۔۔۔۔ل۔۔۔۔۔ تارز نے آنکھیں پھیلا کر دیکھا اور لفظ کو بے یقینی سے لمبا کیا۔۔۔
جی ۔۔۔ ہاں۔۔۔ بے ہودہ ۔۔۔اور فضول۔۔۔ ندوہ نے لفظوں کو چبا چبا کر ادا کیا۔۔۔
اپنی بیوی کا ہاتھ پکڑنا ۔۔ یہ بے ہودگی ہے؟۔۔۔ تارز نے حیرانگی سے اور خفگی سے کہا۔۔۔
جی بلکل۔۔۔ میری نظر میں۔۔۔ ندوہ نے چہرے کا رخ دوسری طرف کیا۔۔۔
چلو پھر بے ہودگی ہی سہی۔۔۔ تارز نے گہری سانس لی اور زبردستی ہاتھ پکڑ کر سینے سے لگایا۔۔۔۔
تارز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ندوہ نے بے چین ہو کر ہاتھ کھینچنے کی ناکام کوشش کی پر تارز اسے بازو میں دے کر سیدھا لیٹا ہوا تھا۔۔۔
سو جاٶ۔۔۔ صبح آفس جانا مجھے ۔۔۔ تمہیں ناشتہ بنانا۔۔۔ تارز نے شرارت سے کہا تھا۔۔
جب کے لب اسے یوں تنگ کرنے پر مسکرا رہے تھے۔۔۔۔
اففففف۔۔۔۔۔ ندوہ نے غصے سے سر تکیے پر پٹخا تھا۔۔۔۔
اور پھر تارز واقعی سو گیا تھا اس کے ہاتھ پر گرفت ڈھیلی ہوٸ تو ندوہ نے فورا ہاتھ کھینچا تھا۔۔
***********
ندوہ۔۔۔۔ ندوہ۔۔۔ تارز اونچی اونچی آواز لگاتا ہوا برآمدے میں آیا تھا۔۔۔۔۔
کیا ہوا۔۔۔ تیار ہو رہی ہے ۔۔۔ سلمی کی کچن میں سے آواز آٸ تھی۔۔۔
حدید اور حدفہ بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے ۔۔ اور داٶد اپنی مخصوص کرسی پر براجمان ریڈیو کان کو لگاۓ بیٹھے تھے۔۔۔
ممانی بٹن ٹوٹ گیا شرٹ کا۔۔۔۔ تارز نے ہاتھ میں پکڑے بٹن کو تھوڑا آگے کرتے ہوۓ مصنوعی مصعومیت چہرے پر سجاٸ۔۔۔
ندوہ کمرے سے آوازیں سن کر کچن کے پاس پہنچی تھی کہ سلمی نے مصروف سے انداز میں پیچھے مڑ کر دیکھا۔۔۔
ندوہ ۔۔۔ تارز کی شرٹ کا بٹن لگا دو۔۔۔ سلمی نے پراٹھا توے پر ڈالتے ہوۓ حکم کے انداز میں کہا۔۔۔
کوٸ اور شرٹ پہن جاٶ تم ۔۔۔ ندوہ نے ناگواری سے کہا۔۔۔
تارز کے چہرے پر سجی شریر مسکراہٹ اسے سب سمجھا گٸ تھی۔۔۔
ندوہ۔۔۔۔ تم نہیں کہتے۔۔۔ آپ کہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ حدید نے ڈانٹنے کے انداز میں کہا۔۔۔۔
ندوہ ایک دم سے شرمندہ ہوٸ تھی۔۔۔ دانت پیستے ہوۓ تارز کی طرف دیکھا جو اب معصوم شکل پر فتح کا جھنڈا لہرا رہا تھا۔۔۔ سب تارز کے ساتھ تھے وہ جنگ کے میدان میں اکیلی لڑ رہی تھی۔۔۔
نہیں ۔۔یہ اس پینٹ کے ساتھ پہن کر جاتا میں۔۔۔ تارز نے بٹن ندوہ کے آگے کرتے ہوۓ شریر سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا تھا۔۔۔
تمہیں کیا مسٸلہ ہو رہا ہے ٹانک دو بٹن۔۔۔ سلمی نے جھاڑنے کے انداز میں ندوہ سے کہا تھا۔۔۔
جی ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ندوہ تارز کو گھورتے ہوۓ کمرے کی طرف بڑھی تھی۔۔۔۔
شرٹ اتار کر دیں ۔۔۔ ندوہ نے ہاتھ آگے کر کے مصنوعی عزت دینے والے لہجے میں کہا تھا۔۔۔۔
ایسے ہی لگا دو۔۔۔ تارز مسکراہٹ دباتا ہوا آگے ہوا تھا۔۔۔۔
ایسے کیسے ۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ندوہ نے دانت پیستے ہوۓ کہا اور کھا جانے والی نظر تارز پر ڈالی تھی۔۔۔
ایسے پاس آ کر۔۔۔ ۔۔۔ تارز نے سب کی طرف چور نظروں سے دیکھ کر مدھم سی آواز میں سر گوشی کی۔۔۔
یہ چیپ حرکتیں کرکے تم میرا دل جیتو گے۔۔۔ ندوہ نے دانت پیستے ہوۓ سرگوشی کی تھی۔۔۔
چیپ ہے کیا یہ ۔۔۔ ندوہ تارز میں تو تمہیں پاس لانے کے سب طریقے اپناٶں گا۔۔۔ تارز نے اس کے کان کے قریب ہو کر سر گوشی کی ۔۔ جبکہ آنکھیں چمک رہی تھیں۔۔۔
ٹی وی سکرین پر نظریں جماۓ حدید اور حدفہ مصروف سے انداز میں بیٹھے ہوۓ تھے۔۔۔
اچھا۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ندوہ نے مصنوعی پلکیں جھپ جھپاٸیں اور زور سے تارز کے سینے میں سوٸ کو پیوست کیا۔۔۔
اوہ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ تارز کی ایک دم سے چیخ نکلی تھی۔۔۔
وہ جو بڑی محبت سے اسے دیکھنے میں مصروف تھا ۔۔۔ چہرے پر اس کی قربت کی مسرور سی مسکراہٹ تھی ۔۔ایک دم سے کرنٹ کھا کر اچھلا تھا۔۔۔۔
کیا ہوا۔۔۔ چبھی کیا۔۔۔ بولا تھا نہ اتار کر دے دو ۔۔۔ مجھے ایسے نہیں لگانا آتا بٹن ۔۔۔۔۔۔۔ ندوہ نے ابھرتی ہنسی کو دباتے ہوۓ مصنوعی مصومیت سے کہا تھا۔۔۔۔
لگ چکا ہے۔۔۔ ۔۔۔ دھاگا قینچی سے کاٹ کر وہ غصے سے مڑی تھی۔۔۔
جبکہ وہ خفگی سے دیکھتا ہوا سینہ سہلا رہا تھا۔۔۔۔
**********
کیوں لینے آۓ مجھے ۔۔۔ سینے پر ہاتھ باندھ کر ناگواری سے ندوہ نے تارز کی طرف دیکھا تھا۔۔۔۔
اب سے میں ہی لینے آیا کروں گا جناب کو۔۔۔ تارز نے گاڑی کا دروازہ کھول کر بڑے انداز میں سینے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔۔۔
وہ یونورسٹی سے آف پر باہر آٸ تو تارز گاڑی کے ساتھ ٹیک لگاۓ کھڑا تھا۔۔۔مخصوص انداز میں چہرے پرمسکراہٹ سجاۓ آنکھوں میں شرارت بھرے وہ آٹو والے کو جانے کا اشارہ کرتی ہوٸ تارز کے پاس آٸ تھی۔۔۔
نہیں کوٸ ضرورت نہیں ہے۔۔۔ ۔۔۔ ندوہ نے سپاٹ چہرے کے ساتھ کہا۔۔۔
پھر سیٹ پر بیٹھ کر دروازہ بند کیا ۔۔۔
بات ضرورت کی نہیں میرے فرض کی ہے۔۔۔میں جیسے بھی وقت نکالوں۔۔۔۔۔۔ ڈراٸیونگ سیٹ سنبھالتے ہوۓ مسکراہٹ چہرے پر سجاتے ہوۓ کہا۔۔۔
ندوہ نے لا پرواہی سے کھڑکی کے باہر دیکھنا شروع کیا تھا۔۔۔
تارز ابتہاج۔۔۔ ۔۔۔۔۔ یہ حرکتیں ۔۔۔ مجھے تمھارے قریب نہیں اور دور کر رہی ہیں ۔۔۔ تم میں وہ بات ہی نہیں ۔۔ نہ سنجیدگی نہ رعب۔۔۔ اور یہ محبت جو تم مجھ پر نچھاور کر رہے ہو یہ مجھے پانے کا نشہ ہے اور کچھ بھی نہیں تم جیسے لاپرواہ لڑکے جتنی شدت سے محبت کرتے ہیں اتنی ہی تیزی سے ان کے دل سے محبت دھل بھی جایا کرتی ہے۔۔۔
اچھا ایک منٹ۔۔۔۔۔۔ تارز نے ایک دم گاڑی روکتے ہوۓ عجلت کے انداز میں کہا۔۔۔
ندوہ اپنی سوچوں سے باہر آٸ تھی۔۔۔ تارز گاڑ ی سے اتر کر ایک پھولوں کی دوکان میں گیا تھا اور جب واپس آیا تو ہاتھ میں ایک خوبصورت سرخ گلاب تھا۔۔۔
ہاٶ۔۔ٶ۔۔۔ٶ۔۔۔ چیپ۔۔۔ اب یہ سب کرو گے تم ۔۔۔ ۔۔۔۔ ندوہ نے ناگواری سے کہا تھا
تارز اس کی طرف پھول بڑھا کر مسکرا رہا تھا۔۔۔
ہر وہ کام جس سے تمھارے دل میں میری جگہ بنے ۔۔۔ تارز نے محبت بھرے لہجے میں کہا ۔۔۔
تارز اس سب سے تو بلکل نہیں بنے گی۔۔۔ ندوہ نے پھول پکڑ کر سامنے ڈیش بورڈ پر رکھتے ہوۓ کہا تھا۔۔۔۔
میرے کام میں دخل اندازی نہیں ۔۔۔ تارز نے ہلکا سا قہقہ لگایا تھا۔۔۔
ندوہ نے چڑ کر رخ دوسری طرف کیا تھا۔۔۔۔
*************
کیا شور ہو رہا امی ۔۔ وہ بالوں کا جوڑا بناتی کمرے سے باہر نکلی تھی۔۔۔
وہ یونیورسٹی سے آ کر سو جاتی تھی پھر شام کو چھے بجے تارز کے آفس آنے پر اٹھتی تھی آج کچن سے شور کی آوازیں سنتی ہوٸ وہ برآمدے میں آٸ تھی جہاں سلمی بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھیں۔۔۔۔
تارز ہے کچن میں۔۔۔ ہم سب کے لیے چاۓ بنا رہا ساتھ حدفہ۔۔۔ سلمی نے محبت سے مسکراتے ہوۓ کہا تھا۔۔۔ سلمی اور حدید کا اب یہی حال تھا ہر وقت بس تارز تارز۔۔۔ ۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: